Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • ارطغرل ڈرامے کے معروف کردار دو تلواریں لیا ننھا بمسی سامنے آ گیا

    ارطغرل ڈرامے کے معروف کردار دو تلواریں لیا ننھا بمسی سامنے آ گیا

    مسلمانوں کی اسلامی فتوحات پر مبنی تکش سیریز دیریلیش ارطغرل کی وزیر اعظم عمران کی خواہش پر یکم رمضان المبارک سے اردو میں ڈبنگ کر کے پاکستان ٹیلی ویژن(پی ٹی وی) پر ارطغرل غازی کے نام سے نشر کیا جا رہا ہے-

    باغی ٹی وی : مسلمانوں کی اسلامی فتوحات پر مبنی تکش سیریز دیریلیش ارطغرل کی وزیر اعظم عمران کی خواہش پر یکم رمضان المبارک سے اردو میں ڈبنگ کر کے پاکستان ٹیلی ویژن(پی ٹی وی) پر ارطغرل غازی کے نام سے نشر کیا جا رہا ہے- ویسے تو کئی تُرک ڈٍرامے پاکستان میں نشر کئے گئے لیکن ارطغرل غازی نے پاکستان میں مقبولیت کے ریکارڈ توڑتے ہوئے ایک کے بعد ایک اعزا ز اپنے نام کئے-

    جبکہ ارطغرل ڈرامے کی کہانی اور کرداروں نے پاکستانی عوام کو اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے اور عوام اس کے کرداروں میں خود کو ڈھال کر ویڈیو بنا کر اور سییز کے ٹائٹل گانے اور میوزک کوسوشل میڈیا پر شئیر کر کے ارطغرل سیریز اور اس کے کرداروں سے اپنی محبت کا اظہار کر تے نظر آرہے ہیں-

    حال ہی میں ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں ایک پاکستانی بچہ دونوں ہاتھوں میں تلوارین اٹھائے ارطغرل ڈرامے کے مشہور کردار اور ارطغرل کے قریبی ساتھی بمسی کی نقل اتارتے ہوئے نظر آ رہا ہے-


    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے چھوٹے سے بمسی نے کتنی خوبصورتی اور مہارت سے اپنے پسندیدہ تُرک اداکار کی طرح تلواروں کو لڑائی کے انداز میں چلا کر ارطغرل غازی کے مداحوں کے دل جیت لئے ہیں- جب کہ ویڈیو کے پس منظر میں مذکورہ سیریز کا خوبصورت میوزک بھی سنائی دیتا ہے-

    واضح رہے کہ دیریلیش ارطغرل‘ ڈرامے کی کہانی 13 ویں صدی میں ’سلطنت عثمانیہ‘ کے قیام سے قبل کی کہانی ہے اور اس ڈرامے کی مرکزی کہانی ’ارطغرل‘ نامی بہادر مسلمان سپہ سالار کے گرد گھومتی ہے جنہیں ’ارطغرل غازی‘ بھی کہا جاتا ہے ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح 13 ویں صدی میں ترک سپہ سالار ارطغرل نے منگولوں، صلیبیوں اور ظالموں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور کس طرح اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا۔ڈرامے میں سلطنت عثمانیہ سے قبل کی ارطغرل کی حکمرانی، بہادری اور محبت کو دکھایا گیا ہے

    ارطغرل ڈرامے میں کلہاڑے والے پاکستانی ترگت کی ویڈیو وائرل

    ’ارطغرل غازی‘ کے ’عبدالرحمٰن‘ نے پاکستانی بچوں کو بہادر سپاہی قرار دے دیا،اوربھی اعزازسے نوازا

    لاہور کی ایک رہائشی کالونی میں ارطغرل غازی کا مجسمہ نصب

  • شہزاد رائے کی کوششوں سے واسو کو وزیر اعلیٰ بلوچستان کی طرف سے امدادی چیک دے دیا گیا

    شہزاد رائے کی کوششوں سے واسو کو وزیر اعلیٰ بلوچستان کی طرف سے امدادی چیک دے دیا گیا

    پاکستان کے معروف گلوکار و سماجی کارکن شہزاد رائے کی کوششوں سے واسو کو وزیر اعلیٰ بلوچستان کی طرف سے امدادی چیک دے دیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : تقریباً ایک دہائی قبل معروف گلوکار و سماجی رہنما شہزاد رائے کے ساتھ ’اپنے اُلو کتنے ٹیڑھے، اب تک ہوئے نہ سیدھے‘ گانے سے شہرت حاصل کرنے والے بلوچ لوک فنکار واسو کے سخت حالات کی خبریں سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھیں اطلاعات کے مطابق غربت اور کوئی باقاعدہ روزگار نہ ہونے کی وجہ سے لوک فنکار واسو خان بیماری کا شکار بن کر گھر تک محدود ہوگئے ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔

    واسو خان کی بیماری کی خبریں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد کئی افراد نے شہزاد رائے سے بھی فوک فنکار کی مدد کی اپیل کی۔بلوچستان کے پسماندہ علاقے جعفر آباد سے تعلق رکھنے والے واسو خان کی صحت سے متعلق سوشل میڈیا پر بحث اس وقت شروع ہوئی جب کہ بلوچستان حکومت کے ترجمان نے فنکار کی مدد کرنے سے متعلق ایک ٹوئٹ کی۔

    بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے گذشتہ روز 5 اگست کو اپنی ٹوئٹ میں واسو خان کے گھر جاکر ان کے ساتھ بنوائی گئی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے بتایا تھا کہ لوک فنکار بیماری اور کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں اور آج معروف گلوکار واسو کے گھر ان کےخدمت میں حاضر ہوکر وزیراعلی بلوچستان جام کمال کا پیغام پہنچایا۔

    انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں واسو اور شہزاد رائے کی پرانی تصویر بھی شیئر کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وزیر اعلی نےچند روزقبل انکی مالی معاونت،علاج معالجہ،ادویات کا ذمہ لینےکااعلان کیاتھا۔ واسو ذیابیطس کے مریض اور بدترین معاشی مشکلات کاشکار ہیں۔

    انہوں نے کہا تھا کہ ہمارے فنکار ہمارا افتخار ہیں اور ان کی جہاں تک ممکن ہو سکا مدد کریں گے انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں بتایا تھا کہ 7 اگست کو وزیر اعلی سیکرٹریٹ میں انکی خدمت میں چیک پیش کرینگے-

    واسو خان کے ساتھ لیاقت شاہوانی کی تصاویر وائرل ہونے کے بعد کئی افراد نے شہزاد رائے کو طعنے دیے اور ان پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے واسو خان کو بھلا دیا-

    تاہم ان طعنوں اور تنقید کے جواب میں جلد ہی واسو خان کی ایک اور ویڈیو سامنے آئی جس میں انہوں نے شہزاد رائے کی جانب سے تاحال مدد ملنے کی تصدیق کی۔

    روبینہ ابراہیم زہرہ کی جانب سے واسو خان کی مختصر ویڈیو ٹوئٹ کی گئی جس میں وہ اپنی بیماری سے متعلق بتانے سمیت شہزاد رائے کی جانب سے مدد ملنے کا اعتراف بھی کرتے دکھائی دیئے۔

    انہوں نے کہا تھا کہ شہزاد رائے نے میری بہت مدد کی ہے میرا آغا خان میں علاج کروایا آج تک میرے ساتھ رابطے میں ہے میں انکا شکر گزار ہوں اور لیاقت شاہوانی صاحب کا بھی شکریہ جنہوں نے مجھے آکر پوچھا اور اسحاق لہڑی صاحب کا شکریہ جنہوں نے میری آواز دنیاتک پہنچائی۔

    واسو خان نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ ان کا علاج کروانے سمیت ان کے گھر کی تعمیر کروائی جائے اور ان کے کسی بیٹے کو سرکاری نوکری بھی دی جائے تاکہ ان کی مالی مشکلات حل ہوسکیں۔

    تاہم اب نعمت خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ٹوئٹ میں تصاویر شئیر کیں جس میں ایک طرف وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان سے گلوکار شہزاد رائے اور لوک فنکار واسو ملاقات کررہے ہیں جبکہ دوسری جانب تصویر میں صوبائی وزیر عبدالخالق ہزارہ لوک فنکار واسو کو امدادی چیک دے رہے ہیں-


    نعمت خان نے لکھا کہ واسو خان​​ صوبائی وزیر عبدالخالق ہزارہ سے جام کمال سے ملاقات کے بعد چیک وصول کررہے ہیں شہزاد رائے نے وزیع اعلی بلوچستان سے ان کی ملاقات کا اہتمام کیا ہے-

    واضح رہے کہ واسو خان نے ابتدائی طور پر 2011 کے آخر میں شہزاد رائے کے ساتھ ’اپنے اُلو کتنے ٹیڑھے، اب تک نہ ہوئے سیدھے‘ گانا کیا تھا اس کے بعد دونوں نے 2012 میں جیو ٹی وی پر ’واسو اور میں‘ نامی سماجی شو کیا تھا، جس میں وہ ملکی حالات پر بات کرتے دکھائی دیے تھے ان کے اس شو کو لوگوں کی جانب سے بہت پذیرائی ملی تھی

    بدترین معاشی مشکلات کا شکار بلوچ لوک فنکار واسو خان کس حال میں ہیں؟

  • مسجد میں بیہودہ گانے کی شوٹنگ ،ماڈلنگ اور شادی فوٹو شوٹ،خدارا تقدس پامال نہ کریں  تحریر: محمد عاصم حفیظ

    مسجد میں بیہودہ گانے کی شوٹنگ ،ماڈلنگ اور شادی فوٹو شوٹ،خدارا تقدس پامال نہ کریں تحریر: محمد عاصم حفیظ

    مسجد میں بیہودہ گانے کی شوٹنگ ۔ ماڈلنگ اور شادی فوٹو شوٹ ۔۔ خدارا تقدس پامال نہ کریں

    (ذرا سی بات ۔ محمد عاصم حفیظ)
    لاہور کی تاریخی جامع مسجد وزیر خان کے تقدس کو ایک پرائیویٹ پروڈکشن ہاؤس کی جانب سے گانے کی شوٹنگ کرکے پامال کیا گیا ہے ۔ مساجد جو کہ اللہ کا گھر اور عبادت کے لئے ہیں وہاں پر یوں فحش گانے کے ویڈیو شوٹ سے بڑھ کر گھٹیا حرکت اور کیا ہو گی ۔ کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی بے حسی اور لاپرواہی کی انتہا ہے ۔ اس سے پہلے سنجیدہ حلقے بادشاہی مسجد ۔ فیصل مسجد اسلام آباد مسجد وزیر خان سمیت دیگر تاریخی مساجد میں فوٹو شوٹس کے حوالے سے سراپہ احتجاج رہے ہیں لیکن انتظامیہ معمولی آمدن کے لالچ میں ان عبادت گاہوں کا تقدس پامال کرتی رہی ہے ۔ المیہ تو یہ بھی ہے ایک طرف تو مساجد و عبادت گاہوں میں کرونا کی وجہ سے ایس او پیز پر سختی سے عمل کرایا جا رہا ہے ۔ نمازیوں کے لیے فاصلے اور ماسک کی پابندی ضروری ہے لیکن انہی مساجد میں گانوں کی اجازت دی جا رہی ہے ۔ایک خاص تعداد سے زائد نمازی نہیں جا سکتے لیکن ویڈیوز ریکارڈنگ ٹیم کو مساجد میں گھسنے کی اجازت ہے ۔ روک ٹوک کا کوئی قانون ضابطہ ہی نہیں ۔ افسوس تو یہ بھی ہے کہ ہمارے ملک میں فورسز کی وردی میں سوشل میڈیا ویڈیو پر نوکری ختم ہو سکتی ہے کیونکہ وردی کی توہین کی ۔ کسی ادارے کے بارے پوسٹ پر گرفتاری ہو جاتی ہے ۔ سیاسی لیڈر کے بارے اظہار خیال پر بھی قانون حرکت میں آتا ہے لیکن مساجد کے تقدس کی پامالی ۔ شعائر اسلام کی توہین اور عبادات و دینی تہواروں کا مزاق اڑانے یا ان پر فحاشی و عریانی پھیلانے پر کوئی ایکشن نہیں ہوتا۔
    کیا آپ نے دنیا میں کوئی ایسی قوم دیکھی ہو گی کہ جو اپنے مذہبی مقامات ۔ مقدس جگہوں ۔ عبادات کے مراکز ۔اپنی مذہبی روایات ، دینی شعائر اور روحانی اقدار کو بھی طنز ومذاق ، فحاشی اورتفریح کی نظر کر دے ۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے رمضان المبارک میں جس طرح فلمی دنیا کے ستاروں سے مذہبی پروگرامز ، کوئز شوز اور ہلے گلے والے شوز کرائے جاتے ہیں ۔جبکہ عبدالاضحی اور قربانی جو کہ سنت ابراہیمی ؑ اور نبی اکرمﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں ایک خالص دینی فریضہ ہے اسے نمود و نمائش ، جانوروں کی سج دھج اور طرح طرح کے پکوان تیار کرنے کی پہچان بنا دی گئی ہے ۔ کمرشل ازم کے تحت ہر مذہبی تہوار۔ مقام اور شعائر اسلام تک کو اشتہار بازی ۔ فحش ویڈیوز اور فوٹو گرافی کے لیے استعمال کرنے کے رجحان میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔ دوسری جانب بادشاہی مسجد لاہور ۔ بحریہ ٹاؤن گرینڈ مسجد اور فیصل مسجد اسلام آباد میں نکاح کو ایک رسم بنا دیا گیا ۔ اب صورتحال یہ ہے کہ چند منٹوں کے نکاح کے بعد اسی مسجد میں مکمل پروفیشنل فوٹوگرافی اور ویڈیو شوٹنگ کا اہتمام کیا جانے لگا ہے ۔اس شوٹنگ اور دوسرے الفاظ میں ” ماڈلنگ ” کی بھرپور تیاری کی جاتی ہے ۔ مختلف پوز بنا کر ایک ماہر فوٹو گرافر یا پروڈیوسر کی زیر نگرانی یہ مراحل مکمل ہوتے ہیں ۔ دولہا دلہن ان یادگار لمحات کے لئے مکمل طور پر میک اپ ۔ ویل ڈریسنگ میں آتے ہیں ۔ اور اب بات اس سے بڑھ کر گانوں کی شوٹنگ تک پہنچ چکی ہے ۔

    خدارا مساجد کے تقدس کا خیال رکھیں ۔ آپ کے پاس دولت کے انبار ہوں گے اور بے پناہ اختیارات کون آپ کو روک سکتا ہے لیکن طاقت کے اس نشے میں اگر ان مقدس مقامات کو نہ ہی روندا جائے تو بہتر ہے ۔ مساجد نماز و عبادت کے لئے ہیں انہیں گانوں کی ریکارڈنگ۔ ماڈلنگ ۔ فوٹوگرافی اور ویڈیو شوٹنگ کی جگہیں نہ بنایا جائے ۔ خدارا مساجد کے تقدس کا خیال کریں۔ حکومت اور انتظامیہ کا بھی فرض ہے کہ مساجد کی بے حرمتی پر ہوش کے ناخن لیں اور کسی بھی قسم کے ویڈیو یا فوٹو شوٹ کی اجازت نہ دی جائے ۔ مساجد کا تقدس معمولی آمدن سے کہیں زیادہ قیمتی ہے ۔

  • مسجد میں گانے کے شوٹ کی اجازت کے تیس ہزار روپے لیے گئے ، نوٹیفیکیشن سامنے آ گیا

    مسجد میں گانے کے شوٹ کی اجازت کے تیس ہزار روپے لیے گئے ، نوٹیفیکیشن سامنے آ گیا

    گلوکار بلال سعید کے نئے گانے قبول ہے کی مسجد وزیر خان کی شوٹنگ کے عوض 30000 روپے لئے گئے ہیں-

    باغی ٹی وی: گلوکار بلال سعید اور اداکارہ صبا قمر کے نئے گانے قبول ہے کی شوٹنگ مسجد وزیر خان میں کرنے پر عوام سمیت معروف شخصیات نے دونوں فنکاروں اور مسجد کی انتظامیہ پر غم و غصے اظہار کرتے ہوئے اس واقعے کی تفتیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے جس کے نتیجے میں چند انکشافات سامنے ہیں –

    مسجد کی اجازت زونل ایڈمنسٹریٹر اوقاف لاہور زون کی طرف سے اجازت برائے ریکارڈنگ جامع مسجد وزیر خان لاہور کے عنوان سے جاری کیا گیا تھا جس میں درج تھا کہ مسجد میں 30000 روپے فیس کے عوض احمد وقاص لائن پروڈیوسر آفس نمبر 14 تھرڈ فلور شبیر تاؤن عبدالستار ایدھی روڈ لاہور کو مورخہ 28 جوکائی 2020 ک2 شوٹنگ کی اجازت دی گئی تھی-مسجد میں شوٹنگ کی کچھ شرائط بھی پیش کی گئیں تھیں-

    جن میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ ریکارڈنگ کے دوران مسجد کے تقدس کو پیش نظر رکھا جائے اور ہر اس عمل سے اجتناب کیا جائے جس سے ان کی حرمت پر حرف آتا ہو اور مذہبی معاملات میں بھی خلاف شریعت یا کوئی ایسا عمل نہ ہو جس سے کسی بھی پاکستانی کی دل آزاری ہو –

    ریکارڈنگ کے دوران کسی بھی قسم کا میوزک نہیں بجایا جائے گا ریکارڈنگ کے دوران لباس حرکار و سکنات میں دینی اور شرعی تشخص کو ہمہ وقت پیش نظر رکھا جائے گا-

    نوٹیفیکیشن میں یہ بھی درج تھا کہ درج بالا تمام شرائط کی خلاف ورزی کی صروت میں انتظامیہ کو اختیار ہو گا کہ وہ ریکارڈنگ کو بند کروائے-

    واضح رہے کہ صبا قمر گلوکار بلال سعید کے نئے آنے والے گانے قبول ہے کی شوٹنگ میں مصروف ہیں جس کا ایک سین مسجد وزیر خان میں بھی لیا گیا جس پر مذہبی معروف شکصیات سمیت لوگ بھی شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ان کی گرفتاری اور کاروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں

    مسجد میں گانے کی شوٹنگ پر صبا قمر اور بلال سعید کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، سیکرٹری اوقاف پنجاب

    صبا قمر کی مسجد وزیرخان میں ڈانس کی ویڈیو وائرل

  • قبول ہے ایک گانا تھا ان کا اصل نکاح نہیں تھا کہ انہوں نے ایک مشہور مسجد کے مذہبی تقدس کو  پامال کر دیا  مشی خان

    قبول ہے ایک گانا تھا ان کا اصل نکاح نہیں تھا کہ انہوں نے ایک مشہور مسجد کے مذہبی تقدس کو پامال کر دیا مشی خان

    معروف اداکارہ،میزبان اور گلوکارہ مشی خان کا کہنا ہے کہ قبول ہے ایک گانا تھا بلال سعید اور صبا قمر کا اصل نکاح نہیں تھا کہ انہوں نے ایک مشہور مسجد کے مذہبی تقدس کو داغدار کردیا ہے-

    باغی ٹی وی: صبا قمر اور بلال سعید کے گانے قبول ہے کی شوٹنگ کے لئے مسجد وزیر خان میں بنائی گئی ویڈیو پر جہاں عوام ،مذہبی اورمعروف شخصیات غم و غصے کا اظہار کر رہی ہیں وہیں میزبان،گلوکارہ اور اداکارہ ،شی خان نے بھی شدید ردعمل دیتے ہوئے غصے کا اظہار کیا ہے –


    مشی خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر میں ایک ویڈیو شئیر کی جس مین انہوں نے کہا کہ جس طریقے سے پاکستان کے دو بڑے آرٹسٹوں بلال سعید اور صبا قمر نے مسجد وزیر خان میں جا کر اپنے آنےوالے گانے قبول ہے کے لئے پرفارم کیا ویڈیو بنائی اس کی وہ بھرپور مذمت کرتی ہیں-

    انہوں نے کہا کہ اگر یہ ان کی حقیقی زندگی میں ہوتا کہ وہ مسجد مین جا کر نکاح کر رہے ہیں تو ہم سب خوش ہوتے لیکن ان کی اس ویڈیو اور گانے کے شوٹ پر میں مذمت کرتی ہوں-

    انہوں نے کہا کہ یہ عمل انتہائی قابل افسوس ہے کیوں کہ صبا قمر اور بلال سعید مشہور شخصیات ہیں جو لوگوں کو متاثر کرتی ہیں بطور اداکار ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ایسی چیزوں کو پروموٹ نہ کریں-

    صبا قمر کی مسجد وزیرخان میں ڈانس کی ویڈیو وائرل

    صبا قمر نے بلال سعید کی پیشکش قبول کر لی

    مسجد میں گانے کی شوٹنگ پر صبا قمر اور بلال سعید کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، سیکرٹری اوقاف پنجاب

  • مسجد میں گانے کی شوٹنگ پر صبا قمر اور بلال سعید کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، سیکرٹری اوقاف پنجاب

    مسجد میں گانے کی شوٹنگ پر صبا قمر اور بلال سعید کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، سیکرٹری اوقاف پنجاب

    سیکرٹری اوقاف پنجاب اظہر نے مسجد میں گانے کی شوٹنگ پر صبا قمر اور بلال سعید کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر سیکرٹری اوقاف پنجاب اظہر نے اپنے ٹویٹ میں مطالبہ کیا ہے کہ مسجد میں گانے کی شوٹنگ پر صبا قمر اور بلال سعید کے خلاف سخت کارروائی کی جائے-


    سیکرٹری اوقاف پنجاب نے لکھا کہ سیکرٹری اوقاف حکومت پنجاب نے پہلے ہی ڈی جی اوقاف کو مسجد وزیرخان معاملے کی انکوائری کرنے کا حکم دے دیا ہے جہاں نجی کمپنی نے صبا قمر بلال سعید کی ویڈیو شوٹ کرنے سے این او سی کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے

    انہوں نے اپنے ٹویٹ میں یقین دہانی کرائی کہ پی پی ایل میں شامل ایڈمن کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی-

    واضح رہے کہ صبا قمر گلوکار بلال سعید کے نئے آنے والے گانے قبول ہے کی شوٹنگ میں مصروف ہیں جس کا ایک سین مسجد وزیر خان میں بھی لیا گیا جس پر مذہبی معروف شکصیات سمیت لوگ بھی شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ان کی گرفتاری اور کاروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں-

    صبا قمر کی مسجد وزیرخان میں ڈانس کی ویڈیو وائرل

  • پاکستانی کبڈی ٹیم کے مایہ ناز ناقابل تسخیر کھلاڑی بنیامین کی ورزش کی بہترین ویڈیوز وائرل

    پاکستانی کبڈی ٹیم کے مایہ ناز ناقابل تسخیر کھلاڑی بنیامین کی ورزش کی بہترین ویڈیوز وائرل

    پاکستانی کبڈی ٹیم کے مایہ ناز ناقابل تسخیر کھلاڑی ملک بنیامین کی ورزش کی بہترین ویڈیوز وائرل ہو رہی ہے –

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپسورٹس اینکر اور کرکٹ کمنٹیٹر احمر نجیب نے کبڈی کے ابھرتے ہوئے نوجوان کھلاڑی ملک بنیامین کی ورزش کی ٹک ٹاک ویڈیو شئیر کی ہے ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے پاکستانی کبڈی ٹیم کے بہادر مایہ ناز ناقابل تسخیر کھلاڑی نے ٹائر کو رسی کے ساتھ اپنی کمر سے باندھ کر دوڑ تے ہوئے ورزش کر رہے ہیں-


    ویڈیو شئیر کرتے ہوئے احمر نجیب نے لکھا کہ کبڈی ورلڈ کپ چیپمئین ٹیم کے کھلاڑی بنیامین کی کاکردگی نا قابل فراموش ہے انہوں نے لکھا کہ پورے ٹورنامنٹ میں پاکستانی کبڈی ٹیم کا یہ مایہ ناز کھلاڑی ناقابل تسخیر تھا-

    واضح رہے کہ پاکستان کے شہر جڑانوالہ کے چک 102 میں پیدا ہونے والے کبڈی پلئیر ملک بنیا مین نے 2013 میں میٹرک کے بعد کبڈی کھیلنا شروع کی اس کے بعد ایف اے کیا اورای سال پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے بھی کبڈ ی کھیلی- 2017 میں پاکستان لاہور ریلوے کی طرف سے کبڈی میچ کھیلا اور میچ جیتے اس کے بعد سوئی گیس کی طرف سے پاکستان واپڈا کے خلاف پنجاب سٹیڈیم لاہور میں میچ کھیلا اور بیسٹ کبی پلئیر کا اعزاز اپنے نام کیا – 2018 میں واپڈا میں بھرتی ہو گئے اور پاکستان واپڈا لاہور لیسکو ٹیم کے ممبر بن گئے حال ہی میں پہلی مرتبہ انڈیا کے خلاف ساہیوال مں میچ کھیلا اور اپنی عمدہ کارگردگی کی بدولت بیسٹ کبڈی پلئیر کا اعزاز اپنے نام کیا-

  • کشمیر پر بھارت اب معاہدہ شملہ کے پیچھے نہیں چھپ سکتا  تحریر: انشال راٶ

    کشمیر پر بھارت اب معاہدہ شملہ کے پیچھے نہیں چھپ سکتا تحریر: انشال راٶ

    آرزوئے سحر
    تحریر: انشال راٶ
    کشمیر پر بھارت اب معاہدہ شملہ کے پیچھے نہیں چھپ سکتا

    جنگ عظیم اول کے بعد دنیا کو تباہی سے بچانے اور عالمی انصاف کی فراہمی کے اہداف کے ساتھ لیگ آف نیشنز کا قیام عمل میں آیا جو کامیابی سے ہمکنار نہ ہوسکا، دوسری عالمی جنگ کے بعد اقوام عالم نے بہتر دنیا کی تشکیل کی غرض سے انجمن اقوام متحدہ کے قیام کو ضروری سمجھا۔ سابق امریکی صدر ہینری ایس ٹرومین نے اقوام متحدہ کے قیام کے وقت جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوے وہاں موجود تمام اراکین کو مخاطب کرتے ہوے کہا کہ ہمیں تمام دنیا کو انصاف فراہم کرنے کے لئے کام کرنا ہوگا لیکن افسوس "میری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی” کے مصداق یہ خواب عملی طور پر تعبیر نہ ہوسکا کیونکہ چھوٹی موٹی مرمتوں سے دنیا امن کا گہوارہ نہیں بن سکتی جب تک کہ تمام بڑے مسائل حل نہ کرلیے جائیں، اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق اس کی سیکیورٹی کونسل کی سب سے اہم ذمہ داری عالمی امن و انصاف کو یقینی بنانا اور دنیا کو جنگوں کی ہولناکیوں سے بچانے کے لیے اقدام کرنا ہے لیکن ستر سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل بھارت سے اپنی پاس کردہ متعدد قراردادوں کے باوجود عالمی قوانین کی پاسداری کروانے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے، عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر اس وقت عالمی امن کے لیے شدید خطرہ ہے جو دو ایٹمی قوتوں بھارت و پاکستان کو کسی بھی وقت جنگ میں الجھا سکتا ہے۔ ماضی میں دونوں ممالک کے مابین چار ہولناک جنگیں ہوچکی ہیں لیکن اب دونوں ہی ایٹمی قوت ہیں اور ممکنہ طور پر جنگ کی صورت دونوں ایٹمی ہتھیاروں کا آزادانہ استعمال کرسکتی ہیں ایسے میں یہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ سات دہائیوں سے لٹکے مسئلہ کشمیر کا حل اپنی پاس کردہ قراردادوں کے مطابق کرے جس سے بھارت مختلف ہتھکنڈوں و حیلے بہانوں کا استعمال کرکے ستر سالوں سے مفر ہے۔ کشمیریوں کی شروع سے ہی مذہبی، ثقافتی و سماجی ہم آہنگی موجودہ پاکستان کے لوگوں سے تھی اور جغرافیائی لحاظ سے بھی موجودہ پاکستان سے منسلک تھا یہی وجہ ہے کہ تقسیم ہند کے بعد کشمیریوں کی بڑی اکثریت نے پاکستان میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی، 5 ستمبر 1947 کو کسان مزدور کانفرنس ہوئی اور پاکستان میں شمولیت کی قرارداد پاس کی، 18 ستمبر کو کشمیر سوشلسٹ پارٹی نے پاکستان سے الحاق کی قرارداد پاس کی۔ کشمیریوں کے اس رجحان کو دیکھتے ہوے بھارت نے جموں میں مسلمانوں کا قتل عام شروع کردیا جس کے ردعمل میں قبائلی مجاہدین کشمیری مسلمانوں کی مدد کو پہنچنا شروع ہوگئے اور جب بات ڈوگرا فوج و ہندوتوا شدت پسندوں کے بس سے باہر ہوگئی تو نہرو سرکار نے بھارتی فوج کو کشمیر میں داخل کردیا جس کے نتیجے میں پاک بھارت جنگ پھوٹ پڑی جس میں بھارتیوں کی زبردست پٹائی ہوئی تو نہرو سرکار فوراً اقوام متحدہ جا پہنچی۔ اقوام متحدہ کی ثالثی پر پاکستان نے جنگ بندی کردی اور معاملہ عالمی قوانین کے تحت اقوام متحدہ پر چھوڑ دیا۔ سیکیورٹی کونسل میں بھارت کو منہ کی کھانی پڑی اور معاملہ استصواب رائے کے زریعے حل کرنے کے فارمولے کے تحت طے پایا اس ضمن میں UNSC نے متعدد قراردادیں پاس کیں لیکن ہٹ دھرم بھارت مختلف ہتھکنڈوں سے ٹال مٹول کرتا رہا۔ اسی دوران بھارت نے 1954 میں نام نہاد الیکشن کرواکر پپٹ کشمیر اسمبلی سے بھارت کے ساتھ الحاق کی منظوری لیکر اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دے دیا جس کے جواب میں UNSC نے قرارداد 122 پاس کی جس میں نام نہاد کشمیر الیکشن اور نام نہاد اسمبلی کے قانون کو مسترد کرتے ہوے استصواب رائے کے مطابق الحاق کا فیصلہ قائم رکھا اور سابق بھارتی آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ کے انکشاف کہ "کشمیری مین اسٹریم لیڈر 1947 سے بھارت سے پیسے لے رہے ہیں” جس کے جواب میں کشمیری مین اسٹریم لیڈر نے کہا کہ "اس کے بدلے ہم بھارتی پرچم کو کشمیر میں سرنگوں رکھے ہوے ہیں” کے بعد اب یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ بھارت اپنے چند زرخرید پپٹ کے زریعے نہ صرف کشمیر کے ناجائز الحاق کو قائم رکھے ہوے تھا بلکہ اپنے کالے قوانین پبلک سیفٹی ایکٹ، آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ وغیرہ اور ظلم و بربریت کو روا رکھے ہوے تھا۔ بھارت کبھی سیٹو اور سینٹو کا بہانہ بناکر تو کبھی سوویت یونین کے پیچھے چھپ کر اقوام متحدہ کی قراردادوں پہ عمل کرنے سے بھاگتا رہا اور پھر 1972 میں پاک بھارت شملہ معاہدہ ہوا جس کے تحت دونوں ممالک راضی ہوے کہ آپسی معاملات باہمی رضامندی سے طے کیے جائینگے اس کے بعد سے جب بھی مسئلہ کشمیر کے حل کا سوال اٹھا تو بھارت نے اسے Bilateral کہہ کر مسترد کردیا۔ 1998 کے پاک بھارت ایٹمی دھماکوں کے بعد اقوام متحدہ نے قرارداد 1172 کے زریعے دونوں ممالک پر کشیدگی ختم کرنے اور تعلقات کی بہتری کے لیے زور دیا لیکن بھارت اپنی فطرت سے باز نہ آیا وقتی دکھاوا کرکے بھارت پاکستان میں دہشتگردانہ کاروائیوں کی سرپرستی کرتا رہا۔ ملکہ الزبتھ نے پاک بھارت دورے کے موقع پر کشمیر کی ثالثی کی آفر کی تو بھارت نے اسے دو طرفہ یا باہمی معاملہ کہہ کر مسترد کردیا، اس کے بعد یہ جواب ترکی، چین و ایران کی آفرز کے جواب میں دیا گیا۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری انٹوریو گٹیرس کی ثالثی کی آفر کی تو بھارت نے جواباً شملہ معاہدہ کا زکر کرتے ہوے کہا کہ اب UNMOGIP کی ضرورت نہیں یہ ہمارا باہمی مسئلہ ہے اس کے علاوہ فرانس کے دورے کے موقع پر بھی نریندر مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ و فرانسیسی قیادت کو یہی جواب دیا لیکن 5 اگست 2019 کو یکطرفہ طور پر آرٹیکل 370 اور 35-A کو منسوخ کرکے کشمیر کو بھارت میں شامل کرنے کے مودی سرکار کا اقدام نہ صرف شملہ معاہدہ و لاہور ڈیکلیئریشن کی صریحاً خلاف ورزی ہے بلکہ ویانا کنوینشن کی بھی خلاف ورزی ہے اور ویانا کنوینشن کے آرٹیکل 60 کے تحت پاکستان اب مزید اس معاہدہ کو مکمل یا جزوی منسوخ کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور اب بھارت کے پاس یہ جواز باقی نہیں رہ سکتا کہ وہ کشمیر کو بائی لیٹرل مسئلہ کہہ کر عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں سے بھاگ سکے۔ اس کے علاوہ مودی سرکار کی حکمت عملی سے اب حریت لیڈروں کے علاوہ مین اسٹریم لیڈر بھی بھارت سے متنفر ہوگئے ہیں جس کا فائدہ پاکستان کو اٹھانا چاہئے اور اقوام عالم کو جھنجھوڑ کر بیدار کرے۔ UNSC کو عالمی امن کو یقینی بنانے کے لیے عراق طرز پر بھارت کے خلاف ایکشن لینا ہوگا ورنہ کوئی بعید نہیں کہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے کسی بھی ایٹمی جنگ چھڑ سکتی ہے۔

  • صبا قمر کی مسجد وزیرخان میں ڈانس کی ویڈیو وائرل

    صبا قمر کی مسجد وزیرخان میں ڈانس کی ویڈیو وائرل

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ صبا قمر کی مسجد وزیرخان میں نامور گلوکار بلال سعید کے ساتھ ڈانس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس پر صارفین جانب سے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے-

    باغی ٹی وی : صبا قمر حال ہی میں گلوکار بلال سعید کے ساتھ نئے آنے والے گانے قبول ہے کی شوٹنگ میں مصروف ہیں اور سول میڈیا پر وائرل مسجد وزیر خان میں اداکارہ کی ڈانس کی ویڈیو کو دیکھ کر اندازہ ہو تا ہے کہ یہ بھی اسی شوٹنگ کا ایک حصہ ہی ہے-

    مساجد مسلمانوں کا مذہبی مقام ہے جہاں پر مسلمان اللہ کی عبادت کرتے ہیں اپنے مذہبی اور مقدس مقامات پر اس طرح ڈانس کرنا اور گانوں کی شوٹنگ کرنا حیران کُن ہے اس سے ہم دوسروں پر کیا اثرا ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ سوچنے کی بات یہ ہے کہ مسجد کی انتظامیہ سیکیورٹی اور اعلی حکام اس طرح کے میوزک شو کی اجازت کس طرح دے سکتے ہیں-

    ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ٹویٹر ٹرینڈنگ میں صبا قمر اور بلال سعید ٹاپ ترینڈ میں ہیں اور کی جانب سے ان کے اس قدام پر خوب غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے-
    https://twitter.com/ali_zarwan/status/1292045462359412736?s=20
    زروان علی نامی صارف نے حکام مسجد کی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ کس نے اس کی اجازت دی ؟؟؟؟ کیا کچھ تفتیش ہوگی؟ بش م دین فروش مولوی اور پوری انتظامیہ کو ملازمت سے برطرف کرنے کی ضرورت ہے اور ان دو شوبز مورونز کو گرفتار کرنے کی ضرورت ہے۔ آج کے دور میں یزیدوں کی کافی تعداد ہے-
    https://twitter.com/AbidOrakxai/status/1292077485576851458?s=20
    ایک صارف نے لکھا کہ اس لعنتی عورت کو خود ہی شرم آنی چاہئے وہ سوچتی ہے کہ وہ جو چاہے گی وہ کرے گی-


    مفتی سید عدنان کاکا خیل نے اپنے ٹویٹ میں سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ مسجد وزیر خان لاہور میں ایک رقاصہ اور ایک بھانڈ کے مل کر خانہ خدا میں ناچ گانے کی شوٹنگ کی خبر وائرل ہے۔یہ اللہ کے گھر کی سخت بے حرمتی ، توہین اور تقدس کی پامالی ہے۔تمام زمہ داروں پر توہینِ مقدسات کی دفعات کے تحت مقدمات قائم کر کے فوری گرفتاریاں کی جائیں۔تمام مسلمان آواز اٹھائیں۔
    https://twitter.com/TrimiziiiSyeda/status/1292041729244356608?s=20
    ایک صارف نے لکھا کہ پاکستان ایک ایسی جگہ ہے جہاں لوگوں کے خیال میں بادشاہی مسجدو لاہور ایک اچھا فوٹو شوٹ مقام ہے ، اور اب مسجد میں شوٹنگ ایک نیارجحان تشکیل پا رہا ہے تعجب نہیں کہ ہمارا خاتمہ اپنے ہی غلطیوں کا نتیجہ ہے!
    https://twitter.com/U_3322/status/1292083747836305410?s=20
    ایک صارف نے لکھا کہ یہ واقعی شرمناک فعل ہے ، انہیں مسجد میں یہ شرمناک رقص کرتے ہوئے شرم آنی چاہئے۔ کیا اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے؟ وہ نہیں جانتے کہ اسلام کیا ہے! مجھ پر بھروسہ کریں ، وہ مسلمان نہیں ہیں۔
    https://twitter.com/hamzabutt61/status/1292080876243869698?s=20
    https://twitter.com/shahfai69369961/status/1292054715451224066?s=20
    https://twitter.com/furqan_faiq/status/1292038027309494273?s=20
    واضح رہے کہ اداکاری میں نام بنانے کے بعد صبا قمریو ٹیوب پر بھی کامیابیاں سمیٹ رہی ہیں ساتھ ہی انہوں نے ہدایتکاری کے میدان میں بھی قدم رکھ لیا ہےپہلے وہ اپنے یوٹیوب چینل کی ویڈیوز کی ہدایتکاری خود کرتی تھی لیکن اب صبا نے عملی طور پر ہدایتکاری کا آغاز کیا ہےصبا قمر آج کل معروف گلوکار بلال سعید کے نئے گانے ’قبول ہے‘ کی ڈائریکشن میں مصروف ہیں وہ گانے کی ڈائریکشن کے ساتھ ساتھ ویڈیو میں بھی دکھائی دیں گی-

    جس کا اعلان اداکارہ نے اپنی انسٹا اسٹوری میں شیئر کرتے ہوئے کیا تھا کہ وہ بلال سعید کے ساتھ بطور ڈائریکٹر کام کررہی ہیں ساتھ ہی وہ بلال سعید کے نئے گانے کی ڈائریکشن کے ساتھ ساتھ ویڈیو میں بھی دکھائی دیں گی –

    صبا قمر نے بلال سعید کی پیشکش قبول کر لی

  • یوٹیوب پر قرآنی سورتوں اور آیتوں کو مونیٹائز نہیں ہونا چاہیئے  بلال مقصود

    یوٹیوب پر قرآنی سورتوں اور آیتوں کو مونیٹائز نہیں ہونا چاہیئے بلال مقصود

    پاکستان کے نامور گلوکار اور میوزک بینڈ اسٹرنگز کے رکن بلال مقصود کا کہنا ہے کہ یوٹیوب پر قرآنی سورتوں اور آیتوں کو مونیٹائز نہیں ہونا چاہیئے-

    باغی ٹی وی : بلال مقصود نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ یوٹیوب پر سورتوں اور دعاؤں کو مونیٹائز نہیں ہونا چاہیے-
    https://www.instagram.com/p/CDjdLL5peeW/?igshid=1v3erkrmp5y4d
    انہوں نے لکھا کہ تصور کیجئے کے آپ سورت رحمٰن کی تلاوت سن رہے ہوں اور اچانک سے بیچ میں کسی لان برانڈ اور آئل برانڈ کا اشتہار شروع ہو جائے یہ بہت بے ادبی کی بات ہے۔
    https://www.instagram.com/p/CDmdDyxBE0f/?igshid=1045cq645x3sm
    گلوکار کی پوسٹ پر اکثر مداحوں نے بھی ان کے خیالات سے اتفاق کیا اور کہا کہ کہا کہ انہیں بھی ایسی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے بعض صارفین نے کہا وہ بھی ایسا ہی سوچتے ہیں اور اللہ کا شکر ہے کہ کسی نے اس کے خلاف آواز اٹھائی ۔


    بلال مقصود انسٹاگرام اکاؤنٹ سکرین شاٹ
    تاہم کچھ لوگوں نے بلال مقصود کی پوسٹ پر تنقید بھی کی اور کہا کہ یہ اشتہارات ان افراد کو مالی فائدہ پہنچانے کے لیے ہیں جنہوں نے دنیا تک کچھ اچھا پہنچانے کی کوشش کی ہے۔


    بلال مقصود انسٹاگرام اکاؤنٹ سکرین شاٹ
    اس سے قبل یوٹیوب پر پابندی لگانے کے فیصلے پر بھی بلال مقصود نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یوٹیوب یا دیگر سوشل ایپس پر پابندی لگانا کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔
    https://www.instagram.com/p/CC_Z7Edp8vd/?utm_source=ig_embed
    بلال مقصود نے کہا تھا کہ آج کے اِس جدید دور میں ان مسائل پر بات کرنے سے ہم اپنے ملک کو 20 سال پیچھے لے کر جارہے ہیں جسے نامناسب مواد دیکھنا ہے وہ یوٹیوب کا محتاج نہیں ہے۔

     

    یوٹیوب پر پابندی،شوبز فنکاروں کا برہمی کا اظہار

    یاسر حسین کا پاکستان میں ٹک ٹاک پر پابندی کے حوالے سے اہم پیغام