Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • مایا علی اور عثمان خالد بٹ نے شادی اور دو بچوں کی خبروں پر خاموشی توڑ دی

    مایا علی اور عثمان خالد بٹ نے شادی اور دو بچوں کی خبروں پر خاموشی توڑ دی

    اداکارہ مایا علی اور اداکار عثمان خالد بٹ نے دونوں کی شادی اور دو بچوں کی خبروں پر خاموشی توڑ دی ہے-

    باغی ٹی وی : اداکارہ مایا علی ساتھی اداکار عثمان خالد بٹ کے ہمراہ ندا یاسر کے شو میں شریک ہوئیں، جہاں انہوں نے دیگر سوالات کے علاوہ اپنی شادی کے حوالے سے گردش کرنے والی افواہوں پر کھل کر بات کی اور جوابات دیئے-

    مایا علی نے بتایا کہ ان کی عثمان خالد بٹ کے ساتھ شادی کی خبریں ابھی سے نہیں بلکہ کئی برس پہلے جب ان دونوں کا ڈراما ’’عون زارا‘‘ نشر ہوا تھا اس وقت سے میڈیا میں گردش کررہی ہیں۔

    آغا علی نے اپنی اور حنا الطاف کی علیحدگی کی خبروں پر خاموشی توڑ دی

    ساتھ ہی مایا علی نے اس حوالے سے ایک دلچسپ واقعہ بتاتے ہوئے کہا کہ جب ان دونوں کے ڈرامے ’’عون زارا‘‘ کا پوسٹر جاری ہوا تھا تو ان کی والدہ کو بھی لگا تھا کہ ہم نے سچ میں شادی کرلی ہے اور انہوں نے فون کرکے مجھے خوب ڈانٹا تھا۔

    اداکار عثمان خالد بٹ نے مایا کی بات میں اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ سرچ انجن گوگل اور وکی پیڈیا پر ہمارے بارے میں نا صرف یہ لکھا ہوا ہے کہ ہم دونوں شادی شدہ ہیں بلکہ یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ ہمارے دو بچے بھی ہیں۔

    مایا علی اور عثمان خالد بٹ نے اپنی شادی اور بچوں کی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ہم دونوں بہت اچھے دوست ہیں، میاں بیوی نہیں اور نا ہی ہمارے بچے ہیں۔

  • ایچ ای سی کی بحالی کے خلاف وفاق کی اپیل سماعت کیلئے مقرر

    ایچ ای سی کی بحالی کے خلاف وفاق کی اپیل سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ میں چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی بحالی کے خلاف وفاق کی اپیل سماعت کیلئے مقرر کردی گئی۔

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ 26 اپریل کو سماعت کرے گا جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ بھی بینچ کا حصہ ہوں گے۔

    وفاق نے چیئرمین ایچ ای سی طارق بنوری کی بحالی کے فیصلے کو چیلنج کر رکھا ہے۔

    واضح رہے کہ رواں سال کے شروع میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر طارق جاوید بنوری کو ان کے عہدے پر بحال کر دیا تھا سابقہ حکومت پی ٹی آئی نے گذشتہ سال مارچ میں ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے چیئرمین ڈاکٹر طارق بنوری کو مدت ملازمت مکمل کرنے سے پہلے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

    سٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفیکیشن میں کہا گیا تھا کہ ایچ ای سی کے آرڈیننس 2002 میں ترمیم کے بعد ڈاکٹر طارق بنوری کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیا گیا ہےآرڈیننس 2002 کے تحت ڈاکٹر طارق بنوری نے چیئرمین ایچ ای سی کے عہدے پر چار سال کے لیے فائز رہنا تھا، اس کے تحت ان کی مدت ملازمت مئی 2022 میں مکمل ہونا تھی ترمیمی آرڈیننس 2021 کے تحت چیئرمین ایچ ای سی کی مدت کم کر کے دو سال کر دی گئی ہے۔

    امریکی حکومتی عہدیداروں سے ملاقات میں کون سی امریکی سازش پر بات ہوئی؟ وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں صدارتی آرڈیننس جاری کرنے کے دائرہ اختیار اور چیئرمین ایچ ای سی کو ہٹائے جانے کے خلاف درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔

    بعد ازاں وفاق نے چیئرمین ایچ ای سی طارق بنوری کی بحالی کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس پررواں سال فروری میں سپریم کورٹ نے چیئرمین ایچ ای سی طارق بنوری کی بحالی کے خلاف وفاق کی اپیل ابتدائی سماعت کیلئے منظور کر لی تھی اس وقت جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی تھی اور ریمارکس دیئے تھے کہ چیئرمین ایچ ای سی کی سربراہی میں کمیشن جو بھی تعیناتیاں کر رہا ہے وہ اس کیس سے مشروط ہوں گی۔

    سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین ایچ ای سی کی بحالی کا مختصر فیصلہ جاری کیا ہے ہائیکورٹ کے تفصیلی فیصلے کے بعد کیس کی سماعت کریں گےکیس کی سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل عامر رحمٰن نے کہا تھا کہ چیئرمین ایچ ای سی کو پابند کیا جائے کہ روزانہ کے معاملات پر کام کریں چیئرمین ایچ ای سی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی تعینات نہیں کر سکتے۔

    ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ ایچ ای سی کے قوانین اب بدل چکے ہیں انہوں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ چیئرمین ایچ ای سی کو پالیسی معاملات پر فیصلوں سے روکا جائے۔

    عمران خان کو سیکورٹی تھریٹ ، ویڈیو لنک کے ذریعے جلسے سے خطاب کریں ،حکومتی مراسلہ

    جسٹس منیب اخترنے استفسار کیا تھا کہ چیئرمن ایچ ای سی کے پاس کسی کی تعیناتی کے اختیار کیوں نہیں ہیں؟ایک طرف آپ کہہ رہے ہیں قانون میں ترمیم کر دی اور پھر کہہ رہے ہیں چیئرمین کو اختیارات کے استعمال سے بھی روکیں۔

    ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا تھا کہ چیئرمین ایچ ای سی صرف ایکسپرٹ تعینات کر سکتے ہیں چیئرمین ایچ ای سی ریکٹر اور کمیٹی ممبران کی تعیناتی کرکے اختیارات سے تجاوز کر رہے ہیں۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا تھا کہ چیئرمین ایچ ای سی کے موجودہ کیس کے فیصلے پر تعیناتیوں کا معاملہ طے ہو گا۔ عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی تھی چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ 26 اپریل کو سماعت کرے گا-

    واضح رہے کہ ڈاکٹر طارق بنوری کو پی ٹی آئی کی حکومت سے پہلے مسلم لیگ ن کی حکومت میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے مئی 2018 کو ہائر ایجوکیشن کمیشن کا چیئرمین تعینات کیا تھا۔

    پی ٹی آئی حکومت کی 4 سالہ معاشی کارکردگی کی رپورٹ جاری

  • آصف زرداری کی چودھری شجاعت کی رہائشگاہ آمد ، پرویز الٰہی منظر نامے سے غائب

    آصف زرداری کی چودھری شجاعت کی رہائشگاہ آمد ، پرویز الٰہی منظر نامے سے غائب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق صدر آصف زرداری متحرک ہو گئے ہیں-

    رپورٹ کے مطابق آصف زرداری نے سابق وزیراعظم ق لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین کی رہائش گاہ کا دورہ کیا اور چودھری شجاعت حسین سے ملاقات کی۔


    آصف زرداری جب چودھری شجاعت کی رہائش گاہ پہنچے تو رکن قومی اسمبلی چودھری سالک حسین نے ان کا استقبال کیا ملاقات میں وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ بھی موجود تھے-

    پی ٹی آئی حکومت کی 4 سالہ معاشی کارکردگی کی رپورٹ جاری

    ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال پر بات چیت کی گئی آصف زرداری نے سیاسی صورتحال پر ساتھ چلنے پر شکریہ ادا کیا اور آئندہ بھی مشورے سے چلنے پر بات چیت ہوئی-

    آصف زرداری کی چودھری شجاعت حسین کی رہائش گاہ آمد اور ملاقات میں چودھری پرویز الٰہی نظر نہیں آئے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں سالک چودھری اور طارق بشیر چیمہ نے اپوزیشن کا ساتھ دیا تھا اور عمران خان کے خلاف ووٹ دیا تھا وہ ملاقات میں موجود تھے تاہم چودھری پرویز الٰہی جنہوں نے عمران خان کا ساتھ دیا وہ اس ملاقات میں موجود نہیں تھے مونس الٰہی بھی موجود نہیں تھے-

    باخبر ذرائع کے مطابق چودھری خاندان میں اس وقت اختلافات چل رہے ہیں چودھری خاندان ملکی سیاسی صورتحال میں تقسیم ہو چکا ہے پرویز الٰہی پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہیں جبکہ چودھری شجاعت موجودہ حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں ۔موجودہ کابینہ نے حلف اٹھایا تو اس میں طارق بشیر چیمہ کو دوبارہ وزارت دی گئی ہے عمران خان کابینہ میں بھی طارق بشیر چیمہ وزیر تھے اور چودھری پرویز الٰہی کی جانب سے عمران خان کی حمایت پر طارق بشیر چیمہ نے وزارت سے استعفی دے دیا تھا-

    کابینہ میں اضافہ،طارق فاطمی معاون خصوصی برائے امور خارجہ مقرر

  • امریکی حکومتی عہدیداروں سے ملاقات میں کون سی امریکی سازش پر بات ہوئی؟ وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ

    امریکی حکومتی عہدیداروں سے ملاقات میں کون سی امریکی سازش پر بات ہوئی؟ وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ

    وفاقی وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ نے امریکی رکن کانگریس الہان عمر سے ملاقات پر سابق وزیر اعظم عمران خان سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ جلسوں میں "Absolutely not” کے نعروں سے قوم کو بھڑکانے والے نے امریکیوں سے ملاقات کے لئے "Absolutely yes” کیوں کہا؟-

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں رانا ثناء اللہ نے کہا کہ امریکی حکومتی عہدیداروں سے ملاقات سازش ہے یا مداخلت، عمران نیازی قوم کو جواب دیں ؟

    امریکی رکن کانگریس الہان عمر کی عمران خان سے بنی گالا میں ملاقات


    رانا ثناء اللہ نے کہا کہ الہان عمر سے ملاقات میں کون سی امریکی سازش پر بات ہوئی، قوم جاننا چاہتی ہے؟ اپوزیشن سے امریکیوں کی ملاقات کو سازش کہنے والا اپوزیشن میں جاکر امریکیوں سے کیوں مل رہا ہے؟ کون سی سازش تیار ہو رہی ہے؟


    وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اگر آپ نے قوم کو نہ بتایا تو تحقیقات کراؤں گا، قوم کو سچائی کا پتہ چلنا چاہیے، یہ نہ ہو عمران نیازی اپنی روایت کے مطابق چند دن بعد ایک اور خط سامنے لے آئے۔


    ان کا کہنا تھا کہ قوم کو امریکا کے خلاف بھڑکانے والا آج امریکیوں سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہا تھا، "ابسلوٹلی ناٹ” کے نعروں سے قوم کو بھڑکانے والے نے ملاقات کے لیے "ابسلوٹلی یس” کیوں کہا؟ –

    پی ٹی آئی حکومت کی 4 سالہ معاشی کارکردگی کی رپورٹ جاری

  • عمران خان کو سیکورٹی تھریٹ ، تحریک انصاف کو ایک اور حکومتی مراسلہ جاری

    عمران خان کو سیکورٹی تھریٹ ، تحریک انصاف کو ایک اور حکومتی مراسلہ جاری

    لاہور کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے آج لاہور مینار پاکستان میں جلسے کے حوالےسے تحریک انصاف کو ایک اور مراسلہ جاری کرگیا ہے-

    باغی ٹی وی : مراسلے کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان بلٹ پروف گاڑی میں سفرکریں اور ان کی گاڑی کی کھڑکیاں اورچھت مکمل بند ہونی چاہیے خطاب کی جگہ اور سامنے لگنے والا شیشہ بھی بلٹ پروف ہونا چاہیے، جلسہ گاہ میں بیک اپ جنریٹرز موجود ہونے چاہیے تاکہ بجلی کی بندش پر ناخوشگوار واقعے سے بچاجاسکے۔

    مراسلے میں کہا گیا کہ اسٹیج، خواتین اور مردوں کے داخلی دروازوں کی سکیورٹی یقینی بنائی جائے گی جبکہ جلسہ گاہ میں ایمرجنسی انخلا کے راستے بھی یقینی بنائے جائیں اور پولیس کے ساتھ جلسہ گاہ کے باہر قناطیں اورباڑلگانےکاکام مکمل کیاجائے اسٹیج اور وی آئی پی جگہ پرکوئی نامعلوم شخص داخل نہ ہوسکے اور جلسہ انتظامیہ پولیس اور ٹریفک پولیس کے ساتھ تعاون یقینی بنائے۔

    قبل ازیں تحریک انصاف کے مینار پاکستان جلسے کے حوالے سے ،ڈپٹی کمشنر لاہورنے تحریک انصاف کی قیادت کو خط لکھا تھا ، کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث عمران خان جلسہ گاہ آنے کے بجائے ویڈیولنک پر خطاب کریں-

    ڈپٹی کمشنر لاہور نے خط میں کہا تھا کہ مینار پاکستان جلسے میں سکیورٹی خدشات موجود ہیں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان ویڈیولنک کے ذریعے خطاب کرلیں، جلسہ گاہ مت جائیں۔

    عمران خان کو ملنے والے تحائف کی تفصیل عام کرنے کا حکم

    واضح رہے کہ حکومت ختم ہونےکے بعد پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ملک بھر میں جلسوں کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے، پی ٹی آئی نے پہلا جلسہ پشاور اور دوسرا جلسہ کراچی میں کیا تھا اور اب تیسرا جلسہ آج مینار پاکستان لاہور میں ہونے جارہا ہے۔

    قبل ازیں سابق وزیراعظم عمران خان نے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ جمعرات کو مینار پاکستان پر انشاء اللہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ کروں گا عمران خان نے مینار پاکستان میں جلسہ کرنے کی وجہ سے پردہ اٹھاتے ہوئےکہا تھا کہ یہ جلسہ میں اس لیے کررہا ہوں کہ 1940 میں اسی جگہ پر قراردادپاکستان پاس ہوئی تھی، اس وقت بھارت کے مسلمانوں نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ آزاد ملک پاکستان میں رہنا چاہتے ہیں۔

    امریکی رکن کانگریس الہان عمر کی وزیرِ اعظم سے ملاقات، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال…


    عمران خان نے مزید کہا تھا کہ میں کل پاکستانیوں کو مینار پاکستان اپنی حقیقی آزادی کی جنگ لڑنے کیلئے بلارہا ہوں کیوں کہ ہمارے اوپر ایک بیرونی سازش کے تحت اپنے غلاموں اور پاکستان کے کرپٹ ترین افراد کو مسلط کیا گیا ہے ساتھ ہی اپنے پیغام میں عمران خان نے ہر طبقے کے افراد کو جلسے میں شرکت کی دعوت دی۔

    امریکی رکن کانگریس الہان عمر کی عمران خان سے بنی گالا میں ملاقات

  • امریکی رکن کانگریس الہان عمر کی  عمران خان سے بنی گالا میں ملاقات

    امریکی رکن کانگریس الہان عمر کی عمران خان سے بنی گالا میں ملاقات

    سابق وزیراعظم وپاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے امریکی رکن کانگریس الہان عمر نے بنی گالا میں ملاقات کی، اس موقع پر شاہ محمود قریشی ، شیریں مزاری بھی موجود تھے۔

    باغی ٹی وی : رہنما پی ٹی آئی شیریں مزاری نے اپنے ٹوئٹ میں عمران خان کے ساتھ لی گئی امریکی رکن کانگرس کی تصویر شئیر کی اور کہا کہ عمران خان سے امریکی رکن کانگریس الہان عمر نے بنی گالا میں ملاقات کی، ملاقات کے دوران اسلاموفوبیا اوراس سے متعلقہ امورپربات چیت کی گئی۔


    شیریں مزاری نے بتایا کہ الہان عمر نے اسلاموفوبیا کےخلاف عمران خان کے مؤقف کی تعریف کی جبکہ عمران خان نے اسلاموفوبیا پر الہان عمر کے جرات مندانہ اور اصولی مؤقف کوسراہا۔

    دوسری جانب صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے امریکی رکن کانگریس الہان عمر نے ملاقات کی تھی صدر مملکت نے ان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، دونوں ممالک کے درمیان تعمیری روابط خطے میں امن اور ترقی کو فروغ دیں گے، باہمی مفاد کے لیے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے، دو طرفہ تبادلوں سے دونوں ممالک کے درمیان افہام و تفہیم میں بہتری آئے گی۔

    امریکی رکن کانگریس الہان عمر کی وزیرِ اعظم سے ملاقات، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال…


    صدر مملکت کا کہنا تھا کہ مودی حکومت کی طرف سے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، بھارت مسلمانوں کی نسل کشی میں ملوث ہے اور ان کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب ہوا ہے صدر مملکت نے خطے میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کے کردار اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو بھی اجاگر کیا۔

    الہان عمر نے اسلاموفوبیا کے خلاف پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو مزید بہتر اور مضبوط کرنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔

    ترک صدر کا اسرائیلی ہم منصب سے ٹیلفونک رابطہ، مسجد اقصٰی میں نمازیوں پر تشدد کی شدید مذمت

  • امریکی رکن کانگریس الہان عمر کی وزیرِ اعظم سے ملاقات، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال پر تبادلہ خیال

    امریکی رکن کانگریس الہان عمر کی وزیرِ اعظم سے ملاقات، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال پر تبادلہ خیال

    وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی کانگریس وومن محترمہ الہان ​​عمر نے ملاقات کی-

    باغی ٹی وی: وزیرِ اعظم شہباز شریف سے آج امریکی ہاؤس آف ریپریزنٹیٹیوز کی رکن الہان ​​عمر کی اسلام آباد میں ملاقات ہوئی ان کے عزم و ہمت اور سیاسی جدوجہد کو سراہتے ہوئے، وزیر اعظم نے پاکستان کے پہلے دورے پر ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔

    وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ اس سے پاکستان اور امریکی عوام کے درمیان تعلقات مزید گہرے ہوں گے اور پاکستانی پارلیمنٹ اور امریکی کانگریس کے درمیان تبادلہ خیال کو تقویت ملے گی۔

    وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور باہمی احترام، اعتماد اور مساوات پر مبنی دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط کرنا چاہتا ہے انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ دونوں ممالک کے درمیان تعمیری روابط سے خطے میں امن، سلامتی اور ترقی کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔

    ملاقات میں پاک امریکہ تعلقات سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا دو طرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اس بات کا ذکر ہوئے کہ امریکہ پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے، وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان بالخصوص تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

    وزیراعظم نے پاکستان امریکہ تعلقات کو تقویت دینے میں سمندر پار پاکستانیوں کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان قومی ترقی اور نمو میں ان کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

    وزیر اعظم نے IIOJK میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کو اجاگر کیا اور جموں و کشمیر کے تنازعہ کے پرامن حل کی اہمیت پر زوردیا جس سے خطہ اپنی اقتصادی صلاحیت کر بھرپور طریقے سے بروئے کار لا سکے اور سماجی ترقی کو فروغ دے سکے۔

    وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ایک پرامن اور مستحکم جنوبی ایشیاء ہی اپنی ترقی پر بھرپور توجہ دے سکتا ہے اسلامو فوبیا جیسی برائی سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

    رکن کانگریس الہان ​​عمر نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ ان کے دورہ پاکستان سے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔

    علاوہ ازیں امریکی کانگریس کی مسلمان رکن الہان عمر نے وفد کے ہمراہ وزارتِ خارجہ آفس کا دورہ کیا وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر نے معزز مہمانوں کا خیر مقدم کیا-

    وزیر مملکت برائے خارجہ امور نے الہان عمر اور ان کے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا اور کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان دیرینہ دو طرفہ مراسم ہیں، پاکستان، امریکہ کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور باہمی دلچسپی کے مختلف شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون کو آگے بڑھانے کیلئے پرعزم ہے-

    وزیر مملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر نے مقبوضہ کشمیر میں، 5 اگست 2019 کے یکطرفہ بھارتی اقدامات کے بعد مظلوم کشمیریوں کی پرزور حمایت اور ان کے حق میں آواز اٹھانے پر الہان عمر کا شکریہ ادا کیا-

    ممتاز پاکستانی امریکن ڈیموکریٹک رہنما طاہر جاوید بھی اس ملاقات میں شریک تھے

    کانگریس کی خاتون رکن الہان ​​عمر 20 سے 24 اپریل 2022 تک پاکستان کا دورہ کر رہی ہیں۔ اسلام آباد میں قیادت سے ملاقاتوں کے علاوہ، وہ لاہور اور آزاد جموں و کشمیر کا دورہ کریں گی تاکہ پاکستان کی ثقافتی، سماجی، سیاسی اور اقتصادی صلاحیت کو زیادہ سے زیادہ سمجھ سکیں۔

  • پی ٹی آئی حکومت کی 4 سالہ معاشی کارکردگی کی رپورٹ جاری

    پی ٹی آئی حکومت کی 4 سالہ معاشی کارکردگی کی رپورٹ جاری

    اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نو منتخب حکومت نے سابقہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی 4 سالہ معاشی کارکردگی کی رپورٹ جاری کردی –

    باغی ٹی وی : مسلم لیگ ن کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں 2013 سے 2018 تک کی ن لیگ کی حکومت اور 2018 میں آنے والی تحریک انصاف کی حکومت کا موازنہ کیا گیا ہے۔

    وفاقی حکومت کا اوورسیزپاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے قانون پرنظرِثانی کا فیصلہ

    رپورٹ کے مطابق قومی ترقی کی شرح پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور میں 6.1 فیصد تھی جبکہ یہ پی ٹی آئی حکومت میں 4 فیصد پر آگئی تھی جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور میں مہنگائی 3.9 فیصد تھی جبکہ پی ٹی آئی کے دور میں یہ 10.8 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی ایس پی آئی میں مہنگائی مسلم لیگ (ن) کے دور میں 0-9 فیصد تھی جبکہ پی ٹی آئی کے دور میں یہ 17.3 فیصد کی ہو شربا سطح پر تھی خوراک کی مہنگائی ن لیگ کے دور میں 2.3 فیصد جبکہ پی ٹی آئی کے دور میں 10.2 فیصد تھی-


    مالیاتی خسارے کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور میں مالیاتی خسارہ 2 ہزار 260 ارب روپے تھا جبکہ پی ٹی آئی کے آخری سال یعنی 2021-2022 میں یہ 5 ہزار 600 ارب ہوچکا ہے قومی آمدن کے تناسب سے شرح ترقی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور میں 11.1 فیصد تھی جو پی ٹی آئی کا دور ختم ہونے پر آج 9.1 فیصد ہے۔

    پی ٹی آئی کا ملک میں بلا تاخیرعام انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ تحریک انصاف کے دور میں ملکی قرض اور ادائیگیوں کے بوجھ میں ہوشربا اضافہ ہوا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے مالی سال 2017-18 میں جب اقتدار چھوڑا تھا توسرکاری شعبے کا قرض 24 ہزار 953 ارب روپے تھا۔ پی ٹی آئی نے مالی سال 2021-22 میں جب اقتدار چھوڑا ہے تو یہ قرض 42 ہزار 745 ارب روپے کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔

    پاکستان کا مجموعی قرض اور ادائیگیاں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے آخری سال 29 ہزار 879 ارب تھیں۔ عمران خان نے یہ مجموعی قرض اور ادائیگیاں 51 ہزار 724 ارب کی بلند ترین تاریخی سطح پر پہنچا دی ہیں۔

    رپورٹ میں تحریک انصاف دور میں غیر ملکی قرض میں تاریخی اضافے کی نشاندہی کی گئی اور کہا گیا کہ سرکاری شعبے کا غیرملکی قرض پاکستان مسلم لیگ (ن) کے گزشتہ دور میں 75.4 ارب ڈالر تھا جو پی ٹی آئی کے دور میں 102.3 ارب ڈالر پر جاپہنچا ہے۔

    عمران خان کل لاہور کے جلسہ میں اہم اعلان کریں گے،شیخ رشید

    کہا گیا کہ پی ٹی آئی کے پونے چار سال میں جی ڈی پی کی شرح سے قرض اور ادائیگیوں کے مجموعی بوجھ میں 100 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔ یہ صورتحال ہماری خودمختاری اور قومی سلامتی کے لئے براہ راست خطرہ ہے۔

    بے روزگاری کے حوالے سے بتایا گیا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اقتدار چھوڑا تھا تو پاکستان میں بے روزگاروں کی تعداد 35 لاکھ تھی۔ پی ٹی آئی نے اقتدار چھوڑا ہے تو ملک میں بے روزگاروں کی تعداد 95 لاکھ ہے۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور میں خط غربت یا انتہائی مفلسی میں زندگی گزارنے والے افراد کی تعداد 5 کروڑ50 لاکھ تھی۔ پی ٹی آئی نے اقتدار چھوڑا ہے تو آج یہ تعداد 7 کروڑ 50 لاکھ ہوچکی ہے۔

    کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے کے حوالے سے بتایا گیا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں یہ 19.2 ارب ڈالر تھا جبکہ پی ٹی آئی نے اقتدار چھوڑا ہے تو پاکستان کا کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ 20 ارب ڈالرہے۔ یعنی اس میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے دور میں تجارتی خسارہ 30.9 ارب ڈالر تھا جبکہ پی ٹی آئی نے اقتدار چھوڑا ہے تو تجارتی خسارہ 43 ارب ڈالر ہے، مسلم لیگ (ن) نے 2017-2018 میں جب حکومت چھوڑی تھی توپاکستان کے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر 10 ارب ڈالر تھے۔ پی ٹی آئی نے حکومت چھوڑی ہے تو غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر10.8 ارب ڈالر ہیں۔

    کابینہ میں اضافہ،طارق فاطمی معاون خصوصی برائے امور خارجہ مقرر

  • پاکستان کے دورہ نیدرلینڈز کا شیڈول جاری

    پاکستان کے دورہ نیدرلینڈز کا شیڈول جاری

    لاہور : پاکستان کے دورہ نیدرلینڈز کا شیڈول جاری کر دیا گیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پاکستان اور نیدرلینڈز کے مابین دو طرفہ ون ڈے انٹرنیشنل سیریز اگست میں روٹرڈم میں کھیلی جائے گی۔ سیریز میں شامل تین ون ڈے انٹرنیشنل میچز 16، 18 اور 21 اگست کو کھیلے جائیں گے۔

    قومی ہاکی ٹیم کے دورہ یورپ میں میچز کا شیڈول فائنل

    اس سے قبل یہ سیریز جولائی 2020 میں کھیلی جانی تھی۔ تینوں میچز آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ سپر لیگ کا حصہ ہیں۔

    دونوں ٹیمیں اس طرز کی کرکٹ میں آخری مرتبہ آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ 2003 میں مدمقابل آئی تھیں۔

    آئی سی سی مینز ورلڈ کپ سپر لیگ میں پاکستان نے اپنے 12 میں سے 6 میچز جیت رکھے ہیں جبکہ نیدرلینڈز کی ٹیم 10 میں سے صرف 2 میچز ہی جیت سکی ہے۔

    ڈائریکٹر انٹرنیشنل پی سی بی ذاکر خان نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ میزبان بورڈ کے تعاون سے وہ اس سیریز کو ری شیڈول کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ یہ سیریز نیدرلینڈز میں کرکٹ کے فروغ اور ترقی کے لئے بہت اہم ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ قومی کرکٹ ٹیم کا سیزن 22-2021شاندار رہا ہے، وہ پر اعتماد ہیں کہ قومی کھلاڑی بہترین کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے نیدرلینڈز کے فینز کو بہترین تفریح فراہم کریں گے۔

    شیڈول:

    16 اگست: پہلا ون ڈے انٹرنیشنل میچ؛ وی او سی کرکٹ گراؤنڈ روٹرڈم
    18 اگست: دوسرا ون ڈے انٹرنیشنل میچ؛ وی او سی کرکٹ گراؤنڈ روٹرڈم
    21 اگست: تیسرا ون ڈے انٹرنیشنل میچ؛ وی او سی کرکٹ گراؤنڈ روٹرڈم

    کرکٹ ٹیموں کے آئندہ 12 ماہ کا کرکٹ کیلنڈر جاری

  • پاکستان کا من گھڑت اور جھوٹی سٹوری شائع کرنے پر بی بی سی سے جواب طلب

    پاکستان کا من گھڑت اور جھوٹی سٹوری شائع کرنے پر بی بی سی سے جواب طلب

    پاکستان نے بی بی سی اردو کی جانب سے من گھڑت اور جھوٹی سٹوری شائع کرنے پر برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کے ہیڈ کوارٹرز سے جواب طلب کر لیا۔

    باغی ٹی وی : پاکستان کی تحریری شکایت ڈائریکٹر جنرل بی بی سی کو موصول ہو گئی ہے جس کی تصدیق کر دی گئی ہے بی بی سی نے پاکستان کی شکایت پر معاملے کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے کی شائع ہونے والی خبر بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ ہے، آئی اس…

    خیال رہے کہ رواں سال 10اپریل کو بی بی سی اُردو نے ایک انتہائی لغو اور بے بُنیاد سٹوری شائع کی تھی،اس سٹوری کہانی میں تمام باتیں حقائق اور صحافتی اُصولوں کے منافی تھیں آئی ایس پی آر سمیت تمام شراکت دار اس سٹوری کو مسترد کر چکے ہیں-

    آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کی آج شائع ہونے والی خبر سراسر بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ ہے۔ عام پروپیگنڈہ کہانی میں کوئی معتبر، مستند اور متعلقہ ذریعہ نہیں ہے اور یہ بنیادی صحافتی اخلاقیات کی خلاف ورزی ہے بی بی سی کی 9، 10 اپریل کی درمیانی شب کے واقعات پر گمراہ کن جعلی کہانی میں کوئی حقیقت نہیں ہے اور جو بھی واضح طور پر ایک منظم ڈس انفارمیشن مہم کا حصہ لگتا ہے۔

    ہفتہ کی شب وزیراعظم ہاؤس میں آخر ہوا کیا؟ بی بی سی کا بڑا دعویٰ

    آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ بی بی سی حکام کے ساتھ اٹھایا جا رہا ہے۔

    خیال رہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ بی بی سی نے جھوٹی اور بے بنیاد سٹوری بنائی ہے اس سے قبل بی بی سی اُردو ماضی میں بھی ایسی ہی بے بُنیاد اور جھوٹی سٹوریاں شائع کرتا رہا ہے۔

    عمران خان کو ملنے والے تحائف کی تفصیل عام کرنے کا حکم