Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • آلو کا پیزا بنانے کی ترکیب

    آلو کا پیزا بنانے کی ترکیب

    بنانے اجزاء:
    آلو ایک پاؤ
    مکھن آدھا اونس
    نمک آدھا چائے کا چمچ
    انڈا آدھا
    ٹناٹر ایک عدد
    پیاز ایک عدد
    ٹماٹو کیچپ ایک کھانے کا چمچ
    پنیر ڈیڑھ کپ
    مرغی کا پکا ہوا آدھا کپ
    تازہ اجوائن کے پتے یا ہری پیاز کے پتے ایک چائے کا چمچ
    بریڈ کرمز حسب ضرورت

    ترکیب:
    آلو ابال کر چھیل لیں پھر آلو میں تھوڑا سا پنیر نمک اور انڈا شامل کر کے اچھی طرح مکس کر لیں پھر پلیٹ پر تھوڑی سی چکنائی لگا کر بریڈ کرمز اس پر چھڑک کر آلو کا مرکب اس پر ڈال دیں اور فریج میں رکھ دیں تاکہ سخت ہو جائے پھر ٹماٹو کیچپ اس پر پھیلا کر آدھا پنیر پھیلا دیں پھر گوشت پھر ٹماٹر پیاز کے سلائس پھر اجوائن یا ہری پیاز کے پتے پھر باقی بچا پنیر اس پر پھیلا کر اوون میں تکھ کر تنی دیر بیک کریں کہ اس کی سطح گولڈن براؤن ہو جائے گرما گرم پیزا چلی گارلک سوس کے ساتھ پیش کریں

  • فرنچ سٹائل چکن سینڈ وچ بنانی کی آسان ترکیب

    فرنچ سٹائل چکن سینڈ وچ بنانی کی آسان ترکیب

    اجزاء:
    چکن ڈیڑھ پاؤ
    ڈبل روٹی چھ سلائس
    مایونیز تین کھانے کے چمچ
    انڈے تین عدد
    نمک حسب ذائقہ
    کالی مرچ پاؤڈر پاؤ چائے کا چمچ
    بریڈ کرمز آدھا کپ
    تیل آدھا کپ

    ترکیب:
    چکن کو اچھی طرح دھو کر ابال کر اس کے ریشے کر لیں پھر اس میں نمک کالی مرچ اور مایونیز شامل کر کے مکس کر لیں ڈبل روٹی کے کنارے کاٹ کر تین ڈبل ٹکڑوں پر یہ مکسچر لگا دیں دوسری تین بریڈ پو کچا انڈا لگا کر ان کو چکن مکسچر والے سلائس پر رکھ دیں اب یہ سینڈوچ پہلے انڈے میں ڈبو کر پھر بریڈ کرمز لگا کر پین میں تھوڑا سا آئل گرم کر کے اس میں تل لیں جب گولڈن براؤن ہو جائے تو پلیٹ میں نکال کر فرنچ سٹائل میں کاٹ لیں اور چلی گارلک سوس کے ساتھ سرو کریں

  • اونین پیزا ریسیپی

    اونین پیزا ریسیپی

    اجزاء:
    پیزا روٹی ایک عدد
    چیڈر چیز پاؤ کپ
    موزریلا چیز پاؤ کپ کدو کش کر لیں
    پزا سوس پاؤ کپ
    پیاز دو عدد
    اوریگینو ای چائے کا چمچ

    ترکیب:
    پزا کی روٹی پزا پین میں رکھ کر اس پر پیزا سوس لگا کر موزریلا چیز چھڑک دیں پھر اس پر پیاز گول گول کاٹ کر ڈال دیں پھر چیڈر چیز اور اوریگینو ڈال کر پہلے سے گرم اوون میں 80 سینٹی گریڈ پر بیس سے پچیس منٹ تک بیک کر لیں مزیدار اونین پیزا تیار ہے گرم گرم سرو کریں

  • خون کی کمی کا علاج

    خون کی کمی کا علاج

    اگر آپ کے جسم میں بہت زیادہ خون کی کمی ہے اور آپ اس وجہ سے پریشان ہیں تو اب مزید پریشان ہونے کی ضرورت نہیں جسم میں خون کی کمی کے لئے یہ ڈرنک بہت مفید پے مرد خواتین بچوں بوڑھوں کے لئے یہ بہت زبردست ڈرنک ہے خاص طور پر حاملہ خواتین کے لئے جو خون کی کمی کو پورا کرنے کے لئے انجکشن اور ادویات کا استعمال کرتی ہیں
    چقندر اور کھیرا ایک عدد ، کالا نمک اور کالی مرچ ایک ایک چٹکی ، پانی ایک گلاس، شکر ایک چائے کا چمچ
    ان تمام چیزوں کو بلینڈر میں ڈال کر جوس بنا کر ایک گلاس روزانہ نہار منہ پی لیں ایک ہفتے میں ہی فرق محسوس ہو گا ایک ماہ مسلسل استعمال کرنے سے جسمانی طور پر فٹ ہو جائیں گے اور تمام اندرونی بیماریاں بھی ختم ہو جائیں گی

  • ایک حبشی غلام کا ایمان افروز واقعہ

    ایک حبشی غلام کا ایمان افروز واقعہ

    حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ آپ نے پہلی دفعہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیسے دیکھا؟
    بلال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مکے کے لوگوں کو بہت ہی کم جانتا تھا۔ کیونکہ غلام تھا اور عرب میں غلاموں سے انسانیت سوز سلوک عام تھا، انکی استطاعت سے بڑھ کے ان سے کام لیا جاتا تھا تو مجھے کبھی اتنا وقت ہی نہیں ملتا تھا کہ باہر نکل کے لوگوں سے ملوں، لہذا مجھے حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا اسلام یا اس طرح کی کسی چیز کا قطعی علم نہ تھا۔
    ایک دفعہ کیا ہوا کہ مجھے سخت بخار نے آ لیا۔ سخت جاڑے کا موسم تھا اور انتہائی ٹھنڈ اور بخار نے مجھے کمزور کر کے رکھ دیا، لہذا میں نے لحاف اوڑھا اور لیٹ گیا۔ ادھر میرا مالک جو یہ دیکھنے آیا کہ میں جَو پیس رہا ہوں یا نہیں، وہ مجھے لحاف اوڑھ کے لیٹا دیکھ کے آگ بگولا ہو گیا۔ اس نے لحاف اتارا اور سزا کے طور پہ میری قمیض بھی اتروا دی اور مجھے کھلے صحن میں دروازے کے پاس بٹھا دیا کہ یہاں بیٹھ کے جَو پیس اب سخت سردی، اوپر سے بخار اور اتنی مشقت والا کام، میں روتا جاتا تھا اور جَو پیستا جاتا تھا۔ کچھ ہی دیر میں دروازے پہ دستک ہوئی، میں نے اندر آنے کی اجازت دی تو ایک نہائت متین اور پر نور چہرے والا شخص اندر داخل ہوا اور پوچھا کہ جوان کیوں روتے ہو؟ جواب میں میں نے کہا کہ جاؤ اپنا کام کرو، تمہیں اس سے کیا میں جس وجہ سے بھی روؤں، یہاں پوچھنے والے بہت ہیں لیکن مداوا کوئی نہیں کرتا قصہ مختصر کہ بلال نے حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کافی سخت جملے کہے۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم یہ جملے سن کے چل پڑے، جب چل پڑے تو بلال نے کہا کہ بس؟ میں نہ کہتا تھا کہ پوچھتے سب ہیں مداوا کوئی نہیں کرتا۔۔
    حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ سن کر بھی چلتے رہے۔۔ بلال کہتے ہیں کہ دل میں جو ہلکی سی امید جاگی تھی کہ یہ شخص کوئی مدد کرے گا وہ بھی گئی۔ لیکن بلال کو کیا معلوم کہ جس شخص سے اب اسکا واسطہ پڑا ہے وہ رحمت اللعالمین ہیں بلال کہتے ہیں کہ کچھ ہی دیر میں وہ شخص واپس آ گیا۔ اس کے ایک ہاتھ میں گرم دودھ کا پیالہ اور دوسرے میں کھجوریں تھیں۔ اس نے وہ کھجوریں اور دودھ مجھے دیا اور کہا کھاؤ پیو اور جا کے سو جاؤ میں نے کہا تو یہ جَو کون پیسے گا؟ نہ پِیسے تو مالک صبح بہت مارے گا۔ اس نے کہا تم سو جاؤ یہ پسے ہوئے مجھ سے لے لینا بلال سو گئے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ساری رات ایک اجنبی حبشی غلام کے لئے چکی پیسی۔
    صبح بلال کو پسے ہوئے جو دیے اور چلے گئے۔ دوسری رات پھر ایسا ہی ہوا، دودھ اور دوا بلال کو دی اور ساری رات چکی پیسی۔۔ ایسا تین دن مسلسل کرتے رہے جب تک کہ بلال ٹھیک نہ ہو گئے یہ تھا وہ تعارف جس کے بطن سے اس لافانی عشق نے جنم لیا کہ آج بھی بلال کو صحابی ءِ رسول بعد میں، عاشقِ رسول پہلے کہا جاتا ہے وہ بلال رضی اللہ عنہ جو ایک دن اذان نہ دے تو خدا تعالی سورج کو طلوع ہونے سے روک دیتا ہے، انہوں نے حضور کے وصال کے بعد اذان دینا بند کر دی کیونکہ جب اذان میں ’أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘ تک پہنچتے تو حضور کی یاد میں ہچکیاں بندھ جاتی تھیں اور زار و قطار رونے لگتے تھے۔آپ رضی اللہ وتعالی عنہ ہجرت کر کے شام چلے گئے اور حضور پاک کے وصال کے بعد بس دو مرتبہ اذان دی ایک مرتبہ بیت المقدس کی فتح پر حضرت عمر رضی اللہ وتعالی عنہ کے کہنے پر اور دوسری مرتبہ حضرت بلال رضی اللہ وتعالی عنہ رات کو سوئے ہوئے تھے تو بنی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خواب میں آئے اور فرمایا بلال اتنی سردمہری ہے کہ اتنا عرصہ گزر تم ہمارے پاس آتے ہی نہیں جہاں محبت ہوتی ہی وہاں محبت میں شکوے بھی ہوتے ہیں تو حضرت بلال رضی اللہ وتعالی عنہ کی فوراً آنکھ کھل گئی بیوی سے فرمایا کہ ابھی تیاری کرو میں ابھی رات کو ہی سفر کرنا ہے میں صبح کا انتظار نہیں کرنا بیوی نے سامان باندھ دیا چل پڑے اور مدینہ منورہ پہنچ گئے مسجد نبوی میں حاضر ہوئے اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں انہوں نے سلام پیش کیا تو اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا تو صحابہ اکرام رضی اللہ وتعالی عنہما نے حضرت بلال رضی اللہ وتعالی عنہ سے اذان دینے کی فرمائش کی حضرت بلال رضی اللہ وتعالی عنہ نے منع فرما دیا اتنے میں دو شہزادے آگئے حضرت امام حسن رضی اللہ وتعالی عنہ اور حضرت اما حسین رضی اللہ وتعالی عنہ اب حسنین کریمین نے بھی فرمائش کردی تو ان کی فرمائش منع نہیں کر سکے شہزادوں کی بات کو انکار کی گنجائش نہ تھی تو حضرت بلال رضی اللہ وتعالی عنہ نے اذان دینا شروع کر دی جب انہوں نے اذان شروع کی اللہ اکبر کہا تو صحابہ اکرام رضی اللہ وتعالی عنہما نے وہ اذان کی آواز سنی جو نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سنتے تھے تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یاد نے جوش مارا صحابہ اکرام رضی اللہ وتعالی عنہما رونے لگے حضرت بلال کی بھی ہچکیاں بندھ گئیں عورتوں نے بھی آواز سنی تو اپنے چہرے ڈھانپ کر بچوں کو لے کر مسجد نبوی کے دروازے پر آ کھڑی ہوئیں عجیب منظر ہے مسجد کے اندر مرد رو رہے ہیں اس آواز کو سن کر جو محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سنا کرتے تھے اور مسجد کے باہر عورتیں رو رہی تھیں اذان تو ختم ہو گئی مگر معاملہ اور نازک تب بنا جب ایک تین چار سال کا بچہ اپنی ماں سے کہنے لگا امی اتنے عرصے بعد بلال رضی اللہ وتعالی عنہ تو واپس آ گئے ہیں اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کب واپس آئیں گے صحابہ اکرام نبی پاک کو بے تحاشا یاد کرتے تھے

  • خون کی کمی کیوں ہوتی ہے

    خون کی کمی کیوں ہوتی ہے

    ہر تیسرا شخص خون کی کمی کا شکار ہے خون کی کمی تب ہوتی ہے جب جسم میں خون کے سرخ خلیوں کی تعداد کم ہو جاتی ہے یعنی ریڈ بلڈ سیلز کی مقدار کم ہو جاتی ہے اس حالت کو خون کی کمی یا اینیمیا کہا جاتا ہے سانز لینے کے دوران جب آکسیجن پھیپھڑوں میں جاتی ہےتو یہ خون کے لال خلیے ہی اس آکسیجن کو جسم کے تمام حصوں خلیوں اور ہر ٹشو تک پہنچاتے ہیں اگر ان ریڈ بلڈ سیلز کی کمی جائے تو جسم کے لیے مشکل ہو جاتا ہے آکسیجن کو تمام خلیوں اور ٹشوز تک پہنچانا اور اس طرح جسم کو آکسیجن ہر ایک ٹشو تک پہنچانے میں بہت محنت کرنا پڑتی ہے جسم میں خون کی کمی ہونے کی مندرجہ ذیل نشانیاں ہیں
    سب سے پہلی نشانی جب کسی شخص کے جسم میں خون کی کمی۔ہو تو اس کارنگ زرد ہونا شروع ہو جاتا ہے جسم میں کمزوری آ جاتی ہے اور اکثر سر درد رہتا ہے جسم میں کمزوری کی وجہ سے چکر آتے ہیں دل کی دھڑکن بڑھ سکتی ہی زبان خشک ہو جاتی ہے ناخن عام طورپر کمزور ہو جاتے ہیں یہ کچھ نشانیاں ہیں جو جسم میں کمزوری کی صورت میں نظر آ سکتی ہیں جسم میں خون کی بڑی وجہ کھانے پینے کی غلط عادات ہو سکتی ہیں ہو سکتا ایسی غذا استعمال کی جا رہی ہو جس سے جسم کو روزانہ کی ضرورت کا آئرن نہ مل رہا ہو تو جسم میں آئرن کمی خون کی کمی کی بڑی وجہ ہے آئرن کے علاوہ۔جسم میں وٹامن بی ٩ اور وٹامن بی ١٢ کافی مقدار میں موجود نہ ہو تو تب بھی جسم میں خون کی کمی ہو سکتی ہے اگرکوئی اینیمیا کا شکار ہو جائے تو اس کو دور کرنے کا سب سے بہترین اور سستا طریقہ غذا کے ذریعے اس کمی کو دور کرنا ہے خون کی کمی دور کرنے کے لیے مندرجہ ذیل۔غذائیں استعمال کرنے سے کچھ ہی دنوں میں خون کی کمی۔ہوری کرنے میں مدد دے گا اس میں سب سے پہلے جو غذا ہے وہ ہے لال گوشت خون کی کمی کو پورا کرنے کے لیے گائے کا گوشت انتہائی مفید ہے اس گوشت میں آئرن بھر پور مقدار میں موجود ہوتا ہے اس کے علاوہ اس میں وٹامن بی نو اور وٹامن بی بارہ بھی کافی مقدار میں موجود ہوتا ہے گائے کا گوشت استعمال۔کرنے سے کچھ ہی ہفتوں میں خون کی کمی دور ہو جائے گی کلیجی کا استعمال جسم میں خون کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بہت مفید ہے یہ بہت مددگار رہتی ہے کلیجی ایک بھر پور غذا ہے کلیجی میں کافی زیادہ مقدار میں وٹامنز اور منرلز پائے جاتے ہیں کلیجی میں آئرن بھی بھر پور مقدار میں پائی جاتی ہی ہفتے میں دو سے تین مرتبہ کلیجی کا استعمال کچھ ہی ہفتوں میں خون کی کمی دور کرنے میں مدد دےگا پالک بھی آئرن سے بھر پور ہوتی ہےخون کی کمی کا شکار لوگ پالک ابال۔کر استعمال کریں کچھ ہی ہفتوں میں خون کی کمی۔دور ہو جائے گی کشمش بھی آئرن سے بھر پور ہوتی ہے اس کے علاوہ یہ جسم میں کمزوری دور کرتی ہے چونکہ یہ کمزوری خون کی کمی کی وجہ سے آتی ہے اسی لیے کشمش کے استعمال سے نہ صرف جسم میں خون کی کمی پوری ہوتی ہے آئرن آتا ہے بلکہ تونائی بھی آتی ہے کشمش کے استعمال کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ رات کو سونے سے پہلے بیس گرام کشمش لے کر ان کو پانی سے نتھار کر ساری رات بھگو دیں صبح اٹھ کر پانی پی لیں جس میں کشمش ھگوئی تھی پھر کشمش بھی کھا لی جائےتو یہ خون کی کمی پوری کرنے کے لیے بہت مفید ہے انڈے بھی خون کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بہت مفید ہیں ان میں تمام وٹامنز اور منرلز موجود ہوتے ہیں جو جسم کو دستیاب ہوتے ہیں وٹامن سی کے علاوہ انڈوں میں سب کچھ موجود ہوتا ہے آئرن بھی انڈوں میں بھر ہور مقدار میں ہوتا ہے اس کے علاوہ وٹامن بی ٩ اور بی بارہ بھی اچھی خاصی مقدار میں پائے جاتے ہیں اس لیے خون کی کمی کی صورت میں ناشتے میں ابلے ہوئے انڈوں کا ستعمال بہت مفید ہے چقندر میں۔آئرن کے علاوہ وٹامن بی بھی کافی مقدار میں موجود ہوتا ہے اس لیے چقندر کا استعمال بھی اینیمیا کے لیے بے حد مفید ہے چقنر کو یا تو جوس یا اس کی سلاد بنا کر استعمال کیا جا سکتا ہے مچھلی بھی غذائیت سے بھر پور غذا ہے یہ آئرن سے بھر پور ہوتی ہے اس میں آئرن وٹامن بی ٩ اور ١٢ بھی پایا جاتا ہے اس لیے خون کی کمی کو پورا کرنے کے لیے مچھلی سے بہتر کوئی غذا نہیں ہو سکتی کیونکہ اس مکں وہ تمام چیزیں موجود ہوتی ہیں جس کی جسم کو ضرورت ہوتی ہے ڈیری پروڈکٹس بھی اینیما کے لیے بہت مفید ہیں اس مکں دہی دودھ مکھن وغیرہ شامل۔ہیں دالیں بھی خون کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بہت مفید ہےان مکں وہ تمام اجزا پائے جاتے ہیں جو خون کی کمی۔پوری کرنے کے لیے جسم کو دستیاب ہوتے ہیں دال کو چاہے سوپ بنا کر یا سالن بنا کر جس طرح بھی استعمال کیا جا سکتا ہے سویا بین کا استعمال اینیمیا کے لیے لازمی کریں ان میں بھر پور مقدار میں آئرن پایا جاتا ہے انجیر وٹامن اور آئرن سے بھر پور ہوتی ہیں یہ جسم کی کمزوری کو بھی دور کرتی ہیں اس لیے خون کی کمی کو پورا کرنے کے لیے انجیر ضرور استعمال کرنی چاہیے گڑ بھی آئرن سے بھر پور ہوتا ہے اس میں بھی وٹامنز بھر پور مقدار میں پائے جاتے ہیں رات کو سونے سے پہلے ایک گلاس نیم۔گرم دودھ میں ایک کھانے کا چمچ گڑ ڈال۔کر اچھی طرح سے مکس کر کے پی لیں یہ سونے سے آدھا گھنٹہ پہلے پینا ہے یہ جسم میں کمزوری دور کرے گا جسم میں انرجی پیدا کرے گا جسم کی کمزوری ان چیزوں سے بہتر ہوتی ہے جو جسم ہضم کرتا ہے اس لیے نظام ہاضمہ بھی درست ہونا چاہیے مثال کے طور پر آپ بہترین غذا کھا رہے ہیں لیکن اگر یہ بہترین غذا جسم۔اگر صحیح طریقے سے ہضم نہیں کر رہا ان سے نیوٹریشنز ہی نہیں صحیح لے رہا تو یہ غذا جسم کے لیے بے کار ہیں اس لیے وہ ہی چیزیں لیں جو جسم بہتر طریقے سے ہضم کر لے اس کے لیے اوپر دی گئی تمام چیزوں کے ساتھ دہی کا۔استعمال بھی۔لازمی ہے کیونکہ۔دہی کھانے سے ہاضمہ درست رہتا ہے معدہ بہترین رہتا ہے دہی میں وہ بیکٹیریا پائے جاتے ہیں جو انسانی جسم کے لیے مفید رہتے ہیں معدے کو درست رکھتے ہیں لیکن زیادہ میٹھی اور جنک فوڈز سے بہت پرہیز بھی لازمی ہے

  • شوگر کے مریض کون سی چیز کب کیسے اور کتنی کھائیں

    شوگر کے مریض کون سی چیز کب کیسے اور کتنی کھائیں

    شوگر کے مریضوں کے لیے یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ وہ کیا کھائیں کیا نہ کھائیں یہ بات تو سب ہی جانتے ہیں کہ شوگر کے مریضوں کے لیے میٹھی چیز کا پرہیز ضروری ہے لیکن یہ بات بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں کہ شوگر کے مریض کچھ میٹھی چیزیں بھی کھا سکتے ہیں اور بیت ساری ایسی چیزیں جو میٹھی نہ ہونے کے باوجود بھی شوگر کے مریضوں کو استعمال نہیں کرنی چاہیے شوگر کے مریض سب سے پہلے یہ جان لیں کہ ان کو روزانہ کتنی کیلوریز کی ضرورت ہے؟ ہر انسان کے لیے روزانہ کیلوریز کی ضرورت اس کے کام اور وزن کے مطابق ہوتی ہے شوگر کے مریضوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ وقفے وقفے سے کم کیلوریز حاصل کریں ایک ہی دفعہ زیادہ کھانا نہ کھائیں نارمل انسان دن میں تین مرتبہ کھانا کھاتا ہے لیکن شوگر کے مریض کھانے کو تین کی بجائے پانچ یا چھ حصوں میں تقسیم کریں ایک ہی دفعہ زیادہ کھانے سے شوگر کی مقدار بڑھے گی جس کی وجہ سے جسم میں انسولین کی مقدار کم ہو گی لیکن کم۔کھانے سے شوگر کی مقدار بھی مناسب مقدار میں بڑھے گی جو انسولین کی کم مقدار سے بھی کنٹرول رہے گی اس کے علاوہ کھانے میں ایسی خوراک کا استعمال کریں جس میں کاربوہائیڈریٹس کی مقدار کم ہو کاربوہائیڈریٹس کو دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے سمپل کاربو ہائیڈریٹس اور کمپلیکس ہائیڈریٹس سمپل کاربوہائیڈریٹس میں چینی اور اس سے بنی اشیاء کولڈ ڈرنکس اور جوسز وغیرہ شامل ہیں کمپلیکس کاربو ہائیڈریٹس والی اشیاء میں اناج اور اس سے بنی اشیاء دالیں اور چاول شامل ہیں کاربوہائیڈریٹس کے بعد پروٹین اور فیٹس سے بھی کیلوریز حاصل ہوتی ہیں تو ان کا استعمال بھی مناسب مقدار میں کریں
    سمپل کاربوہائیڈریٹس والی اشیاء میں چینی اور اس سے بنی اشیاء کھیر کسٹرڈ آئس کریم سوفٹ ڈرنک کیچپ چلی سوس اس کے علاوہ گُڑ اور اس سے بنی اشیاء کولڈ ڈرنک اور جوسز وغیرہ شامل ہیں ان سب کا استعمال صحت کے لیے مضر ہے لہذا ان سب کا استعمال بند کر دیں کمپلیکس کاربو ہائیڈریٹس والی اشیاء میں تمام قسم کے اناج اور ان سے بنے چیزیں اور چاول وغیرہ شامل ہیں اس میں کچھ چیزوں کا استعمال بند کر دیں جیسے کہ سفید آٹا جسے ریفائنڈ آٹا بھی کہتے ہیں اس کی بجائے چکی کا آٹا استعمال کریں جو ریفائنڈ نہیں جو گندم پسنے کے بعد اپنی اصلی حالت میں ہوتا ہے عام چاولوں کی جگہ براوْن چاول استعمال کریں میدے سے بنی اشیاء میدے سے بنی روٹی کیک بریڈ سموسہ وغیرہ استعمال نہ کریں
    اس کے علاوہ سوجی اور سابو دانہ سے پرہیز کریں اکثر شوگر کے مریض صبح ناشتے میں رس اور کیک اور بریڈاستعمال کرتے ییں ہو نہیں جانتے کہ یہ ان کے لیے کتنا نقصان دہ ہے ان چیزوں کی جگہ براون بریڈ استعمال کریں جس میں میدے کی مقدار کم۔اور چوکر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے شوگر کے مریضوں کے لیے بیسن گندم اور جو کے آٹے کو مکس کرکے اس کی روٹی سے بنا کر کھانا بھی انتہائی مفید ہے جوسز او ر کولڈ ڈرنکس کی بجائے پھلوں کا استعمال کریں شوگر کے مریض چینی کے بغیر چائے یا کافی استعمال کر سکتے ہیں لیکن وہ بھی دن بھر میں دو سے تین کپ ہی لے سکتے ہیں اس کے علاوہ گرین ٹی بھی استعمال کر سکتے ہیں سبزیوں میں پیٹھا آلو اور اروی استعمال نہ کریں توری گوبھی پیاز اور بینگن وغیرہ اور تما م ہری سبزیاں استعمال کر سکتے ہیں ہری سبزیوں کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں یہ خون کی کمی کی صورت میں بھی کافی فائدہ ہہنچاتی ہیں اس کے علاوہ پھلوں میں آم لیچی چیکو تربوزانگور اور کیلے وغیرہ کا استعمال بالکل نہ کریں بلکہ ایسے پھل استعمال کریں جن میں میٹھے کی مقدار کم ہو جیسے کہ سیب انار گریپ فروٹ پپیتاّغیرہ لیکن اک استعمال بھی منسب مقدار میں کریں مثلاً روزانہ کوئی ایک پھل ہی استعمال کریں مثلاً روزانہ یا تو ایک سیب کھائیں یا پپیتا یا انار اگر شوگر کنٹرول میں ہو تو صبح و شام بھی ایک ایک کھا سکتے ہیں مندرجی ذیل ہھل آپ کھا سکتے ہیں سیب مالٹا بلیو بیریز گریپ فروٹ ناریل امرود سٹرابریز جامن چیریز آڑو پپیتا انجیر انار آملہ اور ٹماٹر گوشت میں مچھلی کا استعمال کریں مٹن اور بیف مناسب مقدار میں استعمال کریں لیکن سری پائے بالکل استعمال نہ کریں یہ شوگر کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ہیں اور کوشش کریں کہ برائلر کی جگہ دیسی مرغی استعمال کریں زیادی تلی ہوئی اور چکنائی والی چیزوں سے پرہیز کریں جیسا کہ پراٹھے سموسے پکوڑے برگر پراٹھا پیزا تکے حلوہ پوری وغیرہ اور کھانا پکانے کے لیے گھی کی جگہ آئل استعمال کرنے کی کوشش کریں اور آئل وہ استعمال کریں جن کو بیجوں سے حاصل کیا گیا ہو کارن آئل سویا آئل سرسوں کا اور زیتون کا آئل وغیرہ ماش کی دال کے علاوہ تمام قسم کی دالیں کھائی جا سکتی ہیں
    انڈا بھی بغیر زردی کے کھا سکتے ہیں ڈرائی فروٹ میں کاجو اخروٹ پستہ اور بادام کھا سکتے ہیں شوگر کے مریض دن بھر میں دس سے بارہ گلاس پانی پئیں جو کہ بہت ہی زیادہ فائدہ مند ہے شوگر کے مریضوں کو اس بات کی پریشانی رہتی ہے اور وی سوچتے ہیں کہ اس بیماری میں بہت سی کھانے کی چیزوں پر پابندی لگ جاتی ہے لیکن ایسا ہر گز نہیں ہے آپ بہت سی چیزیں کھا سکتے ہیں جن میں میٹھے پھل بھی شامل ہیں بس احتیاط کی ضرورت ہے کھانا وقفے وقفے سے اور کم مقدار میں کھائیں کھانے میں ہری سبزیاں لہسن ادرک دار چینی زیتون کا تیل مچھلی جو کا آٹا نیسن جوار کا آٹا کالے چنے اور سبزیوں اور باقی جو چیزیں بتائی گئی ہیں ان کا استعمال زیادہ کریں ان سب پر عمل کریں ایک مہینے میں فرق آپ کو خود ہی معلوم ہو جائے گا . کوئی ڈاکٹر یہ دعوی نہیں کر سکتاکہ انسولین یا شوگر کی میڈیسن سے شوگر کی بیماری مکمل طور پر ختم ہو جائے گی لیکن اس بیماری کو سمجھ کر اپنی غذا کی تبدیلی اور لائف سٹائل سے اس مرض سے نجات حاصل کر سکتے ہیں

  • بیسن کی روٹی میں چھپا صحت کا خزانہ

    بیسن کی روٹی میں چھپا صحت کا خزانہ

    بیسن کی روٹی موٹاپے سے لے کر شوگر کے مرضوں تک کے لیے نعمت سے کم نہیں اس کا روزانہ۔استعمال زندگی میں حیرت انگیز تبدیلیاں لاتا ہے بیسن چنوں سے بنتا ہے اور چنے غذائیت کے لحاظ سے بھر پور ہوتے ہیں بیسن نیوٹریشنز یعنی معدنی اجزا سے بھر پور ہوتا ہے اس میں آئرن پوٹاشئیم زنک میگنیز کیلشئیم وٹامن بی 6 اور فائبرز کی اچھی لاصی مقدار پائی جاتی ہے بیسن کے آٹے کی روٹی استعمال سے صحت کے بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں بیسن غذائیت کا خزانہ ہے لیکبن بیسن میں کیلوریز بہت کم ہوتی ہیں وہ لوگ جو موٹاپے کا شکار ہیں اور اپنا وزن کم۔کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے بیسن کی روٹی بہت اعلی اور فائدہ مند ہے موٹاپے کا شکار لوگ گندم کے آٹے کی روٹی کی بجائے بیسن کے آٹے کی روٹی استعمال کریں تو ان کا وزن بہت جلد کم۔ہو گا کیونکہ بیس کے آٹے کی روٹی فائبر سے بھر پور ہوتی ہے اس لیے یہ کھانے کے بعد آپ کو بھوک محسوس نہیں ہوگی تھائی رائیڈز ٹی سی او ڈی ٹی سی او ایف ان سب کے لیےبیسن کی روٹی بہت فائدہ مند ہے بیسن کی روٹی کھانے سے چہرے پر نکھا آتا ہے بیسن آئرن سے بھر پور ہوتا ہے جب اس کی روٹی کھانےسے جسم میں خون کی کمی دور ہوتی ہے اور جسم میں تازہ خون پیدا ہوتا ہے جب جسم میں خون اور آئرن کی کمی نہیں پائی جائے گی تو چہرے پر نکھا آئے گا بیسن کی روٹی ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے انتہائی مفید ہے اگر ہائی بلڈ پریشر کے مریض ناشتے میں بیسن کی روٹی کا ستعمال کریں گے تو انشاءاللہ پورا دن بلڈ پریشر کنٹرول میں رہے گا بیسن کولیسٹرول کو بڑھنے نہیں دیتا بیسن میں قدرتی خاصیت پائی جاتی ہے کہ یہ جسم سے کولیسٹرول کو سوکھ لیتا ہے کولیسٹرول لیول جسم میں بڑھ گیا ہو تو دوپہر کو بیسن کی روٹی کھانے سے انشاءاللہ کچھ ہی دنوں میں کولیسٹرول لیول متوازن ہونا شروع ہو جائے گا بیسن کی روٹی دل کی صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہے دل کو صحت مند رکھنے میں مدد رکھے گی کیونکہ دل کی اسی فیصد بیماریوں کی وجہ یا تو ہائی بلڈ پریشر ہوتا ہے یا کولیسٹرول کی بڑھی ہوئ مقدار اس لیے بیسن کی روٹی کے استعمال سے ہائی بلڈ پریشر اور کولیسٹرول لیول کی مقدار نہیں بڑھے گی اس لیے دل۔صحت مند رہے گا بیسن کی روٹی شوگر کے مریضوں کے لیے بیسن کی روٹی اکسیر کی حیثیت رکھتی ہے یہ شوگر کے مریضوں کے لیے تین طرح سے فائدہ مند ہے پہلا یہ کہ بیسن کی روٹی لون میں گلوکوز کی مقدار کو نہیں بڑھاتی یہ شوگر مریضوں کے لیے بہت فائدہ مند رہتا ہے ان کی شوگر ایک دم۔سے نہیں بڑھتی دوسرا اس میں وٹامنز اور منرلز شوگر کے مرءضوں کے لیے بالکل ٹھیک مقدار میں ہوتے ہیں اس روٹی کے استعمال سے شوگر کے مریضوں کو بھر پور غذائیت ملتی ہے بیسن کی روٹی جسم کو کمزور ہونے سے بچنے کے لیے مدد دیتی ہے بیسن کا ستعمال لبلبے کے لیے بہت مفید ہے اس کت استعمال سے لبلبے کو طاقت ملتی ہے کمزوری محسوس ہونے تھکاوٹ محسوس کرنے یا ایسا محسوس ہو جیسے جسم میں جان نہیں رہی تو اس میں بھی دوپہر کے وقت بیسن کی روٹی کا استعمال انتہائی مفید ہے بیسن کی روٹی لمبے عرصے تک توانائی فراہم کرتی ہے جس کی وجہبسے لمبے عرصے تک توانائی کی کمی۔نہیں ہوتی لمبے عرصے تک تھکاوٹ کی کمی محسوس نہیں ہوتی اس لیے جو لوگ تھکے تھکے رہتے ہیں وہ دوپہر کے وقت اور کچھ نہ کھائیں بس بیسن کی روٹی استعمال کریں بیسن کی روٹی معدے کے لیے بہت مفید ہوتی ہے کیونکہ یہ۔کھانے کے لحاظ سے لائیٹ ہوتی ہے اس لیے ہضم کرنے میں بہت زیادہ آسان رہتی ہے جن لوگوں کو ہاضمے کی خرابی ہے یا ہاضمہ کمزور ہو چکا ہے کوئی چیز آسانی سے ہضم نہیں کر پاتے تو بیسن کی روٹی کا استعمال ان کے لیے بہت مفید ہے کچھ ہی دنوں میں بہتری محسوس ہو گی کیونکہ اس روٹی کو ہضم کرنے کے لیے معدے کو زیادہ کام۔نہیں کرنا پڑتا اور معدہ اپنے آپ کو جلد ہی ٹھیک کرنا شروع کر دے گا گیس اور تیزابیت میں بھی بیسن کی روٹی کا استعمال انتہائی مفید ہے مندرجی ذیل طریقے سے بنائی گئی روٹی کمزور ہاضمے کو ٹھیک کرنے کے ساتھ ساتھ معدے کو صحت یاب کرنے میں بھی مدد کرے گی بیسن میں بھر پور مقدار میں پایا جانے والا کیلشیم ہڈیاں اور دانت مضبوط کرنے میں مدد دیتا ہے بیسن کی روٹی کے استعمال سے دنتوں اور ہڈیوں کے تمام مسائل۔سے نجات ملتی ہے اس روٹی کو مسلسل ایک مہینے تک روزانہ دوپہر کے وقت استعمال کرنے سے چار سے پانچ کلو وزن کم ہوتا ہے
    اجزاء:
    آئل ایک کھانے کا چمچ
    نمک حسب ذائقہ
    بیسن آدھا پاو
    لال مرچ حسب ذائقہ
    سبز دھنیا ایک چمچ بڑا
    زیرہ آدھا چائے کا چمچ
    سوکھا دھنیا ادھا چائے کا چمچ
    اجوائن آدھا چائے کا چمچ
    پیاز ایک عدد چھوٹا
    سبز مرچیں دو ست تین عدد پیس لیں
    ترکیب:
    بیسن میں تمام مصالحے پیاز اور دھنیا شامل کر کے اچھی طرح مکس کر لیں اس کو پانی سے اچھی طرح آہستہ آہستہ گوندھ لیں اور اس کو تھوڑا پتلا رکھیں پھر توے کو چولہے پر رکھ دیں اور گرم ہونے پر بالکل ہلکا سا آئل توے پر لگالیں اور انڈے کی طرح بیسن کے آٹے کو توے ہر ڈال کر چمچ کی۔مدد سے پھیلا لیں دوسری روٹی کی طرح پیڑا نہیں بنانا بلکہ اس آٹے کو پتلا رکھنا ہے ہلکی آنچ پر پکنے دیں جب تھوڑی سختطہو جائےتو سائیڈ بدل دیں جب دوسری سائڈ سے بھی تھوڑی پک جائت تو اسے پلٹ کر اس کے اوپر تھوڑا گھی یا آئل لگا کر پکا لیں جب اچھی طرح پک جائے تو دہی کے ساتھ کھائیں

  • سوکھا دھنیا بے شمار بیماریوں کا علاج

    سوکھا دھنیا بے شمار بیماریوں کا علاج

    سوکھے دھنیا کا مزاج سرد خشک ہوتا ہے دل بہت قیمتی چیز ہے دل کی قدر وقیمت ان لوگوں سے پوچھیں جو دل کے کسی نہ کسی مسئلے میں مبتلا ہیں سوکھے دھنیا کا۔استعمال دل کے لیے انتہائی مفید ہے سوکھے دھنیا کے استعمال سے دل۔مضبوط ہوتا ہے دل کو ٹھنڈک ملتی ہے جن لوگوں کا دل گھبراتا ہو بے چینی رہتی ہووہ لوگ سوکھے دھنیا کا استعمال زیادہ کریں اس کے استعمال سے دل مضبوط ہوتا ہے دل کی صحت کا سب سے بڑا دشمن کولیسٹرول ہے سوکھے دھنیے کے استعمال سے آپ کولیسٹرول کا خاتمہ۔کر سکتے ہیں اگر آپ لوگوں کا کولیسٹرول لیول بڑھا یوا ہے تو اس کے لیے سوکھا دھنیا اس طرح استعمال۔کریں ایک گلاس پانی کو پتیلی میں ڈال کر ابلنے کے لیے رکھ لیں جب ابل بجائے تو اس میں ایک چائے کا چمچ سوکھا دھنیا ڈال دیں جب پانی ابلتے پک پک کر آدھا رہ جائےتو چولہا بند کر دیں اور اس کو ٹھنڈا ہونے کے لیے رکھ دیں جب ٹھنڈا ہو جائے تو اسے کپ میں چھان لیں اور پی لیں کچھ دنوں کے استعمال سے بڑھا ہوا کولیسٹرول لیول پر آ جائے گا سوکھا دھنیا معدے کے لیے بہت اعلی چیز ہے سوکھا دھنیا چونکہ ٹھنڈا ہوتا ہے اس کے استعمال سےمعدے کی گرمی دور ہوتی ہے اور معدے کی۔کمزوری کا۔خاتمہ ہوتا ہے اور ہاضمہ اچھا ہوتا ہے بھوک نہ لگنے کی صورت میں بادی پن کے لیے اور گیس کے لیے سوکھا دھنیا استعمال کریں معدے کے متعدد اوربے شمار مسائل کے خاتمے کے لیے سوکھا دھنیا بہت مفید یے معدے کی بیماریوں کے خاتمے کے لیے سوکھا دھنیا مندرجہ ذیل طریقے سے استعمال کریں ایک گلاس پانی میں ایک چائے کا چمچ سوکھا دھنیا ملا کر چار گھنٹوں تک پڑا رہنے دیں پھر مقررہ وقت کے بعد پانی کو چھان کر استعمال۔کر لیں ہفتے میں ایک یا دو مرتبہ کے استعمال سے ہی معدے کے مسائل دور رہیں گے چہرےکے داغ دھبوں اور کٹنے چوٹ اور جلنے کے نشان سوکھے دھنیے سے دور کئے جا سکتے ہیں اس کے لیے دو گلاس پانی میں ایک چائے کا چمچ سوکھا دھنیا ڈال کر ٣ گھنٹوں کے لیے رکھ دیں اس کے بعد پانی چھان کر اس پانی سے اپنا چہرہ دھونا ہے اس کو ایک مہینہ مسلسل استعمال کرنے سے تمام داغ دھبے دور ہو جائیں گے منہ میں بدبو آنے کی صورت میں صبح اٹھ کر دانت صاف کرنے سے ایک چائے کا چمچ دھنیا لے کر اسے اچھی طرح چبا نا ہے کچھ دنوں کے استعمال سے منہ سے آنے والی بدبو دور ہو جائے گی جن لوگوں کے ہارمونز خراب ہو چکے ہیں بگڑ چکے ہیں سوکھے دھنیا کے استعمال سے افاقہ ہوگا اور کسی بھی قسم کی پچیدہ صورتحال سے بچ جائیں گے اگر جسم یا آنکھوں مکں سینے ہاتھوں اور پاوں وغیرہ میں جلن ہوتی ہے تو سوکھے دھنیا کا استعمال جلن کو روک دے گا اس کے لیے سوکھا دھنیا مشری اور سونف ایک ہی مقدار میں لینے ہیں ان چیزوں کو علیحدہ علیحدہ پیس کر سفوف بنا لیں پھر ان تینوں کواچھی طرح مکس کر لیں اور کسی صاف بوتل میں محفوظ کر لیں جب بھی جسم کے کسی حصے میں جلن ہو تو ایک چائے کا چمچ یہ سفوف پانی کے ساتھ استعمال کرنا ہے سوکھے دھنیے کو بخار میں استعمال کرنے سے بخار سے آرام ملتا ہے دانتوں یا مسوڑو ھوں میں سے لون آنے کی صورت میں ایک گلاس پانی میں ایک کھانے کا چمچ سوکھا دھنیا ڈال کر پکا لیں جب پانی آدھا رہ جائے تو ٹھنڈا کرنے کے بعد اس پانی سے کلیاں کرنی ہیں کچھ ہی دنوں کے استعمال سے افاقہ ہوگا سوکھا دھنیا پیشاب آور ہے اس سے پیشاب کی رکاوٹ دور ہو گی سوکھے دھنیے کا استعمال مختلف اندرونی انفیکشنز سے بچاتا ہے تھائی رائیڈ کے مسئلے کے لیے ڈیڑھ گلاس پانی میں ایک چائے کا چمچ سوکھا دھنیا ڈال کردو گھنٹوں کے لیے رکھ دینا ہے اس کے بعد اس پانی کو پکنے کے لیے رکھ دیں اور اتنا پکائیں کہ ایک گلاس پانی رہ جائے پھر اس کو چھان لیں اس پانی کو نہار منہ مسلسل استعمال۔کرنا ہے اس سے تھائی رائیڈز کا . مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا شوگر کے مریضوں کے لیے اس کا استعمال انتہائی مفید رہتا ہے اگر شوگر کے مریض کھانے میں اس کا استعمال کرتے ہیں تو یہ لون میں گلوکوز کے لیول کو بڑھنے نہیں دیتا اور گلوکوز لیول کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے کمزور بالوں اور کمزوری کی وجہ سے گرنے والے بالوں کے لیے ایک برتن میں آدھا لیٹر پانی لے کر اس میں دو کھانے کے چمچ سوکھا دھنیا ڈال کر دو سے تین گھنٹوں کے لیے بھگو دینا ہے اورپھر چھان لینا ہے چھان کر اس پانی سے بال دھونے ہیں بس اس پانی کو بالوں کے اوپر بہانا ہے اس کے چند دن کے استعمال سے بال صحتمند مضبوط اور چمکدار گھنے ہو جائیں گے سوکھا دھنیا ویسے تو عام سی چیز ہیں لیکن اس کے فوائد بہت زیادہ ہیں اگر اسکا استعمال زیادہ کریں گے تو اس کے کچھ نقصان بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ ٹھنڈا ہوتا ہے اس لیے ٹھنڈے موسم میں اس کا استعمال ہر گز زیادہ نہیں کرنا چاہیے سوکھا دھنیا پیشاب آور ہوتا ہے اس کے زیادہ استعمال سے پہشاب زیادہ آنے کی صورت میں ڈی ہائیڈریشن ہو سکتی ہے

  • ناشتے جو بلڈ پریشر کو بڑھنے نہیں دیتے

    ناشتے جو بلڈ پریشر کو بڑھنے نہیں دیتے

    ہائی بلڈ پریشر بہت خطرناک مرض ہے اورکو خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے ہائی بلڈ پریشر والے مریضوں کے لیے ناشتہ انتہائی اہمیت کا حامل رہتاہے اگر آپ کو ہائی بلڈ پریشر کا مرض نہیں تو آپ ناشتے میں کچھ بھی استعمال کر سکتے ہیں آپ انڈے پراٹھے چائے نان چنے وغیرہ بھی استعمال کر سکیں گے لیکن اگر آپ کو ہائی بلڈ پریشر کا مرض ہے تو ان سب چیزوں کا ناشتے میں استعمال آپ کو بہت زیادہ نقصان پہنچا سکتا ہے ہائی بلڈ ہریشر کے مریض ناشتے میں اگر انڈے استعمال کریں تو وہ ان انڈوں کی زردی نکال لیں اور پھر انڈے استعمال کریں ہائی بلڈ پریشر کے مریض ہیں تو ناشتے میں کچھ چیزوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے جیسا کہ جو ناشتہ آپ کریں اس میں سوڈیم کی۔مقدار زیادہ نہیں ہونی چاہیے اگر آپ کو ہائی بلڈ پریشر کا مرض ہے تو جس دن ناشتے میں اگر سوڈیم کی زیادہ مقدار کا استعمال کر لیتے ہیں تو یقینی طور پر اس دن آپ کا بلڈ پریشر ہائی رہے گا اسی طرح کولیسٹرول کا ا ستعمال بھی ناشتے میں نہیں کرنا چاہیے اس بات کا بھی خیال رکھیں جتنا آپ نے ناشتے میں سوڈیم۔کا استعمال کرنا ہے اس دن دگنی مقدار میں پوٹاشئیم کا استعمال بھی کرنا ہے
    سیریل۔اور دودھ کا استمعال:اگر آپ ناشتے میں سیریل اور دودھ کا استعمال کرتے ہیں تو یہ آپ کی۔ہیلتھ خاص طور پر ہائی بلڈ پریشر والوں کے لیے بہت مفید ہے سیریل اور دودھ کی ملانے سے ان میں اچھی اور بالکل عمدہ مقدار میں نیوٹریشنز موجود ہوتی ہیں سیریل میں نیوٹریشنز بھر پور مقدار میں موجود ہوتے ہیں اس میں سوڈیم نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں سوگرام سریل میں تقریباً چھ ملی گرام سوڈیم پایا جاتا ہے اسی طرح سو گرام سریل میں ساڑھے تین سو گرام پوٹاشئیم پایا جاتا ہے جو کہ اس کو نہ صرف ہائی بلڈ پریشر والوں کے لیے بلکہ دوسرے مریضوں کے لیے بھی صحت مند فوڈ بنا دیتا ہے جبکہ ان میں کولیسٹرول زیرو ملی گرام ہوتا ہے یعنی اس میں بالکل بھی کولیسٹرول نہیں ہوتا اس میں پروٹینز وٹامنز منرلز اور فائبر سے بھر پور ہوتا ہے دودھ بھی ہائی بلڈ پریشر کے لیے بہت مفید ہے ایک گلاس دودھ میں تقریباًپینتالیس ملی گرام سوڈیم موجود ہوتا ہے اور 150ملی گرام کے قریب پوٹاشئیم ہوتا ہے جو دودھ کو ہائی بلڈ ہریشر والے مریضوں کے لیے بہت اعلی غذا بنا دیتا ہے دودھ کو استعمال کرتے وقت ملائی کو ہٹا دینا ہے ملائی کے بغیر دودھ استعمال کرنا ہے سریل اور دودھ کا استعمعال ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے علاوہ دل کے کسی قسم کے مسئلے میں بھی یہ ناشتہ بہت ہی مفید ہے اس کے علاوہ وزن کم۔کرنے والے مریضوں کے لیے بھی یہ ناشتہ بہت مفید ہے بیسن کی روٹی ناشتے کے لیے بہترین ہے اور اگر ہائی بلڈ پریشر کے مریض ناشتے میں بیسن کی روٹی استعمال کریں تو یہ ان کے لیے بہت عمدہ اور مفید ناشتہ ہے اگر اس کو ناشتے میں شامل کر لیتے ہیں تو آپ یقینی طور پر ہمیشہ فٹ رہیں گے یہ ہر شخص کے لیے بہت مفید ہے اس سے بہت سی بیماریوں سے بچے رہیں گے موٹاپا آپ کے قریب بھی نہیں آئے گا اس کے علاوہ ہائی بلڈ پریشر کے مریض یا تو دو کیلے استعمال کریں ناشتے میں یا دہی کیونکہ کیلے پوٹاشئیم سے بھر پور ہوتے ہیں اور ان میں سوڈیم کی مقدار بہت کم ہوتی ہے اس کے علاوہ آپ دہی کا استعمال بھی کر سکتے ہیں لیکن دہی ملائی کے بغیر استعمال کر نی ہے جس دن آپ ان چیزوں کا استعمال کریں گے یعنی ناشتے میں استعمال کریں گے تو اس دن آپ اپنے بلڈ پریشر میں خود ہی فرق محسوس کریں گے ان ناشتوں کو کوئی بھی اہنا سکتا ہے چاہے اسے ہائی بلڈ پریشر ہے یا نہیں ہے اس کے علاوہ ان ناشتوں کو کسی بھی عمر کا انسان استعمال کر سکتا ہے چاہے وہ بچہ ہے بڑا یے یا بوڑھا ہائی بلڈ پریشر والے لوگ ناشتے میں میدے سے تیار یونے والی اشیاء بالکل استعمال نہ کریں جیسا کہ وائیٹ بریڈ نان پراٹھا وہ استعمال کرنا ہےجو چکی کے آٹے کا ہو یا جس میں چوکر شامل ہو ریفائنڈ آٹے کا پراٹھا ہر گز استعمال نہیں کرنا زیادہ تیل ہا تیل میں تلی ہوئی چیزوں سے بھی پرہیز کریں نہیں تو آپ کا کولیسٹرول لیول بڑھے گا جس سے بی پی بھی بڑھے گا انڈا بوائل کرکے اس کی زردی نکال۔کر کھائیں فرائی کیا ہوا انڈا کبھی نہ کھائیں نمک کم سے کم استعمال کریں ہائی بلڈ پریشر کا سب سے بڑا دشمن نمک ہے