Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • کوروناوائرس :اے ایم سی کی تھیٹرز کھولنے کے اعلان کے ساتھ شائقین کو پرکشش پیشکش

    کوروناوائرس :اے ایم سی کی تھیٹرز کھولنے کے اعلان کے ساتھ شائقین کو پرکشش پیشکش

    چین کے شہر ووہان سے پھیلی عالمگیر وبا کورونا وائرس سے بچاؤ کی حفاظتی تدابیر کے لئے پاکستان سمیت کئی ممالک میں لاک ڈاؤن کا نفاذ کیا گیا تھا جس کے باعث دنیا بھر کے شوبز ، تعلیمی اور ثقافتی سرگرمیوں سمیت فلم تھیٹرز رواں ماہ مارچ سے بند ہیں-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق 6 ماہ بعد اب اے ایم سی انٹرٹینمٹ ہولڈنگز پہلے مرحلے میں 20 اگست سے امریکہ میں 100 سے زائد تھیٹرز کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    دنیا کی سب سے بڑی مووی تھیٹر چین کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تقریباً دو متوقع تھیٹروں کا تقریباً 600 میں سے دو تہائی امریکہ میں کھولنے کا منصوبہ بنا رہی ہے جو وقت میں متوقع کرسٹوفر نولان فلم “ٹینیٹ” کے لئے تیار کیا جائے گا ، جو 3 ستمبر کو ریلیز ہونے والی ہے۔

    مارچ کے وسط سے دنیا بھر میں مووی تھیٹر بند کردیئے گئے تھے جب متعدد ممالک نے COVID-19 وبائی امراض کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لئے لاک ڈاؤن اور سماجی دوری کے اقدامات نافذ کیے تھے۔

    اے ایم سی نے تھیٹرز کھولنے کے اعلان کے ساتھ شائقین کو ایک بہت ہی پرکشش پیشکش کی ہے انہیں فلم دیکھنے کے لیے صرف 15 سینٹس ادا کرنے ہوں گے۔

    کمپنی کے مطابق اے ایم سی کے قیام کو 100 سال ہورہے اور اپنے صد سالہ تقریبات کے موقع پر انہوں نے سنیما کھلنے کے پہلے دن ‘1920 کی قیمتوں پر 2020 میں فلمیں’ دیکھنے کی پیشکش کی ہے۔

    اس کے ساتھ ہی اے ایم سی نے کہا کہ وہ فلم بینوں کی حفاظت اور کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کےلیے حفاظتی اقدامات پر بھی عملدرآمد کررہے ہیں جس میں ماسک پہننا، لوگوں کی تعداد کو محدود کرنا اور وینٹی لیشن سسٹمز کو اپ ڈیٹ کرنا شامل ہے۔

    سنیما کھلنے کے بعد بھی ٹکٹیں معمول سے زیادہ سستی ہوں گی، اور ‘انسیپشن’، ‘ بلیک پینتھر’، بیک ٹو دی فیوچر اور ‘ ایمپائر اسٹرائیکس بیک’ کی ٹکٹ کی لاگ 5 ڈالر ہوگی۔

    اس کے علاوہ اے ایم سی کی جانب س باکس آفس پر پرانی فلمیں بھی دوبارہ چلائی جائیں گی۔

    خیال رہے کہ اے ایم سی کے نام سے یہ کمپنی 1920 میں ریاست میسوری کے شہر کنساس میں قائم کی گئی تھی اور رواں برس اس کے قیام کو 100 سال ہوگئے ہیں-

    لاہورتھیٹرز میں 5 ماہ بعد رونقیں بحال،تماثیل تھیٹر میں گو کورونا گو کے نام سے اسٹیج ڈرامہ پیش

    کورونا کے باعث معاشی حالات کا شکار فنکار مزدوری کرنے پر مجبور

    تھیٹر کو کام کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ فاقہ کشی کا سامنا کرنے والے فنکار عزت کی روٹی کما سکیں نسیم وکی کا حکومت سے مطالبہ

    کورونا وائرس:علی ظفر کی سوشل میڈیا صارفین سے مالی مشکلات کا شکار فنکاروں اور دیگر عملے کے لئے مدد کی اپیل

    پنجاب حکومت نے ایس اوپیز پر سختی سے عمل درآمد کے ساتھ سینماؤں اور تھیٹرز کو کھولنے کی اجازت دے دی

    آسکر ایوارڈ جیتنے والی پاکستان فلمساز شرمین عبید چنائے کی دستاویزی فلم ایمی ایوارڈ…

     

    اپنے رب کی شکر گزار ہوں جس نے بطور اداکارہ اتنی عزت و احترام دیا عتیقہ اوڈھو

  • لوگوں کے سوالات میں الجھنے کے بجائے میں نے یاسر حسین کے ساتھ شادی کرنا مناسب سمجھا  اقراعزیز

    لوگوں کے سوالات میں الجھنے کے بجائے میں نے یاسر حسین کے ساتھ شادی کرنا مناسب سمجھا اقراعزیز

    پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کی معروف اداکارہ اقرا عزیز کا کہنا ہے کہ کہ انہوں نے لوگوں کے سوالات سے تنگ آکر یاسر حسین سے جلدی شادی کی۔

    باغی ٹی وی :اداکارہ اقرا عزیز عفت عمر کے آن لائن شو میں شریک ہوئیں اور اپنی زندگی کے بارے میں اہم انکشافات کئے-انٹرویو کے دوران عفت نے ان سے ان کی شادی کے حوالے سے سوال پوچھتے ہوئے کہا کہ شادی کی اتنی جلدی کیا تھی تمہیں؟ جس پر اقرا عزیز نے کہا مجھے دراصل ان سوالوں سے اعتراض تھا جو لوگ مجھے اور یاسر کو دیکھ کر پوچھتے تھے کہ کیا آپ دونوں ڈیٹنگ کررہے ہیں؟ کیا آپ ایک ساتھ ہیں یا نہیں وغیرہ ان سب سے بچنے کے لئے جلدی شادی کی تھی-
    https://www.instagram.com/p/CD6TAs1pgW4/?igshid=ppyi1o0o1hp4
    اقرا عزیز نے کہا میں ان تمام سوالات سے چھٹکارا چاہتی تھی لہذا میں نے سوچا اس سے بہتر ہےکہ آپ ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے کی خواہش کریں ایک دوسرے کی کئیر کے لئے ساتھ رہنا چاہیں توبہتر ہے کہ آپ شادی کرلیں اور ہمیشہ ساتھ رہیں۔

    اداکارہ نے مزید کہا کہ انہوں نے لوگوں کی جانب سے پوچھے جانے والے سوالات کہ آپ دونوں ساتھ ہیں یا نہیں؟ آپ شادی کب کریں گے؟ کیا آپ دونوں ملاقاتیں کرتے ہیں ایک اسلامی ملک میں آپ ملاقاتیں کیسے کرسکتے ہیں وغیرہ۔ لہذا ان سوالات میں الجھنے کے بجائے میں نے یاسر حسین کے ساتھ شادی کرنا مناسب سمجھا تاکہ والدین فیملی، گھروالوں کی دعاؤں کے ساتھ سب ایک ساتھ خوشی سے رہیں۔

    اقرا عزیز نے کہا کہ جب آپ کسی کے ساتھ پوری زندگی رہنا چاہتے ہیں اور آپ نے فیصلہ کرلیا کہ اسی شخص کے ساتھ آپ کو زندگی گزارنی ہے تو بہتر طریقہ یہ ہے کہ آپ شادی کرلیں۔

    ہم سب کو متحد اور یکجا ہونا چاہیے کیونکہ اتحاد ہی ہے جو ایک قوم کو عظیم بناتا ہے…

    "آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے تو بات بن جائے”

  • پاکستان کی خالص سرزمین میں عابدہ پروین کی آواز صوفیوں کی راہ دکھاتی ہے  شان شاہد

    پاکستان کی خالص سرزمین میں عابدہ پروین کی آواز صوفیوں کی راہ دکھاتی ہے شان شاہد

    پاکستان فلم انڈسٹری کے معروف اداکار شان شاہد کا کہنا ہے کہ عابدہ پروین پاکستان کی شان ہیں اور ان کی آواز پاکستان کی شناخت ہے۔

    باغی ٹی وی :سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پرشان شاہد نے عابدہ پروین کے ساتھ اپنی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ عابدہ پروین پاکستان کی شان ہیں، ان کی آواز پاکستان کی شناخت ہے۔
    https://twitter.com/mshaanshahid/status/1294371588587085825?s=20
    تصویر شئیر کرتے ہوئے شان شاہد نے لکھا کہ پاکستان کی خالص سرزمین میں عابدہ پروین کی آواز صوفیوں کی راہ دکھاتی ہے۔

    اداکار نے صدر اور وزیراعظم کو ٹیگ کرتے ہوئے حکومت پاکستان کا عابدہ پروین کو نشان امتیاز کے لئے نامزد کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

    واضح رہے کہ یوم آزادی 2020 کے موقع پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے مختلف شعبہ جات میں نمایاں خدمات سر انجام دینے والی 184 ملکی اور غیر ملکی شخصیات کو پاکستان کے اعلیٰ سول ایوارڈز سے نوازنے کا اعلان کیا گیا ہے-

    پاکستان کی 24 شخصیات کو ستارہ شجاعت، 27 کو ستارہ امتیاز جبکہ 44 شخصیات کو صدارتی تمغہ حسن کارکردگی نوازا جائے گا یہ ایوراڈز آئندہ سال 23 مارچ کو یوم پاکستان پر نوازے جائیں گے-

    صدر مملکت نے غیر ملکی شخصیات کے علاوہ میوزک، اداکاری، ادب اور دیگر فنون لطیفہ کے شعبہ جات سے بھی متعدد شخصیات کو ایوارڈز کے لیے نامزد کیا ہے جن میں عابدہ پروین بھی شامل ہیں-

    حکومت پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس ملنا میرے لئے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے ہمایوں سعید

    میوزک، اداکاری، ادب سمیت 184 ملکی اورغیر ملکی شخصیات کو پاکستان کے اعلیٰ سول ایوارڈز دینے کا اعلان

    ہم سب کو متحد اور یکجا ہونا چاہیے کیونکہ اتحاد ہی ہے جو ایک قوم کو عظیم بناتا ہے عائزہ خان

    پاکستان کے اعلیٰ سول ایوارڈز کے لئے نامزد ہونے پر علی ظفر اللہ تعالیٰ اور حکومت کے شُکر گُزار

  • شہنشاہ قوال نصرت فتح علی خان کو دنیا سے رخصت ہوئے 23 برس بیت گئے

    شہنشاہ قوال نصرت فتح علی خان کو دنیا سے رخصت ہوئے 23 برس بیت گئے

    پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ اور شہنشاہ قوال موسیقار و گلوکار استاد نصرت فتح علی خان کو دنیا سے رخصت ہوئے 23 برس بیت گئے۔

    باغی ٹی وی : 13 اکتوبر 1948 میں صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد میں معروف قوال فتح علی خان کے گھر پیدا ہونے والے نصرت فتح علی خان قوالی اورلوک موسیقی میں اپنی پہچان آپ تھےنصرت فتح علی خان کا پہلا تعارف خاندان کے دیگرافراد کی گائی ہوئی قوالیوں سے ہوا اور انتہائی کم عرصے میں دنیا میں مقبولیت حاصل کی-

    ممتاز گلوکار اور منفرد لہجے کے قوال و موسیقار استاد نصرت فتح علی خان نے سیکڑوں کی تعداد میں انتہائی خوبصورت اور یادگار غزلیں، قوالیاں اور گیت پیش کیے۔

    تاہم ’حق علی مولا علی‘ اور ’دم مست قلندرمست مست‘ نے انہیں شناخت عطا کی انہوں نے اپنے فن کو اسلام کی تبلیغ کا ذریعہ بنایا اور دنیا بھر میں بے شمار غیر مسلموں کو مسلمان کیا۔

    عالمی سطح پر جتنی شہرت انھیں ملی وہ شاید کسی اور موسیقار یا گلوکار نصیب نہیں ہوئی۔ بحثیت قوال ان کے 125 آڈیو البم ریلیزکئے جو ایک عالمی ریکارڈ ہے۔ ان البمز میں’دم مست قلندر مست‘،’علی مولا علی‘،’یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے‘، ’میرا پیاگھر آیا‘،’اللہ ہو اللہ ہو‘، کینا سوہنا تینوں رب نے بنایا‘ ،’اکھیاں اُڈیک دیاں‘ ، ’ کسے دا یار نہ وچھڑے‘ ، ’میرا پیا گھر آیا ‘ اور’ آفریں آفریں‘ سمیت کئی یادگار قوالیاں اور گیت شامل ہیں۔

    نصرت فتح علی خاں نے بالی وڈ کی کئی فلموں کی موسیقی ترتیب دینے کے ساتھ اپنی آواز کا جادو بھی جگایا جس میں ’اور پیار ہوگیا‘، ’کچے دھاگے‘ اور ’کارتوس‘ شامل ہیں۔ ان کے ترتیب دیے گئے گانوں اور موسیقی کی وجہ سے بالی وڈ کو بھی دنیا بھر میں منفرد شہرت ملی اور آج تک بالی وڈ فلموں میں ان کے تیار کیے گئے گانوں کو شامل کیا جاتا ہے۔

    عالمی سطح پر ان کا تخلیق کیا ہوا پہلا شاہکار 1995 میں ریلیز ہونے والی فلم’ڈیڈ مین واکنگ‘ تھا جس کے بعد انہوں نے ہالی وڈ کی ایک اور فلم ’دی لاسٹ ٹیمپٹیشن آف کرائسٹ‘ کی بھی موسیقی ترتیب دی تھی-

    نصرت فتح علی خان جگر اور گردوں کے عارضے سمیت مختلف امراض میں مبتلا ہونے کے باعث صرف 48 برس کی عمر میں 16 اگست 1997ء کو کروڑوں مداحوں کو سوگوار چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہوگئے تھے وفات کے وقت وہ اپنے کریئر کے عروج پر تھے-

    میوزک، اداکاری، ادب سمیت 184 ملکی اورغیر ملکی شخصیات کو پاکستان کے اعلیٰ سول…

    پاپ گلوکارہ نازیہ حسن کو دنیا سے رخصت ہوئے 20 برس بیت گئے

  • ابھی تکمیل باقی ہے ابھی کشمیر باقی ہے  از قلم: صالح عبداللہ جتوئی

    ابھی تکمیل باقی ہے ابھی کشمیر باقی ہے از قلم: صالح عبداللہ جتوئی

    ابھی تکمیل باقی ہے ابھی کشمیر باقی ہے

    از قلم صالح عبداللہ جتوئی

    پاکستان کو وجود میں آۓ تقریباً پون صدی ہونے کو ہے اور اس وطن کی عظیم شان اور قدر و قیمت ہے کیونکہ یہ وطن ہمیں بے بہا قربانیوں، محنتوں اور اللہ کی خاص غیبی مدد سے حاصل ہوا ہے نہ کہ ہمیں طشتری میں ڈال کے دیا گیا ہے اس کے لیے ہمارے اسلاف نے اپنے آپ کو رنگ دیا لیکن تحریک آزادی کو کچلنے نہیں دیا اور یہ اس بات کا مظہر بھی ہے کہ ہم علیحدہ ریاست حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے اور یہاں پہ ہم آزادانہ طور پہ اپنی مذہبی رسومات کو بھی ادا کر سکتے ہیں اور بلا خوف خطر سر اٹھا کے بھی جیتے ہیں۔

    یقیناً اس ملک کی تاریخ پڑھیں تو کئی قصے سامنے آتے ہیں جن کو سن کے دل خون کے آنسو روتا ہے لیکن سلام ہے ہمارے بزرگوں اور لیڈرشپ کو جنہوں نے اپنا آج ہمارے مستقبل پہ قربان کر دیا لیکن تحریک آزادی کو آنچ تک نہیں آنے دی اس وطن کو شہداء نے اپنے خون سے سینچا ہے نہیں تو آج ہم انگریزوں اور ہندوؤں کی غلامی میں زندگی گزار رہے ہوتے اور کوئی ہمارا پرسان حال نہ ہوتا۔

     اللہ عزوجل نے ہمیں لیڈر ایسے دیے تھے کہ وہ غلامی کا ایک لمحہ بھی گزارنا پسند نہیں کرتے تھے۔ مولانا محمد علی جوہر نے برطانیہ میں کہا تھا کہ "بیماری کے باوجود میرے یہاں آنے کا واحد مقصد یہ ہے کہ میں اپنے ملک کے لئے آزادی کا پروانہ لے کر واپس جاؤں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ایک غلام ملک میں جانے کی بجائے ایک آزاد ملک میں مرنا پسند کروں گا۔
    پھر علامہ اقبال نے کہا کہ:

    یورپ کی غلامی پر رضا مند ہوا تو
    مجھ کو تو گلا تجھ سے ہے یورپ سے نہیں

    پھر ہم نے آزادی تو حاصل کر لی لیکن پاکستان کی تکمیل نہ ہو سکی اور پاکستان کے وجود میں آنے کے ساتھ کشمیر کا مسئلہ کھڑا کر دیا گیا جو آج تک حل نہیں ہو سکا اور اس کے ساتھ گورداس پور فیروز پور اور حیدر آباد دکن سمیت کئی ریاستوں پہ بھارت نے غاصبانہ قبضہ جما لیا جو کہ ابھی تک ان کے قبضہ میں ہے۔

    اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیر کو احسن طریقے سے حل کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا لیکن لاکھوں کشمیریوں کی قربانیوں کے باوجود اس مسئلہ کو پس پشت ڈال دیا گیا اور اس مسئلہ کو مزید گھمبیر بنایا جاتا رہا اور آزادی کے متوالوں کو خاموش کروانے کے لیے سر توڑ کوششیں شروع ہو گئیں اور اس تحریک کو دبانے کے لیے بھارت نے طرح طرح کے اوچھے ہتھکنڈے اپنانا شروع کر دئیے اور اس آڑ میں انہوں نے بچے بوڑھے جوان اور عورتوں تک کا قتل عام شروع کر دیا کبھی ان پہ پیلٹ گنوں کا استعمال کرتے تو کبھی ان کو مارا پیٹا جاتا اور کبھی معصوم لڑکیوں اور حاملہ عورتوں تک کی عصمت ریزی کی جاتی رہی لیکن یہ تحریک دبنے کی بجاۓ مزید زور پکڑ گئی اور پڑھے لکھے نوجوانوں نے بھی سکول کالج اور یونیورسیٹیز سے رخ موڑ کے آزادی کے لیے بندوق کا سہارا لے لیا جس میں پی ایچ ڈی اسکالر منان وانی اور برہان وانی جیسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے اس تحریک کو تقویت دی اور بھارت کے رونگٹے کھڑے کر دئیے کیونکہ جو بھی شہید ہوتا اس کے جنازے میں لاکھوں لوگ شامل ہوتے اور کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے بلند کرتے کیونکہ وہ بھارت کے ساتھ بالکل بھی الحاق نہیں چاہتے اور یہ تک وصیت کر کے جاتے کہ ان کو پاکستانی جھنڈے میں دفن کیا جاۓ اور بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہو جاتا اور حریت رہنماؤں تک کو کبھی نظر بند کر دیتا ہے اور کبھی جھوٹے مقدمے بنا کے جیلوں میں ڈال دیتا ہے اور کبھی سرچ آپریشن کی آڑ میں معصوم لوگوں کا انکاؤنٹر کر دیتا ہے۔

    جب بھارت کے ظلم و ستم اور بربریت کا کشمیریوں پہ اثر نہ ہوا تو انسانیت کے دشمنوں نے کشمیریوں کی زندگی تنگ کرنے کے لیے 5 اگست 2019 کو سخت ترین کرفیو لگا دیا جو کہ ابھی تک جاری ہے اور ان کا کھانا پینا تک محال ہے لیکن واللہ ہمیں فخر ہوتا ہے ان ماؤں بہنوں اور بیٹیوں پہ جنہوں نے یوم آزادئ پاکستان پہ گھروں میں پرچم پاکستان بنا کے یہ پیغام دیا کہ ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے اور بھارت کو پیغام دیا تم بازاروں سے جھنڈے غائب کروا سکتے ہو لیکن ہمارے دلوں سے پاکستان کی محبت کو کم نہیں کر سکتے۔

    آج ہم پہ وقت آن پہنچا ہے کہ کشمیریوں کا ساتھ دیں اور ان کا حوصلہ بلند کریں اور ان کے زخموں پہ مرہم رکھیں کیونکہ ان کا اللہ کے بعد پاکستان کے علاوہ کوئی اور نہیں ہے وہ آپ کے جھنڈے کے ساتھ دفن ہونا پسند کرتے ہیں اور پون صدی سے بھارت کے ظلم کے آگے انہوں نے گھٹنے نہیں ٹیکے اور پاکستان کے لیے اپنے سینے تک چھلنی کروا دئیے ماؤں نے اپنی گودیں اجڑوا دیں اور بوڑھوں نے اپنے لخت جگر پیش کر دئیے لیکن پھر بھی ان کے دلوں سے پاکستان کے لیے محبت ذرا بھی کم نہیں ہوئی۔

    آج ہم پہ لازم ہے چکا کہ ہم اپنے کشمیری بہن بھائیوں کا ساتھ دیں اور بھارتی مظالم کو پوری دنیا کے سامنے پیش کریں اور پاکستانی حکومت سے بھی گزارش ہے کہ وہ اقوام متحدہ پہ دباؤ ڈالیں کہ وہ قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیں کیونکہ ابھی تکمیل باقی ہے ابھی کشمیر باقی ہے اگر ہم خاموش رہے تو ہماری شہ رگ پنجہ استبداد میں رہے گی اور ہمارے کسی بھی جشن آزادی کی وقعت نہیں رہے گی اور ہم براۓ نام آزاد ہوں گے کیونکہ کشمیر کے بنا ہم مکمل نہیں ہیں ہماری شہ رگ ہم سے الگ ہے اس لیے اپنی آواز بلند کریں اور جیسے ہمارے آباؤ اجداد نے قربانیاں دے کے پاکستان حاصل کیا تھا اسی طرح کشمیریوں کی قربانیوں کو بھی رنگ دیتے ہوۓ آزاد ہونے میں مدد دیں۔
    اللہ ملک پاکستان اور مظلوم مسلمانوں کا حامی و ناصر ہو آمین یا رب العالمین۔
    کشمیر بنے گا پاکستان ان شاء اللہ
    پاکستان زندہ باد
    کشمیر پائندہ باد

  • اختیارات کی مرکزیت  تحریر عدنان عادل

    اختیارات کی مرکزیت تحریر عدنان عادل

    اختیارات کی مرکزیت

    اتوار 16 اگست 2020ء

    پاکستان میں حکومتی نظام میں بگاڑ کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ضلعی انتظامیہ کمزور ہوتی چلی گئی اور اقتدارو اختیار سمٹ کر مرکز اور صوبائی دارالحکومتوں میںمرتکز ہوگیا۔برطانوی عہد سے ملنے والے ریاستی نظام میں ضلعی سطح پر ڈپٹی کمشنر اور ایس پی پولیس کے عہدوںکے پاس بہت اختیارات تھے۔ وہ حکومت کے ستون تھے۔یُوں اختیارات کی ضلعی سطح پرعدم مرکزیت تھی۔ ہر چیز صوبائی دارالحکومت یا مرکز سے کنٹرول نہیں ہوتی تھی۔ مختلف محکموں کے ضلعوںمیںتعینات اعلی افسران کے پاس فیصلے کرنے کی خاصی آزادی تھی۔قیام پاکستان کے بعد انیس سو ساٹھ کی دہائی تک برطانوی عہد سے ملنے والایہ نظام معمولی ردّوبدل کے ساتھ چلتا رہا۔ انیس سو تہتر کے الیکشن کے بعد اس نظام کی ٹوٹ پھوٹ شروع ہوگئی۔ اُصولی طور پر جمہوریت میں تو اختیارات عوام کو نچلی سطح تک منتقل ہوتے ہیں لیکن ہمارے نام نہاد جمہوری پارلیمانی نظام میں اقتدار کی مرکزیت ہوتی گئی۔ حکمرانوں نے ایسے قوانین اور رولز آف بزنس بنائے جن سے بیشتر اختیارات ضلعوں سے چھین کر صوبائی بیوروکریسی یا وزیراعلیٰ کو سونپ دیے۔ اسطرح صوبائی دارالحکومتوں میں انتظامی اتھارٹی کی مرکزیت قائم ہوگئی ۔ کہنے کو ہمارا جمہوری پارلیمانی نظام ہے لیکن اس میں وزیراعلیٰ ایک طرح سے آمرانہ اختیارات کا حامل ہے۔مثلاً پنجاب حکومت کے رولز آف بزنس میں صوبائی وزیروں کے پاس بھی اختیارات نہیں ہیں۔ تمام انتظامی اختیارات سیکرٹریوں کے ذریعے وزیراعلیٰ استعمال کرتا ہے۔وہ انتظامی اختیارات جو قانونی طور پرتحصیل اور ضلع کی سطح کے افسروں یا صوبائی سیکرٹیریٹ کے اعلیٰ افسران کے پاس ہیں انہیں عملی طور پر وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں سمیٹ لیا گیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ وزیر اعلیٰ چیف سیکرٹری کے ذریعے انتظامیہ کو چلائے لیکن چیف سیکرٹری کے عہدے کے ساتھ ساتھ وزیراعلیٰ کے سیکرٹری(سیکرٹری ٹُو چیف منسٹر) کا عہدہ زیادہ اہمیت اختیار کرچکا ہے۔ وزیراعلی کا سیکرٹری اعلیٰ افسران کواپنے باس کی ہدایت پر زبانی احکامات جاری کرتا ہے جن کی پابندی لازمی تصور کی جاتی ہے۔صوبوں میںوزیراعلی سیکریٹریٹ کا حجم روز بروز برھتا جارہا ہے۔ وہاں افسروں کی ایک فوج تعینات ہوتی ہے جوصوبائی سیکرٹریٹ کے متوازی کام کرتی ہے۔ہر محکمہ کے ماتحت افسروں کوچیف سیکرٹری اور سیکرٹری کو بائی پاس کرکے وزیراعلی سیکرٹریٹ سے براہ راست ہدایات دی جاتی ہیں۔ اختیارات کی وزیراعلی کی ذات میں مرتکز ہونے کا نتیجہ یہ ہے کہ صوبائی دارالحکومت سے دور دراز واقع علاقوں میںرہنے والے دوسرے‘ تیسرے درجہ کے شہریوں کا درجہ اختیار کرچکے ہیں۔ان علاقوں کو ترقیاتی فنڈز میں انکے جائز حق سے محروم رکھا جاتا ہے۔چھوٹے شہروں اور دیہات میںبنیادی شہری سہولتیں تقریباً ناپید ہیں۔ نہ پینے کا صاف پانی ہے‘ نہ نکاسی آب کی سہولتیں۔ کوئی سڑک یا گلی ٹوٹ پھوٹ جائے تو ایک ایک سال اسکی مرمت نہیںہوتی۔چند بڑے شہروں سے دور رہنے والوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ حکومتی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسکولوں‘ کالجوں پر سالانہ کھربوں روپے خرچ ہوتے ہیں لیکن ان میں تعلیم کا معیار بہت پست ہے۔سرکاری اساتذہ پڑھانے میں دلچسپی نہیں لیتے۔ اپنے نجی ٹیوشن سینٹرز چلا رہے ہیں۔ملک بھر میں سرکاری ہسپتالوں کی حا لت خراب ہے۔ مریضوں کوادویات نہیں ملتیں۔ٹیسٹ کی مشینیں سال سال خراب رہتی ہیں۔ ڈاکٹرزسرکاری ہسپتالوں سے غائب ہو کر اپنے نجی کلینک اور ہسپتال چلا رہے ہیں۔ سرکاری محکموں میں چین آف کمانڈ کمزور پڑ چکی ہے۔ملک کے مختلف علاقوں میںشدت پسند مذہبی اور نسلی‘ لسانی گروہ منظم ہوگئے ہیں جو انتظامیہ کو مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہیں قابو کرنے کے لیے کبھی فوج کبھی رینجرز طلب کرنا پڑتے ہیں۔ اگر ضلعی سول انتظامیہ طاقتور رہتی تو حکومتی رٹ اتنی کمزور نہ پڑتی۔ایسے گروہ سر نہ اٹھا سکتے۔ جمہوریت ہو یا آمریت کوئی بھی نظام حکومتی اختیار کی مرکزیت کے ساتھ اچھی طرح ‘ مؤثر طریقہ سے کام نہیں کرسکتا۔ مغربی ملکوں نے اسکا حل یہ نکالا کہ منتخب مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا۔ برطانیہ میں پولیس کاونٹی کی سطح پرہوتی ہے۔ کاونٹی کو آپ ہمارے ملک کی یونین کونسل تصور کرلیں۔ لیکن ہم تو اُلٹ سمت میں چل پڑے۔ جتنے اختیارات برطانوی نوآبادیاتی دور میں ضلعوں اور تحصیلوں کی سطح پر موجود تھے انہیں بھی چھین کر صوبائی دارالحکومتوں میں منتقل کردیا۔نظم و نسق نے تو خراب ہونا تھا۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں حکومتی اختیارات کوضلع کی سطح پر منتقل کرنے کی غرض سے ملک بھر میں منتخب مقامی حکومتوں کا نظام بنایا گیا۔گیارہ صوبائی محکموں کے متعدد اختیارات ضلعی حکومتوں کے سپرد کردیے گئے لیکن جیسے ہی جنرل الیکشن ہوئے ان اداروں کا دائرہ کار کچھ محدود کردیا گیا۔ جب جنرل مشرف کے اقتدار کا سورج غروب ہوا تو دو ہزار آٹھ کے الیکشن کے بعد اس پورے نظام کا بوریا بستر لپیٹ دیا گیا۔ سارے اختیارات صوبوں نے واپس خود سنبھال لیے۔موجودہ بد انتظامی میںاقتدار کے مراکز کی عوام (گاؤں‘ قصبے‘ چھوٹے شہر)سے دُوری اور فاصلہ ایک اہم عنصر ہے۔ملک میںایک سواُنتالیس ضلعے اور چار سو تحصیلیں ہیں( گلگت‘ بلتستان اور آزاد کشمیرشامل نہیں)لیکن اقتدار پانچ بڑے شہروں یعنی اسلام آباد‘ پشاور‘ لاہور‘ کراچی اور کوئٹہ میں مرتکز ہے۔ملک کی ستر سے پچہتر فیصد آبادی اقتدار کے ان مراکز سے دُور رہتی ہے۔سنہ دو ہزار دس میں اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے وفاقی حکومت سے لیکر صوبوں کو بے تحاشا اختیارات سونپ دیے گئے لیکن صوبوں نے اختیارات اپنے پاس جمع کرلیے ‘ انہیں نیچے ضلع‘ تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر ٹرانسفر نہیں کیا۔ گورننس کی موجودہ اَبتر صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ایک سے زیادہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ان میں ایک اہم چیز حکومتی اختیارات کی عدم مرکزیت ہے۔ انتظامیہ کو ضلع اور تحصیل کی سطح پر مؤثر ‘ فعال اور طاقتور بنانے کے لیے آئین اور قوانین میں ترامیم کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے حصول کی خاطرایک راستہ یہ ہے کہ مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے جیسا کہ وہ جنرل مشرف کے دور میں تھیں بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ دوسرا آپشن یہ ہے کہ ملک کو پندرہ بیس چھوٹے چھوٹے صوبوں میں تقسیم کیا جائے ۔ تیسرا متبادل یہ ہے کہ ڈویژنزکے کمشنر ز کوایڈیشنل چیف سیکرٹری کے اختیارات دے دیے جائیں اور کمشنرز کو اُنکے ڈویژن میں آنے والے ضلعوں کے تمام محکموں کا چیف ایگزیکٹو بنادیا جائے تاکہ مقامی سطح پر لوگوں کے مسائل حل ہوں۔ ان تمام آپشنز پر بحث و تمحیص ہونی چاہیے۔ موجودہ حکومتی نظام جس میں اقتدارپانچ بڑے شہروں میں مرتکز ہے گورننس کی تباہی کا ایک اہم سبب ہے۔اسے بہرحال تبدیل کرنا ہوگا۔

  • یمنیٰ زیدی پاکستان کی پہلی نو عمر فِگر اسکیٹر ملاک فیصل کی پرفارمنس کی متعرف

    یمنیٰ زیدی پاکستان کی پہلی نو عمر فِگر اسکیٹر ملاک فیصل کی پرفارمنس کی متعرف

    پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کی خوبرو اداکارہ یمنیٰ زیدی نے پاکستان کی پہلی نو عمر فِگر اسکیٹر ملاک فیصل کی جشن آزادی پر دی گئی پرفارمنس پر تعریفی پیغام سوشل میڈیا پر شئیر کیا ہے-

    باغی ٹی وی : اداکارہ یمنیٰ زیدی نے اپنے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر پاکستان کی 12 سالہ فگر اسکیٹر ملاک فیصل کی ویڈیو شیئر کی ہے ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے ملاک فیصل پاکستان کے جشن آزادی کے موقع پاکستانی گلوکار عاطف اسلم کے ملی نغمے پر پرفارم کر رہی ہیں ۔
    https://www.instagram.com/p/CD4RyKEnm10/?igshid=58lqun146imt
    یمنیٰ زیدی نے ملاک فیصل کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ملاک کی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ آزادی کے موقع پر 12 سالہ ملاک کی جانب سےاس قدر خوبصورت کارکردگی انہیں ملاک کا پاکستان کے ساتھ جوش و جذبہ بہت پسند آیا ہے۔

    واضح رہے کہ پہلی پاکستانی 12 سالہ ملاک فیصل ظفر نے آسٹریا کے سب سے بڑے فگر اسکیٹنگ مقابلے کے 24ویں انٹرنیشنل ایسکپ انسبرک 2019 میں حصہ لیا تھا اور اِس عالمی مقابلے میں آسٹریا، جرمنی، اٹلی، سوئٹزر لینڈ اور دیگر کئی ممالک کے 200 سے زائد ایتھلیٹس نے بھی حصہ لیا تھا۔

    ملا ک فیصل نے 24ویں انٹرنیشنل ایسکپ انسبرک 2019 میں عمدہ اسکیٹنگ کرتے ہوئے اِن تمام ایتھلیٹس کو شکست دی اور بیسک نوائس گرلز 2 کیٹیگری میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔

    ایتھلیٹ ملاک کا علی ظفر سے ملنے کی خواہش کا اظہار

    آسٹریلوی ایوارڈ اپنے نام کرنے والے پہلے مسلمان اور پاکستانی سائنسدان

  • بھارتی فلمساز ہنسل مہتا پر بھی پاکستانی ویب سیریز چڑیلز کا جادُو چل گیا

    بھارتی فلمساز ہنسل مہتا پر بھی پاکستانی ویب سیریز چڑیلز کا جادُو چل گیا

    پاکستان کی پہلی اوریجنل ویب سیریز کا اعزاز رکھنے والی ایکشن تھرلر سیریز ’چڑیلز‘ کو ویب اسٹریمنگ ویب سائٹ زی فائیو پر 11 اگست کو ریلیز گیا تھا-

    باغی ٹی وی :ویب اسٹریمنگ ویب سائٹ پر ’چڑیلز‘ کے پہلے سیزن کی تمام 10 اقساط کو ہی 11 اگست کو جاری کردیا گیاتھا جن کے ریلیز ہوتے ہی دنیا بھر میں ان کی دھوم مچ گئی ہے-

    دس اقساط پر مشتمل ’چڑیلز‘ کا آغاز کافی روکھا محسوس ہوا اور پہلی دو اقساط نے کوئی خاص اثر نہیں چھوڑا لیکن پھر تیسری قسط سے یہ سیریز آپ کو اپنے سحر میں جکڑنا شروع کردیتی ہے اور ہر نئی قسط تجسس اور اشتیاق میں اضافہ کرتے ہوئی نویں قسط تک ایک مکمل تھرلر کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔

    یہی اس سیریز کی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ کہانی مسلسل آگے بڑھتی رہتی ہے اور ہر منظر آپس میں جڑا ہوا ہے۔ یہ ویب سیریز پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے، صرف موضوعات کے اعتبار سے ہی نہیں بلکہ معاشی اعتبار سے بھی ہے۔اس سیریز نے سرحد پار سمیت دنیا بھر میں شائقین کو اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے جن میں بھارتی فلم میکر ہنسل مہتا بھی شامل ہیں-

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ہنسل مہتا نے ویب سیریز چڑیلز کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے ہدایتکار عاصم عباسی کی تعریف کی اورلکھا کہ کل ‘چڑیلز’ کی 2 اقساط دیکھی۔ یہ بہت ہی لطف اندوز ، بہت قابل ستائش،شارپ اور سُپر کُول سیریز ہے
    https://twitter.com/mehtahansal/status/1293848788163899392?s=19
    انہوں نے لکھا کہ مجھے حیران ہوںکہ کتنے شو عناصر نے انوراگ کشپ کے کام کو خراج عقیدت پیش کیا ہے شاید وہ اس نسل کے سب سے زیادہ بااثر ہندوستانی فلم سازوں میں سے ایک ہیں۔
    https://twitter.com/ZEE5Premium/status/1293940180886282241?s=20
    ہنسل مہتا کی اس ٹوئٹ پر رد عمل دیتے ہوئے زی فائیو پریمئیم نے لکھا کہ آپ کی طرف سے اس سیریز کے لئے قابل ستائش کمنٹس آنا یہ بھی پوری ٹیم کے لئے ایک حیرت انگیز کارنامہ ہےہم سب کی عزت ہے-

    خیال رہے کہ ہدایت کار عاصم عباسی کی ویب سیریز ’چڑیلز‘میں ایسی چار شادی شدہ خواتین کی کہانی دکھائی گئی ہےجو اپنے شوہروں کی بے وفائی کے بعد جاسوس بن جاتی ہیں۔

    پاکستان کی پہلی ویب سیریز ’چڑیلز‘ میں شوہروں کی بے وفائی کے بعد جاسوس بن جانے والی چاروں خواتین اپنی جیسی دوسری عورتوں کی زندگی بچانے کے لیے کام کرتی ہیں اور بیویوں سے دھوکا کرنے والے شوہروں کو بے نقاب کرتی دکھائی دیتی ہیں اور اس دوران جب وہ جاسوس بن جاتی ہیں تو انہیں معاشرے کے کئی مکروہ چہرے دکھائی دیتے ہیں۔

    جاسوس بن جانے والی خواتین پھر کم عمری کی شادیوں، بچوں کے ساتھ ناروا سلوک، زبردستی کی شادیوں، غربت، جرائم، رنگ و نسل کے واقعات اور خودکشی جیسے بھیانک حقائق کا سامنا کرتی ہیں۔

    ویب سیریز میں ثروت گیلانی نے سارہ، یاسرا رضوی نے جگنو، نمرا بچہ نے بتول اور مہربانو نے زبیدہ کا کردار ادا کیا ہے اور ویب سیریز میں ان چار مختلف شعبوں وکیل ، باکسر،ویڈنگ پلانر سے تعلق رکھنے والی خواتین کو ایک گینگ کے طور پر دکھایا گیا ہے-

    فیشن ہاؤس کے نام پر جاسوسی کا ادارہ چلانے والی چاروں خواتین کو اپنے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے درجنوں خواتین کو فیشن اور ماڈلنگ کے نام ملازمت پر رکھتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے فیشن کے نام جاسوسی کا ادارہ چلانے والی چاروں خواتین کو برقع پہن کر بیویوں سے بے وفائی کرنے والے شوہروں کی جاسوسی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے.

    ’چڑیلز‘ شوہروں کی بے وفائی سے پردی اٹھاتیں ذہین بولڈ بہادر اور خوبصورت خواتین کی کہانی

    پاکستان کی پہلی اوریجنل ویب سیریز ’چڑیلز‘ کا ٹریلر جاری

  • اداکارہ صبا قمر اور گلوکار بلال سعید کی عبوری ضمانت منظور

    اداکارہ صبا قمر اور گلوکار بلال سعید کی عبوری ضمانت منظور

    لاہور سیشن عدالت نے مسجد وزیر خان میں گانے کی ویڈیو ریکارڈنگ کیس پراداکارہ صبا قمر اور گلوکار بلال سعید کی عبوری ضمانت منظور کرلی۔

    باغی ٹی وی : ایڈیشنل سیشن جج عتیق الرحمن نے11 اگست کو سردار فرحت منظور خان چانڈیو ایڈووکیٹ کی طرف سے درج کروائے گئے مقدمہ کی درخواست پر سماعت کی تھی اور ایس ایچ او ا کبری گیٹ کو نوٹس جاری کر کے 12 اگست کو رپورٹ طلب کی تھی –

    درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ بلال سعید اور اداکارہ صبا قمر نے مسجد میں گانے کی عکس بندی کرکے تقدس پامال کیا ہے درخواست گزار نے عدالت سے صبا قمر، بلال سعید، لائن پروڈیوسر احمد وقاص اور محکمہ اوقاف کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دینے کی استدعا کی تھی –

    جس پر اب لاہور سیشن عدالت نے سماعت کی-

    تفصیلات کے مطابق لاہور کی سیشن عدالت میں صباقمر اور بلال سعید کے خلاف لاہور کی تاریخی وزیر خان مسجد میں میوزک ویڈیو قبول ہے کے چند مناظر کی عکس بندی کے معاملے پر سماعت ہوئی۔

    ایڈیشنل سیشن جج وسیم اختر نے صبا قمر اور بلال سعید کی عبوری درخواست ضمانت پر سماعت کی مدعی ایڈووکیٹ سرادر فرحت منظور چانڈیو ملزموں کی ضمانت کی درخواست پر مخالفت میں پیش ہوئے۔

    عدالت نے صبا قمر اور بلال سعید کی گرفتاری روکتے ہوئے دونوں فنکاروں کو پچاس پچاس ہزار کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا اور صبا قمر اور بلال سعید کی 25 اگست تک عبوری ضمانت منظور کرلی ہے-

    کراچی سٹی کورٹ میں صبا قمر اور بلال سعید کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست

    اداکارہ صبا قمر اور بلال سعید کے خلاف مسجد کی بیحرمتی پر تھانہ مزنگ میں مقدمہ کی درخواست دے دی گئی

    صبا قمرکی مداحوں سے اپنے نام سے بنے جعلی اکاؤنٹس پر رپورٹ کرنے کی درخواست

    مسجد وزیر خان میں عکس بندی کے معاملے میں بلال سعید، صبا قمر اور محکمہ اوقاف کے افسروں کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر سماعت میں 12 اگست تک رپورٹ طلب

  • کراچی سٹی کورٹ میں صبا قمر اور بلال سعید کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست

    کراچی سٹی کورٹ میں صبا قمر اور بلال سعید کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست

    مسجد وزیر خان میں گلوکار بلال سعید اور اداکارہ صبا قمر کے گانے قبول ہے کے ایک منظر کی عکس بندی کرنے پر وکیل لیاقت علی خان گبول نے کراچی سٹی کورٹ میں اداکاروں کیخلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دائر کردی ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیالت کے مطابق مسجد وزیر خان میں گلوکار بلال سعید اور اداکارہ صبا قمر کے گانے قبول ہے کے ایک منظر کی عکس بندی کرنے پر وکیل لیاقت علی خان گبول نے کتاچی سٹی کورٹ میں اداکاروں کیخلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دائر کردی ہے- کراچی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی نے ایس ایچ او سٹی کورٹ و دیگر سے 22 اگست کو جواب طلب کرلیا۔

    وکیل لیاقت علی خان گبول نے درخواست میں موقف اختیار کیا کہ اداکارہ صبا قمر اور گلوکار بلال سعید نے مسجد میں ڈانس کر کے مسجد کاتقدس کو پامال کیا۔

    سوشل میڈیا پر ڈانس کی ویڈیو اور تصاویر دیکھ کر شدید رنج ہوا، اداکارہ صباء قمر ، بلال سعیدو دیگر نے مسجد کی بے حرمتی کرکے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا اداکاروں کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کے لیے تھانہ سٹی کورٹ میں درخواست دی لیکن پولیس نے کارروائی سے انکار کیا ۔

    انہوں نے اپنی درخواست میں کہا کہ صبا قمر، بلال سعید اور پروڈیوسر احمد وقاص کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے جس پرعدالت نے مدعی لیاقت گبول ایڈووکیٹ کو مسجد وزیرخان کی انتظامیہ اورمحکمہ اوقاف کے افسران کے نام پیش کرنے کا حکم دیدیا۔

    اس سے قبل لاہور میں سردار فرحت منظور خان چانڈیو ایڈووکیٹ نے دونوں فنکاروں کے خلاف مقدمہ درج کروایا تھا درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ بلال سعید اور اداکارہ صبا قمر نے مسجد میں گانے کی عکس بندی کرکے تقدس پامال کیا ہے درخواست گزار نے عدالت سے صبا قمر، بلال سعید، لائن پروڈیوسر احمد وقاص اور محکمہ اوقاف کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دینے کی استدعا کی تھی-

    جس پر ایڈیشنل سیشن جج عتیق الرحمن نے سردار فرحت منظور خان چانڈیو ایڈووکیٹ کی طرف سے درج کروائے گئے مقدمہ کی درخواست پر سماعت کی اور ایس ایچ او ا کبری گیٹ کو نوٹس جاری کر کے 12 اگست کو رپورٹ طلب کی تھی-

    علاوہ ازیں مسجد کا تقدس پامال کرنے پر اداکارہ صبا قمر اور بلال سعید کے خلاف 9 اگست کو تھانہ مزنگ میں ذاتی مدعیت میں مقدمہ درج کروانے کے لیے درخواست جمع کروا ئی گئی تھی-

    لاہور کے ایک مقامی وکیل نے تھانہ مزنگ میں اداکارہ صبا قمر اوربلال سعید کے خلاف مسجد کی توہین پرمقدمہ کی درخواست دیتےہوئے کہا تھا کہ مذکورہ اداکاراوں نے مسجد کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے ایسے افعال سرانجام دئیے ہیں جو کہ نہ صرف خلاف اسلام ہیں بلکہ یہ ایک بہت بڑا جرم بھی ہے-

    لاہور کے مقامی وکیل علی اکبرملک نے تھانہ مزنگ کےایس ایچ او کودرخواست دیتے ہوئے کہا تھا کہ صبا قمر اوربلال سعید نے مسلمانوں کے ایمان مجروح کرنے کی جسارت کی ہے

    علی اکبر ملک کا کہنا تھا کہ مساجد کے تقدس کو پامال ہونے سے روکنے کےلیےایسے بے دین لوگوں کے خلاف کارروائی ضروری ہے لہٰذا اداکارہ صبا قمر اوربلال سعید کے خلاف مقدمہ درج کرکے کارروائی کی جائے۔

    اداکارہ صبا قمر اور بلال سعید کے خلاف مسجد کی بیحرمتی پر تھانہ مزنگ میں مقدمہ کی درخواست دے دی گئی

    صبا قمرکی مداحوں سے اپنے نام سے بنے جعلی اکاؤنٹس پر رپورٹ کرنے کی درخواست

    مسجد وزیر خان میں عکس بندی کے معاملے میں بلال سعید، صبا قمر اور محکمہ اوقاف کے افسروں کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر سماعت میں 12 اگست تک رپورٹ طلب