Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • خان صاحب پٹرول مہنگا کرکے آپ خود سستے ہوگئے ہیں   خلیل الرحمن قمر

    خان صاحب پٹرول مہنگا کرکے آپ خود سستے ہوگئے ہیں خلیل الرحمن قمر

    حالیہ حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات میں ایک دم 25 روپے فی لیٹر اضافے نے جہاں عوام پر بم گرایا ہے وہیں اپوزیشن اور سیاسی شخصیات سمیت شوبز ستاروں میں بھی بے حد غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی : حالیہ حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات میں ایک دم 25 روپے فی لیٹر اضافے نے جہاں عوام کی چیخیں نکال دی ہیں وہیں فنکار برادری میں بھی بے حد غصہ پایا جاتا ہے فنکار سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ کہا انہوں نے پی ٹی آئی کو ووٹ دے کر صحیح فیصلہ کیا ہے یا غلطی کر بیٹھے ہیں-

    فہد مصطفی ، وینا ملک، اعجاز اسلم کے بعد اب ڈرامہ سیریل میرے پاس تم ہو اور پیارے افضل سمیت متعدد ہٹ ڈراموں اور فلموں کے مصنف خلیل الرحمن قمر نے وزیراعظم عمران خان کو پٹرول کی قیمتوں میں اس قدراضافہ کرنے پر آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا-

    مصنف خلیل الرحمن قمر نے اس ضمن میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کئی سلسلہ وار ٹوئٹس کیں جن میں انہوں نے موجودہ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا-


    خلیل الرحمن قمر نے اپنی ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ سیاستدانوں میں وہ مائی کا لال پیدا ہی نہیں ہوتا جو حکومت بچانے کی بجائے غریب کیساتھ کھڑا ہو جائے-

    انہوں نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم نے ثابت کیا ہے عمران خان تم ایک بزدل حکمران اور ہم ایک بدقسمت قوم ہیں-


    خلیل الرحمن قمر نے ایک اور ٹوئٹ میں کہا پٹرول مہنگا کرکے آپ خود سستے ہوگئے عمران خان صاحب۔


    ایک اور ٹوئٹ میں خلیل الرحمن قمر نے صارفین کو اپنے الفاظوں کی سختی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میری اپنے فینز سے درخواست ہے کہ کوئی ناسمجھ اگر مجھے برا بھلا بھی کہے تو ماں بہن کی گالی مت دیجیے عمران خان میری بھی امید ہے میں ڈر رہا ہوں کہ امید ٹوٹ رہی ہے

    اس سے قبل اداکار اعجاز اسلم نے پاکستان کی گزشتہ دو سالوں سے لیکر اب تک کی موجود ہ صورتحال پر شدید برہمی کا اظہا ر کرتے ہوئے اپنے ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ پیٹرول مافیا، پانی مافیا، بجلی مافیا، بے روزگاری ،کرنسی میں کمی، کورونا بحران، شوگر مافیا، آٹا مافیا اور اس کے علاوہ بھی بہت سے مسائل۔

    اعجاز اسلم نے لکھا کہ تباہ کن دو سالوں نے یہ سب کچھ تو دکھا دیا ہے، آئیے ہم دیکھتے کہ آنے والے سال ہمارے لیے مزید کیا کیا لیکر آئیں گے۔

    اس سے قبل اداکار فہد مصطفی نے کہا تھا کہ جناب عمران خان میں جانتا ہوں کہ ملک چلانا آسان کام نہیں ہے لیکن کیا ہوا (یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں) آپ ہمیں بتاتے رہے جب آپ حزب اختلاف میں تھے۔

    فہد مصطفیٰ کا مزید کہنا تھا کہ مجھے بتائیں کہ کیا میں نے آپ کو ووٹ دے کر صحیح فیصلہ کیا ہے؟

    اس سے قبل پی ٹی آئی کی سپورٹر اداکارہ و میزبان وینا ملک نے اپنے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ خان صاحب عوام پوچھ رہی ہے اب تھوڑا گھبرا لیں؟

    اینکر پرسن جنید سلیم کا کہنا تھا کہ خان صاحب آپ کے لئے ایک آفر ہے استعفی دو ار گھر جاؤ-

    خان صاحب آپکے لیے ایک آفر ہے استعفی دو اور گھر جاؤ،جنید سلیم
    اعجاز اسلم ملک کے موجودہ حالات پر برہم
    آپ کیلئے پٹرول کی قیمتیں روکنا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا تو اب کیا ہوا؟ فہد مصطفیٰ
    خا ن صاحب عوام پوچھ رہی ہے اب تھوڑا سا گھبرا لیں؟ وینا ملک

  • کورونا وائرس سے متعلق آگاہی پھیلانے مسٹر بین بھی میدان میں آگئے

    کورونا وائرس سے متعلق آگاہی پھیلانے مسٹر بین بھی میدان میں آگئے

    دنیا کو اپنی منفرد اداکاری سے ہنسانے والے مسٹر بین بچوب بڑوں کے پسندیدہ اداکار ہیں ان کے مداح دنیا بھر میں موجود ہیں لوگوں کے چہروں پر ہنسنی بکھیرنے والے مسٹر بین اب کورونا سے متعلق آگاہی دیں گے۔

    باغی ٹی وی : عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے یوٹیوب پر ایک ویڈیو پوسٹ کی گئی ہے جس میں کورونا وائرس سے بچنے کے لیے مشہور امریکی اداکار مسٹر بین کا کارٹون احتیاطی تدابیر بتا رہے ہیں۔

    ڈبلیو ایچ او نے لوگوں میں کورونا وائرس سے متعلق آگاہی پھیلانے اور احتیاطی تدابیر اپنانے کے لیے معروف مزاحیہ کامیڈین مسٹر بین کے کارٹون کا سہارا لیا ہے جو لوگوں کی کورونا کے لئے حفاظتی تدابیر کی طرف توجہ مبذول کر رہا ہے۔

    ویڈیو میں کورونا وائرس سے بچنے کے لیے احتاطی تدابیر برتنے اور حفظان صحت کے اُصولوں پر عمل کرنے کے بارے میں بتایا جا رہا ہے۔

    ڈبلیو ایچ او کی اس ویڈیو کو یوٹیوب پر 53 ہزار 7 سو 77 سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے جبکہ ویڈیو پر لوگوں کی جانب سے عالمی ادارہ صحت کی کاوشوں کو بھی سراہا جا رہا ہے

  • پورا فلسطین فلسطینی عوام کا ہے  تحریر: صابر ابو مریم

    پورا فلسطین فلسطینی عوام کا ہے تحریر: صابر ابو مریم

    پورا فلسطین فلسطینی عوام کا ہے
    تحریر: صابر ابو مریم
    سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
    پی ایچ ڈی اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

    انبیاء کی سرزمین مقدس فلسطین پر بسنے والے فلسطینی عرب گذشتہ ایک سو سال یعنی جس دن سے برطانوی استعمار کے عہدیدار بالفور نے Rothschild کو ایک خط کے ذریعہ اعلان نامہ پھیجا کہ سرزمین فلسطین پر یہودیوں کے لئے ایک ریاست بنام اسرائیل قائم کی جائے، اس دن سے آج تک ایک سو سالہ تاریخ میں فلسطینی عرب صہیونیوں کے ظلم و ستم کے رحم و کرم پر ہے۔ غاصب صہیونیوں نے پہلے جنگوں اور قتل و غارت کیے ذریعہ فلسطین کا استحصال کیا بعدمیں امریکہ اور برطانیہ سمیت یورپی ممالک کے دباؤ کو فلسطین کی تنظیم پی ایل او کے ساتھ ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے نام نہاد امن مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا۔ بہر حال ہر دو صورتحال میں اسرائیل اپنے ناپاک عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کرتا رہا اور نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ فلسطین کی اراضی پر مسلسل صہیونیوں نے قبضہ جاری رکھا۔صورتحال یہاں تک آن پہنچی ہے کہ صہیونی آباد کاری کے ذریعہ فلسطین کے مغربی کنارے کو صہیونی آبادی کے تناسب سے فلسطینی آبادی پر برتری کی کوشش کی جا رہی ہے۔غزہ کے علاقہ کو مغربی کنارے سے پہلے ہی جدا کر دیا گیا ہے اور ساتھ ساتھ یہاں گذشتہ بارہ برس سے غاصب اسرائیل کا مصری حکومت کے ساتھ مشترکہ محاصرہ کیا گیا ہے جو تاحال جاری ہے۔
    موجودہ زمانہ میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کہ جو خود امریکی عوام کے لئے بھی ایک مصیبت اور عذاب سے کم نہیں ہیں، انہوں نے صدی کی ڈیل نامی منصوبہ پیش کرتے ہوئے پہلے فلسطین کے ابدی دارلحکومت قدس کی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی اور بعد میں اسی کوشش کو یقینی بنانے کے لئے امریکی حکومت نے تل ابیب سے قدس میں اپنا سفارتخانہ منتقل کرنے کا اعلان کیا۔دراصل ان سب باتوں کا مقصد امریکی صدر یہ بتانا چاہتے تھے کہ فلسطین پر اب مکمل اسرائیل کا قبضہ ہے۔حالانکہ ماضی میں امریکہ کی پیش رو انتظامیہ نے فلسطینی پی ایل او کے ساتھ مذاکرات میں اسرائیل کی ضمانت دی تھی کہ اسرائیل امن مذاکرات کی کامیابی کے لئے سنہ1967ء کی سرحدوں تک چلا جائے گا۔بعد ازاں یہ ہونا بھی آج تک اسی طرح سے نا ممکن رہا ہے کہ جس طرح اعلان بالفور میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل قائم کیا جائے گالیکن غیریہودیوں قوموں کو فلسطین سے نہیں نکالا جائے گا۔ حقیقت اس کے بھی بر عکس ثابت ہوئی، اسرائیل قائم کر لیا گیا لیکن فلسطینی عربوں کو فلسطین سے نکال پھینکا گیا۔اسی طرح اقوام متحدہ میں 29نومبر 1947ء کو منظور ہونے والی بڑی قرار داد میں طے پایا کہ فلسطینی آزاد ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے لیکن اس پر بھی آج تک اقوام متحدہ عمل درآمد کروانے میں ناکام رہی ہے البتہ اسرائیل کو قائم کر دیا گیا۔
    اب حالیہ دنوں اسرائیل امریکی سرپرستی میں امریکی صدر کے شیطانی منصوبہ صدی کی ڈیل پر تکیہ لگائے ہوئے ہے۔اب غرب اردن کے علاقہ کو اسرائیل میں ضم کرنے یا الحاق کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔یعنی صدی کی ڈیل نامی منصوبہ کے مطابق فلسطین کا مغربی کنارا اب اسرائیل کے ساتھ شامل کیا جانے کا ناپاک ارادہ کیا جا چکا ہے۔اس حوالہ سے امریکہ اور اسرائیل مسلسل اس بات کا اعلان کر رہے ہیں کہ جولائی سنہ2020ء میں غرب اردن کو اسرائیل کے ساتھ ملحق کر دیا جائے گا۔
    یہاں پر یقینا ایک سوال ضرور ہے اور لمحہ فکریہ ان سب قوتوں اور عناصر کے لئے ہے کہ جو ماضی سے اب تک فلسطین کے مسئلہ کا حل امریکی فارمولہ کے مطابق دو ریاستی حل میں سمجھ رہے تھے۔ یعنی وہ حکومتیں اور ادارے جو فلسطین کے لئے امریکی فارمولہ کے مطابق کہا کرتے ہیں کہ سنہ1967ء کی سرحدوں تک اسرائیل واپس ہو جائے اور فلسطین کی آزاد ریاست قائم ہو جائے۔ ایسے تمام عناصر اور حکومتوں کے لئے لمحہ فکر ہے کہ اسرائیل اور امریکہ اس طرح کے کسی منصوبہ کو مانتے ہی نہیں ہیں بس یہ تو مسلم دنیا اور فلسطین کی نام نہاد حامیوں کو ایک لالی پاپ دیا گیا تھا جسے آج تک ہماری مسلم حکومتیں لئے گھوم رہی ہیں۔
    اسی عنوان پر فلسطین کے سابق وزیر اور تجزیہ نگار وصفی قبہا نے کہا ہے کہ وہ تمام عناصر اور لیڈر جو اسرائیل کے ساتھ مذاکرات اور بات چیت پر زور دیتے رہے ہیں۔ آج فلسطینی قوم کو بتائیں کہ ان کے مذاکرات کا کیا فائدہ ہوا ہے؟۔اسرائیلی دشمن نے ماضی میں فلسطینی قوم کو دھوکہ دیا اور آئندہ بھی وہ اسی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔ فلسطینی علاقوں پر صہیونی ریاست کے غاصبانہ قبضے کی توسیع کے عمل میں امریکا سمیت ہر وہ حکومت اور ادارہ اور عناصر بھی برابرکے شریک مجرم ہیں جنہوں نے فلسطین کے لئے امریکہ کے منصوبہ یعنی دو ریاستی حل اور نام نہاد مذاکرات کی حمایت کی ہے۔
    اب اصل مسئلہ کی بات کرتے ہیں کہ اسرائیل غرب اردن کو اپنے ساتھ ملحق کرنا چاہتا ہے اور دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ اب فلسطین باقی نہیں رہے گا۔ایسے حالات میں مسلم دنیا کی حکومتیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات بنا کر اپنے مفادات کی خاطر مسلم امہ کے مفادات کونقصان پہنچا رہے ہیں۔ایسے حالت میں فلسطینیوں کے لئے سنگین مشکلات پیدا ہو چکی ہیں۔
    ایک طرف امریکہ اسرائیل اور ان کے حواری ہیں جو اس منصوبہ کی اعلانیہ اور مخفیانہ طور پر حمایت کر رہے ہیں لیکن دوسری طرف فلسطینی قوم ہے جو سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن چکی ہے اور واضح طور پر دنیا کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ فلسطین کے ایک انچ زمین سے بھی دستبردار نہیں ہوں گے۔ فلسطینی عربوں میں صرف مسلمان اکیلے نہیں بلکہ عیسائی فلسطینی اور ایسے وہ تمام یہودی فلسطینی بھی موجو دہیں کہ جو اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے اور اسرائیل کو ایک جعلی ریاست تصور کرتے ہیں۔فلسطین کی اسلامی مزاحمت کی تحریک حما س سمیت دیگر گروہوں نے غرب اردن کے اسرائیل کے ساتھ الحاق کے صہیونی منصوبہ کو شدت کے ساتھ مسترد کرتے ہوئے پیغام دیا ہے کہ فلسطینی عوام مزاحمت کریں گے۔ فلسطینی ریاست کو اسرائیل میں شامل کرنے کے ظالمانہ اور غاصبانہ پروگرام کا مقابلہ صرف مسلح مزاحمت سے ممکن ہے۔فلسطینیوں نے اپنا موقف دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ ارض فلسطین میں فلسطینی قوم کے سوا اور کسی قوم کے لیے کوئی جگہ نہیں۔تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ دریائے اردن سے بحر متوسط تک پورا فلسطین صرف فلسطینی قوم کا ہے۔غرب اردن سے متعلق اسرائیلی غاصب حکومت کے فیصلہ اور اعلان پر آج تک عالمی انسانی حقوق کے اداروں سمیت اقوام متحدہ خاموش ہے۔اسرائیلی جرائم کی داستان طویل سے طویل ہوتی چلی جا رہی ہے۔
    تاریخی اعتبار سے غرب ردن، غزہ اور القدس فلسطین کے حصے ہیں۔ اگر اسرائیل غرب اردن پرقبضہ کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں یہ علاقہ سات حصوں میں بٹ کررہ جائے گا۔ ہرحصہ ایک دوسرے سے الگ تھلگ ہوگا اور غرب اردن کے 30 فی صد علاقے صہیونی ریاست کا حصہ ہوں گے۔القدس دیوار فاصل کے عقب میں ہوگا  اور یوں فلسطینی ریاست ایک ایسا ملک بن جائے گی جس  کا کوئی دارالحکومت نہیں ہوگا۔یہ وہ اصل سازش ہے جس کا آغاز عالمی شیطان امریکہ کی سرپرستی میں انجام دیا جا رہاہے۔
    عرب دنیا کے معروف تجزیہ نگاروں کا اس تمام تر صورتحال پر کہنا ہے کہ ایک طرف جہاں امریکہ اسرائیل کی پشت پناہی کر رہاہے اور ساتھ ساتھ خطے کی متعدد عرب ریاستیں بھی اسرائیل کے اس منصبوبہ کی حمایت کر رہی ہیں ایسی صورتحال میں فلسطین کی حمایت میں باقی ماندہ ایک دو ممالک یا حکومتوں کے کوئی سامنے نہیں ہے۔ماضی کے تجربات کی روشنی میں فلسطینی عوام کی مزاحمت ہی اس وقت ایسا مضبوط ہتھیار ہے جو فلسطین کی سرزمین اور یہاں امت کے مقدسات کا دفاع کر سکتی ہے وہ ہتھیار فلسطینیوں کی مزاحمت ہے۔اسی مزاحمت نے ہی فلسطین کو باقی رکھا ہے ورنہ امریکی و صہیونی اتحاد کئی سال پہلے ہی فلسطین کا مسئلہ نابود کر چکے ہوتے۔ فلسطینی قوم کی سماجی، سفارتی، سیاسی اور قانونی محاذوں پر فلسطین کے دفاع کے لیے کام کے ساتھ ساتھ ساتھ مسلح مزاحمت بھی جاری رہنا ضروری امر ہے۔
    خلاصہ یہ ہے کہ فلسطین فلسطینی عوام کا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا کی با ضمیر حکومتیں اور عالمی ادارے انصاف کے تقاضوں پر عمل پیرا ہوتے ہوئے مسئلہ فلسطین کے ایک منصفانہ حل کی کوشش کریں کہ جس کا مقصد فلسطین فلسطینیوں کے لئے ہو۔غاصب دشمن کو حق نہ دیا جائے کہ وہ فلسطین پر مزید غاصب و قابض رہے۔مسلم دنیا کو اسرائیل کی کاسہ لیسی سے بھی اجتناب ضروری ہے۔

  • جب پار افق کے آؤ گے ،پھر تم مجھ کو پاؤ گے  (والد محترم کی یاد میں)  از قلم : مسز ناصر ہاشمی بنت ربانی

    جب پار افق کے آؤ گے ،پھر تم مجھ کو پاؤ گے (والد محترم کی یاد میں) از قلم : مسز ناصر ہاشمی بنت ربانی

    انمول ستارہ،
    (والد محترم کی یاد میں)
    از قلم : مسز ناصر ہاشمی بنت ربانی

    میں نے دیکھا
    پار افق کے۔۔۔۔۔
    جگ مگ کرتا ایک ستارہ
    ہاتھ بڑھا کے پکڑ نا چاہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاتھ چھڑا کےوہ مجھ سےبھاگا

    اک سسکی نکلی۔۔۔۔
    دل سے میرے۔۔۔۔۔۔۔
    کیسےتم تک میں پہنچوں ؟؟؟؟

    میرے کانوں میں آواز یوں اک آئی ۔۔۔۔۔۔۔
    ڈوبتے ہوئے تارے نے۔۔۔۔۔۔۔یہ راہ مجھے دکھائی ۔۔۔۔۔۔۔

    میرے رستے پر تم۔۔۔۔۔
    چل کر۔۔۔۔۔۔
    مجھ تک پہنچ تم پاؤ گے۔۔۔۔۔
    عروج کی بلندیوں کو تم چھو لو۔۔۔۔۔
    سیدھی راہ کبھی نہ بھولو ۔۔۔۔۔۔۔چلتے رہنا صبح شام ۔۔۔۔۔۔۔

    رکنا نہیں چلنا ہے مادام ۔۔۔۔۔۔۔دنیا بھر کو مہکا دینا۔۔۔۔۔۔
    اندھیر نگر کو چمکا دینا۔۔۔۔۔
    دنیا کو گلزار بنا کر۔۔۔۔۔۔
    اپنے آپ کو گہنا کر۔۔۔۔۔۔
    جب پار افق کے آؤ گے۔۔۔۔۔۔۔سمجھو مجھ تک پہنچ چکے تم۔۔۔۔۔
    پھر تم مجھ کو پاؤ گے

  • انسانی فطرت کے دو عکس…!!! تحریر:جویریہ بتول

    انسانی فطرت کے دو عکس…!!! تحریر:جویریہ بتول

    انسانی فطرت کے دو عکس…!!!
    [تحریر:جویریہ بتول]۔
    انسان بڑا جلد باز،گھبرا جانے والا،تھڑدلا اور ناشکرا ہے۔
    قرآن حکیم میں انسانی فطرت کے بارے میں یہ مثالیں جابجا بیان کی گئی ہیں۔
    نعمتیں ملنے پر عطا کرنے والے کو بھول جانے والا ہے،
    فخر و تکبر کی ردا اوڑھ کر پھولا نہ سمانےوالا ہے…
    میں حسبِ معمول قرآنی آیات کا مطالعہ کر رہی تھی کہ سورۂ یونس کی آیات نے مجھے انسانی فطرت کے دو عکس دکھائے…
    اللّٰہ تعالٰی نے اس فطرت کی ایک مثال ان الفاظ میں بیان کی ہے:
    وَ اِذَا اََذقنَا النَّاسَ رَحمَۃً مِّن بَعدِ ضَرَّآءَ مَسَّتھُم اِذَا لَھُم مَکرٌ فِی اٰیَاتِنَا قُلِ اللّٰہُ اَسرَعُ مَکرًا،اِنَّ رُسُلَنَا یَکتُبُونَ مَا تَمکُرُون¤
    "اور جب ہم لوگوں کو اس امر کے بعد کہ ان پر کوئی مصیبت پڑ چکی ہوتی ہے،کسی نعمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ فوراً ہی ہماری آیتوں کے بارے میں چال چلنے لگتے ہیں،آپ کہہ دیجیئے کہ اللّٰہ چال چلنے میں تم سے زیادہ تیز ہے،بالیقین ہمارے فرشتے تمہاری سب چالوں کو لکھ رہے ہیں.”(سورۂ یونس)۔
    یعنی انسان نعمت ملنے پر ناشکری کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے اور جب اللّٰہ تعالٰی کی گرفت میں آئے تو فوراً اس کی رگِ فطرت پھڑک اُٹھتی ہے۔
    جس کی مثال اللّٰہ تعالٰی نے ما بعد کی آیت میں دی ہے:
    کہ اللّٰہ تعالٰی نے تمہیں چلنے کے لیئے پاؤں عطا کیئے،سواریاں مہیا کی ہیں،
    جن پر دور دراز کے سفر کرتے ہو،
    پھر عقل کا استعمال کرتے ہوئے کشتیاں اور جہاز بنا لیئے،اور سمندر کی لہروں پر محوِ سفر ہوتے ہو…!!!
    لیکن کیسی بے بسی کا عالم ہوتا ہے جب اُحیط بھم
    یعنی جب سخت ہواؤں کے تھپیڑوں اور تلاطم خیز موجوں میں گھِر جاتے ہیں اور موت سامنے نظر آتی ہے تو کیا کرتے ہیں؟
    دعو اللّٰہ مخلصین لہ الدین…
    اس وقت خالص اعتقاد کے ساتھ اللّٰہ کو پکارتے ہیں کہ اگر تو ہم کو اس سے بچا لے تو ہم ضرور شکر گزار بن جائیں گے۔
    یعنی انسان جب شدائد میں گھِر جاتا ہے تو تب سارے فلسفے بھول کر اللّٰہ تعالٰی کو یاد کرتا ہے،اسی کو پکارتا ہے،کیونکہ انسانی فطرت میں اللّٰہ تعالٰی کی طرف رجوع کا جذبہ ودیعت کیا گیا۔
    انسان ماحول اور تربیت سے متاثر ہو کر اس جذبۂ فطرت کو دبا دیتا ہے لیکن کسی ناگہانی آفت اور مصیبت میں یہ جذبہ پھر عود کر آتا ہے۔
    رب کی توحید انسانی فطرت کی آواز ہے،جس سے انحراف کر کے انسان فطرت سے انحراف کرتا ہے۔
    لیکن جب انسان کو اللّٰہ تعالٰی ان تمام مصائب سے بچا لے آئے تو چاہیئے تو یہ ہے کہ شکر کا مفہوم اقوال و اعمال سے بیان ہوتا نظر آئے لیکن انسانوں کی اکثریت نجات پا جانے کے بعد تکبر میں مبتلا ہو جاتی ہے…
    شکر کے مفہوم و انداز سے نابلد رہ جاتی ہے۔
    عکرمہ بن ابی جہل کا واقعہ کہ جب وہ فتح مکہ کے موقع پر فرار ہو کر ایک کشتی میں سوار ہوئے تو کشتی طوفانی ہواؤں کی زد میں آ گئی،ملاح نے مسافروں کو مشورہ دیا کہ اللّٰہ واحد کو پکارا، تب ہی نجات مل سکے گی…
    یہ بات عکرمہ کے دل پہ لگی کہ اگر سمندر کی تُند ہواؤں میں نجات دینے والا اللّٰہ ہے تو خشکی کی مشکلات حل کرنے والا بھی وہی ہے…
    اور یہی بات تو محمد رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بھی کہتے ہیں،چنانچہ مکہ واپس آ کر خدمتِ نبوی میں حاضر ہو کر مسلمان ہو گئے تھے۔(رضی اللّٰہ عنہ)۔
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مومن کی مثال بڑے خوب صورت انداز میں بیان فرمائی ہے کہ:
    "مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے،بے شک اس کے ہر معاملے میں اس کے لیئے خیر ہےاور یہ صرف مومن ہی کے لیئے ہے،اگر اسے خوشی پہنچے تو شکر اَدا کرتا ہے،جو اس کے لیئے خیر ہے اور اگر اُسے تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے،جو اس کے لیئے خیر ہے…”
    (صحیح مسلم)۔
    ہر حال میں اللّٰہ تعالٰی سے اُمید مومن کی صفت ہے،
    نعمتیں ملنے پر شکر…
    مصائب آنے پر صبر…
    لیکن کہیں بھی نا امیدی،اس کے ساتھ شرک اور شکوؤں کی کیفیت پیدا نہیں ہوتی…
    اللّٰہ تعالٰی ہمیں بھی مومنین کی صفات سے متصف فرمائے آمین ثم آمین…!!!
    ہر راحت میں تو…
    گھبراہٹ میں تو…
    نہیں کوئی میرا…
    بس تیرے سوا…
    میں جاؤں کہاں۔…؟
    اے حقیقی الٰہ…!!!
    جب جب بھی پکارا…
    تو نے ہر کام سنوارا…
    ملی فطرت کو تسکین…
    اور جھکی یہ جبین…
    جھکی رہے یہ سدا…
    جب آئے بُلاوا ترا…
    تو راضی ہو مُجھ سے…
    مجھےمعرفت ہو تُجھ سے…!!!
    یہی تو ہے مقصدِ ایماں…
    یہی ہے بندگی کا ساماں…!!!
    ==============================

  • صبا قمر  ٹک ٹاک اسٹار اریکا حق کی حمایت میں بول پڑیں

    صبا قمر ٹک ٹاک اسٹار اریکا حق کی حمایت میں بول پڑیں

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ صبا قمر گلوکار عاصم اظہر اور ٹک ٹاک اسٹار اریکا حق کے حق میں بول پڑیں-

    باغی ٹی وی : حال ہی میں گلوکار عاصم اظہر نے پاکستان کی مقبول ٹک ٹاک اسٹار اریکا حق کے ساتھ اپنے نئے آنے والے گانے کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی تصویر وائرل ہونے کے بعد جب عاصم اظہر کے مداحوں کو معلوم ہوا کہ اُن کے نئے پروجیکٹ میں اریکا حق اُن کے ساتھ ہیں تو اُس کے بعد سے اُن کے مداح سوشل میڈیا پر عاصم اظہر اور اریکا حق کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

    مداحوں کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے عاصم اظہر نے کہا تھا کہ کمال ہے ویسے لوگ پہلے ڈپریشن اور مینٹل ہیلتھ پر لیکچر دیتے ہیں اور کچھ دن بعد خود کسی کو اپنی غنڈہ گردی اور نفرت سے ڈپریشن کا شکار بنا دیتے ہیں –

    تاہم اب صبا قمر بھی اریکا حق اور عاصم اظہر کے حمایت میں سامنے آگئیں صبا قمر نے انسٹا گرام کی اسٹوری میں عاصم اظہر اور اریکا حق کے لیے خصوصی پیغام جاری کرتے ہوئے لکھا کہ میری زندگی کے مشکل دنوں نے مجھے مضبوط بنایاتھا اور شاید میں پہلے سے ہی مضبوط تھی لیکن لوگوں کی تنقید اور نفرت نے مجھے خود کو ثابت کرنے کا موقع دیا۔

    صبا قمر نے کہا کہ یہ ہم سب کو سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ صرف سفر ہی اندر کا سفر ہے اس سفر میں جہاں ہمارے حمایتی ہوں گے تو وہیں مخالفین بھی ہوں گے لیکن ہمیں ہمت نہیں ہارنی۔

    اداکارہ نے لکھا کہ میں گزشتہ دنوں سے دیکھ رہی ہوں کہ سوشل میڈیا پر باصلاحیت نوجوان ٹک ٹاک اسٹار اریکا حق کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے مہربانی کرکے ایسا نہ کریں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ مہربان رہیں اور ایک دوسرے کو سپورٹ کرنا سیکھیں۔

    انہوں نے لکھا کہ اریکا جیسے نوجوانوں کو اپنی نفرت ، طنزیہ تبصروبں اور ٹرول سے ذہنی اذیت میں مبتلا نہ کریں آپ کو اندازہ نہیں ہے کہ یہ کتنا سخت اور وحشتناک ہے ایسا کرنے کی بجائے سب کے لیے پیار و محبت کا اظہار کریں۔

    صبا قمر نے لکھا کہ میری تمام سپورٹ اُن تمام نوجوانوں کے ساتھ ہے جو اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے جدوجہد کر رہے

    ہیں۔

    اپنے پیغام کے آخر میں انہوں نے اریکا حق اور عاصم اظہر کے نئے پروجیکٹ کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا کہا کہ میں واقعتاً اس پروجیکٹ کی منتظر ہوں میں پہلے ہی جان چکی ہوں کہ یہ پروجیکٹ ایک شاہکار ثابت ہونے والا ہے

    لوگ پہلے ڈپریشن اور مینٹل ہیلتھ پر لیکچر دیتے ہیں اور کچھ دن بعد خود کسی کو اپنی نفرت سے ڈپریشن کا شکار بنا دیتے ہیں عاصم اظہر

     

    کتنی جانیں لو گے کب سمجھو گے،ذہنی مسائل کو سنجیدہ کیوں نہیں لیتے؟ صبا قمر

  • کورونا وائرس کے باعث گولڈن گلوب ایوارڈ کی تقریب موخر

    کورونا وائرس کے باعث گولڈن گلوب ایوارڈ کی تقریب موخر

    دنیا بھر میں پھیلی عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث آسکر اور کانز فیسٹیول کے بعد شوبز دنیا کی ایک اورعالمی تقریب گولڈن گلوب ایوارڈز کی تقریب بھی موخر ہوگئی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں پھیلی عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث آسکر اور کانز فیسٹیول کے بعد شوبز دنیا کی ایک اورعالمی تقریب گولڈن گلوب ایوارڈز کی تقریب بھی دو ماہ تاخیر کا شکار ہو گئی-

    میڈیا رپورٹ کے مطابق گولڈن گلوب ایوارڈز کی تقریب جنوری 2021 کے ابتدائی دنوں میں منعقد ہونا تھی تاہم اب جنوری کے بجائے فروری 2021 کے اختتام پر ہوگی۔

    ہالی وڈ فورین پریس ایسوسی ایشن (ایچ ایف پی اے) کے مطابق گولڈن گلوب ایوارڈز تقریب ک انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ گولڈن گلوب ایوارڈ کی تقریب جنوری 2021 کی بجائے 28 فروری 2021 کو منعقد ہوگی۔

    خیال رہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے گولڈن گلوب ایوارڈز سے قبل رواں ماہ 16 جون کو آسکر اکیڈمی نے بھی ایوارڈز تقریب کو 2 ماہ تک مؤخر کیا تھا آسکر ایوارڈز کی تقریب 28 فروری کو ہونی تھی مگر اب 2 ماہ مؤخر ہونے کے بعد یہ 25 اپریل 2021 کو ہوگی۔

    واضح رہے کہ کورونا وبا کے باعث کانز فلم فیسٹیول سمیت دیگر فلمی میلوں اور تقریباب کو بھی منسوخ کیا جا چکا ہے جب کہ گزشتہ 4 ماہ سے دنیا بھر میں دیگر ثقافتی سرگرمیوں کے علاوی فلموں کی شوٹنگ اور ان کی ریلیز سمیت سینماؤں کو بھی بند کردیا گیا ہے۔

    کورونا وائرس: فلمی دنیا کے سب سے معتبر ایوارڈ کی تقریب 2 ماہ کے لئے موخر

     

  • خوش قسمت ہوں کہ اہل خانہ کے ساتھ ہوں    ماہرہ خان

    خوش قسمت ہوں کہ اہل خانہ کے ساتھ ہوں ماہرہ خان

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی عالمی شہرت یافتہ اداکارہ ماہرہ خان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتی ہیں کہ اس وقت میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہ رہی ہیں۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ماہرہ خان نے اپنے بیٹے کے ہمرای اپنی تصویر پوسٹ کی اور کیپشن میں لکھا کہ جہاں اس دوران خاموشی ، لاپرواہی ، تنہائی ، احساسات اور خالص خوشی کے لمحات آئے ہیں، ایسے میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہ رہی ہوں۔
    https://www.instagram.com/p/CB8GZHABWfc/
    اداکارہ کا کہنا تھا کہ جہاں کچھ معنی رکھتا تو تب میرے اہل خانہ نے مجھے ایک بہادر خاتون بنایا ہے، اور مجھے امید ہے کہ وہ میری وجہ سے بہادر ہیں۔

    ماہرہ نے پیغام دیا کہ بہادر ہونے پر اپنے آپ کو تسلیم کرو، جو بھی طاقت آپ کو ملتی ہے، اس اپنے پاس رکھیں اور اس کی حفاظت کریں۔

    سوشل میڈیا پر ماہرہ خان کی ہمشکل کی دھوم

     

  • وادی کشمیر اور آتشِ نمرود    تحریر: سفیر اقبال

    وادی کشمیر اور آتشِ نمرود تحریر: سفیر اقبال

    وادی کشمیر اور آتشِ نمرود
    سفیر اقبال

    سوچا تھا اس بار کچھ نہیں لکھوں گا…..
    تا کہ ہاتھ باندھنے، روڑے اٹکانے اور حوصلہ توڑنے والوں کو بھی علم ہو کہ ذہنی شکست کیا ہوتی
    لیکن پھر خیال آیا جب لڑنے والے شکست قبول نہیں کر رہے تو میں لکھنے سے کیوں ہاتھ پیچھے کروں…اور جنہیں گھر سے باہر نکل کر افق کا منظر دیکھنے کی ہمت و جرات تک نہیں کیوں ان چند لوگوں کی وجہ سے ذہنی شکست قبول کروں.

    تو عرض یہ ہے کہ دشمن یہ سمجھتا ہے کہ ہم اس طرح کے مناظر اور اس طرح کے معرکے دکھا کر ڈرا دھمکا کر انہیں اپنے ساتھ ملا لیں گے. یہی خوش فہمی لاک ڈاون شروع کرتے وقت بھی تھی کہ جب تک اقوام متحدہ یا پاکستان کی طرف سے شدید ری ایکشن نہیں آتا تب تک ہم نیٹ سروس بند کر کے دنیا سے ان کا رابطہ ختم کروا لیں گے اور لاک ڈاون کا بہانہ بنا کر اندر کھاتے انہیں خوراک و آسائش مہیا کرتے رہیں گے اور بالآخر انہیں اپنا گرویدا بنا لیں گے. اور بعد میں دنیا کو دکھا دیں گے کہ ہم ایک ہیں اور بھائی بھائی ہیں. اور اب آزادی کی کوئی ضرورت نہیں.

    لیکن ان گائے کا پیشاب پینے والوں کی قسمت میں جنت اور جنت نظیر کی دودھ کی نہریں کبھی نہیں تھیں. اتنا عرصہ گزر گیا نیٹ سروس بحال ہو گئی لیکن اس بستی میں آج تک کوئی ترنگا لہراتا نظر نہیں آیا… جہاں سبز ہلالی پرچم لہراتا نظر آتا تھا آج بھی لہرا رہا ہے مگر جبری طور پر اپنا بنا لینے والی قاتل و بے رحم حکومت وہاں پر ترنگا نہیں لہرا سکی. وہ مظلوم لیکن غیرت مند لوگ اپنا غم اپنی خوشیاں، اپنے روزے اور اپنی عیدیں سبز ہلالی پرچم کے ساتھ منانا پسند کرتے ہیں… اب بھی! اور جابر و قاتل حکومت یہ سب دیکھنے کے باوجود بھی انہیں روکنے میں ناکام ہے.

    وہ مزاحمت کاروں کو بھون رہے ہیں اور بچوں بزرگوں کو دھمکا رہے ہیں. ہو سکتا ہے لالچ بھی دے رہے ہوں اور عین ممکن ہے کہ اس لالچ کی وجہ سے کچھ نہ کچھ لوگ ہتھیار ڈال کر ان کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہوں اور تحریک کے خلاف سرگرم ہو چکے ہوں اور غداروں کی صف میں کھڑے ہو گئے ہوں لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تحریک ختم ہو رہی ہے.

    مائیں اپنے بیٹے گنوانے کے باوجود صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دے رہیں. اندازہ کریں پاکستان کے اندر پاکستان کا کھانے والے ہلکی سی اونچ نیچ کی وجہ سے پاکستانی پرچم جلانے پر آ جاتے ہیں، مردہ باد کے نعرے لگانا شروع کر دیتے ہیں اور سوشل میڈیا اور اردگرد کی ساری فضا میں ڈھکے چھپے الفاظ میں گالیوں کے پھول بکھیر دیتے ہیں لیکن جو نہ تو پاکستان کا کھاتے ہیں، نہ ہی کسی معاہدے کے پابند ہیں وہ اس قدر درد سہنے کے باوجود اس درد کو پاکستان کے ساتھ نہیں جوڑتے… پاکستانی پرچم جلا کر ہندو ریاست کے ساتھ وفاداری ثابت نہیں کرتے… پاکستان کے خلاف طنزیہ پوسٹیں اور طنزیہ کمنٹس کر کے مشہور ہونے کی کوشش نہیں کرتے.

    اللہ تحریک آزادی کے لیے کوشش کرنے والوں کو اور ان کی کوششوں کو جانتا ہے اور جو لوگ اس جدوجہد میں دانستہ و نادانستہ طریقے سے رکاوٹ ڈال رہے ہیں اللہ انہیں اور ان کی کوششوں کو بھی خوب جانتا ہے. بس یہی دعا ہے کہ اللہ سب کو ان کی کوششوں کے مطابق اجر عطا فرمائے.

    کا شمیر کی آزادی کب ہے… کتنی قریب ہے اس سوال کا جواب جاننے کی پاداش میں کتنی آنکھیں نکال دی گئیں کتنے جسم بھون دئیے گئے لیکن مائیں آج بھی دودھ پیتے بچوں کو آزادی کا ہی سبق پڑھاتی ہیں. زمینی حقائق جو بھی ہوں لیکن ایمان یہی ہے کہ جب حالات ایسے ہوں کہ اونٹ کو چرانے والا عبدالمطلب بیت اللہ پر چڑھائی کرنے والے ہاتھیوں کو نہ روک سکے تو اللہ تعالیٰ ابابیل بھیجتا ہے اور جب اللہ کا رسول رو رو کر اللہ سے منت اور دعا کرے کہ اگر یہ پیدل اور غیر مسلح تین سو تیرہ افراد دنیا سے مٹ گئے تو تیرا نام لینے والا دنیا میں کوئی نہیں بچے گا تو تب اللہ تعالیٰ تلواروں نیزوں والے مشرکین کے خلاف مسلمانوں کی مدد کے لیے نظر نہ آنے والے فرشتے بھیجتا ہے.

    تحریر : سفیر اقبال

    #رنگِ_سفیر

  • فلم ’ بلیک وڈو‘ رواں سال نومبر میں ریلیز کی جائے گی

    فلم ’ بلیک وڈو‘ رواں سال نومبر میں ریلیز کی جائے گی

    بنیا بھر میں پھیلی عالمی وبا کی وجہ سے تمام ثقافتی سرگرمیوں سمیت شوبز سرگرمیاں بھی معطل کر دی گئیں تھیں سینماؤں سمیت تما فلموں کی شوٹنگ اور ریلیز بھی موخر کر دی گئی تھی-جن میں فلم ’ بلیک وڈو‘ بھی شامل ہے-

    باغی ٹی وی : کورونا وائرس کے باعث تاخیر کا شکار ہونے والی مارول اسٹوڈیو کی فلم ’ بلیک وڈو‘ نومبر میں ریلیز کردی جائے گی۔فلم میں ‘بلیک وڈو’ کا کردار معروف ہالی ووڈ اداکارہ اسکارلٹ جانسن ادا کریں گی، جو اس سے قبل اسی کردار کو مارول سیریز کی متعدد فلموں میں ادا کر چکی ہیں۔

    ‘بلیک وڈو’ ایک روسی جاسوس خاتون پر بنایا گیا ایک کامک فکشن کردار ہے، جسے سب سے پہلی بار 1964 میں ایک کتاب میں متعارف کرایا گیا تھا۔

    سوشل میڈیا پر فلم کی ریلیز ہونے سے متعلق خبر سامنے آنے پر فلم کا بے چینی سے انتظار کرنے والے مداحوں کی جانب سے خوشی کا اظہار کیا گیا ہے۔