غیر کی زبان…!!!
[تحریر:جویریہ بتول]۔
(مزاح و اصلاح)۔
کچھ عرصہ پہلے وطنِ عزیز میں ایک آواز اُٹھی کہ ارود زبان کی ترویج کے لیئے سنجیدہ کوششیں کی جائیں تاکہ تمام طبقات آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور قومی زبان ذریعہ تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے ذہین لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں…
یہ بات واقعی سچ ہے کہ غیر کی زبان میں تعلیم آدھی تعلیم ہے اور ہم اُن چیزوں کی گہرائی تک پہنچ ہی نہیں پاتے جو ہمیں پڑھائی جا رہی ہوتی ہیں…
بلکہ ان کا سرسری جائزہ لینا بھی مشکل ہو جاتا ہے…
کسی بھی قوم نے غیر کی زبان میں ترقی نہیں کی…
انبیاء و رسل جن جن اقوام کی جانب بھیجے گئے انہی کی زبانوں میں صحیفے اور کتب بھی نازل ہوئیں…
وجہ کیا تھی؟
کہ وہ اس پیغام کو بخوبی سمجھ سکیں…
قرآن حکیم جیسی کتاب عربی زبان میں نازل ہوئی کیونکہ اس کے اولین مخاطب عربی تھے…
اللّٰہ تعالٰی نے قرآن کی تعلیمات کے منکرین پر حجت تمام کرتے ہوئے انہیں چیلنج کیا کہ ہم نے قرآن عربی زبان میں اس لیئے نازل فرمایا ہے تاکہ تم بہانہ نہ کر سکو کہ ہم تو عربی تھے اور قرآن عجمی زبان میں ہے…
آپ اس بات کو مذید یوں سمجھیں کہ ہم آج بھی قرآنی احکامات کو سمجھنے کے لیئے اس کے اردو تراجم اور تفاسیر کا مطالعہ کرتے ہیں تاکہ قرآن فہمی پر عبور حاصل ہو…
صرف عربی پڑھ لینے سے شاید ہمارے پلے کچھ بھی نہ پڑے…
آج بھی جدید دنیا کا جائزہ لیا جائے تو وہ اپنی ہی زبان میں تعلیم حاصل کر کے،اپنی ہی زبان کو فروغ دے کر اس کی عالمی سطح پر ایک پہچان بنا چکی ہیں…!!!
لیکن ہمارے یہاں انگلش میڈیم کی بھر مار نے ہمارے طلباء و طالبات کے ذہنوں میں بوریت اور الجھن کے بیج بو دیئے ہیں…
بھاری بھر کم کتابوں کو رٹا لگا کر امتحان تو پاس کر ہی لیئے جاتے ہیں،مگر ایک تبدیلی اور انقلابی سوچ بہت کم نظر آتی ہے بلکہ آہستہ آہستہ نوجوان ارود سے بیزار ہو رہے ہیں اور انگریزی کے چند جملے باعثِ فخر سمجھے جاتے ہیں…
انگریزی کو بطور زبان سیکھنا کوئی جرم نہیں ہے بلکہ اسے سیکھ کر ہی ہم دیگر اقوام کی تحقیقات اور تجربات سے آگاہ ہو سکتے ہیں…
اپنا پیغام ان تک پہنچا سکتے ہیں لیکن انگریزی میں تعلیم دینا اپنی پہچان ختم کرنے کے مترادف ہے…
یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ جس جگہ اور ماحول میں پیدا ہوتا ہے اور رہتا ہے،وہ زبان اسے فطری طور پر اپنانا ہوتی ہے…
اس کے ارد گرد ماحول کا اس پر اثر پڑتا ہے اور اسے انہی مثالوں کے ذریعے بتایا اور سمجھایا جا سکتا ہے…!!!
اردو کی اہمیت سے انکار کر کے در حقیقت ہم اپنی پہچان کھو رہے ہیں،دنیا کی چوتھی اور رابطے کی دوسری بڑی زبان سے ناطہ توڑ رہے ہیں جو اپنے اندر دیگر زبانوں کا وسیع ذخیرہ سموئے ہوئے ہے…
اور پورے ملک میں بولی اور سمجھی جانے والی زبان ہے…
ماہرین نفسیات اس بات پر متفق ہیں کہ بچوں کو ان کی اپنی زبان میں تعلیم ان کی ذہنی استعداد اور تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھاتی ہے…
اور غیر کی زبان میں تعلیم آدھی تعلیم ہے…
اس بات کا مشاہدہ اکثر و بیشتر کرنے کا بھی موقع ملتا رہتا ہے…
کہ جب بچے کسی انگریزی کتاب کو بوجھ سمجھ کر اور ذہن پر دباؤ سوار کر کے پڑھ رہے ہوتے ہیں…
اور پھر ابتداء سے ہی ان پر یہ نفسیاتی دباؤ بڑھا دینا کوئی مثبت پیشرفت نہیں ہے…
ایک دفعہ ایک بچہ میرے پاس پڑھنے آیا…
کافی ذہین،مشاہدہ اور غور کی صلاحیت رکھتا تھا…
اردو کی کتابوں کا سبق فورًا سنا دیتا اور تیکھے سوال بھی کرتا تھا…
جبکہ یہی طبع آزمائی انگریزی کی کتاب پر بھی جاری رہتی تھی…
ایک دن میں نے اسے سمجھایا کہ امرود کو انگریزی میں کہتے ہیں:
Guava…
آج یہ سبق یاد کرنا ہے…
لیکن لگتا تھا اسے بھی انگریزی سے بلا کی نفرت تھی…
مجھے امرود کی فضیلتیں تو بہت سنائیں کہ ہم گھر امرود لاتے ہیں…
مجھے بہت پسند ہے…
میں امرود کھاؤنا اے…
لیکن لفظ گواوا تو یاد نہ کرنے کی اس نے بھی قسم کھا رکھی تھی…
ہر زاویے سے میں نے اسے سمجھانا چاہا مگر اس نے بات ختم کرتے ہوئے مجھے گہری سوچ میں ڈال دیا کہ ہمارے اندر سمجھنے کی صلاحیتیں ارد گرد ماحول کے مشاہدہ اور مثالوں سے بآسانی سمجھ آتی ہیں یا غیر کی زبان میں بات کر کے…؟؟؟
بچے نے گھر کے ماحول میں جانوروں کا خوب مشاہدہ اور آزمائش کر رکھی تھی…
جب میں نے سبق سنا تو جھٹ بولا: وہ والا ” گتاوہ” جو گایوں اور مجہوں کو دیتے ہیں…؟
میری تو ہنسی ہی چھوٹ گئی کہ بچے نے اتنی دیر کی تگ و دو کے بعد اپنے ارد گرد غور و فکر کرتے ہوئے گواوا کو جانوروں کو ڈالے جانے والے چوکر،کھل اور چارہ کے مجموعہ پنجابی میں مستعمل لفظ سے جا ملایا…
جب کہ لفظ امرود کو وہ بخوبی سمجھ اور پہچان چکا تھا…
اردو کی نظمیں فرفر سناتا،جبکہ انگریزی میں دو چار لائنوں کے بعد خاموش…
بچے چونکہ اپنے ارد گرد مشاہدات،تجربات،گھریلو ماحول اور مذہبی تعلیمات سے بہت کچھ سیکھتے ہیں،
لیکن ان پر ایک ہی بھوت سوار کر دینے سے ان کی ذہنی استعداد کمزور پڑ جاتی ہے…!!!
ہمارے ہاں یہ المیہ رہا ہے کہ آئین میں موجود قومی زبان کے درجہ والی اردو کی بجائے انگریزی کو ذہانت کا معیار مانا جاتا ہے،اور جسے انگریزی نہیں آتی چاہے وہ کتنی ہی خداداد صلاحیتوں کا مالک کیوں نہ ہو،آگے بڑھنے کا مجاز نہیں ہے…
اسی طرح ملک کے اندر اگر میڈیا بھی مقبول ہے تو وہ بھی اردو زبان میں…
انگریزی چینلز عوام میں کوئی خاص پذیرائی حاصل نہیں کر پاتے…
ہمیں فرنگی تہذیب سے مرعوب ہو کر اپنا نظام انگریزی میں منتقل کرنے کی بجائے اردو کی ترقی کے لیئے سنجیدہ کوششیں کرنی چاہیئیں…
اپنی نسلوں کو انگریزی سے مرعوبیت کی بجائے اردو کی آگہی فراہم کرنی چاہئے…
اردو ادب کی کتابیں…اردو زبان میں دینی کتب کا اصلاحی ذخیرہ، اور قابلِ قدر نامور ادیبوں اور شعراء کی تحریروں کا مطالعہ کروا کر اردو پر ان کی گرفت کو مضبوط کرنا ہو گا…
تاکہ وہ اردو بولتے،پڑھتے اور سمجھتے سمجھاتے ہوئے احساسِ کمتری کی بجائے برتری محسوس کریں…
دار التراجم قائم کر کے اہم چیزوں کو اردو میں ترجمہ کر کے عوام تک پہنچایا جائے تاکہ انگریزی کی توصیف میں مصروف قوم کا مستقبل ذہنی طور پر محروم نہ رہ جائے،اور اس سوچ کی حوصلہ افزائی بھی کی جانی چاہیئے…!!!!
=============================
[جویریات ادبیات]۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
Author: عائشہ ذوالفقار
-
غیر کی زبان تحریر:جویریہ بتول
-

کم عمر پاکستانی یو ٹیوب اسٹار نے بڑا اعزاز اپنے نام کر لیا
پاکستان کے کم عمر یوٹیوب اسٹار احمد شاہ نے یوٹیوب کا سلور گولڈن پلے بٹن حاصل کرلیا احمد اپنے مزاحیہ اور منفرد انداز میں ڈائیلاگز کے حوالے سے مشہور ہیں اور یو ٹیوب پر ان کے مداحوں کی تعداد لاکھوں میں ہے-
باغی ٹی وی : یوٹیوب اسٹار احمد شاہ نے یوٹیوب کا سلور گولڈن پلے بٹن حاصل کرلیا احمد شاہ کو یوٹیوب کی جانب سے مذکورہ اعزاز محض 5 سال کی عمر میں دیا گیا سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر احمد شاہ نے اپنے دونوں بھائیوں کے ہمراہ سلور اور گولڈ پلے بٹن تھامے ایک خوبصورت تصویر شیئر کی۔
https://www.instagram.com/p/CCa9ggVJH1p/
کم عمر یوٹیوب اسٹار نے اپنی پوسٹ میں بتایا کہ ما شا اللہ وہ 5 سال کی عمر میں سلور اور گولڈ پلے بٹن حاصل کرنے والے نوجوان پاکستانی یوٹیوبر بن گئے ہیں-احمد شاہ نے مذکورہ اعزاز ملنے پر یوٹیوب چینل پر ایک ویڈیو بھی شیئر کی اور مداحوں کا شکریہ ادا کیا۔
یو ٹیوب کی جانب سے یہ اعزاز10 لاکھ سے زائد سبسکرائبرز ہونے پر دیا جاتا ہے جبکہ احمد شاہ کی صرف 84 ویڈیوز کے ساتھ ان کے سبسکرائرز کی تعداد 11 لاکھ 40 ہزار سے زائد ہے۔
احمد نہ صرف یوٹیوب بلکہ دیگر سوشل میڈیا سائٹس انسٹاگراماور فیس بک پر بھی کافی مقبول ہیں اور لاکھوں صارفین انہیں فالو کرتے ہیں-واضح رہے کہ یوٹیوب کی جانب سے سلور پلے بٹن چینل بنانے والے کو اس وقت دیا جاتا ہے جب کوئی چینل ایک لاکھ سبسکرائبر کی حد کو عبور کرتا ہے اور گولڈن پلے بٹن اس وقت دیا جاتا ہے جب یوٹیوب پر چینل کے سبسکرائبرز کی حد 10 لاکھ سے زیادہ ہو جائے۔
احمد شاہ کو مذکورہ دونوں بٹن ایک ساتھ دیئے گئے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ احمد شاہ کا یوٹیوب چینل کافی مشہور ہے۔
-

سُپر ماڈل ایان علی نئے گانوں کی ریلیز کے لئے تیار
منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت پر رہا ہونے والی پاکستان کی سُپر ماڈل ایان علی طویل عرصے بعد ایک دو نہیں بلکہ سات نئے گانوں کی ریلیز کے لئے تیار ہیں-
باغی ٹی وی :پاکستان کی سُپر ماڈل ایان علی طویل عرصے بعد شوبز میں واپسی کے لئے تیار ہیں جس کا اعلان انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کیا-
https://twitter.com/AYYANWORLD/status/1281665112416362496?s=20
ایان علی نے اپنے ٹویٹ میں اپنی کاروں کے مابین ایک تصویر شئیر کی اور لکھا اب وقت آگیا ہے اور اپنے پسندیدہ پرانی لیمبوروگھینی میں اپنے اگلے 7 گانے سنوں۔ میں اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہوں کہ وہ بہت اچھے لگیں۔ایان علی نے لکھا کہ وہ گذشتہ 5 سالوں سے ان گانوں کے لئے سخت محنت کر رہی تھیں جن سے اب ہر کوئی لطف اٹھا سکتا ہے۔ انہوں نے لکھا ، تمام گانے ایک یا دو ہفتے میں ریلیز ہوں گے۔-
اس سے قبل ، مارچ 2020 میں ، ایان علی نے لکھا تھا کہ 5 سال قبل گایا گیا "ارتھ کوئیک” گانا آج بھی شائقین کو پسند ہے۔ میوزک سائٹ ساؤنڈ کلاؤڈ پر یہ گانا 30 ملین سے زیادہ بار سنا جا چکا ہے ، جبکہ یوٹیوب پر اب تک 15 ملین افراد اسے دیکھ چکے ہیں۔
https://www.instagram.com/p/B9JhnF0J6qk/?utm_source=ig_embed
ماڈل نے شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا تھا کہ 2009 سے آپ محبت اور مثبت سوچ کا اظہار کر رہے ہیں ، اور میری دعا ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس میں اضافہ ہوگا۔اسی دوران ، ماڈل نے اپنے آنے والے پروجیکٹ کے بارے میں عندیہ دیا تھا کہ کہ میں آج کل بہت ساری چیزوں پر کام کررہی ہوں جو بہت جلد منظر عام پر آئیں گی لیکن اس سلسلے میں تفصیلات نہیں بتائیں ، لیکن یقینا انہوں نے اپنے نئے 7 گانوں کا ذکر کیا ہو گا۔
واضح رہے کہ ایان علی کو 14 مارچ 2015 کو اسلام آباد بے نظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے 5 لاکھ سے زائد ڈالرز دبئی اسمگل کرتےہوئے گرفتار کیاگیا تھا بعد ازاں عدالت نے انہیں ضمانت پر رہاکیا جس کے بعد وہ بیرون ملک چلی گئیں 2 سال تک ایان علی عدالت میں پیش ہوتی رہیں تاہم 2017 میں بیرون ملک جانے کے بعد سے وہ عدالت کی سماعتوں میں غیر حاضر رہیں جس کے باعث انہیں کو اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے اور ان کا اپارٹمنٹ بھی ضبط کیا جا چکا ہے-
ایان علی کی لمبے عرصے بعد سوشل میڈیا پر واپسی
-

بلال سعید اور ٹک ٹاک جنت مرزا کا گانا ریلیز
پاکستان میوزک اندسٹری کے معروف گلوکار بلال سعید کا نیا گانا ’شاعر‘ ریلیز ہو گیا-
باغی ٹی وی : گذشتہ روز بلال سعید کا نیا گانا ’شاعر‘ ریلیز ہو گیا ہے اس گانے کی ویڈیو میں ٹک ٹاک اسٹار جنت مرزا اور محمد علی جوش بھی نظر آئے ہیں جبکہ گلوکار سرمد قدیر نے اس گانے کو تحریر اور کمپوز کیا ہے۔
یہ گانا 5 منٹ 8 سیکنڈز پر مشتمل ہے جس میں ایک ایسی کہانی دکھائی گئی ہے جہاں ایک نوجوان شاعر خوبصورت اداکارہ سے یک طرفہ محبت کرتا ہے اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ یہ محبت دو طرفہ محبت میں بدل جاتی ہے۔
بلال سعید کے ’شاعر‘ کو مداحوں کی طرف سے خوب پسند کیا جا رہا ہے اس کا اندازہ اس بتا سے ہوتا ہے کہ گانے کو 18 گھنٹوں پر مشتمل مختصر دورانیہ میں یوٹیوب پر ایک لاکھ سے زائد افراد دیکھ چُکے ہیں-
واضح رہے کہ اس سے قبل گلوکار عاصم اظہر کا گانا ’تُم تُم‘ ریلیز ہوا تھا اس گانے کی مرکزی کردار معروف ٹک ٹاک اسٹار اریکا حق نے ادا کیا تھا جبکہ گانے میں عاصم اظہر، اُردو ریپ سانگ کے گلوکار رامس، طلحہ یونس، طلحہ انجم اور گلوکار و اداکار تیمور صلاح الدین عرف مورو نے بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے تھے اور گانے کے آخر میں اداکارہ ہانیہ عامر بھی نظر آئیں تھیں۔اریکا حق کے بعد ٹک ٹاک سٹار جنت مرزا گلوکار بلال سعید کے نئے گانے کی ویڈیو میں شامل
صبا قمر ٹک ٹاک اسٹار اریکا حق کی حمایت میں بول پڑیں
لوگ پہلے ڈپریشن اور مینٹل ہیلتھ پر لیکچر دیتے ہیں اور کچھ دن بعد خود کسی کو اپنی نفرت سے ڈپریشن کا شکار بنا دیتے ہیں عاصم اظہر
عاصم اظہر اور ٹک ٹاک اسٹار ارکا حق کے گانے کا ٹیزر جاری
-

رابی پیرزادہ نے پاکستان چھوڑنے کے فیصلے کی تردید کر دی
گزشتہ سال شوبز انڈسٹری کو خیرباد کہنے والی رابی پیزادہ نے پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ واپس لے لیا-
باغی ٹی وی : حال ہی میں رابی پیرزادہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پینٹنگ شئیر کی تھی اور لکھا تھا کہ میں 8 سال کی عمر سے ہی پینٹنگ کر رہی ہوں ، جب میں نے فیلڈ کو تبدیل کیا اور اپنے شاہکار کو رنگنے کی کوشش کی ، اس کی میکنگ ویڈیو بنائی اور اس نے ہمارے فنون لطیفوں کو پاکستان کی نمائندگی کرنے کے لئے بھیجا ، انہوں نے مجھے لاکھوں مالیت کی دو مزید پینٹنگز بھیجی اور مجھے بتایا کہ انہیں اس طرح کے فن کی ضرورت ہے۔

رابی پیر زادہ کی اس پینٹگ کی گلوکا رعدنان سمیع نے تعریف کی تھی جبکہ کچھ پاکستانی صارفین نے رابی پیرزادہ پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ یہ پینٹنگ آپ نے خود نہیں بنائی ہے۔عدنان سمیع کے تعریفی ٹوئٹ کے بعد رابی پیرزادہ نے جذبات میں آکر ٹوئٹ کیا تھا جس میں اُنہوں نے کہا تھا کہ آج کنفرم ہو گیا ہے کہ بھارت ہم سے کافی بہتر ہے وہاں کے لوگوں نے کبھی مجھ پر طنز نہیں کیا اور نہ ہی مجھے تنقید کا نشانہ بنایا ہے

اُنہوں نے عدنان سمیع کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ میں نے ماضی میں آپ کے بارے میں جو کچھ بھی کہا اُس کے لیے میں آپ سے معافی چاہتی ہوں۔رابی پیر زادہ نے کہا تھا کہ ہماری قوم کسی بھی شخص کی صلاحیتوں کی حقدار ہی نہیں ہے نہ آپ کی آواز کی اور نہ میری پینٹنگز کی-
رابی نے غصے میں کہا تھا کہ انشاءاللہ میں بھی جلد ہی پاکستان چھوڑ دوں گی۔
رابی پیرزادہ کے اِس ٹوئٹ کے بعد اُن کے مداحوں اور صارفین نے اُنہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جس کے بعد رابی پیرزادہ نے اپنے اکاؤنٹ سے یہ ٹوئٹ ڈیلیٹ کردیا۔

رابی کی اس ٹویٹ کے بعد صارفین نے انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور ایک بھارتی صارف نے انہیں بھارت میں آنے کی دعوت دی صارف نے لکھا کہ کسی بھی دن ، جب بھی آپ ہندوستان کا دورہ کرنا چاہتے ہیں آپ کا استقبال ہے ….. ایک ساتھ مل کر ہم آپ کے فن کو پنکھ اور آزادی دے سکتے ہیں …. اس کی خوبصورت ، اس کی سچائی … اس سے تکلیف ، لذت اور غم کا پتہ چلتا ہے .. .یہ اربوں تک جاسکتا ہے …صارف کی اس ٹویٹ کے بعد رابی پیرزادہ نے اب ایک اور ٹویٹ کیا ہے جس میں پاکستان اور پاکستانیوں سے اپنی محبت کا اظہار کیا اور پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ واپس لیا-
رابی پیرزادہ نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ نہیں بھائی پاکستان میرا دل، میری جان ہے اور مجھے اپنے ملک کے لوگ بےحد عزیز ہیں، اور اگر میں کبھی اپنا وطن چھوڑ کر بھی گئی تو مکّہ جاؤں گی۔
اُنہوں نے لکھا کہ وہ چینلز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جو پاکستان کے آرٹ کو پروموٹ نہیں کرتے ہیں اُنہوں نے ایک بار پھر مجھے منفی خبروں میں سب سے آگے کردیا ہے لیکن جب میں نے کچھ دیر بعد اپنے فیصلے کی تردید کردی تو کسی چینل نے میرے اس مثبت رویے کی طرف توجہ نہیں دی۔
رابی پیرزادہ نے ملک چھوڑ نے کی دھمکی دے دی
-

نادیہ جمیل کینسر کو شکست دینے میں کامیاب ہو گئیں
جان لیوا موذی مرض بریسٹ کینسر کا شکار پاکستان کیاداکارہ اور سماجی کارکن نادیہ جمیل کینسر کو شکست دینے میں کامیاب ہو گئیں-
باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر نادیہ جمیل نے اپنے سلسلہ وار ٹوئٹس میں اپنی طبیعت کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا اور مداحوں کی دعاؤں کا شکریہ ادا کیا۔
Its been an unforgettable struggle.Chemo is a battle.But Im without fear,in solitude held tight,cocooned in Allahs Love.Every lesson sent I try 2 learn.Pain,sickness is all a journey 2 healing,& Patience.Bad Sepsis,sugar 600,nearly wnt in2 coma. Alhamdolillah now getting better💪🏽 pic.twitter.com/6RaQx1t6dP
— Nadia Jamil (@NJLahori) July 10, 2020
نادیہ جمیل نے لکھا کہ یہ ایک ناقابل فراموش جدوجہد رہی کیموتھراپی کا مرحلہ کسی معرکہ آرائی سے کم نہیں تھا لیکن انہوں نے اللہ کی مدد سے لیکن بغیر کسی خوف کے درد اور تکلیف کو صبر اور حوصلے سے برداشت کیا۔There is no Alone. If you believe in The Creator. There is no alone if you kindly befriend yourself. There is no alone if you reach out. You are surrounded by life,within you,on you,outside of you. You are loved and cherished. I thank Allah that I'm blessed by your friendship❤️🙏🏽 pic.twitter.com/NElC2ccgS6
— Nadia Jamil (@NJLahori) July 10, 2020
نادیہ جمیل نے لکھا کہ کوئی تنہا نہیں ہے اگر آپ خالق پر یقین رکھتے ہیں۔ اکیلا کوئی نہیں ہے اگر آپ حسن معاشرت سے دوستی کریں۔ اگر آپ آگے بڑھیں تو کوئی تنہا نہیں ہے۔ آپ زندگی سے گھرا ہوا ہے ، آپ کے اندر ، آپ پر ، آپ سے باہر۔ آپ سے پیار اور محبت کیا جاتی ہے۔نادیہ جمیل نے مداحوں کو مخاطب کرتے ہوئے مزید لکھا کہ میں اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ مجھے آپ کی دوستی نصیب ہوئی ہے-
New post chemo issue is I'm now diabetic. Have 2 learn to take insulin injections. And must start a healthy lifestyle. Once I'm out of hospital that is. Still weak & wobbly but thanking you all so much for your loved support & prayers. You helped me sail through it. Alhamdolillah
— Nadia Jamil (@NJLahori) July 10, 2020
اداکارہ و سماجی کارکن نے لکھا کہ کیمو کا مسئلہ یہ ہے کہ اب وہ ذیابیطس کا شکار ہوگئیں ہیں اور اسپتال سے نکلنے کے بعد سب سے پہلے انسولین لگانا سیکھیں گی۔ اور صحت مند طرز زندگی شروع کروں گی۔ ایک بار جب میں ہسپتال سے باہر ہوں تو وہ ہے۔ شدید کمزوری اور گھبراہٹ محسوس کرتی ہیں، لیکن مداحوں کے پیار بھرے حوصلہ افزاء پیغامات انہیں ہمت دلاتے رہتے ہیں کہ اچھا وقت دور نہیں اس سب کے لئے آپ کا بہت بہت شکریہ۔ آپ نے اس کے ذریعے سفر کرنے میں میری مدد کی۔ الحمدللہBattling the demonic waves of chemo nausea.A friend sent me these images. In isolation in hospital I can hv no visitors. Neutrophils way down. White blood cells being sorely missed.What a boost these images gave me.Could taste the tart lemon,fresh smelling peppermint,sharp ginger pic.twitter.com/MRvegEY5Vk
— Nadia Jamil (@NJLahori) July 10, 2020
نادیہ جمیل نے لیمن ادرک اور پودینے کی تصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ کیمو کے بعد متلی محسوس ہو رہی ہے ایک دوست نے مجھے یہ تصاویر بھیجی ہیں۔ ہسپتال میں تنہائی میں میں کسی سے ملاقات نہیں کر سکتی نیٹروفیلز نیچے کی طرف. سفید خون کے خلیے کم ہو رہے ہیں ۔Hands shaking now so signing off. Please pray I manage to eat a little. Have only had an apple and half a croissant in the whole week.
Allah give strength to the weak & hot food, fresh clean water to everyone.
Take nothing 4 granted. Not even a sip of water going down your throat— Nadia Jamil (@NJLahori) July 10, 2020
نادیہ جمیل نے ایک ٹویٹ میں مداحوں سے دعاؤں کی درخواست کرتے ہوئے لکھا کہ دستخھ کرتے ہوئے ہاتھ کانپ رہے ہیں کچھ کھایا پیا نہیں براہ کرم سب میرے لئے دعا کریں کہ میں کچھ کھا لوں ، کیموتھراپی کے بعد سے کچھ نہیں کھایا، گزشتہ ایک ہفتے سے صرف ایک سیب اور آدھی کروسنٹ کھائی ہے کیمو کے بعد کچھ نہیں دینا یہاںتک کہ ایک گھونٹ پانی بھی آپ کے گلے سے نہیں جاتا ہے-انہوں نے تمام بیماروں کیلئے دعا کرتے ہوئے لکھا کہ اللہ سب کمزور لوگوں کی مدد کرے گرم کھانا ، تازہ صاف پانی کو طاقت عطا فرمائے ساتھ ہی مداحوں کو یہ پیغام بھی دیا کہ اپنی زندگی میں کسی چیز کو بے معنی نہ سمجھئے۔
نادیہ جمیل کی ان ٹویٹس پر مداحوں نے خوشی کا اظہار کیا اور دعاؤں اور نیک خواہشات کا اظہار کیا-
— Nadia Jamil (@NJLahori) July 10, 2020
InshaAllah! So are you 🙂 https://t.co/50g1PDVq0r
— Nadia Jamil (@NJLahori) July 10, 2020
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️ https://t.co/nzNobcfT1L
— Nadia Jamil (@NJLahori) July 10, 2020
I love you Beti! https://t.co/0s13ywWUWo
— Nadia Jamil (@NJLahori) July 10, 2020
Ans you are mine. I survived it! Alhamdolillah. Yaaay. #CancerFree #chemo #sepsis https://t.co/6oBeSFhhmr
— Nadia Jamil (@NJLahori) July 10, 2020
Yaaaaay!!! https://t.co/j8v9FnXEye
— Nadia Jamil (@NJLahori) July 10, 2020
نادیہ جمیل مارچ میں کینسر کی تشخیص کے بعد سے علاج کی غرض سے لندن میں مقیم ہیں وہ سوشل میڈیا پرمداحوں کو اپنی صحت اور علاج کے حوالے سے آگاہ کرتی رہتی ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ کینسر میری زندگی کا اختتام نہیں ہے نادیہ جمیل
آخری کیمو تھراپی کل ہو گی ،نادیہ جمیل کی مداحوں سے دعاؤں کی درخواست
-

کیا صرف سیاہ فاموں کی زندگی اہمیت رکھتی ہے تحریر:اسد عباس خان
کیا صرف سیاہ فاموں کی زندگی اہمیت رکھتی ہے
(امریکہ میں ایک سیاہ فام کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت پر "بلیک لائیوز میٹر” تحریک بپا ہوئی، مگر کیا کشمیر اور ہندوستان میں جاری ہندتوا کسے متاثر افراد کی زندگیاں بھی کچھ اہمیت رکھتی ہیں ؟ )صدائے اسد، از: اسد عباس خان
کون جانتا تھا کہ جدید ترقی یافتہ اور تیز رفتار دنیا کھلی آنکھوں سے نظر تک نہ آنے والے حقیر سے وائرس کے سامنے بے بس ہو کر یوں رک جائے گی کہ تمام معمولات زندگی معمول سے ہٹ جائیں گے۔ باقی سب معاملات کی طرح کھیل اور کھلاڑی بھی اس وباء کے بھنور میں پھنس گئے۔ پاکستان سپر لیگ کا سپر ہٹ میلہ عین اس وقت روک دینا پڑا جب ٹاکرے اپنی انتہاؤں کو چھو رہے تھے۔ کھیل کو اپنے گھر "پاکستان” میں دیکھنے کی آس میں برسوں سے ترسے ہوئے پرجوش تماشائیوں کی امیدوں کے چراغ اس وقت گل ہوۓ جب کسی چیمپئن کا فیصلہ تک نہ ہو سکا۔ تمام قومی اور بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلے پابندی کا شکار ہوئے تو کھلاڑیوں سمیت شائقین بھی اپنے اپنے اہل و عیال کے ساتھ گھروں میں قید ٹھہرے۔ کھیلوں کے تمام بڑے بڑے ایونٹ مؤخر یا پھر کینسل کر دیئے گئے۔ باقی کھیلوں کے برعکس کرکٹ کا کھیل حفاظتی انتظامات کے حوالہ سے پیچیدہ اور مشکل ترین ہے لہذا اس کھیل کی بحالی کے لیے اس کے بنیادی قوانین میں کئی تبدیلیاں لائی گئیں۔ کرکٹ کے جد امجد انگلستان اور ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان ٹیسٹ میچز کی سیریز نئے قوانین اور حفاظتی ایس او پیز کے ساتھ شروع ہو چکی ہے۔ تقریبا چار ماہ کے وقفے کے بعد کھیل کا میدان بغیر تماشائیوں کے سج گیا۔ لیکن اس دوران ایک عجیب معاملہ پیش آیا کھلاڑیوں کے ذہنوں پر کورونا کی وبا کے ساتھ ساتھ نسلی تعصب کے خلاف بین الاقوامی مہم ’بلیک لائیوز میٹر‘ بھی چھائی ہوئی تھی۔ میچ کے آغاز پر کھلاڑی جب میدان میں اترے تو ویسٹ انڈیز کے کھلاڑیوں نے ہاتھ میں کالا دستانہ پہنا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے سیاہ فام افراد کے ساتھ پیش آنے والے امتیازی سلوک اور نسل پرستی کے خلاف گھٹنا ٹیک کر کھیل کا آغاز کیا۔ ویسٹ انڈیز کے کھلاڑیوں نے اپنا ایک ہاتھ اٹھا کر ’بلیک پاور سلوٹ‘ بھی کیا۔ امریکہ میں چھ ہفتے قبل سیاہ فام شخص "جارج فلائیڈ” کی پولیس حراست کے دوران ہلاکت اور اس کے بعد امریکہ سمیت دنیا بھر میں ہونے والے عوامی مظاہروں کی گونج گراؤنڈ میں بھی سنائی دے رہی تھی۔ اور کمنٹری کرنے والے ماہرین نے بھی سیاہ فام اقلیت کے خلاف نسلی تعصب کے خلاف آواز اٹھائی جسے پوری دنیا میں سراہا گیا۔ یہ منظر دیکھ کر میرا حافظہ ایک سال پیچھے چلا گیا۔ پچھلے سال ہندوستانی کرکٹ ٹیم نے آسٹریلیا کے خلاف رانجی میں کھیلے جانے والے ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میچ میں روایتی نیلے رنگ کے بجائے ہندوستانی فوج کی ٹوپی استعمال کی۔ جو بظاہر کشمیری حریت پسندوں کے حملے میں مارے جانے والے قابض ہندوستانی فوجیوں سے علامتی اظہار یکجہتی تھی۔ اس ٹوپی پر بی سی سی آئی کا آفیشل لوگو بھی بنا ہؤا تھا۔ لیکن میں سوچ میں پڑ گیا کہ کرکٹ جیسے مہذب اور شرفاء کے کھیل میں بھی آئی سی سی اور باقی دنیا کا دوغلہ پن کیوں عیاں ہوتا ہے۔ 2014ء جولائی کے مہینے میں ہی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے انگلش کرکٹر معین علی پر اس وقت پابندی عاید کر دی گئی جب وہ ہندوستان کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میچ کے دوران غزہ کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت میں رسٹ بینڈ پہن کر میدان میں اترے جس پر محض سیو غزہ اور فری فلسطین لکھا ہوا تھا۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے معین علی کو خبردار کیا کہ وہ فلسطین کی حمایت والے رسٹ بینڈ نہیں پہن سکتے کیونکہ یہ کوڈ آف کنڈیکٹ کی خلاف ورزی ہے۔ آئی سی سی نے مزید کہا کہ قوانین کے مطابق کسی بھی پلیئر کو انٹرنیشنل میچز کے دوران جرسی یا دیگر چیزوں پر سیاسی، مذہبی یا نسلی بیانات دکھانے کی اجازت نہیں ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نسلی تعصب اور ظلم کا سب سے زیادہ شکار تو مسلمان ہیں لیکن ان سے ہمدردی قوانین کی خلاف کیونکہ ٹھہرتی ہے؟ کیا انسان صرف وہ گورے یا کالے ہی ہیں جو مسلمان نہیں ؟ کیا مذہب کی بنیاد پر رواء رکھے جانے والے تعصب اور غیر انسانی سلوک کے خلاف آواز اٹھانا قوانین کے خلاف ہے؟ پاکستان کرکٹ ٹیم بھی ان دنوں انگریزوں کے دیس میں موجود ہے۔ اور چند ہفتوں بعد اسی انگلینڈ ٹیم سے مقابلے میں اترے گی جو ویسٹ انڈیز کے کالے کھلاڑیوں کے ساتھ مل کر کالے افراد کے خلاف نسلی تعصب کے معاملہ میں مکمل یکجہتی کا اظہار کر رہی تھی۔ اگر ٹیم پاکستان مقبوضہ کشمیر سمیت پورے ہندوستان میں ہندؤ توا کے شکار مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرے یا ہندوستانی ریاستی جبر اور پاکستان میں حالیہ دہشتگردی کی کاروائیوں کے خلاف کوئی آواز اٹھاتی ہے تو کیا یہی گورے ہمارے ساتھ بھی کندھے سے کندھا ملائیں گے؟ امریکی شہر مینا میں پولیس کے ہاتھوں مارے جانے والے سیاہ فام جارج فلائیڈ نے تو کھلاڑیوں کے گھٹنے ٹکوا دیئے کیا
مقبوضہ کشمیر کے علاقے سوپور میں ہندوستانی فوج کی فائرنگ سے شہید ہونے والے بشیر احمد کے سینے پر بیٹھا ہوا ان کا تین سالہ نواسا بھی کسی مہذب کھیل اور کھلاڑی کو نظر آۓ گا؟
یا آئی سی سی کے قوانین آڑے آئیں گے؟ کیونکہ تاریخ یہی ہے کہ انسانیت کے سینے میں مسلمان مظلوموں کے لیے کوئی دل نہیں ہے۔ -

نظریہ پاکستان کا تحفظ، روشن پاکستان کی ضمانت تحریر: شعیب بھٹی
نظریہ پاکستان کا تحفظ، روشن پاکستان کی ضمانت
شعیب بھٹیمیں ریاست پاکستان کا باشندہ ہو۔ یہ ریاست نظریہ اسلام کی بنیاد پر وجود میں آئی تھی۔ میرے لڑکپن میں اس اسلامی ریاست میں مارشل لا کا راج تھا کشمیر میں جہاد کرنے والے اور جہاد کے نام لیوا لوگ پابند سلاسل تھے۔ اسلامی ریاست میں موجود مساجد پر پابندیاں لگائی جارہی تھیں۔ مساجد سے صبح فجر کے وقت قرآن کے دروس کی آواز فضا کو معطر کردیتی تھی مگر یہ آواز فرقہ ورانہ انتشار کے نام پر بند کردی گئی ۔ مارشل لا کا وقت گزرا تو بینظیر کے قتل کے بعد عوام سے مظلومیت کا ووٹ لیکر پیپلزپارٹی برسر اقتدار آ گئی ۔ ان کے دور میں بھی میں نے جہاد کے نام لیوا لوگوں کو پابند، لسلاسل دیکھا۔ یہ حکومت خالص امریکی غلام تھی اس دور میں آرمی چیف کو عدالت میں بلاکر بیان حلفی لیا گیا کہ چاہے جو بھی حالات ہوں آپ مارشل لا نہیں لگائیں گے۔ اسی زرداری حکومت میں سلالہ چیک پوسٹ کا واقعہ ہوا۔ انہیں کے دور میں امریکی فورس پاکستانی علاقوں میں داخل ہوئی اور ایبٹ آباد کا شرمناک واقعہ رونما ہوا۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی اور حسین حقانی جیسے غدار اسی حکومت کے دور میں پرورش پا رہے تھے اور زرداری حسین حقانی کو فرار کرانے میں بھی پیش پیش تھا اسی پیپلز پارٹی نے جب ایک مذہبی جماعت نے تھر کے ریگستانوں میں فلاحی کام کیے اور ہندوؤں کی بھی بلا تفریق مذہب مدد کی تو نوجوان ہندو متاثر ہوکر اسلام قبول کرنے لگے۔ تب اس پیپلزپارٹی نے بیرونی آقاؤں کی ایما پر سندھ میں ایک بل پاس کیا کہ 18 سال سے کم عمر شخص اسلام قبول نہیں کرسکتا۔ میں حیران تھا کہ یہ کیسی اسلامی ریاست ہے۔ جوانی میں قدم رکھا شناختی کارڈ کا حامل قرار پایا۔ تو نواز شریف کو برسر اقتدار پایا۔ نواز شریف کے بارے سنتا تھا کہ یہ شخص مذہبی رجہان رکھتا ہے مگر یہ کیا اس نواز شریف نے ہندوؤں کی ہولی میں شرکت کی اور اس ریاست کے نظریہ کی دھجیاں اڑا دی جس ریاست کا وہ خود سربراہ تھا۔ نواز شریف نے کہا کہ ہندو مسلم میں کوئی فرق نہیں نواز شریف نے نظریاتی سرحد کو نفرت کی باڑ قرار دیا۔ اسی نواز شریف کے دور میں ختم نبوت ﷺ کے قانون پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی گئی ۔ مسلم لیگ کے اس سربراہ نے قادیانیوں کو بھائی قرار دیا۔ اسی مسلم لیگ کے دور میں غیر ملک کا وزیراعظم پاکستان میں بغیر ویزا کے داخل ہوا۔ جب اس ملک کے خدمت گار کو ملک سے بے وفائی اور کرپشن کے الزام میں اقتدار سے اتارا گیا تو دشمن کے پاکستان کو دہشتگرد قرار دینے کے لیے لگائے گئے ممبئی حملوں کے الزام کو درست کہا۔ یہ اسلامی ریاست تھی اور برسر اقتدار پارٹی مسلم لیگ تھی کہ عورت کے حقوق کے نام پر غیر اسلامی غیر آئینی بل پاس کیا گیا اور مرد کو محکوم بنانے کی کوشش کی گئی ۔ اسی مسلم لیگ کی حکومت میں مندروں کی تزئین و آرائش کی گئی ۔ اور ایک نئے مندر کے لیے زمین بھی الاٹ کی گئی ۔ اب ایک دفعہ پھر سے ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قومی و صوبائی الیکشن ہونے جارہا تھا۔
تبدیلی کے نام پر سابق کرکٹر عمران خان کی پارٹی کو مقبولت حاصل تھی اور میں بھی اس دفعہ اپنا پہلا ووٹ کاسٹ کرنے جا رہا تھا مجھے بتایا گیا تھا کہ ووٹ ضمیر کی آواز ہوتا ہے اور قوم کی امانت ہوتا ہے۔ میں نے ووٹ قوم کی امانت سمجھ کر اور ضمیر کی آواز سمجھ کر کاسٹ کیا اور انتخابی نشانات کو غور سے دیکھا اور ہر ایک کے کردار کو سامنے رکھ کر ووٹ کاسٹ کیا۔ اس انتخابی مرحلے کے بعد عمران خان نے ریاست اسلامی کا اقتدار سنبھالا۔ پاکستان میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی حرکتوں کے بعد لوگوں کی امیدیں اب عمران خان سے وابستہ تھی لیکن یہ کیا عمران خان نے اپنا مشیر خزانہ ایک قادیانی کو تعینات کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔ عوامی دباؤ کی وجہ سے اس کو ہٹانا پڑا۔ لیکن پھر کیا دیکھتا ہوں کہ قوم کے آئیڈیل شخص کے دور میں فلاحی اور رفاحی اداروں کو دہشت گردوں کی مالی معاونت کے نام پر حکومتی تحویل میں لے لیا جاتا ہے جنہوں نے تھر سے آوران تک اور کراچی سے خیبر تک قوم کی خدمت کی ہے۔ ان رہنماؤں کو بھی قید کردیا جاتا ہے۔ ابھی حکومت کو بنے ایک سال ہوتا ہے کہ یہ حکومت بھی سابقہ حکومتوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ختم نبوت ﷺ کے قانون میں ترمیم کے لیے تیار ہوجاتی ہے اور مرتد اور واجب القتل لوگوں کو ایک مذہب تسلیم کرنے کی تیاری کرلیتی ہے لیکن عوامی دباؤ پر یہ قانون بھی روک لیا جاتا ہے اس تبدیلی حکومت کے لوگ لبرل اور عورت مارچ کو سپورٹ کرنے پہنچ جاتے ہیں۔ دو سال کا عرصہ ہوتا ہے کہ یہ حکومت مندر کی تعمیر کے لیے فنڈ منظور کرلیتی ہے۔ میں نے بچپن سے لڑکپن، لڑکپن سے جوانی کا عرصہ یہ دیکھتے گزارا کہ اس ریاست میں بننے والی حکومت ریاست کے نظریہ کے خلاف جا کر بیرونی آقاؤں کی تابعداری فرض سمجھتی ہے۔ میں نے اس عرصہ میں کسی کو پاکستانیت کی خاطر متحد نہیں دیکھا ہر پارٹی اپنے ایجنڈے اور مفادات کو ملک و قوم سے مقدم سمجھتی ہے۔ میرے ملک کا ہر شہری شخصیت اور پارٹی کو ملک سے عزیز جانتا ہے۔ میں تذبذب اور شک و شبہات کا شکار ہوں ایسی قوم اور ایسے نمائندوں کے ہوتے ہوئے اس ملک کی نظریاتی سرحدوں کا کیا ہوگا؟ کیا اس ملک کی سمت درست ہو پائے گی۔ کیا یہ ریاست اپنے حقیقی مقاصد تک پہنچنے کے لیے ایسے ہی نمائندوں کی محتاج ہوگی؟ میں نے اس عرصے میں ملک سے مخلص اور بے لوث خدمت گاروں کو پابند سلاسل ہوتے دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ جو اس ملک کے دشمن ہیں ان کے دباؤ میں میری اپنی ریاست کے وفاداروں کو جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اس ملک کے مخلص لوگوں کو انصاف کے لیے ترستا دیکھا اور انصاف کو بیرونی آقاؤں کی لونڈی پایا۔ اگر ملک میں انصاف کی بات ہوتو غریب شخص ثبوتوں کے ہوتے ہوۓ اپنا کیس ہار جاتا ہے لیکن امیر ثبوتوں کے ہوتے ہوئے کبھی شک اور کبھی رحم کے نام پر بری کردیا جاتا ہے۔ امیر کے لیے قانون و ضوابط بدل دیے جاتے ہیں۔ عالمی سطح پر ریاست حق پرستوں کا دفاع نہیں کر پاتی۔ مجھے میری ریاست بے بس اور کمزور نظر آئی۔ مجھے نظریاتی لوگ جیل میں ملے اور دشمن کے ایجنٹ اسمبلیوں میں پاۓ گئے ۔
مجھے میری ریاست کا مستقبل دھندلا دکھتا ہے۔ میں اپنے نمائندوں سے زیادہ اپنی قوم سے پریشان ہو۔ میری قوم ریاست کو پارٹی پر قربان کردیتی ہے۔ دینی احکامات کو شخصی محبت میں قربان کردیتی ہے۔ لیکن پھر بھی میں پر امید ہو اک دن میری قوم کے فرزند نظریاتی ریاست کو کسی پارٹی یا شخصیت پر قربان نہیں کریں گے۔ جس دن ایسا ہوگیا اس دن میری ریاست اپنے مقاصد کی طرف قدم بڑھا دے گی۔ امید بہار رکھے ہوۓ منتظر ہوں۔ کہ میری ریاست کے قید خانوں میں نظریاتی لوگ قید نہیں کاٹیں گے اور سزا یافتہ لوگ اسمبلیوں کی زینت نہیں بنیں گے۔ تذبذب اور شک و شبہات کے یہ بادل چھٹ جانے کے لیے ضروری ہے میری ریاست کے باشعور لوگ نظریہ پاکستان سے وفا کا عہد کریں۔ -

کیا وٹامن ڈی کوویڈ 19 کو روک سکتا ہے ؟
برطانیہ میں ماہرین صحت کے جائزے میں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے کہ COVID-19 کے لئے وٹامن ڈی کی کمی کورونا کے لئے خطرناک ہے تاہم ، ملک کی نیشنل ہیلتھ سروس لاک ڈاؤن کے دوران سورج کی روشنی کی کمی کو پورا کرنے کے لئے روزانہ وٹامن ڈی سپلیمنٹس لینے کی اصلاح کرتی ہے-
صحت مند ہڈیوں اور پٹھوں کو مضبوط رکھنے کے لئے وٹامن ڈی بہت ضروری ہے۔ کچھ ایسے شواہد بھی موجود ہیں جن سے یہ سانس کی بیماریوں کے انفیکشن سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے اور جسم کے مدافعتی ردعمل (امیون سسٹم) میں باقاعدہ کردار ادا کرسکتی ہے۔
اس کی وجہ سے یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ وٹامن ڈی سپلیمنٹس لینے سے کوویڈ-19 کو روکنے یا اس کا علاج کرنے میں مدد مل سکتی ہے ، جو بنیادی طور پر سانس کی بیماری ہے جو وائرس سارس کوویڈ 2 کی وجہ سے ہے۔
تاہم ، برطانیہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے ہیلتھ اینڈ کیئر ایکسی لینس ((NICE) کی طرف سے ان میں سے پانچ اصولوں کا جائزہ ، جو بہترین طریقوں سے متعلق رہنما اصول مرتب کرتا ہے ، اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ مطالعے میں اس بات کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا ہے کہ وٹامن ڈی کی سطح کوویڈ-19 ہونے کے خطرے پر اثر انداز ہوتی ہے اس کے نتیجے میں موت واقع ہو نا ہے-
مصنفین کی نشاندہی کرتے ہوئے ان پانچوں مطالعات میں سے کسی کو بھی انفیکشن کے خطرہ پر اضافی اثرات یا اس بیماری کے علاج کے لئے اثرات کی تحقیقات کے لئے ریکمنڈ نہیں کیا گیا تھا۔ یا تو تحقیقات میں مداخلت کے مطالعے کی ضرورت ہوگی جیسے بے ترتیب کنٹرول ٹرائل۔
لہذا ، موجودہ مطالعات کوویڈ-19 کے علاج اور روک تھام کے ذریعہ وٹامن کی افادیت ، مناسب خوراک ، یا ممکنہ منفی اثرات کی کوئی ثبوت فراہم نہیں کرتے ہیں۔
مزید برآں ، جائزہ میں ایک مطالعے کے مطابق وٹامن ڈی کی حیثیت اور کوویڈ-19 کے مابین مشاہدہ ایسوسی ایشن کے لئے متبادل وضاحت فراہم کرسکتے ہیں۔
مثال کے طور پر ، اعلی جسمانی ماس انڈیکس (بی ایم آئی) ، عمر بڑھنے ، اور معاشی محرومی ، وہ تمام عوامل ہیں جو کوویڈ-19 اور وٹامن کی سطح دونوں کے خطرے کو متاثر کرسکتے ہیں۔
اس سے اس بارے میں کوئی حتمی نتیجہ اخذ کرنا ناممکن ہے کہ آیا وٹامن کی کمی سے وائرس کا معاہدہ ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جس کی وجہ سے COVID-19 ہوتا ہے یا بیماری کے نتیجے میں اس کی موت ہوجاتی ہے۔
ایک مطالعہ میں ، اوسطا وٹامن ڈی کی سطح اور COVID-19 کیسوں کی تعداد اور ملک کی شرح کے لحاظ سے اموات کے درمیان ایسوسی ایشن ملا۔ لیکن تحقیق کی کچھ حدود تھیں – مثال کے طور پر ، ان آبادی میں بوڑھے لوگوں کی تعداد کا حساب نہیں دیا گیا۔
کورونا کیسے پھیلا؟،عالمی ادارہ صحت کی ٹیم چین پہنچ گئی
-

آخر کراچی میں ہی ہر سال ایسا کیوں ہوتا ہے؟فخر عالم نے کے الیکٹرک سے جواب طلب کر لیا
پیر کے روز سے شروع ہونے والی بارشوں کے دوران بجلی کی تاریں ٹوٹنے اور کرنٹ لگنے کے باعث کئی افراد لقمہ اجل بن گئے اور بجلی بھی غائب رہی جس پر شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جس پر اداکار و میزبان فخر عالم نے کے الیکٹرک سے جواب طلب کرلیا ہے-
باغی ٹی وی : اداکار فخر عالم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ٹوئٹ میں کے الیکٹرک کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ میں آپ سے جو سوال کرنے جارہا ہوں اُس کے لیے مجھے پیسے نہیں مل رہے ہیں-
Dear @KElectricPk I am not ranting or anything. I just want to know it rains in many cities around the world. How come in Karachi every year people get electrocuted because of wires breaking & falling.Pls give us a fair, honest answer not a spin. Why does this happen every year?
— Fakhr-e-Alam S.I & S.E (@falamb3) July 8, 2020
انہوں نے کہا کہ میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ دُنیا کے کئی شہروں میں بارشیں ہو رہی ہیں لیکن کراچی شہر میں ہر سال بارشوں کے دوران کرنٹ لگنے اور بجلی کی تاریں ٹوٹنے اور گرنے کی وجہ سے بجلی کا نشانہ بنتے ہیں۔اُنہوں نے لکھا کہ مہربانی کرکے ہمیں ایک صاف اور ایماندار جواب دیں کہ آخر کراچی میں ہی ہر سال ایسا کیوں ہوتا ہے؟
واضح رہے کہ اس قبل فخر عالم نے کراچی میں لوڈشیڈنگ کے خلاف اپنی آواز بلند کی تھی ٹوئٹر پر فخر عالم نے لکھا تھا کہ میں یہ دیکھ کر حیران ہوں کہ اس ترقی یافتہ دور میں بھی دُنیا کے سب سے بڑے شہر کراچی کے شہریوں کو روازنہ کی بنیاد پر لوڈشیڈنگ کے بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو ان حالات میں کراچی کے شہری کو کیسا محسوس کررہے ہوں گے۔
انہوں نے لکھا تھا کہ میں کسی پر الزام تراشی نہیں کررہا ہوں بلکہ یہ افسوسناک اور مایوس کن ہے کہ شہریوں کو بجلی ، پانی ، پٹرول اور گیس کے لئے احتجاج کرنا پڑتا ہے۔
فخر عالم نے بھی کراچی میں لوڈشیڈنگ کے خلاف اپنی آواز بلند کردی