Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • پھر تو ایک روشن ستارہ بن جائے  تحریر:اخت شیرازی

    پھر تو ایک روشن ستارہ بن جائے تحریر:اخت شیرازی

    اخت شیرازی
    *دعا*

    خدا تیرا مقدر بدلے
    پھر تو آفتاب سی کرنیں بخشے
    تو اک جرات و بہادری کا نشاں بنے
    اور قاسم و ایوبی کی پہچاں بنے

    تو رہے سلامت ہمیشہ یونہی
    تیری عبادتوں میں کمی نہ آئے
    تیری عزت و رفعت رہے سلامت
    تیرے جذبوں میں یونہی قرار آئے

    پھر یوں ہو اک دن
    تیرے جذبے ابھریں
    تلک ذمین سے فلک تک جائیں
    تیرے خیال حقیقت میں بدلیں
    پھر تو اک روشن ستارہ بن جائے
    *آمین*
    —————————————-

  • کسی بھی کام کو کرنے میں جلد بازی نہ کریں ہر کام کو پُرسکون انداز میں سرانجام دیں   عمران عباس

    کسی بھی کام کو کرنے میں جلد بازی نہ کریں ہر کام کو پُرسکون انداز میں سرانجام دیں عمران عباس

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اور خوبرو اداکار عمران عباس نے اپنے مداحوں کو سوشل میڈیا پر ایک کوبصورت پیغام دیا ہے

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر عمران عباس نےاپنی ایک تصویر پوسٹ کی جس میں اداکار اپنے گھر کےلان میں بیٹھے ہیں اور ہمیشہ کی طرح خبرو اور پُرکشش نظر آرہے ہیں۔

    پوسٹ کے کیپشن میں اداکار نے لکھا کہ امن ایک ایسا عمل ہے جو روزانہ، ہفتہ وار اور ماہانہ کیا جاتا ہے جس کے ذریعے ہم آہستہ آہستہ اپنی منفی رائے کو بدلتے ہیں اور اپنے مقصد میں آنے والی رکاوٹوں کو ختم کر دیتے ہیں۔

    عمران عباس نے لکھا کہ اور پھر اپنے مقصد کے لیے نیا ڈھانچی تعمیر کرتے ہیں جو ہمارے لیے مفید ہوتا ہے۔

    اداکار نے لکھا کہ اسی لیے آپ کسی بھی کام کو کرنے میں جلد بازی نہ کریں، ہر کام کو پُرسکون انداز میں سرانجام دیں تاکہ آپ کو کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

    اُنہوں نے لکھا کہ جب بھی آپ کوئی کام کریں تو آپ خود کو اندرونی طور پر بھی پُرسکون رکھیں چاہے آپ کے سامنے دُنیا کی کتنی ہی بڑی پریشانی کیوں نہ ہوں کبھی بھی صبر کا دامن نہ چھوڑیں۔

    اس سے قبل عمران عباس نے اپنی ایک انسٹاگرام پوسٹ میں مداحوں کو نصیحت کرتے ہوئے لکھا تھا کہ چاہے جیسے بھی حالات ہوں ہمیشہ مثبت رہیں اور اپنی زندگی کے روشن پہلو دیکھیں آپ اپنے کسی بھی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے جتنی زیادہ محنت کریں گے تو آپ اُس کو حاصل کرنے کے بعد خود پر اُتنا ہی زیادہ فخر محسوس کریں گے۔

    ہر حال میں مثبت رہیں اور زندگی کے روشن پہلو دیکھیں

  • اے کالی سہمی سی راتو   تحریر:ثمرین اختر اصباح

    اے کالی سہمی سی راتو تحریر:ثمرین اختر اصباح

    اے کالی سہمی سی راتو!
    کچھ ٹھہرو سورج نکلے گا
    کچھ ٹھہرو اے زنجیر مری
    ہے آزادی تقدیر مری
    یہ آگے بڑھتے ظالم ہاتھ
    اب کاٹے گی شمشیر مری
    ہے وادیِ کشمیر مری

    کچھ ٹھہرو، تھام کے دل دیکھو
    اے قاتل ! اے بزدل! دیکھو
    یہ خون کا دریا بہتا ہے
    یہ تم سے بھی کچھ کہتا ہے
    اب بچہ بچہ وادی کا
    برہان سا بن کے نکلا ہے
    تم روک سکو گے کتنوں کو
    تم خون کرو گے کتنوں کا
    یہ خون محبت والوں کا
    آزادی کے متوالوں کا
    سب شرق پہ جمتا جائے گا
    اور آزادی کا سورج پھر
    اس اور نکل کے آئے گا
    یہ خون تو ہے توقیر مری
    ہے وادیِ کشمیر مری

    تم دیکھو گے ،ہاں دیکھو گے
    اب خون سے لپٹے سب لاشے
    اس سبز ہلالی پرچم میں
    یہ سبز ہلالی پرچم ہی
    اب وادی میں لہرائے گا
    کہ وادی میں ہے آئی جاں
    اب جاگ اٹھا کشمیر میاں
    سب بچے بوڑھے اور جواں
    صبح شام پکاریں ایک زباں
    کشمیر بنے گا پاکستاں
    کشمیر بنے گا پاکستاں

    قلمِ خود
    ثمرین اختر اصباح

  • آیا صوفیہ کی بحالی اور ترکی کا نیا ارطغرل  تحریر : عشاء نعیم

    آیا صوفیہ کی بحالی اور ترکی کا نیا ارطغرل تحریر : عشاء نعیم

    آیا صوفیہ کی بحالی اور ترکی کا نیا ارطغرل
    تحریر : عشاء نعیم

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے استنبول کی تاریخی اہمیت کی حامل عمارت آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے کے صدارتی حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں۔
    جمعہ کے مبارک دن مسلمانوں کے لیے جب ہر طرف سے افسوس ناک اور رنجیدہ کر دینے والی خبریں سننے کو مل رہی ہیں اور مسلمان بے بسی کی تصویر بنے نظر آتے ہیں
    یہ ایک عظیم خوش خبری تھی ۔
    جبکہ مزید طیب اردگان نے کہا
    "آیا صوفیہ کا دوبارہ مسجد میں تبدیل ہونا ،مسجد اقصی کے دوبارہ فتح ہونے کا پہلا قدم ہے”
    اردگان کی یہ بات مسلمانوں کی روح کو تسکین دے گئی ۔
    1934 میں جب کمال اتاترک جیسے ملحد نے جہاں ترکی سے خلافت ختم کی وہیں اللہ کے گھر آیا صوفیہ کو مسجد سے عجائب گھر میں تبدیل کر دیا ۔
    یاد رہے اس ملحد نے ترکی سے اسلام کامکمل خاتمہ کردیا تھا ۔
    سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ کر کے ترکی میں ہر اسلامی شعار پہ پابندی، نماز ،قرآن اور اذان ہر چیز پہ پابندی ہی نہیں لگائی بلکہ ترکی زبان میں شامل عربی الفاط بھی ختم کردیئے ۔
    پردے پہ پابندی لگا دی اور اپنے مغربی آقاوں کی خوب غلامی کرتے ہوئے اسلام سے غداری کی ۔
    لوگ چھپ چھپ کر نماز پڑھتے تھے اور وہاں پولیس گھر گھر جاکر تلاشی لیتے تھی کسی کے گھر سے جائے نماز یا قرآن نکل آتا تو اسے پکڑ کر لے جاتے تھے ۔
    ترکی نے اس کے بعد خوب مادی ترقی کی اور ایک سازش کے تحت لوگوں کے ذہن بھی بدل دیئے گئے ۔
    اب ترکی کا اسلام سے واسطہ نظر نہیں آتا تھا بلکہ ترکش لوگ یورب میں شامل ہونے کے لیے ہلکان ہوئے جاتے تھے ۔
    مغربی لباس ہی نہیں بلکہ تہذیب اور ہر رنگ مغرب کے رنگ میں رنگ گیا ۔
    لیکن اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس کے دل میں بس جائے پھر نکالنا آسان نہیں ہوتا ۔
    کیونکہ یہ سچا آفاقی مذہب ہے جو عین فطرت کے مطابق ہے ۔
    ترکی میں بھی لوگ چھپ چھپ کر نماز قرآن پڑھتے رہے اور اپنی اولاد کو بھی اسلام سے آگاہ کرتے ہوئے اپنے اسلاف ست روشناس کرواتے رہے ۔
    ان کے دل سے کوئی اسلام نہ نکال سکا ۔
    کچھ لوگ تو محض ڈر کی وجہ سے بظاہر ایسا روپ دھارے ہوئے تھے جو مغربی یا سیکولر تھا لیکن دل پکا مسلمان تھا۔
    انھیں اسلام پسند لوگوں میں ایک احمد اردگان بھی تھا جس نے اپنے بیٹے کو نہ صرف اسلام سے روشناس کروایا بلکہ اسے نسل و حسب پہ فخر کرنا بھی بتایا کہ غیر معنی ہے اور اصل چیز تقوی ہے ۔
    طیب اردگان کی زندگی پہ بحث الگ چیز ہے فی الحال آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ اس نے ترکی کی باگ ڈور سنبھالتے ہی مذہب پہ پابندی کا قانون معطل کردیا اور حجاب پہ لگی پابندی کا خاتمہ کر دیا ۔اس کی اپنی بیوی بھی حجاب لیتی ہے ۔
    اس سے اسلام پسند حلقے میں جہاں ترکی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی وہاں پوری دنیا کے مسلمانوں نے مسرت کا اظہار کیا ۔
    اس کے بعد طیب اردگان کے کئی اسلامی کارنامے سامنے آئے ۔
    جن میں کونٹنٹ وار میں شامل ہونے کے لیے ارطغرل جیسا دنیا کا مقبول ترین ڈرامہ اور اب سلطنت عثمانیہ کے بانی عثمان غازی بھی شامل ہے ۔
    اس کے علاوہ نئی نسل کو اپنے اپنی تاریخ سے آگاہ کرنے کے لیے شاندار ماضی کو دکھانے کے لیے آخری خلیفہ عبدالحمید جیسے ڈرامے بھی بنائے ۔
    بظاہر یہ ڈرامے ہیں لیکن ان ڈراموں نے مسلمان بچوں کے ذہن بدل کر رکھ دئیے ہیں ۔
    تو بات ہو رہی تھی آیا صوفیہ کی جسے مسجد سے عجائب گھر اور عجائب گھر سے مسجد میں تبدیل کیا گیا ہے ۔
    یہ شروع میں ایک عیسائیوں کی عبادت گاہ تھی جسے
    1453 میں سلطان فاتح محمد نے اسے مسجد میں تبدیل کرتے ہوئے یہاں پانچ وقت رب کی عبادت کے لیے وقف کردیا ۔
    بعد میں اس کی عمارت کو باقاعدہ مسجد کی طرز میں تبدیل کردیا گیا اور مشہور عثمانی ماہرِ تعمیر سنان نے اس عمارت کے گنبد کے ساتھ چار مینار تعمیر کیے اور مسجد کے اندر تصاویر ہٹا کر ان کی جگہ اسلامی خطاطی کی تھی۔

    پھر 1934 میں سینکڑوں سال اذان کی آواز گونجتی کو بند کردیا گیا تھا ۔
    اور اسے عجائب گھر قرار دے دیا گیا ۔
    موجودہ ترک صدر شروع ہی سے اسے مسجد بنانے کے لیے پرعزم تھے۔ سال 1994 میں جب وہ  استنبول کے ناظم کا انتخاب لڑ رہے تھے تو انہوں نے اس عمارت کو نماز کے لیے کھولنے کا وعدہ کیا تھا جبکہ 2018 میں وہ یہاں قرآن کی تلاوت بھی کرچکے ہیں۔

    ترک صدر رجب طیب اردوغان نے یونیسکو کے عالمی تاریخی ورثے میں شامل اس مقام کو دوبارہ مسجد میں تبدیل کرنے کی تجویز دی تھی۔ آیا صوفیہ مسیحی بازنطینی اور مسلمان سلطنت عثمانیہ دونوں کے لیے بنیادی اہمیت کی حامل رہی ہے۔
     آیا صوفیہ دنیا کی مشہور ترین عمارتوں میں سے ایک جو 537 میں تعمیر ہوئی اور سیاحوں کے لیے انتہائی کشش کی حامل تاریخی عمارت ہے۔ ترکی میں سیاح سب سے زیادہ اس جگہ کو دیکھنے آتے ہیں۔
     1400 سال قدیم عمارت ترکی کی سیکولر بنیادیں محفوظ بنانے کے حامیوں اور صدر کی خواہشات کے درمیان کشمکش کا مرکز ہے۔عدالت کا فیصلہ آنے سے پہلے ہی یونان، روس اور امریکی حکام اس پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ روس میں مشرقی آرتھوڈاکس کلیساؤں کے وفاق کے سربراہ نے کہا تھا کہ انہیں ترک حکومت کے اس اقدام پر تشویش ہے۔
    واضح رہے کہ آیا صوفیہ تعمیر کے بعد سے کئی صدیوں تک مشرقی آرتھوڈاکس کلیسا کے طور پر استعمال کی جاتی رہی ہے۔ روسی مذہبی رہنما نے کہا کہ آج قدیم کلیسا کے ہر روسی پیروکار کے لیے آیا صوفیہ ایک عظیم عیسائی عبادت گاہ ہے اور اس کی موجودہ حیثیت میں کوئی بھی رد و بدل روسی عوام کے دکھ کا باعث ہو گا۔
     انہوں نے ترک حکومت سے درخواست کی تھی کہ وہ اس معاملے میں احتیاط سے کام لیں۔ یونیسکو نے بھی ایک بیان میں اس اقدام پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
    یونان کی وزیر ثقافت لینا منڈونی نے اس عدالتی فیصلے کو مہذب دنیا کے لیے ‘کھلی اشتعال انگیزی’ قرار دیتے ہوئے کہا ‘آج کا فیصلہ، جو صدر اردوغان کی سیاسی خواہش کا نتیجہ ہے، مہذب دنیا کے لیے کھلی اشتعال انگیزی ہے، جو اس یادگار کو اتحاد کی علامت سمجھتی اور اس کی منفرد خصوصیت کو جانتی ہے
    یونیسکو کی جانب سے اس عمارت کو 1985 میں عالمی تاریخی ورثے میں شامل کیا گیا۔ ہر سال لاکھوں سیاح آیا صوفیہ کو دیکھنے کے آتے ہیں۔ یہ 2019 میں 38 لاکھ سیاحوں کے ساتھ ترکی کا معروف ترین مقام تھا۔
    الحمداللہ جمعہ کے دن ترکی کی عدالت نے تاریخ ساز فیصلہ دیتے ہوئے اسے مسجد میں تبدیل کردیا ۔
    وہاں سالوں بعد گونجتی اذان مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑا گئی تو امید کی کرن بھی نظر آئی کہ کہیں مسلمان بھی ہیں جو کچھ کر سکتے ہیں ۔
    اور اللہ کا حکم پورا کرتے ہوئے دنیا کے ہر حکم کو ٹھوکر پہ رکھ سکتے ہیں۔
    دوسری طرف ہمارا پیارا پاکستان جس کے وزیر اعظم صاحب نے ریاست مدینہ کا دل نشیں نعرہ لگا کر پاکستانی عوام کے دل رو جیت لیے لیکن اقدامات انتہائی افسوس ناک ہیں ۔
    گستاخ رسول کی رہائی ،علما کی گرفتاریاں اور بہت کچھ دوسرا ہونے کے ساتھ اب پاکستان کی عدالت کا اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے حق میں فیصلہ اور وزیر اعظم صاحب کی منظوری نے پاکستانی عوام کے دل توڑ دیئے ہیں ۔
    ہمیں سمجھ نہیں آ رہی کہ ایک لا الہ الا اللہ کی بنیاد پہ بننے والے ملک میں کس طرح ممکن ہے کفر و شرک کی عمارت کی تعمیر وہ بھی اسلامی ملک کی حکومت اپنے خرچے پہ کرے اور عوام کی رائے کو بھی رد کردے ۔
    جبکہ اسلام بھی اس کی اجازت نہیں دیتا ۔
    علما کا فتوی واضح ہے ۔
    اس سلسلے میں بودے خیالات اور دنیا کے نظریات پیش کیے جاتے ہیں۔
    اسے انسانی حقوق اور روشن خیالی قرار دینا انتہائی جہالت ہے کیونکہ اسلام خالق کائنات کا اتارا ہوا مذہب ہے اور اسی نے اس کی اجازت نہیں دی تو میری اور آپ کی عقل کیا اللہ سے بڑھ گئی ہے ؟
    ہمیں زیادہ معلوم ہے کہ انسانوں کے حقوق کیا ہیں؟
    وہ جو ستر ماؤں سے بڑھ کر انسان سے پیار کرتا ہے اسے نہیں معلوم کہ انسان کو کیا حق دینا ہے ؟
    اور بطور مسلمان ہم کیسے اپنے رب کے ساتھ بتوں کو شریک بنانے کے لئے خود اپنے خرچے سے عمارت بنا کر دینے پہ راضی ہو سکتے ہیں ؟
    خان صاحب!اگر طیب اردگان آیا صوفیہ کو واپس مسجد میں تبدیل کر سکتا ہے تو پاکستان بھی مندر بنانے سے انکار کر سکتا ہے جبکہ اس کی ضرورت تو ہندووں کو بھی ہرگز نہیں ہے ۔ کیونکہ اسلام آباد میں پہلے سے کئی مندر موجود ہیں ۔
    باقی اتنے دلائل دیتے ہیں آپ ریاست مدینہ کے والی کے اقدامات کے ،کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کوئی مذہبی عبادت گاہ بنا کر دی کسی قوم کو ؟
    کیا فتح مکہ کے موقع پہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لطف و کرم کی انتہا ،ہر دشمن کو معاف کردیا تھا ،یہود و بت پرستوں کے لیے کسی عبادت گاہ کی تعمیر کا بھی اعلان کیا تھا ؟
    یقینا ایسا نہیں تھا کیونکہ اسلام تو آیا ہی کفر و شرک مٹانے ہے۔
    انسانوں کو پتھروں سے ہٹا کر رب کی عبادت پہ لگانے اور اسی کی غلامی سکھانے ۔

    سو خان صاحب ! ہمارا مطالبہ ہے اپنا فیصلہ واپس لیجئے ،اس رب کے سامنے جھک جائیے اور جان لیں اگر ساری دنیا مل کر بھی آپ کو فائدہ دینا چاہے تو اس وقت تک نہیں دے سکتی جب تک میرا رب نہ چاہے اور اگر ساری دنیا مل کر بھی آپ کو نقصان پہنچانا چاہے تو نہیں پہنچا سکتی جب تک میرا رب نہ چاہے ۔
    اور وہی ہوگا جو میرا رب چاہے گا ۔ بیرونی دنیا کا پریشر تو طیب اردگان پہ بھی تھا ۔لیکن اس نے ہمت کی اور کامیاب ہوا ۔
    سو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرو یقینا دنیا و آخرت میں کامیاب ہو جاو گے ۔ ان شاء اللہ

  • آج کے ڈراموں میں معاشرتی مسائل پیش کرنے کا مقصد انہیں حل کرنا نہیں بلکہ ان سے فائدہ اٹھانا رہ گیا ہے  ثانیہ سعید کی پاکستانی ڈراموں پر تنقید

    آج کے ڈراموں میں معاشرتی مسائل پیش کرنے کا مقصد انہیں حل کرنا نہیں بلکہ ان سے فائدہ اٹھانا رہ گیا ہے ثانیہ سعید کی پاکستانی ڈراموں پر تنقید

    پاکستان کی معروف اداکارہ ثانیہ سعید کا کہنا ہے کہ آج کے ڈراموں میں معاشرتی مسائل پیش کرنے کا مقصد انہیں حل کرنا نہیں بلکہ ان سے فائدہ اٹھانا رہ گیا ہے

    باغی ٹی وی : اداکارہ ثانیہ سعید عفت عمر کے یوٹیوب پروگرام ’سے اِٹ آل وِد عفت عمر‘‘ میں جلوہ گر ہوئیں اور اپنی زندگی اور فنئ کیرئیر کے دلچسپ سوالات کے جوابات دینے کے ساتھ ساتھ آج کے دور میں بنائے جانے والوں ڈراموں کے بارے میں بھی اپنی رائے کا اظہار کیا۔

    1989 سے اپنے فنی کیرئیر کا آغاز کرنے والی اداکارہ ثانیہ سعید نے اسٹیج اور ٹی وی کے درجنوں ڈارموں میں اپنی شاندار اداکاری کے جوہر دکھائے تاہم آج کل وہ چھوٹے پردے سے بالکل غائب ہیں۔

    عفت عمر کے پروگرام میں ثانیہ سعید نے موجودہ پاکستانی ڈراموں کی کئی خامیوں پر بات کرتے ہوا کہا کہ پہلے کسی ڈرامے کی کہانی کا مقصد سماجی مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں سمجھنا اور حل کرنے کی کوشش کرنا ہوا کرتا تھا۔ لیکن اب یہ سوچ بدل چکی ہے۔

    ثانیہ سعید کے مطابق، آج کے پاکستانی ڈراموں میں صرف وہی مسائل پیش کئے جاتے ہیں جو ہم سب پہلے ہی جانتے ہیں اور شاید ان کا سامنا بھی کرچکے ہیں۔ آج کے ڈراموں میں ایسے مسائل پیش کرنے کا مقصد صرف اور صرف فائدہ اٹھانا رہ گیا ہے انہوں نے کہا کہ ’یہ سوچ درست نہیں‘

    ثانیہ سعید نے مزید کہا کہ آج کے اداکار بھی عام لوگوں سے زیادہ میل جول نہیں رکھتے اس لیے نہ تو وہ عام لوگوں سے کچھ خاص واقفیت رکھتے ہیں اور نہ ہی اپنے کام میں انسانی جذبات کا صحیح طور پر اظہار کرپاتے ہیں۔

    اداکارہ نے پاکستانی ڈراموں کو بہتر بنانے کےلیے اسٹوڈیوز، آلات اور ایسی جگہوں کی ضرورت پر زور دیا جہاں ٹیکنیکل اسٹاف کو تربیت کی غرض سے بھیجا جاسکے۔

    ثانیہ سعید نے کہا کہ ہمیں اپنے لوگوں اور انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری کی بھی اشد ضرورت ہے-‘

    واضح رہے کہ ثانیہ سعید ماضی میں آہٹ، ستارہ اور مہرالنساء، وعدہ، خاموشیاں، کلموہی، زرد موسم، اسیر زادی، کتنی گرہیں باقی ہیں، تلاش، چوبیس گھنٹے، پُتلی نگر، فرار، اب تم جاسکتے ہو اور ساتواں آسمان جیسے ڈراموں اور ٹیلی فلمز کے علاوہ فلم ’’منٹو‘‘ میں بھی صفیہ منٹو کے کردار میں جلوہ گر ہوچکی ہیں۔

    اداکارہ ثانیہ سعید بہترین اداکاری کےلیے 1991 میں پی ٹی وی ایوارڈ کے علاوہ چار مرتبہ ’لکس اسٹائل ایوارڈ‘ بھی اپنے نام کرچکی ہیں۔

    کم عمر پاکستانی یو ٹیوب اسٹار نے بڑا اعزاز اپنے نام کر لیا

  • ‘World PapulationDay”  ( عالمی یوم آبادی ) منانے کا مقصد کیا ہے؟

    ‘World PapulationDay” ( عالمی یوم آبادی ) منانے کا مقصد کیا ہے؟

    عالمی یوم آبادی کا مقصد خاندان کی منصوبہ بندی کی اہمیت ، صنفی مساوات ، غربت ، زچگی صحت اور انسانی حقوق جیسے مختلف آبادی کے معاملات پر لوگوں میں شعور اجاگر کرنا ہے۔ اس دن کی تجویز ڈاکٹر کے سی زکریا نے دی تھی جب آبادی پانچ ارب تک جا پہنچی تھی جب وہ ورلڈ بینک میں سینٹر ڈیموگرافر کی حیثیت سے کام کرتے تھے۔

    باغی ٹی وی : عالمی یوم آبادی ایک سالانہ تقریب ہے ، جو ہر سال 11 جولائی کو منایا جاتا ہے ، جس میں عالمی آبادی کے مسائل کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ پروگرام اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی گورننگ کونسل نے 1989 میں قائم کیا تھا۔ یہ 11 جولائی 1987 کو پانچ ارب یومیہ عامہ دلچسپی سے متاثر ہوا تھا ، اس کی تاریخ جس پر دنیا کی آبادی پانچ ارب افراد تک پہنچ گئی تھی۔ عالمی یوم آبادی کا مقصد مختلف آبادی کے معاملات جیسے لوگوں کی خاندانی منصوبہ بندی کی اہمیت ، صنفی مساوات ، غربت ، زچگی صحت اور انسانی حقوق پر لوگوں میں شعور اجاگر کرنا ہے۔

    اس دن کی تجویز ڈاکٹر کے سی زکریا نے دی تھی جب آبادی پانچ ارب تک پہنچتی ہے اور وہ ورلڈ بینک میں سینٹر ڈیموگرافر کی حیثیت سے کام کرتے تھے۔اگرچہ عالمی آبادی میں پریس کی دلچسپی اور عام آگاہی صرف اربوں لوگوں کی تعداد میں ہی بڑھتی ہے ، لیکن دنیا کی آبادی ہر 14 ماہ میں تقریبا 100 ملین ہر سال بڑھتی ہے۔

    جائزے کے مطابق 6 فروری 2016 کو دنیا کی آبادی 7،400،000،000 تک پہنچ گئی۔ 24 اپریل 2017 کو 16بج 21 منٹ پر دنیا کی آبادی تقریبا 7،500،000،000 تک پہنچ چکی تھی۔ دنیا کی آبادی سال 2019 کو 7،700،000،000 تک جا پہنچی تھی۔ نومبر میں ، یو این ایف پی اے ، کینیا اور ڈنمارک کی حکومتوں کے ساتھ مل کر ، نیروبی میں ایک اعلی سطحی کانفرنس طلب کی گئی تاکہ ان غیر مطلوبہ اہداف کے حصول کی کوششوں کو تیز کیا جاسکے۔ عالمی یوم آبادی کے موقع پر ، دنیا بھر کے وکلاء رہنماؤں ، پالیسی سازوں ، نچلی سطح کے منتظمین ، اداروں اور دیگر سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ تولیدی صحت اور حقوق کو سب کے لئے حقیقت بنانے میں مدد کریں-

    آبادی ہمیشہ دنیا میں ایک اہم مسئلہ رہا ہے اور بڑھتی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لئے متعدد اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ بطور بحیثیت آبادی بڑھتی آبادی میں سب سے زیادہ تعاون کرنے والوں میں سے ایک ہے۔ تاہم ، پچھلے کئی سالوں میں ، لوگوں کو اس بحران سے آگاہ کرنے کے لئے متعدد اقدامات اٹھائے گئے ہیں جو آبادی میں اس طرح کے اضافے کی وجہ سے آنے والی نسلوں کے آگے پڑسکتے ہیں۔

    اس خصوصی دن کا مقصد لوگوں کی آبادی کے مختلف امور سے آگاہی بڑھانا ہے ، جس میں خاندانی منصوبہ بندی ، صنفی مساوات ، غربت اور بہت زیادہ کی اہمیت شامل ہے۔ بڑھتی آبادی کے مسائل پر لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے لوگوں کی توجہ مبذول کروانے کے لئے عالمی یوم آبادی متعدد سرگرمیوں اور پروگراموں کے انعقاد کے ذریعہ منایا جاتا ہے۔ ان سرگرمیوں میں سے بہت سے سیمینار کے مباحثے ، تعلیمی معلومات کے سیشن اور مضمون نویسی کے مقابلے شامل ہیں۔ ذیل میں عالمی یوم آبادی کے کچھ نعرے درج ذیل ہیں-

    عالمی یوم آبادی ‘World PapulationDay” کے نعرے

    اپنے ہی بچے کو جنم دینے کے بجائے کسی بچے کو اپنائیں

    بڑا خاندان بھی بڑی مشکلات لاتا ہے

    پیدائش پر قابو پانے سے ہی بڑھتی آبادی پر قابو پایا جا سکتا ہے

    پیدائش پر قابو پانا ہی آبادی پر قابو پانے کا واحد حل ہے

    آبادی میں اضافے کو کنٹرول کرنے کے لئے عالمی یوم آبادی منائیں

    مستقبل میں کم بھیڑ سے لطف اندوز ہونے کے لئے عالمی یوم آبادی منائیں

    فاقہ کشی سے دور رہنے کے لئے زیادہ آبادی پر قابو پالیں

    آبادی کو کنٹرول کریں اور خواتین کی جانیں بچائیں

    فطرت سے لطف اندوز ہونے کے لئے آبادی پر قابو پالیں

    خوشگوار زندگی برقرار رکھنے کے لئے آبادی پر قابو رکھیں

    ماحولیاتی امور کو واقعتا قابو کرنے کے لئے آبادی کو کنٹرول کریں

    زمین بہت زیادہ بوجھ زیادہ عرصہ تک نہیں اٹھا سکتی ہے ، لہذا آبادی پر قابو پانے کے بارے میں سوچئے

    زمین ہمارا گھر ہے۔ اسے صاف ستھرا رکھیں ، خوش اور کم بھیڑ

    زمین رہنے والا واحد واحد سیارہ ہے ، اسے کشادہ ہونے دو

    غربت اور ناخواندگی کے خلاف جنگ کے لئے آبادی پر توجہ دیں

    بڑھتی آبادی زمین کے ماحول کے لئے زہر ہے

    آبادی کے رجحانات کو تبدیل کرنے کی مہم میں شامل ہوں

    زمین پر رہنے کے لئے کافی جگہ کے لیئے اس مہم میں شامل ہوں

    خوشحال زندگی گزارنے کے لئے چھوٹی سی فیملی رکھیں

    آبادی کو کنٹرول کرکے زمین کا بوجھ کم کریں

    ہماری زمین آبادی کو کنٹرول کرنے اور زمین کو بچانے کے لئے زیادہ آبادی کا خطرہ ہے

    زیادہ آبادی سیارے پر ایک اوورلوڈ ہے ، آئیے ہم بوجھ کم کرنے کا عہد کریں

    زیادہ آبادی غربت ، ناخواندگی اور بہت سارے معاشرتی مسائل کو جنم دیتی ہے

    اپنے کنبے کی منصوبہ بندی کریں اور سیارے کی حفاظت کریں

    بہتر مستقبل کے لئے زمین پر ہجوم کو کم کریں

    آبادی کو کم کریں اور خواتین کو بااختیار بنائیں

    آبادی کی وجہ سے ہونے والے زیادتی سے زمین کو بچائیں

    زمین کو آبادی کے دھماکے سے بچائیں۔

    ایک چھوٹا خاندان ایک میٹھا کنبہ ہوتا ہے لیکن ایک بڑا کنبہ بھیڑ ہوتا ہے

    خوشگوار مستقبل کے لئے خاندانی منصوبہ بندی کا آغاز کریں

    آبادی کو کنٹرول کرنے کا عہد کریں

    آبادی بڑھانے کے علاوہ ہمیں بہت سی ذمہ داریاں انجام دینے کی ضرورت ہے

    دو افراد کمپنی بناتے ہیں لیکن تین افراد کا ہجوم

    ایک چھوٹا کنبہ بنانے کے لئے خاندانی منصوبہ بندی کے نکات اور اقدامات استعمال کریں

    ‘World PapulationDay”

  • ترکی ، آیہ صوفیہ کی بطور مسجد بحالی اور شبہات   تحریر:سفیر اقبال

    ترکی ، آیہ صوفیہ کی بطور مسجد بحالی اور شبہات تحریر:سفیر اقبال

    ترکی ، آیہ صوفیہ کی بطور مسجد بحالی اور شبہات
    سفیر اقبال

    #قومِرسولہاشمی

    اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
    خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی

    اس شعر کی مجھے کبھی سمجھ نہیں آتی تھی. ایک بار زمانہ طالب علمی میں اپنے ایک استاد محترم سے مسلمانوں اور کافروں کے آپسی معاملات پر بات ہو رہی تھی کہ اگر محمود غزنوی سومنات کا مندر توڑ سکتے ہیں تو ہندو اس کے مقابلے میں بابری مسجد توڑیں گے. اگر ہمارے اسلاف کافروں کو قتل کریں گے، ان کی بہنوں بیٹیوں کو لونڈیاں بنائیں گے تو اسی کو جواز بنا کر ہندو بھی ہمیں اور ہماری بہنوں بیٹیوں کو ماریں گے. لیکن اگر ہم کسی جنگ میں بزور شمشیر فاتح بن گئے تو اسلام کی خوبصورتی پیش کر کے اخلاق کے ذریعے سے انہیں اپنا گرویدا کریں نہ کہ ان کی بیٹیوں کو لونڈیاں بنا کر یا ان کے بت خانے توڑ کر ان کے دلوں میں نفرت پیدا کریں.

    اس موقع پر استاد محترم نے یہ شعر پڑھا

    اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
    خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی

    یعنی اسلامی قوانین کا موازنہ کبھی کافروں کے قانون سے نہیں کرنا. انسانیت ایک الگ مذہب ہے اور اسلام الگ. اسلام کے اپنے قانون ہیں اور خوبصورت ترین قانون ہیں. اسلام سے بڑھ کر اخلاق سکھانے والا کوئی نہیں اور اللہ کے نبی سے بڑھ کر عادل کوئی نہیں. مذہب انسانیت کے قوانین بظاہر بہت خوب صورت ہیں لیکن ناقابل عمل ہیں. اللہ کے نبی نے اگر لونڈیاں رکھنے کی اجازت دی ہے اور بت توڑنے کا حکم دیا تو یہی ہمارے لیے اخلاق ہے نہ کہ ہم بین الاقوامی اخلاقیات کو دیکھ کر ڈرتے رہیں کہ اگر ہم نے ایسا کچھ کیا تو وہ بھی کریں گے.

    پھر مزید بابری مسجد کی بات چلی کہ کافر اگر بابری مسجد گرانا چاہتے ہیں تو وہ اپنے مذہب پر سچے ہیں لیکن ہمارا دین اس معاملے میں ان سے جنگ کرنے یا کمزور ہونے کی صورت میں ہجرت کرنے کا حکم دیتا ہے تا کہ ہم مضبوط ہو کر دوبارہ نئے عزم کے ساتھ بابری مسجد کو بزور طاقت چھڑوا سکیں….!

    لیکن ہمیں ان اندیشوں کو دماغ میں جگہ دینے کی بالکل ضرورت نہیں کہ اگر ہم نے اپنے ملک میں ان کے بت خانے گرائے( یا انہیں عبادت کے لئے نئے بت خانے نہ بنانے دئیے) تو کل ہماری مسجدیں ان کے ملکوں میں محفوظ نہیں رہیں گی.

    مسجد گراؤ مندر بناؤ مہم کے بعد کچھ احباب #آیہ_صوفیہ کی مسجد کی بحالی پر ماتم کناں ہیں کہ ابتدا میں یہ عیسائیوں کی عمارت تھی (جو سلیمان علیہ السلام کے ہاتھوں بنائی گئی بیت المقدس کے مقابلے میں تعمیر گئی تھی) اس لیے اسے مسجد کا درجہ دینا مناسب نہیں. کیونکہ ہمارے اسلاف کافروں کی عبادت گاہیں نہیں توڑتے تو عرض ہے کہ طیب اردگان نے تو اسے میوزیم سے دوبارہ مسجد کا درجہ دیا اور الحمد للہ بہترین کام کیا. اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ پہلے کلیسا تھا تو اس کلیسا کو محمد الفاتح کے دور میں مسجد میں تبدیل کیا گیا تھا( اس لیے اعتراض محمد الفاتح رحمہ اللہ پر بننا چاہیے.) اور اس تبدیلی کی وجہ وہ اللہ کے نبی کی پیشین گوئی ہے جس میں ایک قیصر کے شہر کو فتح کرنے والے لشکر کو جنت کی بشارت دی گئی تھی.

    یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے دریائے دجلہ پار کر کے قصر ابیض کو فتح کرنے کے بعد کسری کے تخت کو منبر کے طور پر استعمال کیا تھا اور محمود غزنوی نے ہندو برہمنوں کی منتوں کے باوجود سومنات کا مندر توڑ دیا تھا.

    پاکستان میں مسجد کا انہدام ہو یا مندر کی تعمیر… بھارت میں بابری مسجد کا معاملہ ہو یا مسجد اقصی کے گرائے جانے کا ڈر یہاں مذہب ِ انسانیت یا بین الاقوامی قوانین کی بجائے اسلامی قوانین کو مدنظر رکھنا ضروری ہے.
    اسلام نے صرف ان عبادت گاہوں کو گرانے سے منع کیا جس کے راہب اسلام کے خلاف سازشیں نہیں کرتے اور صرف اپنی عبادت میں مصروف رہتے ہیں. لیکن اگر کسی بت خانہ یا کلیسا میں صبح سے لیکر شام تک مسلسل اسلام اور اہل اسلام کے خلاف سازشیں ہوتی ہوں تو اس کو گرا دینا یا اسے مسجد میں تبدیل کر دینا اسلام کے ضابطہ اخلاق میں شامل ہے. واللہ اعلم بالصواب

  • حقیقت کا رنگ …!!! بقلم:جویریہ بتول

    حقیقت کا رنگ …!!! بقلم:جویریہ بتول

    حقیقت کا رنگ …!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    اس راہ زندگی میں چلتے ہوئے…
    ان پگڈنڈیوں پہ مچلتے ہوئے…
    کہیں صحراؤں کی آغوش میں…
    کبھی تند ہواؤں کے دوش میں…
    کہیں دریا کی لہروں کا نظارہ کرتے…
    کبھی رفعتوں پہ چمکتا ستارہ دیکھتے…
    کبھی مسکرانا چاند کی چاندنی سے…
    یا کہیں کھلکھلانا گلشن کی جوانی سے…
    کوئی سمجھ سکا یا بھُلا گیا…
    رہا سدا کا وفادار کہ کردغا گیا…
    موسم کے سرد و گرم سے…
    حالاتِ خوشی و غم سے…
    حسن اخلاق کے سفرِ پیہم میں…
    رویوں کی نرمی و خم سے…
    کوئی دل کے تار ہلا گیا…
    لہجے کی تلخی و ضرب سے…
    سرِ بزم کوئی نیچا دکھا گیا…
    کوئی رازِ دل کا امین ہوا…
    دل کی گہرائی کا مکین ہوا…
    کوئی ظاہر کی مسکراہٹ میں…
    جوش کی اُٹھتی آہٹ میں…
    وفاداری کے روپ میں…
    تپتی،تڑپتی دھوپ میں…
    کوئی کر جب وارِ جفا گیا…
    ہاں جگا گیا…
    کُچھ سکھا گیا…
    آنکھوں کے سامنے آئے…
    پردے سب ہٹا گیا…
    قدموں پہ اپنے چلنے کا…
    سلیقہ بھی بتا گیا…
    کہ اس جہاں میں سب سہارے…
    عارضی ہیں…
    بیوپاری ہیں…
    مداری ہیں…
    مخلصی کی پانیوں میں…
    بے غرض سی روانیوں میں…
    حقیقی چہرہ دکھانے والے…
    اندر باہر مسکرانے والے…
    حقیقت کی رہ دکھانے والے…
    _بہت کم ہیں__
    جو چلچلاتے زخموں کا…
    ہوتے دیرپا مرہم ہیں…
    ان رنگ برنگی راہوں پر…
    طغیانی کہ ساحلوں پر…
    ہیں تماشائی بہت…
    اور جو گہرا زخم ہیں…!!!
    حقیقت کے روپ میں چہرے…
    یاں بہت کم ہیں…
    ہاں بہت کم ہیں…!!!!!!
    ==============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • وہ دیرپا اثرات اور سکون کے انجام کہاں ہیں؟   بقلم:جویریہ بتول

    وہ دیرپا اثرات اور سکون کے انجام کہاں ہیں؟ بقلم:جویریہ بتول

    کہاں ہیں…؟؟؟
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    قربتوں میں قیمت کے پیام کہاں ہیں…؟
    میسر چیزوں میں چاہت کے کام کہاں ہیں…؟
    گزر ہی جائے گی یہ حبس کی رُت بھی…
    زندگی میں موسموں کو دوام کہاں ہیں…؟
    یہ زندگی حسیں ہے اب اک حد اور فاصلے سے…
    اُلفتوں کے مشروب کے وہ جام کہاں ہیں…؟
    اخلاص کو دیکھتی ہے دنیا مطلب کے آئینہ میں…
    مخلصی و خیرخواہی کے اب نام کہاں ہیں…؟
    سوچوں کی وسعتوں نے کیوں سمیٹ لیئے دامن…
    شعور کی بلندی کے قدر و دام کہاں ہیں…؟
    ہر اک مسافر چلتا ہے اب اپنی ہی راہوں پر…
    وہ اتفاق کے قافلے کے آثار و گام کہاں ہیں…؟
    ظاہر کی آزادی نے کر لی ہے باطن پہ گرفت کڑی…
    دل کی سیاہیوں کے اب درد و آلام کہاں ہیں…؟
    شہرت کے ہوئے ہم رسیا،اور داد و تحسین کے حریص…
    وہ دورِ عمر جیسے خواص و عوام کہاں ہیں…؟
    چھپ چھپ کر جو اپنے عمل و فرض ادا کریں…
    وہ دیرپا اثرات اور سکون کے انجام کہاں ہیں…؟
    ==============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • پس ثابت ہوا کہ نظریہ پاکستان ایک اٹل حقیقت ہے  تحریر:سفیر اقبال

    پس ثابت ہوا کہ نظریہ پاکستان ایک اٹل حقیقت ہے تحریر:سفیر اقبال

    پس ثابت ہوا کہ #نظریہ_پاکستان ایک اٹل حقیقت ہے

    اس ملک کی بنیاد کلمہ توحید پر تھی… لاکھوں ہجرتیں اس ملک کے لیے… لاکھوں قربانیاں اس عرض پاک کے لیے اور لاکھوں شہادتیں اس گھر کے لیے

    اس لیے کیوں کہ یہ اسلام کا قلعہ ہے. یہاں مسلمان کو تحفظ ہے. یہاں اسلام کو آزادی ہے. مان لیا کہ اعلیٰ عہدوں پر لبرل اور قادیانی بیٹھے ہیں…تسلیم کہ رشوت سود زنا بدکاری فسق و فجور بھی بہت ہے اس دیس میں لیکن بس ایک امید ان سب برائیوں پر بھاری ہے کہ یہاں کی عوام اسلام سے محبت کرتی ہے اور اس دیس کی بنیاد اسلام پر ہے.

    جب تک بنیاد قائم ہے آپ کی عمارت کو جتنی بار بھی گرایا جائے اس کو دوبارہ تعمیر کیا جا سکتا ہے… اگر گرانے والا ایک ہاتھ ہو گا تو اینٹیں دوبارہ رکھنے والے دس ہاتھ ہوں گے. اگر گرانے والے ہاتھ کرین استعمال کریں گے تو اینٹیں دوبارہ رکھنے والے ہاتھوں کے ساتھ اللہ کی مدد ہو گی اور جس کے ساتھ اللہ کی مدد ہو اسے دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی.

    اس لیے اگر اپنی بھلائی عزیز ہے تو اس ارض پاک کی قدر کریں . اس کی بنیاد اسلام پر ہے تو اس پر اسلام کی عمارتیں کھڑی کرنے کی کوشش کریں اور اس بات سے پریشان مت ہوں کہ اس پاکستان میں اسلام کا نام لینا جرم ہے. کل تک اس مسجد کو کوئی جانتا بھی نہیں تھا لیکن آج پورا پاکستان جان چکا ہے اور اس مسجد کے لیے آواز بلند کر رہا ہے اور اس کی وجہ کہ پاکستان اسلام کی بنیاد پر ہے اور اسلام کی فطرت میں قدرت نے ایسی لچک دی ہے کہ یہ اتنا ہی ابھرتا ہے جتنا دبانے کی کوشش کریں. اسلام کی اس فطرت کی وجہ سے نہ اس بنیاد پر کوئی مندر تعمیر ہو سکتا ہے اور نہ کوئی مسجد گرائی جا سکتی ہے.

    اپنی آواز اسلام کی خدمت اور اسلام کی سربلندی کے لیے اٹھائیں. لوگوں کو امید دلائیں…اور اپنی آواز کے دب جانے کا خوف دل میں مت پالیں. آپ کی آواز کی شدت اتنی ہو کہ اس ارض پاک کے ہر کونے میں پہنچے اور وہ آواز اللہ کا پیغام اس انداز میں پہنچائے کہ اسلام آباد کے ایوانوں میں بیٹھنے والوں کو فیصلے تبدیل کرنے پر مجبور کر دے.

    تحریر :سفیر اقبال

    #رنگِ_سفیر