Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • میرا کی کلا سیکل گانے پر ڈانس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

    میرا کی کلا سیکل گانے پر ڈانس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

    پاکستان فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ میرا کی کلاسیکل گانے پر رقص کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : اداکارہ میرا کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹا گرام پر کلاسیکل گانے پر رقص کرنے کی خوبصورت ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ میرا نے تِلے کی کڑھائی والی ایک خوبصورت پیازی رنگ کی ساڑھی زیب تن کی ہوئی ہے اور ساتھ میں خوبصورت زیورات پہن رکھے ہیں

    انسٹاگرام پر شیئر کی گئی ویڈیو میں میرا کسی فیشن شوٹ میں مصروف نظر آ رہی ہیں ویڈیو کے بیک گراؤنڈ میں مدھم سی آواز میں کلاسیکل گانا چل رہا ہے اور میرا اس گانے پر خوبصورت انداز میں رقص کر ر ہی ہیں –

    میرا جی کی اس ویڈیو کو لوگوں کی جانب سے خوب پسند کیا جا رہا ہے میرا کے مداحوں کی جانب سے انہیں اس خوبصورت انداز پر خوب سراہا جا رہا ہے ۔
    <img src="https://login.baaghitv.com/wp-content/uploads/2020/07/WhatsApp-Image-2020-07-09-at-10.26.57-AM-300×246.jpeg" alt="" width="300" height="246" class="alignnone size-medium wp-image-210912" /

  • سجاد علی نے  ٹک ٹاک پر بنائے گئے فیک اکاؤنٹ سے مداحوں کو خبردار کر دیا

    سجاد علی نے ٹک ٹاک پر بنائے گئے فیک اکاؤنٹ سے مداحوں کو خبردار کر دیا

    پاکستان میوزک انڈسٹری کے لیجنڈری گلوکار سجاد علی نے سوشل میڈیا پر ایپ ٹک ٹاک پر بنائے گئے فیک اکاؤنٹ سے مداحوں کو خبردار کرتے ہوئے اس ے فالو کرنے سے منع کر دیا-

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بُک پر مختصردورانیے کی ویڈیوز پر مبنی ایپ ٹک ٹاک پر اُن کے نام سے بنائے گئے فیک اکاؤنٹ کی تصویر شیئر کی۔

    تصویر شیئر کرتے ہوئے سجاد علی نے مداحوں سے ٹک ٹاک پر اس اکاؤنٹ کو رپورٹ اور بلاک کرنے کا کہا، ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ یہ فیک اکاؤنٹ ہے۔

    سجاد علی کے فیک ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر ایک لاکھ سے زائد فالوورز ہیں-

  • مریم نواز سے زیادہ خوبصورت اور بہتر کوئی ایکٹریس نہیں، حنا پرویز بٹ

    مریم نواز سے زیادہ خوبصورت اور بہتر کوئی ایکٹریس نہیں، حنا پرویز بٹ

    پاکستان مسلم لیگ نون کی رہنما حنا پرویز بٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان شوبز انڈسٹری کی نامور اور عالمی شہرت یافتہ اداکارہ ماہرہ خان اگرچہ اچھی اداکارہ ہیں لیکن میرا نہیں خیال کہ وہ مریم نواز کا سنجیدہ کردار ادا کر سکتی ہیں-

    باغی ٹی وی : پاکستان مسلم لیگ نون کی رہنما حنا پرویز بٹ سےحال ہی میں ایک انٹر ویو کے دوران مریم نواز کی بائیو پکچر میں مہوش حیات، زارا نور عباس، ماہرہ خان اور حریم فاروق کا نام لیتے ہوئے پوچھا گیا کہ ان میں سے پاکستان کی کون سی اداکارہ کو لیڈنگ رول میں دیکھنا پسند کریں گی؟
    https://www.instagram.com/p/CCX8l-4Ba0M/?igshid=6mny3imkowwf
    نون لیگی رہنما نے تمام آپشنز رد کرتے ہوئے کہا کہ ان میں سے کوئی بھی اداکارہ مریم نواز کا کردار ادا نہیں کر سکتی-

    حنا پرویز بٹ نے کہا کہ مریم نواز کا قد لمبا اور نگ گورا ہے ساتھ ہی کہا کہ بطور اداکارہ مجھے صنم سعید اور ایمان علی بہتر لگتی ہیں لیکن ان دونوں کا رنگ سانولا ہے اس لئے ان میں سے کوئی بھی مریم نواز کا کردار ادا نہیں کر سکتی-

    نون لیگی رہنما نے مزید کہا کہ اگرچہ ماہرہ خان اچھی اداکارہ ہیں لیکن میرا نہیں خیال کہ وہ مریم نواز کا سنجیدہ کردار ادا کر سکتی ہیں-

    واضح رہے کہ حنا پرویز بٹ اپنے ایسے ہی متنازع بیانات کے باعث خبروں کا حصہ بنتی رہتی ہیں۔

  • قومی کرکٹر احمد شہزاد کی اداکارہ ریشم کے ساتھ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل

    قومی کرکٹر احمد شہزاد کی اداکارہ ریشم کے ساتھ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ ریشم کی قومی کرکٹ ٹیم کے اوپننگ بیٹسمین احمد شہزاد کے ساتھ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہیں۔

    باغی ٹی وی :اداکارہ ریشم نے آج سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام کی اسٹوری میں قومی کرکٹر احمد شہزاد کے ہمراہ اپنی کچھ تصاویر شیئر کیں۔

    ریشم کی جانب سے شیئر کی جانے والی تصاویر میں اداکارہ اور احمد شہزاد دونوں سڑک کی فٹ پاتھ پر بیٹھے خوشگوار موڈ میں نظر آرہے ہیں۔


    اداکارہ ریشم نے اپنی اور قومی کرکٹر احمد شہزاد کی ایک تصویر پر ’فرینڈز ‘ والا ایموجی بھی لگایا۔

    واضح رہے کہ احمد شہزاد پاکستان قومی کرکٹر ٹیم کے بہترین اوپننگ بیٹسمین ہیں ان کا شمار پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کے بہترین کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جبکہ ریشم کا شمار پاکستان فلم انڈسٹری کی نامور اداکاراؤں میں ہوتا ہے ریشم کو بہترین اداکاری پر قومی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا اُن کی مشہور فلموں میں چور مچائے شور، گھونگھٹ، انتہا اور تڑپ سمیت دیگر فلمیں شامل ہیں۔

  • اسرا بلجیک نے پشاور زلمی کو انسٹا گرم پر فالو کر لیا

    اسرا بلجیک نے پشاور زلمی کو انسٹا گرم پر فالو کر لیا

    مسلمانوں کی اسلامی فتوحات پر مبنی تُرک سیریز دیریلس ارطغرل میں حلیمہ سُلطان کا مرکزی کردار ادا کرنے والی اداکارہ اسر بلجیک نے پشاور زلمی کو انستا گرام پر بھی فالو کر لیا ہے-

    باغی ٹی وی : دیریلیس ارطغرل مین حلیمہ سُلطان کا کردار ادا کرنے والی تُرک اداکارہ اسر بلجیک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپر پشاور زلمی کے چئیرمین جاوید آفرید ی کی ٹویٹ پر مثبت رد عمل دینے کے بعد انسٹاگرام پر بھی پشاور زلمی کو فالو کر لیا ہے-

    اسرا بلجیک کی جانب سے انسٹاگرام پر پشاور زلمی کو فالو کرنے سے ایسا لگ رہا ہے کہ تُرک اداکارہ پشاور زلمی کی برینڈ ایمبیسڈر بننے کے بارے میں سجنیدگی سے دلچسپی لے رہی ہیں-

    واضح رہے کہ چند روز قبل پشاور زلمی کے چئیرمین جاوید آفریدی نے ٹوئٹر پر اپنے ٹویٹ میں مداحوں سے سوال کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر مسلمانوں کی اسلامی فتوحات پر مبنی سیریز ارطغرل غازی کے مرکزی کردار ارطغرل کو پشاور زلمی کا برانڈ ایمبیسڈر بنا لیا جائے تو کیسا رہے گا- جاوید آفریدی کی اس ٹویٹ پر پاکستانیوں نے خوشی کا اظہار کیا اور بعض نے کہا کہ حلیمہ کو آپ بھول گئے اور حلیمہ کو بھی پشاور ٹیم کا حصہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا-

    مداحوں کے اس مطالبے کی بعد جاوید آفریدی نے اپنے ایک اور ٹویٹ میں حلیمہ سلطان کو پشاور ٹیم کا حصہ بنانے کا عندیہ دیا جس پر سوشل میڈیا صارفین نے مثبت ردعمل دیتے ہوئے جاوید آفریدی کے اس فیصلے پر بےحد خوشی کا اظہار کیا تھا۔

    جاوید آفریدی کی اس ٹویٹ پر رد عمل دیتے ہوئے اسرا بلجیک یعنی حلیمہ سلطان نے بھی اپنے ٹویٹ میں کہا کہ وہ پشاور زلمی کے مداحوں کو جلد ہی خوشخبری سنائیں گی جاوید آفریدی نے اسرا بلجک کے اِس ٹوئٹ کے لیے اُن کا شکریہ ادا کیا تھا جبکہ اسرا بلجیک کی اس ٹویٹ سے پاکستانیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی-اور پشاور زلمی کے مداحوں نے اس پر بھر پور خوشی کا اظہار کیا یہاں تک کہ پشاور زلمی سے متعلق ٹویٹ کرنے پر حلیمہ سلطان پاکستان ٹویٹر پینل پر ٹرینڈ بھی بنا رہا-

    پشاورزلمی کے شائقین کوجلد خوشخبری سناوں گی ، حلیمہ سلطان کی ٹویٹ

  • پتھر یا انڈا؟ ماہرین کا چونکا دینے والا انکشاف

    پتھر یا انڈا؟ ماہرین کا چونکا دینے والا انکشاف

    امریکی سائنسدانوں نے 66 ملین سال قدیم چٹان کو ریپٹائلز کے انڈے کے طور پر شناخت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی خبررساں ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق ، سائنس دان اس حقیقت کو جان کر حیرت زدہ ہوگئے کہ انٹارکٹیکا کے برف پوش علاقے سے فٹ بال کے سائز کے برابر لاکھوں سال پرانا سمندری چٹان پتھر ہے یا انڈا-

    فوٹو: پنٹیریسٹ
    آسٹن کی یونیورسٹی آف ٹیکساس کے سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ چٹان جو کسی فٹ بال کی جسامت کے برابر ہے ، در حقیقت ایک رینگنے والے جانور کا انڈا ہے جس کی لمبائی 7 میٹر تک بڑھ سکتی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اس پتھر کی کھوج 2011 میں کی گئی تھی لیکن سائنس دان اس پتھر کی حقیقت جاننے میں ناکام رہے ، لہذا حکام نے اس کو ’دی تھنگ‘ کا نام دیا اور اسے ایک عوامی میوزیم میں ڈال دیا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق نو سال بعد ، ماہر آثار قدیمہ جولیا کلارک نے دعوی کیا ہے کہ یہ چٹان ، جو فٹ بال کا سائز ہے ، دراصل ایک بہت بڑا رینگنے والے جانور کا انڈا ہے جو سات میٹر تک لمبا ہوسکتا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ، یہ پتھر 28 سینٹی میٹر لمبا اور 18 سینٹی میٹر چوڑا ہے۔

  • آزادی کا استعارہ     تحریر:ام ابیحہ صالح جتوئی

    آزادی کا استعارہ تحریر:ام ابیحہ صالح جتوئی

    آزادی کا استعارہ
    تحریر:ام ابیحہ صالح جتوئی

    کشمیر جنت نظیر وادی جو کہ ہندو بنیے کی قید میں ہے اور آزادی کی خاطر اٹھنے والے ہر قدم کو اپنے ظلم کا نشانہ بنانا بزدل بھارتی وحشیوں کا پرانہ وطیرہ ہے۔

    آزادی کی تحریک کو دبانے کے لئے بھارت نے کئی اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے لیکن جس قدر ظلم و ستم کئے گئے آزادی کی تحریک اس قدر مضبوط ہوتی گئی۔

    آزادی کی تحریک میں نئی روح پھونکنے اور نوجوان نسل کو ایک نئی مشعل راہ پر گامزن کرنے والے مجاھد برھان مظفر وانی نے جو کہ بھارت کے ظلم وبربریت سے تنگ آکر ظالموں کا ہاتھ روکنے اور بنیے سے چھٹکارا پانے کے لئے قلم کتابیں چھوڑ کر معسکر کا رخ کیا۔
    برھان وانی نے تحریک آزادی کو مضبوط اور مستحکم کیا اور نوجوانوں میں آزادی کا شعور بیدار کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھارت کا اصلی چہرہ اور کشمیر پر ہونے والے مظالم کو پوری دنیا پر ویاں کیا۔
    برھان مظفر وانی جیسے عظیم مجاھد کو دیکھ کر بہت سے نوجوانوں نے اپنی زندگی ظالموں کو روکنے اور آزادی کی خاطر جان قربان کرنے کا عظم مصمم کیا جس سے مظلوم کشمیریوں کی آس کے دیے ظلم کی آندھیوں سے بجھنے کے بجاۓ اپنے لڑکھڑاتے قدم جمانے میں کامیاب ہوۓ۔
    نئی امیدوں اور امنگوں نے کشمیریوں کو ظلم کے آگے گھٹنے ٹیکنے کے بجاۓ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند بنا دیا۔

    بھارتی بزدل فوج برھان مظفر وانی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور آزادی کی جدوجہد سے بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی ہر طرف سے بھارت کو جب شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا تو برھان وانی ان پر ایک بپھرے طوفان کی مانند نمودار ہوئے اور بھارتیوں کو چَھٹی کا دودھ یاد دلا دیا۔

    جبکہ بھارت برھان مظفر وانی کو شہید کرکے آزادی کی تحریک کو دبانے میں ناکام رہا بلکہ اس شہادت نے آزادی کی تحریک کو مزید تقویت بخشی۔

    اس مرد مجاھد کا جنازہ تاریخی جنازہ تھا جس میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی اور کئی دفعہ جنازہ پڑھایا گیا۔

    "جس دھج سے کوئی مقتل سے گیا وہ شان سلامت رہتی ہے”
    "یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں”

    بھارتی بزدل فوج نے ان کے جنازے پر انکے نواحی گاؤں کی طرف راستوں کو بند کردیا اب جبکہ ان کی برسی کے موقع پر بھی بھارت اس قدر بوکھلاہٹ کا شکار ہوتا ہے کہ اس مرد مجاہد کے نواحی گاؤں کی طرف جانے والے رستوں کو بند کرنے کی کوشش کرتا ہے جو کہ اس فوج کی شکست کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    بھارت نے اگر ایک برھان وانی کو شہید کیا ہے تو کشمیر سے ہزاروں برھان وانی شہادت کی تمنا دل میں لئے اور ظالم کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لئے حق کی راہوں پر نکل چکے ہیں۔

    برھان مظفر وانی کو شہید کرکے مٹانے والوں کی تمام تر کوششیں ناکام ہوگئیں اور برھان مظفر وانی لاکھوں لوگوں کے دلوں میں گھر کر گئے ان کی سوچ انکا نظریہ اور مقصد قائم و دائم رہا اور نئے جوش و جذبے سے پروان چڑھا برھان وانی ایک سوچ بن چکا ہے جس کو کبھی ختم نہیں کیا جاسکتا۔

    بھارتی فوج کشمیریوں کی انکھیں تو چھین سکتی ہے لیکن آزادی کے خوابوں کو کبھی نہیں چھین سکتی جس قدر مظالم زیادہ ہوں گے آزادی کی تحریک بھی اس قدر تقویت پکڑے گی اور مستحکم ہوگی شہیدوں کا لہو رائیگاں نہیں جاۓ گا اس کا صلہ آزادی کی صورت میں ملے گا۔
    ان شاءاللہ عزوجل

    ہم بحیثیت پاکستانی شہری اقوام متحدہ سے اپیل کرتے ہیں کہ بھارت کے مظالم کے خلاف سخت ایکشن لے تاکہ مظلوم کشمیریوں کو ظلم سے بچایا جاسکے اور انکا حق خودارادیت دیا جاۓ تاکہ وہ بھی ہندو بنیے کے مظالم سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ آزاد فضاؤں میں اپنی زندگی بسر کرسکیں۔

    اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو آمین یا رب العالمین۔
    پاکستان زندہ باد پاکستان پائندہ باد

  • جھوٹ ہمارے معاشرے کا ناسور    تحریر:جویریہ بتول

    جھوٹ ہمارے معاشرے کا ناسور تحریر:جویریہ بتول

    جھوٹ ہمارے معاشرے کا ناسور…!!!
    تحریر:جویریہ بتول

    ایک بہت ہی گھٹیا اور اخلاقی برائی جو ہماری نجی زندگیوں سے لے کر سماجی رویوّں میں اس حد سرایت کر چکی ہے کہ ہمیں اس کے مضر اور انتہائی منفی اثرات کا احساس تک نہیں ہوتا…!!!
    بحیثیت مسلمان ہمیں تو اور ہی زیادہ اس برائی سے بچنے کی تعلیم ملی ہے:
    اللّٰہ رب العزت نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے کہ:
    "بے شک اللّٰہ ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا،جو جھوٹا اور منکر حق ہے…”(الزمر)۔
    کبھی فرمایا:
    "اور چاہیئے کہ جھوٹی بات سے پرہیز کرو…”(الحج)۔
    کبھی فرمایا:
    "اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ…”(التوبہ)۔
    احادیث میں جھوٹ کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔
    شرک،عقوقِ والدین کے بعد بڑا کبیرہ گناہ کہا گیا ہے۔
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بار بار جھوٹ سے بچنے کی تاکید کی…
    ایک مجلس میں بار بار یہ بات دہراتے جاتے کہ جھوٹ سے بچو اور جھوٹی گواہی…
    صحابہ حیران ہوئے کہ شاید آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یہی بات دہراتے رہیں گے(صحیح بخاری)۔
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جھوٹ کو نفاق کی ایک خصلت قرار دیا کہ منافق کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے…(صحیح بخاری)۔
    سنی سنائی باتیں آگے پھیلانے والوں،تحقیق سے دامن بچانے والوں کو بھی جھوٹے شمار کیا گیا ہے…
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو آگے بیان کر دے…”(صحیح مسلم)۔
    لیکن آج ہم جس طبقہ کا بھی جائزہ لے لیں،جھوٹ عام ہے…
    وہ سیاسی ہو یا کاروباری…
    مذہبی ہو یا معاشرتی…
    انفرادی ہو یا اجتماعی…
    ہم جھوٹ کی آمیزش سے ہر معاملہ کو آلودہ کر دیتے ہیں…
    تاجر جھوٹ کی بنیاد پر جھوٹی قسمیں کھا کھا کر کاروبار کرتا ہے…
    سیاست کے میدان میں جھوٹے وعدے کر کے ان سے مکر جایا جاتا ہے…
    عدالتوں میں جھوٹی گواہی کے لیئے لوگ تیار ہو جاتے ہیں…
    جھوٹ کی بنیاد پر مخالفین کو پھنساتے اور مقدمات بنا دیتے ہیں…
    ذاتی زندگی کے حوالے سے جھوٹ کی بنیادوں پر ہوائی قلعے اور جھوٹے سٹیٹس بناتے ہیں…
    جو آہستہ آہستہ رازوں سے پردہ اٹھا کر شرمندگی کا باعث بنتے ہیں…!!!
    کیوں نہ خود کو سیدھے اور صاف طریقے سے متعارف کروا کر تمام اُلجھنوں کو سلجھا دیا جائے…
    جو ہوں بس اس پر فخر کرنے کی عادت رہے…دنیاوی مال و متاع کم ہو یا زیادہ یہ بڑائی کا کہیں بھی معیار نہیں بتایا گیا…
    ہاں دنیا کی زینت ضرور ہے…اور اسے بھی اپنے لیئے صدقہ جاریہ بنانا چاہیئے…
    اپنے بارے میں جھوٹ پر مبنی مصنوعی اونچائی والا تعارف نہیں دینا چاہیئے…
    اس طرح کہیں رشتہ مانگنے چلے جائیں تو درست اور سچی معلومات دینے سے گریز کیا جاتا ہے…
    کہیں کسی سے کوئی رہنمائی چاہی جائے تو ملاوٹ دکھائی دے گی،اخلاص اور سچ کی بنیاد پر کوئی بات کرنے پر تیار نہیں ہو گا…
    کسی سے جھوٹی باتیں منسوب کر دینا عام ہے…
    بدگمانی اور حسد کی بنیاد پر تہمتیں لگانا…
    اور بدگمانی کو سب سے بڑا جھوٹ کہا گیا ہے…!!!
    اولاد والدین کے سامنے جھوٹ بولتے ہیں اور درِ پردہ بہت کچھ منفی جا رہا ہوتا ہے…
    بلکہ بعض اوقات میاں بیوی جیسا قربت والا رشتہ بھی جھوٹ اور دھوکے پر مبنی دکھائی دیتا ہے اور اپنا اپنا مفاد بس…
    سچ ہمیشہ سکوں،راحت اور دل کا اطمینان دیتا ہے اسی لیئے حدیث میں سچ کو اطمینان کہا گیا اور جھوٹ کو شک کا سبب…
    سچ بول کر انسان ہواؤں کے سنگ آزادی سے اُڑ سکتا ہے…
    جبکہ جھوٹ پر ضمیر ملامت کرتا رہتا ہے…
    سچی بات میں اگر وقتی نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑ جائے لیکن اس کے روشن اثرات بدیر سہی اثر انداز ضرور ہوتے ہیں…
    ہم صرف جھوٹی انا کے قیدی بن جاتے ہیں اور سچ کا اعتراف و اقرار گراں محسوس ہوتا ہے…
    حالانکہ سچ آدمی کو نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور آدمی سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ صدیق کا مرتبہ حاصل کر لیتا ہے…(صحیح بخاری_کتاب الادب)۔
    سچ ایک بار بولنا پڑتا ہے اور اس کی تصدیق کی راہیں اللّٰہ تعالٰی خود ہی ہموار اور آسان کر دیتا ہے جبکہ جھوٹ بار بار بولنا پڑتا ہے…
    یہ ہر موڑ پر ہر انداز میں وضاحتیں مانگتا ہے اور دامن میں سوائے شرمندگی کے کچھ نہیں بچتا…
    پچھلے دنوں بہت سی بہنوں کے ساتھ لکھنے کے حوالے سے واقعات پیش آتے رہے جو انہوں نے دلچسپی کے لیئے شیئر بھی کیئے کہ ان کی تحاریر کو دوسرے لوگوں نے من و عن کاپی کر کے اپنے نام سے شائع کیا،جب وضاحت مانگی گئی تو دھڑلے سے کہتے کہ نہیں یہ چیز ہماری ہے…
    مذید سمجھایا گیا تو مان گئے مگر جھوٹی وضاحتیں دے دے کر تھکے اور شہرت کا طعنہ دیتے ہوئے بھڑاس نکالی…
    حالانکہ شہرت کے رسیا تو وہ لوگ ہیں جو کسی کی محنت اور کاوشوں کو محض ایک کلک سے اپنے نام کر لیتے ہیں اور جھوٹی داد کے حقدار بنتے ہیں…
    یقیناً اس پر اُن کا ضمیر انہیں ملامت بھی کرتا ہو گا…؟
    اگر کسی کی چیز ہمیں بہت ہی پسند آئے تو ہمیں چاہیئے کہ ہم خیانت سے بچتے ہوئے…دل ذرا بڑا کر کے اس چیز کو اس کے لکھنے والے کے نام سے ہی آگے کر دیں،تب ثواب کے مستحق بھی رہیں گے اور خیانت کے ارتکاب سے بھی بچ جائیں گے…
    اور حقیقی محنت کار کے لیئے کسی پریشانی کا باعث بھی نہیں بنیں گے… ورنہ تو نیکی برباد گناہ لازم والی صورت حال ہی ہو گی ناں…
    آج کل سوشل میڈیا نے اس بات کو اور ہی آسان بنا دیا ہے اور آگے کا پیچھے،پیچھے کا آگے اور رد و بدل کا کام سیکنڈز میں کر لیا جاتا ہے…
    ایک انتہائی بہترین قلم کار بہن بتا رہی تھیں کہ میں نے ایک دفعہ شاعری کے مقابلے میں اپنی شاعری بھیج دی تو آگے سے جواب آیا یہ تو کاپی ہے…
    یعنی ان کی شاعری پہلے ہی چوری ہو کر مقابلے کی زینت بن چکی تھی…!!!
    اُن کے بقول جب اپنے پاس موجود پوسٹرز تصدیق اور ثبوت کے لیئے بھیجے تو تب بات ان کی سمجھ میں آئی کہ معاملہ کیا ہوا؟
    ایک اور دلچسپ واقعہ نے تو آنکھیں ہی کھول دیں کہ ایک محترم نے ایک صاحب کا کالم اٹھا کر آٹھ دس اخبارات میں بڑے فخر سے اپنے نام کے ساتھ چھپوا لیا…اور داد وصول کی…
    یہ بہت بڑی ادبی خیانت ہے جس کا ادراک کرنے کی ہمیں ضرورت ہے…!!!
    ہمیں چاہیئے کہ ہم ترقی کے جس زینے تک بھی پہنچ جائیں سچ اور امانت ہمارا زادِ سفر رہیں تبھی ہم ایک مطمئن زندگی گزار سکتے ہیں اور وقار و مرتبہ بھی بنا سکتے ہیں…!!!
    اس معاشرے میں اصلاح کے بیج کو بار آور ہوتا دیکھ سکتے اور رہبری کا فریضہ انجام دے سکتے ہیں.
    ہم جتنی دیر میں بے چینی کا سودا کرتے ہیں،اس سے ذرا زیادہ دیر سہی اطمینان اور حقیقی خوشی کی تجارت بھی کر سکتے ہیں…
    فریب کی ملمع کاری اور جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہمارے اندر کے ایمان کو کھوکھلا کر دیتی ہے…
    پھر ہم جھوٹ پر اُٹھتی عمارت سے کچھ وقت کے لیئے مستفید ہو بھی جائیں تو ایک بھاری جوابدہی کا بوجھ کندھوں پر ضرور لاد لیتے ہیں…!!!!!
    ہمیں اپنی اور اپنی نسلوں کی اور اس معاشرے کی سچ اور انصاف کے اصولوں پر تربیت اور رہ نمائی کرنی ہے تاکہ معاشرہ میں مثبت سوچ، حقیقی تبدیلی،محنت اور شفافیت کے پھول کھِلیں…
    ایسی امیں فضائیں چلیں کہ جہاں سانس لے کر دل گہرے سکوں کی وادی میں اُتر جائے اور اپنی معاشرتی سوچ پر بجا طور پر فخر محسوس کرنے لگے…آمین…!!!!!

  • کیا اسلام تلوار کے زور سے پھیلا….؟؟؟  تحریر: نادیہ بٹ

    کیا اسلام تلوار کے زور سے پھیلا….؟؟؟ تحریر: نادیہ بٹ

    کیا اسلام تلوار کے زور سے پھیلا….؟؟؟

    نادیہ بٹ

    سچ کہہ دوں اے برہمن اگر برا نہ مانے
    تیرے صنم کدوں کے بت ہو گئے پرانے.

    القرآن:
    کنتم خیر امة اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکرو وتومنون بالله
    ترجمہ
    "تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے تم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فرض ادا کرتے ہو اور تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو”
    اسلام سراسر خیر اور معروف ہے معروف ہر وہ اچھائی ہے جس کو فطرت سلیمہ اچھائی مانتی ہے اور منکر ہر وہ برائی ہے جس کا فطرت سلیمہ انکار کر دے۔
    اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسلام کی صرف دعوت تو دی جائے گی لیکن امر’آرڈر یا دباؤ نہیں ڈالا جائے گا. کسی غیر مسلم کو اسلام لانے پر مجبور نہیں کیا جائے گا, لیکن اگر وہ امن و امان میں خلل ڈالے تو امر کی قوت کو ضرور حرکت میں لایا جائے گا۔
    لا تفعلوہ تکن فتنة فی الارض و فساد کبیر (سورة توبہ ٧٣پ ١٠)
    ترجمہ "یعنی اگر تم نے یہ نہ کیا تو زمیں میں فتنہ فساد پھیل جائے گا”

    دشمنانِ اسلام کہتے چلے آئے ہیں کہ "اسلام تلوار کے زور سے پھیلا” ان کو اعتماد ہے اپنے زبردست پراپیگنڈا اور تحریری قوت پر وہ جانتے ہیں کہ جھوٹی بات بھی اگر بار بار دھرائی جائے اور مسلسل کہی جائے تو سننے والوں کے دل میں شک پیدا کر ہی دیتی ہے اس لیے کتنے مسلمان نوجوان ہیں تفصیلات سے بے خبر اور نا واقف ہونے کے باعث ان کے پراپیگنڈے سے کم و بیش متاثر ہو جاتے ہیں
    مگر حق یہ ہے کہ دشمنوں میں سے کوئی بھی آج تک اس دعوے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا۔

    ایک غلط فہمی اور اس کا ازالہ …….عہد رسالت میں جو لڑائیاں پیش آئیں ان کے بیان کے بارے میں ہمارے مورخین نے بڑی بے احتیاطی کی ہے جس کی وجہ سے مخالفین کو بات کا بتنگڑ بنانے کا موقع مل جاتا ہے اور نا واقف لوگ ان کے جال میں پھنس جاتے ہیں آنحضور ﷺ کے سامنے جتنے معرکے پیش آئے وہ دو قسم کے ہیں
    (١) جس میں آپ ﷺ نے شرکت فرمائی وہ غزوہ ہے۔
    (١١)جس میں آپ خود شریک نہ تھے وہ سریہ کہلاتا ہے۔

    اکثر جماعتیں جو لڑنے کے علاؤہ کسی دوسرے کام کے لیے بھیجی گئیں ان کو بھی مورخین نے سریات کے ذیل میں شامل کر لیا ہے حالانکہ اصل لڑائیوں کی تعداد کم ہے ان کو بھی سریہ میں شامل کر لیا جو صرف دو تین افراد پر مشتمل تھیں یا ان کے بھیجنے کے مقاصد کچھ اور تھے.
    تمام غزوات میں مخالفین کے کل قیدی 6564 اور کل مقتول 759تھے اور مسلمانوں میں سے کل 259 شہید اور صرف ایک بزرگ قید ہوئے
    6348 قیدیوں کو آنحضور ﷺ نے بغیر کسی شرط کے غزوہ حنین کے بعد آزاد فرما دیا ستر قیدی بدر کے تھے جن کو فدیہ ادا کرنے پر رہا کر دیا

    اب ان اعداد کے مقابلے میں دنیا کی دوسری مذہبی و سیاسی لڑائیوں کے قیدیوں اور مقتولین کی تعداد دیکھی جائے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے صرف مدافعت کے لیے مجبور ہو کر تلوار ہاتھ میں اٹھائی تھی کسی اور مقصد کے لیے نہیں لڑے تھے
    غیر مسلم کے مقتولین کے خوفناک اعداد و شمار کا جائزہ لیں۔۔
    جنگ عظیم اول جو کہ چار سال تک جاری رہی ان اعداد و شمار میں قیدی اور زخمی سپاہیوں کا شمار داخل نہیں مقتولین کی تعداد قریباً چار کروڑ بنتی ہے ۔

    مدعی نبوت ﷺ گو بظاہر بشریت میں تھے لیکن اپنی معنوی زندگی،اپنے معجزانہ اخلاق،اپنے علم و معرفت اپنے ربانی کرشموں کی بناء پر اخلاق کے بہت بلند مرتبہ پر فائز تھے…
    حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب عرب میں آپ ﷺ کی نبوت چرچا سنا تو اپنے بھائی انیس کو تحقیق کے لیے بھیجا انہوں نے واپس آ کر پیکر نبوت کا نقشہ ان الفاظ میں کھنیچا "میں ایک ایسے شخص کو دیکھ کر آیا ہوں جو بھلائیوں کا حکم دیتا اور برائیوں سے روکتا ہے (بخاری)
    اسلام کے سب سے اول اعلان دعوت کے موقع پر دشمن قریش نے خود گواہی "محمد ﷺ ! تیری بات ہم نے آج تک جھوٹ نہ پائی

    ہجرت کے آٹھ سال بعد ہرقل قیصر روم کے دربار میں ابو سفیان کی نبی کریم ﷺ کی صداقت پر گواہی (صحیح بخاری) فتح مکہ پر صفوان بن امیہ کا اسلام لانے کا واقعہ ۔۔۔۔ (صحیحح مسلم)
    ہندہ رضی اللہ عنھا قبل از اسلام خاندان نبوت کی قدیم ترین دشمن فتح مکہ پر بھیس بدل کر گستاخی سے باز نہیں آئی لیکن دربار رسالت میں پہنچ کر
    آپ ﷺ کے حسن خلق سے متاثر ہوئے بے اختیار بول اٹھی یا رسول اللہ ﷺ سطح زمین پر آپ کے گھرانے سے زیادہ کوئی گھرانہ مجھے مبعوض نہ تھا لیکن آج آپ کے گھرانے سے زیادہ کوئی گھرانہ مجھے محبوب نہیں ہے آپ نے فرمایا۔ خدا کی قسم ہمارا بھی یہی خیال ہے۔
    یہودی عالم جو قرض کی معافی پر مسلمان ہوا اور اپنا نصف مال صدقہ کر دیا (مشکوۃ)
    ثمامہ بن آثال یمامہ کا رئیس اسلام کا مجرم تھا گرفتار ہو کر آیا تو مسجد نبوی کے ستون کے ساتھ باندھ دیا گیا تین دن بعد آنحضرت ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے اس کی بند گرہ کھول دی اور رہا کر دیا اس واقعہ سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔(بخاری شریف)
    یہودی عالم عبداللہ بن سلام آپ ﷺ کا فرمان۔۔۔۔ سلام کو عام کرو، کھانا کھلایا کرو۔۔۔۔۔سن کر مسلمان ہو گئے. (بخاری شریف)
    ضماد زمانہ جاہلیت میں آپکے دوستانہ تعلقات رہ چکے تھے وہ جنون کا علاج کرتے، آپ ﷺ نے ایک تقریر کی ان الفاظ سے شروع کیا
    الحمدللہ نحمدہ و نستعینه من یھدہ اللہ فلا مضل له ومن یضلله فلا ھادی له واشھدان الا اله اللہ وحدہ لا شریک له واشھدان محمدا عبدہ ورسوله
    اس پر ان فقروں کا یہ اثر ہوا وہ بار بار سننے کا مشتاق ہوا اور کہا ہاتھ لائیں میں بیعت کرتا ہوں (صحیح مسلم)
    ایسے لا تعداد واقعات سے اسلام کی عظمت کا ثبوت ملتا ہے۔
    آج امریکہ اور یورپی ممالک میں اسلام سب سے زیادہ پھیلنے والا دین ہے دیکھا جا رہا ہے اُن کو کون تلوار کے زور پر اسلام قبول کروا رہا ہے؟
    یہ تو اللہ سبحان و تعالیٰ کا وعدہ ہے:
    هوالذى ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله

  • عثمان مختار اور ربیعہ چوہدری کی فلم نے امریکہ میں بہترین فلم کا ایوارڈ اپنے نام کرلیا

    عثمان مختار اور ربیعہ چوہدری کی فلم نے امریکہ میں بہترین فلم کا ایوارڈ اپنے نام کرلیا

    پاکستان شوبزانڈسٹری کے معروف اداکار عثمان مختار اور اداکارہ ربیعہ چوہدری کی شارٹ فلم ’بینچ‘ نے نیو یارک امریکہ میں بہترین فلم کا ایوارڈ اپنے نام کرلیا۔

    باغی ٹی وی : اداکار عثمان مختار اداکارہ ربیعہ چوہدری کی شارٹ فلم ’بینچ‘ نے ساؤتھ شارٹ فلم فیسٹیول نیو یارک میں بہترین شارٹ فلم کا ایوارڈ اپنے نام کر لیا جس کا اعلان اداکار نے سوشل میڈیا پر کیا-
    https://www.instagram.com/p/CCVz9yWpVwq/
    سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر عثمان مختار نے اپنی شارٹ فلم ’بینچ‘ کا پوسٹر جاری کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا کہ آپ کے ساتھ اپنی خوشی بیان کرنے کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ یہ سب فلم ، پوری ٹیم سے وابستہ ہر شخص کی محنت اور لگن کی وجہ سے ہے۔

    عثمان مختار نے لکھا کہ یہ ہماری پہلی جیت ہے لہذا میں بہت جذباتی ہوں۔ جہاں تک مجھے یاد ہے کہ میں فلمساز بننا چاہتا ہوں۔ میں نے وی ایچ ایس کیمروں سے شروع کیا اور ابھی یہاں کھڑا ہوں۔

    اداکار نے لکھا کہ ’اس ایوارڈ کو جیتنے سے مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ میں جن بھی حالات سے گزرا ہوں اس کا مطلب کچھ ہے وہ بے معنی نہیں تھے-

    عثمان مختار نے لکھا کہ اُن تمام لوگوں کا بے حد شکریہ جنہوں نے ہمیں سپورٹ کیا، مجھ سے انتظار نہیں ہورہا میں جلد از جلد آپ سب کے ساتھ اپنی فلم شیئر کرنا چاہتا ہوں۔

    آخر میں عثمان مختار نے لکھا کہ آپ سب کی دعاؤں ساتھ ہیں تو ایسی بہت سی کامیابیاں مستقبل میں بھی مل سکتی ہیں۔

    عثمان مختار نے اپنی فلم کی ساتھی اداکارہ ’ربیعہ چوہدری‘ کو خصوصی مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ربیعہ ہماری فلم کی ’دل کی ڈھرکن‘ ہیں۔