Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • ‏گوجرانوالہ ن لیگی MPA حاجی امان اللہ وڑائچ کا ایک غریب پر بیہمانہ تشدد

    ‏گوجرانوالہ ن لیگی MPA حاجی امان اللہ وڑائچ کا ایک غریب پر بیہمانہ تشدد

    ایک اور غریب انسان طاقت اور اثر و رسوخ رکھنے والے فرعون کے زیر عتاب آ گیا-

    باغی ٹی وی : امیر اور اثر و رسوخ رکھنے والے درندہ صفت لوگوں کے ملازم اور غریب عوام اکثر ان کی درندگی اور ظلم کا شکار ہوتے رہتے ہیں کہیں معصوم زہرہ جیسی بچیوں کو پرندوں کو آزاد کرنے پر تشدد کرر کے مار دیا جاتا ہے تو کہیں ایک چھوٹی سی بات پر بوڑھی ماں پر تشدد کیا جاتا ہے- کسی ملازم کو ایک چھوٹی سی غلطی کی پاداش میں جلا دیا تھا ان پر ظلم و ستم اور تشدد کیا جاتا ہے آئے دن ایسی خبریں سننے کو ملتی ہیں جن پر انسانیت کانپ کر رہ جاتی ہے اور رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں-

    انسانوں کا انسانوں کے ساتھ ایسے ناروا اور بیہمانہ سلوک کی خبریں ایک آدھ دن کے لئے سوشل میڈیا پر گردش کرتی ہیں ٹرینڈ بنتے ہیں اور ایک طوفان کھڑا ہو جاتا ہے انصاف دینے اور دلانے کے مطالبے کئے جاتے ہیں لیکن بس یہ خبریں سوشل مٰڈیا اور ٹرینڈ کی زینت بن کر رہ جاتی ہیں اور بس پھر ختم اس طرح بات ختم ہو جاتی ہے جیسے کہ کچھ ہوا ہی نہ ہو انصاف دلانے اور دینے کے وعدے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں جس پر ایسے ظالم لوگوں کو اور شہہ ملتی ہے اور ایک نئی ظلم کی کہانی سامنے آ کھڑی ہوتی ہے-


    تاہم آج پھر سوشل میڈیا پر ایسی ہی تشدد زدہ غریب آدمی کی چند تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر محمد سدیس خآن نامی صارف نے ایک غریب تشدد زدہ آدمی کی تصاویر شئیر کیں جس میں ن لیگی MPA حاجی امان اللہ وڑاٸچ نے اس آدمی کو بے دردی سے اس لئے مارا پیٹا کیونکہ اس نے اپنے گلے میں غلامی کا پٹہ ڈالنے سے انکار کر دیا تھا-

    محمد سدیس خان نامی صارف نے لکھا کہ گوجرانوالہ ن لیگی MPA حاجی امان اللہ وڑاٸچ کا ایک غریب پر تشدد وجہ غلامی نا کرنا تھی-

    ٹویٹر صارف نے تمام لوگوں سے ن لیگی رہنما کے اس ظلم پر آواز بلند کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب اس کے لیے آواز بلند کرو تاکہ انصاف مل سکے ۔

  • ایک فرد، ایک شجر وائس آف پاکستان کی مہم

    ایک فرد، ایک شجر وائس آف پاکستان کی مہم

    وزیر اعظم عمران خان کے پاکستان کو سر سبز و شاداب اور آلودگی سے پاک بنانے کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے ملک بھر میں آج "ون ڈے پلانٹیشن ڈرائیو” کا آغاز کیا گیا اس میں ایک دن میں 35 لاکھ پودے لگائے جائیں گے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق وائس آف پاکستان کی جانب سے 7 سے 14 اگست کو ایک فرد ایک شجر کے عنوان سے شجرکاری مہم کا آغاز کیا گیا- چیئرمین وائس آف پاکستان سید عتیق الرحمن بخاری نے ہفتہ شجرکاری کا افتتاح کیا-

    اس موقع پر انہوں نے کہا کہ دنیا میں کئی ایسی چیزیں ہیں جن کی وجہ سے دنیا قائم ہے ۔ ان میں سے ایک شجرکاری بھی ہے ۔ شجر کاری ہر دور کے انسان کے لیے اہم رہی ہے اور رہے گی۔

    چیئرمین وائس آف پاکستان سید عتیق الرحمن بخاری نے کہا کہ وائس آف پاکستان کے تمام ممبران بالخصوص اور عوام الناس بالعموم ایک شجر ضرور لگائیں اور اس کا باقاعدہ خیال بھی رکھیں۔

    اس موقع پر مرکزی صدر وائس آف پاکستان رضی طاہر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور بیماریوں سے مدافعت کے لیے درخت اﷲ تعالی کی طرف سے ایک تحفہ ہیں اسی لیے اسلام نے درختوں کو کاٹنے سے منع فرمایا ہے اور انہیں زمین کی زینت قراردیا ہے۔

    خیال رہے کہ اس موقع پر ایگزیکٹو ممبر سید محمد اسد، ممبران سید منیب الحسن، نعمان بٹ، علی اصغر، امیر حمزہ، عثمان موجود تھے۔

    اس سے قبل سینئر صحافی اور اینکر پرسن مبشر لقمان نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سال ایک پودا لگائیں اور اپنے بچوں کے مستقبل سنوارنے کے لیے سرمایہ کاری کریں. صاف شفاف ماحول ہی صحت مند زندگی کا ضامن ہے . اگلی نسلوں کے لیے ہم اس کے مقروض ‌ہیں.

    واضح‌ رہے کہ ملک بھر میں آج "ون ڈے پلانٹیشن ڈرائیو” کا آغاز ہو گیا ، اس پروگرام کے تحت ایک دن میں 35 لاکھ پودے لگائے جائیں گے۔

    پاکستان کو سر سبز و شاداب اور آلودگی سے پاک بنانے کے مشن کا آغاز ہو گیا، وزیراعظم نے قوم کو شجرکاری مہم میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثرہ ملکوں کی فہرست میں شامل ہے جس سے نمٹنے کیلئے شجرکاری انتہائی اہم اور ناگزیر ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ خود شجرکاری مہم میں حصہ لوں گا، وزراء و ارکان پارلیمنٹ بھی بڑھ چڑھ کرحصہ لیں، 2023 تک 10 ارب درخت لگانا ہمارا ہدف ہے

    ملک بھر میں آج "ون ڈے پلانٹیشن ڈرائیو” کا آغاز

    آج ایک پودا لگائیں اور مستقبل میں اپنی نسل کے لیے سرمایہ کاری کریں، مبشر لقمان

    سرسبزپاکستان :غیر ملکی سفیر بھی وزیراعظم کی شجر کاری مہم کا حصہ بن گئے

    بغض عمران میں پودے لگانے والی ٹیم پر سینکڑوں افراد کا حملہ، پودے اکھاڑ کر پھینک دیئے، بیلچے لوٹ لیے

  • مسجد وزیر خان کا تقدس پامال کرنے والوں کو جلد از جلد سزا دی جائے چودھری شجاعت حسین، چودھری پرویزالٰہی

    مسجد وزیر خان کا تقدس پامال کرنے والوں کو جلد از جلد سزا دی جائے چودھری شجاعت حسین، چودھری پرویزالٰہی

    چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الہی کا صبا قمر اور بلال سعید کے بارے میں کہنا ہے کہ افسوس صد افسوس، مسجد وزیر خان کا تقدس پامال کرنے والے ابھی تک آزاد ہیں-

    باغی ٹی وی : چودھری شجاعت حسین، چودھری پرویزالٰہی نے دونوں فنکاروںً کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مسجد وزیر خان میں ناچ گانے کے تمام ذمہ داروں کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے تاکہ آئندہ کوئی ایسی ناپاک جسارت نہ کر سکے-

    چودھری شجاعت حسین، چودھری پرویزالٰہی نے مزید کہا کہ مسجد وزیر خان میں ناچ گانے کی قبیح حرکت کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں-

    چوہدری برادران نے سوالیہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ اسلام کے نام پر لاکھوں قربانیاں دے کر یہ ملک کیا اس لیے قائم کیا گیا تھا کہ یہاں مساجد میں رقص و سرور ہو-

    چودھری شجاعت حسین، چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ مساجد میں کتنی دیدہ دلیری سے ناچ گانا ہو رہا ہے جو کہ شریعت کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے سرعام ایسا کرنے اور اس کی اجازت دینے والوں کو ابھی تک پکڑ کر جیل میں نہیں ڈالا گیا-

    چودھری شجاعت حسین، چودھری پرویزالٰہی نے مزید کہا کہ اس سانحہ کے ذمہ داروں کو فوری طور پر گرفتار کر کے مقدمہ چلایا جائےانہیں قرار واقعی اور مثالی سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی ایسی قبیح حرکت کی جرات نہ کر سکے-

    مسجد وزیر خان میں ویڈیو پر وضاحت دیتے ہوئے بلال سعید نے معافی مانگ لی

    مسجد میں گانے کے شوٹ کی اجازت کے تیس ہزار روپے لیے گئے ، نوٹیفیکیشن سامنے آ گیا

    قبول ہے ایک گانا تھا ان کا اصل نکاح نہیں تھا کہ انہوں نے ایک مشہور مسجد کے مذہبی…

    قبول ہے ایک گانا تھا ان کا اصل نکاح نہیں تھا کہ انہوں نے ایک مشہور مسجد کے مذہبی…

    صبا قمر کی مسجد وزیرخان میں ڈانس کی ویڈیو وائرل

    مسجد میں گانے کی ویڈیو پر صبا قمر نے معافی مانگ لی

  • فیروز خان کا مداحوں کو گھر پر رہ کر موسم انجوائے کرنے کا مشورہ

    فیروز خان کا مداحوں کو گھر پر رہ کر موسم انجوائے کرنے کا مشورہ

    شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار فیروز خان نے کراچی والوں کو گھر پر رہ کر ہے موسم انجوائے کرنے کا مشورہ دے دیا۔

    باغی ٹی وی : اداکار فیروز خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ میری کراچی کے شہریوں سے درخواست ہے کہ براہ کرم وہ گھر پر رہیں اور محفوظ رہیں اور موسم انجوائے کریں-


    فیروز خان نے کراچی والوں کو گھر میں رہ کر موسم سے لطف اندوز ہونے کا مشورہ دیتے ہوئے ہیش ٹیگ ’کراچی رین‘ کا استعمال بھی کیا ہے-


    دوسری جانب معروف اداکار ہمایوں سعید نے بھی کراچی کے موسم کی تصاویر اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر شئیر کی تھیں تصاویر شئیر کرتے ہوئے اور خوبصورت موسم کو انجوائے کرتے ہوئے ہمایوں سعید نے لکھا تھا کہ کیا موسم ہے یار! واہ-

    جبکہ اداکار اعجاز اسلم نے مون سون بارشوں کے بعد کراچی کی صفائی کی صورتحال پر پاک فوج کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ وہ بارش کے پانی کی نکاسی کا موثر انداز میں انتظام کرنے پر پاک فوج کے مشکور ہیں انہوں نے لکھا تھا کہ پاک فوج نے اپنی بروقت امدادی کارروائیوں سے کراچی والوں کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا ہے۔

    پاک فوج نے بروقت امدادی کاروائیوں سے کراچی والوں کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا ہے اعجاز اسلم

    این ڈی ایم اے کراچی میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کو شرمندہ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہی فخرعالم

    مون سون بارشوں کے باعث کراچی کی حالت پر شوبز ستارے پریشان

    سندھ حکومت کا کراچی بھر کے شہریوں کیلئے چائے کا بڑا انتظام

    کراچی ڈوبنے کے بعد وزیراعلیٰ سندھ کو ہوش آ گیا،اجلاس میں اہم حکم دے دیا

    بارش سے کراچی تالاب کامنظر پیش کرنے لگا، کئی ہلاکتیں

    کراچی میں بارش، وزیراعظم سے ریسکیو کے لئے فوج بھیجنے کا مطالبہ آ گیا

    کراچی تین ماہ کیلئےمیرے حوالےکردیں، صاف ہوجائےگا،کراچی والےمیری صلاحیتوں سے واقف ہیں‌:مصطفیٰ کمال کا دعویٰ

  • پاک فوج نے بروقت امدادی کاروائیوں سے کراچی والوں کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا ہے  اعجاز اسلم

    پاک فوج نے بروقت امدادی کاروائیوں سے کراچی والوں کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا ہے اعجاز اسلم

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار اعجاز اسلم نے مون سون بارشوں کے بعد کراچی کی صفائی کی صورتحال پر پاک فوج کا شکریہ ادا کرکیا ہے-

    باغی ٹی وی : اداکار اعجاز اسلم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پاک فوج کی امدادی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے ایک ٹوئٹ کیا-


    اداکار نے اپنے ٹوئٹ میں پاک آرمی کا شکریہ اداکرتے ہوئے لکھا کہ وہ بارش کے پانی کی نکاسی کا موثر انداز میں انتظام کرنے پر پاک فوج کے مشکور ہیں۔

    انہوں نے لکھا کہ پاک فوج نے اپنی بروقت امدادی کارروائیوں سے کراچی والوں کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی سلسلہ وار ٹوئٹس میں فخر عالم نے این ڈی ایم اے کے کام کو سراہتے ہوئے سیاسی جماعتوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا تھا کہ این ڈی ایم اے کراچی میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کو شرمندہ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہی۔

    فخر عالم نے اپنی ٹوئٹ میں کراچی کی بارش سے قبل کی کچھ تصویریں اور این ڈی ایم اے کی صفائی کے بعد کی کچھ تصویریں شیئر کرتے ہوئے بتایا تھا کہ کراچی کی شیئر کردہ پہلے کی تصویریں اٹھارویں ترمیم کی موجودگی میں لی گئیں جبکہ بعد کی تصاویر وفاقی این ڈی ایم اے کی صفائی کے بعد لی گئی ہیں۔

    فخر عالم نے تصاویر شئیر کرتے ہوئے سوال کیا تھا کہ آپ ہی بتائیے کہ کون سی تصاویر جمہوریت کی بہتر نمائندگی کررہی ہیں؟

    فخر عالم نے اپنے ایک اور ٹوئٹ میں طنزیہ انداز اپناتے ہوئے لکھا تھا کہ ڈئیر این ڈی ایم اے براہ مہربانی کراچی کی صفائی کو ہلکا لیں آپ کراچی کی تمام سیاسی جماعتوں کو شرمندہ کررہے ہیں اور کراچی والوں کا دل جیت رہے ہیں-

    واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے این ڈی ایم اے کے چیئرمین کو ہدایت کی تھی کہ وہ کراچی کا دورہ کریں اور شہر کی صفائی شروع کردیں- اس کے بعد سے ہی کراچی میں مون سون کی بارشوں میں پاک فوج نے سول انتظامیہ کی مدد کے لیے ریلیف آپریشن کا آغاز کیا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر ) کے مطابق پاک فوج کی ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں مصروف ہیں اور ڈی واٹرنگ پمپس سمیت ضروری حفاظتی سامان کے ساتھ امدادی سرگرمیاں جاری ہیں-

    این ڈی ایم اے کراچی میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کو شرمندہ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہی فخرعالم

    مون سون بارشوں کے باعث کراچی کی حالت پر شوبز ستارے پریشان

    سندھ حکومت کا کراچی بھر کے شہریوں کیلئے چائے کا بڑا انتظام

    کراچی ڈوبنے کے بعد وزیراعلیٰ سندھ کو ہوش آ گیا،اجلاس میں اہم حکم دے دیا

    بارش سے کراچی تالاب کامنظر پیش کرنے لگا، کئی ہلاکتیں

    کراچی میں بارش، وزیراعظم سے ریسکیو کے لئے فوج بھیجنے کا مطالبہ آ گیا

    کراچی تین ماہ کیلئےمیرے حوالےکردیں، صاف ہوجائےگا،کراچی والےمیری صلاحیتوں سے واقف ہیں‌:مصطفیٰ کمال کا دعویٰ

  • زندگی ایک بار ملتی ہیں اسے بھر پور طریقے سے جینا چاہیئے  مایا علی

    زندگی ایک بار ملتی ہیں اسے بھر پور طریقے سے جینا چاہیئے مایا علی

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ مایا علی کا اپنے مداحوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہنا ہے کہ زندگی ایک بار ملتی ہے اسے بھرپور طریقے سے جینا چاہیئے۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر اپنی ایک تصویر شیئر کی جس میں وہ پھولوں کے درمیان بیٹھی مسکرا رہی ہیں اور ان کی گردن میں تکلیف کی وجہ سے کالر پہنا ہوا ہے-
    https://www.instagram.com/p/CDg7Frdn1MC/?igshid=v5txo0gn1ot2
    تصویر شئیر کرتے ہوئے اداکارہ نے لکھا کہ گزشتہ ماہ اُن کی زندگی میں بہت کچھ حیرت انگیز بالکل غیر اتفاقی طور پر ہوا۔

    انہوں نے لکھا کہ زندگی نے مجھے سخت سبق سکھائے اور میں نے تمام چیلنجوں کو قبول کیا اور تمام چیلنجز کو بھرپورطریقے سے حل کرنے کی کوشش کی-

    مایا علی نے لکھا کہ میں ان تمام لوگوں کی شکرگزار ہوں جو میرے ساتھ اس مشکل کے وقت کھڑے تھے اور جنہوں نے مجھے دعاؤں میں یاد رکھا۔

    اداکارہ نے کہا کہ خاص طور پر میں دوستوں اور اہل خانہ کی شکرگزار ہوں جو میرے چہرے پر دوبارہ مسکراہٹ لے کر آئے۔

    ساتھ ہی انہوں نے مداحوں سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مشورہ اور نصیحت بھی کی کہ زندگی ایک بار ملتی ہے جسے بھرپور طریقے سے جینا چاہئے۔

    اداکارہ نے مداحوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ میرے تمام مداحوں کی خوبصورت خواہشات اور پیغامات کے لئےان سب کا خصوصی شکریہ۔

    واضح رہے کہ مایا علی تین سال بعد جلد ہی چھوٹی سکرین پر ڈائریکٹر انجم شہزاد کے نئے ڈرامہ سیریل پہلی سی محبت میں جلوہ گر ہوں گی –

    سوہائے ابڑو اور فرحان سعید کے نئے ڈرامے پریم گلی کا پہلا ٹیزر جاری

    سونیا حسین کا ذہنی صحت سے متعلق اہم پیغام

    سونیا حسین اور سمیع خان جلد ہی نئے ڈرامے میں نظر آئیں گے

    مایا علی جلد ہی نئے ڈرامے میں جلوہ گر ہوں گی

     

    آپ خوش ہوں یا غمگین زندگی کے ہر لمحے کو سیلیبریٹ کریں صبا قمر

  • مایا علی جلد ہی نئے ڈرامے میں جلوہ گر ہوں گی

    مایا علی جلد ہی نئے ڈرامے میں جلوہ گر ہوں گی

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ مایا علی نے جلد ہی چھوٹی اسکرین پر دکھائی دیں گی-

    باغی ٹی وی :سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر اپنے نئے ڈرامے ’پہلی سی محبت‘ کے اسکرپٹ کی تصویر شیئر کرتے ہوئے مایا علی نے اعلان کیا کہ وہ جلد ہی اپنے مداحوں کو چھوٹی سکرین پر دکھائی دیں گی-
    https://www.instagram.com/p/CDlitWjHOUB/?igshid=1lagyh9nsgt1q
    اداکارہ مایا علی نے چھوٹی اسکرین پر واپسی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے ڈائریکٹر انجم شہزاد کے ساتھ ڈرامہ ’پہلی سی محبت‘ سائن کر لیا ہے۔

    اداکارہ نے کہا کہ وہ اپنے نئے پروجیکٹ کے حوالے سے بہت پرجوش ہیں۔ اس پراجیکٹ کو آئی ڈریم پروڈیوس کر رہا ہے جسے نجی چینل پر نشر کیا جائے گا۔

    سوہائے ابڑو اور فرحان سعید کے نئے ڈرامے پریم گلی کا پہلا ٹیزر جاری

    سونیا حسین کا ذہنی صحت سے متعلق اہم پیغام

    سونیا حسین اور سمیع خان جلد ہی نئے ڈرامے میں نظر آئیں گے

  • مسجد وزیر خان میں ویڈیو پر وضاحت دیتے ہوئے بلال سعید نے معافی مانگ لی

    مسجد وزیر خان میں ویڈیو پر وضاحت دیتے ہوئے بلال سعید نے معافی مانگ لی

    گلوکار بلال سعید اور اداکارہ صبا قمر کے نئے گانے قبول ہے کی ویڈیو کی مسجد وزیر خان میں شُوٹنگ اور رقص کی ویڈیو کو سوشل میڈیا پر عوام سمیت معروف شخصیات کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور فنکاروں کے اس اقدام کی شدید مذمت کی جارہی ہے۔

    باغی ٹی وی : گذشتہ روز سوشل میڈیا پر اداکارہ صبا قمر اور بلال سعید کے گانے کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے گانے کی عکس بندی مسجد وزیرخان میں کی گئی ہے جس میں مسجد کے تقدس کوپامال کیا گیا ہے۔

    صارفین اور معروف شخصیات کی جانب سے حکومت سے کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا جارہا تھا ایسے میں ’قبول ‘ کے فنکاروں نے لوگوں کی دل آزاری ہونے پر معافی مانگ لی ہے۔

    صبا قمر اور بلال سعید کے نئے گانے ’قبول ‘ کی ڈائریکٹر صبا قمر نے شدید تنقید کا نشانہ بننے کے بعد اپنے اوپر کی جانے والی تنقید کا جواب دیا ہے-

    بلال سعید نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنےسلسلہ وار ٹویٹس میں اپنے اوپر کی جانے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے قبول کی ویڈیو شئیر کی اور لکھا کہ ’قبول ‘ کا ٹیزر پیش خدمت ہے.
    https://twitter.com/Bilalsaeedmusic/status/1292087187291463682?s=19
    انہوں نے ویڈیو کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ واحد حصہ ہے جو تاریخی وزیر خان مسجد میں فلمایا گیا تھا۔ یہ میوزک ویڈیو کا تعارفی حصہ ہے جس میں نکاح کا منظر پیش کیا گیا ہے۔ اسے نہ تو کسی طرح کے پلے بیک میوزک کے ساتھ فلمایا گیا تھا اور نہ ہی یہ میوزک ٹریک کا حصہ ہے –


    بلال سعید نے لکھا کہ تھی اور وہ گواہ ہیں کہ وہاں کسی قسم کی کوئی موسیقی نہیں چلائی گئی۔ مزید پوری ویڈیو 11 اگست کو سامنے آرہی ہے۔ آپ لوگ کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے براہ کرم ویڈیو دیکھیں۔


    گلوکار نے لکھا کہ اور سمجھیں کہ ہم سب ایک ہی صفحے پر ہیں۔ہم سب مسلمان ہیں-ہمارے دل میں بھی اپنے مذہب اسلام کےلیےاتنی ہی محبت اور احترام ہے جتنا آپ سب کے دل میں ہےاور کبھی بھی اس کی توہین کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے ہیں۔


    گلوکار نے اپنے ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ بی ٹی ایس کی ویڈیو جو سوشل میڈیا پر وائرل کی گئ ہے وہ ’قبول‘ کے پوسٹر کے لیے محض ایک کلک تھا جس میں شادی شدہ جوڑے کو ان کے نکاح کے بعدخوشی سے دکھایا گیا تھا۔


    بلال سعید نے اپنے ایک اور ٹویٹ میں عوام سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ اس کے باوجود اگر ہم نے انجانےمیں اگر کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے تو ہم تہہ دل سے آپ سب سے معذرت خواہ ہیں۔ محبت اور امن!

    آخر میں انہوں نے گانے کی ریلیز تاریخ بتاتے ہوئے لکھا کہ قبول مکمل ویڈیو اگست 11 کو ریلیز ہو رہی ہے-

    مسجد میں گانے کے شوٹ کی اجازت کے تیس ہزار روپے لیے گئے ، نوٹیفیکیشن سامنے آ گیا

    قبول ہے ایک گانا تھا ان کا اصل نکاح نہیں تھا کہ انہوں نے ایک مشہور مسجد کے مذہبی…

    قبول ہے ایک گانا تھا ان کا اصل نکاح نہیں تھا کہ انہوں نے ایک مشہور مسجد کے مذہبی…

    صبا قمر کی مسجد وزیرخان میں ڈانس کی ویڈیو وائرل

    مسجد میں گانے کی ویڈیو پر صبا قمر نے معافی مانگ لی

  • صدارتی نظام کے خد و خال، اگر صدارتی نظام حکومت اختیار کیا جائے تو جاگیرداروں، قبائلی سرداروں کی طاقت کم ہوگی اور ارکان پارلیمان کی انتظامی امور میں مداخلت میں کمی آئے گی  تحریر عدنان عادل

    صدارتی نظام کے خد و خال، اگر صدارتی نظام حکومت اختیار کیا جائے تو جاگیرداروں، قبائلی سرداروں کی طاقت کم ہوگی اور ارکان پارلیمان کی انتظامی امور میں مداخلت میں کمی آئے گی تحریر عدنان عادل

    صدارتی نظام کے خد و خال

    فرض کرلیجیے کہ صدارتی تائید کو عوامی تائید حاصل ہوجاتی ہے اور ملک میں پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام نافذ کردیا جاتا ہے توہمیں ان سوالوں پر غور اور بحث و تمحیص کرنا ہوگی کہ اس نئے سیاسی بندوبست میںکیا مسائل درپیش ہوں گے‘ انہیں کس طرح حل کیا جائے گا‘اس سسٹم کے کیا فوائد اور نقصانات ہوسکتے ہیں۔ پہلا سوال تو یہ ہے کہ کیا صدارتی نظام اس طرز کا ہوگا جو جنرل ایوب خان لائے تھے جس میںصدر کا انتخاب براہ راست عوام کے ووٹوں سے نہیں ہوتا تھا بلکہ نوّے ہزار بلدیاتی کونسلرز صدر کے انتخاب میں ووٹ ڈالتے تھے؟ ان بلدیاتی کونسلرز کو اس وقت بی ڈی(بیسک ڈیموکریسی) ممبرز کہا جاتا تھا۔اس طریقہ انتخاب پر ایک اعتراض تو یہ تھا کہ اس میںحکومتِ وقت دباؤ ڈال کر‘ سرکاری فنڈز ‘سرکاری مشینری استعمال کرکے اپنے پسندیدہ امیدوار کو جتوا سکتی تھی۔ ایوب خان نے محترمہ فاطمہ جناح کو شکست دی تو ان پر یہی الزامات لگائے گئے تھے۔ اس لیے اس طریقہ انتخاب کی ساکھ کوشدید نقصان پہنچا۔ اب اگر دوبارہ اسی طرز کاصدارتی نظام اختیار کیا گیا تو سیاسی طور پر فعال طبقات اور رائے عامہ پر اثر انداز ہونے والے دانشور‘ صحافی اسے قبول نہیں کریں گے۔ رائے عامہ اسے قبول نہیں کرے گی۔ متبادل یہ ہے کہ صدر کا الیکشن براہِ راست عوام کے ووٹوں سے کیا جائے۔ پورے ملک کے ووٹربالغ رائے دہی کی بنیاد پر اپنی اپنی پسند کے صدارتی امیدوار وںکو ووٹ ڈالیں۔جسکے ووٹ زیادہ ہوں وہ کامیاب ہوجائے‘ صدر بن جائے۔ اس طریقہ میںایک مسئلہ درپیش ہوگا کہ اگر متعدد امیدوار کھڑے ہوجائیں تو وہ شخص کامیاب ہوجائے گا جس کے تمام امیدواروںکے مقابلہ میں تو زیادہ ووٹ ہونگے لیکن ڈالے گئے مجموعی ووٹوں کی اکثریت اسکے خلاف ہوگی۔ ہوسکتا ہے کہ ایک شخص تیس پینتیس فیصد ووٹ لیکر کامیاب ہوجائے۔ بقیہ ووٹ متعدد امیدواروں میں تقسیم ہوجائیں۔ اس طرح منتخب ہونے والے صدر کی سیاسی ساکھ کمزور ہوگی۔ ملک کی اکثریت اسکے ساتھ نہیں ہوگی۔ خدشہ ہے کہ ترپن فیصد آبادی والے صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والا امیدوار ہی ہر دفعہ کامیاب ہوجایا کرے گا۔ چھوٹے صوبوں میں احساس محرومی پیدا ہوگا۔ان خطرات سے بچنے کی غرض سے بہتر یہ ہے صدر کے براہ ِراست الیکشن میں اکیاون فیصد ووٹ لینے کا اصول اختیار کیا جائے۔ پہلے مرحلہ میں اگر کوئی امیدوار ڈالے گئے ووٹوں کا اکیاون فیصد حاصل نہ کرسکے تو دوسری بار ووٹنگ کرائی جائے جس میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والے دو بڑے امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہو۔کئی ملکوں میں یہ طریقہ رائج ہے۔ اسے ’رن آف الیکشن ‘کہا جاتا ہے۔ اس طریقہ کو اختیار کرنے سے الیکشن کرانے کے اخراجات بہت بڑھ جائیں گے لیکن اسکے فوائد مالی نقصان پر بھاری ہیں۔ صدر کے الیکشن میں دوسری شرط یہ رکھی جائے کہ کامیاب امیدوار کے لیے کم سے کم دو صوبوں سے اکثریتی ووٹ لینا لازمی ہوتاکہ پنجاب کی عددی اکثریت کی بنیاد پر صدر بننے کا امکان ختم ہوجائے۔ اس شرط سے چھوٹے صوبوں میںاس نظام میں اعتماد پیدا ہوگا کہ اُن سے مینڈیٹ لیے بغیر کوئی صدر نہیں بن سکتا۔درحقیقت صدارتی نظام اختیار کرنے میں سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ چھوٹے صوبوں کا اعتماد حاصل کیا جائے اور انکے خدشات کو دورکیا جائے۔صدارتی نظام میں صدر انتظامیہ کا سربراہ ہوتا ہے۔ انتظامیہ اور قانون ساز ادارے الگ الگ ہوتے ہیں۔ موجودہ نظام میں پارلیمان ہی سے انتظامیہ کا سربراہ یعنی وزیراعظم اور اسکی کابینہ جنم لیتے ہیں۔ صدارتی طریقہ میںپارلیمان کا کام صرف قانون سازی تک محدودہے۔ ارکانِ اسمبلی انتظامی کاموں میں دخل اندازی نہیں کرسکتی۔ صدر پارلیمان کی خوشنودی کے لیے سیاسی اقدام کرنے کی بجائے ملکی نظم و نسق پر توجہ دے سکے گا۔صدارتی نظام اختیار کرنے سے انتظامی امور میں سیاسی عمل دخل ختم شائد نہ ہو لیکن کم ضرور ہوجائے گا۔یہی اسکا سب سے بڑا فائدہ ہے۔ صدر کیلئے ضروری نہیں ہوگا کہ وہ اپنے وزراء کا انتخاب ارکانِ پارلیمان سے کرے۔ وہ ماہرین‘ ٹیکنوکریٹس پر مشتمل کابینہ تشکیل دے سکتا ہے۔عام طور سے ارکان پارلیمان مقامی مسائل کی بنیاد پر الیکشن جیت کر آتے ہیں اور بڑے قومی نوعیت کے مسائل کی سوجھ بوجھ نہیں رکھتے۔اس کمزوری پر قابو پانے کیلئے موجودہ نظام میں وزیراعظم کو مشیروں اورمعاونین خصوصی کا تقرر کرنا پڑتا ہے۔موجودہ پارلیمانی نظام میںخرابی کی ایک بڑی وجہ بااثر مقامی سیاستدان ہیںجنہیں الیکٹ ایبل کہا جاتا ہے۔ یہ حکمرانی کے نظام میں متعدد خرابیوں کے ذمہ دار ہیں۔ انتظامی امور میں انکی سیاسی مداخلت سے غیرقانونی کام کیے جاتے ہیں‘ میرٹ پامال ہوتا ہے‘ انکی سفارش پر افسروں کے تبادلہ اور تعیناتی سے انتظامی ڈھانچہ ناکارہ ہوچکا ہے۔بڑے زمینداروں‘ قبائلی سرداروں پر مبنی الیکٹ ایبلز نے سیاسی‘ انتظامی نظام پر شکنجہ کسا ہوا ہے۔صدارتی نظام میں ان مقامی سیاستدانوں کا زورٹوٹ جائے گا۔جاگیرداروں‘ وڈیروں اور قبائلی سرداروں کی اہمیت کم ہوجائے گی۔اسکے برعکس سرکاری افسروں کی طاقت بڑھ جائے گی۔وہ زیادہ آزادی سے کام کرسکیں گے‘ قاعدہ قانون کے مطابق کام کرسکیں گے۔ لاقانونیت کم کرنے میںمدد ملے گی۔ اگر کوئی حکومت میرٹ اور قابلیت کی بنیاد پر دیانت دار افسران تعینات کرے گی تو ملک میں قانون کی حکمرانی قائم ہوسکے گی۔ تاہم یہ نہیں کہا جاسکتا کہ صدارتی نظام لانے سے صدر پارلیمان کے اثر سے بالکل آزاد ہوجائیگا۔ کسی بھی حکومت کو اپنا کام چلانے کے لیے اکثروبیشتر نئے قوانین بنانا پڑتے ہیں۔ صدر کو قانون سازی کے لیے پارلیمان کے پاس جانا پڑ تا ہے۔ اس موقع پر ارکانِ پارلیمان صدر سے اپنے مطالبات منواتے ہیں۔ امریکہ میں بھی یہی ہوتا ہے کہ صدر کو کانگریس کے ساتھ سودے بازی کرنا پڑتی ہے۔ کچھ لو‘ کچھ دو کے اصول کے تحت کام چلانا پڑتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی صدر کو ارکان پارلیمان کی بات سننا پڑے گی۔ یوں مختلف علاقوں کے نمائندہ ارکان اپنے علاقوں کے ترقیاتی کاموں اور دیگر مسائل کے حل کے لیے حکومت سے اپنے مطالبات منواسکیں گے۔صدارتی نظام ملک کو سیاسی استحکام اور قانون کی حکمرانی کی طرف لے جاسکتاہے۔ اس میںجاگیرداروں اور قبائلی سرداروں کی طاقت بھی کم ہوجائے گی جس سے ملک میں معاشی اور سماجی ترقی کا راستہ آسان ہوجائے گا۔ پارلیمان ا ور اننظامیہ کی علیحدگی سے انتظامی اداروں میں سیاسی مداخلت کے منفی نتائج سے بچا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ اسی صورت ممکن ہے جب قوم کی اکثریت اس نظام کو لانے کی تائید کرے۔

  • آٹزم کو شیزوفیرینیا کی علامت قرار دینے پر تنقید کا سامنا کرنے پر سونیا حسین کا سوشل میڈیا صارفین کو جواب

    آٹزم کو شیزوفیرینیا کی علامت قرار دینے پر تنقید کا سامنا کرنے پر سونیا حسین کا سوشل میڈیا صارفین کو جواب

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی نامور اداکارہ سونیا حسین اور معروف اور سینئیر اداکار سمیع خان جلد ہی ایک ذہنی بیماری کواجاگر کرتے ایک ڈرامے میں دکھائی دیں گے-

    باغی ٹی وی : اداکار سمیع خان اور سونیا حیسن جلد ہی نجی ٹی وی چینل ہم کے ڈرامے سراب میں نظر آئیں گے جس میں سونیا حسین ایسی لڑکی کا کردار ادا کرتی دکھائی دیں گی جو ذہنی بیماری کا شکار ہے۔

    سمیع خان اور سونیا حسین اپنے آنے والے ڈرامے سراب میں ذہنی بیماری شیزوفیرینیا سے متعلق آگاہی پیدا کریں گے جس میں اداکارہ سونیا ایک ذہنی مریضہ کا کردار ادا کریں گی شیزوفیرنیا ایک دائمی ذہنی بیماری ہے جو سوچنے کے انداز کو اور حقیقت کی ترجمانی میں دماغ کے افعال کو متاثر کرتی ہے اس مرض کا شکار افراد کو فریبِ نظر جیسے مسائل کا سامنا بھی ہوتا ہے۔

    چند روز قبل سونیا حسین اور سمیع خان کے ڈرامے سراب کے 2 ٹیزر ریلیز کیے گئے تھے جن میں اس کے کرداروں اور کہانی کی جھلک پیش کی گئی تھی۔

    پہلے ٹیزر کے سین میں دکھایا گیا کہ سونیا حسین اور سمیع خان ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں لیکن دوسرے سین میں اداکارہ سونیا خوف کی حالت میں بھاگتی نظر آتی ہیں-

    دوسرے ٹیزر میں سونیا حسین اور سمیع خان اپنی شادی سے متعلق گفتگو کرتے ہیں اور پھر شادی کے لباس میں اداکارہ سونیا حسین سمیع خان کو پہنچاننے سے انکار کرتی دکھائی دیتی ہیں-

    بعد ازاں ٹیزر میں سمیع خان فون پر بات کرتے دکھائی دیتے ہیں اور سونیا حسین اپنے خیال میں اداکار کے ساتھ جاتے ہوئے نظر آتی ہیں جو اصل میں اکیلی باہر چلی جاتی ہیں۔

    ڈرامے کے دونوں ٹیزر سے ظاہر ہوتا ہے کہ سونیا حسین ذہنی بیماری کا شکار ایک ایسی لڑکی کا کردار ادا کررہی ہیں جس میں وہ کبھی بالکل ٹھیک دکھائی دیتی ہیں اور کبھی انہیں کچھ بھی یاد نہیں رہتا

    اس کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر اداکارہ سونیا حسین نے ذہنی صحت سے متعلق اپنے پیغام میں لکھا تھا کہ اگر آپ اپنی ذہنی صحت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شرمندگی محسوس کرتے ہیں تو براہ مہربانی آپ ایک بار جا کر اس کی تعریف کا جائزہ لیں۔
    https://www.instagram.com/p/CDf5TJNDWUO/?igshid=zqz5x6i8dtoo
    سونیا حسین نے لکھا تھا کہ ذہنی مسائل کا شکار افراد بھی اسی عزت و احترام کے مستحق ہیں جیسے عارضہ قلب میں مبتلا مریض ۔

    اداکارہ نے لکھا تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ کسی بھی شکل میں ذہنی بیماری کیلئے شرم محسوس کرنے کو ختم کیا جائے-

    تاہم اداکارہ نے جو تصویر پوسٹ کی اس میں انہوں نے غم، خودکشی اور دیگر چیزوں کے ساتھ آٹزم کو بھی شامل کردیا اور انہیں اس وقت اپنے خیالات پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے اس بیماری کا شکار 2 بچوں کی والدہ کو اس کی وضاحت دینے کی کوشش کی-

    اداکارہ کی پوسٹ پر ردعمل دیتے ہوئے 2 بچوں کی والدہ نے لکھا کہ آٹزم ذہنی بیماری نہیں ہے بلکہ یہ ایک معذوری ہے۔

    سونیاحسین انسٹاگرام اسکرین شاٹ
    انہوں نے لکھا کہ میرے ماشااللہ 2 بچے ہیں جنہیں آٹزم ہیں لہٰذا میں جانتی ہوں کہ میں کس بارے میں بات کررہی ہوں ورنہ یہ بہت اچھا پیغام ہے اور اسے اجاگر کرانا اور اس انتہائی حساس موضوع کے بارے میں شعور پیدا کرنا بہت اہم ہے-

    جس پر سونیا حسن نے جواب دیا کہ ہم آپ لوگوں کے بارے میں نہیں جاتنے لیکن عام طور جب کوئی اپنی زندگی کے تجربے کے بارے میں بات کرتا ہے تو ہم اسے سنتے ہیں

    اداکارہ نے مزید لکھا کہ شاید ہم نے غلطی سے شامل کردیا کہ ‘آٹزم، شیزوفیرینیا کی ایک علامت ہے-

    ایک اور صارف نے تبصرہ کیا کہ برائے کرم اسکرپٹ لینے سے پہلے تحقیق کریں اور ایسے ہی ان اصطلاح پر بات نہ کریں کہ ایسے موضوعات پر گفتگو کرنا اچھا سمجھا جاتا ہے، آٹزم ایک نیوروڈیولپمنٹ کنڈیشن ہے۔


    سونیاحسین انسٹاگرام اسکرین شاٹس
    اداکار معاشرے میں کسی چیز کے متعلق آگاہی پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں لہذا انہیں کسی بھی چیز یا بیامری یا کسی بھی ایشو پو آواز اٹھانے سے پہلے اچھی طرح جانچ پڑتال کر لینی چاہیئے اور آگاہی پیغام پھیلانے سے پہلے بہتر ہے کہ پہلے وہ خود بھی اس ایشو کے متعلق اچھی طرح آگاہ ہوں-

    سونیا حسین نے صارفین کی اس تنقید اور بحث کے بعد ایک تفصیلی نوٹ شئیر کیا جس میں انہوں نے ذہنی صحت کے بارے میں بات کرتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے ذہنی صحت کے حاولے سے پیغام پھیلانے اور اسے نقطے کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے-
    https://www.instagram.com/p/CDoaS9ljcDJ/?igshid=1sovzdmj1dxwq
    سونیا حسین نے اپنے تفصیلی نوٹ میں لکھا کہ ابہوں نے ہمیشہ سے ایسے ایشوز کے حوالے سے اپنی طرف سے ممکن حد تک حوصلہ افزائی کی ہے انہوں نے لکھا کہ وہ اس ڈپریشن نامی بیماری کے حوالے سے بہات زیادہ گہرائی سے جانتیں ہیں کیونکہ ان کی والدہ پچھلے پندرہ سالوں سے ڈپریشن میں مبتلا ہیں-

    سونیا حسین نے لکھا کہ وہ اس کے بارے میں زیادہ وسیع علم کے ساتھ جلد ہی اس کو ڈسکس کریں گی اور وہ اپنے سوشل میڈیا پر جلد ہی مینٹل ہیلتھ ایکسپرٹس کے ساتھ ذہنی بیماری اور ڈپریشن کو ڈسکس کریں گی-

    انہوں نے کہا کہ اگر کسی نے اس بارے می کوئی سوال پوچھنا چاہیں یا اس کے بارے میں کوئی کہانی یا ویڈیو شئیر کرنا چاہیں تو میرے ان باکس میں سینڈ کر دیں اھر کوئی نہیں چہاتا کہ اس کا نام سامنے آئے تو وہ اپنے نام کے بغیر بھی سول جواب کر سکتا ہے

    سونیا حسین اور سمیع خان جلد ہی نئے ڈرامے میں نظر آئیں گے

    سونیا حسین کا ذہنی صحت سے متعلق اہم پیغام