Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • پی ٹی وی ارطغرل یوٹیوب چینل پر ویڈیو ویوز کی تعداد ایک ارب سے تجاوز کر گئی

    پی ٹی وی ارطغرل یوٹیوب چینل پر ویڈیو ویوز کی تعداد ایک ارب سے تجاوز کر گئی

    مسلمانوں کی اسلامی فتوحات پر مشتمل تُرک سیریز ارطغرل غازی کی مقبولیت میں مزید اضافہ، ایک اور سنگ میل عبور ہو گیا ،اطلاعات کےمطابق ارطغرل پی ٹی وی نے یوٹیوب چینل پر ایک اور سنگ میل عبور کر لی پی ٹی وی ارطغرل یوٹیوب چینل پر ویڈیو ویوز کی تعداد ایک ارب سے تجاوز کر گئی-

    باغی ٹی وی :(ساوتھ ایشین وائر)گزشتہ سال دسمبر 2019 میں پی ٹی وی نے وزیر اعظم عمران خان کی ہدایات کے بعد مسلمانوں کی فتوحات کی کہانی پر مبنی شہرہ آفاق ترکش ڈرامے دیریلیش ارطغرل کی اردو ڈبنگ کا آغاز کیا تھا۔

    دنیا کے متعدد ممالک میں نشر ہونے کے بعد اب یہ پاکستان ٹیلی ویژن پریکم رمضان سے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر نشر کیا جارہا ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق بتایا گیا تھا کہ پی ٹی وی نے معروف ڈرامے دیریلیش ارطغرل کے اردو ترجمے کے بعد ایک اعلی مہارتی ٹیم کے ساتھ اس کی ڈبنگ شروع کی اور اسے پی ٹی وی پر نشر کرنا شروع کر دیا جس کے نشر ہوتے ہی اس ترک ڈرامے نے کئی ریکارڈ بنا ڈالے۔

    پاکستان میں کئی سالوں سے مختلف ڈراموں کو اردو ڈبنگ کے ساتھ چینلز پر نشر کیا جارہا ہے مگر جو مقبولیت ترک مسلمانوں کی تیرہویں صدی میں اسلامی فتوحات پر مبنی ترکش ڈرامہ سیریل ’’ارطغرل غازی‘‘ جسے ترکی کا گیم آف تھرونز بھی کہا جاتا ہے کو ملی اس کی مثال نہیں ملتی۔ اسے دنیا کے کم و بیش ساٹھ ( 60 ) ممالک میں ڈب کر کے دکھایا گیا لیکن پاکستان میں اسے بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی ہے اور اس ڈرامے نے ایک کے بعد ایک ریکارڈ اپنے نام کئے ہیں-

    تاہم اب بھی اس ڈرامے نے ایک اور ریکارڈ اپنے نام کر لیا ہے کہ پی ٹی وی ارطغرل یوٹیوب چینل پر ویڈیو ویوز کی تعداد ایک ارب سے تجاوز کر گئی ہے ایسا اعزاز شاید ہی کبھی کسی اور ڈرامے کے حصے میں آیا ہو-

    اس موقع پر پی ٹی وی نے ارطغرل کے شائقین کے لئے ایک بڑی خوشخبری کا اعلان کیا ہے کہ اب پی ٹی وی ہوم پر ارطغرل ڈرامہ ہر جمعہ ہفتہ اور اتوار کو شام 7:55 پر نشر کیا جائے گا-

    ارطغرل کی دنیا بھر میں کامیابی کا ندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسے دنیا کے ایک سو چھالیس ( 146 ) ممالک سے نہ صرف ناظرین کی توجہ حاصل کی بلکہ وہاں ڈراموں کی دنیا کا بے تاج بادشاہ بھی قرار پایا۔

    یورپ، مڈل ایسٹ، افریقہ اور یورپ سے 700 ملین ناظرین کو اپنے سحر میں گرفتار کرنے والا ڈراما غازی ارطغرل آذربائیجان، ترکمانستان، قازقستان، ازبکستان، البانیہ، پولینڈ، سربیا، بوسنیا، ہزروگوینا، ہنگری اور یونان میں ریکارڈ توڑنے کے بعد اب پاکستان میں بھی یکم رمضان سے پی ٹی وی پر نشر کیا جا رہا ہے-

    یہ وہ ڈرامہ ہے جس نے مسلمانوں کو ان کے حقیقی ہیروز سے متعارف کرایا ہے۔ یہ وہ ڈرامہ ہے جس کے بارے میں رجب طیب اردگان نے کہا ”جب تک شیر اپنی تاریخ خود نہیں لکھیں گے ان کے شکاری ہی ہیرو ٹھہریں گے“ اور ”ہم اسلامی تاریخ اس طرح لکھیں گے جس طرح وہ تھی“ اور جب یہ اسلامی تاریخ ارطغرل نامی ڈرامے کے ذریعے دنیا کی دکھائی تو لوگ اسلام قبول کرنے لگے۔ یہ وہی ڈرامہ ہے جس نے اغیار کی ان کوششوں پر پانی پھیر دیا جو اسلام کے سنہری ماضی کو داغدار کرنے میں صرف کی گئی تھیں۔

    ’’ارطغرل غازی‘‘ اپنی کہانی، تیاری اور اداکاری کے لحاظ سے ایک شاہکار ڈرامہ ہے اس کی پروڈکشن اس کا پلاٹ اداکاری ہر چیز بہت ہی شاندار ہے یہ ڈرامہ ایک ایسے خانہ بدوش قبیلے کی کہانی بیان کرتا ہے جو موسموں کی شدت کے ساتھ ساتھ منگولوں اور صلیبیوں کے نشانے پر ہوتا ہے۔

    واضح رہے کہ دیریلیش ارطغرل‘ ڈرامے کی کہانی 13 ویں صدی میں ’سلطنت عثمانیہ‘ کے قیام سے قبل کی کہانی ہے اور اس ڈرامے کی مرکزی کہانی ’ارطغرل‘ نامی بہادر مسلمان سپہ سالار کے گرد گھومتی ہے جنہیں ’ارطغرل غازی‘ بھی کہا جاتا ہے ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح 13 ویں صدی میں ترک سپہ سالار ارطغرل نے منگولوں، صلیبیوں اور ظالموں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور کس طرح اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا۔ڈرامے میں سلطنت عثمانیہ سے قبل کی ارطغرل کی حکمرانی، بہادری اور محبت کو دکھایا گیا ہے

    ارطغرل ڈرامے کی کی مقبولیت میں مزید اضافہ، ایک اور سنگ میل عبور ہو گیا

    وزیر اعظم کے چہیتے افراد ارطغرل ڈرامے کے نام پر پی ٹی وی کولوٹ رہے ، یوٹیوب چینل…

    ارطغرل اردو کی بڑی کامیابی، دنیا میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والے چینلز میں تینتیسویں نمبر پر آگیا

    ’’ارطغرل غازی‘‘ میں مرکزی کردار ادا کرنے والے ’’ارطغرل‘‘ کون ہیں ؟

  • صبا قمر کی مسجد میں گانے کی شوٹنگ نے کس طرح میری زندگی کی سب سے اہم خوشی چھین لی

    صبا قمر کی مسجد میں گانے کی شوٹنگ نے کس طرح میری زندگی کی سب سے اہم خوشی چھین لی

    صبا قمر کی مسجد میں گانے کی شوٹنگ نے کس طرح میری زندگی کی سب سے اہم خوشی چھین لی ؛ اسسٹنٹ کمشنر لاہور محمد مرتضیٰ

    باغی ٹی وی : دو روز قبل سوشل میڈیا پر اداکارہ صبا قمر اور بلال سعید کے گانے کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے گانے کی عکس بندی مسجد وزیرخان میں کی گئی ہے جس میں مسجد کے تقدس کوپامال کیا گیا ہے۔

    گلوکار بلال سعید اور اداکارہ صبا قمر کے نئے گانے قبول ہے کی ویڈیو کی مسجد وزیر خان میں شُوٹنگ اور رقص کی ویڈیو کو سوشل میڈیا پر عوام سمیت معروف شخصیات کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور فنکاروں کے اس اقدام کی شدید مذمت کی جارہی ہے-

    دو روز سے عوام ، مذہبی شخصیات سمیت معروف شخصیات کی جانب سے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے جس کے بعد دونوں فنکاروں نے مسجد میں ویڈیو بنانے کی وضاحت دیتے ہوئےعوام سے معافی بھی مانگی-

    تاہم پھر بھی ان فنکاروں کو معاف نہ کرنے اور ان کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا جاتا رہا یہاں تک کہ گذشتہ روز ٹویٹر پینل پر مسجد سینما نہیں ہے ٹرینڈ پر رہا-

    تاہم اب اسسٹنٹ کمشنر لاہورمحمد مرتضیٰ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے سلسلہ وار ٹوئٹس میں صبا قمر اور بلال سعید کے اس اقدام پر انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صبا قمر کی مسجد میں گانے کی شوٹنگ نے کس طرح میری زندگی کی سب سے اہم خوشی چھین لی-

    محمد مرتضیٰ نے صبا قمر اور میری سچی خوشیاں عنوان سے سلسلہ وار ٹوئٹس کئے-
    https://twitter.com/Mutaraqqi/status/1292584772867371008?s=08
    محمد مرتضی نے کہا کہ میں صبا قمر کو ذاتی طور پر نہیں جانتا ہوں لیکن صبا قمر اور بلال سعید نے حال ہی میں میری زندگی میں ایک اداس (اور جذباتی طور پر تکلیف دہ) کردار ادا کیا ہے۔ انہیں ابھی تک یہ معلوم نہیں ہے۔ لیکن انہیں معلوم ہونا چاہئے۔
    یہ سب 2014 میں شروع ہوا تھا …

    مرتضیٰ نے کہا کہ میں نے پرانے لاہور میں وزیر خان مسجد کا دورہ کیا اور مجھے مسجد کے ساتھ محبت ہو گئی مسجد کا محراب ہے ، خوبصورت رنگوں کا مجموعہ ہے اور یہ لاہوریوں ، روایات اور جدید پاکستان کی تاریخ سے گہری وابستگی ہے۔

    مرتضیٰ نے لکھا کہ میں نے تب خود سے وعدہ کیا تھا کہ اگر ممکن ہوا تو میں اس مسجد میں اپنی نکاح کروں گا۔

    6 سال بعد:ایک عالمی وبائی بیماری نے پاکستانی شادی کی ثقافت کو تبدیل کردیا ہے مجھے فائنل امتحانات کے بعد لاہور میں اسسٹنٹ کمشنر کے طور پر تعینیات کیا گیا ہے اور میں نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا- میرے خوابوں کا پہلا اسٹاپ:وزیر خان مسجد

    محمد مرتضٰی نے بتایا کہ نکاح کی تاریخ طے پا گئی تھی اتوار کی صبح فجر کے بعد وزیر خان مسجد میں اور رسول اللہ کی سنت کے مطابق ہمارا نکاح ہونا تھا میری ہونے والی بیوی کا لباس تیار تھا میرے بھی کپرے تیار تھےفیملی فوٹوگرافر نے ہر چیز کو مینٹین کر رکھا تا
    یہاں تک کہ مہمانوں کو بھی مدعو کرلیا گیا تھا-

    مرتضیٰ نے کہا کہ میرا منصوبہ میرا خواب وزیر اعظم مسجد میں صبح سویرے کی شادی جبکہ اس میں آنے والامسئلہ صبا قمر کا مسجد کے ایک محراب میں ٹک ٹاک ویڈیو بناناتھا جس کے نتیجے میں وزیر خان مسجد میں انتظامیہ نے میری نکاح کی اجازت منسوخ کردی ہے-

    محمد مرتضی نے مزید کہا کہ میرے نکاح سے ایک ہی دن قبل وہی شخص جس نے مسجد کے اندر ڈانس کی ویڈیو کی اجازت دی تھی مجھے فون کرکے کہا کہ وہ اب مسجد کے اندر کسی بھی چیز کی اجازت نہیں دے سکتا کیونکہ اسےتنازعہ پسند نہیں-

    مرتضیٰ نے کہا کہ ان تمام ہفتوں کی محتاط منصوبہ بندی اور سالوں کے خواب دیکھنے کو صرف اس لئے منسوخ کیا جارہا تھا کہ ایک سرکاری نوکر اپنے فرائض کی انجام دہی میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہا تھا اور اب غیر منطقی طور پر ہر چیز پر پابندی عائد کرکے روایتی پاکستانی اندازاپنا رہا ہے۔

    در حقیقت میں اتنا افسردہ تھا کہ میں نے اپنا نکاح منسوخ کردیا سارے مہمان ، سارے انتظامات ، سارا کھانا ، پھول ، بولی حتی کہ میں نے سب کچھ منسوخ کردیا۔لاؤنج میں ایک ہنگامی خاندانی اجلاس / کانفرنس بلائی گئی۔یہ رویت ہلال کی طرح تھا اور میں اس وقت چوہدری فواد بنا بیٹھاتھا-

    آدھی رات کو یہ فیصلہ ہوا کہ نکاح نکاح ہوتاہے وزیر خان مسجد مرکزی ہو یا گھر پر ( لیکن میں اس سے اتفاق نہیں کرتا تھا ، لیکن شادی شدہ زندگی کا پیش خیمہ ہونے کے ناطے ، مجھے نظر انداز کردیا گیا تھا-

    محمد مرتضیٰ نے بتایا کہ طویل کہانی مختصر:گذشتہ روز صبح 10:30 بجے ، اتوار 18 ذی الحجہ ۔ 9 اگست ، 2020 ، اسی گھر کا لاؤنج میں ، جس میں مذکورہ ذکر کیا گیا ہے جہاں خاندانی ہنگامی اجلاس ہوا تھا اور میرے نکاح کا فیصلہ کیا گیا تھا، اس میں ہی میں نے کہا کہ تین بار قبول ہے کہا (لڑکی نے ایسا کیا ، جو زیادہ حیران کن ہے) میں اب سرکاری طور پر ایک شادی شدہ آدمی ہوں۔

    مرتضیٰ نے بتایا کہ یہاں صبا قمر کے تنازعہ کے افسوسناک معاملے کا میری حسب خواہش شادی پر ہونے والے تباہ کن اثرات کا خاتمہ ہوتا ہے۔ مجھے شاید ہی کبھی ان لوگوں پر اتنا غصہ آیا ہو جن سے میں کبھی نہیں ملا ہوں لیکن وہ وزیر خان مسجد کے انچارج! اللہ پوچھے گا آپکو اور صبا کو بھی شائد-

    محمد مرتضیٰ نے اپنی سلسلہ وار ٹویٹس کے آخر مین پیغام دیتے ہوئے لکھا کہ اس خوشی کے موقع پر سرکاری ملازمین کے لئے عوامی خدمت کا پیغام: براہ کرم "ہر چیز پر پابندی عائد کریں” نقطہ نظر کو روکیں۔ یہ حل نہیں ہے۔ ایک گورنمنٹ اور ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے ہمیں سمجھدار اور منطقی ہونے کی ضرورت ہے۔

    کیا روکنا ہے اور کہا نہیں روکنا ہے ؟ جو قانونی اور حلال ہے اسے اجازت دیں-

    آخر میں انہوں نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں-

    مسجد میں گانے کے شوٹ کی اجازت کے تیس ہزار روپے لیے گئے ، نوٹیفیکیشن سامنے آ گیا

    قبول ہے ایک گانا تھا ان کا اصل نکاح نہیں تھا کہ انہوں نے ایک مشہور مسجد کے مذہبی…

    قبول ہے ایک گانا تھا ان کا اصل نکاح نہیں تھا کہ انہوں نے ایک مشہور مسجد کے مذہبی…

    صبا قمر کی مسجد وزیرخان میں ڈانس کی ویڈیو وائرل

    مسجد میں گانے کی ویڈیو پر صبا قمر نے معافی مانگ لی

    مسجد وزیر خان میں ویڈیو پر وضاحت دیتے ہوئے بلال سعید نے معافی مانگ لی

    اداکارہ صبا قمر اور بلال سعید کے خلاف مسجد کی بیحرمتی پر تھانہ مزنگ میں مقدمہ کی درخواست دے دی گئی

  • دونوں بازوؤں سے محروم کرکٹ آل راؤنڈر کشمیری نوجوان کے عزم و ہمت کی  کہانی

    دونوں بازوؤں سے محروم کرکٹ آل راؤنڈر کشمیری نوجوان کے عزم و ہمت کی کہانی

    دونوں بازوؤں سے محروم کرکٹ آل راؤنڈر کشمیری نوجوان محمد عامر کے عزم و ہمت کی کہانی جس نے اپنی زندگی کے بدترین حادثے کے باوجود امید نہیں کھوئی اور اپنی زندگی کا سفر جاری رکھا-

    باغی ٹی وی :کشمیری نوجوان محمد عامر بازوؤں سے محروم ہیں لیکن وہ اپنی ریاستی ٹیم کے کپتان ہیں عامر نے 8 سال کی عمر میں اپنے باپ کی چکی پر ایک حادثے میں اپنے بازوؤں سے محروم ہو گئے تھے ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ ان کے والد اپنا روزگار حاصل کرنے کے لئے کرکٹ بیٹ بناتے تھے-
    https://twitter.com/plalor/status/1292328668425883649?s=08
    لیکن کرکٹ کھیل کے لئے اس کے جذبے نے یہ کھیل کبھی نہیں چھوڑا محمد عامر کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد میرے ساتھ جو بھی بری چیزیں پیش آئیں جن بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اس نے مجھے اپنی زندگی میں آگے بڑھنے اور کچھ الگ کرنے کا قائل کرلیا-

    اپنے بازوؤں سے محروم عمار بولنگ کرسکتا ہے اور اپنے پیروں ، گردن اور منہ کا استعمال کرتے وہ گیند پکڑ سکتا ہے –

    عامر کے اس ایکسیڈینٹ کے بعد اس کے والد کو اس کا علاج کروانے کے لئے اپنی چکی اور زمین بیچنی پڑی لیکن پھر بی ڈاکٹر عامر کے بازوؤں کو بچانے میں ناکام رہے اور ان حالات میں عامر کو معاشرے میں قبول کرنا مشکل معلوم ہوا۔

    ڈاکٹروں نے عامر کے والد کو کہا کہ وہ بیکار ہے اور اس کے والد کو اسے بچانے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہئے تھا۔ 2 ماہ کے بعد جب عامر صحتمند ہو گیا تو اس نے واپس سکول جانا شروع کیا لیکن اساتذہ نے اسے کہا کہ اسے گھر میں ہی رہنا چاہئے کیونکہ تعلیم اس کے لئے نہیں ہے ۔

    عامرخود کفیل ہے اور وہ اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لئے اخروٹ بیچ کر کتابیں خریدتا ہے۔

    عامر کا کہنا ہے کہ میں نے کبھی امید نہیں چھوڑی اور میں نے کبھی شکست قبول نہیں کی۔ میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ میں زندگی میں آگے بڑھتا رہوں گا اور یہی میری خواہش رہی ہے-

    ارطغرل ڈرامے کے معروف کردار دو تلواریں لیا ننھا بمسی سامنے آ گیا

    بدترین معاشی مشکلات کا شکار بلوچ لوک فنکار واسو خان کس حال میں ہیں؟

  • آزادی، ایک انمول تحفہ، ایک داستان خون رنگ  تحریر: زوہیب آصف

    آزادی، ایک انمول تحفہ، ایک داستان خون رنگ تحریر: زوہیب آصف

    آزادی، ایک انمول تحفہ، ایک داستان خون رنگ
    تحریر: زوہیب آصف

    انسان اپنی فطرت سے ایک آزاد مخلوق ہے۔ اور اللہ نے اس کو آزاد پیدا کیا ہے۔ اور اس کی منشا یہی ہے۔ کہ وہ آزاد رہے۔ دیگر مخلوقات میں اسے اعزاز بخشا ہے اور سب سے مکرم ومعزز قرار دیا ہے۔ اس لیے اللہ رب العزت نے مسلمانوں کو ایک الگ ریاست 14 اگست 1947ء کو پاکستان کی صورت میں عنایت فرمائ۔ جس کا آغاز برصغیر پاک وہند میں ہندوؤں کے متعصبانہ رویے سے شروع ہوا اور مسلمانوں نے اپنے حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد شروع کی۔ اللہ نے ان کی جدوجہد کو کامیاب بنا دیا۔ 23 مارچ 1940ء کو قرارداد پاکستان منظور کی اور پھر برصغیر کے مسلمانوں کا الگ ملک کا قیام ایک جنون بن گیا۔ جس کی تکمیل دس لاکھ سے زائد شہیدوں کے لہو سے 14 اگست 1947ء کو ہوئ۔ جس میں ھجرت کے وقت نہ ہی بچوں کو معافی ملی اور نہ ہی بوڑھوں کو معافی ملی۔ بلکہ جو بھی ان ظالموں کے ہاتھ لگ جاتا اس کو نشانہ عبرت بنا دیتے۔

    کیا تم بول گئے ہوں ؟ ہمارے بڑوں نے اس قیام پاکستان کے لیے کیا کیا قربانیاں دی۔ ہندوستان سے مہاجر بن کر آئے ہوئے پاکستانی جس میں دس لاکھ شہیدوں کا خون شامل ہے۔

    (داستان ھجرت۔صفحہ نمبر 40 پر لکھا ہے)
    بلکہ انگریز مورخ ڈاکٹر ٹامس اپنی یاد داشتوں میں لکھتا ہے کہ؛ 1862 سے 1867ء تک کے تین سال ہندوستان کی تاریخ کے بڑے المناک سال تھے۔ ان تین سالوں میں چودہ ہزار علمائے دین کو انگریزوں نے تختہ دار پر لٹکایا۔ ڈاکٹر ٹامس لکھتے ہیں کہ دہلی کی چاندنی چوک سے پشاور تک کوئ درخت ایسا نہ تھا جس پر علماء کی گردنیں لٹکی ہوئ نظر نہ آتی تھیں۔ علماء کو خنزیر کی کھالوں میں بند کر کے جلتے ہوئے تنور میں ڈالا جاتا۔ لاہور کی شاہی مسجد کے صحن میں پھانسی کا پھندا تیار کیا گیا۔ اور انگریزوں نے ایک ایک دن میں 80 ۔80 علماء کو پھانسی پر لٹکایا؛
    یہی انگریز ڈاکٹر ٹامس لکھتا ہے کہ۔ میں دہلی کے ایک خیمے میں ٹہرا تھا کہ مجھے مردار کے جلنے کی بدبو محسوس ہوئی میں نے خیمے کے پہچے جا کر دیکھا کہ آگ کے انگارے دہک رہے ہیں۔ اور ان انگاروں پر چالیس مسلمان علماء کو کپڑے اتار کر ہاتھ پاؤں باندھ کر ڈالا گیا اور میرے سامنے ہی ان کے کپڑے اتار لیے گئے۔ ایک انگریز افسر نے ان کی طرف دیکھ کر کہا: اے مولویو! جس طرح ان کو آگ میں جلا دیا گیا۔ تم کو بھی اس طرح آگ میں جھونک دیا جائے گا۔ اگر تم میں سے کوئ ایک آدمی بھی کہہ دے کہ ہم 1857ء کی جنگ میں شریک نہیں تھے۔ تم کو چھوڑ دیا جائے گا۔ ٹامس کہتا ہے کہ: مجھے پیدا کرنے والے کی قسم! میں نے دیکھا کہ چالیس علماء آگ پر پک گئے اور پھر ان چالیس علماء کو بھی آگ میں جھونک دیا گیا۔ لیکن کسی ایک مسلمان عالم نے بھی انگریزوں کے سامنے گردن نہ جھکائ اور نہ ہی معافی کی درخواست کی۔

    شاعر لکھتا ہے۔
    سر کٹا دیں گے ہم تیرے نام پر
    تیرے اعزاز پر،تیرے پیغام پر
    تیرے اقبال پر، تیرے انعام پر
    جاں لٹا دیں گے دین اسلام پر

    ان لوگوں نے قیام پاکستان کے لیے اپنی جان کو قربان کر دیا۔ پر کس کے سامنے گردن نہی جھکائ۔ ہمیں یہ ملک اتنی آسانی سے عطا نہی ہوا۔ لاکھوں شہداء نے اپنے مقدس لہو اس ارض پاک کے وجود کی خاطر نذر کیا۔ بے شمار خواتین اسلام نے اپنی عصمتوں کے آبگینے پاکستان کی عظمت پر نثار کر دئیے۔
    یہ وہ لوگ تھیں۔
    جن کی امیدیں قلیل تھی۔
    جن کے مقاصد جلیل تھیں۔
    جن کی نگاہ دل فریب تھیں۔
    اور جن کی عدا دل نواز تھی۔

    آئیے میں آپ کو ایک رولا دینے والا واقعہ سناتا ہوں۔

    ہیلو پاپا کہاں ہیں آپ؟؟؟
    گڑیا: میں آفس میں ہوں کیوں کیا ہوا؟؟؟؟
    گڑیا : پاپا آپ جلدی گھر آجائیں مجھے اپنے فرینڈ عامر کے ساتھ 14 اگست کی شاپنگ کرنے جانا ہے گھر کوئی بھی نہیں ہے آپی تو کالج سے ہی اپنے فرینڈ کے ساتھ شاپنگ کرنے چلی گئی ہے مجھے وائٹ شرٹ اور ٹراؤزر لینا ہے تاکہ کل جب میں گال پر دل دل پاکستان لکھواؤں تو جو دیکھے وہ دیکھتا رہ جائے
    پچھلے سال کی طرح اس بار بھی ہم خوب انجوائے کریں گے عامر نے تو 14 اگست کے لیے نئی بائیک بھی لے رکھی ہے
    پاپا : اوکے بیٹا میں آتا ہوں

    سامنے ہاتھ میں گن پکڑے ایک ریٹائرڈ فوجی جو بڑھاپے کی کئی مسافتیں طے کرچکا ہے اسکی نم آنکھوں نے ماڈرن بابو کو حیران ہوکر سوال پوچھنے پر مجبور کردیا کہ بابا جی خیر تو ہے کیا ہوا آپکی آنکھیں نم کیوں ہیں؟؟؟؟
    بابا: صاحب کچھ نہیں مجھے اپنے بچپن کے دن یاد آگئے جب میں نے اپنی بہن سے کہا تھا کہ باجی مجھے بھی جھنڈا چاہیے مجھے بھی جھنڈا لہرانا اور آواز لگانی ہے لے کہ رہینگے پاکستان بن کے رہے گا پاکستان

    صاحب میری بہن چپکے سے اندر گئی اور اپنی سبز قمیض کا دامن پھاڑ کر مجھے کہتی ہے جاؤ بھائی لکڑی کا ڈنڈا لے آؤ پھر میری بہن نے پہلی مرتبہ میرے ہاتھ میں جھنڈا دیا اور میں بہت خوش تھا آج معلوم ہوا کہ وہ خوشی کس بات کی تھی
    وہ خوشی اس بات کی تھی کہ میں نے پاک سرزمین کو اپنی بہن کے دامن سے پہچان دی تھی

    صاحب آپکو معلوم ہے پھر کیا ہوا؟؟؟؟؟؟؟
    ہمارے محلے پر ہندؤں نے حملہ کردیا اور میری بہن کی عزت لوٹ لی اور اسے ساتھ لے گئے دو دن بعد ہمیں اپنی بہن کھیتوں سے ملی تو وہ زہنی توازن کھو بیٹھی تھی اور اسکی زبان پر ایک ہی نعرہ تھا بن کے رہے گا پاکستان ہم لے کے رہیں گے پاکستان
    صاحب میں چھوٹا تھا میں ساری رات اپنی بہن سے لپٹ کر روتا رہا اور رات کو کسی پہر ہمارے ماموں لوگ آئے اور میری بہن کو کہیں لے گئے میں اور میرے چاچو صبح ہونے سے پہلے ہی اپنا گھر چھوڑ چکے تھے میرے ہاتھ میں صرف ایک جھنڈا تھا جسے میرے چاچو نے جب صبح دیکھا تو اسے سینے سے لگا کر بہت رویا اور کہتا رہا کہ تمھاری خاطر ہم نے اپنی بہنوں اور بیٹیوں کی عزتیں لٹوادی ہیں نہ جانے تم ہم سے اور کتنی دردناک قربانیاں لوگے میں سمجھ نہیں پارہا تھا کہ چاچو بار بار اس جھنڈے کو یہ کیوں کہہ رہے تھے کہ تم اور کتنی قربانیاں لو گے

    صاحب میں چاچو سے پوچھتا کہ ہم کہاں جارہے ہیں تو چاچو کہتے معلوم نہیں بیٹا تم بس چلتے رہو اس وقت تک جب تک موت نہیں آجاتی یا پھر ہم اپنے ملک نہیں پہنچ جاتے

    صاحب آج سمجھ آئی کہ میرے چاچو کس ملک کو اپنا ملک کہتے کہتے سفر میں مصروف رہے

    راستے میں بہت لوگ مرے ہوئے تھے ایک مکان میں ہم چھپے ہوئے تھے کہ ایک دودھ پیتا بچہ رونے لگا تو اسکی ماں نے اسکا گلہ گھونٹ دیا تاکہ وہ ہمیں پکڑوا نہ دے
    صاحب ہر طرف لاشیں بچھی تھی اور گدھ اور جانور انھیں کھانے میں مصروف تھے ہم کچھ لوگ رات کو وہیں رک گئے تاکہ اس جگہ رات گزار سکیں اور صاحب معلوم ہے آپکو ساری رات میرے چاچو کیا کرتے رہے؟؟؟؟؟
    ساری رات میرے عورتوں کی لاشوں پر مردوں کے بدن سے کپڑے پھاڑ کر ڈالتے رہے اور روتے رہے اور جاگتے رہے کہ جانور مسلمان ماؤں بہنوں بیٹیوں کی لاشوں کی بے حرمتی نہ کرسکیں اور اسی دوران نہ جانے کب انکی آنکھ لگ گئی وہ تھوڑی دیر ہی سوئے کہ پھر رات کو اٹھ کر سفر شروع کردیا
    جب میرے چاچو اس پاکستان میں پہنچے تو میری بہن کے دامن اور پاکستان کے سادے جھنڈے کو ہر وقت چومتے رہتے تھے یہاں تک کے اس دنیا سے رخصت ہوگئے
    معلوم ہے صاحب کہ ہمارے چاچو کیا کہا کرتے تھے؟؟؟؟
    جب بھی کوئی شخص بھارت کی بات کرتا تو آپ رونے لگ جاتے اور کہتے کہ خدا کے لیے اس ملک کا نام مت لو جس نے پاکستان کی قیمت ہم سے ہماری ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کی عزتیں لوٹ کر وصول کی

    صاحب دیکھو نا جن عزتوں کو بچانے کے لیے ہماری ماؤں اور بہنوں نے کنوؤں میں چھلانگیں لگا دیں انھیں ہماری آج کی بیٹیاں سرعام نیلام کرتی پھر رہی ہیں
    انھیں کون بتائے کہ اس پاکستان کو حاصل کرنے کا مقصد اپنی عزتیں لٹا کر اپنی بیٹیوں کی عزتیں محفوظ کرنا تھا
    کاش میں انھیں اپنی بہن کا پھٹا دامن دکھا پاتا۔

    حضرات محترم۔
    اور دسری طرف ہم ہیں کہ جن کو یہ ملک ایک پلیٹ میں ملا اس لیے اس کی ہمیں قدر نہی۔ جاؤ جاکر کشمیر کے مسلمانوں سے پوچھو۔ برما کے مظلوم انسانوں سے پوچھو۔ فلسطین کے عوام سے پوچھو۔ آزادی کی قدر ان سے پوچھو۔ ہماری 14 اگست تو ناچ گانے میں گزرتی ہے۔ بلکہ ہماری حالت یہ ہے کہ ہم نے اپنی گاڑی پر پرچم پاکستان کا لگایا ہوتا ہے اور گاڑی کے اندر انڈیا کے گانے لگائے ہوتے ہیں۔
    تم تو 14 اگست ناچ کے مناتے ہو۔ تم 14 اگست گا کے مناتے ہو۔ تم 14 اگست ون ویلینگ کر کے مناتے ہو۔ کیا Celebration ہو رہی ہے۔ کہ جس رب نے تمہیں اتنا بڑا تحفہ دیا۔ تم اس رب کی بغاوت کر رہے ہو۔ اللہ کو کیا جواب دو گئے؟ لعنت ہے ایسی آزادی پر کہ جس میں رب ناراض ہو جائے۔
    خضرات! پاکستان محض ایک ملک کا نام نہیں بلکہ ایک عظیم نظریہ کی سر بلندی کا پیغام ہے۔ یہ فقط ایک خطئہ زمین نہیں بلکہ یہاں کا ذرہ ذرہ اسلامی غیرت کا امین ہے۔ یہ صرف ایک ریاست نہیں بلکہ خدائے قدوس کی عظیم امانت ہے۔

    یہ مقدس سر زمین اللہ کا احسان ہے
    اس کی حرمت پر ہماری جان بھی قربان ہے
    ملک وملت کے تحفظ کو یہی اعلان ہے
    سب سے اعلی سب سے پہلے اپنا پاکستان ہے

  • ہے حق ہمارا آزادی ہم لے کے رہیں گےآزادی   ا ز قلم: عظمی ناصر ہاشمی

    ہے حق ہمارا آزادی ہم لے کے رہیں گےآزادی ا ز قلم: عظمی ناصر ہاشمی

    ا ز قلم: عظمی ناصر ہاشمی

    ہے حق ہمارا۔۔۔۔۔آزادی۔۔۔۔۔ہم لے کے رہیں گے۔۔۔۔آزادی
    جلوس آگے آگے بڑھتا جارہا تھا اور اس کی تعداد میں بھی بتدریج اضافہ ہوتا جارہا تھا۔یہ نعرہ ہندوستان کے کونے کونے میں پھیل چکا تھا۔اس مطالبے سے ہندو مسلم فسادات کی آگ بھڑک اٹھی اور آزادی مانگنے والوں پر ظلم کے وہ پہاڑ توڑے گئے جو 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے مسلمانوں پر توڑے بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ۔اس میں انگریز کا ہاتھ تو تھا ہی اور ساتھ ساتھ ہندو اور سکھ بھی اس گھناؤنے جرم میں شامل تھے۔قیام پاکستان کا اعلان ہوا اور انہیں اپنا سارا اسلحہ ہندو حکومت کے سپرد کرنے کا حکم دیا گیا۔ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت مسلمانوں کو نہتے کر کے ہندوؤں اور سکھوں کے ہاتھ میں برچھیاں،بھالے،نیزے،تلواریں،
    بارود کے گولے پکڑا دئیے گئے۔معصوم بچوں، بوڑھوں، جوانوں کا اتنے بڑے پیمانے پر قتل کہ الامان الحفیظ اپنے اوپر کٹی پھٹی،جلی اور مسلہ کی ہوئی لاشیں دیکھ کر زمین کی روح بھی کانپ اٹھی ہوگی۔
    ایسی ہی ایک کہانی سلیم نامی نوجوان کی ہے جو انڈیا کے علاقے میں بہت خوش وخرم رہ رہا تھا۔اس کی بہت بڑی حویلی تھی۔ایک حویلی میں بہت سے خاندان آباد تھے۔نانی،دادی،چچا،تایا،پھپھو وغیرہ۔ان کے پڑوس میں کئی ہندو گھرانے آباد تھے۔جن کے ساتھ ان کے بہت پرانے مراسم تھے۔اس محلے میں ہندو مسلمان آپس میں دوستانہ تعلقات رکھتے تھے۔نجانے مسلمان ان پر اندھا اعتماد کیوں کرتے تھے۔حالانکہ جو اسلام سے نفرت کر سکتے ہیں وہ مسلمانوں سے محبت کیسے کریں گے۔اس بات کا احساس قیام پاکستان کے وقت ہوا جب اچھے بھلے تعلقات رکھنے والے، اپنے آپ کو جگری یار کہنے والے ہندوؤں نے مسلمانوں سے ایسے آنکھیں پھیریں گویا کہ وہ ایک دوسرے کے ازلی دشمن ہوں۔
    جیسے ہی "قیام پاکستان” کا اعلان ہوا اور مسلمانوں کو انڈیا سے پاکستان ہجرت کی اجازت ملی۔ہندوؤں اور سکھوں کو کھلی اجازت مل گئی۔انہوں نے گاوں کے گاوں جلانا شروع کر دیے۔سلیم اور اس کی حویلی کے مکین بھی ہجرت کے لئے تیاری کرنے لگے۔ان کا خیال تھا کہ اس محلے کے ہندو اور سکھ انہیں یہاں سے باآسانی نکلنے دیں گے بلکہ ان کی مدد بھی کریں گے۔انہیں کچھ قافلوں کا انتظار تھا جن کے ساتھ مل کر وہ پاکستان جانے کے لئے روانہ ہونے والے تھے۔دو چار لٹے پٹے خاندان ان کی حویلی میں آئے۔جن کی حالت زار دیکھ کر دل ہول اٹھے۔خالی ہاتھ،بھوکے، پیاسے،زخمی،کسی کے پائوں میں جوتی نہیں۔کسی کے کپڑے پھٹے ہوئے۔کسی کا بچہ سکھوں نے نیزے کی نوک پر رکھ کر ٹکڑے کر دیا۔کسی کی جوان بہن اور بیٹی کو رستے میں ہی ہندو سورماؤں نے زبردستی چھین لیا۔یہ سن کر اور اس حالت میں آنے والوں کو دیکھ کر حویلی والوں کے کلیجے دھک رہ گئے۔وہ سب یہاں سے جلد از جلد نکلنا چاہتے تھے۔لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ ان کے محلے کے ہندوؤں نے سکھوں کے ساتھ مل کر حویلی کا محاصرہ کر لیا۔اس پر حملے کی تیاری کرنے لگے۔باہر جانے کے تمام راستے بند کر دئے گئے۔بچے بھوک و پیاس سے بلبلانے لگے۔بڑی بوڑھیوں نے پریشانی کے عالم میں ہی تھوڑے سے پڑے ہوئے چاول ابالے اور چاروناچار بغیر نمک مرچ اور سالن کے بچوں کے کھلائے اور خود بھی زہر مار کیے۔رات پریشانی کے عالم میں گزری صبح ہندوؤں نے حویلی پر فائرنگ شروع کر دی۔ان کا مطالبہ تھا کہ تمام قیمتی مال اور جوان لڑکیاں ان کے حوالے کر دی جائیں۔یہ مطالبہ کسی قیمت پر منظور نہیں کیا جا سکتا تھا۔ستم یہ کہ مقابلہ کرنے کے لئے حویلی کے مردوں کے پاس کوئی اسلحہ نہ تھا۔سلیم کے تایا غلام حیدر نے باہر نکل کر ان سے رحم کی درخواست کی۔ان میں بہت سے وہ تھے جو غلام حیدر اور اسماعیل کے برسوں پرانے ساتھی تھے۔سلیم اور مجید کے لنگوٹیے یار بھی وہاں موجود تھے۔لیکن وہ سب تو ایسے آنکھیں پھیرے کھڑے تھے جیسے انہیں جانتے ہی نہ ہوں۔حویلی کے مرد نہتے ہی ان سے لڑنے پر مجبور ہو گئے۔اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ تھا۔گھر کی تمام عورتوں نے اپنے آپ کو ایک بڑے کمرے میں بند کر لیا جس کا دروازہ کافی مظبوط تھا۔ایک ایک کر کے حویلی میں موجود آدمی شہید ہونے لگے۔باہر سے اندھا دھند فائرنگ ہونے لگی۔پانچ سال کی ایک معصوم سی بچی حویلی کے صحن میں دیوار کے ساتھ سہمی کھڑی تھی۔کسی نے آواز دی دیوار کے ساتھ لپٹ جاو پھر گولی نہیں لگے گی۔اس نے فوری حکم کی تعمیل کی اور دیوار کی طرف منہ کر کے لپٹ گئی لیکن بارود کا ایک گولہ اس کے پاس آکر پھٹا اور اس کے چیتھڑے اڑگئے۔ظالم لوگ حویلی میں داخل ہو گئے تھے۔وہ سارے کمروں کی تلاشی لے رہے تھے۔جب انہیں مطلوبہ مال نہ ملا تو وہ غصے سے پاگل ہو گئے اور ہر چیز کو آگ لگانے لگے۔ ایک آدمی چھت پر گیا اور جس کمرے میں عورتیں تھیں اس چھت کے بھالوں کو آگ لگا دی اندر کمرے کی چھت سے اگ پھیلنے لگی اور اس میں موجود ساری خواتین جل کر کوئلہ ہو گئیں۔آگ اور دھوئیں میں تکلیف دہ چیخیں آہستہ آہستہ آہستہ آہ و بکا اورسسکیوں میں تبدیل ہو کر جلتی بجھتی راکھ کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئیں۔ برسوں سے اس گاوں کی شاندار اور پررونق حویلی ایک ہی ساعت میں جل کر فنا ہو چکی تھی۔ ہندو سورمے اپنا دل ٹھنڈا کرکے کسی اورمسلمان علاقے پر حملہ کرنے کے لیے جاچکے تھے۔ یہاں سوائے سلیم کے کوئی نہ بچا تھا۔اس نے اپنا رومال زمین پر رکھا اور اس میں اپنے پیاروں کے جلے ہوئے جسموں کی راکھ ڈال کر پوٹلی بنائی پھرٹو ٹو ٹےدل اور نڈھال قدموں کے ساتھ پاکستان جانے والے رستے پر چلنے لگا ۔
    یہ کہانی نسیم حجازی کے ناول ” خاک و خون "میں میں نے چند سال پہلے پڑھی۔انہوں نے اسلام وکفر کے مابین جنگوں پر مبنی بہت سے ناول لکھے ۔ اپنے ناول خاک و خون میں توانہوں نے ہندو مسلم دشمنی اور ہندوؤں سکھوں کے مظالم کو کھول کر بیان کیا
    اس طویل تحریر کا مقصد اہل وطن کے دل و دماغ کو جھنجھوڑ نا ہے۔یہ تو صرف ایک خاندان کی کہانی تھی اس طرح کے ہزاروں خاندان ظلم کی بھینٹ چڑھ گئے ۔کتنے آشیانےاجڑے ۔انڈیا سے پاکستان کا سفربہت طویل نہ تھا لیکن یہ اذیت ناک گھڑیاں مہاجرین کےلیے کسی قیامت سے کم نہ تھیں ۔اس رستے سے آتے آتے کئی بھائیوں نے اپنی بہنوں کو کھو دیا جنہیں ہندو اپنی ملکیت سمجھ کر اٹھا لے گئے۔ کئی بہنوں نے اپنے بھائیوں کے سر تن سے جدا ہوتے دیکھے ۔کئی دلہنوں کے سہاگ اجڑے۔ ماوں سے دودھ پیتے بچے الگ کرکے سکھوں نے اپنے نیزوں میں پرو دیے۔ اس ماں کا کیا حال ہوگا جس کے دو بچوں میں سے ایک کو ساتھ لے جانے کی اجازت ملی تھی کیونکہ لاری میں جگہ ہی نہیں تھی۔ پاکستان آنے والی ایک ٹرین پر بلوایئوں نے حملہ کر دیااور سارے مسافروں کو بے دردی سے شہید کر ڈالا جب ٹرین پاکستان پنہچی تو اس میں خون سے بھرے چیتھڑوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ یہ جھوٹے واقعات نہیں بلکہ حقیقت ہیں ۔ کبھی اپنے بزرگوں کے پاس بیٹھ کر ان سے پوچھیے۔ مگر ہمارے نوجوانوں کے پاس نہ تو ان باتوں کو سوچنے کے لیے وقت ہے اور نہ ہی انہیں تاریخ سے کوئی دلچسپی ۔ اک چھوٹی سی التجا ہےپاکستا میوں بالخصوص نسل نو سے ۔۔۔۔۔۔خدارا اپنے آباو اجداد کی قربانیوں کو یاد رکھیں ۔ یہ جان لیں کہ آزادی ۔خاک اور خون لازم ملزوم ہیں ۔ آزادی کے لیے عشرت کدوں سے نکل کر خاک نشیں ہونا پڑتا ہے۔خون کی ندیاں بہانی پڑتی ہیں ۔اور جب آزادی مل جاتی ہے تو اس کی قدر اور حفاظت کرنی پڑتی ہے۔ وگرنہ کٹھن مرحلوں سے حاصل کی جانے والی آزادی ایک جھٹکے سے غلامی میں بدل جاتی ہے۔ اگر اس کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں تو انفرادی اور اجتماعی طور پر محنت کریں ۔وقت ضائع کرنے کی بجائے فلا حی کام کریں۔اس میں اسلام کی بنیادیں مضبوط کریں ۔ کا فروں سے عملی طور پر نفرت کا اظہار کریں ۔ ملک وقوم کے لیے جان کی بازی لگانے کا عزم رکھیں ۔ اپنی سرحدوں پرکڑی نظر رکھیں تاکہ کوئ دشمن اسے میلی آنکھ سے نہ دیکھ سکے۔آ یے اپنے وطن کے کیے دعا کریں-
    خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
    وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
    یہاں جو پھول کھلے کھلا رہے برسوں
    یہاں خزاں کو بھی گزرنے کی مجال نہ ہو (آمین )

  • مساجد سینما نہیں ہے مساجد کا تقدس پامال کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے ٹویٹر ٹرینڈ ٹاپ پر

    مساجد سینما نہیں ہے مساجد کا تقدس پامال کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے ٹویٹر ٹرینڈ ٹاپ پر

    گذشتہ روز سوشل میڈیا پر اداکارہ صبا قمر اور بلال سعید کے گانے کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے گانے کی عکس بندی مسجد وزیرخان میں کی گئی ہے جس میں مسجد کے تقدس کوپامال کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی :گلوکار بلال سعید اور اداکارہ صبا قمر کے نئے گانے قبول ہے کی ویڈیو کی مسجد وزیر خان میں شُوٹنگ اور رقص کی ویڈیو کو سوشل میڈیا پر عوام سمیت معروف شخصیات کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور فنکاروں کے اس اقدام کی شدید مذمت کی جارہی ہے-

    گذشتہ روز سے عوام ، مذہبی شخصیات سمیت معروف شخصیات کی جانب سے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے جس کے بعد دونوں فنکاروں نے مسجد میں ویڈیو بنانے کی وضاحت دیتے ہوئےعوام سے معافی بھی مانگی ہے-

    تاہم پھر بھی ان فنکاروں کو معاف نہ کرنے اور ان کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے یہاں تک کہ ٹویٹر پینل پر مسجد سینما نہیں ہے ٹرینڈ کر رہا ہے-
    https://twitter.com/RubinaViews/status/1292508865054101506?s=20
    ایک صارف نے قرآن پاک کی آیات کا ترجمہ لکھا تم کہو ، وہ اللہ ہی ہے۔ اللہ ایک ہے ، اللہ بے نیاز ہےنہ اس نے کسی کو جنا اور نہ کسی سے جنا گیا اور نہ ہی کوئی اس کے برابر ہے –


    جنت کھر نامی صارف نے لکھا کہ کیا یہ مدینہ کی ریاست ہے؟ آج کل مساجد میں گانوں کی شوٹنگ ، جوڑے کی فوٹو گرافی اور بہت ساری بہت سی جگہیں ہیں ۔بہترین یہ نہ بھولیں کہ یہ اللہ تعالی کا گھر ہے-


    رانیہ نامی صارف نے لکھا کہ صبا قمر اور بلال سعید کے بارے میں نہیں ہےایک گلوکار اور رقاصہ یہ ان تمام لوگوں کے بارے میں ہے جو صرف شادی کی شوٹنگ کے لئے مسجد جاتے ہیں حکومت کو اس پر پابندی لگانی چاہئے-


    احمد نامی صارف نے لکھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم اسلام کی بنیادی روح اور طاقت سے دور ہو رہے ہیں۔اور ہمیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا اور اسی لئے ہم دنیا میں تنہا اور رسوا ہو رہے ہیں۔


    تاشیر ایڈورٹائزمنٹ نامی اکاؤنٹ سے ٹویت کیا گیا کہ مقدس مقامات پر اس طرح کے بے ہودہ طریقوں پر سختی سے ممانعت کی جانی چاہئے۔ ہمیں اسلام اور اس کی تعلیمات کا احترام کرنا چاہئے۔ ہم مسلمان ہیں۔ اگر ہمیں اس کی پرواہ نہیں ہے تو ہم غیرمسلموں سے کیا توقع کریں گے؟


    محمود ایاز نامی صارف نے مسجد وزیر خان انتظامیہ کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے لکھا کہ مساجد اللہ کا گھر ہیں۔ مساجد کی توہین سے اہل اسلام اور پاکستان کو تکلیف ہوئی ہے۔ اجازت دینے پر انتظامیہ کے خلاف کارروائی کی جائے۔


    محمود ایاز نامی صارف نے ایک اور ٹوئت مین لکھا کہ مساجد ڈراموں اور گانوں کی شوٹنگ ایک مسئلہ بن رہا ہے پہلے فیصل مسجد پھر بادشاہی مسجد اب وزیر خان مسجد میں حکومت اس مکرو ہات پر پابندی کیوں نہیں لگاتی؟


    خرم نواز گنڈا پوری نے لکھا کہ مساجد میں فیشن شو ہونے والی شادیوں کے رواج پر پابندی عائد ہونی چاہئے۔ یہاں تک کہ ہندوستانی بھی سوشل میڈیا پر ہمارا مذاق اڑا رہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں یہعنی پاکستانیوں اور مسلمانوں کو بابری مسجد کے بارے میں بات کرنے سے پہلے اپنے مساجد کا خیال رکھنا چاہئے۔


    خرم نواز گنڈا پور نے مزید لکھا کہ بالآخر ، انہیں کسی مذہبی مقام کی بے عزتی کرنے پر سزا دی جانی چاہئے۔
    https://twitter.com/ProductionWahad/status/1292493891296538625?s=20
    https://twitter.com/NisarAhmedPk1/status/1292486335182315520?s=20


    https://twitter.com/The_Sana_17/status/1292500141266612224?s=20

    مسجد میں گانے کے شوٹ کی اجازت کے تیس ہزار روپے لیے گئے ، نوٹیفیکیشن سامنے آ گیا

    قبول ہے ایک گانا تھا ان کا اصل نکاح نہیں تھا کہ انہوں نے ایک مشہور مسجد کے مذہبی…

    قبول ہے ایک گانا تھا ان کا اصل نکاح نہیں تھا کہ انہوں نے ایک مشہور مسجد کے مذہبی…

    صبا قمر کی مسجد وزیرخان میں ڈانس کی ویڈیو وائرل

    مسجد میں گانے کی ویڈیو پر صبا قمر نے معافی مانگ لی

    مسجد وزیر خان میں ویڈیو پر وضاحت دیتے ہوئے بلال سعید نے معافی مانگ لی

    اداکارہ صبا قمر اور بلال سعید کے خلاف مسجد کی بیحرمتی پر تھانہ مزنگ میں مقدمہ کی درخواست دے دی گئی

  • شادی کے چند سال بعد ہی شوہر نے غصے میں بلاوجہ طلاق دیدی حنا دلپزیر

    شادی کے چند سال بعد ہی شوہر نے غصے میں بلاوجہ طلاق دیدی حنا دلپزیر

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی نامور اداکارہ اور بلبلے کی مومو حنا دلپزیر نے اپنی زندگی کی کہانی بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی پسند کی شادی ہوئی تھی لیکن پھر اچانک شادی کے چند سال بعد ہی ان کے شوہر نے انہیں غصے میں بلاوجہ طلاق دیدی۔

    باغی ٹی وی : ڈرامہ سیریل ’بلبلے‘ اور ’قدوسی صاحب کی بیوہ‘ میں اپنی جاندار اداکاری سے پاکستان شوبز میں منفرد پہچان بنانے والی اداکارہ حنا دلپزیر حال ہی میں عفت عمر کے شو میں شریک ہوئیں جہاں انہوں نے اپنی زندگی، شادی، طلاق ،شوبز میں آنے اور پاکستانی ڈراموں سے متعلق باتیں کیں۔

    حنا دلپزیر نے اپنی شادی اور طلاق کے بارے میں بتایا کہ ان کی پسند کی شادی ہوئی تھی لیکن پھر اچانک شادی کے چند سال بعد ہی ان کے شوہر نے انہیں غصے میں بلاوجہ طلاق دیدی جس وقت میری طلاق ہوئی میں صرف 23 سال کی تھی اور میرا بیٹا مصطفیٰ صرف تین یا چار سال کا تھا۔

    حنا دلپزیر نے بتایا کہ ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں تھا نہ ہی وہ کوئی برا انسان تھا میری نیک تمنائیں میرے سابق شوہر کے ساتھ ہیں۔

    دوسری شادی نہ کرنے کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے حنا دلپزیر نے کہا کہ پہلے وہ ڈیوٹی پر تھیں انہوں نے اپنے بیٹے مصطفیٰ کی پرورش کرنی تھی اور پھر بعد میں دوسرے کاموں ایکٹنگ وغیرہ میں بھی کافی مصروف ہو گئیں اور شادی کی طرف دھیان ہی گیا اور نہ ہی انہوں نے دوسری شادی کرنے کا کبھی سوچا ہی نہیں اور سوچنے کا ٹائم ملا کیونکہ انہوں نے کبھی خود کو اکیلا ہونے ہی نہیں دیا-

    انٹرویو کے دوران حنا دلپزیر نے پاکستانی ڈراموں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے یہاں ڈراموں میں کہانی چند خاص کرداروں سے آگے ہی نہیں بڑھ رہی جس میں بس ایک سترہ اٹھارہ سال کی لڑکی دکھائی جاتی ہے جن کی شادی کے لئے کبھی لڑکی کے گھر والے نہیں مان رہے تو کبھی لڑکے کے –

    انہوں نے کہا کہ آج کل کے ڈرامے محبت اور نفرت کو گیج کرکے لکھے جا رہے ہیں ہمارے ہاں رویے لکھے جا رہے ہیں جذبے نہیں لکھے جا رہے جبکہ پہلے کہانی لکھنے والے اپنی تحریر میں آئیڈیالوجی لکھا کرتے تھے وہ اپنی تحریر کے ذریعے لوگوں کو ایک پیغام دیتے تھے کہ وہ کیا لکھ رہے ہیں پہلے ڈرامے مین کمال باتیں لکھی جاتی تھیں جو گرہیں کھولتی تھیں-

    بلبلے کی اداکارہ نے کہا کہ آج ہمارے یہاں مصنف کو چند خاص اداکاروں کے نام دے دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ اداکار بھی پہلے سے ہی منتخب کرلیے جاتے ہیں کہ چار کریکٹر ہیں اس میں ہم نے اسے لینا ہے اس میں اسے لینا ہے اور ان سے مطالبہ کیاجاتا ہے کہ ان کو سامنے رکھ کر بس کہانی لکھ دیں-

    انہوں نے کہا کہ کسی رائٹر کے دل کی بات اس کے لکھنے کی اجازت ہی نہیں ملتی ورنہ اتنے اچھا لکھنے والے اچھے اچھے اور پیارے لوگ آج بھی موجود ہیں کہ اگر کہ سہ ماہی ان کی سیاہی سے چلی جائے کسی بھی چینل پر تو معاشرے کے رویے بدل جائیں-

    ایک وقت تھا کشمیر پر انگار وادی جیسے ڈرامے آتے تھے، اب تو ساس بہو کی لڑائیاں ہی…

    پاکستان کی پہلی اوریجنل ویب سیریز ’چڑیلز‘ کا ٹریلر جاری

  • کیریئر کے عروج پر میرے متعلق نازیبا آرٹیکلز لکھے گئے کیونکہ میں نے ساتھی ادکاروں کی خواہشات کو پورا نہیں کیا تھا  روینا ٹنڈن

    کیریئر کے عروج پر میرے متعلق نازیبا آرٹیکلز لکھے گئے کیونکہ میں نے ساتھی ادکاروں کی خواہشات کو پورا نہیں کیا تھا روینا ٹنڈن

    بھارتی اداکارہ روینا ٹنڈن کا کہنا ہے کہ ان کے کیریئر کے عروج پر ان سے متعلق نازیبا آرٹیکلز لکھے گئے کیونکہ انہوں نے ساتھی ادکاروں کی خواہشات کو پورا نہیں کیا تھا-

    باغی ٹی وی : بالی وڈ میں اقربا پروری کو نظر انداز کرنا اب ممکن نہیں رہا کیوںکہ اس معاملے پر بہت سے اداکار کھل کر بات کرچکے ہیں تاہم سوشانت سنگھ کی خودکشی نے اس بحث کو دوبارہ تازہ کردیا بظاہر تو سوشانت کی موت ان کے مالی معاملات اور ذہنی تناؤ کی وجہ سے ہوئی لیکن ان کے مداحوں نے ہدایتکار کرن جوہر، عالیہ بھٹ اور سلمان خان سمیت دیگر لوگوں پر الزام لگاتے ہوئے ان کی موت کی وجہ اقرباپروری قرار دی-

    90 کی دہائی کی صف اول کی ہیروئنز میں شمار ہونے والی اداکارہ روینا ٹنڈن بھارتی فلم انڈسٹری سے متعلق مختلف بیانات دیتی رہتی ہیں اور اب حال ہی میں دیئے گئے اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا ہے کہ میں اپنے عروج میں جب میں فلموں میں کسی کردار کو منع کرتی تو مجھے مغرور کہا جاتا تھا-

    انٹرویو میں روینا ٹنڈن نے کہا کہ ان کے کیریئر کے عروج پر ان سے متعلق نازیبا آرٹیکلز لکھے گئے کیونکہ انہوں نے ساتھی ادکاروں کی خواہشات کو پورا نہیں کیا تھا میرا کوئی گاڈ فادرز نہیں، میں کیمپس کا حصہ نہیں تھی اور ہیروز مجھے پروموٹ نہیں کرتے تھےکیونکہ وہ رولز کے لیے ہیروز کے ساتھ تعلقات نہیں بناتی تھی۔

    اداکارہ نے کہا کہ اکثر معاملات میں مجھے مغرور سمجھا جاتا کیونکہ میں وہ نہیں کرتی تھی جو ہیروز چاہتے تھے کہ اس وقت ہنسوں جب وہ چاہیں بیٹھوں جب وہ مجھے بیٹھنے کے لیے کہیں۔

    روینا ٹنڈن نے کہا کہ خاتون صحافی بھی ان کے ساتھ کھڑی نہیں ہوئیں جو بنیادی طور پر مشہور مرد اداکاروں کی کٹھ پتلی تھیں۔

    روینا ٹنڈن نے کہا کہ ان سے متعلق اکثر غیر مہذب آرٹیکلز لکھے جاتے تھے کیونکہ کسی کی انا کو چوٹ پہنچی تھی۔

    بھارتی شو بزانڈسٹری میں ایک اور مبینہ خودکشی،ٹی وی اداکار کی پنکھے سے لٹکتی لاش…

     

    سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ہراساں کئے جانے پر بھارتی معروف اداکارہ کی خودکشی کی کوشش

    بالی وڈ میں ایک بڑا گروہ میرے خلاف کام کر رہا ہے موسیقار اے آر رحمن کا انکشاف

  • اداکارہ و ماڈل آمنہ شیخ نے دوسری شادی کر لی

    اداکارہ و ماڈل آمنہ شیخ نے دوسری شادی کر لی

    پاکستان کی معروف ماڈل و اداکارہ آمنہ شیخ نے دوسری شادی کر لی –

    باغی ٹی وی : اداکارہ و ماڈل آمنہ شیخ نے گزشتہ روز انسٹاگرام پرایک تصویر شیئر کی جس میں ان کے ہاتھ میں شادی کی انگوٹھی نظر آرہی ہے تصویر میں ایک خاتون مرد اور ایک بچے کا ہاتھ نظر آرہا ہے اور ہاتھ کے اوپر شادی کی انگوٹھی بھی نظر آرہی ہے۔آمنہ شیخ کی جانب سے شیئر کی گئی اس تصویر پر کوئی کیپشن نہیں دیا گیا اور نہ ہی کوئی ایموجی استعمال کیا گیا ہے-
    https://www.instagram.com/p/CDnjumah_1R/?igshid=1kpj6lti0oxlx
    آمنہ شیخ کی اس تصویر پر مدا ح شش و پنج میں پڑ گئےاور سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی مداحوں نے خود ہی اندازے لگا کر انہوں نے ملک کی معروف کاروباری شخصیت سے شادی کرلی ہے انہیں نئی زندگی کی شروعات کی مبارکباد دی اُن کے مداحوں کی جانب سے ڈھیر ساری نیک تمناؤں اور دعاؤں کے ساتھ انہیں شادی کی مبارکباد دی گئی ۔

    آمنہ شیخ کو اس تصویر پرجہاں مداحوں نے مبارکباد دی وہیں شوبز شخصیات کی جانب سے بھی نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا-جن میں موٹیویشنل اسپیکر منیبہ مزاری اور سنیتا مارشل ،سکینہ سمو،ڈاکٹر شائستہ لودھی،نادیہ حسین،صبا قمر زمان، شرمین عبید چنائے،ہما عدنان ،عروسہ صدیقی ودیگر شامل تھے-
    https://www.instagram.com/p/CDqFkANB4eo/?igshid=1el8fo76yr5e
    تاہم اب آمنہ سیخ کی جانب سے انسٹا گرام پر بغیر کسی وضاحت کے اپنے دوسرے شوہر کے ہمراہ تصویریں شیئر کی گئی ہیں جس میں آمنہ، آمنہ کی بیٹی اور اُن کے شوہر نے سفید لباس زیب تن کر رکھا ہے۔
    https://www.instagram.com/p/CDqFxAxB_6h/?igshid=3qjnb9htd9go
    اداکارہ نے اپنی پوسٹ میں اس حوالے سے کچھ نہیں بتایا کہ انہوں نے منگنی کی ہے یا باقاعدہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئی ہیں۔

    منیبہ مزاری نے آمنہ شیخ کی پوسٹ پر کمنٹ کرتے ہوئے لکھا کہ آپ کے لیے بہت سا پیار اور ڈھیروں دعائیں۔

    آمنہ شیخ انسٹاگرام سکرین شاٹ
    ماہرہ‌ خآن نے بھی آمنہ شیخ کے لئے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے مبارکباد دی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا-

    آمنہ شیخ انسٹاگرام سکرین شاٹ
    علاوہ ازیں ایمن خان ،انوشے اشرف، ثنا جاوید ، فریحہ الطاف اور دیگر ساتھی اداکار آمنہ شیخ کو نئی زندگی کی شروعات کرنے پر مبارکباد دے رہے ہیں اور ساتھ ہی نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا جارہا ہے مداحوں کی جانب سے بھی اداکارہ کی نئی زندگی کے لئے مبارکباد اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا جا رہا ہے-


    آمنہ شیخ انسٹاگرام سکرین شاٹس
    https://www.instagram.com/p/CDqGD82hq8B/?igshid=1f9uulufy1f7w
    آمنہ شیخ نے ایک اور انسٹاگرام پوسٹ میں نے لفظ ’فیملی‘ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا کہ فیملی ایک نعمت ہے۔
    https://www.instagram.com/p/CDqFqywBGoe/?igshid=1q37bi9i7nw90
    آمنہ شیخ نے سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 87 شئیر کی- ترجمہ : وہ تمھارے لیے لباس ہیں اور تم اُن کے لیے لباس ہو-
    واضح رہے کہ آمنہ شیخ نے اداکار محب مرزا کے ساتھ 2005 میں شادی کی تھی دونوں کی ایک بیٹی ہے آمنہ اور محب نے 12 سالہ شادی شدہ زندگی گزارنے کے بعد اپنی راہیں جدا کرلی تھیں جس کی تصدیق محب مرزا نے ایک شو کے دوران کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اور آمنہ اب ساتھ نہیں رہتے دونوں کی طلاق ہوچکی ہے۔

    https://login.baaghitv.com/amin-sheikh-ki-nayi-tasveer-ny-nayi-behas-cher-di/

  • پنجاب حکومت نے ایس اوپیز پر سختی سے عمل درآمد کے ساتھ سینماؤں اور تھیٹرز کو کھولنے کی اجازت دے دی

    پنجاب حکومت نے ایس اوپیز پر سختی سے عمل درآمد کے ساتھ سینماؤں اور تھیٹرز کو کھولنے کی اجازت دے دی

    پنجاب حکومت نے کورونا وائرس سے حفاظتی تدابیر کی ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کے ساتھ 10 اگست کو سنیما گھروں اور تھیٹروں کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت نے کورونا وائرس سے حفاظتی تدابیر کی ایس پیز پر سختی سے عمل درآمد کے ساتھ 10 اگست کو سنیما گھروں اور تھیٹروں کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دے دی ہے اس سلسلے میں محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ نے بھی حکومت پنجاب کی ہدایت کے تحت ایس او پیز جاری کردی ہے۔

    معاشرتی دوری برقرار رکھنے کے لئے سینما گھروں اور تھیٹرز میں 6 فٹ کا فاصلہ لازمی کردیا گیا ہے۔ کسی بھی کسٹمر کو ماسک کے بغیر ریستوران اور تھیٹرز سینما ہالز میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    سینما گھروں اور تھیٹرز کے لئے جاری گئی ایس او پیز یہ ہیں:

    ماسک پہنے بغیر افراد کے سینما اور تھیٹر میں داخلے پر پابندی ہو گی۔

    اِن ڈور بند ہالز کی بجائے کھلے اوپن ایئر تھیٹرز کو ترجیح دی جائے۔

    کسی بھی تقریب کا وقت 3 گھنٹے سے زائد ہرگز نہ رکھا جائے ہر شو کے بعد سینما یا تھیٹر کو ڈس انفیکٹ کرنا لازمی ہو گا۔

    کسی بھی چیز کو غیر ضروری چھونے سے پرہیز کیا جائے-

    آن لائن ٹکٹنگ کو ترجیح دی جانی چاہئے-

    تھیٹر یا سینما ہال میں 40 فیصد کسٹمرز کو آنے کی اجازت دی جائے۔

    ہالز کی مناسب وینٹیلیشن کو یقینی بنائیں-

    صفائی ستھرائی اور ڈس انفیکشن کو یقینی بنانے کے لئے انٹر شو کا وقفہ کم از کم 60 منٹ کا ہونا چاہئے-