Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • اسلام آباد میں مندر کے قیام کے خلاف ٹک ٹاکر کی بغاوت کی کال

    اسلام آباد میں مندر کے قیام کے خلاف ٹک ٹاکر کی بغاوت کی کال

    رواں سال جون میں حکومت نے اسلام آباد میں ہندوؤں کے مندر کی تعمیر کی بنیاد رکھی تھی جس پر بعض لوگوں نے تو حکومت کا ساتھ دیا تھا لیکن مذہبی شخصیات اور عوام سمیت کئی معروف شخصیات نے اس بات پر کافی احتجاج کیا تھا-

    باغی ٹی وی: حکومت کی جانب سے ہندوؤں کے لئے مندر تعمیر کرنے کی بنیاد رکھی گئی تھی جس پر مذہبی شخصیات اور عوام سمیت کئی معروف شخصیات نے اس بات پر کافی احتجاج کیا تھا جبکہ باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عام شہریوں کا کہنا تھا کہ ہم حکومت کے اس فیصلے کا بائیکاٹ کرتے ہیں اور وہ جو پیسہ حکومت مندر کی تعمیر کے لئے خرچ کرے گی وہ عوام کا پیسہ ہے اور وہ اپنے پیسے کو مندر کی تعمیر پر خرچ نہیں ہونے دیں گے-

    باغی ٹی وی سے مزید کرتے ہوئے شہریوں کا کہنا تھا جبکہ مندر غیر ضروری بھی ہے کیونکہ چند ہندو آباد ہیں اسلام آباد میں، اور اسلام میں یہ حکومت کیلئے جائز بھی نہیں ہے ۔پھر کیوں یہ حکومت ان کے غم میں گھلی جاتی ہے ؟ یہ ملک کلمہ کی بنیاد پر ھاصل کیا گیا ہے اور اس میں مندر وغیرہ نہیں بننے دیں گے اگر ایسا ہی کرنا تھا تو اتنی قربانیاں دے کر ہمیں علیحدہ ملک حاصل کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی-

    اسلام آباد میں مندر کے قیام کے خلاف تاہم ان احتجاج کرنے والی شخصیات میں ایک ٹک ٹاکر کی بغاوت کی کال دی ہے-
    https://vm.tiktok.com/ZMJMkXmDo/
    ٹک ٹاکر کا کہنا تھا کہ ہم انشاءاللہ ہم کبھی بھی اسلامی ملک میں مندر نہیں بننے دیں گے چاہے گورنمنٹ جو بھی کر لے-ٹک ٹاکر کی اس ویڈیو کو 20 لاکھ سے زائد لوگوں نے دیکھا ہے 21 لاکھ سے زائد لوگ لائیک کر چُکے ہیں-

    ٹک ٹاکر کی اس ٹک ٹاک ویڈیو پر کسی حکومتی سوشل میڈیا ٹیم اور ذمہ داران کی جانب سے کوئی رد عمل نہیں سامنے آیا کسی حکومتی فرد نے اس ٹک ٹاکر کو جواب دینے کی کوشش کی نہیں تو سوال یہ اُٹھتا ہے کہ کیا کسی حکومتی ذامہ داران اور سوشل میڈیا ٹیم کی ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نظر نہیں ہے ؟کہ حکومت کے فیصلوں اور کاموں میں مداخلت کرتے ہوئےکون کیا بات کر رہا ہے؟

    حکومت نے ٹک ٹاک پر پابندی کا فیصلہ کیا ہے تو ہمیں حکومت کا ساتھ دینا چاہئے حریم شاہ

    پاکستان نے بیگو لائیو ایپ بلاک کر دی، فحش مواد پر ٹک ٹاک کو بھی وارننگ جاری

    ایک اور ٹک ٹاک سٹار کی نازیبا تصاویر اور ویڈیو وائرل

    نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا کی ٹک ٹاکر کی ویڈیو میں انٹری

    حاسدین میری تصویریں فوٹو شاپ کر کے مجھے بدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں جنت مرزا

    ٹک ٹاک بند ہوا تو خودکشی کر لیں گے، ٹک ٹاکرز کی باغی ٹی وی سے گفتگو

    اسلام آباد میں مندر کا کام روکنے پر اُشنا شاہ نے قائد اعظم کا قول شئیر کر دیا

    میں تسلیم کرتا ہوں کہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر مذہبی امتیاز موجود ہے حمزہ علی عباسی

  • نازیہ حسن کی برسی پر زوہیب حسن کا جذباتی پیغام

    نازیہ حسن کی برسی پر زوہیب حسن کا جذباتی پیغام

    برصغیر میں پاپ موسیقی کے بانیوں میں شمار کی جانے والی پاکستان کی مقبول ترین پاپ گلوکارہ نازیہ حسن کو دنیا سے رخصت ہوئے 20 برس بیت گئے ہیں

    باغی ٹی وی : پاپ گلوکارہ کی 20 ویں برسی کے موقع پر ان کے بھائی زوہیب حسن نے نازیہ حسن کی تصویر کے ساتھ ایک پیغام جاری کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔

    سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر اپنے پیغام میں زوہیب حسن نے لکھا کہ میری پیاری بہن آج دنیا بھر میں آپ کو خراج عقیدت پیش کیا جارہا ہے جو صرف آپ کی حیرت انگیز موسیقی کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ آپ کی نرم دلی اور دوسروں کا خیال رکھنے والی شخصیت کی وجہ سے یاد کر رہے ہیں-
    https://www.instagram.com/p/CD0G07zBQpn/?utm_source=ig_embed
    اپنے پیغام کے آخر میں زوہیب حسن نے لکھا کہ ’تمہارا بھائی تمہیں بہت یاد کرتا ہے۔

    نازیہ حسن 3 اپریل 1965 کو کراچی میں پیدا ہوئیں انہوں نے امریکن کالج آف لندن سے گریجویشن کیا اور پی ٹی وی کے مشہور پروگرام ’سنگ سنگ چلے‘ سے موسیقی کی دنیا میں قدم رکھا-

    1980ء میں پندرہ سال کی عمر میں وہ اس وقت شہرت کی بلندیوں تک پہنچ گئیں جب انہوں نے بھارتی فلم قربانی کا گیت آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے تو بات بن جائے گایا اس کے بعد 1981 میں ریلیز ہونے والے نازیہ حسن کے پہلے البم ’ڈسکو دیوانے‘ نے انہیں مزید شہرت سے نوازا اور انہوں نے پاک و ہند کی نوجوان نسل کے مزاج پر گہرا اثر ڈالا۔

    نازیہ حسن اور ان کے بھائی زوہیب حسن نے 1982 میں بوم بوم ، 1986 میں ینگ ترنگ، 1987 میں ہاٹ لائن اور 1992ء میں کیمرا کیمرا کے ناموں سے چار البم ریلیز کئے جو بے حد مقبول ہوئے-

    بعد از وفات اُنہیں 2002میں حکومت پاکستان کی طرف سے پرائیڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا گیا۔

    نازیہ حسن پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا ہو کر 13 اگست 2000 کو محض پینتیس برس کی عمر میں اسانتقل کر گئیں لیکن ان کی موسیقی اور سریلی آواز کو آج تک مداح بھول نہیں پائے

    پاپ گلوکارہ نازیہ حسن کو دنیا سے رخصت ہوئے 20 برس بیت گئے

  • ایان علی کے نئے میوزک البم ’نتھنگ لائک ایوری تھنگ‘ کی آفیشل ویڈیو ریلیز

    ایان علی کے نئے میوزک البم ’نتھنگ لائک ایوری تھنگ‘ کی آفیشل ویڈیو ریلیز

    منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت پر رہا ہونے والی پاکستان کی سُپر ماڈل ایان علی نے 5 سال بعد اپنا پہلا البم ’نتھنگ لائک ایوری تھنگ‘ کی آڈیو ریلیز کرنے کے بعد اب ایک گانے کی ویڈیو بھی ریلیز کردی ہے-

    باغی ٹی وی : گزشتہ ماہ ایان علی نے اپنی ٹوئٹ اور انسٹاگرام پوسٹ میں لگژری گاڑیوں کے ساتھ اپنی تصویر شیئر کرتے ہوئے اپنے البم کی ریلیز کے حوالے سے بتایا تھا کہ اب وقت آگیا ہے اور اپنے پسندیدہ پرانی لیمبوروگھینی میں اپنے اگلے 7 گانے سنوں۔ میں اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہوں کہ وہ بہت اچھے لگیں۔

    ایان علی نے لکھا تھا کہ وہ گذشتہ 5 سالوں سے ان گانوں کے لئے سخت محنت کر رہی تھیں جن سے اب ہر کوئی لطف اٹھا سکتا ہے-
    https://www.instagram.com/p/CDa9KuZpOdx/?utm_source=ig_embed
    تاہم رواں ماہ 3 اگست کو ایان علی نے اپنی پہلی میوزک البم کے گانے ریلیز کردیے تھے ایان علی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اپنا البم ریلیز ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ دوستوں میں نے 5 سال قبل جس البم پر کام شروع کیا تھا بالآخر اسے ریلیز کردیا ہے۔

    انہوں نے کہا تھا کہ ان کے البم کی آفیشل اینی میٹڈ ویڈیو اور آفیشل میوزک بہت جلد ریلیز کیا جائے گا۔

    تاہم اپنی میوزک البم کی آڈیو جاری کرنے کے بعد اب ایان علی نے اپنی البم کے 2 گانوں کی ویڈیو بھی ریلیز کردی ہے۔

    چند روز قبل انہوں نے انسٹاگرام پر جاری پوسٹ میں بتایا تھا کہ ان کے ڈیبیو البم ‘نتھنگ لائیک ایوری تھنگ’ کی آفیشل لیریکل ویڈیوز جاری کی جائیں گی۔
    https://www.instagram.com/p/CDoULVapsix/?utm_source=ig_embed
    تاہم گلوکارہ و ماڈل نے دو روز قبل اپنے گانے بی مائی فرینڈ کی ویڈیو ریلیز کی تھی جسےمداحوں کی جانب سے خوب پسند کیا گیا ہے-

    اس کے بعد گزشتہ روز ایان علی نے اپنی البم کے ایک اور گانے اپ اینڈ ڈاؤن کی ویڈیو بھی جاری کردی ہے اور جلد ہی ان کے دیگر گانوں کی ویڈیوز بھی جاری کی جائیں گی۔
    https://twitter.com/AYYANWORLD/status/1293548472692543489?s=20

    واضح رہے کہ ایان علی کو 14 مارچ 2015 کو اسلام آباد بے نظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے 5 لاکھ سے زائد ڈالرز دبئی اسمگل کرتےہوئے گرفتار کیاگیا تھا بعد ازاں عدالت نے انہیں ضمانت پر رہاکیا جس کے بعد وہ بیرون ملک چلی گئیں 2 سال تک ایان علی عدالت میں پیش ہوتی رہیں تاہم 2017 میں بیرون ملک جانے کے بعد سے وہ عدالت کی سماعتوں میں غیر حاضر رہیں جس کے باعث انہیں کو اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے اور ان کا اپارٹمنٹ بھی ضبط کیا جا چکا ہے-

    ایان علی کی لمبے عرصے بعد سوشل میڈیا پر واپسی

  • پاپ گلوکارہ نازیہ حسن کو دنیا سے رخصت ہوئے 20 برس بیت گئے

    پاپ گلوکارہ نازیہ حسن کو دنیا سے رخصت ہوئے 20 برس بیت گئے

    برصغیر میں پاپ موسیقی کے بانیوں میں شمار کی جانے والی پاکستان کی مقبول ترین پاپ گلوکارہ نازیہ حسن کو دنیا سے رخصت ہوئے 20 برس بیت گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی :پاپ موسیقی کو غیر معمولی شہرت بخشنے والی گلوگارہ نازیہ حسن کی آج یعنی 13 گست کو مداحوں سے بچھڑے 20 برس ہو گئے ہیں-

    نازیہ حسن 3 اپریل 1965 کو کراچی میں پیدا ہوئیں، انہوں نے امریکن کالج آف لندن سے گریجویشن کیا اور پی ٹی وی کے مشہور پروگرام ’سنگ سنگ چلے‘ سے موسیقی کی دنیا میں قدم رکھا۔

    1980ء میں پندرہ سال کی عمر میں وہ اس وقت شہرت کی بلندیوں تک پہنچ گئیں جب انہوں نے بھارتی فلم قربانی کا گیت آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے تو بات بن جائے گایا اس کے بعد 1981 میں ریلیز ہونے والے نازیہ حسن کے پہلے البم ’ڈسکو دیوانے‘ نے انہیں مزید شہرت سے نوازا اور انہوں نے پاک و ہند کی نوجوان نسل کے مزاج پر گہرا اثر ڈالا۔

    نازیہ حسن اور ان کے بھائی زوہیب حسن نے 1982 میں بوم بوم ، 1986 میں ینگ ترنگ، 1987 میں ہاٹ لائن اور 1992ء میں کیمرا کیمرا کے ناموں سے چار البم ریلیز کئے جو بے حد مقبول ہوئے-

    بعد از وفات اُنہیں 2002میں حکومت پاکستان کی طرف سے پرائیڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا گیا۔

    نازیہ حسن پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا ہو کر 13 اگست 2000 کو محض پینتیس برس کی عمر میں اسانتقل کر گئیں لیکن ان کی موسیقی اور سریلی آواز کو آج تک مداح بھول نہیں پائے-

  • پاکستان بننا کیوں ضروری تھا  بقلم :الفت بنتِ رمضان

    پاکستان بننا کیوں ضروری تھا بقلم :الفت بنتِ رمضان

    پاکستان بننا کیوں ضروری تھا
    [بقلم الفت بنتِ رمضان]

    پاکستان بنانے کامقصد ایک ایسی ریاست کو تشکیل دینا تھا جو کہ اسلامی اصولوں کے مطابق ہو۔
    اس نظریے کی بنیادی وجہ یہ تھی کے ہندوستان میں ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں آباد تھیں جبکہ انکے مذاہب،انکی ثقافت، انکی زبان، انکے لباس، انکا عمل اور ارادی سوچ انکی تاریخ ان کے رسم و رواج اور بودو باش کے طریقہ کار ایک دوسرے سے بلکل مختلف ہیں۔
    مثلاََ: ہندو مذہب کے پیرو کار گاۓ کو ایک متبرک جانور سمجھتے ہیں اور اسکی پوجا کرتے ہیں جبکہ مسلمان گاۓ کا گوشت کھاتے ہیں۔
    ان بنیادی اختلافات کی بنا پر ان دو قوموں کا الگ ہونا بہت ضروری تھا
    اگرایسا نا ہوتا تو عین ممکن تھا کے آج کروڑوں مسلمانوں کو کشمیریوں کی طرح اقلیت قرار دے کرہندٶں کی غلامی میں دے دیا جاتا جو کہ مسلمانوں کے لیے ایک مکمل تباہی تھی۔تو اس لیے ایک ایسی ریاست کا وجود میں آنا ضروری تھا کے جس میں رہ کر مسلمان اسلام کے بنیادی اصولوں کے مطابق یعنی قرآن و سنت کی روشنی میں اپنی زندگیاں گزار سکیں اور عالم کے لیے ایک مثال قاٸم کر سکیں۔
    اسی لیے اللّٰہ رب العزت نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:
    یایھاالکفرون لا اعبد ما تعبدون
    ترجمة:
    (اے نبیﷺ آپ فرما دیں) اے کافرو! میں اسکی عبادت نہیں کرتا جسکی تم عبادت کرتے ہو۔
    ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
    آیت:
    ھوالذی خلقکم فمنکم کافر ومنکم مٶمن واللّٰہ بما تعملون بصیر
    ترجمة:
    وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پس تم میں سے کوٸی کافر ہو گیا اور تم میں سے کوٸی مومن ہو گیا۔”
    اللّٰہ رب العزت سے دعا ہے کے اللّٰہ تعالیٰ ہمیں اپنی زندگیاں قرآن وسنت کے مطابق گزارنے اور اپنی مقصدِ حیات کو پہچاننے کی توفیق عطا فرماۓ۔آمین یا رب العالمین –

  • قیام پاکستان کا سیاسی و قانونی پس منظر  بقلم : بنت نذير

    قیام پاکستان کا سیاسی و قانونی پس منظر بقلم : بنت نذير

    قیام پاکستان

    قیام پاکستان کا سیاسی و قانونی پس منظر

    بقلم [ بنت نذير ]
    پاکستان بننے سے پہلے مسلمان اور ہندو ایک ساتھ رہتے تھے مسلمانوں پر ہندوؤں کی حکومت تھی مسلمانوں کو آزادی حاصل نہیں تھی ان پر ظلم کیے جاتے تھے چنانچہ ان کو ان کے حقوق حاصل نہیں تھے.

    اگست 1947ء میں پاکستان کا قیام ان معنوں میں ایک منفرد واقعہ تھا کہ اس زمانے میں دنیا کے مختلف خطوں میں جو دیگر ممالک آزاد ہوئے وہ پنجۂ غلامی میں جانے سے پہلے بھی ایک ملک کی حیثیت سے اپنا جداگانہ وجود رکھتے تھے ۔ ان ملکوں نے آزادی کی تحریکیں چلائیں اور کامیابی کے بعد اپنے سابقہ تشخص کو دوبارہ حاصل کرلیا۔ ان ممالک کے برعکس پاکستان 1947ء سے پہلے کبھی بھی ایک ملک کی حیثیت سے اپنا جداگانہ تشخص نہیں رکھتا تھا۔ پاکستان میں شامل علاقے برصغیر کا حصہ تھے اور برصغیر پر ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنی فوج کے ذریعے ایک سو سال کے عرصے میں اپنا قبضہ مکمل کرکے اس کو سلطنت برطانیہ کے سپرد کردیا تھا۔ 1857ء میں یہ قبضہ مکمل ہوا اور اس کے ساتھ ہی انگریزی استعمار کے خلاف برصغیر کے طول و عرض میں آزادی کے لیے آوازیں اور تحریکیں اٹھنا شروع ہوئیں۔1857ء سے 1947ء تک کے نویں سال کے عرصے میں مسلم سیاسی شناخت ایک جداگانہ اور نمایاں پروگرام کے طور پر اجاگر ہوئی جس کے واضح سیاسی اور اقتصادی عوامل موجود تھے۔ انگریزی استعمار کی تعمیر و تشکیل کے دوران ابتدا ہی میں یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ اب جب کہ پہلی مرتبہ ہندوستان میںاستعماری مقاصد ہی کے تحت نمائندہ اداروں کا قیام عمل میں آرہا ہے اور ساتھ ہی ایسی انتظامی اور اقتصادی پالیسیاں متعارف کی جارہی ہیں جن کے نتیجے میں شہری علاقوں میں نئی سرکاری زبان یعنی انگریزی میں دسترس رکھنے والوں کی اہمیت اجاگر ہورہی ہے اور دیہی علاقوں میں ایک نئی اقتصادی اشرافیہ وجود میں آرہی ہے۔ ان نئے رجحانات سے خود کو لاتعلق اور غافل نہیں رکھا جاسکے گا۔ ان دونوں سماجی طبقات کے لیے ضروری تھا کہ نئے وجود میں آنے والے نمائندہ اداروں تک پہنچ حاصل کریں تاکہ اپنے طبقات کے مفادات کا تحفظ کرسکیں۔ یہ اسی مرحلے پر ہوا کہ مسلمانوں کے بااثر طبقات کو پہلی مرتبہ ہندوستان کی مجموعی آبادی میں اپنے اقلیت ہونے کا شدت کے ساتھ احساس ہوا۔ اس احساس کا اولین اظہار سرسید احمد خان کی تحریروں میں ہوا جبکہ بعد میں مسلم سیاسی قیادت کا بڑا حصہ اور 1904ء میں بننے والی مسلم لیگ اس احساس کے ترجمان بنے۔

    قائداعظم محمد علی جناح ایک جدید ذہن کے حامل سیاستدان تھے۔ انہوں نے وکالت کی تعلیم کی غرض سے جو عرصہ انگلستان میں گزارا وہ ان کے ذہن کی تشکیل اور ان کے سیاسی تصورات کی تعمیر میں بہت ممد و معاون ثابت ہوا۔ انگلستان میں اپنے قیام کے دوران وہ لبرل سیاسی مفکرین کے خیالات سے متاثر ہوئے ۔انہوں نے برطانوی پارلیمانی نظام کا تفصیلی مطالعہ کیا ۔ساتھ ہی انہوں نے اس نظام کی داخلی حرکیات کو بھی سمجھنے کی کوشش کی۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ برطانیہ میں مذہبی مناقشات کو حل کرنے کی غرض سے کیا اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور یہ کہ ریاست نے خود کو مذہبی امور کے حوالے سے مکمل طور پر غیر جانبدار بنا کر اور ساتھ ہی مذہبی آزادیوں کی ضمانت فراہم کرکے معاشرے کوکس طرح دائمی امن سے ہمکنار کردیا ہے۔ہندوستان واپسی پر قائداعظم نے جب عملی سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تو ابتدا ہی میں ایک بہت بڑا سوال ان کے سامنے آ ٓکھڑا ہوا۔ ہندوستان میں مسلمان ایک اقلیت کی حیثیت رکھتے تھے جب کہ کوئی نو دس صدیوں تک مسلمان بادشاہ ہندوستان پر حکمرانی کرتے رہے تھے۔ اس پورے عرصے میں ہندوستان کے مسلمانوں میں دیگر مذاہب کے لوگوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کا رجحان بھی موجود رہا تھا جب کہ اپنے مذہبی معاملات میں وہ اپنے علیحدہ طرز فکرو عمل کے بھی حامل رہے تھے۔ یہ دونوں رجحانات ہمیشہ ہی ایسے معاشروں میں پاۓ جاتے رہے ہیں جہاں ثقافتی تنوع موجود ہوتا ہے ہندوستان بھی اس ثقافتی تنوع کا حامل تھا اور یہ کوئ غیر معمولی اور ہندوستان سے مخصوص بات نہیں تھی لیکن انگریز کئ آمد کے بعد نمائندہ اداروں کے قیام کے نتیجے میں اب جبکہ قانون سازی اور انتظامی امور کی انجام دہی ان اداروں کے سپرد ہونے والی تھی تو پہلی مرتبہ ہندوستان کا ثقافتی تنوع سیاسی تقسیم کی بنیاد بننا شروع ہوا.

    قائداعظم کا خیال تھا کہ نمائندہ اداروں میں اگر جمہوری اصولوں کو ہندوستان کے معروضی حالات سے لاتعلق ہو کر نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتیجے میں ہندوئوں کی ثقافتی اکثریت ان کی سیاسی اکثریت کا راستہ ہموار کرے گی جب کہ مسلمان ثقافتی اقلیت ہونے کے ناطے سیاسی اقلیت بھی قرار پائیں گے۔ اس تضاد کے حل کے لیے انہوں نے جو حکمت عملی وضع کی اس کے دو نمایاں قانونی و سیاسی پہلو تھے ۔حکمت عملی کا ایک پہلو تو یہ تھا کہ قائداعظم کو معلوم تھا کہ جمہوری سیاسی نظاموں میں اس امر کی بھی گنجائش موجود ہوتی ہے کہ آبادی کے کسی حصے کی کمتر تعداد کو نسبتاً زیادہ نمائندگی دے کر اس کا اعتماد بھی حاصل کیا جاسکتا ہے اور اس کو قوم سازی کے عمل میں شریک بھی رکھا جاسکتا ہے۔ سیاسی زبان میں اس کو ایجابی اقدام کہا جاتا ہے، یعنی ایسا اقدام جس کے ذریعے کسی حلقے کو اس کے منطقی حق سے زیادہ دے کر اس کے اعتماد کو جیتا جائے(اس کی ایک بہت اچھی مثال ہمارے موجودہ آئینی نظام سے دی جاسکتی ہے جس میں خواتین کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں عام انتخابات میں کھڑے ہونے کے حق کے باوجود اضافی طور پر سولہ فیصد نشستیں اس لیے دی گئی ہیں کیونکہ پاکستان کے پسماندہ اور مردانہ غلبے کے حامل معاشرے میں خواتین کے لیے عام انتخابات میںاس آزادی کے ساتھ مہم چلانا ممکن نہیں ہے جس آزادی کے ساتھ مرد حضرات اپنی مہم چلا سکتے ہیں)قائداعظم نے سیاسی میدان میں قدم رکھنے کے فوراً بعد ہی سے مسلمانوں کے لیے کسی بھی سیاسی دروبست میں ایک ایسی نمائندگی کی تجویز پیش کی جو ان کو انکی اقلیتی حیثیت کی بنا پرنظر انداز کردیے جانے سے محفوظ رکھ سکے۔ چنانچہ ہندوستان میں مسلمانوں کی تقریباً چوبیس فیصد آبادی کے لیے وہ مرکزی قانون ساز اسمبلی میں تینتیس فیصد نمائندگی کی وکالت کرتے رہے۔

    یہ1914ء کا لکھنو پیکٹ ہو یا 1927ء میں پیش کی جانے والی ’دہلی مسلم تجاویز‘ ، قائداعظم کے چودہ نکات ہوں یا لندن کی گول میز کانفرنس کے اجلاسوں میں پیش کردہ دلائل ، یا پھر بعد کے برسوں میں سامنے آنے والے سیاسی فارمولے ، کم و بیش ان تمام مراحل میں قائداعظم کی جانب سے مسلمانوں کے لیے ایک ایسی نمائندگی کے تناسب کی وکالت کی گئی جو ان کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرسکتی۔ انہوں نے پہلے مسلمانوں کو ایک اقلیت کے طور پر پیش نظر رکھتے ہوئے اس کے سیاسی حقوق کی وکالت کی ۔ اور بعد میں انہوں نے مسلمانوں کے ایک جداگانہ قوم ہونے کا موقف اختیار کیا تاکہ بین الاقوامی قوانین کی رو سے جو حقوق قوموں کو حاصل ہوتے ہیں، ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے بھی ان کی وکالت کی جاسکے۔ لیکن خواہ انہوں نے مسلمانوں کو ایک اقلیت سمجھا ہو یا ایک اگلے مرحلے پر ان کو قوم قرار دیا ہو، قائداعظم کا نکتہ نظر مذہبی منافرت پر مبنی اورفرقہ ورانہ کبھی بھی نہیں رہا۔ ان کے پورے سیاسی کیریئر کو اٹھا کر دیکھ لیں انہوں نے کبھی بھی ہندوؤں کے لیے تحقیر یا تذلیل کا کوئی ایک لفظ بھی استعمال نہیں کیا ۔ تحقیر اور تذلیل تو دور کی بات انہوں نے بارہا اپنی گفتگوؤں میں اور اپنے بیانات میں ان کے لیے احترام کے الفاظ استعمال کیے یہاں تک کہ 7 مارچ 1947ء کو انہوں نے میمن چیمبر میں اظہار خیال کرتے ہوئے یہاں تک کہا کہ:

    ’’ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں عظیم ہندو کمیونٹی اور ان سب کا جس کے وہ علمبردار ہیں،احترام کرتا ہوں۔ ان کا اپنا عقیدہ ہے ۔اپنا فلسفہ ہے ۔ اپنا عظیم کلچر ہے. لیکن دونوں مختلف ہیں. میں ہندوستان کے لیے لڑھ رہا ہوں کیونکہ یہ مسئلے کا واحد حل ہے.

    قائداعظم نے کہا کہ اب تک جو میں سمجھ سکا ہوں دلی میں مسلم لیگ کے حلقے پرامید ہیں.

    غالباً قائداعظم کی اسی سوچ کے پیش نظر مسلم لیگی قیادت نے بلآخر تقسیم بند کے اس منصوبے کو قبول کر لیا جس کا علان آل انڈیا ریڈیو سے نشری تقریروں کے ذریعے کیا گیا. یوں پاکستان کے قیام کی راہ ہموار ہوئ اور 14 اگست 1947ء کو اس کا وجود عمل میں آیا.

  • پاکستان کی کہانی  بقلم :اقرا بنت ظفر

    پاکستان کی کہانی بقلم :اقرا بنت ظفر

    عنوان:
    پاکستان کی کہانی
    [بقلم اقرا بنت ظفر]

    آزادی کا جذبہ موت کے خوف سے سرد نہیں پڑتا_ حریت کی فکر نہ قید کے ڈر سے ختم. ہوتی ہے اور نہ ہی تشدد کا صدمہ آزادی کی تڑپ ختم کرتا ہے_ جس قوم کے جوانوں میں جہاد کے جذبے جواں ہوں ذہن اور ضمیر آزادی کے نغموں سے سرشار ہوں اور جو جوان اپنے لہو سے چراغ روشن کرنے کا شوق پا لیتے ہوں اس قوم کو کبھی غلامی کی زنجیروں میں جکڑا نہیں جا سکتا_
    جو قوم ایسے افراد رکھتی ہو اس کی آزادی کا سورج طلوع ہونے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی تاریخ میں اس کی سب سے بڑی مثال پاکستان کا قیام ہے_
    قیام پاکستان کے دوران پیش آنے والے ان دلخراش واقعات کو پڑھ کر کلیجہ منہ کو آ جاتا ہے اور آنکھوں سے چھم چھم آنسو جاری ہو جاتے ہیں_ یہ پاکستان کیسے بنا تھا؟ اور کیا ہو رہا ہے پاکستان میں؟ آج پاکستان میں جو کلچر فروغ پا رہا ہے یا پاکستان کو جس ڈگر پر چلانے کیلئے حکومتی تگ و دو جاری ہے، کیا یہ قربانیاں اس لیے دی گئی تھیں کہ کنجروں اور میراثیوں کا راج ہو اور وہ اس پاک دھرتی پر مٹک مٹک ناچیں اور گائیں_
    پاکستان بننے کے بعد ہم نے شہداء کی قربانیوں کو فراموش کیا ہی نہیں بلکہ حصولِ مقصد بھی بھلا دیا اس کے ساتھ ساتھ ان کروڑوں مسلمانوں کو بھی یکسر بھلا دیا جنہوں نے پاکستان کے قیام کے لئے ان گنت قربانیاں دیں_
    قیامِ پاکستان کے دوران پیش آنے والے دلخراش واقعات میں سے میں یہاں چند ایک کا ذکر کروں گی کہ پاکستان کی طرف ہجرت کرنے والوں کو کیسے، مشکلات پیش رہیں لیکن ان مشکلات کے باوجود وہ ڈگمگائے نہیں_

    1️⃣ مسجد میں عصمت دری:
    مسجد رنگریزا ںشہر کی اہم ترین دینی درس گاہ تھی اور اس میں نہایت مشکل دنوں اور سخت نامناسب حالات میں بھی پانچ وقت اذان کی ایمان افروز صدا بلند ہوتی تھی، ہر صبح قرآن مجید کا درس ہوتا تھا_ طالب علم دینی تعلیم میں دن رات مشغول رہتے تھے اور شب و روز وعظ و کلام، درس و تدریس اور رشد و ہدایت کے چشمے بہتے تھے، لیکن پاکستان کی صبحِ آزادی اس محلے کے لوگوں کے لیے شبِ قیامت ثابت ہوئی_ عید سے 3 دن پہلے رمضان المبارک کے 27 ویں روز ریاستی اور گورکھا فوج نے مقامی ہندو اور سکھ بھیڑیوں کی نشاندہی پر اس مسجد پر ہلہ بول دیا_ سنگین حالات کی وجہ سے محلے کی تمام عورتوں نے غنڈوں اور اکالی درندوں کے متوقع حملے کے پیشِ نظر اس مسجد میں پناہ لے رکھی تھی اور ان کے تمام رشتہ دار مرد قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے_ ان لعینوں نے نہ صرف تمام مسلمانوں کو بےدردی سے تہ تیغ کر دیا بلکہ قرآن مجید کے مقدس نسخوں کی بےحرمتی بھی کی_ مسجد میں موجود عورتوں نے جن میں نوجوان لڑکیوں کی کثرت تھی مسجد کے ملحقہ کنوئیں میں چھلانگیں لگا کر اپنی آبرو بچائی_ مگر اس اچانک حملے کی وجہ سے جو لڑکیاں کنوئیں تک نہ پہنچ سکیں ان بیچاریوں کے ساتھ مسجد کے اندر انتہائی ظالمانہ سلوک کیا گیا_ فسادی ان کی عزتیں لوٹنے کے بعد لاشوں کو برہنہ حالت میں چھوڑ کر چلے گئے_

    2️⃣ ہندو ہو جاؤ تو بچ جاؤ گے:
    کپورتھلہ کے نزدیک شیخوپورہ نامی قصبے پر ہندوؤں اور سکھوں کا جتھا حملہ آور ہوا تھا انہوں نے قصبے کی ساری مسلمان آبادی کو اٹھا کر گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا_ ہزاروں مسلمان تہ تیغ کر دیے گئے_ اس قصبے کے چوہدری کو ظالم ہندو اور سکھ کرپانوں سے ڈراتے رہے کہ اگر ہندو ہو جاؤ تو بچ جاؤ گے……. لیکن چوہدری نے اپنا دین چھوڑنے سے انکار کیا تو انھیں وحشیانہ طور پر شہید کر دیا گیا_
    ایسے ہزاروں واقعات ہیں جن کو پڑھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے_
    اس وطن کو حاصل کرنے کے لیے کتنے لوگوں نے قربانیاں دیں لیکن ہم ان سب کو بھلائے بیٹھے ہیں_ یہ صرف وہی درد محسوس کر سکتا ہے جس نے پاکستان کو بنتے دیکھا ہے، اپنے پیارے گنوائے ہیں_
    اللّٰہ ہمارے پیارے وطن پاکستان کو اپنے حفظ و امان میں رکھے _
    آمین یا رب العالمین

  • ابھی کشمیر باقی ہے  بقلم:زینب بنت ابو عدیل

    ابھی کشمیر باقی ہے بقلم:زینب بنت ابو عدیل

    عنوان :
    ابھی کشمیر باقی ہے۔

    بقلم [زینب بنت ابو عدیلؒ]

    کشمیر 1947ء میں پاکستان کے حصے میں آیا ۔لیکن اس پر بھارت نے قبضہ کر لیا ۔وادی کشمیر پہاڑوں کے دامن میں کئی دریاؤں سے زرخیز ہونے والی سرزمین ہے ۔ یہ اپنی قدرتی حسن کی وجہ سے زمین پر جنت تصور کی جاتی ہے

    قدرت کا کرشمہ ہے یہ میرا کشمیر
    آؤ دوزخ میں ڈوبی ہوئی جنت دیکھو
    کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازعے کی اہم ترین وجہ ہے ۔دونوں ممالک کشمیر پر تین جنگیں لڑ چکے ہیں ۔جن میں 1947ءکی جنگ 1965ءکی جنگ اور 1999ء کی کارگل کی جنگ ہے
    16 مارچ 1846ء میں انگریز نے 75 لاکھ کے عوض کشمیر گلاب سنگھ ڈوگرہ کو فروخت کردیا ۔
    جب 1925ء میں امر سنگھ کا بیٹا ہری سنگھ سازش سے جانشین بنا تو اسے قادیانی حمایت حاصل تھی ۔قادیانی کشمیر میں الگ ریاست چاہتے تھے ۔اس کے دور میں کشمیری مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ٹوٹ گئے ۔
    1931ءمیں پہلی مسجد ریاسی میں شہید ہوئی ۔کوٹلی میں پہلی مرتبہ نماز جمعہ پر پابندی لگائی گئی ۔ایک کانسٹیبل نے قرآن کی بے حرمتی کی ۔عبدالقدیر نامی مسلمان نے بے مثال احتجاجی جلسے کیے جو کہ گرفتار ہوگیا ۔اور پھر مسلمانوں کا قتل عام شروع ہوگیا 13 جولائی کو شہدائے کشمیر ڈے اسی قتل عام کی یاد میں منایا جاتا ہے۔
    1947ءمیں ہندوستان کی تقسیم کے وقت تمام ریاستوں کو اختیار دیا گیا کہ وہ پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک سے الحاق کرلے ۔ کشمیر مسلم اکثریتی ریاستیں تھی۔ عوام نے پاکستان کے ساتھ الحاق چاہا لیکن ہندو مہاراجہ نے بھارت سے الحاق کر لیا ۔ ہندو مہا راجا کے الحاق کا جواز بنا کر بھارت نے اپنی فوج کشمیر میں داخل کرلیں ۔
    دوسری طرف مجاہدین نے بہت سے علاقے ہندو مہاراجہ کے قبضے سے چھڑوا لئے ۔ جن میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر شامل ہیں
    بعد میں کشمیر کا فیصلہ اقوام متحدہ میں لایا گیا ۔جہاں ایک کمیشن کے ذریعے کشمیر میں استصواب رائے کا فیصلہ کیا گیا ۔جس کو بھارت کے
    وزیراعظم نے بھی تسلیم کیا اور پاکستان نے بھی تسلیم کیا لیکن بات میں بھارت اس وعدے سے مکر گیا جب کشمیری عوام نے پاکستان کے ساتھ الحاق چاہا ۔بھارت کے کشمیر پر غاصبانہ فیصلے کو کشمیری عوام نے کبھی تسلیم نہیں کیا ۔اور اب تک لاکھوں کشمیر شہید ہوچکے ہیں اور مسلسل قابض بھارتی افواج کی بربریت کا شکار ہیں۔
    جنت نظیر وادیِ کشمیر کو ایک فوجی چھاؤنی اور بارود کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا گیا جبکہ کشمیراور کشمیری عوام محکومی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں- بھارتی فوج نے کشمیر یوں کی نسل کشی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی -مگر نادان بھارتی حکمران سمجھتے ہیں کہ وہ کشمیر ی مسلمانوں کے جذبۂ حق حریت کو ختم کر سکتا ہے تو یہ ان کی غلط فہمی ہے کیونکہ حق کبھی مٹا ہے نہ مٹے گا –
    کشمیر ی جدوجہد بھارتی مظالم کے باوجود زندہ اور پر جوش رہے گی کیونکہ ان کو علامہ اقبال کا درج ذیل درس یاد ہے….
    جِس خاک کے ضمیر میں ہو آتشِ چنار
    ممکن نہیں کہ سرد ہو وہ خاکِ ارجمند
    کشمیری نوجوان اپنا خون دے کر، سہاگنیں اپنا سہاگ ، بہنیں اپنے بھائی،مائیں اپنے لختِ جگر،باپ اپنے بڑھاپے کا سہارا قربان کر کے اِس جدوجہد کو زندہ رکھے ہوئے ہیں
    نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گو اے ہندوستاں والوں
    تمھاری داستان تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں
    کشمیر کے تمام دریائوں کا رخ پاکستان کی طرف اور تمام راستے بھی پاکستان کی طرف جاتے ہیں جبکہ بھارت کی طرف بڑی مشکل سے جاتے ہے 90فیصد سے زائد مسلمان ہی رہتے ہیں اور ان کی غالب اکثریت بھی ہمیشہ پاکستان سے ہی الحاق کے لیے سر گرم رہی ہے اس لحاظ سے کشمیر اور پاکستان کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور انہیں کسی طرح بھی الگ نہیں کیا جا سکتا ۔ کشمیر پاکستان کی روح ہے ۔
    کشمیریوں کو اب گولی و بارود کی آگ سے نکالنا ہو گا تاکہ وہ بھی دوسرے انسانوں کی طرح اپنی جائے پیدائش، وادیِ کشمیر کی تازہ و صحت مند ہوا میں زندگی بسر کر سکیں۔ (آمین )

  • پاکستان بننا کیوں ضروری تھا؟   بقلم :سمیرہ حق نواز

    پاکستان بننا کیوں ضروری تھا؟ بقلم :سمیرہ حق نواز

    پاکستان بننا کیوں ضروری تھا؟

    [بقلم سمیرہ حق نواز]

    نظریہ پاکستان کو پاکستان کی بنیاد کہا جائے تو بجا نہ ہو گا نظریہ پاکستان دراصل پاکستان کا دوسرا نام ہے جس کا مقصد ایک ایسی ریاست کی تشکیل تھی جس کی بنیاد اسلامی اصولوں کے مطابق ہو نظریہ پاکستان سے مراد وہ عقلی عمل اور آزاد سوچ ہے جس نے قیام پاکستان کی راہیں ہموار کیں اس کی بنیاد مسلمانوں کا علیحدہ تشخص، علیحدہ قومیت اسلامی تعلیمات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر قائم ہوا پاکستان کے نظریہ کی اساس دین اسلام ہے جو مسلمانوں کی زندگیوں کی تمام شعبوں میں راہنمائی کرتاہے اسلامی نظام قرآن پاک پر استوار ہوا یہی نظام ہمارے پیارے وطن کی بنیاد بنا نظریہ پاکستان ہی وہ نظریہ ہے جس کو قومیت بنا کر مسلمانوں نے الگ مقصد کی تشکیل دی برصغیر میں مسلمان انگریز دور حکومت میں دوسری اقوام کے ساتھ غلامی کی زندگی بسر کر رہے تھے وہ آزاد اور خودمختار حثیت چاہتے تھے انگریزوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے بعد بھی ان کو اپنا مقصد نا کام ہوتا نظر آ رہا تھا مسلمانوں نے بڑی غور وفکر کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ ان کو ایک الگ مسلم مملکت چائیے جہاں مسلمان اکثریت میں ہو اور دین اسلام کو رائج کر سکیں یہ سوچ رفتہ رفتہ مضبوط ہوئی جو قیام پاکستان کی وجہ بنی

    دو قومی نظریے سے مراد برصغیر میں دو قومیں آ باد ہیں ایک مسلمان اور دوسری ہندو قوم ان کے رہن سہن، رسم ورواج،زبان ،ثقافت اور سب سے بڑ کر مذہب الگ ہے
    قائد اعظم دو قومی نظریے کے سب سے بڑے علمبردار رہے آپ نے نہ صرف آل انڈیا کانگریس کے تاحیات صدر بننے کی پیشکش کو مسترد کیا بلکہ بہت سے بڑے علماء دیوبند اور مسلم نیشنلسٹ کے راہنماؤں کی مخالفت بھی مول لی مگر دو قومی نظریے کی صداقت پر کوئی آنچ نہ آنے دی آپ نے پاکستان کا مقدمہ دو قومی نظریے کی بنیاد پر لڑا۔ 1930 خطبہ آلہ آباد کے مقام پر آل انڈیا مسلم لیگ کے اکیسویں سالانہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے علامہ اقبال نے دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہندوستان میں الگ مملکت کی پیش گوئی کی دوسری گول میز کانفرنس میں شرکت کے دوران آپ نے قائد اعظم سے کئی ملاقاتیں کی جن کا مقصد دو قومی نظریے کی بنیاد پر مسلمانان ہند کے لیے الگ مملکت کا کوئی حل سوچنا تھا 1936۔1938 میں آپ نے قائد کو کئی مقطوبات بھیجے جن میں دو قومی نظریے کا عکس صاف نظر آتا ہے ، حضرت مجدد الف ثانی،شاہ ولی اللہ، سر سید احمد خان جیسی عظیم ہستیوں نے اس پودے کی آبیاری کی
    برصغیر پاک و ہند میں مسلمان ایک حقیر قوم جانی جاتی تھی جن کو کوئی سیاسی، سماجی، معاشی، معاشرتی حقوق حاصل نہ تھے وہ ظلم و جبر کے سائے میں سانس لے رہے تھے زندگیوں کو کھٹن ترین مسائل کا سامنا تھا مسلمان برصغیر میں بلکل مفلوج قوم بن کر رہ گئی جن کے ہر طرح کے حقوق سلب کر لیے گئے ووٹ ڈالنے کا حق بھی چھین لیا گیا مسلمانوں پر تعلیم کے دروازے بند کر دیئے گئے ان کی جائیداد یں ضبط کر لی گئیں اور کبھی انگریزوں کو بطور انعام دے دی جاتیں مسلمان ہر طرح کی پابندیوں میں جھکڑ کر رہ گئے برصغیر میں ہندوانہ رسم و رواج رائج کر دیئے گئے مسلمانوں کو عبادات سے بھی محروم کر دیا گیا وہ اپنی مرضی سے اسلامی اصولوں سے عبادت سے بھی محروم ہو گئے مسلمانوں کو کسی قسم کا تحفظ حاصل نہیں تھا مسلمان مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئے ان سب مظالم اور جبر کی بنا پر مسلمان کمزور سے کمزور قوم بنتی گئی مسلمانوں کو ابتدائی حقوق بھی حاصل نہ تھے اور اسلامی نظام کا قیام تو بہت دور کی بات مسلمان کسی طور پر بھی محفوظ نہ تھے مسلمانوں کے عہدے مکمل پامالی کی جانب گامزن تھے ان کی جائیدادیں گروی رکھ کر ہڑپ کر لی جاتیں مسلمانوں کو کسی قسم کے اختیارات حاصل نہ تھے مختصر یہ کہ مسلمان معاشی، معاشرتی اور مالی طور پر استحکام کا شکار ہو گئے کاروبار تباہی ہو گئے مسلمان قوم تباہی کے کنارے کھڑے ہو گئے وہ بلکل کمزور اور لاچار قوم بن گئی
    یہ حالات مدنظر رکھتے ہوئے قائد اعظم کو مسلمانوں کے حالات قابلِ رحم لگے 1913 میں آخر کار قائد اعظم نے آل انڈیا کانگریس کو چھوڑ کر مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی مسلمانوں کے لیے الگ وطن کے حصول کے لیے جدو جہد شروع کر دی مسلمانوں کی اتنی سنگین صورتحال دیکھتے ہوئے قائد اعظم نے اپنی صحت کو ملحوظِ خاطر میں نہ لاتے ہوئے دن رات مسلمانوں کے لیے ایک الگ مملکت کے حصول کے لیے کوشاں رہے کیوں قائد اعظم محمد علی جناح جانتے تھے کہ برصغیر پاک و ہند میں دو قومیں آباد ہیں دونوں کے رہن سہن، رسم ورواج، اور سب سے بڑ کر مذہب الگ ہے وہ کسی صورت بھی اکھٹی نہیں رہ سکتیں مسلمانوں کو ایک الگ مملکت کی ضرورت ہے اور ہمیشہ رہے گی جہاں پر وہ اپنے دین و اسلام کی مکمل پیروی کرتے ہوئے زندگی بسر کر سکیں اور مسلمانوں کو ان کے تمام تر حقوق ملنے چائیے جو کہ برصغیر میں رہتے ہوئے ممکن نہ تھا۔

  • ملتان کےگدی نشینوں کا کردار  بقلم: عبدالرحمن ثاقب سکھر

    ملتان کےگدی نشینوں کا کردار بقلم: عبدالرحمن ثاقب سکھر

    #ملتان کےگدی نشینوں کا_کردار

    بقلم:- #عبدالرحمن ثاقب سکھر

    شاھ محمود قریشی وزیر خارجہ نے بڑی محنت شاقہ کے بعد پاکستان کو اپنے دیرینہ اور محسن دوست سعودی عرب سے بالآخر دور کردیا۔ موجودہ حکومت نے جہاں دیگر شعبوں میں ناکامی کے جھنڈے گاڑے ملکی معیشت کو تباہ کیا عوام کی زندگی اجیرن بنا دی وہاں پر خارجہ کے محاذ پر بھی پاکستان دوستوں سے دور ہو رہا ہے اور وہ دوست ممالک جہاں پر ہمارے لاکھوں شہری بسلسلہ روزگار مقیم ہیں اور ماہانہ کروڑوں روپے ہمیں زرمبادلہ بھیجتے ہیں۔ یہ وہ محسن ملک ہیں جنہوں نے ہر مشکل گھڑی میں ہمارے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے رہے۔ ہمارا ایٹمی پروگرام، 1965, 1971 کی جنگیں، ایف 16 سولہ طیاروں کی خریداری، 1998 میں ایٹمی دھماکے،2005 کا تباہ کن زلزلہ، 2010 کا قیامت خیز سیلاب یا ہمارا خالی خزانہ بھرنے کی بات ہو سعودی عرب نے ہمیشہ بڑے بھائی کا کردار ادا کیا ہے۔
    شاہ محمود قریشی نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ وہ اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان رہیں۔ نیازی حکومت میں قریشی صاحب نے جو کردار ادا کیا ہے وہ تاریخ کا حصہ رہے گا اور آنے والی نسلیں یاد کریں گی کہ ہمارے وزیر خارجہ نے کس طرح سے کمال مہارت سے پاکستان کو مخلص دوستوں سے دور کیا۔
    معروف دانشور اور کالم نگار جناب خالد مسعود خان نے اپنے ایک کالم” تصوف کی آفاقی قدریں ” میں بیان کیا ہے، گویا حقائق سے پردہ اٹھایا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
    10جون 1857 کو ملتان چھاؤنی میں پلاٹون نمبر 69 جو بغاوت کے شبہے میں نہتا کیاگیا اور پلاٹون کے کمانڈر کو مع دس سپاہیوں کے توپ کے آگے رکھ کر اڑا دیا گیا۔ آخر جون میں بقیہ نہتی پلاٹون کو شبہ ہوا کہ انہیں چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں فارغ کیا جائے گا اور انہیں تھوڑا تھوڑا کرکے تہ تیغ کیا جائے گا۔ سپاہیوں نے بغاوت کردی تقریباً بارہ سو سپاہیوں نے بغاوت کا علم بلند کیا۔ انگریزوں کے خلاف بغاوت کرنے والے مجاہدین کو شہر اور چھاؤنی کے درمیان واقع پل شوالہ پر دربار بہاوالدین زکریا کے سجادہ نشین مخدوم شاہ محمود قریشی نے انگریزی فوج کی قیادت میں اپنے مریدوں کے ہمراہ گھیرے میں لے لیا اور تین سو کے لگ بھگ نہتے مجاہدین کو شہید کر دیا۔ یہ مخدومشاہ محمود قریشی ہمارے موجودہ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کے لگڑدادا تھے۔ ان کا نام انہی کے حوالے سے رکھا گیا تھا۔ کچھ باغی دریائے چناب کے کنارے شہر سے باہر نکل رہے تھے کہ انہیں دربار شیرشاہ کے سجادہ نشین مخدوم شاہ علی محمد نے اپنے مریدوں کے ہمراہ گھیر لیا اور ان کا قتل عام کیا۔ مجاہدین نے اس قتل عام سے بچنے کے لیے دریا میں چھلانگیں لگا دیں ۔ کچھ لوگ دریا میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے۔ اور کچھ پار پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ پار پہنچ جانے والوں کو سیدسلطان احمد قتال بخآری کے سجادہ نشین دیوان آف جلال پور پیر والا نے اپنے مریدوں کی مدد سے شہید کردیا۔ جلال پور پیر والا کے موجودہ ایم این اے دیوان عاشق بخاری انہی کی آل اولاد میں سے ہیں۔ مجاہدین کی ایک ٹولی شمال میں حویلی کورنگا کی طرف نکل گئی جسے مہر شاہ آف حویلی کورنگا نے اپنے مریدوں اور لنگڑیال، ہراج، سرگانہ، ترگڑ سرداروں کے ہمراہ گھیر لیا اور چن چن کر شہید کیا۔ مہر شاہ آف حویلی کورنگا سید فخر امام کے پڑدادا کا سگا بھائی تھا۔ اسے اس قتل عام میں فی مجاہد شہید کرنے پر بیس روپئے نقد یا ایک مربع اراضی عطاء کی گئی۔ مخدوم شاہ محمود قریشی کو 1857 کی جنگ آزادی کے کچلنے میں انگریزوں کی مدد کے عوض مبلغ تین ہزار روپے نقد، جاگیر سالانہ معاوضہ، مبلغ ایک ہزار سات سو اسی روپے اور آٹھ چاہات (کنویں) جن کی سالانہ جمع ساڑھے پانچ سو روپے تھی بطور معافی دوام عطا ہوئی۔ مزید یہ کہ 1860 میں وائسرائے ہند نے بیگی والا باغ عطا کیا۔ مخدوم آف شیرشاہ علی محمد کو دریائے چناب کے کنارے مجاہدین کو شہید کرنے کے عوض وسیع جاگیر عطا کی گئی۔
    ( ماخوذ از ( تحریک پاکستان میں علماء اہل حدیث کا کردار صفحہ نمبر 28 )
    جس کو جاگیر غداری کے صلہ میں ملی ہو وہ اپنے ملک و قوم سے وفا کس طرح سے کرسکتا ہے۔ قوم کو یکسو ہو کر سوچنا چاہیے کہ کس طرح سے یکا یک ایک دیرینہ دوست ہم سے روٹھ گیا اس کا سبب کیا ہے؟
    اور اس وقت جس طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے سترسالہ تاریخ میں اس کا کردار کیا ہے؟
    ایرانی بلاک میں شامل ہوا جارہا ہے جس ایران نے ہمیشہ سے پاکستان سے دشمنی کا کھلے بندوں ثبوت دیا ہے۔ بلکہ اس کے سارے تجارتی اور جنگی معاہدے بھارت کے ساتھ ہیں۔ اس ایران نے ہمیشہ سے پاکستان میں تخریبی کاروائی کرنے والوں کی پشت پناہی کی۔ اور کلبھوشن یادیو جیسے دہشت گردوں کو اپنے ویزوں پر پاکستان بھیجا تاکہ وہ پاکستان میں خون کی ہولی کھیلیں۔
    اب ہمیں دوست اور دشمن کی تمییز کرنا ہوگی۔
    اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ آمین