Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • اسد صدیقی سے شادی کرانے میں سجل علی سمیت چند قریبی دوستوں کا اہم کردار رہا  زارا نور عباس

    اسد صدیقی سے شادی کرانے میں سجل علی سمیت چند قریبی دوستوں کا اہم کردار رہا زارا نور عباس

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی نامور اداکارہ زارا نور عباس نے انکشاف کیا ہے کہ اسد صدیقی سے شادی کرانے میں بشری خالہ سمیت سجل علی اور چند قریبی دوستوں کا اہم کردار رہا ہے۔

    باغی ٹی وی :زارا نور نے حال ہی میں عفت عمر کے ویب شو جلوہ گر ہوئیں اور اپنی نجی زندگی اور اسد صدیقی سے شادی کے حوالے سے بات چیت کی۔
    https://www.instagram.com/tv/CESBHA0JBPJ/?igshid=nw7qvt2c62e5
    زارا نور عباس نے اپنے انٹرویو میں یہ انکشاف کیا کہ اُن کی اور اسد صدیقی کی شادی میں اہم کردار اُن کی خالہ بشریٰ انصاری کا تو رہا ہی لیکن ساتھ سجل علی، عاصم اظہر اور یاسر حسین نے بھی رشتہ کروانے میں پیش پیش رہے۔

    شادی کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے زارا نور نے بتایا کہ اسد سے پہلے ان کیلئے ڈاکٹز ،انجینئیرز وغیرہ کے کافی اچھے رشتے آرہے تھے تاہم وہ کسی نہ کسی وجہ سے منع کردئیے جاتے تھے۔

    زارا نے بتایا کہ پھر سجل نے کہا میں تمہیں اپنے ایک دوست سے ملواتی ہوں اور بشرٰی خالہ نے فون کیا کہ اسد صدیقی کے لئے بھی مجھے فون کیا لیکن میں نے خالہ کو بھی اس بات پر رسپانس نہیں دیا-

    انہوں نے بتایا کہ 7 سال پہلے ’تاکے کی آئے گی بارات‘ کی شُوٹنگ کے دوران ج کبھی وہ بشریٰ بشیر کے ہمراہ سیٹ پر جاتی تھیں تو وہ زارا اور اسد کی بات چیت کرواتی تھیں لیکن شُوٹنگ کے بعد یہ سلسلہ وہیں رک گیا اور ہم اپنی اپنی زندگی میں مگن ہوگئے۔‘

    اداکارہ نے بتایا کہ 7 سال بعد ہم جب دوبارہ ملے تو چار پانچ ہفتے میں ہی رشتہ بھی طے ہوا اور شادی بھی پکی ہوگئی۔اسد نے کہا ڈنر پر چل سکتی ہو لیکن نے کہا کہ میں نہیں ڈنر پر نہیں جا سکتی پہلے مجھے پتہ ہو کہ ہمارے بیچ میں کیا ہے-

    انہوں نے بتایا کہ ہم خاندان کی تمام خواتین ملائیشیا ٹِرپ پر گئے ہوئے تھے کہ وہاں انہیں اسد کی کال موصول ہوئی جس میں بتایا گیا کہ دو دن بعد اپنی فیملی کو لے کر ان کے ہاں لاہور پہنچ رہے ہیں۔اور پھر اسد کی بہین امی اور ابا ٹوکرے لے کر ہمارے گھر پہنچ گئے اور بشری خالہ نے ویڈیو فون کال پر کہا کہ یہ میرا بیٹا ہے اسد میں رشتہ مانگ رہی ہوں مجھے رشتہ دے دو-

    زارا نے کہا کہ ہماری شادی میں کچھ قریبی دوستوں کا بہت بڑا ہاتھ تھا اگر وہ اس معاملے میں دخل نہ دیتے تو ابھی ہماری شادی بھی نہ ہوئی ہوتی۔

    زارا نے کہا کہ بشری خالہ ، سجل علی ، یاسر حسین اورعا صم اظہر نے مل کر کھچڑی پکائی اور ساری ساری رات فون کالز پر باتیں کرتے رہتے تھے کہ ہم دونوں کو ملانا ہے-

    اداکارہ نے بتایا کہ انہیں بغیر بتائے سجل اور بشریٰ بشیر نے یہ سارا رشتہ طے کروایا تھا ۔

    انہوں نے کہا کہ میں اوراسد اتنے اچھے دوستوں کے ملنے پر اپنے آپ کو خوش قسمت تصور کرتے ہیں اور ہر دم اللہ کے شکرگزار رہتے ہیں کہ اتنے خوبصورت دوست ہماری زندگی میں آئے-

    یاسر حسین کا سوشل میڈیا صارف کو کرارا جواب

    اداکار یاسر حسین پاکستانی بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکرمند

  • حمزہ علی عباسی اور نیمل خاور نے اپنی ویڈنگ اینورسری پر اپنے بیٹے کی تصویر جاری کردی

    حمزہ علی عباسی اور نیمل خاور نے اپنی ویڈنگ اینورسری پر اپنے بیٹے کی تصویر جاری کردی

    شادی کے بعد شوبز انڈسٹری سے کنارہ کش کرنے والی پاکستانی اداکارہ نیمل خاور اور اداکار حمزہ علی عباسی آج اپنی شادی کی پہلی سالگرہ منا رہے ہیں ۔

    باغی ٹی وی : اداکار و میزبان حمزہ علی عباسی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی شادی کی پہلی سالگرہ کے موقع پر اپنی بیوی نیمل خاور اور بیٹے محمد مصطفیٰ کے ہمراہ ایک سیلفی شیئر کی ہے۔


    حمزہ کی جانب سے شیئر کی گئی سیلفی میں حمزہ اور نیمل خوشگوار موڈ میں نظر آ رہے ہیں اور حمزہ علی عباسی نے اپنے بیٹے محمد مصطفیٰ کو اٹھایا ہوا ہے ۔

    حمزہ علی عباسی نے سیلفی شئیر کرتے ہوئے کیپشن میں ایک قرآنی آیت کا ترجمہ بھی لکھا کہ ’ اور اس کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان میں سے راحت پاؤ اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحم دلی پیدا کی اس میں غور کرنے والوں کے لیے یقیناً حق کی دلیلیں ہیں۔

    حمزہ علی عباسی نے اپنی پوسٹ میں اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے مداحوں کو بتایا کہ وہ اپنی شادی کی پہلی سالگرہ منا رہے ہیں۔
    https://www.instagram.com/p/CEVfBEcDArO/?utm_source=ig_embed
    دوسری جانب نیمل خاور نے بھی انسٹا گرام پربیٹے اور شوہر حمزہ علی عباسی کے ہمراہ خوبصورت سیلفی شئیراور اپنی پوسٹ کے کیپشن میں لکھا ہے کہ وہ اللہ پاک کا جتنا شکر ادا کریں کم ہیں ۔

    واضح رہے کہ معروف اداکار حمزہ علی عباسی اور اداکارہ نیمل خاور گزشتہ سال 25 اگست کو رشتہ ازدواج میں بندھ گئے تھے، شوبز انڈسٹری سے کنارہ کشی اختیار کرنے والی جوڑی حمزہ علی عباسی اور نیمل خاور عباسی کے ہاں رواں ماہ 3 اگست کو بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے۔

    حمزہ علی عباسی نے سوشل میڈیا پر مداحوں کے ساتھ بیٹے کی تصویر شئیر کر دی

  • چھوٹے صوبوں کا مقدمہ  تحریر:عدنان عادل

    چھوٹے صوبوں کا مقدمہ تحریر:عدنان عادل

    چھوٹے صوبوں کا مقدمہ
    تحریر:عدنان عادل
    موجودہ پارلیمانی‘ جمہوری نظام میں عوام کے مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھ گئے ہیں۔حکومت کی عملداری کمزور ہوچکی ہے۔ کوئی
    حکومتی ادارہ اپنا کا م ٹھیک طریقہ سے انجام نہیں دے رہا۔ لاقانونیت‘بدانتظامی اورکرپشن کا دور دورہ ہے۔ ملک میں گورننس کا بریک ڈاؤن اس حد تک ہوگیا ہے کہ کراچی میں گندے نالے صاف کرانے کے خاطر بھی وفاقی اداروں اور فوج کی نگرانی درکار ہے۔جس خرابی پر نظر ڈالیںاس کے پیچھے خراب گورننس کارفرما نظر آتی ہے۔بڑا چیلنج یہ ہے کہ اس صورتحال سے باہرکیسے نکلا جائے۔ ایک نقطہ نظر ہے کہ ضلعی اور تحصیل کی سطح پر منتخب مقامی حکومتوں کو با اختیار بنایا جائے جو عوامی مسائل کو حل کریں گی اور گورننس بہتر ہوجائے گی۔ لیکن ہمارے ملک میں ماضی میں منتخب اور با اختیارمقامی حکومتوں کے نظام کا تجربہ کامیاب نہیں ہوسکا۔سیاسی جماعتیں اور منتخب صوبائی حکومتیں انہیں برداشت نہیں کرتیں۔ صوبائی حکومت اور ضلعی حکومت کا ٹکراؤ بدنظمی اور انتشار کا باعث بنتا ہے۔ کوئی بھی وزیراعلیٰ اپنے سامنے کسی ضلع کے ناظم یا مئیر کو بااختیار اور طاقتور نہیں دیکھنا چاہتا۔ جنرل پرویز مشرف نے بااختیار مقامی حکومتوں کا نظام متعارف کرایا تھا لیکن جیسے ہی پنجاب میںمسلم لیگ (ق)کی حکومت بنی اُس نے مقامی حکومتوں کے اختیارات میں کمی کردی۔ دو ہزار تیرہ میں پیپلزپارٹی نے سندھ میں اس نظام کو بالکل ہی ختم کردیا ‘ اسکی جگہ ایک ایسا لُولالنگڑا قانون بنایا جس میں بلدیاتی ادارے بالکل بے اختیار ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے بھی پنجاب میں بلدیاتی اداروں کا نیا قانون بناکر ان کو محض رسمی ادارے بنادیا ۔اب تحریک انصاف پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں نیا نظام لائی ہے جس میں ضلعی ناظم یا مئیر کا براہ راست الیکشن ہوگا۔ اس سے کشیدگی پیدا ہوگی۔خاص طور سے اگر مئیر کا تعلق صوبائی حکومت کی مخالف سیاسی جماعت سے ہوا۔ وزیراعلیٰ اور اس علاقہ کے ایم پی ایز اور ایم این ایز اس مئیر یا ناظم کو اپنی اتھارٹی کے لیے خطرہ تصور کریں گے۔ان کے مابین ایک رسہّ کشی شروع ہوجائے گی۔ انتظامی امور مزید خراب ہوجائیں گے۔ہمارا سیاسی کلچر ابھی اتنا بالغ اور پختہ نہیں ہوا کہ تین بااختیار حکومتوں (وفاقی‘ صوبائی‘ ضلعی)کا بوجھ اُٹھا سکے۔ یہاں تو بے تحاشاصوبائی خود مختاری دینے کے باوجود وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ہموار تعلقات قائم نہیں ہوسکے۔ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ضلعی حکومتوںکے اختیارات بڑھنے سے حکومتی نظام پر مقامی جاگیرداروں‘ قبائلی سرداروں کی طاقت اورحکومتی نظام پر شکنجہ مزید مضبوط ہوجائے گا۔ دیہی عوام انکے سامنے مزید بے بس ہوجائیں گے۔ شہروں میں پراپرٹی مافیا اپنی بے تحاشا دولت کے بل پر شہری حکومتوں پر قابض ہوجائے گا۔ عوام ایک نئے عذاب میں مبتلا ہوجائیں گے۔ موجودہ ریاستی ڈھانچہ میں بلدیاتی ادارے زیادہ بااختیار بنانے سے گورننس کا بحران قابو میں آنے والا نہیں بلکہ اور سنگین ہوجائے گا۔ ملک اس بات کا متحمل نہیں ہوسکتا کہ بلدیاتی ادارے اتنے اختیارات کے حامل ہوں کہ اُن کا صوبائی حکومت سے مسلسل ٹکراؤ ہوتا رہے۔ اس صورتحال کا بہترمتبادل یہ ہے کہ ملک میںچودہ پندرہ انتظامی صوبے بنادیے جائیں۔ موجودہ صوبے رقبہ اور آبادی کے لحاظ سے اتنے بڑے ہیں کہ ان کا انتظام ٹھیک طریقہ سے چلانا خاصا مشکل ہوگیا ہے۔صرف پنجاب کی آبادی گیار ہ کروڑ سے زیادہ ہے۔ نئی انتظامی اکائیاں اسطرح بنائی جائیںکہ ہرصوبہ زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ دو کروڑ آبادی پر مشتمل ہو۔ آئین میں ترمیم کرکے صوبوں کوپابند بنایا جائے کہ وہ ترقیاتی بجٹ میں ضلعوں کاسالانہ حصہ ایک فارمولہ کے مطابق مقرر کریں گی۔ لوگوں کوسرکاری محکموں سے اپنے چھوٹے چھوٹے کام کاج کے لیے دُور دراز علاقوں سے چار صوبائی دارالحکومتوں کے دھکے نہیں کھانے پڑیں گے۔ چھوٹے صوبہ کا وزیراعلیٰ زیادہ بہتر انداز میں اپنے علاقہ کے مسائل حل کرسکے گا کیونکہ اس تک لوگوں کی رسائی زیادہ ہوگی اور اسے اپنے نسبتاًمختصر علاقہ کے حالات کا اچھی طرح علم ہوگا۔ نئے صوبے بننے سے چودہ پندرہ صوبائی دارلحکومت بنیں گے جو نئے شہری مراکز کے طور پر اُبھریں گے جس سے موجود ہ چھ سات بڑے شہروں پر آبادی کا بوجھ کم ہوگا۔جب پاکستان بنا تو یہاں کچھ ریاستیں تھیں جو داخلی معاملات میں خود مختار تھیں جیسے بہاولپوراورسوات کی ریاستیں۔ ان ریاستوںمیںگورننس باقی ملک کی نسبت بہت بہتر تھی۔ بہاولپور اور سوات کے لوگ آج بھی اپنے ریاست کے نظام کو اچھے لفظوں میں یاد کرتے ہیں۔ دیگرعوامل کے علاوہ اسکی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ان کا حدود اربعہ محدود تھا ۔ اس لیے انکے حکمران بہتر انداز میں نظم و نسق چلاسکتے تھے۔ ملک میں انتظامی بنیادوں پر چھوٹے صوبے بنانے میں ایک بڑی رکاوٹ آبادی کے اعتبار سے تین چھوٹے صوبوں سندھ‘ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کی سیاسی جماعتیں ہیں۔ وہ ان صوبوں کو مقدس وفاقی اکائیاں سمجھتی ہیں۔ انکی نسلی‘ لسانی تشخص پر مبنی سیاست کا محور ان صوبوں کے حدود کی سا لمیت ہے۔ دوسرے‘ یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ پنجاب کی آبادی باقی تمام صوبوں کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ ہے اس لیے نئے صوبے بننے سے وفاقی اکائیوں کے درمیان مو جودہ توازن بگڑ جائے گا اور پنجاب کی بالادستی بڑھ جائے گی۔ اندرون سندھ کے سیاستدانوں کویہ بھی خدشہ ہے کہ کراچی کے الگ صوبہ بننے سے انکی ٹیکس آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ ان خدشات اور تحفظات کو دُور کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ سینٹ کے کردار کو وفاقی اکائیوں کے نمائندہ ادارہ کے طور پر مستحکم کردیا جائے۔ اسوقت قومی اسمبلی میںوفاقی اکائیوں کی آبادی کے لحاظ سے نمائندگی ہے جبکہ سینٹ میں سب کی برابر نمائندگی ہے۔سینٹ کے کردار کو وفاق کے نمائندہ ادارہ کے طور پر مضبوط کرنے کے بعد موجودہ صوبوںکی حدود کوآئین میں وفاقی اکائیوں کا نام دے دیا جائے جبکہ صوبہ کا لفظ انتظامی اکائی کے لیے استعمال کیا جائے تو مسئلہ بہت حد تک حل ہو سکتا ہے۔ اس وقت بجٹ کی منظوری صرف قومی اسمبلی دیتی ہے۔ سینٹ اس پرصرف بحث کرتی ہے لیکن اسے منظور یا مسترد کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔ سینٹ سے وفاقی حکومت کے بجٹ کی منظوری کو لازمی قرار دیا جائے تاکہ چھوٹی وفاقی اکائیوں کے مفادات کا زیادہ بہتر طور پر تحفظ ہوسکے۔ ٹیکسوں کی آمدن کی تقسیم کے حوالہ سے بھی آئین میں ایسی ضمانت ہونی چاہیے کہ پسماندہ علاقوں پر مشتمل جو نئے صوبے بنیں انہیں کراچی اور لاہور ایسے بڑے شہروں سے ہونے والی آمدن سے جائزحصہ ملتا رہے۔

  • سیشن کورٹ نے صبا قمر اور بلال سعید کی عدالت حاضری معافی کی درخواست منظور کرتے ہوئے عبوری ضمانتوں میں 3 ستمبر تک توسیع کر دی

    سیشن کورٹ نے صبا قمر اور بلال سعید کی عدالت حاضری معافی کی درخواست منظور کرتے ہوئے عبوری ضمانتوں میں 3 ستمبر تک توسیع کر دی

    لاہور کی سیشن کورٹ میں مسجد وزیر خان میں گانے کی فلمبندی کے مقدمے میں نامزد اداکارہ صباقمر اور گلوکار بلال سعید کی جانب سے حاضری معافی کی درخواست دائر کی گئی تھی جو کہ سیشن کورٹ نے منظور کر لی ہے-

    باغی ٹی وی : ادکارہ صبا قمر اور گلوکار بلال سعید کے خلاف مسجد وزیر خان میں شوٹنگ کرنے پر تھانہ اکبری گیٹ پولیس نے مقدمہ درج کیا گیا تھا تاہم اب لاہور کی سیشن کورٹ میں ایڈیشنل سیشن جج نے ادکارہ صبا قمر اور گلوکار بلال سعید کی درخواست ضمانت پر سماعت کی-

    اداکارہ صبا قمر اور بلال سعید کے وکلاء نے عدالت سے استدعا کی کہ اُن کی جان کو خطرہ ہے اس لیے عدالت نہیں آسکتے، لہذا اُن کی حاضری معاف کردی جائے جس پر عدالت نے سماعت کرتے ہوئے دونوں فنکاروں کی حاضری معافی کی درخواست منظور کرنے کا حکم دے دیا تھا-

    اس موقع پر مدعی کے وکیل نے اعتراض کیا کہ ملزمان کا عبوری درخواست میں عدالت میں موجود ہونا ضروری ہوتا ہے اور عدالت حاضری معافی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے دونوں کی درخواست ضمانتیں بھی خارج کر دے۔

    عدالت نے کاروائی کرتے ہوئے صبا قمر اور بلال سعید کے حاضری معافی کی درخواست منظور کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر طلب کرلیا اور دونوں کی عبوری درخواست ضمانتوں میں 3 ستمبر تک توسیع کردی۔

    دونوں فنکاروں کے خلاف مسجد وزیر خان میں گانے کی شوٹنگ کرنے پر تھانہ اکبری گیٹ پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا۔

    دونوں نے درخواست میں موقف اختیار کیا کہ مسجد میں گانے کی شوٹنگ نہیں کی مسجد کے تقدس کا خیال ہے اور عدالت عبوری درخواست ضمانت منظور کرنے کا حکم دے –

    سیشن عدالت نے صبا قمر اور بلال سعید کو 3 ستمبر کو طلب کر لیا اور پولیس کو 3ستمبر تک بلال سعید اور صبا قمر کو گرفتار کرنے سے روک دیا ہے۔

    پاکستانی گلوکار بلال سعید اور اداکارہ صبا قمر نئے گانے ’قبول ہے‘ کی تاریخی مسجد میں ڈانس کرنے کے مناظر کی عکس بندی پر تنازع کا شکار ہو گئے تھے ، مسجد میں ڈانس ویڈیو وائرل ہونے کے بعد معروف مذہبی و سیاسی شخصیات سمیت عوام نے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے دونوں فنکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا تھا-

    جس کے بعد اداکارہ صبا قمر اور بلال سعید کے خلاف دفعہ 295 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ اداکارہ صبا قمر اور بلال سعید نے مسجد کا تقدس پامال کیا لہٰذا ان دونوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی جس پر عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد دونوں پر مقدمہ دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔

    بعد میں دونوں فنکاروں نے عوام کا دل دُکھانے پر معافی بھی مانگی تھی اور یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ یہ مناظر گانے کی ویڈیو سے ہٹا دیں گے- بلال سعید اور صبا قمر کا گانا ’قبول‘ 12 اگست کو ریلیز ہوا، جس میں لاہور کی تاریخی مسجد وزیر خان میں فلمائے گئے مناظر شامل نہیں کیے گئے تھے

    مسجد وزیر خان کیس:کراچی سٹی کورٹ میں رقص کی تصاویر اور مسجد کی انتظامیہ کے نام عدالت میں جمع

    صبا قمر اور بلال سعید کی جانب سے مانگی گئی معافی پر یاسر حسین کا ردعمل بھی سامنے آ گیا

    صبا قمر کی مسجد میں گانے کی شوٹنگ نے کس طرح میری زندگی کی سب سے اہم خوشی چھین لی

    مساجد سینما نہیں ہے مساجد کا تقدس پامال کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے ٹویٹر…

    اداکارہ صبا قمر اور بلال سعید کے خلاف مسجد کی بیحرمتی پر تھانہ مزنگ میں مقدمہ کی…

    مسجد وزیر خان کا تقدس پامال کرنے والوں کو جلد از جلد سزا دی جائے چودھری شجاعت…

    مسجد وزیر خان میں ویڈیو پر وضاحت دیتے ہوئے بلال سعید نے معافی مانگ لی

    مسجد میں گانے کے شوٹ کی اجازت کے تیس ہزار روپے لیے گئے ، نوٹیفیکیشن سامنے آ گیا

    قبول ہے ایک گانا تھا ان کا اصل نکاح نہیں تھا کہ انہوں نے ایک مشہور مسجد کے مذہبی…

    مسجد میں گانے کی شوٹنگ پر صبا قمر اور بلال سعید کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی،…

    صبا قمر کی مسجد وزیرخان میں ڈانس کی ویڈیو وائرل

    اداکارہ صبا قمر اور گلوکار بلال سعید کی عبوری ضمانت منظور

    بلال سعید اور صبا قمر کا گانا قبول ریلیز ہوتے ہی مقبول ہوگیا

    مسجد وزیر خان میں عکس بندی کے معاملے میں بلال سعید، صبا قمر اور محکمہ اوقاف کے…

    کراچی سٹی کورٹ میں صبا قمر اور بلال سعید کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست

    صبا قمر اور بلال سعید کی مسجد وزیر خان میں رقص کے حوالے سے محکمہ اوقاف کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آ گئی

  • عالمگیر وبا کورونا کو سکشت دینے کے بعد امیتابھ بچن نے شوبز سرگرمیوں کا آغاز کر دیا

    عالمگیر وبا کورونا کو سکشت دینے کے بعد امیتابھ بچن نے شوبز سرگرمیوں کا آغاز کر دیا

    بھارتی سینئر اور لیجنڈری اداکار امیتابھ بچن امیتابھ بچن 11 جولائی ک عالمگیر وبا کورونا کا شکار ہو گئے تھے23 د ن کے نانا وتی اسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد کورونا ٹیسٹ منفی آنے پر 3اگست کو انہیں گھربھیج دیا گیا تھا-

    باغی ٹی وی : بالی وڈ شہنشاہ امیتابھ بچن نے کورونا کو شکست دینے کے بعد اپنے پروگرام ’کون بنے گا کروڑ پتی‘ کے نئے سیزن کی شُوٹنگ کا آغاز کردیا یہ خبر انہوں نے مداحوں کے ساتھ سوشل میڈیا پر شئیر کی-
    https://www.instagram.com/p/CEPhKaxB9w7/?utm_source=ig_embed
    سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پرامیتابھ بچن نے کورونا سے بچاؤ کی حفاظتی تدابیر اختیار کئے شو کی شُوٹنگ کے دوران لی گئی تصویر شیئر کی-

    تصویر شئیر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ میں کام پر واپس آگیا ہوں کون بنے گا کروڑ پتی کے سیزن 12 کی عکس بندی کے دوران سب نے کورونا سے بچاؤ کیلئے نیلے رنگ کا پی پی ای پہنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس شو کو انہوں نے سن 2000 میں شروع کیا تھا ب 2020 میں اس شو کے حیرت انگیز 20 سال گزر چکے ہیں یہی زندگی ہے۔

    خیال رہے کہ جولائی 2000 میں برطانوی طرز کے شو کا آغاز بھارت میں بھی ہوا جس کے سوائے 3 سیزن کے تمام سیزن کی میزبانی امیتابھ بچن نے کی ہےامیتابھ بچن کی غیر موجودگی میں اس شو کی میزبانی شاہ رخ خان نے کی تھی-

    امیتابھ بچن کا مداحوں کے لئے خصوصی پیغام

    بھارتی فنکاروں کا امیتابھ بچن اور ابھیشیک بچن کی صحتیابی کے لئے دعائیہ پیغامات

    شاہد آفریدی اور شعیب اختر کا امیتابھ بچن اور ابھیشیک بچن کے لئے نیک خواہشات کا…

    امیتابھ بچن کی طبیعت مستحکم ہے تاہم اگلے 7 دن بہت اہم ہیں ہسپتال ذرائع

    کورونا وائرس کا شکار ایشوریا رائے بچن طبیعت بگڑنے پر بیٹی سمیت ہسپتال منتقل

  • نیٹ فلکس کے کامیڈی ٹاک شو پیٹرائٹ ایکٹ پر خواتین کو تحفظ فراہم نہ کرنے کا الزام

    نیٹ فلکس کے کامیڈی ٹاک شو پیٹرائٹ ایکٹ پر خواتین کو تحفظ فراہم نہ کرنے کا الزام

    نیٹ فلکس کے پرائم ٹائم میں نشر ہونے والا کامیڈی ٹاک شو پیٹرائٹ ایکٹ کے اچانک ختم ہو نے پر مداحوں نے شدید غحم و غصے اور حیرانگی کا اظہار کیا تھا-یہ شو جدید ثقافتی اور سیاسی منظر ناموں کی گہرائیوں کو پیش کرتا تھا لیکن ظاہری طور پر یہ جن باتوں پر سوال اٹھاتا تھا خود ان پر عمل کرنے میں ناکام رہا خاص طور پریہ شو ان خواتین کے تحفظ میں ناکام ہوگیا جنہوں نے اس کی کامیابی میں اہم ترین کردار ادا کیا-

    باغی ٹی وی : حال ہی میں پاکستانی لکھاری نور نسرین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے سلسلہ وار ٹویٹس میں حسن منہاج کے کامیڈی شو پیٹرائٹ کی خامیوں اور بُرائیوں پر سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ انہیں سیٹ پر کیمراز بند ہونے کے درمیان انہیں کیا برداشت کرنا پڑتا تھا-


    نور نسرین نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ بہت سارے لوگوں نے مجھ سے پیٹریاٹ ایکٹ کے بارے میں بات کرنے کو کہا ہے۔ میں نے اس سے اجتناب کیا کیونکہ ہر بار جب میں ذلیل و خوار ہونے ، ہدف بنائے جانے اور نظرانداز کیے جانے کے تجربے کو سوچتی ہوں ، تو میں ڈپریشن کے دنوں میں چلی جاتی ہوں۔

    انہوں نے لکھا میں شو کے دونوں میں یہ سب کہنے سے اجتناب کرتی تھی تاکہ اس کو ٹویٹ کرنے سے شاید مجھے یا کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔

    انہوں نے مزید اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ لیکن مجھ سے بہادر خواتین پہلے ہی بول چکی ہیں۔ یہ شو ایک ضروری اور اہم تھا ، اور مجھے آج تک وہاں اپنے کام پر فخر ہے۔ اس نے مجھے جو مواقع فراہم کیے ہیں اس کے لئے میں بھی ان کا مشکور ہوں۔

    نور نسرین نے مزید لکھا کہ لیکن مجھے حیرت ہے کہ اگر میں وہاں گذشتہ کچھ مہینوں میں اس ذہنی اذیت کے قابل تھی جو میں نے وہاں گزارے۔ کاش ہمارے پاس ابھی بھی پیٹریٹ ایکٹ ہوتا۔ میری بھی خواہش ہے کہ وہ حقیقت میں ان ترقی پسند اخلاقیات پر عمل کرتے جو وہ اسکرین پر دکھاتے تھے تب وہ واقعی آپ کے پیار کے مستحق ہوتے۔

    نور نسرین کے بعد نیویارک ٹائمز سے ایوا ڈکشٹ نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ یہ شو صرف ایک اسٹار کی قابلیت اور کرشمہ نہیں تھا وہ لوگ جن کی محنت نے اسے وہ بنایا جو دکھائی دیتا تھا ان کے ساتھ ہولناک سلوک کیا گیا میں نے دیکھا ہے کہ میرے دوست وہاں کام کرتے ہوئے کیسے حالات سے گزرے
    https://twitter.com/ivadixit/status/1296848249156972544
    ایواڈکشٹ نے مزید لکھا کہ شو کے دیگر افراد بھی اس سب سے گزرے میں صرف اتنا کہوں گی کہ براہ کرم اپنے ایسے نمائندوں سے پوچھ گچھ کریں اور جب وہ اقتدار اور اختیار حاصل کرلیں گے تو وہ کس طرح برتاؤ کریں گے-

    دوسری جانب پروڈیوسر ایمی ژانگ نے سلسلہ وار ٹوئٹس میں تصدیق کی کہ دیگر افراد بھی اس سب سے گزرے یہ جاننا صدمہ تھا کہ شیلا اور نور وہ نادیدہ پروڈیوسرز جنہوں نے ایمزون ، سعودی عرب، بھارتی انتخابات میں ماری کچھ اقساط کو لیڈ کیا تھا انہیں خاموش کرایا گیا اور غیر منصفانہ سلوک کیا گیا صرف وہ نہیں تھیں جنہیں اس سب سے گزرنا پڑا۔


    جس کے بعد پیٹرائٹ ایکٹ کے سابقہ ملازمین نے بھی کام کی جگہ پر تعصب کی مذمت کی.

    انہوں نے لکھا کہ منسوخی سے تکلیف ہوتی ہے کیونکہ ہمیں کبھی بھی داخلی طور پر چیزوں کو مکمل طور پر ٹھیک کرنے کا موقع نہیں ملا کہ لوگوں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔ اور کچھ کے لئےیہ تبدیلیاں بہت دیر سے آئیں گی۔

    انہوں نے لکھا کہ پیٹرئٹ کے لوگوں کی اکثریت نے اس شو کی کامیابی کے لئے ناقابل یقین حد تک محنت کی ہے ، اور میں ان کے لئے ہمیشہ مشکور رہوں گی لیکن یہ حیرت انگیز ہے کہ اس طرح کے منفی تجربات کو تخلیق کرنے میں کتنا کم وقت لگتا ہے اور طویل عرصے تک جاری رہتے ہیں-

    ایمی ژانگ ان ہولناک حاکلات سے گزرنے والوں کے لئے محبت اور ہمدردی کا اظہار کیا- جس کے جواب میں نور نسرین نے ایمی کا شکریہ ادا کیا-
    https://twitter.com/SheilaVee/status/1270048766884708352
    خیال رہے کہ نور نسرین سے قبل جون میں صحافی اور ایڈیٹوریل پروڈیوسر شیلا وی کمار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا تھا کہ میں اس سے پہلے کبھی زیادہ ناخوش نہیں ہوئی تھی جب میں حسن منہاج کے ساتھ پیٹریٹ ایکٹ میں کام کر رہی تھی۔

    واضح رہے کہ پیٹرائٹ ایکٹ 2018 میں شروع ہوا تھا جو سیزنز پر مشتمل تھا اور اب تک اس کی 39 قسط نشر ہوچکی ہیں اور یہ اب تک مختلف اعزازات اپنے نام کر چُکا ہے-

    نیٹ فلکس کے کامیڈی ٹاک شو پیٹرائٹ ایکٹ کے اچانک ختم ہو نے پر مداحوں کا شدید ردعمل

    امریکی گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو غیر موثرصدر قرار دیا

    اسپائیڈرمین کے بعد اب شائقین جلد ہی اسپائیڈر وومن کی مہارتوں سے بھی محفوظ ہوسکیں گے

    شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل ہالی وڈ پروڈکشن میں کام کرنے جا رہے ہیں؟

  • سوشل میڈیا پر حرامانی اور یاسر حسین کی بھارتی گانے پر ڈانس ویڈیو وائرل

    سوشل میڈیا پر حرامانی اور یاسر حسین کی بھارتی گانے پر ڈانس ویڈیو وائرل

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ حرا مانی اور نامور کامیڈین اداکار و میزبان یاسر حسین کی بھارتی گانے پر کئے گئے ڈانس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے-

    باغی ٹی وی : حرامانی اور یاسر حسین کی ایک ڈانس ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں دونوں بالی وڈ اداکار شاہ رخ خان ، امیتابھ بچن اور ہرتھیک روشن ککی فلم’کبھی خوشی کبھی غم‘کے مشہور گانے ’دیکھا تم کو جب سے‘پر ڈانس کرہے ہیں۔
    https://www.instagram.com/tv/CD5vq4OpbTx/?igshid=1idltgo2ck6pw
    فلم میں یہ گانا اداکار ہرتھیک روشن اور کرینہ کپور پر فلمایا گیا تھا اور بہت زیادہ مشہور ہو اتھا ۔ حرا مانی اور یاسر حسین نے بھی ویڈیو میں بالکل ہرتھیک اور کرینہ کی طرح ڈانس کیا ہے ۔ سوشل میڈیا پر جہا ں لوگ دونوں فنکاروں کی ڈانس پرفارمنس کو بے حد سراہ رہے ہیں وہیں کچھ لوگ دونوں پر تنقید بھی کر رہے ہیں-

    ماڈل فریال مخدوم کے حالیہ برائیڈل فوٹو شوٹ کی خوبصورت تصاویر اور ویڈیو وائرل

    یاسر حسین کا سوشل میڈیا صارف کو کرارا جواب

    اداکار یاسر حسین پاکستانی بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکرمند

    حرامانی نے اپنی پُراعتماد شخصیت کا راز بتا دیا

  • مسلح افراد کا مشہور اداکارہ اور پولیس آفیسر صبا سحر پر قاتلانہ حملہ

    مسلح افراد کا مشہور اداکارہ اور پولیس آفیسر صبا سحر پر قاتلانہ حملہ

    منگل کے روز معروف اداکارہ اور پولیس آفیسر صبا سحر کو کام پرجاتے ہوئے کابل میں گولی مار کر زخمی کردیا گیا تھا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ افغانستان کے دارالحکومت کابل کے پی ڈی 8 میں کارتینو کے علاقے میں اس وقت پیش آیا جب وہ دفتر جارہی تھی۔

    اداکارہ و پولیس آفیدر کے لواحقین نے بتایا کہ ان کا گارڈ اور ڈرائیور بھی زخمی ہوئے ہیں۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ٹویٹر پر حملے کی مذمت کی ہے۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ انسانی حقوق کے محافظوں ، سیاسی کارکنوں ، صحافیوں اور فلمی اداکاروں پر حملوں اور قتل کی کوششوں میں اضافہ انتہائی تشویشناک ہے۔ ان حملوں کی تحقیقات ہونی چاہئیں اور قصورواروں کو سزا دی جانی چاہیئے۔ تنظیم نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ حکام کو خطرے میں ہر ایک کی حفاظت کرنی چاہئے۔

    سحر سن 1975 میں کابل میں پیدا ہوئیں تھیں۔ ایک فعال پولیس آفیسر ہونے کے ساتھ ساتھ ، وہ ایک فلم ڈائریکٹر اور پروڈیوسر بھی ہیں اور ان کی پہلی فلم "دی لاء” 2004 میں ریلیز ہوئی تھی اور اس فلم نے کافی کامیابی حاصل کی تھی-

  • کسی کردار کے مثبت یا منفی ہونے سے فرق نہیں پڑتا بس کہانی اور کردارمیں دم ہونا چاہیے  نوین وقار

    کسی کردار کے مثبت یا منفی ہونے سے فرق نہیں پڑتا بس کہانی اور کردارمیں دم ہونا چاہیے نوین وقار

    پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کی معروف اداکارہ کا کہنا ہے کہ وہ کم کام کرنے پر یقین رکھتی ہیں اور ان کے لیے کسی کردار کے مثبت یا منفی ہونے سے فرق نہیں پڑتا بس کہانی اور کردارمیں دم ہونا چاہیے۔

    باغی ٹی وی : حال ہی میں نوین وقار نے انڈپینڈنٹ اردو سے انٹر ویو کے دوران اپنی زندگی اور کیرئیر کے بارے میں کُھل کر بات کی انٹر ویو مے دوران نوین وقار نے اپنے نئے آنے والے ڈرامے کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ حال ہی میں ان کا ایک ڈرامہ ’چھلاوہ‘ کے نام سے آںے والا ہے جو ایک مافوق الفطرت کردار کی کہانی ہے۔

    مذکورہ ڈرامے کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے اداکارہ کا کہنا تھا کہ ان کا نیا ڈرامہ جس کا نام ’چھلاوہ‘ ہے، وہ جلد نشر ہونا شروع ہوجائے گا اور وہ ایک مافوق الفطرت مخلوق کی کہانی ہے۔

    اپنے کردار کے بارے میں اداکارہ کا کہنا تھا کہ ایک لڑکی ہے جس کے پیچھے یہ ’چھلاوہ‘ پڑ جاتا ہے اور وہ کیسے اس سے نبرد آزما ہوتی ہے جبکہ ان کی خواہش تو تھی کہ وہ چھلاوہ کا کردار خود کریں لیکن انہیں یہ کردار نہیں دیا گیا۔

    ہمسفر میں نوین نے ایک ولن کا کردار کیا تھا، تاہم اس کے بعد سے انہوں نے کبھی کوئی منفی کردار نہیں کیا، اسکے جواب میں نوین کا کہنا تھا کہ وہ کم کام کرنے پر یقین رکھتی ہیں اور ان کے لیے کسی کردار کے مثبت یا منفی ہونے سے فرق نہیں پڑتا بس کہانی اور کردار میں دم ہونا چاہیے۔

    اپنے کم کام کرنے کے بارے میں نوین نے کہا کہ پاکستان میں کئی چینلز پر ایک ہی طرح کی کہانی چل رہی ہوتی ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ہمسفر کے بعد اسی قسم کے چار دوسرے ڈراموں میں کام کرنے کی بھی پیشکش ہوئی تھی اس لیے وہ ایک ہی جیسا ہی جیسا کام باربار نہیں کرنا چاہتیں اسی لیے وہ کم مگر اچھا کام کرنے پر یقین رکھتی ہیں تاکہ لوگ یاد رکھیں۔

    نوین وقار نے اب تک صرف ایک ہی فلم میں کام کیا ہے اور اس کے بعد وہ بڑے پردے پر کبھی نظر نہیں آئیں اس پر نوین نے کہا کہ ہمارے ملک میں بننے والی فلموں میں لڑکی کو ایک شو پیس بنا کر پیش کیا جاتا ہے اس لیے میں کسی ایسے کردار کی متلاشی ہوں جو انہوں نے پہلے کسی ڈرامے میں نہ کیا ہو تو ضرور کروں گی-

    چند سال پہلے نوین کو بالی وڈ میں کام کرنے کی پیشکش بھی ہوئی تھی لیکن انہوں نے منع کردیا تھا کیونکہ ان کے بقول وہ اس کے لیے تیار نہیں تھیں اور وہ فلم بھی اپنی ہی مرضی کی کرنا چاہتی ہیں۔

    نوین وقار نے مزید کہا کہ معاشرے میں شادی اور پیار کے علاوہ بھی کئی موضوعات ہیں لیکن کوئی رسک لینے کو تیار نہیں ہوتا کیونکہ عمومی خیال یہ ہوتا ہے کہ عورت روئے گی نہیں تو ریٹنگ کیسے آئے گی۔ اب وقت آگیا ہے کہ نئے موضوعات پر بات کی جائے تعلیم اور معیشت کے بارے میں کہانیاں لکھی جائیں تاہم میں صرف ایک چہرہ ہوں اور یہ ان کی ذمہ داری ہے جو ڈرامہ ساز ہوتے ہیں۔

    اس سے قبل اداکارہ نے بتایا تھا کہ انہوں نے ایک نیا ڈرامہ سائن کرلیا جس میں وہ ایک منفرد حیران کن اور مختلف کردار میں نظر آئیں گی نوین وقار اپنے اس ڈرامے کے لیے بےحد پرجوش ہیں اداکارہ نے کہا امید ہے کہ مذکورہ عید کے موقع پر اسے نشر کیا جائے گا اور وہ اسڈرامے کے لئے بے حد پُرجوش ہیں

    اس ڈرامے میں نوین وقار ماہ نور نامی لڑکی کا کردار نبھارہی ہیں ڈراؤنی کہانی پر مبنی اس ڈرامے میں کئی سالوں کا دور دکھایا جائے گا ڈرامے کو شمعون عباسی نے ڈائیریکٹ کیا ہے شمعون عباسی ایک دہائی بعد کسی ڈرامے کی ہدایات دیں گے

    ڈرامے کی دیگر کاسٹ میں نوین وقار کے ساتھ ثمینہ احمد اور عدنان جعفر بھی موجود ہیں اور یہ ہم ٹی وی پر نشر ہوگا

    نوین وقار نے ٹی وی پر اپنا کیرئیر بطور وی جے شروع کیا تھا اور گانے بھی گائے تھے بلکہ لکھے اور کمپوز بھی کیے تھے لیکن اداکاری شروع کرنے کے بعد انہوں نے موسیقی کو خیر باد کہہ دیا۔

    خیال رہے کہ نوین چھلاوا سے قبل ڈرامہ سیریل ہمسفر ، بے وفا،الوداع، کچھ نہ کہو ،نے انتہا ، عینی کی آئے گی بارات اور متعدد ڈراموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھا چُکی ہیں-

    نئے ڈرامے میں حیران کن اور مختلف کردار میں نظر آؤں گی نوین وقار

    ویب سیریز ’چڑیلز‘ کی ٹیم پر فرانسیسی آرٹسٹ کا خاکہ کاپی کرنے کا الزام

    عالمگیر وبا کورونا وائرس کے باعث احد رضا میر کا تھیٹر پلے موخر

  • سی بی آئی کی تفتیش میں سوشانت سنگھ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ نے کیس کو مزید اُلجھا دیا

    سی بی آئی کی تفتیش میں سوشانت سنگھ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ نے کیس کو مزید اُلجھا دیا

    آنجہانی بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی موت کی تحقیقات سی بی آئی کررہی ہے تحقیقات کے دوران ہر دن نئے انکشافات ہورہے ہیں اب سوشانت سنگھ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ نے کیس کو مزید اُلجھا دیا ہے ایسا لگتا ہے کہ یہ خودکشی کا معاملہ نہیں ہے۔

    باغی ٹی وی :بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سوشانت کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سی بی آئی کی ٹیم کو کافی بڑی گڑبڑ نظر آرہی ہے۔ رپورٹ میں سوشانت کے گلے پر بنے نشان اور کپڑے میں فرق ملا ہے۔

    سوشانت کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کے وقت کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا ہے۔ عام طور پر شام ڈھلنے کے بعد پوسٹ مارٹم نہیں کیا جاتا لیکن سوشانت کا پوسٹ مارٹم رات میں ہی کیوں کردیا گیا؟

    بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ سی بی آئی نے سب سے پہلے اداکار کی پوسٹ مارٹم کو جلد جاری کرنے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا اور پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹرز سے سوالات کیے تو نئے انکشافات سامنے آئے۔

    رپورٹ کے مطابق جب سی بی آئی نے سوشانت کے گھر پہنچ کر سوشانت کی خودکشی کا منظر دوبارہ تخلیق کیا اور تفتیش کی کہ کس طرح اداکار نے خودکشی کی اور اُن کے قتل کے کتنے امکانات ہیں تو کئی سوالات سامنے آئے۔

    سی بی آئی نے سوشانت سنگھ کی خودکشی کا منظر دوبارہ تخلیق کیا تو پتا چلا کہ جس پنکھے سے لٹک کر اداکار نے خودکشی کی تھی وہ بستر سے صرف 5 فٹ 11 انچ اُوپر تھا جبکہ اداکار کا قد بھی 5 فٹ 10 انچ ہے جبکہ اداکار خودیہ دعوی کرتے تھے کہ اُن کا قد 6 فٹ ہے۔

    سی بی آئی افسران نے سوال اُٹھایا کہ جب بستر اور پنکھے کے درمیان فاصلہ ہی اداکار کے قد جتنا یا اس سے بھی کم ہے تو کیسے انہوں نے خودکشی کی؟

    اسی طرح سی بی آئی نے اداکار کی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر بھی خدشات کا اظہار کیا اور سی بی آئی نے اس ضمن میں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کے ماہرین کی ٹیم بھی تشکیل دی ہے۔

    ٹائمز آف انڈیا نے اپنی ایک اور رپورٹ میں بتایا کہ سی بی آئی سوشانت سنگھ کیس کی تفتیش کے دوران اس پہلو کی جانچ کر رہی ہے کہ اداکار کو دوسرے افراد کی جانب سے لٹکانے کے کتنے امکانات ہیں اور اس ضمن میں خفیہ ادارے کے ماہرین نے ہر پہلو سے کیس کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔

    سی بی آئی کی گزشتہ چند دن کی تفتیش کے حوالے سے بھارتی میڈیا کی متعدد خبروں میں دعوی کیا جا رہا ہے کہ مرکزی تفتیشی ادارے کی تحقیق میں سوشانت سنگھ کیس میں متعدد نئے پہلو سامنے آئے ہیں-

    سوشانت کی بہن کا کنگنا رناوت کو مشکلات سے لڑنے اور مضبوط رہنے کا مشورہ

    سوشانت کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کچھ گڑبڑ ہے پوسٹ مارٹم صحیح طریقے سے نہیں ہوا یا…

    قتل کی دھمکیوں کے بعد پوجا بھٹ نے اپنا انسٹاگرام اکاؤنٹ پرائیویٹ کر لیا

    قتل کی دھمکیوں کے بعد پوجا بھٹ نے اپنا انسٹاگرام اکاؤنٹ پرائیویٹ کر لیا