Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • الائچی اور سونف کے قہوے کے فوائد

    الائچی اور سونف کے قہوے کے فوائد

    الائچی اور سونف بہت ہی مفید اور طاقتور ترین جڑی بوٹیاں ہیں الائچی اور سونف میں ایسے کمپاونڈز ایسے قدرتی اجزا ہیں جو آپ کی صحت کے لیے بہت زیادہ مفید ہیں الائچی اور سونف کے قہوے کا استعمال جسم کو ڈیٹوکس کرتا ہے جسم کی اندرونی صفائی کرتا ہے جسم میں تمام فاضل مادوں کو باہر نکال دیتا ہے پیٹ کی صفائی کرتا ہے اور آنتوں میں جمع فالتو مواد کو بکال باہر کرتا ہے جگر کے لیے بھی بہت اچھا ہے جگر کو ڈیٹوکس کرتا ہے قہوے کے استعمال سے جگر صحت مند رہتا ہے یہ قہوہ معدے اور ہاضمے کے نظام کے لیے بہت مفید رہتا ہے ہاضمے کے نظام کو بہتر اور مضبوط کرتا ہے بد ہضمی کا خاتمہ کرتا ہے جن لوگوں کے پیٹ میں گیس رہتی ہے گیسٹروبل رہتا ہے اس قہوے کے استعمال سے انشاءاللہ اس مسئلے سے نجات پائیں گے یہ معدے کو طاقت دیتا ہے معدے میں موجود بےجا تیزابیت کا خاتمہ کرتا ہے معدے میں موجود بے جا تیزابیت آپ کو مختلف مسائل میں مبتلا کرسکتی ہے اس کے علاوہ معدے کے السر میں اس قہوے کا استعمال نہایت مفید رہتا ہے جو لوگ قبض کا شکار رہتے ہیں وہ بھی اس قہوے کا استعمال کریں انشاءاللہ کچھ ہی دنوں میں پرانی سے پرانی قبض کا مسئلہ ختم ہو جاتا ہے پیٹ کے درد میں اس قہوے کا استعمال انتہائی مفید رہتا ہے اور اگر آپ ہفتے میں اس قہوے کو دو سے تین مرتبہ بھی استعمال کر لیا کریں تو پیٹ میں کبھی درد نہیں ہوگا پیٹ کو تندرست رکھتا ہے ڈائیریا میں بھی اس قہوے کا استعمال بہت مفید رہتا ہے اگر آپ موٹاپے کا شکار ہیں آپ کا وزن زیادہ ہے اگر آپ اپنا وزن کم کرنا چاہتے ہیں تو یہ قہوہ کسی انمول تحفے سے کم نہیں اس قہوے کا استعمال اپنا وزن کم کرنے میں اپنی مثال آپ ہے خاص طور پر پیٹ کی چربی بہت تیزی سے کم کرتا ہے اس قہوے کے استعمال سے میٹابولزم ریٹ بڑھتا ہے اگر ورزش کے دوارن اس قہوے کا استعمال کرتے ہیں تو ورزش کا اثر دوگنا ہوگا اور وزن دوگنی رفتار سے کم ہوگا وہ لوگ جو ہمیشہ فٹ تروتازہ اور ہشاش بشاش رہنا چاہتے ہیں وہ اس قہوے کا استعمال کرتے رہیں کبھی ان کے جسم میں فالتو چربی سٹور نہیں ہوگی الائچی اور قہوے کا استعمال دل کی صحت کے لیے بہت مفید ہے دل کو صحت مند رکھتا ہے اگر سینے میں جلن ہو تو اس قہوے کاا ستعمال کریں کیونکہ یہ قہوہ جسم سے بےجا تیزابیت کو ختم کرتا ہےاس لیے سینے کی جلن میں اس قہوے کا استعمال بہت مفید ہے سونف اور الائچی دونوں ہی پوٹاشئیم سے بھرپور ہیں اس لیے اس قہوے کا استعمال دل کو صحت مند بناتا ہے جن لوگوں کے دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہےوہ اس قہوے کا استعمال کریں اس مسئلے سے نجات ملے گی یہ قہوہ شریانوں کی صفائی کرتا ہے شریانوں کی رکاوٹ کو دور کرتا ہے دورانِ خون کو بحال کرتا ہے اگر جسم میں کولیسٹرول کی مقدار زیادہ ہو تو یہ کولیسٹرول لیول کو کم کرتا ہے اور نقصان دہ کولیسٹرول کا خاتمہ کرتا ہے یہ سب چیزیں مل کر دل کو صحت مند رکھنے میں مدد دیتی ہیں اس کے علاوہ اور بھی کافی بیماریوں سے حفاظت کرتی ہیں یہ قہوہ پیشاب آور ہے جن کو پیشاب رک رک کر آتا ہے یا کھل کر نہیں آتا وہ کوگ اس قہوے کو استعمال کریں پیشاب کھل کر آئے گا جن لوگوں کے گردوں میں پتھری ہو گئی ہو اس قہوے کے استعمال سے پتھری ریزہ ریزہ ہو کر پیشاب کے راستے باہر نکل جائے گی الائچی اور سونف کا قہوہ آپ کی سکن اور آپکے بالوں کے لیے بے حد مفید ہے اس قہوے کے استعمال سے چہرے پر نکھار اور چمک پیدا ہوتی ہے کیونکہ یہ قہوہ آپکے خون کو صاف کرتا ہے اس کے علاوہ خون کی سرکولیشن کو بڑھاتا ہے جب سکن کے نیچے لون کی سرکولیشن بڑھتی ہت تو جلد میں چمک ہیدا ہوتی ہے سکن پر نکھار آتا ہے سونف اور الائچی دونوں میں اینٹی ایجنگ اور اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات پائی جاتی ہیں اس لیے لمبے عرصےتک آپ جوان اور ہشاش بشاش رہیں گے آپ کی سکن پر جھریاں اور چھائیاں نہیں آئیں گی اس کے علاوہ جب آپکے سر کی جلد کے نیچے خون کی سرکولیشن بڑھے گی توسکن پر خشکی نییں ہو گی بال لمبے گھنے اور چمکدار ہوں گے اسکے علاوہ الائچی اور سونف میں اینٹی بیکٹیریل خصوصیات پائی جاتی ہیں اس لیے اگر آپ اس قہوے کا استعمال کریں گے تو یہ جسم سے نقصان دہ بیکٹیریا کا خاتمہ کرتاہے خاص کر وہ لوگ اس قہوے کا استعمال ضرور کریں جن کے منہ سے بدبو آتی ہے اس قہوے کا استعمال منہ سے بیکٹیریا کا خاتمہ کرتا ہے جس کی وجہ سے منہ سے آنے والی بدبو ختم ہو جاتی ہے منہ سے بدبو کی ایک بڑی وجہ معدے میں موجود غیر ضروری تیزابیت ہوتی ہے یہ قہوہ معدے کی تیزابیت بھی دور کرتا ہے اس لیے منہ سے آنے والی بدبو کی تمام وجہ ختم کرتا ہے اور آپ کے منہ سے ناخوشگوا بدبو کا مسئلہ ختم ہو جائے گا اس قہوے کا استعمال فلو نزلہ زکام کھانسی گلے کی خراش سردرد اور بخار میں بھی بہت مفید رہتا ہے جن کوگوں کے سر میں اکثر درد رہتاہے وہ اس قہوے کا استعمال کریں اس سے افاقہ ہوگا یہ قہوہ زبردست اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی کینسر خصوصیات پائی جاتی ہیں اس قہوے کا استعمال مختلف قسم کے کینسر سے بچاتا ہے اس کے علاوہ اس قہوے کا استعمال جسم کے امیون سسٹم یعنی قوت مدافعت کو مضبوط کرتا ہے جتنا آپ کا امیون سسٹم۔مضبوط ہوگا اتناہی آپ کا جسم آپ کو بیماریوں سے بچا پائے گا اور آپ آسانی سے بیمار نہیں پڑیں گے الائچی اور سونف دونوں ہی دماغ کے لیے بہت مفید ہیں اس قہوے کا استعمال دماغ کو طاقت دیتا ہے اور اس میں اینٹی ڈپریشن خصوصیات پائی جاتی ہیں اس لیے اس کا استعمال یادداشت کو مضبوط کرتا ہے اس قہوے کا استعمال بینائی کو تیز کرتا ہے سونف اور الائچی دونوں ہی آنکھوں کے لیے بہت مفید ہیں یہ آنکھوں کو صحت مند رکھتے ہیں بینائی کو تیز کرتے ہیں جن لوگوں کو جسم کے مختلف حصوں خاص طور پر گھٹنوں میں سوجن رہتی ہے ایسے میں اس قہوے کا استعمال جسم سے سوجن کو روکتا ہے اور اس سوجن کی وجہ سے ہونے والی دردوں سے نجات ملتی ہے سوجن کی وجہ سے رہنے والی بےچینی سے نجات ملے گی اس قہوے کا استعمال ہارمونز کو متوازن کرتا ہے جس سے مختکف مسائل سے نجات ملتی ہے الائچی اور سونف کا قہوہ بنانے کا طریقہ مندرجہ ذیل ہے
    اجزاء
    سونف آدھاچائے کا چمچ
    الائچی تین عدد
    پانی ایک کپ

    ترکیب:
    ایک پتیلی میں پانی ڈال۔کر چولہے پر رکھ دیں جب اس میں ابال آجائےتو اس میں سونف چائے کے چمچ کا تیسرا حصہ ڈال دیں پھر دو الائچیاں کھول کر ڈال دیں قہوہ زیادہ دیر نہ پکائیں کیونکہ اس سے قہوہ کڑوا ہو جاتا ہے اس سے ان میں پائے جانے والے کمپاونڈز ضائع ہو جاتے ہیں جب ایک ابال آجائےتو چولہا بند کردیں اور ٹھنڈا ہونے کے لیے رکھ دیں جب ہلکی سی گرمائش رہ جائے تو چھان کر کپ میں ڈال لیں اس میں آنے والی خوشبو بہت ہی خوشگوار ہوتی ہے اس قہوے کو دن میں ایک مرتبہ استعمال دن میں کسی بھی وقت استعمال کر سکتے ہیں لیکن کھانے کے فوراً بعد استعمال نہ کریں بلکہ کھانا کھانے سے دو گھنٹوں کے بعد استعمال کریں باقی کسی وقت بھی استعمال کر سکتے ہیں اگر آپ اس قہوہ کا استعمال روزانہ کرتے ہیں تو بہت سی بیماریوں سے بچے رہیں گے لیکن حاملہ عورتیں ہر گز استعمال نہ کریں

  • وزن کم کرنے میں مدد دینے والی چند غذائیں

    وزن کم کرنے میں مدد دینے والی چند غذائیں

    وزن کم کرنا اب مشکل نہیں بلکہ یہ آپ کے ہاتھ میں ہے اگر آپ ذرا سی توجہ اپنے آپ پر دیں تو آپ کے وزن میں باآسانی کمی آ سکتی ہے اس کے لئے آپ سب سے پہے آپ اپنی غذا پر توجہ دیں درج ذیل غذا اگر آپ اپنی روٹین میں شامل کرتےہیں تو آپ کے وزن کو تیزی سے کم کرنے میں مدد کرتے ہیں
    دہی: اگر آپ ناشتے میں دہی کا استعمال کرتے ہیں تو دہی پروٹین سے بھر پور ہوتا ہے اس کے علاوہ کیلشیئم اور وٹامن ڈی بھی بہترین مقدار میں دہی میں پائے جاتے ہیں اس کے علاوہ اس کے علاوہ دہی پرووائٹی ہے یعنی دہی میں وہ بیکٹیریا پائے جاتے ہیں جو آپ کے جسم کے لئے بہت بہترین ہیں اور آپ کے جسم کی اچھی صحت کے لئے مفید ہوتے ہیں جو شکص بھی روزانہ ناشتے میں دہی کا استعمال کرے گا اس کا ہاضمہ بہترین رہے گا وہ جو کچھ بھی کھائے گا اس کا معدہ صحیح طریقے سے ہضم کر پائے گا اگر آپ دہی کو اپنے ناشتے میں شامل کرتے ہیں تو جہاں آپ کو بہت سارے فوائد اور پروٹینز ملتی ہیں کیلشہیم وٹامن‌ڈی بھی مل رہا ہے تو یہ تمام چیزیں مل کر آپ کے پیٹ کی چربی پگھلانے میں مددگار رہتے ہیں اس لئے جو لوگ موٹے ہو چکے ہیں موٹاپے کا شکار ہو چکے ہیں خاص کر وہ لوگ جن کا پیٹ بڑ ہھ گیا ہو توند نکل آئی ہو وہ روزانہ ناشتے میں دہی کا استعمال کریں تو انشاءاللہ کم ہی وقت میں اپنی توند کم کر لیں گے
    لیموں : لیموں کا تعلق مالٹوں کے خاندان سے ہے لیموں وٹامن سی سے بھر پور ہوتا ہے لیموں میٹابولزم تیز کرنے کے ساتھ امیون سسٹم یعنی قوت مدافعت کو بھی مضبوط کرتا ہے لیموں بیماریوں سے بچانے کے ساتھ ساتھ میٹابولک کے عمل کو بہتر کرتا ہے جو فیٹس برن کرتا ہے اس عمل کو بھی تیز کرتا ہے جو شخص ایک سال تک روزانہ ایک لیموں استعمال کرتا ہے اس کا میٹابولزم ریٹ کبھی کم ہو ہی نہیں سکتا تو موٹاپے کا شکار لوگ روزانہ ایک لیموں استعمال کریں چاہے وہ سالن میں یا لیموں پانی میں استعمال کریں لیکن لیموں پانی میں زیادہ نمک اور چینی کا استعمال نہ کریں وارنی بجائے فائدہ کے نقصان دے گا نیم گرم پانی میں لیموں کا استعمال زیادہ مفید ہوتا ہے
    دلیہ: جو کا دلیہ جہاں آپ کو غذائیت دیتا وہاں وزن کم کرنے میں بھی بہت مددگار ثابت ہوتا ہے اگر آپ جو کا دلیہ ناشتے میں استعمال کرتے ہیں تو یہ آپ کو پورا دان چستو توانا رکھے گا اور ساتھ ہی آپ اپنا وزن تیزی سے کم کر پائیں گے
    دالیں : دالوں کو عام طور پر معمولی سمجھا جاتا ہے لیکن یہ غذایئت سے بھر پور ہوتی ہیں دالوں میں فائبر منرلز اور وٹامنز بھر پور مقدار میں پائے جاتے ہیں اس کے علاوہ دالیں دل کی صحے کے لئے بہت مفید ہیں اور اس کے علاوہ دالوں میں ایسے نیوٹرینٹس ہوتے ہیں جو آپ کے جسم کو وازن کم کرنے کے لئے درکار ہوتے ہیں اسی لئے آپ دالوں کو اگر اپنی روزمرہ کی خروک میں شامل کرتے ہیں تو یہ آپ کا وزن کم کرنے میں بہت مفید رہتی ہیں
    سوپ:سوپ کو آپ گھر میں بھی بہت کم پیسوں میں تیار کر سکتے ہیں یہاں تک کہ آپ ٹماٹر اور چنوں کی دال کا سوپ بھی تیار کر سکتے ہیں کھانا کھانے سے پندرہ منٹ پہلے سوپ کا استعمال آپ کی بھوک کو کم کر دیتا ہے اس سے بھوک آدھی رہ جائے گی سوپ میں بہت کم کیلوریز ہوتی ہیں اور صحت کے لیئے مفید بھی رہتا ہے اس طرح سے آپ اپنے کھانے کی مقدار کو کم کر کے تیزی سے وزن کم کر سکتے ہیں
    بیریز:بیریز اینٹی آکسیڈنٹس سے بھر پور ہوتی ہیں یہ وزن کم کرنے میں بہت زیادہ مدد دیتی ہیں اس کے علاوہ یہ وٹامن سی سے بھی بھر پور ہوتی ہیں سٹرابیری جامن اور فالسہ یہ بھی بیری کی ہی اقسام ہیں اور لوکل بیریز کہلاتی ہیں اگر آپ جامن فالسوں یا سٹرابیری کا استعمال کر لیا کریں یہ آپ کو بلیو بیریز جتنا ہی فائدہ دیں گی
    آلو: آلو آپ نے سن رکھا ہو گا وزن بڑھاتے ہیں یہ بالکل سچ بات ہے لیکن اس صورت میں جب آپ آلو تل کر چپس بنا کر فرنچ فرائز بنا کر کھاتے ہیں اگر آپ آلو کو ہنڈیا میں پکا کر کھاتے ہیں ڈیپ فرائی کر کے یا تل کر نہیں کھاتے آلو شوربہ بنا کر کھاتے ہیں تو آلو ایک صحت مند خوراک ہیں اس میں وٹامن بی چھ اورآئرن اچھی خاصی مقدار میں پائے جاتے ہیں جو کہ آپ کے وزن کو کم کرنے میں کافی زیادہ مددگار ثابت ہوتے ہیں
    انڈے: روزانہ کے دو ابلے ہوئے انڈے کھاتے ہیں تو یہ آپ کا وزن کم کرنے میں بہت زیادہ مدد دیتے ہیں لیکن کیسے آپ نے سنا ہوگا کہ انڈے کھانے سے کولیسٹرون بڑھتا ہے اور کولیسٹرول آپ کا وزن بڑھاتا ہے کولیسٹروک آپ کو مختلف بیماریوں میں ملوث کرتا ہے یہاں تک کہ کھ لوگ انڈوں کی زردی نکال دیتے ہیں بس اس کا سفید حصہ ہی استعمال میں لاتے ہیں لیکن اس کے برعکس آپ کو پورا انڈا کھانا چاہیئے نا کہ اس کا کوئی ایک حصہ انڈے میں اچھا کولیسٹرول پایا جاتا ہے یہ کولیسٹرول آپ کی صحت کے لئے بہت اچھا رہتا ہے اگر اس کولیسٹرول کا لیول آپ کے جسم میں زیادہ ہو جاتا ہے تو یہ بھی آپ کا وزن کم کرنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے اس کے علاوہ انڈوں میں تمام نیوٹریشن پائی جاتی ہے جو کہ میٹابولازم کی مقدار کوتیز کرتی ہے اس سے آپ تیزی سے وزن کم کر سکتے ہیں
    مچھلی: مچھلی کے بارئ میں ہمارے ہاں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ مطھلی بہت زیادہ گرم ہوتی ہے اور صرف سردیوں کے موسم میں مچھلی کو استعمال کرنا چاہیئے لیکن ایسی کوئی بات نہیں ہے ہاں یہ بات کافی حد تک درست ہے کہ مچھلی گرم ہوتی ہے لیکن آپ کو صرف سردیوں میں استعمال کرنی چاہیئے یہ بالکل غلط بات ہے آپ مچھلی کو گرمیوں میں بھی استعمال کر سکتے ہیں مچھلئ منرلز ے بھر پور ہوتی ہے اسے کھانے سے آپ کا میٹابولزم تیز کا م کرتا ہے اور کہا جاتا ہے مچھلی کھانے سے آپ کے پیٹ پر جمع ہوئی چربی تیزی سے پگھلتی ہے اور یہ بالکل درست بات ہے مچھلی اپنی غذا میں شامل کریں چاہے کوئی بھی موسم ہو یہ آپ کا وزن کم کرنے میں کافی مددگار ثابت ہوتی ہے
    پھل: پھلی اللہ تعالی کی نعمت ہیں لیکن پھلوں کو ہم اس وقت بہت برا بنا دیتے ہیں اپنے لیے جب ہم پھلوں کا جوس وغیرہ نکالتے ہیں اورسب سے بڑھ کر یہ بات کہ پھلوں کا جوس ہمارے لیے بہت صحت مند ہے یہاں تک کہ بہت زیادہ مائیں اپنے بچوں کو پھلوں کے جوس کا استعمال کرواتی ہیں پھلے کو جوس کی بجائے پورے کاپورا استعمال کرنا زیادہ مفید ہے پورے پھل میں فائبر ہوتا ہے اور جو پھل کا چھلکا اسے جوس نکال کے باہر پھینک دیا جاتا ہے اس میں بہت زیادہ نیوٹریشنز ہوتی ہیں آپ جب جوس نکالتے ہیں تو پھلی میں جتنی بھی غذائی اجزاء ہوتی ہیں وہ ضائع ہو جاتی ہیں اور صرف پھل کا پانی اور فلیور اور کچھ نیوٹریشن باقی رہ جاتی ہیں جوس آپ کو موٹا بھی کرتا ہے اور نیوٹریشنز بھی آپ کو پوری نہیں دیتا آپ کہہ سکتے ہیں جوس میں بہت زیادہ کیلوریز ہوتی ہیں اور ان کیلوریز کے مقابلے میں نیوٹریشنز کم ہوتی ہیں اس لئے جوس پینا آپ کو موٹا کرتا ہے اس کے مقابلے میں اگر آپ پھل کو استعمال کرتے ہیں تو پھل بہت زیادہ فائدہ مند رہتے ہیں اس لئے جوس کی بجائے پھل استعمال کریں خاص کر اورنج فیملی سے تعلق رکھنے والے پھل استعمال کریں یہ وزن کو کم کرنے میں بہت زیادہ مددگار ثابت ہوتے ہیں
    مکھن: مکھن یو دیسی گھی جب بھی آپ وزن کم کرنے کی بات کرتے ہیں تو آپ کو ان کا استعمال سختی سے منع کرتے ہیں کہ یہ آپ کا وزن بڑھاتے ہیں موٹا کرتے ہیں لیکن یہ بالکل بھی درست بات نہیں ہے اصل بات یہ ہے کہ اگر آپ ناشتے میں مکھن یا تھوڑا سا دیسی گھی استعمال کر لیا کریں ان میں بیت زیادہ نیو ٹریشنز پائے جاتے ہیں اس کے علاوہ یہ اچھی فیٹ پر مشتمل ہوتے ہیں جو کہ آپ کی چربی کی مقدار کو کم کرتے ہیں میٹابولزم کی مقدار میں اضافہ کرتے ہیں اگر آپ ان کو ایک خاص مقدار میں استعمال کریں گے تو یہ آپ کا وزن بالکل نہیں بڑھائیں گے اگر آپ ان کا استعمال بے تحاشا کریں گے تو یہ اپ کا وزن بڑھائیں گے
    ڈرائی فروٹس: عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ اگر آپ کا وزن بڑھا ہوا ہے اور آپ اپنا وزن کم کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو ڈرائی فروٹس کا استعمال نہیں کرنا چاہئے ج کہ سراسر غلط بات ہے ڈرائی فروٹ منرلز وٹامنز اور خاص طور پر روغنیات سے بھر پور ہوتے ہیں اگر آپ ڈرائی فروٹ وزن کم کرنے کے دوران استعمال کرتے ہیں تو ڈرائی فروٹ میں موجود روغنیات آپ کے جسم میں خشکی پیدا نہیں ہونے دیتے اور میٹا بولزم کے مقررہ مقدار کو کم رکھتے ہیں وزن کم کرنے کے دوران ایک مُٹھی ڈرائی فروٹ کا استعمال لازمی کریں یہ آپ کو وزن کم کرنے میں مدد کریں گے
    پانی: اگر آپ وزن کم کتنا چاہتے ہیں اس کے لئے تما م چیزیں کر لیں ورزش کرلیں ڈائیٹنگ کر لیں اوپر بتائے گئے تمام چیزیں استعمال کر لیں وزن کم کرنے کے لئے آپ کا کچھ نہیں بنے گا جب تک آپ پانی کا زیادہ مقدار میں استعمال نہ کرلیں پانی میٹابولزم کی مقدار کو تیز کرتا ہے اس کے علاوہ آپ کے جسم میں پانی موجود ہوگا تب ہی آپ کا جسم چربی کو پگھلا پائے گا اگر آپ کے جسم میں پانی کی کافی مقدار موجود نہیں ہو گی تو چربی نہیں پگھلے کی آپ ورزش کریں گے ڈائٹنگ کریں گے لیکن چربی وہاں کی وہاں موجود رہے گی اس کے علاوہ جب آپ ورزش اور ڈائیٹنگ کرتے ہیں تو جسم میں زہریلے مادے پیدا ہوتے ہیں اور ان زہریلے مادوں کو جسم سے باہر نکالنے کے لئے پانی کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے جو لوگ وزن کو کم کرنا چاہتے ہیں وہ کافی مقدار میں پانی کا ستعمال لازمی کریں 12 سے سولہ گلاس پانی لازمی پیئں اس کے بغیر آپ وزن کو کم نہیں کر سکتے
    کیلے: کیلے پوٹاشئیم سے بھر پور ہوتے ہیں اگر آپ زیادہ کیلوں کا استعمال کرتے ہیں تو یہ آپ کے وزن کو بڑھاتے ہیں لیکن اگر آپ روزانہ ایک یا دو کیلوں کا استعمال کریں تو یہ میٹابولزم کی رفتار کو تیز کریں گے اور اسے علاوہ آپ کا جو مسلز خراب ہوتے ہیں اس کو بھی کیلے کے استعمال سے صحیح کیا جا سکتا ہے کیونکہ ان میں پوٹاشیم ہوتا ہے جو کہ آپ کے مسلز کے لئے بہت ضروری ہوتا ہے اور جب آپ اپنا وزن کم کرنے کے لئے ورزش وغیرہ کریں تو کیلوں کا ستعمال لازمی کریں یہ ورزش مسلز کی خرابی یعنی توڑ پھوڑ کو ریکور کرتے ہیں اور آپ کو صحت مند بناتے ہیں اس کے علاوہ کیلوں میں ایسے کمپاؤنڈز ہوتے ہیں جو آپ کو وزن کم کرنے میں مدد دیتے ہیں
    ہری سبزیاں: یہ بات سب ہی جانتے ہیں کہ سبزیاں صحت کے لئے کتنی اچھی ہیں لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اپ وزن کم کر رہے ہیں ڈایئٹنگ کرہے ہیں اور ورزش کے ساتھ ہری سبزیوں کا استعمال نہیں کرتے تو آپ اپنے جسم کو نقصان پہنچاتے ہیں ایک تحقیق میں ثابت ہوا ہے کہ ہری سبزیاں آپ کی ورزش یا ڈایئٹنگ کی آؤٹ کم یا رزلٹ کو دو گنا تک بڑھاسکتی ہیں اگر آپ وزن کم کرنا چاہتے ہیں تو یہ نہ صرف آپ کے جسم میں موجود زہریلے مادوں کو نکالیں گی اس کے علاوہ آپ کے معدے کو فائبر دیں گی اور قبض وغیرہ نہیں ہونے دیں گی اس کے علاوہ سبزیوں میں وٹامن منرلز ہوتے ہیں جو کہ ڈایئٹنگ اور ورزش کے دوران لینا بہت زیادہ ضروری ہوتے ہیں اگر آپ وزن کم کرنا چاہتے ہیں تو صحت مند طریقے سے یہ نہیں کہ آپ ڈائیٹنگ کر کے ورزش کر کے اپنی سکن خراب کر لیں یا جسم کو تباہ کر لیں مسلز میں تو پھوڑ کا عمل شروع ہو جائے یا میٹا بولزم ریٹ تباہ کر لیں اگر آپ ایسا نہیں چاہتے تو ہری سبزیوں کو اپنی روزانہ کے روٹین کا حصہ بنائیں پھر آپ دیکھیں کہ آپ کتنے اچھے اور صحت مندانہ طریقے سے اپنا وزن کم کرتے ہیں یہ وہ غذائیں ہیں جو آپ کا وزن کم کرنے کے دوران آپکی مدد کرتے ہیں

  • خالی پیٹ کونسی غذائیں صحت کے لئے مفید اور کونسی نقصان دہ ہیں

    خالی پیٹ کونسی غذائیں صحت کے لئے مفید اور کونسی نقصان دہ ہیں

    کہتے ہیں کہ ناشتہ ہماری اچھی صحت کے لئے بہت ضروری ہے تاہم کئی لوگ دن میں ناشتہ کرنے کی بجائے سیدھا دن میں کھانا کھانے کو اہمیت دیتے ہیں جس سے کئی افراد کا مکمل دن جسمانی طور پر سستی روی سے گزرتا ہے دنیا بھر کے ڈاکٹروں کا ماننا ہے کہ ناشتی ہماری جسمانی صحت کے لئے بے حد ضروری ہے اور وہ افراد جو ناشتہ نہیں کرتے وہ بڑھتی عمر کے ساتھ کئی مرض میں مبتلا ہو سکتے ہیں لیکن یا آپ جانتے ہیں ایسی بہت سی غذائیں جنھیں نہار منہ کھانا صحت کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے ہم یہاں ان چیزوں کا ذکر کریں گے کہ کون سی چیزیں نہار منہ کھانی چاہیئں اور کن سے پرہیز کرنا چاہیئے
    وہ غذائیں جنھیں نہار منہ نہیں کھانا چاہیئے: نہار منہ پیسٹری اور کیک جیسی غذاؤں سے پرہیز کرنا چاہیئے جو کہ خمیر وغیرہ سے تیار کی جاتی ہیں کیونکہ یہ غذائیں نہار منہ پیٹ کے لئے انتہائی نقصان دہ ہیں ان سے معدے اور آنتوں میں تکلیف اور گئس کے مسائل پیش آ سکتے ہیں
    مٹھائی: صبح اٹھ کے نہار منہ مٹھائی کھانا یا میٹھا کھانا پتے کے لئے نقصان دہ ہے اس کے علاوہ شوگر کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے میٹھا انسولین کی سطح بڑھادیتا ہے جس کے نتیجے میں لبلبے پر بوجھ میں اضافہ ہو جاتا ہے جو بعد میں شوگر کی وجہ بھی بن سکتا ہے
    دہی: دہی ویسے تو بے شمار فوائد سے بھر پور ہے اور بچپن سے ہمیں یہی بتایا اور پڑھایا جاتا ہے کہ خالی پیہٹ دہی کھانے کے بے شمار فوائد ہیں لیکن یورپین ماہرین کی تحقیق سے یہ بات سامنے ہے جو کہ کافی حیران کن ہے اس کا چرچا پاکستانی ڈاکٹرز بھی کر رہے ہیں یورپی ماہرین کے نطابق اگر نیار منہ دہی کھایا جائے تو پیٹ میں ہایئڈروکلورک ایسڈ پیدا ہو سکتا ہے جو آپ کے پیٹ میں موجود لیکٹک ایسڈ بیکٹیریا کو ختم کر دیتا ہے جو آپ کے جسم کے لئے فائدہ مند ہیں اس لئے خالی پیٹ دہی کھانا فائدہ مند نہیں نقصان دہ ہے ناشتہ کرنے بعد چند چمچ دہی کھا لیں یا ناشتے کے بعد 2 گھنٹوں کے اندر دہی کھا لیں یہ آپ کو نہار منہ دہی کھانے سے زیادہ فائدہ دے گا
    امرود: امرود میں خام ریشہ موجود ہو تا ہے جس کو نہار منی کھانے سے بلغم کی جھلی متاثر ہوتی ہے اسی لئے اسے خالی پیٹ کھانا درست نہیں
    ٹماٹر: ٹماٹر میں ٹینک ایسڈ کی کقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جس کو نہار منہ کھایا جائے تو معدے میں تیزابیت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور اس تیزابیت سے گیسٹرک ایسڈ بھی ہو سکتا ہے
    کھیرا یا دوسری ہری سبزیاں: کچی سبزیوں میں امائنو ایسڈ کی مقدار میں پایا جاتا ہے جو خالی معدے کے لئے کافی نقصان دہ ہے ان سبزیوں کو خالی پیٹ کھایا جائے تو سینے میں جلن اور پیٹ درد کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے
    کیلا: خالی ہیٹ کیلا کھانے سے جسم میں میگنیشئم کی مقدار بڑھ سکتی ہے جو کہ خون میں شامل ہو کر دل کے لئے بےحد نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے لیکن ماہرین کے مطابق جسم میں میگنیشیم کی مقدار نقصان دہ تب ہوتی ہے جب آپ ایک ہی دن میں 400 تک کیلے کھا لیں لیکن دنیا میں ایسا ہی کوئی انسان ہو گا جو ایک ہے دن میں اتنی مقدار میں کیلے کھا سکے لیکن پھر بھی احتیاط کریں اور خالی پیٹ کیلا کھانے سے اجتناب کریں
    مصالحے: صبح خالی پیٹ مصالحے دار کھانا کھانے سے معدے اور سینے کی جلن کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اس کے علاوہ مصالحے دار کھانا کھانے سے نظام انہضام کے مسائل بھی پیدا کر سکتے ہیں
    کولڈ ڈرنکس: خالی معدے کولڈ ڈرنکس کا استعمال پیٹ تک پہنچنے والے خون کی رفتار کو ہلکا کر دیتا ہے جس کے باعث کھانے کو ہضم ہونے میں وقت لگتا ہے اور دیگر مسائل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے
    ترش پھل: ترش پھلوں میں پایا جانے والا ایسڈ خالی پیٹ کھانے سے سینے کی جلن کا باعث بنتا ہے اور ان سے گیسٹرک السر کا مسئلہ بھی پیدا ہو سکتا ہے

    نہار منہ کھائی جانے والی غذائیں:
    دلیہ: دلیہ ہائڈرو کلورک ایسڈ سے حفاظت کا کام کرتا ہے دلیہ میں فائبر بھی موجود ہوتا ہے جو کولیسٹرول کی چظھ کو کم کرنے میں کار آمد ہے
    جو کا دلیہ: جو کا دلیہ جسم سے ٹاکسن ایسڈ کی مقدار کم کرتا ہے اسے نہار منہ کھانے سے بہت دیر تک آسودگی کا احساس رہتا ہے
    گندم سیاہ: گندم سیاہ معدے کے لئے نہایت بہترین غذاہے اس میں پروٹین آئرن اور وٹامنز کی کثیر مقدار پائی جاتی ہے
    تخم گندم: تخم گندم جسم میں وٹامنز ای اور فولک ایسڈ پیدا کرتا ہے اس کے علاوہ اس کے استعمال سے نظام ہاضمہ بہتر انداز میں کام کرتا ہے
    انڈے: کئی ڈاکٹروں کے مطابق صبح ناشتے میں انڈا کھانے سے خود بخود کیلوریز میں کمی آتی جاتی ہے
    تربوز: تربوز میں لائیکوپن کی زیادہ مقدار موجود ہے جو آنکھوں اور دل کے لئے موثر ہے
    بلیو بیریز: حالیہ تحقیق کے مطابق بلیو بیریز روزانہ کھانے سے یادداشت بلڈ پٔریشر اور میٹابولزم کے نظام میں بہتری آ سکتی ہے
    خمیر کے بغیر اناج کی روٹی: انج کی روٹی کو کھانا بہترین وقت نہار منہ ہے اس میں کاربوہائیڈریٹ اور دیگر غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں
    میوہ: ناشتے میں میوہ کھانا نظام ہاضمہ بہتر بناتا ہے شہد جس مکو چست رکھنے میں مدد دیتا ہے دماغ کو تیز کرتا اور جسم میں انرجی پیدا کرتا ہے
    ایک برطانوی تحقیق کے مطابق جو لوگ ناشتے میں مخلتف چیزوں کا استعمال کرتے ہیں ان میں کمر بڑھنے یا ًوٹاپے کا امکان 90 فیصد تک بڑھ جاتا ہے جبکہ امراض قلب کا خطرہ بھی ہوتا ہے یہ اشیاء بھی مندرجہ ذیل ہیں
    غذائیت بخش غذا سے دوری : اگر آپ شوگر کے مریض ہیں تو صبح کا ناشتہ تگڑا ہو نا چاہیئے کیونکہ زیادہ اور غذائیت سے بھر پور ناشتے کا استعمال معمول بنا لینا کچھ ہفتوں میں بلڈ شوگر اور بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے کچھ عرے پہلے کی تحقیق کے مطابق پروٹین سے بھر پور ناشتہ بھوک بڑھانے والے ہارمونز کی سطح کم کرتا ہے
    ناشتہ دیر سے کرنا : اگر آپ کو صبح اٹھ کر بھوک نہیں لگتی تو اہنی غذائی عادات کا جائزہ لیں ممکنہ طور پر آپ رات بہت زیادہ کھاتے ہوں گے تاہم اگر صبح بھوک نہ بھی لگے تو بہتر یہی ہے کہ اٹھتے ہی کچھ نہ کچھ کھا لیں چاہے ایک سیب ہی ہو تاکہ جسمانی میٹابولزم اپنا کام شروع کر دے
    جلد بازی: اگر آپ کو دفتر یا کہیں جانے کی جلدی ہے اور کچھ بھی اٹھا کر کھا لیتے ہیں تو یہ عادت آپکا پیٹ بھرنے کے لئے ناکافی ثابت ہوتی ہے جس کے نتیجے میں جلد دوباری بھوک لگنے لگتی ہے اور بازار کی ناقص اشیاء کا استعمال کرتے ہیں جو کہ موٹاپے کا باعث بنتی ہیں جبکہ تیز تیز چبا کر خوراک کو نگلنا بھی نظام ہاضمہ پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے
    چکنائی سے پاک دودھ کا استعمال:چکنائی سے پاک دودھ کا استعمال وزن کم کرنے کے لئے انتہائی موثر انتخاب محسوس ہو تا ہے مگر جسم کو اس صورت میں کیا فائدہ ہوگا جب وہ اسے ہضم ہی نہیں کر سکے گا عام دودھ ناشتے کے لئے زیادہ بہتر انتخاب ہے جبکہ چکنائی سے پاک دودھ دن کے کسی اور وقت استعمال کرنا چاہیئے
    فلیور ملک کا ستعمال : اگر تو آپ فلیور ملک یعنی بادام اور سویا یا ناریل کے دودھ کو عام دودھ کے صحت مند متبادل کے طور پر استعمال کرتے ہیں تو جان لیں کہ اگر ان میں مٹھاس شامل ہے تو کوئی فائدہ نہیں ہوتا لوگ ایسے فلیور ملک کی شکل میں زیادہ شکر جسم کا حصہ بنا لیتے ہیں جس کا انہیں احساس بھی نہیں ہوتا
    پروٹین اور صحت مند چربی سے دوری : پروٹین جسم کو توانائی فراہم کرتی ہے جبکہ صحت مند چربی پیٹ بڑھنے اور بے وقت کی بھوک کی روک تھام کرتی ہے صحت مند چربی اور پروٹین سے بھر پور ناشتہ جیسے گریاں انڈے مکھن اور دہی جسم کے لئے بہترین ثابت ہوتا ہے
    چائے یا کافی کا نہار منہ استعمال: خالی پیٹ چائے یا کافی کا استعمال جسم کے لئے بہت زیادہ تیزابی ثابت ہوتا ہے اور ناشتی کم کھانے پر مجبور کر کے دن بھر میں الم غلم اشیاء کے استعمال پر مجبور کر سکتا ہے اصل میں یہ عادت بھوک کی سطح توانائی کی سطح اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کے لئے تباہ کن ثابت ہوتی ہے

  • آٹا آپ کی جان بھی لے سکتا ہے

    آٹا آپ کی جان بھی لے سکتا ہے

    برصغیر میں تقریباً تمام گھرانوں میں کھانے کے دوران روٹی کو خاص طور پر شامل کیا جاتا ہے صبح دوپہر اور شام روٹی دستر خوان پر لازمی پیش کی جاتی ہے اس کے لئے عورتیں آٹے کو پہلے سے ہی گوندھ کر لیتی ہیں یا تین ٹائم کا آٹا اکٹھا ہی گوندھ کر فریج میں محفوظ کر لیتی ہیں تاکہ جب روٹی بنانی ہو آٹا گوندھنے کا جھنجھٹ نہ رہے اور زیادہ دیر نہ لگے لیکن ایسا کرنے والی خواتین یہ نہیں جانتیں کہ فریج میں رکھا ہوا آٹا کتنا خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ فریج میں رکھا ہوا یہ گوندھا ہوا آٹا مختلف بیماریوں کو گھر میں بلانے کا سبب بن جاتا ہے ماہرین کے مطابق آٹا گوندھتے ہی اسے فوراً استعمال کر لینا چاہئے ورنہ اس میں ایسے کیمیائی بدلاؤ آتے ہیں جو صحت کے لئے نقصان دہ ہوتے ہیں صاف صاف کہا گیا ہے کہ فریج میں آٹا نہ رکھیں کیونکہ اس کے خمیرہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں پھر اس میں آپ کی صحت کے لئے نقصان دہ بیکٹیریا پیدا ہو سکتے ہیں کوشش کریں جتنی روٹیاں بنانی ہوں اتنا ہی آٹا گوندھا جائے چند دن ایسا کرنے سے آپ کی عادت میں شامل ہو جائے گا آپ اینا ہی آٹا گوندھیں گے جتنی آپ کو ضرورت ہو گی اس طرح سے آٹا فریز بھی نہیں کرنا پڑے گا اور مختلف قسم کی بیماریوں کے خطرات بھی نہ ہونے کے برابر ہو جائیں گے

  • رنگ کو گارنٹی کے ساتھ ہمیشہ کے لئے گورا کرنے والا مشروب

    رنگ کو گارنٹی کے ساتھ ہمیشہ کے لئے گورا کرنے والا مشروب

    اگر آپ رنگ گورا کرنا چاہتے ہیں کم وقت میں جلد کو کوئی بھی نقصان پہنچائے بغیر اور بغیر کسی کریم کے تو اس کے لئے گھریلو اور بہترین آزمودہ طریقہ ہے سیب اور چقندر کا جوس جس سے آپ کا رنگ ہمیشہ کے لئے گورا ہو جائے گا اور آپ کی جلد کو کوئی نقصان بھی نہیں پہنچے گا آپ نے تقریباً دو ماہ اس کا باقاعدگی سے جوس پینا ہے جس سے آپ کا رنگ ہمیشہ کے لئے صاف ہو جائے گا اگر آپ نہا منہ یہ جوس نہیں پی سکتیں تو دن میں 11 بجے اس کا جوس لے سکتی ہیں اس کے لئے ایک سیب اور ایک چقندر لیں ان کا جوس نکال لیں جوس نکالنے کے بعد اس کا برادہ بھی ایک برتن میں نکال لیں جوس جادوئی طور پر سکن کو صاف شفاف اور خوبصورت کرے گا یہ جوس روزانہ 11 بجے دو ماہ تک استعمال کریں سیب اور چقندر کا برادہ ایک باؤل میں مکس کریں جتنا آپ نے استعمال کرنا ہے باقی فریج میں محفوظ کر لیں دوبارہ استعمال کے لئے اس میں ایک چائے کا چمچ ایلوویرا جیل شامل کر کے اچھی طرح مکس کر لیں ار چہرے اور ہاتھوں پر لگا کر مساج کر لیں 10 منٹ بعد چہرہ بھو لیں آپ نے اس طریقے کو دو ماہ تک استعمال کرنا ہے اس سے چہرے پر سے چھائیاں جھریاں اور داغ دھبے صاف ہو جائیں گے

  • ایسی چیزیں جنھیں ایک ساتھ کھانا صحت کے لئے انتہائی خطرناک

    ایسی چیزیں جنھیں ایک ساتھ کھانا صحت کے لئے انتہائی خطرناک

    کہا جاتا ہے کہ متوازن اور درست مقدار میں کھانا کھانے والا شخص عمر بھر صحت مند اور ٹھیک ٹھاک رہتا ہے مختلف کھانے ولی اشیاء سے ہمارے جسم کو مختلف قسم کے غذائی اجزاء حاصل ہوتے ہیں اور ہر چیز جو ہم کھاتے ہیں وہ اپنی نوعیت کے مطابق ہمارے جسم پر اثر انداز ہوتی ہے اس طرح دو ایسی اشیاء جو ایک دوسرے کے برعکس ہوں انھیں ایک کے بعد ایک یا ایک ساتھ کھا لیا جائے تو اس کی وجہ سے ہمیں کئی طرح کی سنگین بیماریاں بھی ہو سکتی ہیں اور کچھ اشیاء ایک دوسرے کی اتنی مخالف ہوتی ہیں جن کا استعمال کرنے سے ہمارے جسم میں کبھی بھی ٹھیک نہ ہونے والی بیماریوں کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ جاتی ہیں اور ایسی چیزوں کو ایک ساتھ نہ کھانے والی اشیاءن یا ہم آہنگی کے ساتھ اکٹھا کھانے کی نا قابل خوراک کہا جاتا ہے چائے کے ساتھ بسکٹ یا بریڈ کھانا دودھ کے ساتھ کیلے سلاد میں کھیرے یا ٹماٹر کا ایک ساتھ استعمال اس طرح کی کئی عام اور روزانہ کھائی جانے والی اشیاء اور ایک ساتھ نہ کھائی جانے والی اشیاء میں ہی آتی ہیں اور ہمیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ہمارے جسم میں ہو رہا چھوٹے سے چھوٹا عام مسئلہ چاہے وہ بالوں کا گرنا ہو یا چہرے کا خراب ہونا یا دن بھر تھکان یا سُستی محسوس ہونا یا پیٹ کا خراب ہو جانا زیادہ سے زیادہ بیماریاں آجکل ان کمپیٹ ایبل غذا کی وجہ سے ہی ہو رہی ہیں ایک ساتھ نہ کھائی جانے والی اشیاء آجکل ہر جگہ موجود ہیں اور ان کا استعمال تیزی کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے کیونکہ اپنے سواد کو مختلف اور نیا ذائقہ دینے کے لیئے باہر کے ہوٹلز اور ریسٹورنٹس میں لوگ ایسی چیزیں بناتے رہتے ہیں اور زیادہ تر لوگوں کو اس کے بارے میں صحیح طرح سے معلوم نہ ہونے کی وجہ سے وہ خود بھی مسلسل ایسی چیزوں کا استعمال کرتے رہتے ہیں ہماری باڈی کو صحت مند رکھنے والی اشیاء دودھ انڈا دہی پالک کریلے گھی بادام اور کئی طرح کے پھل بھی ہمارے لئے مہلک ہو سکتے ہیں یعنی انھیں کھانے کے بعد یا پہلے ایسی اشیاء کھا لی جائیں جن کے ساتھ ان کا میل نہ بنتا ہو اگر ہر طرح کی کوشش کرنے کے بعد آپ کا وزن کم نہیں ہو رہا یا سب کچھ کھانے کے باوجود آپکا وزن بڑھتا نہیں ہے اگر کسی بھی طرح کی بیامری سے آپ طویل وقت سے لڑ رہے ہیں لیکن وہ ترھیک نہیں ہو رہی تو ہو سکتا ہے آپ کھانے والی اشیاء کو غلط وقت پر یا غلط اشیاء کے ساتھ کھا رہے ہوں ایسیڈیٹی گیس بد ہضمی بالوں کا جھڑنا سکن الرجی مسے اور سکن پر سفید داغ ہونا سورائسز اگزیما سردی زکام سر درد اور جوڑوں میں درد ہونے کے ساتھ ساتھ گلے میں خراش پھیپھڑے اور گردوں میں کمزوری بواسیر شوگر یہاں تک کہ دل سے متعلق کئی خطرناک بیماریاں صرف ایک ساتھ نہ کھانے والی اشیاء سے ہی ہو سکتی ہیں ایک ساتھ نہ کھائے جانے والی اشیاء درج ذیل ہیں

    دودھ اور دودھ سے بنی ہوئی اشیاء: یہ ایک اینیمل پروٹین ہے یعنی یہ ان چیزوں میں سے ایک ہے جو کہ ہمیں کسی جانور کے ذریعے حاصل ہوتا ہے اور اس طرح کی سب ہی کھانے والی اشیاء جو کسی جانور سے حاصل ہوتی ہیں جیسا کہ انڈا گوشت اور دودھ جیسی اشیاء کا استعمال کرنے کے وقت ہمیں بہت زیادہ احتیاط کرنی چاہیئے کیونکہ یہ وہ اشیاء ہیں جو ہوتی تو صحت مند ہیں لیکن ان کا کمبی نیشن بہت کم چیزوں کے ساتھ کیا جا سکتا ہے دودھ کو کبھی بھی پیاز کیلے نمکین اشیاء کھٹے پھل جیسا کہ اورنج دہی پائن ایپل لیموں مولی گوشت مچھلی اور بینگن ان سبھی اشیاء سے پہلے بعد میں یا ساتھ دودھ کا استعمال نہیں کرنا چاہئے صحت مند رہنے کے لئے دودھ اور کیلے کو ساتھ میں ملا کر پینے کا مشورہ دیا جاتا ہے لیکن جب یہ دونوں چیزیں آپس مین ملتی ہیں تو ایک دوسرے کو ۃضم ہونے سے روکتی ہیں دونوں کا ہضم ہونے کا وقت الگ الگ ہے اسی لئے ہمارے جسم میں ہضم ہونے والی صلاحیت کمزور ہونے لگتی ہے اور ساتھ ہی رات کے وقت نیند صحیح طریقے سے نہ آنے کا مسئلہ بھی ہو سکتا ہے پیاز اور کھٹے پھلوں کو دودھ کا دشمن سمجھا جاتا ہے پیاز اور دودھ ہمارے پیٹ میں ایک دوسرے کے ساتھ مل جائیں تو اس سے کئی طرح کے سکن مسائل جیسا کہ سورائسز اگزیما سکن الرجی اور سفید یا کالے داغ ہو سکتے ہیں اگر کھٹے پھلوں یا جوس کا استعمال دودھ پینے کے ساتھ یا بہت تھوڑی دیر پہلے یا بعد میں کیا جائے تو گیس پیٹ انفیکشن پیٹ میں درد اور پیچش بھی ہو سکتے ہیں انناس کے اندر بروملین انزائم پائے جاتے ہیں جو کہ دودھ کے ساتھ مل جانے سے ہماری باڈی پر اُلٹا اثر کرنے لگتا ہے اور کھانے والی اشیاء سے غذائی اجزاء باہر نکالنے والی صلاحیت کو کمزور بناتا ہے اس کے علاوہ دہی کے ساتھ کیلا گوشت گوشت مچھلی ٹماٹر اور ماش کی دال جیسی اشیاء کے ساتھ دودھ کا استعمال بالکل بھی نہیں کرنا چاہئے اور ساتھ میں دپی کو کبھی بھی بہت زیادہ تیز آگ پر مت پکائیں دہی کے ساتھ زیادہ دیر پھلوں کے ساتھ میل نہیں بن پاتا کیونکہ ٹھنڈا ہونے کی وجہ سے اس میں پھلوں کو ڈال کر کھانے سے ہماری بادی میں کف کی مقدار کو بڑھاتا ہے یہ کف ہمارے پھیپھڑوں میں جم جاتا ہے ماش کی دال اور دہی ایک ساتھ کھانے سے بلڈ پریشر تیزی سے بڑھا دیتا ہے اسی لئے جن لوگوں کو ہائی بلڈ پریشر کا مسئلہ ہے انھیں دہی برے جیسی اشیاء سے دور رہنا چاہیئے اس کے علاوہ رات کے وقت دہی کا استعمال بالکل بھ نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ رات کے وقت دہی کھانے سے کھانا ہضم ہونے کی صلاحیت ک ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے پیٹ سے منسلک بیماریاں ہونے کے چانسز بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں اس کے علاوہ گھی کے استعمال میں بھی تھوڑا سا ہوشیار رہنا ضروری ہے گھی کو کبھی بھی تانبے یا کاپر کے برتن میں نہ رکھیں کیونکہ گھی کا تانبے کے ساتھ میل ہونے پرگھی پوری طرح سے خراب ہو جاتا ہے جوکہ ہماری صحت کے لئے نقصان دہ بن جاتا ہے اسی طرح سے گھی اور شہد کو آپس میں ملا دیا جائے تو یہ زہر بن جاتا ہے اور اس کا استعمال کرنے سے کافی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے سلاد میں کھائی جانے والی کچھ عام اشیاء بھی غلط وقت اور غلط اشیاء کے ساتھ کھانے پر ہماری صحت کے لئے نقصان دہ ہو سکتی ہیں جیساکہ کھیرا اور ٹماٹر یہ دونوں ہی سلاد کے طور پر عام کھائے جاتے ہیں اسی لئے گھر سے لے کر ہوٹل تک کھیرے اور ٹماتر کو سلاد میں کھایا جاتا ہے حال ہی میں کی جانے والی ایک ریسرچ کے مطابق کھیرے اور ٹماٹر میں پائے جانے والے اجزاء ایک دوسرے کے مخالف ہوتے ہیں ساتھ ہی ان کے ہضم ہونے کا وقت الگ الگ ہوتا ہے جوکہ ہمارے پیٹ میں مسئلہ پیدا کرتا ہے ان دونوں کو ساتھ میں کھا لیا جائے تو ان دونوں سے ملنے والے ضروری غذائی اجزا تو ہمیں نہیں ملتے بلکہ اس کی جہ سے پیٹ بھاری ہونے اور پیٹ پھولنے کا مسئلہ کافی زیادہ بڑھ جاتا ہے اسی لئے کوشش کریں کہ کھیرا اور ٹماٹر ایک ساتھ نہ کھائیں کئی لوگ سلاد کا استعمال کھاناکھانے کے بعد کرتے ہیں جو کہ بالکل غلط ہے سلاد ٹھندا ہونے کی وجہ سے کھانے کے ساتھ ہی کھا لینا ضروری ہے کیونکہ کھانا کھانے کے بعد سلاد کھانے سے کھانا ہضم ہونے کی صلاحیت کمزار ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے گیس ور ایسڈیٹی ہو سکتی ہے اگر سلاد میں گاجر استعمال کر رہے ہیں تو اس کے ساتھ لیموں استعمال نہ کریں کیونکہ گاجر میں لیموں کا رس ڈال کر کھانے سے پیشاب سے منسلک مختلف بیماریوں کے خطرات بڑھ جاتے ہیں سلاد میں مولی شامل ہونے پر اسے کھانے کے بعد دودھ یا کیلے کا استعمال نہ کریں شہد کا استعمال گھی مولی اور انگور جیسے پھلوں کے ساتھ نہ کریں اور اسے ایسی چیزوں میں کبھی بھی مکس نہ کریں جنھیں پکایا یا گرم کیا جا رہا ہو کیونکہ شہد پکنے یو گرم ہونے کے بعد صحت کے لئے نقصان دہ ہو جاتاہے کہا جاتاہے کہ سبزی کھانے والے لوگوں کے مقابلے میں گوشت کھانے والے لوگوں میں بیماریاں زیادہ ہوتی ہیں لیکن صرف گوشت استعمال کرنے سے بیماریاں پیدا نہیں ہوتیں بلکہ اسے جب غلط وقت پر غلط چیزوں کے ساتھ کھا لیا جاتا ہے تبھی اس سے کوئی بیماری پیدا ہوتی ہے مچھلی انڈا ار گوشت جیسی اشیاء کے ساتھ دودھ دہی جیسی اشیا بالکل نہیں کھانی چاہیئے اور کسی بھی قسم کے گوشت کو تل کے تیل میں نہیں پکانا چاہیئے بہت سارے لوگ گوشت کے ساتھ آلو اور میدے کے ساتھ بنی اشیاء کھانی پسند کرتے ہیں مثلاً آلو اور میدے سے بنی روٹیاں برگر وغیرہ ان کو ساتھ کھانے سے ذائقہ تو عمدہ لگتا ہے لیکن ان کو اکٹھا کھاناصحت کے لئے نقصان دہ ہے کیونکہ آلو اور میدے میں سٹارچ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے سٹارچ کو ۃضم کرنے کے لئے ہمارے معدے کو الکلیٹک کی ضرورت ہوتی ہے وہیں دوسری طرف گوشت میں پائے جانے والے پروٹین کو ہضم کرنے کے لئے ہمارے جسم کو ایسٹیک کی ضرورت پرتی ہے دونوں کو ساتھ میں کھانے سے ہمارے جسم میں پروٹین تو پوری طرھ سے نہیں پنچ پاتے موٹاپا گیس شوگر اور کولیسٹرول کی مقدار ہمارے جسم میں پہلے سے زیادہ بڑھنے لگتی ہے جو کہ شوگر اور دل سے متعلق بیماریوں کے جنم دیتی ہے جب بھی آپ کھانا کھائیں یا کھانا کھانے کے ساتھساتھ یا کھاناکھانے کے بعد ٹھنڈی چیزیں جیساکہ کولڈ ڈرنک آئس کریم یا پھر بہت زیادہ گرم چیزیں چائے اور کافی کا استعمال بالکل بھی نہ کریں کیونکہ ایسا کرنے سے کھانے سے ملنے والے غذائی اجزا تو ختم ہوتے ہیں لیکن کھانا بھی صحیح طرح سے ہضم نہیں ہو تا کبھی بھی چائے یا کافی جیسی گرم تاثیر والی اشیاء کا استعمال کر نے کے بعد ٹھنڈا پانی یا کھٹے اور پانی والے پھلوں کا استعمال بالکل بھی نہ کریں کیونکہ ایسا کرنے سے گلے کا انفیکشن اور کھانسی ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں

  • وٹامن ڈی کی کمی خاموش قاتل

    وٹامن ڈی کی کمی خاموش قاتل

    وٹامن ڈی کی کمی بلڈ پریشر بڑھانے کا باعث بنتی ہے یمری جارجیا ٹیک پریڈ کٹو ہیلتھ انسٹیٹیوٹ میں کی جانے والی تحقیق کے مطابق وٹامن ڈی کی کمی کی وجہ سے شریانوں میں سے لچک کم ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے وریدیں بھی سکون کی حالت میں نہیں آ پاتیں اس تحقیق میں ماہرین اس نتیجے پر بھی پہنچے کہ امراض قلب کا اہم سبب وٹامن ڈی کی کمی ہو تی ہے دل کے عضلات اس وٹامن کی کمی کی وجہ سے اپنے افعال ٹھیک طریقے سے ادا نہیں کر پاتے ہیں جس کی وجہ سے ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے اس تحقیق کے لئے ایسے افراد کا انتخاب کیا گیا جو پہلے سے ہی د ل کر مرض میں مبتلا تھے یا ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا تھے ان افراد کے جسم میں وٹامن ڈی کی کمی واضح طور پر محسوس کی گئی بعد میں ان جو وٹامن ڈی پر مشتمل خوراک فراہم کی گئی جس کے بعد ان کی مجموعی صحت اور بلڈ پریشر پہلے کے مقابلے میں کافی بہتر ہو گیا اسی تحقیق میں 800 سے زیادہ افراد جن کی عمریں پینتالیس سال تھی انھیں منتخب کیا گیا بعد از تحقیق پتہ چلا کہ عمر بڑھنے کے بعد انسانی جسم میں وٹامن ڈی کی کمی ہونے لگتی ہے جس کی بنا پر ہی بلڈ پریشر اور امراض قلب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ماہرین کے مطابق اگر تیس برس کی عمر سے زائد افراد اپنی غذا میں وٹامن ڈی کی مقدار کا خاص خیال رکھیں تو عین ممکن ہے کہ بلڈ پریشر کا نظام معمول کے مطابق رہے اور بلڈ پریشر نارمل رہے اور بلڈ پریشر نارمل رہنے کی صورت میں امراض قلب کا خطرہ بہت کم ہو جاتا ہے

  • وٹامن ڈی کی کمی کے انسانی جسم پر اثرات

    وٹامن ڈی کی کمی کے انسانی جسم پر اثرات

    ہم اپنی روزمرہ زندگی میں اتنے مصروف ہو گئے ہیں کہ جب تک ہمارے جسم میں کوئی بیماری پیدا نہ ہو تو ہم خود پر توجہ نہیں دیتے حالانکہ ہم یہ بات جانتے ہیں کہ ایسا کرنا درست عمل نہیں 24 گھنٹے مصروف رہنے کے لئے ہمیں بہت ساری توانائی کی ضرورت رہتی ہے جو صرف اور صرف اچھی غذا کھانے سے ہی مل سکتی ہے لیکن اب بھاگم دوڑ اور مصروفیت کی وجہ سے اچھے طریقے اور ٹائم سے غذا نہیں کھاتے اس غذائی قلت کی وجہ سے ہمارے جسم میں بہت سے وٹامنز اور منرلز کی کمی ہو جاتی ہے اور ہم کمزور پر جاتے ہیں ہمارا امیون سسٹم یعنی قوت مدافعت بھی کمزور ہو جاتی ہے اور ہم با بار بیمار پڑ جاتے ہیں لیکن کیا کبھی ہم نے یہ سوچا ہے کہ آخر وہ کونسی علامات ہیں جن سے ہم اس بات کا اندازہ لگا سکیں کہ ہمارے جسم میں کس چیز کی کمی ہے اگر تھوڑی سی کوشش کر لی جائے اور اپنا کھانا پینا ہی تبدیل کر کے اور ٹائم پر کھانے سے آپ ان وٹامنز کو بڑی آسانی سے گھر پر ہی پورا کر سکتے ہیں اور بیماریوں سے پاک بھر پور صحت مند زندگی کا مزہ لے سکتے ہیں ان وٹامنز میں سب سے اہم وٹامن ڈی ہو تا ہے ہمارے جسم کا ڈھانچہ ہڈیوں کا بنا ہے جو ہمیں اٹھائے کھڑا ہے اگر ہڈیوں میں وٹامن ڈی کی کمی ہوگی تو ہماری ہڈیاں کمزور ہو کر ٹوٹ بھی سکتی ہیں لہذا ہمیں اس اہم وٹامن کو کبھی کم نہیں ہونے دینا چاہئے اور ہمیشہ اسے پورا رکھنا چاہیئے مندرجہ ذیل علامات میں سے کوئی بھی علامت موجود ہے تو آپ کو فوراً وٹامن ڈی کا ٹیسٹ کروانا چاہیئے اور اس کمی کو فوری طور پر پورا کرنا چاہیئے تا کہ آپ ایک صحت مند زندگی گزار سکیں سب سے پہلی علامت یہ ہے کہ آپ کو ہڈیوں میں درد رہے گا کیونکہ وٹامن ڈی کی کمی کی وجہ سے ہماری ہڈیاں غذاؤں سے حاصل شدہ کیلشئیم جذب نہیں کر پاتیں اور حاصل شدہ کیلشئم ہمارے جسم میں جذب ہوئے بغیر ہی خارج ہو جاتا ہے جبکہ کیلشیئم ہماری ہڈیوں کا اہم حصہ ہوتا ہے اس لئے آپ کو بھر پور وٹامن ڈی لینا چاہیئے اور کیلشئیم سے بھر پور غذاؤن کا بھی استعمال کرنا چاہیئے تاکہ آپ کی ہڈیاں مضبوط رہیں اور ہڈیوں کی کمزوری اور بھُر بُھرے پن سے بھی محفوظ رہیں وٹامن ڈی کی کمی نہ صرف ہماری ہڈیوں پر اثر انداز ہوتی ہے بلکہ ہمارے مسلز یعنی پٹھے بھی کمزور ہو جاتے ہیں وتامن ڈی کی کمی سے ہمارے پٹھوں میں کھنچاؤ اور درد رہتا ہے اس کے لئے وٹامن ڈی کو ٹیسٹ ضرور کروائیں ایسی غذائیں استعمال کریں جو وٹامن ڈی سے بھر پور ہوں اس کے علاوہ آپ کو بہت زیادہ پسینہ آتا ہے تو یہ بھی جسمانی کمزوری کی علامت ہے لیکن اگر آپ کو سر پر بہت زیادہ پسینہ آتا ہے تو آپ کو وٹامن ڈی کی کمی کا بہت زیادہ سامنا ہے اپنا کھانا پینا ٹھیک کریں اور زیادی سے زیادہ وٹامن ڈی حاصل کریں کیونکہ سر پر پسینہ آنا بھی وٹامن ڈی کی کمی کو ظاہر کرتا ہے کمزور مدافعت نظام یعنی اگر آپ بار بار بیمار پڑ جاتے ہیں تو یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپکے جسم کا امیون سسٹم کمزور ہے اگر ہم مناسب مقدار میں وٹامن ڈی لیں تو ہمارا مدافعتی نظام بہتر ہوگا اور ہم کم سے کم بیمار پڑیں گے ہم اکثر اپنی مصروف زندگی کی وجہ سے تھکاوٹ اور ننید کی کمی کا شکار رہتے ہیں جو لوگ ہر وقت تھکے تھکے اور نڈھال رہتے ہیں اس کی بھی بڑی وجہ وٹامن ڈی کی کمی ہے اگر جسم میں وٹامن ڈی کی مقدار پوری کردی جائے تو تھکاوٹ اوت کمزوری رفتہ رفتہ کم ہو کر ختم ہو جاتی ہے اور انسان خود کو فٹ اور چست و توانا محسوس کرتا ہے وٹامن ڈی کی کمی کی وجہ سے جسم پر زخم بھی جلدی ٹھیک نہیں ہوتے شوگر کے مریضوں میں یہ مسئلہ عام ہے وٹامن ڈی کی کمی کی وجہ سے جسم میں شوگر اور کولیسٹرول کا توازن بگڑ جاتا ہے اگر ایسے لوگوں کو وٹامن ڈی کا استعمال کروایا جائے تو زخم جلدی سے ٹھیک ہونے لگتے ہیں اگر بال کمزور ہو رہے ہوں اور گر رہے ہوں تو یہ بھی وٹامن ڈی کی کمی کی وجہ سے ہے وٹامن ڈی کی کمی بالوں کی نشونما کو روکتی ہے اس سے چھٹکارا پانے کے لئے وٹامن ڈی کی کمی کو پورا کریں وٹامن ڈی کی کمی بے چینی اور ڈپریشن کا بھی باعث بنتی ہے ہمارے نیورو ٹرانسمیٹر کچھ ایسے ہارمونز خارج کرتے ہیں ان ہارمونز کی کمی کی وجہ سے بے چینی اور ڈپریشن ہوتی ہے وٹامن ڈی کی کمی کی وجہ سے یہ ہارمونز کم بنتے ہیں اس لئے ہم بے چینی اور ڈپریشن کا شکار رہتے ہیں ایسے لوگ چڑچڑے پن کا شکار رہتے ہیں ایسے لوگ کتنے ہی خوش اور اچھے موڈ میں بھی ہوں چھوٹی سی بات کو بتنگر بنا کر پریشان ہو جاتے ہیں ایسے لوگوں کو بہت زیادہ نیند بھی آتی ہے وٹامن ڈی اور وٹامن ڈی 3 کی کمی کی وجہ سے ہمارے جسم میں ہر وقت چڑ چڑے پن کا ماحول بنا رہتا ہے وتامن ڈی کی کمی کو پورا کر کے ان سب چیزوں سے بچا جا سکتا ہے اگر ان میں سے کوئی بھی علامت آپ کو نظر آئے تو وٹامن ڈی کو تیسٹ ضرور کروائیں اپنا طرز زندگی تبدیل کریں اپنی روزمرہ خوراک میں ایسی غذاؤں کا استعمال ضرور کریں جن میں وٹامن ڈی ہوں کبھی بھی وٹامن ڈی کی کمی کو غیر سنجیدگی سے نہ لیں بلکہ وٹامن ڈی کا حصول ممکن بنائیں اور کسی مستند ڈاکٹر سے بھی ضرور رجوع کریں

  • کیا آپ کو بریسٹ کینسر ہے خود سے معائنہ کریں

    کیا آپ کو بریسٹ کینسر ہے خود سے معائنہ کریں

    انسانی جسم میں ہونے والے تمام خطرناک سرطانوں میں سے چھاتی کا سرطان بھی ایک ہے جو ہر روز پوری دنیا میں لاکھوں خواتین کو متاثر کر رہا ہے اور عورتوں میں شرح اموات کے اضافے میں ایک بہت بڑا سبب بنا رہا ہے اگر چھاتی کے سرطان کی تشخیص اس کے ابتدائی مراحل میں ہو جائے تو 98 فیصد مریضوں کا علاج ہو سکتا ہے اب پاکستان میں بھی اس کی شرح میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے چھاتی کے سرطان کے باعث ہونے والی تبدیلیوں کی نشاندہی کے لیے بریسٹ کا با قاعدگی سے معائنہ بے حد ضروری ہے اس معائنے سے سرطان کا ابتدا میں ہی سراغ لگایا جا سکتا ہے اور فوری علاج کے ذریعے سرطان کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے اس سلسلے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک متحد اندازے کے لحا ظ سے اس وقت پاکستان میں ایک لاکھ خواتین میں ہر 74 خواتین کو بریسٹ کینسر ہو رہا ہے یہ شرح انڈیا سے کہیں زیادہ ہے اور اس میں جو سب سے اہم بات وہ یہ ہے کہ پاکستان جن خواتین کو بریسٹ کینسر تشخیص ہو تا ہے وہ خواتین زیادہ تر ینگ ہو تی ہیں اور جوان بچوں کی مائیں ہوتی ہیں چھاتی کے سرطان سے جسم میں جو تبدیلیاں آتی ہیں اگر اس کو پہلے ہی معائنہ کیا جائے اور اس کو ابتدا میں تشخیص کیا جائے تو اس کا علاج بہت آسان ہو جاتا ہے اگر کسی خاتون کو اپنی چھاتی میں ایسا سمٹم محسوس ہو اجیسا کہ درد محسوس ہونا کوئی گلٹی محسوس ہونا پانی آنا یا بریسٹ پر سرخی محسوس ہو نا تو وہ ان علامات کو نظر انداز نہ کریں اگر ان میں سے کوئی ایک بھی علامت ظاہر ہو تو فوراً ڈاکٹر کے پاس جا کر معائنہ کروائیں یا اس میں پہلے آپ اپنے آپ کو دیکھتے ہیں کہ د یکھنے سے کیا تبدیلی محسوس ہو تی ہے اپنے آپ کو آیئنے میں دیکھیں کہ دونوں بریسٹ کا سائز ایک ہی ہے اگر ایک کے سائز میں اضافہ ہو رہا ہے تو وہ بھی ایک علامت ہو سکتی ہے بریسٹ کاحصہ اندر کی طرف دھنس رہا ہے یا زخم ہے جو مسلسل ٹھیک نہیں ہو رہا یااگر کوئی بھی حصہ اندر کی طرف دھنس رہ ہے یا پورا کھال میں آپ کو سوجن نظر آرہی ہے جیسے کہ نارنجی کے چھلکے ہوتے ہی‌یا بغل میں آپ کو کوئی موٹے گلینڈز نظر آئیں یہ ساری علامات کینسر کا باعث ہو سکتی ہیں اس صورت میں ڈاکٹر کو دکھانا ضروری ہے کہ ان عوامل میں سے کسی ایک کی بھی موجودگی کا مطلب یہ ہے کہ آپ چھاتی کے سرطان بریسٹ کینسر میں مبتلا ہیں اور کسی بھی تبدیلی کے بارے میں اپنے ڈاکٹر کو ضرور بتائیں کسی بھی ممکنہ تبدیلی کے پیش نظر آپ کا کلینکل معائنہ کیا جائے گا اور آپ کی چھاتیوں کا ایکسرے جسے میموگرام کہتے ہیں کیا جائے گا وہ عوامل جن کے بنا پر چھاتی کے سرطان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ان میں وہ خواتین جن کے پیریڈز جلدی عمر میں شروع ہو جاتے ہیں اور دیر سے ختم ہوتے ہیں تاکہ ان کے جو منتھلی سائکلز ہیں ان کو لمبے عرصے کے لئے ملتے ہیں وہ بھی ایک وجہ ہو سکتے ہیں جن لوگوں کا پہلا بچہ دیر سے پیدا ہوتا ہے پینتیس سال کے بعد یا وہ خواتین جن کی اولاد نہیں ہوتی ان کو بھی بریسٹ کینسر ہونے کا رسک بڑھ جاتا ہے جن کی فیملی میں کسی کو بریسٹ کینسر ہو یہ بھی ایک بہت اہم رسک فیکٹر ہوتا ہے یہاں فیملی سے مراد ماں بہن ان کو یہ کینسر ہونے سے رسک بڑھ جا تا ہے جیسے جیسے خواتین کی عمر بڑھتی ہے عموماً پچاس سال کے بعد بریسٹ کینسر ہونے سے رسک بڑھ جاتا ہے اگر کسی نے ہارمون تھراپی لی لو عموماً مینوپول ہونے جے بعد سائیکلز ختم ہونے کے بعد کچھ خواتین ہارمون لیتی ہیں اپنے آپ کو ینگ رکھنے کے لئے یا ایسی علامات ہو تی ہیں ان کے لئے ہارمون تھراپی لیتی ہیں اگر اس کا بہت زیادہ استعمال کیا جائے تو اس سے کینسر کا رسک بڑھ جاتا ہے جو خواتین جو پہلے کسی بریسٹ سرجری کروا چکی ہوں یہ ضروری نہیں بلکہ ہر قسم کی وہ سرجری جس کی بائی اوپسی میں کسی قسم کا کوئی رسک آیا تھا ان کو بھی کینسر ہانے کا چانس زیادہ ہو سکتا ہے جو خواتین کسی وجہ سے کسی عمر میں کسی بھی بیماری کی وجہ سے اس پر ریڈی ایشن لگوا چکی ہوں ان کا رسک بڑھ جاتا ہے جن خواتین کا وزن زیادہ ہو یعنی موٹاپا بھی اس کی وجہ بن سکتا ہے جن خواتین کو ایک طرف بریسٹ کینسر ہو چکا ہو دوسری طرف بھی کینسر ہو سکتا ہے سگریٹ اور الکوحل کا استعمال بھی وجہ بن سکتا ہے اگر عمر پچاس سال سے زیادہ ہو تو سال میں ایک نرتبی میمو گرافی ضرور کروائیں اس مہلک بیماری سے بچنے کو بہترین طریقہ یہ ہے کہ اپنا معائنہ خود کیا جائے آپ ہر ماہ اپنی چھاتیوں کا معائنہ خود کریں اگر کوئی تبدیلی محسوس ہوتی ہے تو ڈاکٹر سے فوراً رجوع کریں کیونکہ بروقت تشخیص ہی علاج کی ضمانت ہے چھاتی کے سرطان کی تشخیص کے تین طریقے ہیں ایک ڈاکٹری معائنہ اس سے ایک ماہر ڈاکٹر معائنہ کر کے کسی حد تک اندزہ لگا لیتے ہیں گلٹی کی ساخت دیکھ کر یا جو بھی بریسٹ میں تبدیلی آتی ہے آیا کہ یہ تبدیلی کینسر کا باعث ہے یا نہیں ہے دوسرا طریقہ ایکسرے ہیں بریسٹ کا اسپیشل ایکسرا جس کو میمو گرام کہتے ہیں اس سے اندازہ لگا لیتے ہیں کہ یہ کینسر کی گلٹی ہے یا نہیں ہے میمو گرام عام طور پر دو سال پہلے تشخیص کر لیتا ہے جبکہ گلٹی اتنی چھوٹی ہے کہ انسانی انگلیاں اسے محسوس نہیں کر سکتی اپنے آپ کو آیئنے میں اچھے طریقے سے دیکھنے کے بعد آپ اپنی بریسٹ کو اپہنے ہاتھوں سے فیل کر کے دیکھیں کہ کوئی گلٹی تو نہیں معلوم ہو رہی دائیں بریسٹ کا معائنہ بائیں ہاتھ سے کرتے ہیں جبکہ بائیں بریسٹ کا معائنہ دائیں ہاتھ سے کرتے ہیں جس بریسٹ کو دیکھنا ہو وہ ہاتھ اوپر لے جا کر رکھئے اور اپنی انگلی کے 3 پوروں سے فیل کر کے دیکھیں کہ کہیں گلٹی تو نہیں فیل ہو رہی ہے باہر کی طرف سے دیکھتے ہوئے پیچھے کی طرف آئیں تاکہ پوری بریسٹ کا صحیح طرح سے معائنہ ہو سکے آخر میں درمیان میں دیکھیں پھر دیکھیں اس میں سے کچھ ڈسچارج تو نہیں ہو رہا اس طریقے سے آپ بریسٹ کا کوےئ بھی حصہ مس نہیں کریں گے بریسٹ کو دیکھنے کے بعد بغل میں چیک کریں کوئی گٹھلی تو محسوس نہیں ہو رہی ہے یہی عمل ایک بریسٹ میں کرنے کے بعد دوسرے ہاتھ سے دوسری بریسٹ میں کریں اگر کوئی گلٹی آپ کو محسوس ہوتی ہے تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ پتی نہیں یہ گلٹی یا تبدیلی آپ کو محسوس ہوئی ہے یہ کسی سرطان کا باعث ہے یا ویسے ہی ہے یاد رکھیں کہ 10 میں سے 9 گلٹیاں بےضرر ہوتی ہیں آپ کو جب کوئی گلٹی یا تبدیلی محسوس ہو تو اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں بہت سی خواتین جن میں اس بیامری کی تشخیص جلد ہو گئی ان کے بروقت علاج کی وجہ سے بالکل ٹھیک اور صحتمند ہو گئیں
    خود سے معائنہ کرنے کے مندرجہ ذیل طریقے ہیں
    آئینے میں دیکھ کر
    سپرش معائینہ ،دائرہ کا طریقہ ،لائن میتھڈ ،اور ویج میتھڈ

  • منہ کے کینسر کی علامات اور اس سے بچاؤکی حفاظتی تدابیر

    منہ کے کینسر کی علامات اور اس سے بچاؤکی حفاظتی تدابیر

    پاکستان میں سب سے زیادہ منہ کا کینسر پایا جاتا ہے اور 90 فیصد لوگ اس سے مر جاتے ہیں انسانی جسم میں سیلز یا ٹشوز کی ابنارمل اور ان کنٹرول گروتھ کو کینسر کہتے ہیں یہ اپنے اردگرد کے ٹشوز کو تباہ کر دیتے ہیں خوبن کے دورانیہ کے ساتھ یہ پورے جسم میں پھیل جاتے ہیں اور کسی ایک جگہ رک کر یہ رسولی کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور بڑھنا شروع ہو جاتے ہیں منہ کے کینسر کی 9 اقسام ابھی تک سامنے آ چکی ہیں منہ کے کینسر میں مبتلا لوگوں سے کھانا پینا بہت مشکل ہو جاتا ہے منہ کے کینسر کی تنبیہی علامات:
    اگر مندرجہ ذیل علامات دو ہفتے یا زائد عرصہ رہیں تو اور کسی علاج سے بھی افاقہ نہ ہو تو ڈینٹسٹ سے رابطہ ضروری ہو جاتا ہے
    تنبیہی علامات: منہ کے اندرونی حصوں یا ہونٹوں پر کسی بھی قسم کے نشان مثلاً سرخ سفید دھبے جو کہ ہونٹوں اندرونی گال تالو یا زبان پر نمودار ہو جائیں چاہے یہ تکلیف دہ بھی ہوں تو قابل تشویش ہیں بعض اوقات زبان یا اندرونی گال پر سفید دانہ نکل آتا ہے اور کئی مرتبہ درد کی وجہ بنتا اسے کینکر سور کہتے ہیں عام طور پر یہ کینسر کا سبب نہیں بنتا لیکن پھر بھی چیک اپ ضروری ہے اندرونی گال زبان کے اوپر یا نیچے سفید دھبے ظاہر ہوتے ہیں
    زبان کی کینسر: اس میں زبان پر سب سے پہلے ایک دانہ یا ابھار نکلتا ہے اس میں سوزش پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے زبان موٹی ہو جاتی ہے بات کرنے میں پریشانی ہوتی ہے زبان کی جھلی اترنا شروع ہو جاتی ہے یہ سب زبان کے کینسر کی نشانیاں ہیں
    نچلے ہونٹ کا کینسر: نچلے ہونٹ کے کینسر کی سب سے بڑی وجہ سگریٹ اور سگھار کا استعمال ہے اس کے پائپ سے جب گھواں اندر جاتا ہے تو پہلے ہونٹ کالے ہوتے ہیں پھر ان پر زخم بن جاتے ہیں اور یہی زخم کینسر کی شکل اختیار کر جاتے ہیں اس کا دھواں پھیپھڑوں کے کینسر کی وجہ بنتا ہے پھیپھڑوں میں دھواں جم جاتا ہے اور کینسر کی وجہ بنتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر میری امت کو دشواری نہ ہوتی تو ہر نماز سے پہلے مسواک کا حکم دیتا مسواک منہ لو صاف کرتی ہے اور کینسر سے بچاتی ہے کینسر ہونے کی ایک بڑی وجی منہ کی صفائی نہ کرنا بھی ہے گوٹکہ اور پان کا استعمال بھی کینسر کی ایک بڑی وجہ ہے اور اس سے ہونے والے کینسر سے انسان کی موت جلد واقع ہو جاتی ہے
    منہ کے کینسر کا علاج:چھوٹی الائچی کو جتنا زیادہ ہو سکے منہ میں ہر وقت چباتے رہیں اس کے علاوہ کاکرا سنگھی چھوٹی الائچی کے دانے لود گجراتی کتھ سفید زیرہ سفید طباشیر سنگ جراہت کو 10 ،10 گرام لے کر پیس لیں اور اس سفوف کو منہ کے اندر لگائیں منی میں لعابی جھلی کے کینسرسے بچاؤ کے لئے چھوٹی الائچی کے دانے کباب چینی کتھ سفید طباشیر ان سب کو ہم وزن لے کر پیس لیں منہ میں جہاں بھی زخم تو وہاں لگائیں اس سے آپ کینسر سے بچ سکتے ہیں یہ کینسر سے بچنے کی آسان اور سستی ترین تدبیر ہے