Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • پاؤں کی موچ کا گھریلو علاج

    پاؤں کی موچ کا گھریلو علاج

    پاؤں میں اگر موچ آ جائے تو چلنا محال ہو جاتا ہے لہذا پاؤں کے جس حصے میں موچ آ جائے تو اسے گرم پانی سے دھوئیں یا ٹکور کریں دیسی انڈے کی زردی میں تھوڑا سا گیرو پیس کر ملائیں اور ہلکا گرم کر کے اسکا لیپ کریں پھر روئی سے سکائی کر لیں فوری افاقہ ہوگا یا تلوں کی کھلی ہاون دستے میں کوٹ کر پانی میں پکائیں اور گرم گرم موچ پر باندھ دیں چند دنوں کے بعد افاقہ ہوگا اور چال بھی نارمل ہو جائے گی اس کے علاوہ نمک اور سرسوں کے تیل کو گرم کر کے موچ والے حصے پر مالش کر کیں اوپر سے کپڑے سے باندھ کر رات کو سو جائیں فوراً آرام مل جائے گا

  • صاف ستھرے اور پُرکشش پاؤں شخصیت کا آئینہ

    صاف ستھرے اور پُرکشش پاؤں شخصیت کا آئینہ

    بلاشُبہ نرم وملائم اور خوب صورت پاؤں شخیت کو چار چاند لگا دیتے ہیں اس کے برعکس اگر ان پر توجہ نہ دی جائے تو یہ دیکھنے میں انتہائی بد نُما لگتے ہیں کہتے ہیں اگر کسی کی ژخصیت کا اندازہ لگانا ہو تو اس کے پاؤں پر نظر ڈالی جائے کہ پاؤں شخصیت کے کئی راز ظاہر کر دیتے ہیں اس لئے جہاں چہرے اور ہاتھوں کی خوبصورتی کا خیال رکھا جاتا ہے وہاں پیروں کو بھی ہر گز نظر انداز نہ کیا جائے موسم چاہے کوئی بھی ہو سب سے پہلے پاؤں خصوصاً ایڑیوں پر اثر انداز ہوتا ہے پاؤں کی جلد موسمی اثرات سب سے پہلے قبول کرتی ہے صرف سرد موسم میں ہی نہیں گرم موسم میں بھی پاؤں کی جلد اکثر پھٹ جاتی ہے جس کے لئے عرق گلان کے ایک گلاس میں گلیسرین کے دو بڑے چمچ اور ایک بڑا چمچ لیموں کا رس نچوڑ کر اچھی طرح مکس کر کے کسی صاف ستھری شیشی میں بھر کر رکھ لیں یہ محلول روزانہ رات کو سوتے وقت پیروں پر ملیں کچھ ہی دنوں میں پھٹی ہوئی جلد ٹھیک ہو جائے گی پاؤں کی تھکاوٹ اور بد نُمائی دور کرنے کے لئے ایک چھوٹے ٹب میں گرم پانی لیں اور اس میں تھوڑا سانمک ملا کر 20 منٹ تک اس میں پاوں ڈبوئے رکھیں پھر جھانوٰن کے ساتھ صاف کر لیں اور کوی سی بھی کریم لگا لیں روزانہ یہ عمل کرنے سے پاؤں نرما ملائم اور پُر کشش ہو جائیں گے اگر پاؤں کی جلد میں کٹ کے نشان ہیں تو موم اور تیل گرم کر کے لگائیں اور موزے پہن لیں سرسوں کے ہلکے گرم تیل سے مساج کرنے سے بھی پاؤں صاف ہو جاتے ہیں بند جوتے پہننے سے پاؤں سے ایک عجیب سے بُو آنے لگتی ہے اس سے نجات کے لئے نیم کے پتوں کو سُکھا پاؤڈر بنا لیں اور روزانہ جُوتے یا پاؤں پر چھڑک لیں بُو نہیں آئے گی وہ افراد جو 5 وقت وضو کرتے ہیں ان کے پاؤں سے میل دور ہو جاتا ہے صبح کی نماز کے بعد ننگے پاؤں گھاس پر 10 منٹ کے لئے ٹہلیں جرابیں روزانہ دھو کر استعمال کریں جۃتوں کو بھی دُھوپ میں رکھیں پھر ٹالکم پاؤڈر چھڑک کر استعمال کریں اگر پاؤں پر جُوتے سے دھبے پڑ جائیں تو گلیسرین کے چار بڑے چمچ اور لیموں کے عرق کا ایک بڑا چمچ ملا کر کسی بوتل میں بھر لیں اور روزانہ ان دھبوں پر مالش کریں اور تھوڑی دیر بعد پاؤں دھو لیں ایک ہفتے میں پاؤں ٹھیک ہو جائیں گے ععام طور پر پاؤں میں نمی رہنے سے فمگل انفیکشن ہو جاتا ہے جس سے پاؤں کی انگلیوں کی درمیانی جلد سفید ہو جاتی ہے اور خرش ہونے کے ساتھ درد بھی ہو تا ہے اس سے نجات کے لئے پاؤں دھونے کے بعد انگلیوں کے درمیانی حصے کو اچھی طرح صاف کر لیں تاکہ نمی نہ رہے اور باہر سے آنے کے بعد پاؤں کو اچھی طرح دھو لیں تاکہ ان پر ست جمی میل مٹی گرد دُھول اور پسینہ اچھی طرح صاف ہو کر پاؤں نرم و ملائم دکھائی دیں

  • املتاس ایک کرشماتی پودا

    املتاس ایک کرشماتی پودا

    املتاس جسے عرف عام میں شاہی درخت اور راجہ تارو بھی کہا جاتا ہے زمانہ قدیم ہی سے صحت کے لئے مفید قرار دیا گیا ہے پاکستان میں املتاس کا درخت عام پایا جاتا ہے اس کے پھل پتے جڑیں اور تنے سب ہی بے پناہ افادیت کی حامل ہیں مثلاً فالج کے مریضوں کے لئے پتوں کا رس اور مالش مفید ہے اس کے علاوہ پتے سوجن درد اور حدت دور کرتے ہیں زکام میں املتاس کی جڑیں جلا کر اس کا دھواں سونگھنے سے فاسد مادے خارج ہو جاتے ہیں کھانسی سے نجات کے لئے املتاس کی پھلی سے سیاہ ٹکیاں نکال کر چوسنے سے افاقہ ہوتا ہے بچوں کو اگر اپھاڑے کی شکایت ہو جائے تو اس کا گودا پیس کر عرق بادیاں میں ملا کر ناف کے چاروں طرف اور پیٹ کے نچلے حصے پر لیپ کرنے سے آرام و سکون ملتا ہے ریاح کی تکلیف میں مبتلا بچوں کے لئے املتاس کا گودا ناف کے گرد باندھنے سے شفا ملتی ہے السی یا بادام کے تیل میں ملا کر پیٹ پر مالش کرنے سے پاخانہ جاری ہو جاتا ہے املتاس کا گودا زبان کی حس ذائقہ ختم ہونے پر بہت مفید ہے اس کیفیت کے لئے 24 گرام گودے کا ایک چوتھائی گرم دودھ میں ملا کر ماؤتھ واش کرنے سے افاقہ ہوتا ہے

  • رحمان ڈھیری پاکستان کا قدیم ترین شہر

    رحمان ڈھیری پاکستان کا قدیم ترین شہر

    آج سے پانچ ہزار سال قبل جب وادی نیل اور دجلہ فرات میں تہذیب کا ارتقاء ہو رہا تھا وادی سندھ یعنی موجودہ پاکستان کی سرزمین نے ایک عظیم تہذیب کو جنم دیا تھا چونکہ اس تیذیب کی تمام اہم بستیاں اور شہر دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کے کنارے آباد تھے اس لئے اس کو وادی سندھ کے نام سے پُکارا جاتا پے وادی سندھ کی تہذیب کو قدیم میساپوٹیما اور مصر کی تہذیبوں پر کئی لحاظ سے فوقیت حاصل تھی انسانی تہذیبوب میں وادی سندھ کی تہذیب کا نکردار خاصآ اہم رہا ہے اپنے دور عروج پر یہ تہذیب میسوپوٹیما سے کئی گنا زیادہ تھی یہ ہمالیہ سے جمنا تک 13 لا کھ مربع کلو میٹر تک پھیلی ہوئی تھی اور اس لحاظ سے کوئی آٹھ سو میل چوڑا ساحل سمندر بحر ہند سے لے کر آبنائے ہرمز تتک پھیلا ہواتھا بحری تجارت کے ذریعے عرب امارات دجلہ فرات ساحل ایران اور کویت تک تعلق قائم کئے ہوئے تھا اسی طرح مغرب و شمال مغرب میں سلسلہ ہائے کوہ ہندوکش اور بلوچستان کے دروں کے ذریعے افغانستان ایران اور وسط ایشیاء سے اس کے تجارتی تعلقات قائم تھے وادی گومل میں رحمان ڈھیری کی دریافت اور اس کی تحقیق آثار قدیمہ کی تاریخ میں خاصی اہمیت رکھتی ہے پاکستان کے اس قدیم شہر کی بنیا د تقریباً 33 قبل از مسیح میں رکھی گئی تھی چونکہ یہ شہر اس دور میں دریائے سندھ کے کنارے آباد تھا اس کی زمین زراعت کے لئے نہایت موزوں تھی موہنجودڑو سے کوئی چھ سو سال قدیم ہونے کے باوجود محققین کی رائے میں اس کی آبادی کوئی دس ہزار افراد پر مشتمل تھی جن کا ذریعہ معاش تجارت اور صنعت وحرفت پر مبنی تھا زراعت میں گندم باجرہ روئی اور سرسوں کی کاشت کو خاص اہمیت حاصل تھی یہاں پر کانسی اور پتھروں کے اوزار اور ہتھیار بھی ملے ہیں ان کا بودوباش میں اہم کردار ادا رہا ہے ان کے اشیائے خوردنی میں پچھلی ہرن بھیڑ بکری بیل گائے بھینس اور خرگوش کے گوشت دودھ اور مکھن کو خاص اہمیت حاصل ہے

  • قدرت کے عجوبے اور دلچسپ حقائق

    قدرت کے عجوبے اور دلچسپ حقائق

    ہفتے کے سات دن کیسے اور کیوں؟
    ایک طلوع آفتاب سے اگلے طلوع کے درمیانی وقت کو دن کہا جاتا ہے مہینہ وہ وقت ہوتا ہے جو دوپورے چاند ہونے کے دوران گزرتا ہے پرانے زمانے میں لوگ اپنی زندگی کے معاملات کو منظم کرنے کے لئے وقت کا اسی طرح حساب رکھتے تھے انہیں وقت کے ایک ایسے پیمانے کی ضرورت تھے جو دن سے زیاہ اور مہینے سے کم ہو اس طرح بابل کے قدیم شہر میں سات دنوں کو یکجا کر کے ایک ہفتے کا نام دیا گیا

    انڈے کی زردی کی اہمیت:
    انڈے کا ہر حصہ چوزے کی افزائش کا مدد گا ثابت ہو تا ہے اور زرد حصے کو انڈے کی زردی یا بیضہ کہا جاتا ہے اس بیضے میں ایک چھوٹا سا نشان ہو تا ہے جس کو بروزی یا جینین کہا جاتا ہے بچہ یہیں سے بڑھنا شروع ہوتا ہے جب چوزہ بڑھنا شروع ہوتا ہے تووہ زردی اور سفیدی کو اپنی افزائش کے لئے استعمال کرتا ہے اس کے علاوہ سفیدی چھلکے کے اندر چوزے کو محفوظ رکھنے کے لئے نرم گدے کا کام کرتی ہے

    گھڑی کی سوئیوں کی حرکت دائیں جانب ہی کیوں؟
    پہلی گھڑی مصر میں ایجاد ہوئی اور وہ ایک دھوپ گھڑی تھی یعنی جو کہ پتھروں سے بنا ہوا ایک اونچا مسلم نامی چہار ستون تھا تو اس پر پڑنے والا سورج کا سایہ لوگوں کو بتاتا تھا کہ وقت کیا ہوا ہے سورج مشرق سے نکلتا ہے اور مغرب میں ڈوبتا ہے یہی وجہ ہے کہ جب پہلی میکانکی گھڑیاں بنائی گئیں تو ان کی سوئیاں بھی دائیں جانب حرکت کرتی ہوئی بنائیں گئیں

  • زندگی پیاری ہے ہر ایک انسان اور دوسرے جاندار کو!

    زندگی پیاری ہے ہر ایک انسان اور دوسرے جاندار کو!

    ایک دفعہ حسب معمول بیربل اور شہنشاہ باتیں کر رہے تھے شہنشاہ نے فرمایا بیربل ! وہ کیا ہے جو عزیز ہے ہر ذی روح کو بیربل نے عرض کیا عالی جاہ ! زندگی بہت پیاری ہے ہر ایک انسان اور دوسرے جاندار کو شہنشاہ نے فرمایا کیا تم اسے ثابت کر سکتے ہو؟ بیربل نے عرض کیا ہاں میں ثابت کر سکتا ہوں چند دنوں بعد بیربل ایک بندر کا بچہ اس کی ماں کے سمیت دربار میں لایا محل کے باغ کے درمیان ایک بڑا تالاب تھا بیربل نے نوکروں کو یہ تالاب خالی کرنے کا حکم دیا اس نے تالاب کے درمیان ایک بڑا پول نصب کرنے کے لئے کہا اس کے بعد اس نت بندر اور اس کے بچے کو تالاب میں چھوڑ دیا اس کے بعد نوکروں کو آہستہ سے پانی بھر دینے کو کہا شہنشاہ اس عمل کع بڑے شوق اور دلچسپی سے دیکھ رہا تھا جونہی تالاب میں پانی کی سطح بلند ہو نا شروع ہوئی تو بندریا پول پر چڑھ گئی اور اپنے بچے کو اپنے ساتھ چپکا لیا جب پانی بلند ہو کر بندریا کی چھاتی تک گیا تو بندریا نے اپنے بچے کو ہاتھوں میں اوپر اٹھا لیا اور حفاظت کے لئے پول پر چڑھ گئی شہنشاہ نے جب یہ سب دیکھا تو کہا دیکھو بیربل وہ اپنے بچے کس طرح بچانے کی کوشش کر رہی ہے اس کا مطلب ہے کہ اس کا بچہ اس کی اپنی زندگی سے بھی زیادہ عزیز ہے اسی دوران پانی کی سطح بندریا کی گردن تک بلند ہو گئی پانی نے اس کے ناک اور کانوں میں جانا شروع کر دیا یہ ظاہر ہوا گویا کہ اب وہ مر جائے گی اس نے تھوڑی دیر بعد اردگرد دیکھا پھر وہ اپنے بچے کو اپنے پاؤں نتلے دبا کر اس کے اوپر کھڑی ہو گئی اور پانی سے باہر نکلنے کی کوشش کرنے لگی بہربل نےکہا دیکھئے عالی جاہ وہ اپنی جان بچانے کے لئے اپنے بچے کی جان کی پرواہ بھی نہیں کر رہی اس نے اپنے بچے کو اپنے پاؤں کے نیچے دے دیا اور اپنی جان بچائی کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہر ایک کو سب سے عزیز اپنی جان ہے شہنشاہ کو بڑا صدمہ پہنچا اور وہ کچھ بھی تبصرہ نہ کر سکا اس نے آرام سے کہا زندگی تمام کو سب سے عزیزہے بیربل مسکرا دیا اور اس نے نوکروں کو تالاب سے پانی کو نکالنے کا حکم دیا تاکہ بندریا اور اس کے بچے کو بچایا جا سکے ( حکایات سعدی)

  • اسلام میں ہمسایوں کے حقوق

    اسلام میں ہمسایوں کے حقوق

    انسان کا اپنے ماں باپ اپنی اولاد اور قریبی رشتہ داروں کے علاوہ اہل مستقل واسطہ اور تعلق ہمسایوں اور پڑوسیوں سے بھی ہوتا ہے اور اس کی خوشگواری اور نا خوشگواری کا زندگی کے چین و سکون پر اور اخلاق کے بناؤ بگاڑ پر بہت زیادہ اثر پڑتا ہے رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی تعلیم و ہدایت میں ہمسائیگی اور پڑوس کے اس تعلق کو بڑی عظمت بخشی ہے اور اس کے احترا م و رعایت کی بڑی تاکید فرمائی یہاں تک کہ اس کہ جزو ایمان اور جنت میں داخلہ کی شرط اور اللہ و رسول کی محبت کا معیار قرار دیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پڑوسی تین قسم کے ہیں ایک وہ پڑوسی جس کا ایک ہی حق ہے اور وہ سب سے کم درجہ کا پڑوسی ہے دوسرا وہ پڑوسی جس کے دو حق ہیں اور تیسرا وہ پڑوسی جس کے تین حق ہیں ایک حق والا مشرک یعنی غیر مسلم پڑوسی ہے جس سے کوئی رشتہ داری نہ ہو اس کا صرف پڑوسی ہونے کا حق ہے دو حق والا وہ پڑوسی ہے جو پڑوسی ہونے کے ساتھ مسلمان بھی ہو اس کا ایک حق مسلمان ہونے کی وجہ سے اوردوسرا پڑوسی ہونے کی وجہ سے تین حق والا پڑوسی ہو ہے جو پڑوسی بھی ہو مسلمان بھی ہو اور رشتہ دار بھی ہو تو اسکا ایک حق مسلمان ہونے کا دوسرا پڑوسی اور تیسرا حق رشتہ دار ہونے کا ہے مسند احمد میں ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی و عنہ نے رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دریافت کیا کہ میرے دو پڑوسی ہیں میں ایک کو ہدیہ بھیجنا چاہتی ہوں تو کیسے بھیجوں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جن کا دروازہ قریب ہو مسند احمد میں ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے جو معاملہ خدا کے سامنے پیش ہوگا وہ دو پڑوسیوں کا ہوگا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں بہتر ساتھی اللہ کے نزدیک وہ ہے جو اپنے ہمراہیوں کے ساتھ خوش سلوک زیادہ ہو اور پڑوسیوں میں سب سے بہتر خدا کے نزدیک وہ ہے جو ہمسایوں سے نیک سلوک زیادہ ہو حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی و عنہ سوال کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کون سا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ کہ تو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے حالانکہ اسی ایک نے تجھے پیدا کیا ہے میں نے پوچھا پھر کون سا ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تو اپنی پڑوسن سے زیادتی کرے حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا : مسلمان کے مسلمان پر چھ حقوق ہیں کہا گیا کون اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرمایا:1:
    جب اسے ملے تو سلام کرے 2: جب وہ تجھے دعوت دے تو اس کو قبول کرو 3: جب وہ تم سے خیر خواپی طلب کرے تو اسے خیر خواہی دو 4: جب اسے چھینک آئے اور وہ الحمداللہ کہے تو اسے یرحمک اللہ کہو 5: جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی بیمار پُرسی کرو 6: اور جب وہ فوت ہو جائے تو اس کے جنازے کے پیچھے چلو

  • اسلامی معاشرے میں عورت کا کردار

    اسلامی معاشرے میں عورت کا کردار

    اسلام ایک دین فطرت ہے اور ا س کا پیغام کسی ایک خطے یا قبیلے کے لئے نہیں بلکہ پُوری دنیا میں بسنے والے لوگوں کے لئے ہے یہی وجہ ہے کہ امن س اسلام سے وابستہ لوگ دنیا کے ہر شہر ہر خطے میں موجود ہیں اور رنگ و نسل کی تمیز اور زبان و ثقافت کے امتیاز سے بے نیاز ہو کر کلمہ توحید کے دائرہ اسلام میں اسیر ہیں اسلامی معاشرہ میں مرد و زن کے حقوق و فرائض میں بہت توازن ہے اور اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے عورتوں کو معاشرہ میں نہایت باعزت اور ممتاز مقام فراہم کیا ہے اسلامی معاشرہ کی تشکیل میں عورت نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے معاشرہ میں عورت کے چار بنیادی رُوپ ہیں ماں بہن بیٹی اور بیوی

    ماں کی حیثیت سے عورت معاشرہ میں نہایت اہم اور ذمہ دار کردار ادا کر سکتی ہے یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کیہ آج کے بچے کل معاشرہ کی باگ دور سنبھالیں گے آنیوالے کل کے لئے آج ماں ہی تو بچے کی اچھی تربیت کر سکتی ہے کیونکہ بچے کا ذہن شفاف آئینے کی طرح ہوتا ہے گھر کا ماحول اس آئینہ میں نقش و نگار ابھارتا ہے اب اگر ماں بچے کی پرورش اور اس کی تربیت اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کرتی ہے تو یہ بچہ بڑا ہو کر اسلامی معاشرے کی تشکیل میں اپنا بھر پور کردار ادا کریگا اس موقع پر حضرت اسماء بنت ابو بکر کا واقع ذہن میں آتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن زبیر کے کطھ ساتھی باطل کے خلاف جنگ کرتے ہوئے شہید ہو گئے تو آپ اس صورتحال سے بڑے دل برداشتہ تھے انہوں نے اپنی والدہ حضرت اسماء بنت ابو بکر سے مشورہ مانگا تو ماں نے کہا بیٹے اپنی جنگ جاری رکھو کیونکہ تم حق پر ہو اور اگر حق کے لئے لڑتے ہو تو اب بھی اپنے جنگ جاری رکھو کیونکہ تمہارے ساتھیوں نے حق کے لئے جان دی ہے اور اگر جاہ طلبی کے لئے لڑتے رہے ہو تو تم سے برا کون ہو گا جو خود کو بھی ہلاکت میں ڈالے اور اپنے ساتھیوں کو بھی اگر یہ عذر ہے کہ حق پر ہو اور ساتھیوں کی علیحدگی سے دل برداشتہ ہو گئے ہو تو یاد رکھو مومن کا یہ شیوہ نہیں یوں بھی موت کا وقت متعین ہے اور حق پر جان دینا دنیا کی زندگی سے ہزار درجے بہتر ہے عبداللہ بن زبیر نے کہا ماں بنو امیہ میری لاش کی بے حُرمتی کریں گے اور سولی پر لٹکا دیں گے ماں نے جواب دیا بیٹا بکری کو ذبح کرنے کے بعد بکری کی کھال کو کھینچنے سے تکلیف نہیں ہوتی جاؤ اور خدا سے مدد مانگو اور اپنا فرض پورا کرو جب حضرت عبداللہ بن زبیر بڑی بہادری اور جرات مندی سے لڑتے شہید ہو گئے تو مخالفوں نے ان کی لاش سولی پر لٹکا دی کئی دن بعد ماں کا ادھر سے گزر ہوا تو بیٹے کی لاش کو سولی پر لٹکا دیکھ کر کہنے لگیں ارے یہ شہسوار ابھی تک سواری سے نہیں اترا اس وقعہ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ماں کی تربیت کے نتیجے میں اولاد حق کی راہ میں جان دے کر تاریخ میں زریں باب کا اضافہ کر سکتی ہے نبی پاک نے اولاد کی تربیت کے لئے ماں کو بڑے انعام و اکرام سے نوازنے کا وعدہ فرمایا ہے اس کے قدمون کے نیچے جنت بنا دی ہے اس کے بدلے میں اسے بچے کی تربیت کا ذمہ دار قرا دیا

    عورت بہن کی حیثیت سے بھی معاشرے کو سنوارنے میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہے کیونکہ گھر میں بڑی بہن کی حیثیت ماں کے بعد ہوتی ہے اور اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی تربیت میں اہم حصہ ادا کر سکتی ہے تاریخ میں کئی ایسے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں جن میں بہن نے بھائی کے شانہ بشانہ اہم کردار ادا کیا جیسا کہ محترمہ فاطمہ جناح انہوں نے کتنی بڑی نازک صورتحال میں اپنے بھائی قائداعظم کا ساتھ دے کر انہیں بڑا حوصلہ اور ہمت عطا کی

    بیوی کی حیثیت سے عورت اسلامی معاشرہ کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہے اسکا اندازہ حضرت خدیجۃالکبری رضی اللہ تعالی و عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی و عنہ کے پاکیزہ اور تاریخ ساز کرداروں سے لگایا جا سکتا ہے

    آج بھی ہمارے معاشرے میں لاکھوں خواتین اپنے بوڑھے والدین اور چھوٹے بہن بھائیوں کی کفالت کا اہم کا سر انجام دے رہی ہیں یہی نہیں بلکہ زندگی کے مختلف شعبوں میں عورت پردے میں رہ کر بھی اپنی ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی پُورا کر رہی ہیں عہد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بھی عورت نے جنگوں میں زخمیوں کی خدمت کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ صنف نازک میدان جنگ میں بھی خدمات انجام دے سکتی ہیں عہد حاظر میں تعلیم اور نرسنگ کے پیشے میں خواتین بے پناہ خدمات انجام دے رہی ہیں

  • ہجری اور اسلامی سنہ کا آغاز کب اور کیسے ہوا؟

    ہجری اور اسلامی سنہ کا آغاز کب اور کیسے ہوا؟

    اسلام سے پہلے عیسوی سال اور مہینوں سے تاریخ لکھی جاتی تھی اور مسلمانوں میں تاریخ لکھنے کا دستور نہیں تھا حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت 17 ہجری میں حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس خط کہ آپ کی طرف سے حکومت کے مختلف علاقوں میں خطوط جاری ہوتے ہیں لیکن آپ کے ان خطوط میں تاریخ لکھی ہوئی نہیں ہوتی اور تاریخ لکھنے سے بہت فائدہ ہوتا ہے کہ کس دن آپ کی طرف سے حکم نامہ جاری ہوا اور کن پہنچا اور کب اس پر عمل جاری ہوا ان سب باتوں کے سمجھنے کا دارومدار تاریخ لکھنے پر ہے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کو نہایت معقول بات سمجھا اور فوری طور پر اکبر صحابہ اکرام کی ایک میٹنگ بلائی اس میں مشورہ دینے والے صحابہ کی طرف سے چار باتیں سامنے آئیں :

    اکابر صحابہ رضی اللہ تعالی عنہ کی ایک جماعت کی یہ رائے ہوئی کہ بنی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وکادت کے سال سے اسلامی سال کی ابتدا کی جائے دوسری جماعت کی یہ رائے تھی کہ نبوت کے سال سے اسلامی سال کی ابتدا کی جائے تیسری جماعت کی رائے یہ ہوئی کہ ہجرت کے سال سے اسلامی سال کی ابتدا کی جائے چوتھی جماعت کی یہ رائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے اسلامی سال کی ابتدا کی جائے ان چاروں قسم کی رائے کے بعد ان پر با ضابطہ بحث ہوئی پھر حضرت عمر نے یہ فیصلہ سنایا کہ ولادت یا نبوت سے اسلامی سال کی ابتدا کرنے میں اختلاف سامنے آ سکتا ہے اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت اوت بعثت کا دن قطعی متعین نہیں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے شروع کرنا اس لئے مناسب نہیں کہ وفات کا سال اسلام اور مسلمانوں کے لئے غم اور صدمہ کا سال ہے اس لئے منا سب یہ ہو گا کہ ہجرت سے اسلامی سال کی ابتدا کی جائے اس پر پھر چاروں جماعتوں نے اپنے اپنے نکات پیش کئے حضرت عمر نے ساب کی رائے نہایت احترام کے ساتھ سنی پھر آخر میں یہ فیصلہ دیا کہ محرم کا مہینے اسلام کے مہینے کی ابتدا ہو نی چاہیئے کیونکہ انصار نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مدینہ منورہ ہجرت کر کے آنے کی دعوت پیش فرمائی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبول فرمائی یہ ذوالحج کے مہینے میں حج کے بعد پیش آیا اور محرم کے مہینے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو ہجرت کے لئے روانہ فرمایا اور اس کی تکمیل ربیع الاول میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجرت سے ہوئی جبکہ حج سے فراغت کع بعد حاجی لوگ اپنے گھروں کو محرم کے مہینے میں آتے ہیں ان خوبیوں کی بنا پر سال کے مہینے کی ابتدا محرم سے مناسب ہے اس پر تمام صحابی اکرام کا اتفاق اور جماع ہوا کہ سال کے مہینے کی ابتدا محرم سے ہو لۃذا اسلامی سال کی ابتدا ہجرت سے ہے اور اسلامی مہینہ کی ابتدا محرم الحرام سے مان لی گئی اور اسی پر امت کا عمل جاری ہے

  • آنکھوں کے گرد حلقے دور کرنے کی چند مفید ٹپس

    آنکھوں کے گرد حلقے دور کرنے کی چند مفید ٹپس

    روئی کے دو پھاہے ٹھنڈے پانی میں بھگو کر نچوڑ لیں اور ان پر عرق گلاب چھڑک کر آنکھوں پر رکھ کر 15 سے 20 منٹ کےلئے سکون سے لیٹ جائیں روازانہ یہ عمل کریں کچھ دنوں میں ہی حلقے صاف ہونا شروع ہو جائیں گے

    ٹماٹر جوس لیمن جوس ہلدی اور بیسن ملا کر پیسٹ بنا لیں پھر اس پیست کو صنکھوں کے گعرد حلقوں پر لگا کر 10 منٹ لیٹ جائیں اس کے بعد دھولیں یہ آنکھوں کے لئے سب سے اچھا علاج ہے اس کے ساتھ ساتھ آٹھ گھنٹے کی نیند لینا بہت ضروری ہے

    کھیرے یو آلوؤں کا جوس روئی کی مدد سے آنکھوں پر لگانا یہ بھی حلقوں کے لئے مفید ہے اس کے لئے ٹی بیگز بھی حلقوں کے خاتمے لے لئے بہت مفید ہے

    لیمن اور ٹماٹر کا جوس مکس کر کے دن میں دو بار آنکھوں کے گرد حلقوں پر لگائیں اس سے بھی بہت زیادہ فرق پڑتا ہے