Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • پاکستان میں لیٹر گیٹ کی سازش

    پاکستان میں لیٹر گیٹ کی سازش

    وزیراعظم عمران خان 2018 میں کرپشن سے لڑنے، ملک میں ایسی اصلاحات اور تبدیلیاں لانے کے بھرپور نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئے جو پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ لیکن ان کے اقتدار کے ساڑھے تین سالوں میں معیشت کی بحالی، مہنگائی پرقابو پانے اور اصلاحات لانے کے وعدے عملی طور پر نظر نہیں آئے۔

    باغی ٹی وی : عمران خان نئے پاکستان (نئے پاکستان) کا خواب لے کر اقتدار میں آئےعمران خان کا نئے پاکستان کا بیانیہ اس دن دم توڑ گیا جب انہوں نے اپنے سیاسی کارکنوں کی بجائےالیکٹیبلز کا انتخاب کیا انہوں نےہمیشہ پاکستان میں لوٹا کریسی کےبارے میں بات کی لیکن حکومت کی خاطر انہوں نے لوٹا (مختلف پارٹیوں کےلوگوں کو لے کر) کو منتخب کرنےکو ترجیح دی اورانہیں پارٹی ٹکٹ دیا ان کےتین سالہ دور میں اپوزیشن نے مہنگائی اور ان کی خراب حکمرانی کی وجہ سے انہیں اقتدار سے ہٹانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ اپنے اختلافات کی وجہ سے کامیاب نہیں ہو سکے۔

    3 مارچ 2021 کو وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے اگر ان کی پارٹی کے ارکان نے ان کے حق میں ووٹ نہیں دیا تو وہ ان کا احترام کریں گے اور اپوزیشن میں بیٹھیں گےوہ تحریک اعتماد میں کامیاب ہوئے۔ ایک سال بعد مارچ 2022 میں، جب اپوزیشن نے انہیں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے بے دخل کرنے کا فیصلہ کیا۔ جب ان کے اتحادیوں کے اہم شراکت دار حکومت چھوڑ کر حکومت کے خلاف اپوزیشن میں شامل ہو جاتے ہیں تو حزب اختلاف انہیں بے دخل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

    عمران خان کا کہنا ہے کہ انہیں ہٹانے کی غیر ملکی سازش ہے، ان کے پاس ثبوت کا خط موجود ہے۔ اب وہ اپنی حکومت کو ہٹانے کے لیے غیر ملکی سازش (لیٹر گیٹ سازش) کی بات کر رہے ہیں لیکن اس پر یقین نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ ان کے روس کے دورے کو امریکا اور مغرب نے اچھا نہیں دیکھا اور وہ انھیں ہٹانا چاہتے ہیں یا انھیں ہٹانا چاہتے ہیں۔ حکومت اسلام آباد کے جلسے میں ایک خط کو پہلےملک کی قومی سلامتی کمیٹی میں دکھانےکی بجائےدکھانااگرہم سیکیورٹی کےنقطہ نظرسےدیکھیں توپاکستان میں سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو بیرونی سازش، پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی دھمکی کا کوئی ثبوت نہیں ملا جس کی عمران خان بات کر رہے ہیں۔

    اپوزیشن یہ سوال بھی اٹھا رہی ہے کہ اگر انہیں 7 مارچ کو خط موصول ہوا تو اگلے دن سیکورٹی کمیٹی یا پارلیمنٹ کے ساتھ شیئر کیوں نہیں کیا، انہوں نے تاخیر کرکے عوام کے سامنے کیوں دکھایا؟ خط کا مکمل مواد ابھی تک منظر عام پر نہیں آیا ہے۔ لیکن حکومت کے مطابق یہ ایک پیغام پر مشتمل ہے جو مبینہ طور پر اسد مجید کو ڈونلڈ لو، امریکی معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کی طرف سے موصول ہوا ہےاس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کے دورہ روس کو امریکہ اور مغرب نے اچھا نہیں دیکھا اور انہوں نے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی اور یوکرین پر روسی حملے کی مذمت کرنے کا مطالبہ کیا لیکن پاکستان نے ایسا نہیں کیا کیونکہ پاکستان روس یوکرین تنازع پر غیر جانبدارانہ موقف اختیار کرتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ بیرونی طاقتیں یا امریکہ عمران خان یا ان کی حکومت کو ہٹانے کے لیے تیار تھے، ان کے پاس پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے اور آپشنز ہیں جیسے فاٹف جہاں پاکستان گرے لسٹ میں ہے-

    آ ئی ایم ایف میں جہاں سے پاکستان پہلے ہی قرض لےرہا ہے ۔ جنہوں نے پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ دیا۔عمران خان کو غیر ملکی سازش کا خیال کافی دیر سے آیا جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ عدم اعتماد کے ووٹ میں زندہ نہیں رہ سکتے اور وہ اقتدار سے باہر ہو جائیں گے تو انہوں نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ جبکہ ان کی پارٹی کے ڈپٹی سپیکر نے ووٹنگ روک دی اور اپوزیشن کے قانون ساز کو غدار قرار دے دیا کیونکہ ان کے مطابق انہوں نے امریکہ کے ساتھ سازش کی۔

    اپوزیشن آئی کے پر یہ الزام بھی لگا رہی ہے کہ جب دیکھا کہ متحدہ اپوزیشن نے 197 ممبران بنائے تووہ آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عدم اعتماد کے ووٹ سے بھاگ گئےاگرچہ صدر نے وزیراعظم کےمشورے سے پارلیمنٹ تحلیل کردی ہے لیکن آئین کے مطابق وہ ایسا نہیں کر سکتےجب وزیراعظم کےخلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی ہوعمران خان نے ہمیشہ کہاکہ وہ پاکستان کی خارجہ پالیسی پر سمجھوتہ نہیں کریں گے اور دنیا سے ڈکٹیشن نہیں لیں گے لیکن اگر ہم ماضی پر نظر ڈالیں جب انہوں نے سعودی عرب کے دباؤ کی وجہ سے دسمبر 2019 میں کولالمپور سربراہی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

    ایک اور مثال یہ ہے کہ ماضی قریب میں جب عمران خان کی حکومت نے سعودی عرب سے قرض لیا اور انہوں نے ہمیں 4 فیصد شرح سود پر قرض دیا جو آئی ایم ایف کی شرح سود سے 3 گنا زیادہ ہے۔ آئی ایم ایف 1 فیصد شرح سود پر قرض دیتا ہےاور اس نے سعودی عرب سے 4 فیصد پر قرض لیا اور انہوں نے شرط رکھی کہ وہ 72 گھنٹے کے نوٹس میں واپس لے سکتے ہیں۔

    واضح رہےکہ سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نے روس کےدورےسے قبل آئی کےکواجازت دے دی تھی کیونکہ سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی رضامندی کے بغیر وہ اپنا دورہ مکمل نہیں کرسکتے کیونکہ کسی بھی ملک کا دورہ کرتے وقت آپ کو کچھ سیکیورٹی پروٹوکولز پر عمل کرنا ہوتا ہے۔ روس کے ساتھ اچھےتعلقات بنانا ایک ریاستی پالیسی تھی جسے نئی پاک قومی سلامتی پالیسی میں اپنایا گیا جس کےمطابق پاکستان روس کے ساتھ اچھے تعلقات رکھے گا اور کسی ملک کے تنازع میں شامل نہیں ہوگا۔ان کی حکومت کے گرنے کی وجوہات سب کو معلوم ہےکہ ان کے اتحادیوں اور ان کے صحیح آدمی کی طرف سے انہیں مسلسل بلیک میل کیا جا رہا تھا۔ ان کی پارٹی کے زیادہ تر ایم این اے ان کی حکمرانی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی سے خوش نہیں تھے اور انہوں نے ان کے خلاف اپوزیشن سے ہاتھ ملا لیا۔ پوری انتخابی مہم میں انہوں نے لوگوں سے کہا کہ وہ پولیس، عدلیہ اور تمام ریاستی اداروں میں اصلاحات کریں گے لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔

    اپوزیشن نے اس کا فائدہ اٹھایا اور ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی۔ پاکستان میں پی ٹی آئی کی حکومت کے گرنے کے کئی عوامل ہیں جن میں آرمی چیف کی توسیع اور بعد ازاں ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے دوران حکومت کی جانب سے پاک فوج کے انتہائی معزز ادارے کوجان بوجھ کرمتنازعہ بنانا شامل ہےدوسراعنصر خارجہ پالیسی بھی ہے اور صوبہ پنجاب کی گورننس اواس صوبے میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی تقرری جو پاکستان کا آدھا حصہ سمجھتا تھا۔ اب عمران خان اپنے بیانیے کی غیر ملکی سازش یا ایک (لیٹر گیٹ) کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ان کا سارا بیانیہ اسی پر مبنی ہے۔ وہ اپنی پارٹی کو بچانے کے لیے سیاسی شہید بننے کے لیے ایسا بیانیہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عمران خان نے ملک میں اپنی حکمرانی کے ذریعے اپنے لاکھوں ووٹرز اور حامیوں کو مایوس کیا ہے۔

    انہوں نے پاکستان کو ایک بڑے آئینی بحران میں دھکیل دیاعمران خان نے جو کچھ کیا وہ اسے سرپرائز کہہ رہے ہیں، لیکن یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں، کیونکہ انہوں نے یہ سب کچھ صرف اپنی انا کو بچانے کے لیے کیا، اور کچھ نہیں۔ عمران نے اپنی پوری انتخابی مہم اور پھر اپنے پورے دور حکومت میں ہمیشہ اپوزیشن پر کرپٹ، ٹھگ اور چور ہونے کا الزام لگایا۔ انہیں کرپشن کے الزام میں سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا لیکن وہ ضمانت پر رہا ہوئے۔ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے گزشتہ دور کو دہائی کا تاریک دور قرار دیا۔ وہ اس کی خراب حکمرانی، خراب کارکردگی، معیشت کی بدانتظامی، مہنگائی، بڑھتی ہوئی قیمتوں اور پاکستانی عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا نہ کرنے کی وجہ سے اس کے خلاف متحد ہو جاتے ہیں۔ اگر پی ٹی آئی کی حکومت نے عوام سے اپنے 10 فیصد وعدے پورے کیے جو خان ​​نے انتخابی مہم کے دوران کیے تھے تو اپوزیشن کبھی بھی ان کے خلاف متحد نہیں ہوتی۔ انہوں نے خود اپوزیشن کے لیے راستہ ہموار کیا کہ وہ متحد ہو کر اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد لائے۔

    پاکستانی عوام عمران خان سے بہت پر امید تھے کہ وہ پاکستان کو مسائل سے نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن ان کی امید ٹوٹ گئی، انہوں نے پاکستان کو آئینی بحران میں ڈال دیا۔ معاملہ سپریم کورٹ میں تھا اور اب پاکستان کی سپریم کورٹ نے پایا کہ وزیر اعظم عمران خان کا 3 اپریل کو عدم اعتماد کے ووٹ کو روکنے کا اقدام آئین اور قانون کے خلاف تھا اور اس کا کوئی قانونی اثر نہیں تھا۔ عدالت نے یہ بھی فیصلہ دیا کہ پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا وزیر اعظم کا فیصلہ غلط تھا اور قومی اسمبلی کو 9 اپریل 2022 کو دوبارہ بلانے اور عدم اعتماد کا ووٹ کرانے کا حکم دیا۔

    آئین کو پڑھنا جس کا قانونی جواز پیش کرنا مشکل ہے۔ اپوزیشن کا خیال ہے کہ لیٹر گیٹ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا امیج خراب کرنے کی حکومتی سازش ہے۔ ووٹنگ کے آخری دن عمران خان تمام غیر آئینی اقدامات کرنے کو تیار تھے۔ گورنر پنجاب کو اس وقت برطرف کر دیا گیا جب انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے غیر آئینی اقدام اٹھانے سے انکار کر دیا۔ عمران خان نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ ان کی حکومت کے خلاف سازش سے پاک امریکا تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خان کی حکومت کو واشنگٹن کو پاکستان کی اندرونی سیاست میں گھسیٹنے کے بجائے سفارتی طریقے سے معاملہ سنبھالنا چاہیے تھا۔

  • حمزہ شہباز الیکشن کالعدم قرار دینے کا معاملہ:  فریقین کو نوٹسز جاری، اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے جواب طلب

    حمزہ شہباز الیکشن کالعدم قرار دینے کا معاملہ: فریقین کو نوٹسز جاری، اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے جواب طلب

    لاہور ہائی کورٹ میں حمزہ شہباز الیکشن کالعدم قرار دینے اور تمام تر اختیارات کو ناجائز دینے کا معاملہ جسٹس شجاعت علی خان نے سماعت کرتے ہوئے فریقین کو نوٹسز جاری کر دئیے –

    باغی ٹی وی :عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے 20 جون کو اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے جواب طلب کر لیا لاہور ہائیکورٹ میں انٹراکورٹ اپیل سماعت بنچ سماعت کر رہا تھا اس میں وکیل اظہر صدیق نے بتایا کہ حمزہ شہباز کا الیکشن قانون اور آئین کے مطابق نہیں ہوا-

    الیکشن کمیشن وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر جو ہدایت کی گئ اس نے قوانین سے انحراف کیا اور 24،اور 28 اپریل کو حط لکھے گئے کہ آپ نے الیکشن غیر قانونی طریقے سے کروایا یہ لاہور ہائیکورٹ کے احکامات کے حلاف کیا گیا 17 مئی کو باقاعدہ طور ڈپٹی سپیکر پر نااہلی کا ریفرنس بھی دائر کر دیا گیا-

    اظہر صدیق نے کہا کہ سپریم کورٹ میں مسلم لیگ ن خود گئی صوبائی الیکشن کے خلاف سپریم کورٹ گئے اور سات اپریل کو جب آڈر پاس ہوا اس وقت درخواست زیر سماعت تھی جب آرڈر پاس ہوا حکومت پنجاب کو سپریم کورٹ نے سارہ معاملہ سنا آئین کے آرٹیکل 63-A کا اطلاق ماضی سے ہی ہوگا-

    وکیل نے کہا کہ آئین کی تشریح 63اے کے تحت اور ساتھ یہ بھی کہہ کہ ان کی ڈی نوٹیفیکیشن کے مطابق قانون سازی بھی کی جائےسپریم کورٹ نے واضح طور پر کہا دیا کہ منحرف ہونا ایک ناسور ہے اور ہی کینسر ہے اسے ختم ہونا چاہیے آج ان لوگوں کو کیسے اجازت دی جاسکتی ہیں کہ یہ اور الیکشن کو کیسے ٹھیک کر دیا گیا جائے –

    سرکاری وکیل نے کہا کہ آرٹیکل 69 کے تحت پنجاب اسمبلی کا الیکشن چلینج نہیں کیا جاسکتا اس بنیاد پر درخواست قابل سماعت نہیں

    وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ مسلم لیگ ن نےقومی اسمبلی میں اس آرٹیکل کے خلاف بحث کی تھی اور سپریم کورٹ نے پارلیمان کی اندر کی کاروائی کالعدم قرار دی ان کی سادہ اکثریت نہیں تھی 197 ووٹ کاسٹ ہوئے اور منحرف اراکین کے ووٹ نکال دیں تو 172 رہ جاتے ہیں چیف سیکرٹری کو بھی حط لکھا گیا کہ اپنا نوٹفکیشن واپس کریں جس کے تحت حمزہ شریف کو وزیر اعلی منتخب کیا حمزہ شہباز کی تعیناتی قانون اور آئین کے خلاف ہیں جتنی ٹرانسفر اور پوسٹنگ کی گئی ہیں وہ بھی غیر آئینی ہیں اسپیکر نے الیکشن اپنے طریقے کار سے کروائے ہیں-

  • ایمبیسی روڈ پر افغان خاندانوں کا احتجاج، ریڈ زون کی طرف جانے کے کوشش

    ایمبیسی روڈ پر افغان خاندانوں کا احتجاج، ریڈ زون کی طرف جانے کے کوشش

    اسلام آباد: ایمبیسی روڈ پر افغانی خاندانوں کا احتجاج ،احتجاج میں خواتیں مرد بچے بھی شامل ہیں-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق افغانی خاندانوں نے ایمبیسی روڈ کو ٹریفک کے لیے بلاک کر دیا ہے جبکہ افغانی خاندان ریڈ زون کی طرف جانے کے کوشش کر رہے ہیں جبکہ پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے جو انہیں روکنے کی کوشش کر رہی ہے-

    چیئرمین نیب کی تعیناتی کیلئے چیف جسٹس سے مشاورت کیلئے دائر درخواست مسترد

    افغانیوں کا مطالبہ ہے کہ افغانی خاندان اٹھارہ اپریل سے پریس کلب اور ایف سکس سے ملحقہ گراؤنڈ میں دھرنا دیئے ہوئے ہیں ، افغانستان میں امن لایا جائے ہماری زمین ہمارے اوپر تنگ کر دی گئی ہے وہاں حالات کشیدہ ہیں ،ہمارے تعلیمی ادارے تباہ اور بینک اکاؤنٹس منجمد کردیئے گئے ہیں –

    افغانیوں کا کہنا ہے کہ ہیومن رائٹس اور بین الاقوامی تنظیمیں اس جانب توجہ دیں ،ہم اپنے گھروں میں واپس جانا چاہتے ہیں انہیں ہمارے رہنے کے قابل بنایا جائے-

    قبل ازیں گزشتہ ماہ کے آخر میں پشاور پریس کلب کے سامنے گذشتہ روز (سوموار) کی صبح افغان اور پاکستانی فنکاروں نے ایک انوکھا احتجاج کیا جس میں ہارمونیئم اور ڈھول بجائے گئے۔ یہ احتجاج چار افغان فنکاروں کی گرفتاری کے بعد شروع کیا گیا تھامظاہرین نے گرفتار فنکاروں کی رہائی کا مطالبہ کیا اور کہا تھا کہ انھیں کوئی ایسی دستاویز یا کارڈ دیا جائے جس سے پولیس انھیں تنگ نہ کرے۔

    سلمان شہباز،ملک مقصود اور طاہر نقوی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    پشاور پریس کلب کے بعد مظاہرین جلوس کی صورت میں خیبرپختونخوا اسمبلی کے سامنے پہنچے تاکہ اعلیٰ حکام تک اپنی آواز پہنچا سکیں ریلی میں شامل مظاہرین موسیقی پر پشتو کا روایتی اتنڑ یعنی رقص کرتے رہے۔ ریلی کو راستے میں پولیس نے روکنے کی کوشش کی لیکن مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ پُرامن ہیں اور اپنا مدعا حکام تک پہنچانے جا رہے ہیں۔

    ان مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن میں مطالبات لکھے ہوئے تھے، اس میں کہا گیا تھا کہ یہ احتجاج موسیقی کے ساتھ کیا جا رہا ہے ایک پلے کارڈ پر درج تھا کہ آپ ہمیں بھیڑیوں کے سامنے نہیں پھینک سکتے۔

    سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے کرپشن اسکینڈلز نیب کو بھیجنے کی…

  • ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہورنے کراچی طیارہ حادثے کی رپورٹ پیش کر دی

    ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہورنے کراچی طیارہ حادثے کی رپورٹ پیش کر دی

    آج ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور نے قومی ائیر لائن کی پرواز پی کے 8303 کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کی۔

    باغی ٹی وی : ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور کی عدالت میں پرواز پی کے 8303 کے حادثےپیش کی گئی تحقیقاتی رپورٹ میں حادثے کا ذمہ دار پی آئی اے کی انتظامیہ کو قرار دیا گیا، پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے کی اجازت بھی مانگی۔

    گستاخانہ بیانات: جماعت اسلامی اور اراکین سینیٹ کا بھارتی سفارتخانے کے باہر احتجاج کا اعلان


    عارف اقبال فاروقی کی جانب سے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور لیاقت علی رانجھا کو پیش کی گئی جس میں ایس ایچ او تھانہ سرور روڈ لاہور کی جانب سے کہا گیا کہ 22 مئی 2020 بوقت دن 2:45 منٹ پر پی آئی اے کی پرواز پی کے 8303 لاہور سےکراچی جاتے ہوئے ماڈل ٹاؤن کراچی میں گر کر تباہ ہوئی جس میں سوار 97 مسافر بشمول میری فیملی تمام افراد جاں بحق ہو گئے جو پی آئی اے انتظامیہ مجرمانہ غفلت کی مرتکب پائی گئی انتظامیہ کے خلاف کاروائی کی جائے-

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ طیارہ ماڈل ٹاؤن میں گر کر تباہ ہوا ،حکومت پاکستان ائیر کرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بورڈ بنا چکی ہے انوسٹی گیشن بورڈ کی ابتدائی رپورٹ نمبری سی پی نمبر 7050-2016 سانھ ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے پٹیشن ہذا متعلقہ تھانہ سرور روڈ نہیں ہے لہذا پٹیشن ہذا داخل دفتر فرمائی جائے-

    واضح رہے کہ 22 مئی 2020 کو کراچی ایئرپورٹ کے قریب پیش آئے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے ایئربس طیارے کے المناک حادثے میں مسافروں اور عملے سمیت 97 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

    22 مئی کی سہ پہر رمضان المبارک کے آخری جمعہ جب لاہور سے اڑان بھرنے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 8303 کا ایئربس طیارہ لینڈنگ کی دوسری کوشش کے دوران کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے قریب آبادی پر گر کر تباہ ہوگیا اس حادثہ میں عملہ سمیت 97 مسافر جاں بحق ہوئے، ان میں عید منانے کے لیے اپنے شہر کراچی آنے والےمسافر بھی شامل تھے۔ تاہم اس المناک حادثے میں دو خوش قسمت مسافر ایسے بھی تھے جو زندہ سلامت رہے۔

    اس حوالے سے موصول فوٹیج میں اس بات کی تصدیق ہوگئی تھی لینڈ نگ کی پہلی کوشیش کے دوران طیارے کے پہیے کھلے ہوئے نہیں تھےلینڈنگ کرتے ہوئے طیارے کے انجن 3 مرتبہ رن وے سے ٹکرائے، جس کے بعد طیارہ دوبارہ فضا میں بلند ہوگیا، لیکن انجنوں کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے طیارہ بلندی حاصل نہیں کر سکا اور آبادی پر گِرگیا۔

    ایئر کرافٹ ایکسیڈنٹ انوسٹیگیشن بورڈ نے ابتدائی رپورٹ میں حادثہ کا ذمہ دار طیارے کے پائلیٹس کو قرار دیا تھا جبکہ ایوی ایشن ذرائع کے مطابق حادثہ کی حتمی رپورٹ آنے میں مزید ایک سے دیڑھ سال لگ سکتا ہےپی آئی اے ترجمان کا کہنا تھا کہ حادثہ میں جاں بحق 97 میں سے 71 مسافروں کے لواحقین کو فی کس ایک کروڑ 11 لاکھ روپے کی ادائیگی کی جا چکی ہے۔

    20 سے زیادہ لواحقین نے سندھ ہائی کورٹ سے دوبارہ رجوع کیا ان کا مؤقف ہے کہ پی آئی اے جاں بحق مسافروں کا معاوضہ عالمی معیار سے بہت کم ادا کر رہی ہے اور ایسی دستاویزات پر دستخط کے لیے مجبور کیا جارہا ہے جس سے لواحقین مستقبل میں بہتر معاوضہ کے لیے اپنے حق سے محروم رہ جائیں-

    سلمان شہباز،ملک مقصود اور طاہر نقوی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

  • گستاخانہ بیانات: جماعت اسلامی اور اراکین سینیٹ کا  بھارتی سفارتخانے کے باہر احتجاج کا اعلان

    گستاخانہ بیانات: جماعت اسلامی اور اراکین سینیٹ کا بھارتی سفارتخانے کے باہر احتجاج کا اعلان

    لاہور: جماعت اسلامی نے 9 جون کو اسلام آباد میں بھارتی سفارتخانے کے باہر احتجاج کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی : لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتےہوئےجماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل امیر العظیم نے کہا کہ ہر صورت سفارت خانے تک پہنچیں گے، بھارتی سفیر کو نکالنے تک احتجاج جاری رہے گا میڈیا سے گزارش ہے کہ بھارتی خبروں،کھلاڑیوں اور اداکاروں سمیت ہرچیزکابائیکاٹ کرے بھارت میں نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کی گئی بی جے پی کے ترجمان کے بعد ایک اور لیڈر نے گستاخی کی۔

    جماعت اسلامی کے رہنما کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے عرب ممالک کو ہوش آیا اور انہوں نے سوشل میڈیا پر بھارت کے خلاف مہم چلائی، ہم پاکستانی حکومت کے منتظر رہے کہ یہ بھی کوئی آواز اٹھائیں گے حکومت بھارت سے تمام تعلقات ختم کرکے سفیر کو واپس دلی بھیجے، 10 جون کو جماعت اسلامی پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے کرے گی۔

    ادھر چیئرمین پاکستان علما کونسل طاہر اشرفی نے کہا کہ گستاخانہ بیانات کے خلاف بلاول بھٹو اسلامی ممالک کے وزرائےخارجہ سے بات کریں ، جمعہ کو گستاخانہ اورا شتعال انگیز بیانات کے خلاف احتجاج کریں گے،گستاخانہ بیانات کے سلسلے میں سیاست سے بالاتر ہو کر سوچنا چاہیے،گستاخانہ بیانات کے خلاف ہمیں پرامن،منظم احتجاج کرناچاہیے-

    دوسری جانب چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیرصدارت سینیٹ اجلاس ہوا۔ اجلاس میں بھارتی حکمران جماعت بی جے پی کی رکن کی جانب سے ناموس رسالت کے خلاف ایوان بالا نے متفقہ طور پر مذمتی قرارداد منظورکی گئی تھی –

    مذمتی قرارداد سلیم مانڈوی والا نے پیش کی تھی جسے متفقہ طور پر منظورکیا گیا قرارداد کے متن میں کہا گیا تھا حکومت پاکستان بھارت کے خلاف اقوام متحدہ میں احتجاج کرے، معاملے پر او آئی سی کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جائے اور بھارتی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے اور حکومت اسلامو فوبیا کے خلاف عملی اقدامات اٹھائے۔

    اس سے قبل سے قبل سینیٹر عطاالرحمان نے تجویز دی کہ تجوہین رسالت پر ایوان بالا کے ممبران پارلیمنٹ ہاؤس سے بھارتی سفارتخانے تک ریلی نکالیں جس پر چئیرمین سینیٹ نے رولنگ دی کہ 10 جون (بروز جمعہ) بعد نماز جمعہ ایوان بالا کے ممبران پارلیمنٹ ہاؤس سے بھارتی سفارتخانے تک جائیں گے اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں گے۔

    چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا مزید کہا تھا کہ ناموس رسالت پر میرے دستخط کے ساتھ منظور کردہ مذمتی قرارداد کی کاپی اقوام متحدہ کے دفتر جمع کروائی جائے گی جہاں ایوان بالا کا 3 رکنی وفد اقوام متحدہ کے دفتر جاکر اپنا احتجاج ریکارڈ کروائے گا۔

    علاوہ ازیں اقلیتی سینیٹر دنیش کمار نے کہا بی جے پی رہنماوں کے توہین آمیز کلمات سے مسلمانوں کے دل دکھی ہوئے ہیں، یہ بی جے پی کا بیانیہ ہے ہندو مذہب کا بیانیہ نہیں ہےجب آپ بھارتی سفارتخانے جائیں تو میں سربراہی کرکے بھارت کو واضح پیغام دوں گا کہ اس عمل سے مجھے بہت دکھ ہوا ہے۔

  • ملک میں بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار سے تجاوز

    ملک میں بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار سے تجاوز

    ملک میں بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار سے تجاوز کر گیا-

    باغی ٹی وی : ذرائع پاور ڈویژن کے مطابق ملک میں بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار 99 میگاواٹ ہے ،بجلی کی مجموعی پیداوار 19 ہزار901 میگاواٹ ہے،ملک میں بجلی کی طلب 26 ہزار میگاواٹ ہے،پانی سے 4 ہزار 193میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے –

    وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس،لوڈ شیڈنگ پر بریفنگ اور اہم فیصلے لیے جائیں گے

    ذرائع پاور ڈویژن کے مطابق سرکاری تھرمل پلانٹس ایک ہزار 261 میگاواٹ بجلی پیدا کررہے ہیں نجی شعبے کے بجلی گھروں کی مجموعی پیداوار 11ہزار 565 میگاواٹ ہے ونڈ پاور پلانٹس ایک ہزار347 میگاواٹ اور سولرپلانٹس سے پیداوار118 ہے-

    ذرائع پاور ڈویژن کے مطابق بگاس سے چلنے والے پلانٹس 181 میگاواٹ بجلی پیدا کررہے ہیں ، جبکہ جوہری ایندھن ایک ہزار 237 میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے-

    ذرائع پاور ڈویژن کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں 16 گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے،اسلام آباد ریجن میں بھی 6گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے،زیادہ نقصانات والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ زیادہ ہے-

    ملک کے میدانی علاقوں میں موسم شدید گرم، گرد آلود ہوائیں چلنے کا امکان

    دوسری جانب شاہد خاقان عباسی نے حکومت کی جانب سے لوڈشیڈنگ پر عوام سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ 30 جون تک لوڈشیڈنگ ڈیڑھ سے دو گھنٹے رہ جائے گی ہ آج سے ساڑھے تین گھنٹےسے کم لوڈشیڈنگ ہوگی،پچھلی حکومت نے 4 سال تک عوام سے جھوٹ بولا، سابق حکومت نے کوئی نیا پاور پلانٹ نہیں لگایا، ہم 60 روپے فی یونٹ بجلی بنا کر عوام کو 15 روپے فی یونٹ دے رہے ہیں، ملک میں بجلی کی ضرورت 25 ہزار میگاواٹ اور پیداوار 21 ہزار میگاواٹ ہے جبکہ وزیر توانائی خرم دستگیر نے بتایا کہ جن علاقوں کے لوگ بل ادا نہیں کرتے وہاں لوڈشیڈنگ زیادہ ہوگی۔

  • 30 جون تک لوڈشیڈنگ ڈیڑھ سے دو گھنٹے رہ جائے گی، شاہد خاقان عباسی کا دعویٰ

    30 جون تک لوڈشیڈنگ ڈیڑھ سے دو گھنٹے رہ جائے گی، شاہد خاقان عباسی کا دعویٰ

    اسلام آباد: وفاقی وزرا کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے حکومت کی جانب سے لوڈشیڈنگ پر عوام سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ 30 جون تک لوڈشیڈنگ ڈیڑھ سے دو گھنٹے رہ جائے گی۔

    باغی ٹی وی : شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ فیصلہ نہ کرنے سے ملک کا ہزاروں ارب روپے کا نقصان ہوچکا ہے اور ہوتا رہے گا،نیب ہے کیا اور اس نے ملک میں کیا کیا؟ یہ ہمیں ٹھنڈے دل سے سوچنا ہوگا،ملک میں نیب کو استعمال کرکے سیاست پراثرانداز ہونے کی کوشش کی گئی،نیب نے کتنوں کو جیل میں ڈالا اورکتنوں پر جرم ثابت ہوا، ملک میں احتساب کے ادارے موجود ہیں –

    وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس،لوڈ شیڈنگ پر بریفنگ اور اہم فیصلے لیے جائیں گے

    انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب اجرت پر کام کر کے گھر چلے گئے ہیں،چیئرمین نیب کو سیاست کوتوڑنے مڑورنے پر جواب دینا ہوگا،بتائیں کہ ان چار سال میں کتنے الزمات درست ثابت ہوئے؟جب تک نیب کا ادارہ موجود ہے حکومت نہیں چل سکتی قطرسےجن معاہدوں پر مجھے جیل میں ڈالا گيا انہی معاہدوں کی بدولت آج پاکستان کی معیشت بچی ہوئی ہے اور ہر ماہ 700 ملین ڈالرز کی بچت ہو رہی ہے۔

    ملک کے میدانی علاقوں میں موسم شدید گرم، گرد آلود ہوائیں چلنے کا امکان

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج سے ساڑھے تین گھنٹےسے کم لوڈشیڈنگ ہوگی،پچھلی حکومت نے 4 سال تک عوام سے جھوٹ بولا، سابق حکومت نے کوئی نیا پاور پلانٹ نہیں لگایا، ہم 60 روپے فی یونٹ بجلی بنا کر عوام کو 15 روپے فی یونٹ دے رہے ہیں، ملک میں بجلی کی ضرورت 25 ہزار میگاواٹ اور پیداوار 21 ہزار میگاواٹ ہے-

    جبکہ وزیر توانائی خرم دستگیر نے بتایا کہ جن علاقوں کے لوگ بل ادا نہیں کرتے وہاں لوڈشیڈنگ زیادہ ہوگی۔

    عمران خان پچھلے سال سے کہہ رہے تھے ،کہ کچھ ہونے والا ہے،عظمی کاردار

  • سلمان شہباز،ملک مقصود اور طاہر  نقوی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    سلمان شہباز،ملک مقصود اور طاہر نقوی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    عدالت نے سلمان شہباز ، ملک مقصود اور طاہر نقوی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے-

    باغی ٹی وی : عدالت نے آئندہ سماعت پر متعلقہ پولیس سے وارنٹس پر عمل درآمد رپورٹ طلب کر لی، سپیشل جج سینٹرل اعجاز حسن اعوان نے گزشتہ سماعت کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا-

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پولیس نے تینوں مفرور ملزمان کے ایڈریس اور ولدیت سے متعلق ضمنی چالان جمع کروایا اسپیشل سینٹرل کورٹ نے کہا کہ پہلے جمع کروائے گئے چالان میں ملزمان کے کوائف درست نہیں تھے ،متعلقہ ایس ایچ او ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر وارنٹس پر عمل درآمد رپورٹ ییش کرے-

    اسپیشل سینٹرل کورٹ میں ایف آئی اے منی لانڈرنگ کیس کی سماعت 11 جون تک ملتوی کر دی-

  • چیئرمین نیب کی تعیناتی کیلئے چیف جسٹس سے مشاورت کیلئے دائر درخواست مسترد

    چیئرمین نیب کی تعیناتی کیلئے چیف جسٹس سے مشاورت کیلئے دائر درخواست مسترد

    اسلام آباد : چیئرمین نیب کی تعیناتی کیلئے چیف جسٹس اطہرمن اللہ سے مشاورت کیلئے دائر درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی گئی-

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللّٰہ نے نیب چیئرمین کی تعیناتی کیلئے چیف جسٹس پاکستان سے مشاورت کے لیے شہری محمد فہد کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔

    گستاخانہ بیانات: آل پاکستان انجمن تاجران نے بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کر…

    درخواست میں میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ چیئرمین نیب کی تعیناتی کے معاملے پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہوا، قومی اسمبلی میں قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کی مشاورت سے چیئرمین نیب کا تقرر ہوتا ہے۔

    درخواست گزار نے کہا کہ 2001 میں بھی سپریم کورٹ نے سیکشن 6 میں ترمیم کرکے چیف جسٹس کی مشاورت کا کہا، 20 سال گزرنے کے باوجود نیب آرڈیننس میں چیئرمین نیب کی تعیناتی سے متعلق شق میں ترمیم نہ کی جا سکی-

    درخواست میں اپیل کی گئی کہ وزارت قانون کو چیئرمین نیب کی تعیناتی کے طریقہ کار میں ترمیم کی ہدایت کی جائے اور چیف جسٹس پاکستان کی مشاورت کے بغیر نئے چیئرمین نیب کی تعیناتی سے روکا جائے۔

    درخواست پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئےکہ چیئرمین نیب کی تعیناتی پارلیمنٹ کا اختیار ہے اور یہ عدالت پارلیمنٹ کوہدایات نہیں دے سکتی اس فیصلے میں سپریم کورٹ کی صرف آبزرویشن تھی، سپریم کورٹ کے جس فیصلے کا آپ نے حوالہ دیا اس کے بعد کافی فیصلے آچکے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف آج بزنس کانفرنس سے خطاب کریں گے،مریم اورنگزیب

    وزیراعظم شہباز شریف آج بزنس کانفرنس سے خطاب کریں گے،مریم اورنگزیب

    اسلام آباد: وفاقی وزیرمریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف آج بزنس کانفرنس سے خطاب کریں گے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ماہرین آئی ٹی، زراعت، ٹیکسٹائل، تجارت اور برآمدی شعبوں کےبارےمیں سفارشات پیش کریں گے پری بجٹ بزنس کانفرنس آج ہوگی،وزیراعظم شہبازشریف بطورمہمان خصوصی کانفرنس میں شریک ہوںگے،کانفرنس میں انفارمیشن ٹیکنا لو جی ، زراعت،ٹیکسٹائل،برآمدات اور کاروبارزیر بحث آئیں گے،کانفرنس کا مقصد ملک کو درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی تیار کرنا ہےکانفرنس آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے تجاویز کے حصول میں بھی اہم کردار اداکرے گی-

    دوسری جانب وفاقی وزیرمریم اورنگزیب نے کہا کہ بزنس کانفرنس میں ملک بھر سے کاروباری برادری شریک ہو گی ،کانفرنس میں ملک بھر کی کاروباری برادری سے بجٹ پر مشاورت ہوگی –

    عمران خان پچھلے سال سے کہہ رہے تھے ،کہ کچھ ہونے والا ہے،عظمی کاردار

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعظم معاشی ترقی کےلئے اپنا وژن کاروباری برادری کےسامنے رکھیں گے،توانائی اورشعبہ آئی ٹی کے کاروباری حضرات کانفرنس میں شریک ہوں گے، شعبہ زراعت، فوڈ سیکیورٹی اور ٹیکسٹائل سے منسلک افراد بھی شریک ہوں گے-

    سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے کرپشن اسکینڈلز نیب کو بھیجنے کی قرار داد جمع

    انہوں نے کہا کہ مینوفیکچرنگ اور برآمدات سے تعلق رکھنے والے حضرات کانفرنس کا حصہ ہوں گےوزیراعظم کانفرنس میں میثاق معیشت کے لیے نیشنل ڈائیلاگ کا آغاز کریں گےوزیراعظم معاشی مسائل کے حل کے لیےوسط اور طویل المدتی اقدامات پر تبادلہ خیال کریں گے-

    وزیراعظم شہباز شریف کا عربی زبان میں ٹوئٹر اکاؤنٹ فعال

    وفاقی وزیر نے کہا کہ مالی سال 2022-23 کے بجٹ کے لیے تجاویز بھی حاصل کریں گےوزیراعظم شہبازشریف کا وژن مستحکم اور پائیدار بنیادوں پر ملکی ترقی ہے وزیراعظم کا وژن ملک میں غربت اورمحرومیوں کا خاتمہ ہے،

    عمران خان کو گرفتار کرنے کا میرا پکا ارادہ ہے،یہ آدمی نوجوانوں کو گمراہ کر رہا ہے،رانا ثناءاللہ