Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • ایران میں مقیم افغان شہریوں  کےساتھ خراب برتاؤ،طالبان نے ایرانی سفیر کو طلب کر لیا

    ایران میں مقیم افغان شہریوں کےساتھ خراب برتاؤ،طالبان نے ایرانی سفیر کو طلب کر لیا

    کابل:ایران میں مقیم افغان شہریوں کے ساتھ خراب برتاؤ پر طالبان نے ایرانی سفیر کو چلب کر لیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کئی ویڈیو کلپس میں افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد کو ایرانی پولیس اہل کاروں اور بعض ایرانی شہریوں کے ہاتھوں ناروا سلوک کا نشانہ بنتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

    روس میں افغان سفارت خانہ طالبان کے مقرر کردہ سفیر کے حوالے

    طالبان حکومت نے گذشتہ روز اتوار کو کابل میں ایران کے سفیر کو طلب کر کے ایران میں مقیم افغان عوام کے ساتھ خراب برتاؤ پر احتجاج کیا۔

    اس ضمن میں افغان وزارت خارجہ کے نگراں امیر خان متقی نے ایرانی سفیر بہادر امینیان کو آگاہ کیا کہ یہ تصرفات دو طرفہ تعلقات کے لیے برے نتائج کے حامل ہوں گے الہذاٰ افغان شہریوں کے ساتھ برا سلوک روک دیا جائے۔

    دوسری جانب طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی تہران حکومت سے مطالبہ کیا کہ افغان شہریوں کے ساتھ "برے برتاؤ” کا سلسلہ روکا جائے انہوں نے واضح کیا کہ افغان حکومت کو کئی رپورٹیں موصول ہوئی ہیں جن سے ایران میں افغان عوام کے ساتھ ناروا سلوک کی تصدیق ہوتی ہے۔

    سری لنکن صدر کے خلاف سب سے بڑا تاریخی احتجاج ،’گو گوٹا ہوم‘ کے نعرے

    برطانوی خبررساں ادارے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ایرانی حکام پر لازم ہے کہ وہ افغان مہاجرین کو ان کی خواہش کے مطابق اپنے وطن واپس جانے کی اجازت دے دیں طالبان حکومت سفارتی ذرائع سے اس معاملے کو دیکھ رہی ہے۔

    دوسری جانب کابل میں ایرانی سفارت خانے کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران اور افغانستان کے تعلقات کو ایک "سازش” کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے سفارت خانے کے مطابق ایران میں پچاس لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین ہیں اور انہیں وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو ایرانی شہریوں کے پاس ہیں۔

    ایران نے مزید 24 امریکی آفیشلز پر پابندیاں عائد کردیں

  • یوکرینی شہرماریوپول پر حملہ کرکےکیف میں داخل ہو جائیں گے، چیچن سربراہ

    یوکرینی شہرماریوپول پر حملہ کرکےکیف میں داخل ہو جائیں گے، چیچن سربراہ

    چیچن سربراہ رمضان قدیروف نے دھمکی دی ہے کہ یوکرینی شہرماریوپول پر حملہ کرکےکیف میں داخل ہو جائیں گے-

    باغی ٹی وی :آج پیر کی صبح اپنے تازہ ترین بیان میں چیچن سربراہ رمضان قدیروف نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے حلف نے باور کرایا کہ روسی افواج یوکرین کے جنوب مشرق میں محصور ساحلی شہر ماریوپول ، دارالحکومت کیف اور دیگر شہروں پر حملہ کریں گی۔

    روس نے بین الاقوامی تنظیموں”ایمنیسٹی انٹرنیشنل” اور "ہیومن رائٹس…

    ٹیلی گرام پر جاری ویڈیو پیغام میں رمضان نے مزید کہا کہ پہلے ہم لوجاسک اور دونیسک پر مکمل کنٹرول حاصل کریں گے۔ پھر اس کے بعد کیف اور دیگر تمام شہروں کا کنٹرول سنبھالیں گے۔

    قدیروف گذشتہ ماہ مارچ کے وسط میں ایک تصویر میں تقریبا 30 مسلح افراد کے بیچ نظر آئے تھے اس تصویر کے بارے میں دعوی کیا گیا تھا کہ یہ یوکرین کے شہر ماریوپول کی ہے۔

    روس کے ہمنوا رمضان قدیروف جنگ شروع ہونے کے بعد اپنی کئی ریکارڈ شدہ وڈیوز جاری کر چکے ہیں ان وڈیوز میں وہ اپنے فوجیوں کی "کیف کے نازیوں” کے سامنے بہادری کو سراہتے ہیں۔

    روس کا یوکرین کے گولہ بارود کے ڈپو تباہ کرنے کا دعویٰ

    یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن کا آغاز 24 فروری کو ہوا تھا۔ بحیرہ آزوف پر واقع ماریوپول شہر روس کا تزویراتی ہدف ہے۔ بالخصوص اس پر قبضہ کر لینے سے مشرق میں روس کے ہمنوا علاحدگی پسندوں کے زیر کنٹرول علاقوں کو جنوب میں جزیرہ نما قرم کے ساتھ مربوط کیا جا سکے گا۔ روس نے 2014ء میں قرم کو اپنی حدود میں شامل کر لیا تھا۔

    واضح رہے کہ تقریبا دو ماہ قبل یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے چیچن سربراہ رمضان قدیروف کئی بار اپنے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر یوکرین میں لڑائی میں چیچن فورسز کی شرکت کے حوالے سے بیان دے چکے ہیں۔

    دوسری جانب یوکرین کے حساس علاقوں کے انتظام وانصرام کے ذمے دار ادارے (اسٹیٹ ایجنسی فارمینجنگ دی ایکسکلوژن زون) نے چرنوبل جوہری پلانٹ پرقبضہ کرنے والی روسی افواج پر تحقیقی لیبارٹریوں سے خطرناک تابکار مواد چرانے کا الزام عاید کیا ہے اورکہا ہے کہ یہ مواد انھیں ممکنہ طور پرہلاک کر سکتا ہے۔

    یورپی یونین کا روس کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان

    روس کی افواج نے 24 فروری کو یوکرین پرحملے کے پہلے دن ہی چرنوبل میں واقع اس ناکارہ پاور پلانٹ پر قبضہ کر لیا تھا۔انھوں نے 31 مارچ کووہاں سے پسپائی اختیارکرنے سے پہلے ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک انتہائی تابکار زون پر قبضہ کیے رکھا تھا۔

    یوکرینی ایجنسی نے اتوارکے روز فیس بُک پرایک بیان میں کہا ہے کہ روسی فوجیوں نے علاقے میں دو لیبارٹریوں کو لوٹ لیا ہے۔روسی فوجی ایکو سینٹر ریسرچ بیس کے ذخیرہ کرنے والے حصے میں داخل ہوئے تھے اورانھوں نے 133انتہائی تابکار مادے چوری کرلیے تھے اگراس مواد سے غیرپیشہ ورانہ انداز میں نمٹا جائے تو اس کا معمولی سا ذرّہ بھی مہلک ہے۔

    یوکرین: ریلوے اسٹیشن پر روس کا مبینہ راکٹ حملہ، 5 بچوں سمیت 50 افراد ہلاک

    اسی ہفتے کے اوائل میں یوکرین کے وزیرتوانائی جرمن گلاشچینکو نے کہا تھا کہ روسی فوجیوں نے خود کو جوہری تابکاری کی ’’چونکا دینے والی‘‘مقدار سے روشناس کرایا اب اس کے بعد ان میں سے کچھ کے پاس زندہ رہنے کے لیے ایک سال سے بھی کم وقت ہوسکتا ہے اور واضح طور پر وہ زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکیں گے،بلکہ بیماریوں سے ان کی سست روی سے موت واقع ہوسکتی ہے

    گلاشچینکو نے جمعہ کواخراج زون کا دورہ کرنے کے بعد کہا کہ انھوں (روسی فوجیوں) نے تابکاری سے آلودہ ننگی مٹی کھودی، محفوظ کرنے کے لیے تھیلوں میں تابکار ریت جمع کی اور اسی دھول میں سانس لیا تھا ہر روسی فوجی چرنوبل کا ایک ٹکڑا زندہ یا مردہ گھر لے جائے گا روسی فوجی سازوسامان بھی اس تابکار مادے سے آلودہ ہوا ہے مگر روسی فوجیوں کی اس خطرناک مواد سے لاعلمی حیران کن ہے۔

    یادرہے کہ چرنوبل پاور اسٹیشن 1986ء میں بدترین جوہری تباہی سے دوچار ہوا تھا اوردنیا میں اس نوعیت کا یہ پہلا بڑا جوہری حادثہ تھا۔

    یوکرینی صدرولادیمیر زیلنسکی کی گریمی ایوارڈز کی تقریب میں شرکت

  • امریکی خط کی رام کہانی ، ازقلم: غنی محمود قصوری

    امریکی خط کی رام کہانی ، ازقلم: غنی محمود قصوری

    امریکی خط کی رام کہانی

    موجودہ حالات میں آپ کسی یوتھیئے سے پوچھیں کہ بھئی یہ حظ والی کہانی کیا ہے؟

    تو وہ جواب دے گا کہ حظ امریکی گورنمنٹ نے خود لکھا ہے ہمارے وزیر اعظم کو اور دھمکی دی تھی ان کو

    دوبارہ پوچھیں بھائی حظ کے اندر لکھا کیا تھا اور حظ کیا امریکی گورنمنٹ نے پوسٹ کیا تھا وزیراعظم کے نام پر؟

    تو جواب تو جواب ہو گا ہاں تو اور کیا آپ کو نہیں پتہ فلاں فلاں مگر اس سے آگے اگر کچھ بتائیں ہمیں بتائیے گا ضروران بےچارے اندھے سیاسی مقلدین کو جو انکا لیڈر بول دے وہ ان سیاسی مقلدین (یوتھیئے . پٹواری. جیالے وغیرہ ) کے لئے وہ بات معاذاللہ قرآنی حکم اور حدیث کا درجہ رکھتی ہے یہ تحقیق کرنے کے عادی ہی نہیں اور پھر یہ سیاسی جماعتوں کے مقلدین اندھا دھند اپنی نفرت کا رخ افواج پاکستان کی جانب کرتے ہیں-

    اور یہ طریقہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کا ہے بشمول پی ٹی آئی کے، اصل میں یہ چاہتے ہیں کہ افواج پاکستان انکے لیڈروں کے سامنے پنجاب پولیس کی طرح بن کر رہے یعنی ان کے گھروں کی لونڈی، ان کی ہر ہاں میں ہاں ملائی جائے تو مامے خان 27 فروری کو بھجوانا تھا نا اپنے کسی سورمے لیڈر کو تو خیر یہ تو ہونے والا نہیں کبھی قیامت تک بھی ان شاء اللہ کیونکہ اگر ایسا ہو جائے تو ملکی سلامتی کا حال وہی ہوگا جو ہمارے ملک میں پولیس کی کارکردگی کے باعث لاء اینڈ آرڈر کا ہے اور نتیجتاً ہمارے خون کے پیاسے بھارتی ہندو کل ہی چڑھ دوڑیں گے پاکستان پر-

    خیر اصل بات کی طرف آتا ہوں یہ حظ کیا تھا اور خان صاحب نے اس کو کیسے سیاسی انتشار پھیلانے کے لئے استعمال کیا ہے یہ خظ منٹ آف میٹنگ تھا جو امریکہ کے پاکستانی سفیر کے ساتھ امریکی آفیشل نے باتیں کی تھیں اور ان باتوں کا راوی ہمارا پاکستانی سفیر ہے جو امریکہ میں ہوتا ہے پاکستان کی گورنمنٹ کی طرف سے اور یہ خظ امریکی آفیشل کی جانب سے نہیں لکھا گیا تھا بلکہ یہ سفیر نے مراسلہ لکھا کہ یہ یہ میٹنگ میں باتیں ہوئی ہیں-

    جب روس یوکرائن پر حملہ کرنے جا رہا تھا تو امریکہ اور اسکے تمام اتحادی یعنی نیٹو وغیرہ غصے میں تھے جبکہ ترکی کو بھی یہ حملہ قبول نہیں تھا کیونکہ وہ بھی نیٹو میں شامل ملک ہے اسی دوران خان صاحب کا دورہ روس ہونا تھا جو کہ پہلے سے طے شدہ تھا مگر پاکستانی سیکورٹی آفیشلز نے انہیں روکا کہ ابھی دورہ نا کریں کیوں کہ روس کی جانب سے یوکرائن پر حملے کی تیاریاں مکمل ہیں اور اگر ایسا ہوا تو یورپ اور امریکہ سے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں-

    چونکہ ہماری تجارتی و معاشی منڈی ابھی تک یورپ اور امریکہ ہی ہیں ناکہ روس ہے اس لئے دورہ نا کیا جائےمگر ہمارا ہیرو خان نیازی کہاں سنتا ہے عسکری قیادت کو کہتا ہے کہ دورہ طے شدہ ہے اور انکل نیازی نکل پڑا تو اسی روز روس نے یوکرائن پر حملہ بھی کر دیا

    ہمارے یوتھیئے تصاویر شیئر کر کے خوش ہوتے رہے کہ دیکھا کپتان نے کیسے جنگ لگوائی فلاں فلاں او بھئی دو کافر ملکوں کی جنگ ایک تمہارا پرانا دشمن اور حالیہ ایک سے امداد لے کر اپنے ہی بندے اندر کر رہے ہو اور ساتھ قرض بھی لیتے ہو اور کہتے ہو کہ ہم اس کے غلام نہیں او غلام نہیں تو اپنی ہی مذہبی جماعت کی دلالی تاحال کھانے والوں کرو رہا فوری اپنے جہادی ہے ہمت ایسا کرنے کی ؟-

    اگر فوج دفاعی نقطہ نظر سے قوم کا بھلا کرے تو غلط اکڑوں خان گردن میں سریا رکھے تو درست چاہے نئی دشمنی پڑ جائے اسے کیا اس نے تو پارلیمنٹ ہاؤس کی نکر یا پھر برطانیہ میں نکل جانا ہے دہشت گردی کی آگ میں جلنا بیچاری غریب عوام نے ہےخیر اسی مدعہ پر آتا ہوں-

    اسی دورہ روس کی خبر امریکی گورنمنٹ کو بھی تھی تو انہوں پہلے ہی ہمارے سفیر کو بلا کر سخت الفاظ میں کہا کہ اگر آپکا وزیر اعظم روس کا دورہ اس جنگی ماحول کے دوران کرتا ہے تو یہ ہمیں قبول نہیں ہوگا اور اس کے نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں اور آپ کے ملک کے لئے یہ نتائج اچھے نہیں ہوں گے (یعنی دفاعی، معاشی اور دیگر پابندی وغیرہ وغیرہ جو امریکہ کرتا ہے ہر اپنے حریف کے ساتھ )-

    یہ ایک طویل میٹنگ تھی پاکستانی سفیر کے ساتھ ظاہری بات ہے امریکہ اور روس دونوں ممالک ایک دوسرے کے سخت حریف ہیں اور کئی دہائیوں سے ان کے درمیان کولڈ وار چل رہی ہے اور پاکستان کا اتحادی امریکہ ہے آج بھی دفاعی اور معاشی امور پر نا کہ روس تو ایسے میں ابھی پاکستان کے کوئی ایسے معاملات ہوئے ہی نہیں کہ روس سے دفاعی و معاشی تو پھر ہمیں اس جنگ کا حصہ بننے کا فائدہ
    جبکہ جنگ بھی دو کافر ملکوں کے مابین ہے-

    روس تو آج بھی بھارت کی حمایت کرتا ہے دفاعی کھلے عام اور بھارت دنیا میں ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اور کشمیر پر قابض بھی ہے
    سوچنے کی بات ہے بھئی کہ جب کسی ملک سے ایسے معاملات ہوں جیسے آپ کے امریکہ کے ساتھ ہیں تو ایسی صورت حال میں ہمیشہ ہر ملک اپنے ملک میں موجود سفیر کو طلب کرتا ہے اور سخت بات ہی کرتا ہے کہ جناب اگر آپ کی حکومت نے ایسا کیا تو یہ ہو جائے گا ہم فلاں فلاں کر دیں گے-

    حتی کہ ایسے ہی ہمارے ملک میں بھی بہت بار دوسرے ممالک کے سفیروں کی طلبی کی جاتی رہی ہے اور سیکورٹی امور پر سخت الفاظ کہے جاتے رہے ہیں سفیر اور پھر وہ سفیر ان سب باتوں کو اپنی حکومت کو مراسلات میں لکھ کر سینڈ کر دیا کرتے ہیں یہاں اس خط میں بھی وہی معاملہ ہوا ہے-

    مراسلہ منجانب پاکستانی سفیر وزیراعظم کو منٹس آف میٹنگ لکھ کر سینڈ کر دئیے گئے اور اسی دوران بلکہ اس سارے معاملے سے قبل آپوزیشن نے پی ٹی آئی کے لوگ خریدنے شروع کر دئیے تھے تحریک عدم اعتماد کے لئے اب حظ جب آیا تو اسی وقت خان صاحب نے شور کیوں نہیں مچایا بلکہ جب دیکھا کہ تحریک کامیاب ہونے جا رہی اور کافی یار فروخت ہوچکے ہیں سیاسی منڈی میں تو پھر اچانک خان نے یہ چال چل دی کہ یہ سب امریکہ کروا رہا ہے-

    خان صیب نے اپنے ہی سفیر کا لکھا مراسلہ اٹھا اٹھا کہنا شروع کر دیا کہ مجھے امریکہ سے ایک دھمکی والا حظ آیا ہے اور اپوزیشن کو انہوں نے میرے پیچھے لگایا ہے وغیرہ بھئی نیازی خان جمہوری رویہ اختیار کرو تم نے بھی تو کئی سال آپوزیشن بن کر اس وقت کی حکومت کو نتھ ڈالی رکھی تھی اور چینی حکومت کے دورے کے وقت بھی تم باز نہیں آئے تھے دھرنا اسلام آباد میں جو کہ پارلیمنٹ کے سامنے کیا تھا تم نے یاد ہے کہ نہیں؟ وہ جلاؤ گھیراؤ،وہ پی ٹی وی پر حملہ تو کیا اس وقت تم نے بھی بھارت سے پیسے لے رکھے تھے پاکستان کو مشکلات میں مبتلا کرنے کے لئے؟-

    اب جب وزیراعظم نے شور مچانا شروع کر دیا کہ جناب مجھے امریکہ سے دھمکی آئی ہے ثبوت میرے پاس ہے تو اسی وقت پاکستان کی نیشنل سکیورٹی کونسل نے وزیراعظم سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ کیا دھمکی ہے جو ہمیں بھی نہیں پتہ چلی اور بڑی خاموشی سے امریکہ نے آپ کو دی ہے (ورنہ امریکہ تو جب کسی ملک کو دھمکی دیتا ہے بڑی کھل کر دیتا ہے چاہئے دھمکی پر عمل کرے یا نا کرئے مگر ہوائی فائرنگ ضرور کرتا ہے)-

    تو خان صاحب نے وہ سفارتی مراسلہ دیکھایا اب نیشنل سکیورٹی کونسل نے اسے نارمل ہی لیا اور یہ طے ہوا کہ اس کا جواب مراسلہ ہی میں دیا جائے گا نا کہ احتجاجی طور پر کیوں کہ یہ مراسلہ جو آپ کے پاس ہے یہ ایک ملک کو دوسرے ملک کی دھمکی نہیں ہے لحاظا جوابی کارروائی میں جوابی مراسلہ ہی کی صورت میں دیا گیا تھا-

    اور پھر امریکی گورنمنٹ کی آفیشل نے بھی اپنے ویڈیو بیان میں تردید کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پاکستان کو کوئی دھمکی نہیں دی اس کہانی میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

    تو بھائی یہ ہے ساری رام کہانی خط والی ،میری گزارش ہے قوم یوتھ سے خاص کر مقلدین مذہبی قوم یوتھ سے کہ اس سے أگے کچھ ہے تو لاؤ ورنہ فوج پر الزام نا لگاؤ-
    شکریہ

    غنی محمود قصوری
    کونسل ممبر ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور
    #قصوریات

  • امریکا کی اپنے شہریوں کو چین کے سفر سے متعلق سخت ہدایات جاری

    امریکا کی اپنے شہریوں کو چین کے سفر سے متعلق سخت ہدایات جاری

    امریکی حکومت نے اپنے شہریوں کو چین کا سفر کرنے کے حوالے سے سخت ہدایات جاری کر دی ہیں۔

    باغی ٹی وی : کورونا وائرس کے کیسوں میں اضافے اور کوویڈ کے پھیلاؤ کو روکنے کے چینی طریقہ کار کی وجہ سے امریکی حکومت نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ چین نہ جائیں۔

    شنگھائی میں کئی کیسوں میں کوویڈ پابندیوں کے تحت بچوں کو ان کے والدین سے بھی الگ کیا جا رہا ہے کسی بھی شخص میں کوویڈ کی تشخیص پر اسے الگ تھلگ کر کے اسپتال میں قرنطینہ کی مدت پوری کرنا ہوتی ہے۔

    واشنگٹن حکومت نے شہریوں کو ہانگ کانگ نہ جانے کا بھی مشورہ دیا ہے۔

    واضح رہے کہ چین میں کورونا نے پھرسراٹھا لیا ہے چین کے شہر شنگھائی میں حکومت کی جانب سے کورونا لاک ڈاؤن کے باعث شہریوں کو غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    شنگھائی میں لاک ڈاؤن کے تحت کچھ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ شہر کے اب تک کے سب سے بڑے کوویڈ پھیلنے کے درمیان ان کے پاس کھانا ختم ہو رہا ہے رہائشی اپنے گھروں تک محدود ہیں، یہاں تک کہ اشیائے خورد و نوش کی خریداری جیسی ضروری وجوہات کی بنا پر بھی باہر جانے پر پابندی ہے۔.

    چین:کورونا وائرس کا دوبارہ پھیلاو تیزی سے جاری،2500 سے زائد نئے کیسز

    شنگھائی کی انتظامیہ نے اعتراف کیا ہے کہ شہر کو “مشکلات” کا سامنا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ اس میں بہتری لانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن شہریوں میں سخت غصہ اور بے چینی بھی ہے ، جیسا کہ بچوں کو کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد ان کو والدین سے الگ کیا جا رہا ہے۔

    شہریوں کے ردعمل کے بعد شنگھائی کے حکام نے بعد میں ان والدین کو بھی ان کے بچوں کے ساتھ تنہائی کے مراکز میں جانے کی اجازت دے دی ہے تاہم ایک بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اب بھی والدین سے الگ ہونے والے بچوں کے بارے میں شکایات موجود ہیں جو کوویڈ پازیٹو نہیں تھے۔

    حکومت نے شنگھائی شہر میں ہر معاملے کی شناخت اور الگ تھلگ کرنے کے لیے بدھ کو لازمی بڑے پیمانے پر کورونا ٹیسٹنگ کا ایک اور دور شروع کر دیا ہے شنگھائی کے وہ شہری جن کا کورونا ٹیسٹ مثبت آ گیا ہے وہ اپنے گھروں میں الگ تھلگ نہیں رہ سکتے چاہے کورونا کی علامت ہلکی ہوں یا مہلک ہوں شنگھائی میں قرنطینہ مراکز پر بھی سخت دباؤ ہے، اور حکومت نئے قرنطینہ مراکز قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

    کورونا کی نئی قسم سابقہ ریکارڈ توڑنےلگی

  • کسی کا پیروکار بننا چھوڑیں اور خود لیڈر بنیں، وقار ذکا  کا نوجوانوں کو پیغام

    کسی کا پیروکار بننا چھوڑیں اور خود لیڈر بنیں، وقار ذکا کا نوجوانوں کو پیغام

    نوجوانوں میں بے پناہ مقبول پاکستانی معروف میزبان اور سماجی کارکن وقار ذکا نے تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہونے پر اپنی ذاتی رائے کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : وقار ذکا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ یہ پاکستان کی طرف لوٹنے کا وقت ہے، ہمیں نئی ​​سیاسی جماعتوں کی ضرورت ہے، ہمیں نوجوانوں کی ضرورت ہے کہ وہ صرف ووٹ نہیں دیں بلکہ اگلے انتخابات میں کھڑے ہوں۔

    عدم اعتماد کی کامیابی: رمیز راجا سمیت پی سی بی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا امکان

    اُنہوں نے نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ اگر آپ واقعی پاکستان کی پرواہ کرتے ہیں تو آپ سب اپنے اپنے علاقوں سے الیکشن لڑنے کی کوشش کریں۔

    وقار ذکا نے اپنے پیغام میں نوجوانو ں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ کسی کا پیروکار بننا چھوڑیں اور خود لیڈر بنیں۔

    واضح رہے کہ عمران خان پارلیمانی تاریخ کے پہلے وزیراعظم ہیں جنہیں باقاعدہ آئینی طریقہ کار کے تحت عدم اعتماد کی قرارداد کے ذریعے اپنے عہدے سے ہٹایا گیا۔

    نئے وزیراعظم کیلئے شہباز شریف اور شاہ محمود قریشی نے کاغذات نامزدگی جمع کرادیئے

    وزیراعظم عمران خان نے 18 اگست 2018 کو وزارت عظمیٰ کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا اور آج 10 اپریل کو اُن کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کی قرارداد 174 ووٹوں سے کامیاب ہوگئی، جس کے بعد اُن کی وزارت عظمیٰ کا عہد اپنے اختتام کو پہنچا۔

    ہفتہ 18 اگست 2018 کو شروع ہونے والا اُن کا 1332 دنوں پر مشتمل عہد وزارت عظمیٰ اتوار 10 اپریل 2022 کو تمام ہوا۔ عمران خان کی وزارت عظمیٰ کا دور 3 سال 7 ماہ اور 24 دن پر مشتمل رہا ، جو مہینوں میں 43 ماہ اور 24 دن بنتا ہے۔

    ایک بہتر کل کی امید ابھی بھی زندہ ہے، شوبز فنکاروں کا عمران خان کے ساتھ اظہار…

  • عدم اعتماد کی کامیابی: رمیز راجا سمیت پی سی بی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا امکان

    عدم اعتماد کی کامیابی: رمیز راجا سمیت پی سی بی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا امکان

    سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہونے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ ( پی سی بی ) میں بھی بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے-

    باغی ٹی وی : اس ضمن میں ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد پی سی بی میں تبدیلیاں یقینی قرار دی جا رہی ہیں، اور اس حوالے سے چیئرمین پی سی بی رمیز راجا نے قریبی دوستوں اور پی سی بی میں اپنے ساتھیوں سے مشاورت کی ہے۔

    فاطمہ بھٹو پرانے پاکستان کی واپسی پر ناخوش

    ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کے وزیر اعظم نہ ہونے پر رمیز راجا اپنے عہدے پر برقرار رہنے کے حق میں نہیں ہیں چیئر مین پی سی بی عہدے سے الگ ہونے کا ذہن بنا چکے ہیں –


    ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ کل سے شروع ہونے والے ہفتے کے دوران پی سی بی میں اعلیٰ سطح پر تبدیلیوں کا قوی امکان ہے دبئی میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے اجلاس کے بعد رمیز راجا اپنے مستقبل کا اعلان کر سکتے ہیں جبکہ چیئرمین پی سی بی کے مقرر کردہ افراد کا مستقبل بھی روشن نہیں ہے۔


    یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے پیٹرن ان چیف پاکستان کرکٹ کی حیثیت سے رمیز راجا اور اسد علی خان کی گورننگ بورڈ کے لیے نامزدگیاں کی تھیں۔

    واضح رہے کہ رمیز راجا سی ای او اور ڈائریکٹر انٹرنیشنل کے ہمراہ آئی سی سی میٹنگز کے لیے دبئی میں موجود ہیں جبکہ آئی سی سی میٹنگز کا آج دبئی میں آخری روز ہے۔

    عمران خان کیخلاف عدم اعتماد کے بعد شیخ رشید اہم اعلان

  • نئے وزیراعظم کیلئے شہباز شریف اور شاہ محمود قریشی نے کاغذات نامزدگی جمع کرادیئے

    نئے وزیراعظم کیلئے شہباز شریف اور شاہ محمود قریشی نے کاغذات نامزدگی جمع کرادیئے

    اسلام آباد: نئے وزیراعظم کے لئے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور تحریک انصاف کے نائب صدر شاہ محمود قریشی نے کاغذات نامزدگی جمع کرادیئے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد اب نئے قائد ایوان کے انتخاب کا عمل شروع ہوچکا ہے، جس کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے لئے آج دوپہر 2 بجے تک کا وقت دیا گیا تھا۔

    ایک بہتر کل کی امید ابھی بھی زندہ ہے، شوبز فنکاروں کا عمران خان کے ساتھ اظہار یکجہتی

    متحدہ اپوزیشن کی جانب سے نئے قائد ایوان کے لیے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی جمع کرادیئے گئے ہیں شہبازشریف نے خود کاغذات نامزدگی جمع کروائے شہباز شریف کے ہمراہ خواجہ آصف اور دیگر موجود تھے شہبازشریف کی جانب سے 12 کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے ہیں شہباز شریف کے تجویز کنندہ آصف زرداری اور تائید کنندہ بلاول بھٹو زرداری ہیں۔

    دوسری جانب تحریک انصاف نے بھی نئے قائد ایوان کے لئے سابق وزیرخارجہ اور پی ٹی آئی کے نائب صدر شاہ محمود قریشی کے کاغذات نامزدگی جمع کرادیئے ہیں۔ شاہ محمود قریشی کے تائید کنندہ اور تصدیق کنندہ عامر ڈوگراورعلی محمد خان ہیں جب کہ شاہ محمود قریشی کی جانب 4 کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے ہیں۔

    اداکارہ ریشم نے ’’شہباز شریف زندہ باد‘‘ کا نعرہ لگادیا

    اس کے علاوہ پی ٹی آئی کی جانب سے عامر ڈوگر اور ملیکہ بخاری نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے۔

    کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال سہ پہر 3 بجے سے 4:30 بجے تک کی جائے گی ۔

    واضح رہے کہ متحدہ اپوزیشن کی جانب سے جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگئی، جس کے بعد عمران خان اب وزیراعظم نہیں رہے۔ اسپیکر اسد قیصر کے مستعفی ہونے کے بعد قائم مقام اسپیکر ایاز صادق نے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کی کارروائی مکمل کی۔

    عمران خان کیخلاف عدم اعتماد کے بعد شیخ رشید اہم اعلان

  • ایران نے مزید 24 امریکی آفیشلز پر پابندیاں عائد کردیں

    ایران نے مزید 24 امریکی آفیشلز پر پابندیاں عائد کردیں

    ایران نے مزید 24 امریکیوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں جن میں سابق آرمی چیف آف سٹاف جارج کیسی اور سابق صدر ڈونلد ٹرمپ کے اٹارنی جنرل روڈی جولیانی بھی شامل ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق فہرست میں شامل تمام افراد نے ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں مختلف عہدوں پر کام کیا تھا ان میں متعدد کاروباری افراد اور سیاستدان شامل ہیں۔

    سری لنکن صدر کے خلاف سب سے بڑا تاریخی احتجاج ،’گو گوٹا ہوم‘ کے نعرے

    افغانستان میں امریکی افواج کے سابق کمانڈر جنرل آسٹن سکاٹ ملر، سابق امریکی وزیر تجارت ولبر راس اور کئی سابق سفیر نئی ایرانی پابندیوں کا نشانہ بنے ہیں۔

    تہران حکومت نے یہ نئی پابندیاں ایک ایسے وقت میں عائد کی ہیں، جب اس کے عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری مذاکرات تعطل کا شکار ہیں ان مذاکرات کے ذریعے 2015کی عالمی جوہری ڈیل کی بحالی کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    ایران وقتاً فوقتاً امریکیوں کے خلاف پابندیاں عاید کرتا رہتا ہے۔اس کی پابندیوں کی زد میں آنے والے امریکیوں کی ایک طویل فہرست ہے جنوری میں ایران نے 2020 میں عراق میں اعلیٰ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل میں 50 سے زیادہ امریکیوں کے خلاف ان کے مبیّنہ کردارپرپابندیوں کی منظوری دی تھی 2021ء میں ایران نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ، سابق وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور آٹھ دوسرے اعلیٰ عہدے داروں پرپابندیاں عائد کی تھیں۔

    ان پابندیوں کے تحت نشانہ بنائے گئے افراد ایران نہیں جاسکتے اور وہاں اگران کے اثاثے ہیں تو انھیں ضبط کرلیا گیا ہے لیکن ان اقدامات کو علامتی طور پر دیکھا جاتا ہے کیونکہ امریکیوں کا ایران میں کوئی اثاثہ نہیں ہے۔

    روس میں افغان سفارت خانہ طالبان کے مقرر کردہ سفیر کے حوالے

    دوسری جانب ایران کے جوہری ٹیکنالوجی کے قومی دن کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گزشتہ سال اقتدار میں آنے والے ایرانی صدر براہیم رئیسی نے کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ پر امن جوہری ٹیکنالوجی کی تحقیق میں تیزی لانے کی حمایت کرے گی جوہری شعبے میں ہمارا علم اور ٹیکنالوجی قابل واپسی نہیں پُرامن جوہری پروگرام میں ایران کی تحقیق کا تسلسل دوسروں کے مطالبات یا نقطہ نظر پر منحصر نہیں ہوگا۔

    ایران طویل عرصے سے اس بات پر اصرار کرتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ اس سے برقی بجلی اور طبی آئسوٹوپ بنانا چاہتا ہے جبکہ عالمی طاقتوں کا کہنا ہے کہ ایران جوہری بم بنانا چاہتا ہے۔

    ہفتہ کی تقریب کے دوران ایران نے اپنی نئی سول جوہری کامیابیوں کا مظاہرہ کیا ان میں متعدد طبی آئسوٹوپس، زرعی کیڑے مار ادویہ، ڈیٹاکسی فیکیشن آلات اور جوہری ایندھن کا مواد شامل ہیں۔رپورٹ میں اس کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔

    یورپی یونین کا روس کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان

    ایران کی سویلین جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ محمد اسلامی نے کہا ہے کہ جلد ہی 360 میگاواٹ صلاحیت کے ساتھ ایک نئے جوہری بجلی گھر کی تعمیر پر کام شروع کردیا جائے گا۔یہ ملک کے جنوب مغرب میں تیل کی دولت سے مالا مال صوبہ خوزستان میں درخووین شہر کے قریب واقع ہوگا۔

    فرانس کی مدد سے یہ پلانٹ 1979 کے اسلامی انقلاب سے پہلے تعمیر کیا جانا تھا لیکن اس منصوبے کو اس کے ابتدائی مرحلے میں روک دیا گیا تھا۔ یہ جگہ ایران اور عراق کے درمیان 1980 میں شروع ہونے والی آٹھ سالہ جنگ میں لڑائی کا ایک بڑا میدان بن گئی تھی۔

    ایران کا واحد جوہری بجلی گھر 2011 میں جنوبی بندرگاہ شہر بوشہر میں روس کی مدد سے آن لائن ہوا تھا۔اس کی گنجائش 1000 میگاواٹ ہے۔

    ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس وقت وہ 60 فی صد تک مصفا یورینیم تیار کررہا ہے۔ یہ ایران کی اب تک کی بلند ترین سطح ہے اور یہ ہتھیاروں کے گریڈ کی سطح 90 فی صد سے ایک مختصر تکنیکی قدم کم ہے۔ یہ 2015ء میں طے شدہ جوہری معاہدے کی 3۰68 فی صد کی حد سے کہیں زیادہ ہے۔

    بھارت: ہندوانتہا پسندوں نےمسلمان ڈرائیوروں کے خلاف مہم شروع کر دی

  • ایک بہتر کل کی امید ابھی بھی زندہ ہے، شوبز فنکاروں کا عمران خان کے ساتھ  اظہار یکجہتی

    ایک بہتر کل کی امید ابھی بھی زندہ ہے، شوبز فنکاروں کا عمران خان کے ساتھ اظہار یکجہتی

    کراچی: عمران خان کی بطور وزیراعظم برطرفی پر شوبز فنکاروں نے ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : متحدہ اپوزیشن کی جانب سے جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد عمران خان اب وزیراعظم نہیں رہے۔ ان کے عہدے سے فارغ ہونے پر فنکار برادری نے ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ عمران خان اب زیادہ مضبوط ہوکر واپس آئیں گے۔


    سینیئر اداکارہ ثمینہ پیرزادہ جنہوں نے تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے وقت سے ٹوئٹس میں عمران خان کو اپنا کپتان قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ان کی حمایت ان کے ساتھ ہے اور ابھی سے آئندہ انتخابات کی تیاری کرتے ہیں۔


    انہوں نے ایک اور ٹوئٹ میں عمران خان کو مشورہ دیا کہ ’گھبرانا نہیں ہے‘ اتحادی حکومت سے اچھی طاقتور اپوزیشن ہے، آپ ہمارے محافظ ہیں۔


    شان شاہد نے عمران خان کی تصویر شیئر کرتے ہوئے ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور اپنی ٹوئٹ میں انہیں مخاطب ہوتے ہوئے لکھا کہ وزیر اعظم کے طور پر خدمات سر انجام دینا آپ کا پہلا مرحلہ تھا مگر بطور اچھے لیڈر آپ کی کاوشیں اب شروع ہوئی ہیں،مشکلات آپ کے تمغے ہوں گے۔ اس قوم کو آپ کی ضرورت ہے، ہمت نہ ہاریں پاکستان سے دستبردار نہ ہوں۔


    گلوکار و اداکار فرحان سعید نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا تم کتنے عمران بھیجو گے ہر گھر سے عمران نکلے گا آج جو کچھ بھی ہوا افسوسناک تھا لیکن میرا یقین کریں آج سے حقیقی انقلاب شروع ہورہا ہے۔ ہاں یہ اس سے کہیں زیادہ مشکل ہے جتنا ہم نے سوچا تھا لیکن گھبرانا نہیں ہے۔

    اداکارہ مایا علی نے بھی تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے دن کو پاکستان کی تاریخ کاافسوسناک اور سیاہ ترین دن قرار دیتے ہوئے کہا ہمیں صرف صبر، اتحاد اور یقین کی ضرورت تھی۔ ہم نے ہیرا کھودیا، ہم نے ایک سچے سیاستدان اور ایماندار وزیراعظم کو کھو دیا۔ میں عمران خان کو سلام پیش کرتی ہوں کہ انہوں نے اپنی پوری کوشش کی اور پاکستان کی خودمختاری کے لیے آخری دم تک لڑے، شکریہ کپتان۔ میں جانتی ہوں آپ زیادہ مضبوط ہوکر واپس آئیں گے۔ ایک بار لیڈر ہمیشہ لیڈر ہوتا ہے

    اداکارہ حنا خواجہ بیات نے بھی عمران خان کی حمایت میں انسٹاگرام پر ایک پوسٹ اورمختصر ویڈیو بھی شیئر کی، انہوں نے لکھا کہ ایک شخص پاکستان کی سالمیت کے لیے تنہا کھڑا تھا اور ملک کے باقی تمام ادارے کرپٹ سیاسی مافیا کو این آر او دینے کے لیے کھڑے تھے۔

    انہوں نے جذباتی پوسٹ میں عمران خان کو مخاطب ہوتے ہوئے لکھا کہ عوام نے ہی انہیں ووٹ دے کر وزیر اعظم بنایا تھا اور دوبارہ بھی وہی ووٹ دے کر انہیں وزیر اعظم بنائیں گے اور اگر وہ ایسا نہ کر سکے تو بے شک ہم غلط کام کرنے والوں میں سے ہوں گے۔

    ویڈیو میں انہوں نے کہا کہ خدا فرماتے ہیں کہ جیسی قوم ہوتی ہے، انہیں حکمران بھی ایسے ہی عطا کیے جاتے ہیں؟ انہوں نے سوال کیا کہ کیا پھر وہ قوم بن چکے ہیں کہ ہمارے اوپر کرپٹ اور مسٹر ٹین پرسنٹ کے نام سے مشہور لوگ مسلط ہوگئے؟

    اداکارہ زارا نور عباس نے بھی عمران خان کی تصویر شیئر کرتے ہوئے ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور لکھا کہ میرے لیڈر ہمیشہ اور پوری زندگی عمران خان رہیں گے۔


    اداکارہ حریم فاروق نے کہا پاکستان کی تاریخ کا افسوسناک دن۔ آج رات دل بہت بھاری ہے لیکن ایک بہتر کل کی امید ابھی بھی زندہ ہے اور یہی عمران خان کی طاقت ہے۔


    معروف یوٹیوبر زید علی نے لکھا آج کا دن پاکستان کی تاریخ کا انتہائی سیاہ دن ہے۔ ہم نے بطور قوم اپنا سب سے قیمتی اثاثہ کھودیا۔ میں عمران خان کی جرات کو سلام پیش کرتا ہوں جہاں وہ اپنی آخری سانس تک لڑے۔ عمران خان سچے چیمپئن اور لیڈر کی مثال ہیں۔ آپ نے بہت اچھا کھیلا کپتان۔

    اداکارہ عتیقہ اوڈھو نے عمران خان کی ڈاکیومینٹری کی مختصر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ان کے ہی قول لکھے کہ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہمیں کس طرح کا پاکستان چاہیے نوجوانو ، آپ کا مستقبل آپ کے ہاتھ میں ہے، ایک زندہ قوم اپنے حقوق کے لیے کھڑی ہوتی ہے، آپ نے غلامی قبول نہیں کرنی،عمران خان

    اداکار بلال قریشی نے سابق وزیراعظم کی تصویر شیئر کراتے ہوئے انتہائی مایوسی کے عالم میں لکھا ’’پاکستان ہار گیا‘‘۔

    اداکارہ ایمن خان نے بھی عمران خان کی تصویر شیئرکی اور ان کے ساتھ اظہاریکجہتی کرتے ہوئے لکھا آپ ایک سچے لیڈر ہیں۔


    اداکارہ وینا ملک نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کون ہوگا جو عمران خان جیسے لیڈر کی قدر نہیں کرے گا، ۔کون؟ ایسا شخص تو کبھی پاکستان کی تاریخ میں آیا ہی نہیں۔۔سچا، ایماندار، بے لوث، بہادر، دین دار اور حق گو۔


    موسیقار روحیل حیات نے بھی عمران خان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے تن تنہا کرپٹ لوگوں کو آڑے ہاتھوں لیا۔

    اداکارہ یمنیٰ زیدی نے عمران خان ساتھ دیتے ہوئے انقلابی شاعر فیض احمد فیض کی نظم شیئر کرتے ہوئےعمران خان سے یکجہتی کا اظہار کیا۔


    گلوکارہ مومنہ مستحسن نے بھی ٹوئٹ کی مگر انہوں نے عمران خان کا نام نہیں لکھا اور واضح طور پر ان کی حمایت نہیں کی، انہوں نے ملک میں آئینی و قانونی بحران سمیت سیاسی سرکس پر بات کی اور سوال اٹھایا کہ کیا ہر بار اپوزیشن حکومتیں گراتی رہیں گی؟

  • ول اسمتھ سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی، مجبور کیا گیا،جاڈا اسمتھ کا حیران کن انکشاف

    ول اسمتھ سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی، مجبور کیا گیا،جاڈا اسمتھ کا حیران کن انکشاف

    لاس اینجلس: امریکی معروف اداکار وِل اسمتھ کی اہلیہ اور اداکارہ جاڈا اسمتھ نے حیران کن انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ول اسمتھ سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھیں-

    باغی ٹی وی : نیویارک پوسٹ کے مطابق آسکر ایوارڈز کی تقریب میں وِل اسمتھ کے کرس راک کو تھپڑ مارنے اور اکیڈمی کی جانب سے اداکار پر 10 سال کے لیے تقریب میں شرکت پر پابندی کے بعد جاڈا اسمتھ کی 2018 کی ایک ویڈیو گردش کررہی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ وِل اسمتھ سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھیں۔

    ول اسمتھ پر آسکر یا کسی اور اکیڈمی ایونٹ میں شرکت پر 10 سال تک پابندی

    پچاس سالہ جاڈا کا یہ بیان ایک ویڈیو میں سامنے آیا۔وڈیو میں انہوں نے بتایا کہ جیسا کہ آپ لوگ جانتے ہیں کہ نوجوان اداکارہ ہونے اور چھوٹی عمر میں حاملہ ہونے کے سبب میں شدید دباؤ میں تھی ، مجھے نہیں معلوم تھا کہ کیا کروں مجھے شادی کی ہر گز خواہش نہیں تھی”

    2018 کے ایک کلپ میں اپنے شوہر وِل اسمتھ، بیٹے جیڈن اور والدہ کے سامنے جاڈا کہتے ہوئے دکھائی دیتی ہیں کہ وہ شادی نہیں کرنا چاہتی تھیں بلکہ اُنہوں نے والدہ کے مجبور کرنے پر یہ فیصلہ کیا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ 1997 کو ول اسمتھ کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھنے کے دوران وہ پورا وقت روتی رہیں کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ شادی ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور وہ اس جھمیلے میں نہیں پڑنا چاہتی تھیں۔

    ول اسمتھ نے کرس راک سے معافی مانگ لی

    جاڈا نے بتایا کہ بیٹے جیڈن سے حاملہ ہونے کے بعد اُن کی والدہ نے رو رو کر مجھے اور اسمتھ کو شادی کرنے پر مجبور کیا۔

    تاہم جب شو میں وِل اسمتھ کے اظہارِ خیال کی باری آئی تو وِل اسمتھ کا کہنا تھا کہ میری زندگی میں ایسا کوئی دن نہیں تھا جب مجھے شادی کرنے اور اپنے اہل اعیال کی خواہش نہ ہویہ جھوٹ نہیں کہ 5 سال کی عمر سے میں اپنے اہل و اعیال کے بارے میں تصور کرتا تھا کہ کیسا ہوگا‘۔

    جاڈا کی والدہ کا کہنا ہے کہ "مجھے جاڈا اور ول اسمتھ کی شادی کے حوالے سے اپنی خواہش یاد ہے تاہم مجھے یہ یاد نہیں کہ جاڈا نے شادی کے خیال کو مسترد کر دیا تھا-

    رز احمد آسکر ایوراڈ جیتنے والے پہلی مسلمان اداکار بن گئے