Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • یہ پاکستان کے ارطغرل اور حلیمہ سلطان ہیں عائشہ عمر

    یہ پاکستان کے ارطغرل اور حلیمہ سلطان ہیں عائشہ عمر

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ عائشہ عمر نے وش اے میک کے 3 بیمار بچوں کے ساتھ تصویریں شیئر کرتے ہوئے انہیں پاکستان کی حلیمہ سُلطان قرار دیا-

    باغی ٹی وی :دو روز قبل شہرہ آفاق تُرک سیریز ارطغرل میں بہادر جنگجو کا کردار ادا کرنے والے تُرک اداکار انجین التان سے تین شدید بیمار بچوں سے ویڈیو لنک پر ملاقات ہوئی۔

    ملاقات میں ارطغرل غازی(انجین التان) کے مرکزی کردار سے ملنے کے خواہشمند 3 شدید بیمار بچوں نے حلیمہ سلطان کے کردار سے مماثل لباس زیب تن کیا تھا-

    اس تقریب کی میزبانی کے فرائض معروف اداکارہ عائشہ عُمر نے سرانجام دیئے تھے-
    https://www.instagram.com/tv/CECHE4THX7_/?igshid=1olna2fz36nnu
    عائشہ عمر نے سماجی رابطے کی ویب سائت انسٹاگرام پر انجین التان سے ملاقات کی تقریب میں بچوں کے ساتھ لی گئی تصاویر شئیر کیں-
    https://www.instagram.com/p/CEEd2qqDTv0/?igshid=mkaejix3tvo2
    تصاویر شیئر کرتے ہوئے عائشہ عمر نے لکھا کہ یہ ہماری اپنی حلیمہ سلطان ہیں۔

    اداکارہ نے بتایا کہ یہ دو وہ خوش نصیب لڑکیاں ہیں جن کی گزشتہ روز دلی خواہش پوری ہوگئی ہے جس کے بعد اُن کا کہنا ہے کہ ہم اس وقت چاند پر پہنچ چکی ہیں۔

    عائشہ عمر نے بچوں اور ہمایوں سعید کے ساتھ لی گئی تصویر کو انسٹاگرام سٹوری میں بھی شئیر کیا اور لکھا کہ ان نوجوانوں سے مل کر انہیں بہت خوشی ہوئی، ہمارے اپنے نوعمر حلیمہ سلطان اور ارطغرل-


    عائشہ عمر انسٹااگرام اسکرین شاٹس
    تقریب میں بچوں نے ڈرامے اور ڈرامے کے اداکاروں کے لئے اپنی رائے اور محبت کا کا اظہار کیاتھا جبکہ ان کی جانب سے انجن التان کو تلوار کا تحفہ بھی دیا گیا جو ترک قونصل جنرل نے ان کی جانب سے وصول کیا۔

    انجین التان نے اس موقع پر کہا تھا کہ میں پاکستان سے ملنے والی محبت پر بہت خوش ہوں جبکہ ارطغرل کا کردار بہت مشکل ضرور تھا مگر زبردست بھی تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ وہ بہت جلد پاکستان آکر مداحوں سے ملاقات کریں گے-

    ترک اداکار انجن التان 18 اگست کو پاکستان آرہے ہیں؟

    تُرک فنکاروں کی جانب سے پاکستانیوں کے لئے پیغام

    ارطغرل ڈرامے کی کی مقبولیت میں مزید اضافہ، ایک اور سنگ میل عبور ہو گیا

    وزیر اعظم کے چہیتے افراد ارطغرل ڈرامے کے نام پر پی ٹی وی کولوٹ رہے ، یوٹیوب چینل…

    ارطغرل اردو کی بڑی کامیابی، دنیا میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والے چینلز میں تینتیسویں نمبر پر آگیا

    ’’ارطغرل غازی‘‘ میں مرکزی کردار ادا کرنے والے ’’ارطغرل‘‘ کون ہیں ؟

  • آغا علی نے نیلم منیر اور پشتون زبان سے متعلق تبصرے کی پانچ سال پُرانی ویڈیو پر معافی مانگ لی

    آغا علی نے نیلم منیر اور پشتون زبان سے متعلق تبصرے کی پانچ سال پُرانی ویڈیو پر معافی مانگ لی

    اداکار آغا علی نے پشتو زبان سے متعلق ایک پانچ سال پرانی ویڈیو پر تبصرے پر معافی مانگ لی-

    باغی ٹی وی : گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں فیصل قریشی، آغا علی اور نیلم منیر نظر آرہے ہیں۔ ویڈیو میں آغا علی نیلم منیر سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے بتا رہے ہیں کہ شوٹ کے دوران ہم بیٹھے ہوتے ہیں تو اچانک نیلم کے پاس کال آتی ہے جس کے بعد اچانک سے کوئی پشتو میں بات کرنا شروع کر دیتا ہے۔
    https://www.instagram.com/p/CEDqPNdhYIU/?igshid=14nrn24vdbp4a
    آغا علی کی بات پر وہاں میزبان سمیت تمام ہی شرکاء ہنسنے لگے جس کے بعد آغا اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ پشتو زبان سننے کے بعد جب آپ اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں تو وہ اداکارہ جس سے آپ کو مثبت احساس محسوس ہوتا ہے وہ پشتو میں بات کر رہی ہوتی ہے۔


    مذ کورہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد آغا علی پر کچھ صارفین کی جانب سے تنقید بھی کی گئی جس پر اداکار نے اپنی ٹوئٹ میں معذرت کرتے ہوئے کہا کہ پہلی بات یہ ہے کہ اگر کسی کا بھی دل دُکھا ہے کسی پانچ سال پُرانی کلپ کو دیکھ پر بھی تو میری طرف سے معذرت جب کہ جس پٹھان سے یہ مذاق ہو رہا تھا(نیلم مُنیر) وہ خود بھی بے ساختہ ہنس رہی تھیں کیوں کہ انہیں پتا تھا کہ میں کس ارادے سے بات کر رہا ہوں لیکن میں پھر بھی معذرت چاہتا ہوں۔


    آغا علی نے اپنی دوسری ٹوئٹ میں کہا کہ میں نے کئی شوز میں کہا کہ پٹھان پاکستان کی سب سے محنتی قوم ہے لیکن افسوس کہ لوگ ایسی باتیں وائرل نہیں کرتے۔ خیر میں نے ایک پٹھان وزیر اعظم کو ووٹ دیا تھا تو میں تو پٹھانوں کو اتنا قابل سمجھتا ہوں۔ اللہ پاکستان پر رحم فرمائے-

    آغا علی کا اہلیہ حنا الطاف سے موٹی نہ ہونے کا وعدہ لینے کے بیان پر علی گل پیر کی طنزیہ پیروڈی سوشل میڈیا پر وائرل

  • ماضی کا مقبول ڈرامہ ’ان کہی‘ تھیٹر پر پیش کیا جائے گا

    ماضی کا مقبول ڈرامہ ’ان کہی‘ تھیٹر پر پیش کیا جائے گا

    ماضی کا معروف و مقبول پاکستانی ڈرامہ ’ان کہی‘ 20 اکتوبر سے آرٹس کونسل میں پیش کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : اطلاعات کے مطابق ماضی کا پاکستانی مقبول و معروف ڈرامہ ’ان کہی‘ 20 اکتوبر سے آرٹس کونسل میں پیش کیا جائے گا-اس کے بارے میں بات کرتے ہوئے احمد شاہ نے کہا کہ آرٹس کونسل نے حکومت کی ہدایت پر ایس او پیز پر مکمل عمل کرتے ہوئے سرگرمیوں کا آغاز کیا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ ڈرامہ مارچ کے وسط میں شروع ہونا تھا مگر کورونا وائرس کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملتوی ہو گیا تھا۔ اب ہمارے ملک میں وبا کا زور کم ہو گیا ہے اور حکومت نے بھی ایس او پیز پر عمل کرنے کی ہدایت کے بعد آرٹس کونسل کو ثقافتی سرگرمیوں کا آغاز کرنے کی اجازت دے دی ہےاحمد شاہ نے کہا کہ طویل لاک ڈاؤن کے بعد آرٹس کونسل شہریوں کے لئے بہتر سہولتیں پیش کر رہا ہے۔

    ان کہی ڈرامے کے ڈائریکٹر داور محمود نے کہا کہ 20 اکتوبر سے ان کہی 2020 شروع ہو گا یہ پرانا والا ان کہی نہیں ہے تاہم اس میں پرانے پیغام کو نئے انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔ ڈیڑھ سو سے زیادہ فن کار اس میں کام کریں گے جن میں آرٹسٹ، ڈانسر اور دیگر لوگ شامل ہیں جبکہ آمنہ الیاس اس ٹیم کو لیڈ کریں گی۔

    ڈرامے کی رائٹر حسینہ معین نے کہا کہ ان کہی 35 سال پہلے اس وقت کے لحاظ سے لوگوں کےلئے ایک پیغام تھا وہ اس وقت لوگوں کے پاس پہنچ گیا تھا۔ آج کے حالات کے مطابق ان کہی 2020 میں پیغام ہے کہ معاشرے میں نفرت نہیں محبت کو فروغ دینے کے لئے آج کی نسل کو کام کرنا چاہئے تاہم ڈرامے کہانی پرانی ہے اور کچھ چیزیں نئی ہیں اس کے بعد تنہائیاں بھی تیار ہے۔

    ساجد حسن نے کہا کہ اس ڈرامہ میں حسینہ معین کی زندگی کی کہانی ہے۔ احمد شاہ نے تھیٹر کوآباد کر لیا لہٰذا شہری ایس او پیز کو استعمال کرتے ہوئے احمد شاہ کے ساتھ تعاون کریں۔ کراچی آرٹس کونسل ملک میں یونیک ادارہ ہے حکومت کو اس کی سرپرستی کرنا چاہئے۔

    حیران ہوں کہ ستمبر تک ہمارے ملک میں کیا صورتحال ہوگی واسع چوہدری

  • پریشانیوں کا علاج  تحریر:عمر یوسف

    پریشانیوں کا علاج تحریر:عمر یوسف

    پریشانیوں کا علاج

    عمر یوسف

    انسان پریشان، اداس ، غمزدہ ، بے بس و لاچاری کی حالت میں بیٹھا نا امیدیوں کے گہری کھائیوں میں پڑا یہ سوچ رہا ہوتا ہے کہ زندگی کتنی ظالم ہے ایسی بدتر زندگی سے تو موت بہتر ہے ۔۔۔۔ کبھی وہ اپنے آپ پر ہوئے ظلم کا کا بدلہ نہیں لے سکتا ، کبھی وہ اپنے اوپر آئی ہوئی پریشانی نہیں ٹال سکتا ، کبھی وہ اپنی راہ میں رکاوٹ کو دور نہیں کرسکتا ، کبھی وہ من چاہی مراد نہیں پاسکتا ۔۔۔۔ ان سب کے نتیجے میں اسے مایوسیاں گھیر لیتی ہیں اور وہ اپنی جان کے درپے ہوجاتا ہے وہ خود کشی کی سوچتا ہے ۔۔۔۔ دل کی تنگی سب کچھ چھین لیتی ہے ۔۔۔۔ اداس دل کے ساتھ زندگی بے معنی و بے مقصد ہوجاتی ہے ۔۔۔ جب دل اداس ہوتا ہے پسندیدہ کتاب پڑھنے میں وہ مزہ نہیں رہتا ۔۔۔ من پسند کھانا سامنے ہوتا ہے لیکن اس کا لطف ختم ہوچکا ہوتا ہے ۔۔۔ دل کے قریبی یار دوست بھی ساتھ ہوں تو اداسیاں چاہت ختم کردیتی ہیں ۔۔۔۔ دل تو جسم ایسی حیثیت رکھتا ہے کہ اس کے صحیح ہونے سے جسم صحیح ہوتا ہے اگر یہ بگڑ جائے اداس ہوجائے غمگین ہوجائے تو سارے جسم کو ناکارہ کردیتا ہے پھر سارا جسم بیمار سا لگتا ہے ۔۔۔ دل کی یہ اداسیاں انسان کی آزادیوں کو قیدیوں میں بدل دیتی ہیں ۔۔۔ میٹھے کو نمکین میں بدل دیتی ہیں روشنی کو اندھیروں میں بدل دیتی ہیں ۔۔۔۔ جب دل کی یہ حالت ہوجائے تو انسان کتنی کوشش کرتا ہے کہ اپنی اس حالت کو بدلوں۔۔۔۔ اپنی اداسیوں کو بھگانے کے لیے وہ سارے راستے اختیار کرتا ہے ۔۔۔۔ کبھی کبھی شیطان اس کی اس حالت سے خوب فائدہ اٹھاتا ہے ۔۔۔ اس کو وسوسوں کا شکار کرتا ہے کہ تمہاری یہ اداسیوں شراب پینے سے ختم ہوجائیں گی ۔۔۔ زنا کرنا تمہیں ذہنی راحت دے گا ۔۔۔ گانا سننا تمہیں آسودگی دے گا ۔۔۔ شیطان کے بہکاوے میں آیا انسان ان سب کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے اور گناہوں کی دلدل میں پھنس کر خود کا دل کالا کرلیتا ہے وہ مزید پریشانیوں کا شکار ہوجاتا ہے زندگی اجیرن کربیٹھتا ہے ۔۔۔۔

    انسانی کی روحانی بیماری کو دیکھتے ہوئے مذہب معالج کے طور پر میدان میں آتا ہے ۔۔۔۔ دین اس کا طبیب بن جاتا ہے ۔۔۔ پھر اللہ اپنے طرف لوٹنے والے روحانی بیماروں کو حوصلہ اور امید دیتے ہیں ۔۔۔ وہ کہتا کہ اگر تم پر ظلم ہوا ہے تو اس کا بدلہ ضرور ملے گا یہاں نہیں تو قیامت کے دن ملے گا ۔۔۔۔ اگر تمہیں تکلیف و بیماری ہے تو وہ جلد ختم ہوجائے گی اور جب تک تم صبر کرو گے اور برداشت کرو گے تو تمہارے صبر و برداشت کے بدلے تمہارے گناہ معاف ہوں گے ۔۔۔۔ اسلام یہ درس دیتا ہے کہ یہ دنیا عارضی ہے ایک دن ختم ہوجائے گی ۔۔۔ اس فانی دنیا میں موجود ہر چیز زوال پذیر اور فانی ہے ۔۔۔ جو کل عروج پر تھے آج زوال پر ہیں جو آج زوال پر ہیں وہ کل عروج پر ہونگے ۔۔۔ تم بھی ہمت مت ہارو ۔۔۔ تمہارا غم اور دکھ بھی قصہ ماضی بن جائے گا ۔۔۔ اطمینان و سکون تمہارے پاس بھی آئے گا ۔۔۔ تم بھی راحت کی سانس لے پاو گے ۔۔۔ تنگیاں دینے والا ڈبل آسانیاں بھی پیدا کرے گا ۔۔۔۔ مذہب کی یہ تسلی اسلام کی حوصلہ افزاء کن باتیں انسان کو ذہنی آسودگی عطا کرتی ہیں یہ اطمینان اور سکون مادی دنیا کی ٹیکنالوجی بھی نہیں دے سکتی ۔۔۔۔ مذہب کو ماننے والے جب یہ احساس کرتے ہیں تو پھر سب کچھ ٹھیک ہوجاتا ہے ۔۔۔ زندگی ہلکی پھلکی اور پھولوں کی طرح ہوجاتی ہے ۔۔۔ آو اپنے دین اسلام کی طرف اس میں تمہاری دنیا و آخرت کی بہتری کا سامان ہے ۔

  • صبا قمر اور بلال سعید کی مسجد وزیر خان میں رقص کے حوالے سے محکمہ اوقاف کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آ گئی

    صبا قمر اور بلال سعید کی مسجد وزیر خان میں رقص کے حوالے سے محکمہ اوقاف کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آ گئی

    اداکارہ صبا قمر اور گلوکار بلال سعید نے اجازت نامے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لاہور کی مسجد وزیر خان میں رقص کیا: محکمہ اوقاف

    باغی ٹی وی : پاکستانی گلوکار بلال سعید اور اداکارہ صبا قمر نئے گانے ’قبول ہے‘ کی تاریخی مسجد میں ڈانس کرنے کے مناظر کی عکس بندی پر تنازع کا شکار ہو گئے تھے ، مسجد میں ڈانس ویڈیو وائرل ہونے کے بعد معروف مذہبی و سیاسی شخصیات سمیت عوام نے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے دونوں فنکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا تھا-

    جس کے بعد دونوں فنکاروں نے عوام کا دل دُکھانے پر معافی بھی مانگی تھی اور یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ یہ مناظر گانے کی ویڈیو سے ہٹا دیں گے

    جس کے بعد اداکارہ صبا قمر اور بلال سعید کے خلاف دفعہ 295 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ اداکارہ صبا قمر اور بلال سعید نے مسجد کا تقدس پامال کیا لہٰذا ان دونوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

    جس کے بعد سیکرٹری اوقاف پنجاب نے ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں لکھا تھا کہ سیکرٹری اوقاف حکومت پنجاب نے پہلے ہی ڈی جی اوقاف کو مسجد وزیرخان معاملے کی انکوائری کرنے کا حکم دے دیا ہے جہاں نجی کمپنی نے صبا قمر بلال سعید کی ویڈیو شوٹ کرنے سے این او سی کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے

    انہوں نے اپنے ٹویٹ میں یقین دہانی کرائی تھی کہ پی پی ایل میں شامل ایڈمن کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی-

    تاہم محکمہ اوقاف نے فوری تحقیقات کا آغاز کر دیا تھا تاہم اب محکمہ اوقاف کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آ گئی ہے-

    اطلاعات کے مطابق محکمہ اوقاف کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اداکارہ صبا قمر اور بلال سعید نے اجازت نامے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رقص کیا ہے۔

    دوسری جانب ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس محکمہ اوقاف نے بھی اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں اداکاروں کی جانب سے خلاف ضابطہ ڈانس کی تصدیق کر دی ہے۔

    مسجد وزیر خان میں اداکاروں کے ڈانس کی عکس بندی کے بعد محکمہ اوقاف نے صوبہ بھر کی تمام مساجد اور مزارات پر فلم اور ڈراموں کی ریکارڈنگ پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    ڈی جی محکمہ اوقاف پنجاب ڈاکٹر طاہر رضا بخاری کا کہنا تھا کہ مسجد وزیر خان میں ڈانس کے ذمہ دار مینجر سمیت تین اہلکاروں کو معطل کر کے پیڈا ایکٹ کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔

    محکمہ اوقاف کا کہنا ہے کہ مساجد میں اب سے نکاح پڑھانے کی اجازت ہو گی لیکن دلہا دلہن فوٹو شوٹ نہیں کرا سکیں گے۔

    صبا قمر اور بلال سعید کی جانب سے مانگی گئی معافی پر یاسر حسین کا ردعمل بھی سامنے آ گیا

    صبا قمر کی مسجد میں گانے کی شوٹنگ نے کس طرح میری زندگی کی سب سے اہم خوشی چھین لی

    مساجد سینما نہیں ہے مساجد کا تقدس پامال کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے ٹویٹر…

    اداکارہ صبا قمر اور بلال سعید کے خلاف مسجد کی بیحرمتی پر تھانہ مزنگ میں مقدمہ کی…

    مسجد وزیر خان کا تقدس پامال کرنے والوں کو جلد از جلد سزا دی جائے چودھری شجاعت…

    مسجد وزیر خان میں ویڈیو پر وضاحت دیتے ہوئے بلال سعید نے معافی مانگ لی

    مسجد میں گانے کے شوٹ کی اجازت کے تیس ہزار روپے لیے گئے ، نوٹیفیکیشن سامنے آ گیا

    قبول ہے ایک گانا تھا ان کا اصل نکاح نہیں تھا کہ انہوں نے ایک مشہور مسجد کے مذہبی…

    مسجد میں گانے کی شوٹنگ پر صبا قمر اور بلال سعید کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی،…

    صبا قمر کی مسجد وزیرخان میں ڈانس کی ویڈیو وائرل

    اداکارہ صبا قمر اور گلوکار بلال سعید کی عبوری ضمانت منظور

    بلال سعید اور صبا قمر کا گانا قبول ریلیز ہوتے ہی مقبول ہوگیا

    مسجد وزیر خان میں عکس بندی کے معاملے میں بلال سعید، صبا قمر اور محکمہ اوقاف کے…

    کراچی سٹی کورٹ میں صبا قمر اور بلال سعید کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست

  • صحافی خاتون مہمل سرفراز کی قومی ہیرو ڈاکٹر عبد القدیر خان کو ٹویٹر پر گالی

    صحافی خاتون مہمل سرفراز کی قومی ہیرو ڈاکٹر عبد القدیر خان کو ٹویٹر پر گالی

    جرنلسٹ مہمل سرفراز نے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو سوشل میڈیا پر گالی دے ڈالی جس پر پاکستانی صارفین غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں-

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جرنلسٹ مہمل سرفراز نے محسن پاکستان قومی ہیرو ڈاکٹرعبدالقدیر خان کو اپنے ٹویٹ میں بُرا بھلا کہتے ہوئے گالی دی مہمل سرفراز نے لکھا کہ جب بھی اے کیو خان ​​اپنا منہ کھولتا ہے تو وہ اپنا ایک گدا کیوں بناتا ہے؟

    مہمل سرفراز کی اس ٹوئٹ پر سوشل میڈیا صارفین غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے خوب تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں –


    ارسلان بٹ نامی صارف نے سوشل میڈیا صارفین سے میمل سرفراز کے خلاف ٹرینڈ بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے لکھا کہ سب دوست چاہے وہ کسی بھی پارٹی سے ہيں اس کے خلاف #mehmal_sarfraz_mafi_mango ٹرینڈ چلاؤ-


    ایک ٹویٹر صارف نے لکھا کہ بھائی اسکی معافی سے کیا ہو گا اندر جو بغض بھرا ہوا ہے ایسے لوگو کو عدالت کے ذریعے سخت سزائیں ہوں تو انکی عقل ٹھکانے آئے گی-
    https://twitter.com/Zahid17308299/status/1296056039843016704?s=20
    ایک صارف نے مہمل کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ یہ شرم سے جھکی جھکی نگاہیں اور زرداری کو سلام کرنا ،ہار ڈالروں کا گلے میں ڈال کر اور اپنی ماں کو بدنام کرنا، ازل سے ھے یہی پیشہ میرا ،میرے پچھلوں کا، اگلوں کا ،قدرت بھی انگشت بدنداں ھے،قصہ ایسےلوگوں کاعام کرنا-
    https://twitter.com/YOUSUFHUSSAINI/status/1296055826873028615?s=20
    یوسف حسین نامی صارف نے لکھا کہ بلاول اور اُسکا خاندان کرپشن میں مشہور ہے اور وہ دوسروں کو کرپٹ کہتا پھرتا ہے۔
    سندھ اور پاکستان کو تباہ کردیا اور وہ دوسروں کو نا اہل کہتا ہےایسے ہی محمل سرفراز جیالی ہے جو خود گالیوں سے کم بات نہیں کرتی اور سامنے والے اسکے جھوٹے خبر کی نشاندھی کردیں تو harrasment کا شور –
    https://twitter.com/aj5pti/status/1296055512845385730?s=20
    عاصم جمیل نامی صارف نے مہمل پر سخت تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ یہ کمینی عورتیں پھر جعلی ہراسمنٹ کا رونا روتی ہیں.. اپنی زبان دیکھو اس ذلیل عورت کی-
    https://twitter.com/BrainNails/status/1296063606832988165?s=20
    آج تک ہم نے کسی گورے کو اپنے قومی ہیرو کو اردو میں گالی دیتے نہ سنا ہے اور نہ ہی دیکھا ہے. مسلمان گورے کی غلیظ الفاظ استعمال کر کے خود کو ماڈرن کیوں سمجھنے لگتے ہیں؟؟؟ لگتا ہے تعلیم وہاں پہنچ گئ جہاں شرفا بیٹھا کرتے تھے.


    عباد حیدر نامی ایک صارف نے لکھا کہ پھر تم لوگ کہتے ہوں ہراس کیا جاتا ہے سوشل میڈیا پر عورت صحافیوں کو کیا یہ الفاظ محسن پاکستان کی شان کہ لائق ہے اپکو ڈوپ مرنا چاہئے چند ٹکے کی خاطر تم لوگ اپنے دین کا ملک ضمیر کا سودا کر لیتے ہو کیوں مرنا نہیں ہے تم لوگوں نے یا ادہر بھی جاکر جھوٹ بولنے چھوٹ جانے کا سچ رہی ہوں لعنت-


    علی احسن نامی صارف نے لکھا کہ یہ سارا ٹولہ اپنی موت آپ مر جائے گا اور ان کو رونے کے لیے ان کے اپنے گھر والے تک بھی نہیں ہوں گے.یہ چاہتیں ہیں کہ ہم ماری سرمد کے قدموں پر چلتے ہوئے اس ملک سے حیا کو بھی ختم کر دیں اور ہمیں پوچھنے والا بھی کوئی نہ ہو.


    ایک صارف نے لکھا کہ اسلام نے عورت کو جو عزت اور تحفظ دیا ھے وہ کسی معاشرے یا مذھب مین نہ تھا اور نہ ھے۔ ھمارے ھان مہمل جیسی کچھ خواتین ہیں جن کو وہ عزت ہضم نہین ھو پاتی اور اپنی اوقات سے باہر ہو جاتین ہین ان کے منہ بھی کھل جاتے ہین۔ یہ بی بی محترم عبدالقدیر خان صاحب کے مقام سے نا بلد ھے۔


    https://twitter.com/RiazKhanLasha14/status/1296055015497400321?s=20
    https://twitter.com/ImrannArif/status/1296064405424222211?s=20

    علی ظفر کے خلاف پروپیگنڈہ پر سوشل میڈیا صارفین نے عفت عمر کو کھری کھری سنا دیں

  • اپنی موسیقی کے ذریعے فلسطین کے حالات سُنانے والا 11 سالہ فلسطینی ریپر

    اپنی موسیقی کے ذریعے فلسطین کے حالات سُنانے والا 11 سالہ فلسطینی ریپر

    فلسطین کے شہر غزہ کے 11 سالہ ریپر عبدالرحمٰن ال شنتی فلسطینی علاقے کو درپیش جنگ اور مشکلات کی کہانی اپنے موسیقی سے اس طرح بیان کرتے ہیں کہ سننے والے حیران رہ جاتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق 11 سالہ عبدالرحمٰن ال شنتی اپنی موسیقی کے ذریعے فلسطینیوں کے احوال اور مشکلات اپنی موسیقی کے ذریعے دُنیا تک پہنچاتے ہیں برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق غزہ کے ریپر عبد الرحمٰن ال شانتی صرف 11 سال کے ہیں لیکن فلسطینی محصور میں جنگ اور مشکلات سے متعلق ان کی شاعری ہزاروں افراد تک پہنچ چکی ہے اور انگریزی میں اس پیغام کو پہنچا رہے ہیں جسے وہ "امن اور انسانیت کا پیغام” کہتے ہیں –

    رپورٹ کے مطابق غزہ میں واقع اسکول کے باہر عبدالرحمٰن ال شنتی کی ایک ویڈیو میں وہ اپنی سکول کی وردی پہنے ہوئے ہیں اور جماعت کے ساتھیوں کے ساتھ موجود ہیں اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پر سیکڑوں ہزاروں لوگ دیکھ چُکے ہیں اور یہاں تک کہ مشہور برطانوی ریپر لوکی نے بھی اسے شیئر کیا ہے-

    عبدالرحمٰن ال شنتی کے گانے "غزہ میسنجر” کے بول ہیں کہ یہاں آپ کو بتانے کے لئے حاضر ہوں کہ ہماری زندگی مشکل ہے۔ اسرائیل اور غزہ کے اسلام پسند حکمران حماس کے مابین تین تباہ کن جنگوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ہمیں صحن میں ٹوٹی سڑکیں اور بم ملے ہیں-
    https://www.instagram.com/p/CDwssTpJw_P/?igshid=1nz1286clerpt
    اگرچہ عربی عبدالرحمٰن کی پہلی زبان ہے ،لیکن انہوں نے روانی ، غیر سنجیدگی سے انگریزی زبان میں اضافہ کیا – یہ ایک مہارت ہے جس کے بارے میں رائٹرز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایمینیم ، ٹوپک اور ڈی جے خالد سمیت امریکی ریپروں کو سُن کر سیکھی ہے-

    عبدالرحمٰن ال شنتی نے بتایا کہ میں ایمینیم جیسا بننا چاہتا ہوں، ان کا انداز نقل نہیں کرنا چاہتا، میرا اپنا اسٹائل ہے لیکن وہ میرے پسندیدہ ریپر ہیں ننھے ریپر نے بتایا کہ وہ اپنے موبائل پر ایک ایپلی کیشن کے ذریعے بول لکھتے ہیں اور ریپ موسیقی کی دھن ترتیب دیتے ہیں۔
    https://www.instagram.com/p/CDekF2NpMai/?igshid=14beubdmgjlxg
    عبدالرحمٰن ال شنتی اپنے ایک اور گانے ، "امن” میں ، 2008-2009 میں اسرائیل کے ساتھ لڑائی کے لمحات کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ۔ "میں غزہ شہر میں پیدا ہوا تھا ، اور میں نے سنا ہے کہ گولیوں کا نشانہ تھا۔ اپنی پہلی سانس میں ، میں نے بارود کا مزا چکھا –

    عبدالرحمٰن ال شنتی کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کے زیرقیادت ناکہ بندی کے ذریعہ غزہ پر درپیش چیلنجوں پر روشنی ڈالنے کی امید کرتے ہیں-

    ماہر معاشیات کے مطابق ان بندشوں کی وجہ سے ساحلی علاقے میں غربت بڑھ رہی ہے اسرائیل نے پابندیوں کے لئے حماس کی طرف سے دھمکیوں کا حوالہ دیا۔

    انہوں نے کہا ، "میرا پیغام امن کے بارے میں بات کرتا ہے ، اور میں اسے لوگوں کی بڑی تعداد تک پہنچانا چاہتا ہوں۔”

    "میں غزہ میں (زندگی) کو باہرکی دنیا کو دکھانا چاہتا ہوں۔

    امریکی گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو غیر موثرصدر قرار دیا

    پاکستان کی ننھی گلوکارہ ہادیہ ہاشمی کا بھارتی گلوکار سونو نگم سے رابطہ

  • شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل ہالی وڈ پروڈکشن میں کام کرنے جا رہے ہیں؟

    شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل ہالی وڈ پروڈکشن میں کام کرنے جا رہے ہیں؟

    رواں برس 9 مارچ کو باضابطہ طور پر شاہی حیثیت سے علیحدگی اختیار کرنے والا برطانوی شاہی جوڑے شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل جلد اپنا نیا بزنس شروع کرنے جا رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی :شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل نے رواں ماہ 9 مارچ کو باضابطہ طور پر برطانوی شاہی خاندان سے علیحدگی اختیار کر لی تھی اور برطانیہ چھوڑ کر پہلے کینیڈا اور بعد ازاں امریکا منتقل ہو گئے ہیں-

    جوڑے کی شاہی حیثیت سے علیحدگی اختیار کیے جانے کے بعد ہی چہ مگوئیاں ہیں کہ وہ جلد اپنا نیا کام شروع کرنے جا رہے ہیں تاہم 6 ماہ گزر جانے کے باوجود تاحال دونوں کی جانب سے کوئی باضابطہ کام شروع نہیں کیا گیا لیکن اب خبر سامنے آئی ہے کہ جلد ہی دونوں ہالی وڈ میں اپنا نیا کام شروع کردیں گے۔

    شوبز ویب سائٹ ورائٹی نے اپنی رپورٹ میں متعدد ذرائع سے بتایا کہ شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل اس سال کے شروع میں جب سے کیلیفورنیا منتقل ہوئے ہیں ، افواہوں نے زور پکڑا ہے کہ ان کا ہالی وڈ میں قدم جمانے کا منصوبہ تھا۔ اور اب اس کے لئے اقدامات بھی کر رہے ہیں-

    رپورٹ کے مطابق رواں برس جون سے لے کر اب تک متعدد ہولی وڈ پروڈکشن ہاؤسز اور پروڈیوسرز سے ملاقاتیں کی ہیں شاہی جوڑے نے این بی سی یونیورسل اور ڈزنی پروڈکشن ہاؤس کے چیئرمین سمیت دیگر بڑے پروڈکشن ہاؤسز کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں-

    رپورٹ کے مطابق میگھن مارکل کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ اگرچہ شاہی جوڑا اداکاری میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا شاہی جوڑا ممکنہ طور پر بڑے پروڈکشن ہاؤسز کے ساتھ منصوبوں کو مشترکہ طور پر پروڈیوس کر سکتا ہے تاہم اس حوالے سے ابھی تک کچھ کنفرم نہیں ہے-

    شاہی جوڑے سے ملاقاتوں کے حوالے سے این بی سی یونیورسل اور ڈزنی کے ترجمان نے کوئی بھی مؤقف دینے سے انکار کردیا جب کہ میگھن مارکل اور شہزادہ ہیری کے ترجمان نے بھی مذکورہ معاملے پر کوئی بھی مؤقف دینے سے معذرت کی۔

    شاہی حیثیت چھوڑے جانے کے بعد اب ممکنہ طور پر خیال کیا جا رہا ہے کہ شاہی جوڑا ممکنہ طور پرہا لی وڈ پروڈکشن میں قدم رکھ سکتا ہے۔

    عامر خان کی ترک خاتون اول کے ساتھ ملاقات پر کنگنا رناوت کی اداکار کے سیکولرازم پر تنقید

     

  • کبریٰ خان نے سوشل میڈیا پر مداحوں کے ساتھ بچپن کی یادیں شئیر کر دیں

    کبریٰ خان نے سوشل میڈیا پر مداحوں کے ساتھ بچپن کی یادیں شئیر کر دیں

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی خوبرو اداکارہ کبریٰ خان نے لندن میں موجود اپنے گھر میں بچپن کی یاد میں جھولا جھولتے ایک سوشل میڈیا پر مداحوں کے ساتھ ویڈیو شیئر کی –

    باغی ٹی وی :سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر کبریٰ خان نے ویڈیو شیئر کی جس میں وہ جھولا جھول رہی ہیں اداکارہ نے ویڈیو شئیر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا کہ میں ان جھولوں کو جھولتے ہوئے بڑی ہوئی موسیقی سنتے اور اللہ جانے کون سے خواب دیکھتے ہوئے یہاں گھنٹوں گزارے اتنے سالوں میں کچھ بھی زیادہ تبدیل نہیں ہوا۔
    https://www.instagram.com/p/CD–5xvnXDe/?utm_source=ig_embed
    کبریٰ خان نے لکھا کہ انہیں یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ جس گھر میں انہوں نے اپنا بچپن گزارا وہ بہت زیادہ تبدیل نہیں ہوا۔

    27 سالہ کبریٰ خان نے ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے لکھا کہ کیا ہم سب اندر سے بچے نہیں ہیں۔

    کبریٰ خان کی اس پوسٹ کو مداح پسند کرتے ہوئے دلچسپ تبصرے کر رہے ہیں-

    واضح رے کہ 27 سالہ کبریٰ خان نے 2013 میں شوبز میں اپنے کرئیر کا آغاز کیا تھا اور اب تک ڈرامہ سیریل الف اللہ اور انسان ، الف ،سنگ مرمر ،مقابل و دیگرکامیاب ڈراموں میںاداکاری کر چکی ہیں جبکہ 2014 میں انہوں نے پاکستانی کامیڈی تھرلر فلم نامعلوم افراد سے بڑی سکرین پر ڈیبیوٹ کیا تھا-

    ڈرامہ سیریل ثبات میں میرال کے والد کا کردار نبھانے والے اداکار کون ہیں؟

     

  • اسرائیل سے تعلقات کے فائدے  تحریر : صابر ابو مریم

    اسرائیل سے تعلقات کے فائدے تحریر : صابر ابو مریم

    اسرائیل سے تعلقات کے فائدے !

    تحریر : صابر ابو مریم

    سیکرٹری جنرل فلسطین فاءونڈیشن پاکستان

    پی ایچ ڈی اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

    حالیہ دنوں جب سے عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات قائم کرنے کا معاہدہ کر لیا ہے تو دنیا بھر کی طرح پاکستان کے عوام بھی اس معاہدے کو فلسطینیوں کے ساتھ خیانت تصور کر رہے ہیں کیونکہ اس معاہدے کے اگلے ہی روز جمعہ کا دن تھا اور فلسطینیوں نے بڑی تعداد میں بیت المقدس میں نماز جمعہ کے بعد جمع ہو کر جو احتجاجی مظاہرہ کیا اس میں ایک ہی نعرہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا ’’خائن‘ ‘ اور اس پر عرب امارات کے حاکم کی تصویر چسپاں کر رکھی تھی ۔ فلسطینیوں نے عرب امارات کے حکمرانوں کی تصاویر کو بھی نذر آتش کیا ۔ ان حالات کو دیکھ کر دنیا کے عوام بھی فلسطینی عوام کی حمایت میں اسی نعرے کی حمایت کرنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈی بالخصوص ٹوءٹر پر ہاش ٹیگ ’’اسرائیل تعلقات خیانت‘‘ٹاپ پر چلا گیا ۔

    پاکستان کے عوام نے جہاں اپنا رد عمل دیا وہاں پاکستان کے سیاسی اور دانشور سمجھی جانے والی شخصیات نے بھی رد عمل دیا اور ایسے عناصر جو پاکستان پر دباءو بنانے کی پالیسی کے آلہ کار ہیں انہوں نے کہا کہ جب عرب حکومتیں اسرائیل کو تسلیم کر رہی ہیں تو پاکستان کو تسلیم کرنے میں کیا قباحت ہے ;238; اسی طرح چند اور دانشور حضرات نے تو یہاں تک بھی پوچھنا شروع کر دیا کہ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا کیا نقصان ہے ;238; اب اس کے بعد کچھ اور دانشور عناصر نکلے اور انہوں نے تو پاکستان کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کے فوائد بھی بیان کرنا شروع کر دئیے ۔ ایک ٹی وی پروگرام میں انٹر ویو دیتے ہوئے جناب خورشید قصوری صاحب نے تو حد ہی کر ڈالی اور کہا کہ اسرائیل کے ساتھ پاکستا ن کے تعلقات سے پاکستان کو سائنٹفک ترقی ملے گی اور پاکستان کی زراعت کو بھی ترقی حاصل ہو گی ۔ قربان جائیے اس سادگی پر بھی ۔ اس سے پہلے جنرل (ر) امجد شعیب اور اس طر ح کے دیگر معززین پاکستان بھی ایسی ہی باتیں کر چکے ہیں کہ پاکستان کو اسرائیل سے تعلقات سے اسلحہ کی ٹیکنالوجی میں بے پناہ ترقی حاصل ہو جائے گی فلاں فلا ں وغیرہ وغیرہ ۔

    پاکستان کے یہ تمام دانشور عناصر مل کر بھی کئی برس سے پاکستان کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا ایک بھی فائدہ بیان نہیں کر سکے جو کہ عملی شکل کا ہو ۔

    اب آئیے قائد اعظم محمد علی جناح ;231; کی بات کرتے ہیں کہ جنہوں نے فلسطین پر قبضہ کرنے کی صہیونی تحریک کے آغاز پر ہی فلسطینی عوام کی حمایت اور اسرائیل کے قیام کو ایک ناجائز قیام قرار دیا تھا اور بعد ازاں جب سنہ1948ء میں فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل نامی ریاست قائم بھی کر دی گئی تو بابائے قوم نے واضح الفاظ میں اسرائیل کو مغرب کا ناجائز بچہ کہا ۔ اب پاکستان کے ان تمام اسرائیل حمایت یافتہ دانشوروں سے کہنا چاہئیے کہ وہ قائد اعظم محمد علی جناح کو بھی جذباتی کہہ دیں یا پھر یہ کہ یہ شخصیات قائد اعظم سے بھی زیادہ سوج بوجھ رکھتی ہیں ;238; فیصلہ آپ خود کر لیں ۔ کیا علامہ اقبال جیسی عظیم و بلند شخصیت کو بھی جذباتی کہا جائے گا کہ جنہوں نے بابائے قوم کو خطوط لکھ کر فلسطین کے لئے قرارداد منظور کرنے کی درخواست کی اور یہاں تک بھی کہا کہ اگر فلسطین کے لئے چلائی گئی تحریک میں مجھے جیل بھی جانا پڑا تو میں تیار ہوں ۔ تو کیا علامہ اقبال جو کہ مفکر اعظم ہیں ان کو جذباتی کہا جائے گا;238;

    اب آئیے اگر اسرائیل سے تعلقات کا کوئی ایک بھی فائدہ ہوتا تو قیام پاکستان کے بعد کا پاکستان کیا آج کے پاکستان سے زیادہ ترقی یافتہ اور طاقتور تھا;238; کیا سنہ1947اور سنہ1948کا پاکستان آج کے پاکستان سے زیادہ طاقت رکھتا تھا;238; اگر آپ کا جواب نفی میں ہے تو پھر قائد اعظم محمد علی جناح، علامہ اقبال، محمد علی جوہر اور دیگر زیرک قائدین نے اس بات کو ترجیح کیوں نہ دی کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر لیں اور ترقی حاصل کر لیں ;238; کیا بانیان پاکستان کا فیصلہ غلط تھا یا آج کے ان دانشوروں اور سیاست مداروں کا فیصلہ عقلی اور منطقی ہے ;238; اس بات کا فیصلہ بھی آپ پر چھوڑ دیتا ہوں ۔

    اب آئیے ان دانشوروں کے بتائے گئے فوائد کی بات کرتے ہیں ۔ یہ کہتے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات سے ہم طاقتو ر ہو جائیں گے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم سنہ1973ء میں کمزور تھے کہ جب ہماری پاک فضائیہ کے پائیلٹس نے شامی جہازوں کو اڑاتے ہوئے اسرائیلی جنگی جہازوں کو تباہ کر دیا تھا;238; یا یہ کہ آج ہم واقعی بہت کمزور ہیں اور اسرائیل ہی ہماری زندگی کی آخری امید ہے ;238;نوجوانوں کو سوچنے کی فکر دیتے ہوئے آگے بڑھتا ہوں ۔

    اب آئیے ذرا ان ممالک کی بات کر لیتے ہیں جنہوں نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہے ۔ اسرائیل کے ساتھ ان کے تعلقات بھی ہیں ۔ ترکی نے اسلامی دنیا میں سب سے پہلے اسرائیل کو سنہ1949ء میں ہی تسلیم کر لیا تھا تو کیا آج ترکی اسرائیل کی بدولت محفوظ اور طاقتور ہے ;238; یا یہ کہ ترکی کے وہ تمام مقاصد حاصل ہو چکے ہیں جو وہ اسرائیل کو تسلیم کر کے لینا چاہتا تھا;238;

    مصر نے بھی سنہ1978ء کے کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے بعد اسرائیل کو سنہ1979ء میں تسلیم کیا تھا تو کیا آج مصر وہی پہلے والا مصر ہے یا یہ کہ مصر کی حالت بد سے بد تر ہوتی جا رہی ہے;238; اگر اسرائیل پاکستا ن کا مسیحا ہے تو پھر مصر کا کیوں نہیں ہوا ;238; مصر کی حالت آج کیوں زبوں حالی کا شکار ہے ;238; اردن کی بات کر لیتے ہیں تو اردن نے بھی سنہ1994ء میں اسرائیل کو تسلیم کیا تو کیا آج اردن محفوظ ہو گیا ہے ;238; یا یہ کہ آج اردن کو اسرائیل سے پہلے کی نسبت زیادہ خطرات لاحق ہو چکے ہیں ;238; نوجوانوں کے لئے لمحہ فکریہ چھوڑتے ہوئے اس نقطہ سے بھی آگے بڑھتا ہوں ۔

    اب آئیے خود فلسطینیوں کی بات کرتے ہیں ۔ جی ہاں بہت سے لوگ یہ کہتے ہیں کہ فلسطینیوں نے بھی تو اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کئے ۔ البتہ ان مذاکرات کو کروانے میں جہاں چند خیانت کاروں کی ہی سازش تھی البتہ پی ایل او نے جب مذاکرات کئے تو پھر یاسر عرفات کے ساتھ اسرائیل نے کیا انجام کیا;238; ان کو زہر دے کر شہید کر دیا گیا ۔ تو اب یہ دانشور یہ بتانا پسندکیوں نہیں کرتے کہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کا دھوکہ فلسطینیوں کے لئے ایک عذاب سے کم نہ تھا جس کی وجہ سے ان کی مزید زمینوں پر قبضہ ہوتا چلا گیا اور مشکلات میں اضافہ ہوتا رہا ۔

    خلاصہ یہ ہے کہ اگر عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر لئے ہیں تو یہ منطقی دلیل نہیں ہے کہ پاکستان یا کوئی اور ملک بھی اس بات کی پیروی کرتے ہوئے اسرائیل کو تسلیم کر لے ۔ فلسطین سے متعلق ہ میں فلسطینیوں کی رائے اور ان کی خواہشات کے مطابق چلنا ہے ۔ قائد اعظم محمد علی جناح تحریک پاکستان کے وقت مفتی اعظم فلسطین کے ساتھ خط وکتابت کے ذریعہ رابطہ میں تھے اور آپ کا موقف وہی موقف تھا جو فلسطینیوں کا موقف تھا اور ان کی حمایت کا سبب بنتا تھاتاہم اگر آج کوئی عرب یا غیر عرب حکومت فلسطینیوں کی خواہشات کے بر عکس چلنا چاہتی ہے تو اس کو یقینا خیانت کہا جائے گا ۔ ہ میں بطور پاکستان حکومت اور عوام فلسطین کاز کی حمایت بانیان پاکستان کے بیان کردہ اصولوں کے مطابق اور فلسطینیوں کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق کر رہے ہیں ۔ ہم فلسطین کی حمایت میں ان سے آگے نہیں نکل سکتے اورکسی اور کو بھی آگے نہیں نکلنا چاہئیے بلکہ فلسطینیوں کی پشت پر رہتے ہوئے اصولی موقف اپنا نا چاہئیے ۔ وزیر اعظم پاکستان نے اس موقع پر قائد اعظم کی یاد کو تازہ کرتے ہوئے عوام کی امنگوں کی ترجمانی کی ہے جس پر ان کو خراج تحسین پیش کرنا چاہئیے ۔

    یہ بات جان لیں کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں اگر ایک بھی فائدہ ہوتا تو یقینا بانیان پاکستان قیام پاکستان کے بعد اس کام کو انجام دے چکے ہوتے لہذا ہ میں ان خود ساختہ دانشوروں اور سیاست مداروں کے بھنور سے نکلنا چاہئیے کہ جن کی زندگی کا مقصد صرف اور صرف نام و نمود اور دولت ہتھیانا ہے اور اپنے ذاتی مفادات کی خاطر امت اور قوم کو بھی داءو پر لگانا ہے ۔ یہ بات بھی جان لیجئے کہ اگر چند خیانت کاروں کی باتوں کا اثر لے کر ہم اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر لیں تو پھر مجھے بتائیں کہ ہم کشمیر کی آزادی کے لئے کس منہ سے جدوجہد کریں گے ;238; اسرائیل کے ساتھ تعلقات بنانے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان نے مودی کو کلین چٹ دے دی ۔ مودی اور نیتن یاہو دونوں ایک ہی جیسے جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں لہذا اگر ہ میں کشمیر کی جد وجہد آزادی جاری رکھنی ہے تو پھر فلسطین کی جد وجہد آزادی بھی جاری رکھنا ہو گی اور اس کی حمایت کرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیل نامنظور پالیسی کو جاری رکھنا ہوگا ۔