Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • اداکارہ ریشم نے ’’شہباز شریف زندہ باد‘‘ کا نعرہ لگادیا

    اداکارہ ریشم نے ’’شہباز شریف زندہ باد‘‘ کا نعرہ لگادیا

    پاکستان کی سینئر اداکارہ ریشم نے مسلم لیگ ن کے صدر اور نئے وزیر اعظم کے متوقع امیدوار شہباز شریف کے حق میں نعرہ لگا دیا۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر ریشم نے اپنی ایک مختصر ویڈیو شیئر کی جس میں وہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی پر کافی خوش نظر آرہی ہیں اورانھیں شہباز شریف کے حق میں نعرے لگاتے دیکھا جاسکتا ہے۔

    فاطمہ بھٹو پرانے پاکستان کی واپسی پر ناخوش

    ویڈیو میں ریشم کا کہنا تھا کہ میرے بہت سے ساتھیوں نے رات گئے بہت سی ویڈیوز بنائیں، نعرے لگائے اور اب وقت نے مجھے بھی مجبور کر دیا ہے کہ میں بھی ایک نعرہ ضرور لگاؤں اور وہ نعرہ ہے’ شہباز شریف زندہ باد‘۔

    ریشم نے اس ویڈیو کے ساتھ پیغام میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ایک باب ختم ہوا، امید ہے یہ نیا باب سنہرا اور تابناک ہوگا۔

    شوبز شخصیات تحریک عدم اعتماد میں عمران خان کی کامیابی کیلئے دعا گو

    خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش ہونے کے بعد شوبز انڈسٹری کی متعدد شخصیات کے عمران خان کے حق بیانات سامنے آئے تھے، یہ سلسلہ رات گئے ان کے عہدے سے فارغ ہونے کے بعد مزید بڑھتا نظر آیا۔

    واضح رہے کہ عمران خان پہلے وزیر اعظم ہیں، جنہیں گذشتہ روز عدم اعتماد کی قرارداد کے آئینی اقدام کے ذریعے ہٹایا گیا ہے۔

    شوبز شخصیات کی ’امر بالمعروف‘ جلسے کی حمایت،وزیراعظم کو "گھبرانا نہیں…

  • عمران خان کیخلاف عدم اعتماد کے بعد شیخ رشید اہم اعلان

    عمران خان کیخلاف عدم اعتماد کے بعد شیخ رشید اہم اعلان

    سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے ذریعے عہدے سے فارغ کیے جانے کے بعد بڑا اعلان کر دیا-

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آج مورخہ 10 اپریل بروز اتوار رات 9 بجے میں لال حویلی کی بالکونی سے اپنے حلقے کےعوام کا شکریہ اداکروں گا۔

    فاطمہ بھٹو پرانے پاکستان کی واپسی پر ناخوش


    سابق وزیر داخلہ نے اعلان میں مزید کہا کہ عمران خان کے ساتھ اظہار یکجہتی کروں گا آج رات 9 بجے لال حویلی راولپنڈی سے۔ انشاءللہ۔

    شیخ رشید نے اپنی ٹوئٹ میں امپورٹڈ_گورنمنٹ_نامنظور کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا اورسابق وزیر اعظم عمران خان کو بھی ٹیگ کیا-

    دوسری جانب سابق وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کا بھی عمرا ن خان کی حمایت میں ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے عمران خان کے لیے دعا کی-


    اسد عمر نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ پچھلے 3 سالوں میں عمران خان کو ملک کی بہتری کے لیے انتھک محنت کرتے دیکھا عمران خان کا واحد مقصد ہے کہ میں پاکستان کو کیسے مضبوط بناسکتا ہوں اور میں کیسے لوگوں کی زندگی بہتر بنا سکتا ہوں۔

    اپنی ٹوئٹ میں اسد عمر نےعمران خان کے لیے دعا کی اللّٰہ آپ کو قوم کی خدمت کرنے کی مزید توفیق عطا فرمائے کپتان عمران خان! ہمیں آپ پر فخر ہے۔

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی جس کے بعد وہ ملک کے وزیراعظم نہیں رہے اور ساتھ ہی عدم اعتماد کے ذریعے ہٹائے جانے والے ملک کے پہلے وزیراعظم بن گئے۔

    عمران خان کی نشانی جو علی محمد قومی اسمبلی سے جاتے وقت ساتھ لے گئے

    وزیراعظم عمران خان نے 18 اگست 2018 کو وزارت عظمیٰ کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا اور آج 10 اپریل کو اُن کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگئی، جس کے بعد اُن کی وزارت عظمیٰ کا عہد اپنے اختتام کو پہنچا۔

    ہفتہ 18 اگست 2018 کو شروع ہونے والا اُن کا 1332 دنوں پر مشتمل عہد وزارت عظمیٰ اتوار 10 اپریل 2022 کو تمام ہوا۔ عمران خان کی وزارت عظمیٰ کا دور 3 سال 7 ماہ اور 24 دن پر مشتمل رہا ، جو مہینوں میں 43 ماہ اور 24 دن بنتا ہے۔

    نئے وزیراعظم کے انتخاب کیلئے قومی اسمبلی کے اجلاس کا وقت تبدیل

  • بنوں:سی ٹی ڈی کی کاروائی میں5 دہشت گرد ہلاک

    بنوں:سی ٹی ڈی کی کاروائی میں5 دہشت گرد ہلاک

    پشاور: کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) بنوں ریجن نے کارروائی کرتے ہوئے 5 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

    باغی ٹی وی : سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک دہشت گردوں سے 3 کلاشنکوف، نائن ایم ایم پستول ،12 میگزینزاور کارتوس برآمد ہو ئے ہیں۔چھاپے کے دوران نقدی، موبائل فونز، نصب شدہ آئی ای ڈی بم اور موٹرسائیکل بھی برآمد ہوا۔

    ہلاک دہشت گرد ٹارگٹ کلنگ،بم دھماکوں اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھے دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تنظیم سے تھا۔

    سی ٹی ڈی کے مطابق دہشت گرد فرار بھی ہوئے ان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

  • فاطمہ بھٹو پرانے پاکستان کی واپسی پر ناخوش

    فاطمہ بھٹو پرانے پاکستان کی واپسی پر ناخوش

    سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی اور مرتضیٰ بھٹو کی صاحبزادی فاطمہ بھٹو پرانے پاکستان کی واپسی پر ناخوش کہتی ہیں پاکستان خراب تھا کوئی بھی نیک نیتی سے پُرانے پاکستان کی واپسی کا جشن نہیں منا سکتا۔

    باغی ٹی وی : فاطمہ بھٹو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ میں ہمیشہ سے عمران خان کی سیاست کی ناقد رہی ہوں اور اکثر لکھا ہے کہ عمران خان اپنی موقع پرستی اور مصلحت پسندی سے پاکستان کے اداروں کو نقصان پہنچائیں گے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے کی شائع ہونے والی خبر بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ ہے، آئی اس پی آر


    فاطمہ بھٹو نے اپنی ٹوئٹ میں مزید لکھا کہ اس لیے میں یہ بات ان کی مدت یا مدت کے حوالے سے بالکل بھی احساس کے بغیر کہتی ہوں کہ "پرانا” پاکستان خراب تھا کوئی بھی نیک نیتی سے پُرانے پاکستان کی واپسی کا جشن نہیں منا سکتا۔

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی جس کے بعد وہ ملک کے وزیراعظم نہیں رہے اور ساتھ ہی عدم اعتماد کے ذریعے ہٹائے جانے والے ملک کے پہلے وزیراعظم بن گئے۔

    عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ویلکم بیک ٹو پرانا پاکستان‘۔

    یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے 18 اگست 2018 کو وزارت عظمیٰ کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا اور آج 10 اپریل کو اُن کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگئی، جس کے بعد اُن کی وزارت عظمیٰ کا عہد اپنے اختتام کو پہنچا۔

    ہفتہ 18 اگست 2018 کو شروع ہونے والا اُن کا 1332 دنوں پر مشتمل عہد وزارت عظمیٰ اتوار 10 اپریل 2022 کو تمام ہوا۔ عمران خان کی وزارت عظمیٰ کا دور 3 سال 7 ماہ اور 24 دن پر مشتمل رہا ، جو مہینوں میں 43 ماہ اور 24 دن بنتا ہے۔

  • برطانوی نشریاتی ادارے کی شائع ہونے والی خبر بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ ہے، آئی اس پی آر

    برطانوی نشریاتی ادارے کی شائع ہونے والی خبر بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ ہے، آئی اس پی آر

    آئی ایس پی آر نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رات کے واقعات پر خبر کو گمراہ کن قرار دے دیا-

    باغی ٹی وی : پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر ) کا کہنا ہے کہ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کی آج شائع ہونے والی خبر سراسر بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ ہے۔ عام پروپیگنڈہ کہانی میں کوئی معتبر، مستند اور متعلقہ ذریعہ نہیں ہے اور یہ بنیادی صحافتی اخلاقیات کی خلاف ورزی ہے۔

    ہفتہ کی شب وزیراعظم ہاؤس میں آخر ہوا کیا؟ بی بی سی کا بڑا دعویٰ

     

    آئی ایس پی آر کے مطابق بی بی سی کی 9، 10 اپریل کی درمیانی شب کے واقعات پر گمراہ کن جعلی کہانی میں کوئی حقیقت نہیں ہے اور جو بھی واضح طور پر ایک منظم ڈس انفارمیشن مہم کا حصہ لگتا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق یہ معاملہ بی بی سی حکام کے ساتھ اٹھایا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی نے 9، 10 اپریل کی درمیانی شب کے واقعات پرایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ ہفتہ کی شب وزیراعظم ہاؤس میں آخر ہوا کیا؟ بی بی سی نے رپورٹ میں بتایا تھا کہ وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے ہنگامے کے درمیان سنیچر کی شب وزیراعظم ہاؤس میں غیر معمولی سرگرمی دیکھنے میں آئی اور اس دوران کچھ تاریخی فیصلے اور واقعات رونما ہوئے، کچھ کیمروں کے سامنے اور بیشتر بند کمروں میں۔

    سنیچر کے روز تمام دن گہما گہمی کا مرکز پارلیمنٹ ہاؤس رہا جہاں کبھی تقاریر ہوتیں اور کبھی اجلاس ملتوی کر کے حکومتی اور اپوزیشن ارکان سپیکر قومی اسمبلی کے درمیان مذاکرات کیے جاتے رہے۔لیکن شام کے وقت جب قومی اسمبلی کا اجلاس روزہ افطار کرنے کے لیے ملتوی کیا گیا تو سرگرمی کا مرکز اچانک وزیراعظم ہاؤس بن گیا تھا-

    عمران خان کی نشانی جو علی محمد قومی اسمبلی سے جاتے وقت ساتھ لے گئے

    رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا اور اس کے ساتھ ہی اپنے قانونی و سیاسی مشیروں، سپیکر و ڈپٹی سپیکر اور بعض بیوروکریٹس کو بھی طلب کیا تھا کابینہ کے اجلاس میں اس مبینہ کیبل کو بعض عہدیداروں کو دکھانے کی منظوری دی گئی جس کے بارے میں سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اس مراسلے میں ان کی حکومت کے خاتمے کے لیے امریکی سازش کی تفصیل درج ہے اس دوران قومی اسمبلی سپیکر اور ڈپٹی سپیکر بھی ایوانِ وزیراعظم پہنچے لیکن انہیں وزیراعظم کے دفتر کے برابر والے لاؤنج میں انتظار کرنے کا کہا گیا۔

    بی بی سے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ اس دوران دو بن بلائے مہمان بھی بذریعہ ہیلی کاپٹر، غیر معمولی سکیورٹی اور چاق و چوبند جوانوں کے حصار میں وزیراعظم ہاؤس پہنچے اور وزیراعظم سے تقریباً پونا گھنٹہ تنہائی میں ملاقات کی۔اس ملاقات میں کیا بات ہوئی باوثوق اور معتبر سرکاری ذرائع نے جنھیں اس ملاقات کے بارے میں بعد میں معلومات فراہم کی گئیں، انھوں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ یہ ملاقات کچھ زیادہ خوشگوار نہیں رہی۔ملاقات میں موجود ایک اعلیٰ عہدیدار کو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے ایک گھنٹہ قبل ہی ان کے عہدے سے برطرف کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس لیے وزیراعظم کے لیے ان مہمانوں کی یوں بن بلائے اچانک آمد غیر متوقع تھی۔

    نئے وزیراعظم کے انتخاب کیلئے قومی اسمبلی کے اجلاس کا وقت…

    رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ عمران خان ہیلی کاپٹرز کے منتظر تو تھے لیکن اس ہیلی کاپٹر کے مسافروں کے بارے میں ان کا اندازہ اور توقعات بالکل غلط ثابت ہوئیں۔ان ذرائع کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم توقع کر رہے تھے کہ اس ہیلی کاپٹر میں ان کے نو مقرر کردہ عہدیدار وزیراعظم ہاؤس پہنچیں گے اور اس کے بعد وہ شور و غوغا مدھم پڑ جائے گا جو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس سے شروع ہوا تھا۔شاید ایسا ہو بھی جاتا لیکن مسئلہ یہ ہوا کہ اس اعلیٰ ترین برطرفی اور ایک نئی تعیناتی کے لیے جو قانونی دستاویز (نوٹیفیکیشن) وزارت دفاع سے جاری ہونی چاہیے تھیں وہ جاری نہ ہو سکیں یوں اس ‘انقلابی‘ تبدیلی کی وزیراعظم ہاؤس کی کوشش ناکام ہو گئی ویسے اگر وزیراعظم کے حکم پر برطرفی کا یہ عمل مکمل ہو بھی جاتا تو بھی اسے کالعدم قرار دینے کا بھی بندوبست کیا جا چکا تھا۔ سنیچر کی رات اسلام آباد کی ہائیکورٹ کے تالے کھولے گئے اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کا عملہ ہائیکورٹ پہنچا۔

    وزارت عظمیٰ کی کرسی چھننے کے بعد عمران خان آج کیا کرنیوالے ہیں؟

    برطانوی خبررساں ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ہائیکورٹ ہنگامی طور پر ایک پٹیشن سماعت کے لیے مقرر کی جانے والی ہے جس میں ایک عام شہری کی حیثیت سے عدنان اقبال ایڈووکیٹ نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بری فوج کے سربراہ کی برطرفی کے ‘ممکنہ‘ نوٹیفیکشن کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔اس فوری درخواست میں کہا گیا تھا کہ عمران خان نے سیاسی اور ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے بری فوج کے سربراہ کو برطرف کرنے کی سفارش کی ہے لہٰذا عدالت اس حکم کو بہترین عوامی مفاد میں کالعدم قرار دے۔

    بی بی سی نے رپورٹ میں کہا تھا کہ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ درخواست تیار تو کر لی گئی لیکن اس میں بری فوج کے سربراہ کی برطرفی کے نوٹیفیکشن نمبر کی جگہ خالی چھوڑ دی گئی تھی۔ اس کی وجہ یہ رہی کہ وزیراعظم کی خواہش کے باوجود یہ نوٹیفیکشن جاری نہیں ہو سکا اور یوں اس پیٹشن پر سماعت کی نوبت ہی نہیں آئی-

    تاہم آئی ایس پی آرنےبرطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رات کے واقعات پر مبنی مذکورہ خبر کو گمراہ کن قرار دے دیا ہے-

    تاریخ رقم،عمران خان سابق وزیراعظم ، عدم اعتماد کامیاب

  • سری لنکن صدر کے خلاف سب سے بڑا تاریخی احتجاج ،’گو گوٹا ہوم‘ کے نعرے

    سری لنکن صدر کے خلاف سب سے بڑا تاریخی احتجاج ،’گو گوٹا ہوم‘ کے نعرے

    ملکی کی معیشت اور سیاسی بحران کے پیش نظر مشکلات سے دو چار لاکھوں سری لنکن شہریوں نے تاریخی احتجاج کرتے ہوئےصدر گوٹابایا راجا پاکسے کے دفتر کا رخ کرلیا۔

    باغی ٹی وی : فرانسیسی خبر رساں ادارے ’فرانس 24‘ نے اے ایف پی کے حوالے سے بتایا کہ 2 کروڑ 20 لاکھ سری لنکن شہریوں کو کئی ہفتوں سے بجلی معطلی، خوراک سمیت ایندھن اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قلت کا سامنا ہے، یہ 1948 میں سری لنکا کی آزادی کے بعد شدید معاشی تنزلی ہے۔

    کولمبو کے سمندر کے کنارے بڑی تعداد میں خواتین اور مردوں نے احتجاج کیا اور قومی پرچم لہراتے ہوئے ’گو گوٹا ہوم‘ کے نعرے لگائے۔

    احتجاج میں شامل میں لوگوں نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا "آپ کے جانے کا وقت آگیا ہے” اور "بس بہت ہو گیا”۔

    کم عمر لڑکی کیساتھ تعلقات : ناروے کے وزیر دفاع نے استعفیٰ دے دیا

    ایک شخص نے ہجوم سے کہا”یہ یہاں کے معصوم لوگ ہیں ہم سب جینے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ حکومت کو جانا چاہیے اور ایک قابل شخص کو ملک کی قیادت کرنے کی اجازت دینی چاہیے-

    بظاہر یہ احتجاج پرامن تھا، لیکن ایک پولیس اہلکار نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر آنسو گیس اور واٹر کینن تیار ہیں جمعہ کو سیکورٹی فورسز نے مظاہرین پر واٹر کینن سے فائرنگ کی۔

    رہائشیوں کا کہنا تھا کہ دارالحکومت کے نواحی علاقوں میں بھی بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے جبکہ کیتھولک اور اینگلیکن گرجا گھربھی اپنے پیروکاروں کو سڑکوں پر لائے-

    کیتھولک چرچ کے سربراہ کارڈینل میلکم رنجیت نے کولمبو کے بالکل شمال میں واقع قصبے نیگومبو میں ایک احتجاجی مظاہرے کی قیادت کی، جس میں لوگوں پر زور دیا گیا کہ وہ اس وقت تک احتجاج جاری رکھیں جب تک راجا پاکسے انتظامیہ مستعفی نہیں ہو جاتی حکومت کے جانے تک سب کو سڑکوں پر آنا چاہیے، ان لیڈروں کو جانا چاہیے، آپ کو جانا چاہیے، آپ نے اس ملک کو تباہ کر دیا ہے۔

    گزشتہ ماہ سے بڑھتے ہوئے بحران کے بعد ہفتے کو سوشل میڈیا کے توسط سے کیے گئے احتجاج میں بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی ملک کی طاقتور کاروباری برادری کی جانب سے صدر کی حمایت سے دستبردار ہونے کے بعد راجا پاکسے پر دباؤ میں شدید اضافہ ہوا ہے۔

    سری لنکا ایسوسی ایشن آف مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز آف ربڑ کی مصنوعات کے سربراہ روہن مساکورالا نے کہا موجودہ سیاسی اور اقتصادی تعطل مزید جاری نہیں رہ سکتا، ہمیں زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے کے اندر کابینہ اور عبوری حکومت کی ضرورت ہے۔

    ایسوسی ایشن نے حکومت کی تبدیلی کے لیے 22 دیگر کاروباری اور صنعتی تنظیموں میں شمولیت اختیار کی، اور کہا کہ صرف ایندھن کی قلت کی وجہ سے روزانہ کا نقصان تقریباً 50 ملین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

    ایک مشترکہ بیان میں، انہوں نے کہا کہ وہ ملک کی 80.17 بلین ڈالر کی مجموعی گھریلو پیداوار کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ پیدا کرنے کے ذمہ دار ہیں اور خبردار کیا کہ لاکھوں ملازمتیں خطرے میں پڑ جائیں گی۔

    روس نے بین الاقوامی تنظیموں”ایمنیسٹی انٹرنیشنل” اور "ہیومن رائٹس واچ” کو بند…

    نئے مقرر کردہ مرکزی بینک کے گورنر نندلال ویراسنگھے نے کہا کہ مانیٹری پالیسی کی غلطیوں کی ایک سیریز نے موجودہ بحران کو جنم دیا ہے جس میں بہت سی درآمدات کی مالی اعانت کے لیے ڈالر نہیں ہیں۔

    آزاد گرتے ہوئے روپے کو کم کرنے کی مایوس کن کوشش میں، ویراسنگھے نے جمعہ کو ملک کی اب تک کی سب سے بڑی شرح سود میں 700 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا انہوں نے کہا کہ اب ہم ڈیمیج کنٹرول موڈ میں ہیں۔

    ویراسنگھے نے مزید کہا کہ انہیں توقع ہے کہ روپیہ مستحکم ہوگا اور ڈالر کی آمد میں بہتری آئے گی کیونکہ انہوں نے مرکزی بینک کےسابق گورنر کی سخت غیر ملکی کرنسی کی پابندیوں میں نرمی کی ہے جسے انہوں نے مخالف پیداواری قرار دیا ہے۔

    حکومت اگلے ہفتے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ بیل آؤٹ مذاکرات کی تیاری کر رہی ہے، وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ خودمختار بانڈ ہولڈرز اور دیگر قرض دہندگان کو بال کٹوانا پڑ سکتا ہے۔

    نئے وزیر خزانہ علی صابری نے جمعہ کے روز پارلیمنٹ کو بتایا کہ وہ آئی ایم ایف سے اگلے تین سالوں میں جزیرے کے توازن ادائیگی میں مدد کے لیے 3 بلین ڈالر کی توقع رکھتے ہیں۔

    فیس بک کی "ایک ارب کھانے” کی مہم، دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل…

    "ہمیں امید ہے کہ اگلے تین سالوں میں ہر سال تقریباً ایک بلین ڈالر ملیں گے جس میں مجموعی طور پر تین بلین کی مدد ملے گی،” انہوں نے مزید کہا کہ کولمبو قرضوں کی روک تھام کے لیے بھی کوشش کرے گا۔

    خیال رہے کورونا وائرس کے بعد سری لنکا مسلسل بحران میں مبتلا ہے اور شہریوں کی جانب سے صدر سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جارہا ہے اور احتجاج کے سبب صدر کے دفتر کی سیکیورٹی میں اضافہ کردیا گیا ہے۔

    5 اپریل کو سری لنکن وزارت دفاع کے سیکریٹری کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز تشدد میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گی۔

    اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا کہنا ہے کہ اس نے سری لنکا کی بگڑتی صورتحال پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے جبکہ ملک کو پہلے ہی انسانی حقوق سے متعلق ریکارڈ کے باعث عالمی سنسرشپ کا سامنا ہے سری لنکا میں موجودہ صورتحال کے دوران عسکری حل کی جانب رجحان اور ادارہ جاتی چیک اینڈ بیلنس کے نظام کے کمزور ہونے نے معاشی بحران سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کی ریاست کی صلاحیت کو متاثر کیا۔

    یورپی یونین کا روس کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان

  • عمران خان کی نشانی جو علی محمد قومی اسمبلی سے جاتے وقت ساتھ لے گئے

    عمران خان کی نشانی جو علی محمد قومی اسمبلی سے جاتے وقت ساتھ لے گئے

    سابق حکومت کے وزیرمملکت برائے پارلیمانی امورعلی محمد خان ایوان سے جاتے وقت نشانی کے طور پرعمران خان سے منسلک ایک چیز ساتھ لے گئے-

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں سابق وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے اپنی ٹوئٹ میں بتایا کہ وہ عمران خان کی یادگار کے طور پر ایک چیز لے جا رہے ہیں اور وہ یہ تب ہی واپس کریں گے جب عمران خان دوبارہ وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوں گے۔

    ہفتہ کی شب وزیراعظم ہاؤس میں آخر ہوا کیا؟ بی بی سی کا بڑا دعویٰ

    علی محمد خان نے اپنے ٹوئٹ میں عمران خان کے قومی اسمبلی کے سیٹ نمبر کی تصویر شئیر کی اور لکھا کہ ہر ممبر قومی اسمبلی کی اسمبلی سیٹ پہ اس کا تقسیمی نمبرہوتا ہے میں عمران خان کی وزیراعظم کی سیٹ پہ موجود یہ تقسیمی نمبر ساتھ لے آیا ہوں وہاں نہیں چھوڑا اس کو اپنے پاس محفوظ کرلیا ہے اور جب خان صاحب دوبارہ وزیراعظم بنیں گے تو اپنے ہاتھ سے یہ دوبارہ لگاؤں گا انشاءاللّٰہ۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہوئی اور 174 ارکان نے عدم اعتماد کی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا اس موقع پر جہاں تمام حکومتی اراکین ایوان سے چلے گئے وہاں واحد شخص علی محمد خان ایوان میں بیٹھے رہے-

    قبل ازیں علی محمد خان نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج میری پارلیمانی امور کی ڈیوٹی تمام ہوئی، بحثیت وزیر پارلیمانی امور کے مولانا فضل الرحمان کو ویلکم کرتا ہوں۔مولانا جس عمران خان کو ایجنٹ کہتے تھے وہ کیسا ایجنٹ تھا جسے ہٹانے کیلئے امریکہ نے پورا زور لگایا، میدان کربلا میں حسین کو عارضی شکست ہوئی تھی، لیکن دنیا انہیں یاد رکھتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کسی کے ہنسنے سے میرے حوصلے کم نہیں ہوں گے وقت ثابت کرے گا کہ کون اصلی شیر ہے،عمران خان کا گناہ یہ ہے کہ انہوں نے آزاد خارجہ پالیسی کی بات کی، روس صرف بہانہ ہے ،عمران خان نشانہ ہے عمران خان کا یہ گناہ ہے کہ اس نے سامراج کے سامنے کھڑے ہو کر ایبسلوٹلی ناٹ کہا ، کہا گیا کہ اگر عمران خان کی حکومت گر گئی تو پاکستان کو معاف کردیں گے۔


    علی محمد نے کہا تھا کہ مجھے فخر ہے کہ میرا لیڈر کھڑا رہا، جھکا نہیں، ڈرا نہیں ،مجھے اس بات پر خوشی ہے عمران خان نے حکومت قربان کی لیکن غلامی قبول نہیں کی میری دعا ہے کہ میرا ملک ،میرا پاکستان آگے بڑھتا رہے جلد عمران خان انشااللہ عوام کی طاقت سے دوبارہ واپس آئے گا، آج بھی پاکستان میں ایسے لوگ ہیں جو سامراج کے خلاف کھڑے ہیں۔

    خوشی ہےعمران خان نے حکومت قربان کی لیکن غلامی قبول نہیں کی،علی محمد خان

  • روس میں افغان سفارت خانہ طالبان کے مقرر کردہ سفیر کے حوالے

    روس میں افغان سفارت خانہ طالبان کے مقرر کردہ سفیر کے حوالے

    ماسکو: افغانستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہاربلخی کا کہنا ہے کہ آج ماسکو میں افغان سفارت خانہ طالبان کے مقرر کردہ سفارت کار کے حوالے کر دیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : عبدالقہار بلخی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں بتایا کہ ماسکو میں افغان سفارت خانہ طالبان کے مقرر کردہ سفارت کار کے حوالے کر دیا گیا ہے-

    عراق میں 103 سالہ شخص نے 37 سالہ خاتون سے تیسری شادی کر لی


    انہوں نے افغان سفارت کار کو تسلیم کرنے اور دو طرفہ تعلقات کو یقینی بنانے کے لیے افغان سفارت خانے کے کردار کو سہولت فراہم کرنے پر روس کا شکریہ ادا کیا۔


    انہوں نے کہا کہ افغانستان کی قانونی حکومت کے طور پر، امارات اسلامیہ افغناستان روس میں اپنے شہریوں کو بروقت خدمات فراہم کرنا اور بیرون ملک افغان سیاسی مشنز کا انتظام کرنے اور دنیا کے ساتھ ذمہ داری کے ساتھ مشغول ہونے کا حقدار ہے۔

    طالبان حکومت کے سفارت کار کو تسلیم کرنے کے ایک ہفتے سے زیادہ عرصے کے بعد روس کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ پہلے سفارت کار کی اسناد سفارت کو قبول کرنے کا مطلب موجودہ کابل حکومت کو تسلیم کرنا نہیں۔

    فیس بک کی "ایک ارب کھانے” کی مہم، دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل…

    طلوع نیوز کےمطابق روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا کا کہنا تھا کہ افغانستان میں طالبان انتظامیہ کو سرکاری طور پر تسلیم کرنے کے بارے میں بات کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔

    روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کی باضابطہ حکومت کو تسلیم کرنے کی بات کرنا ہمارے لیے بہت مشکل ہے تاہم، یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ کابل میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد بھی دونوں ممالک کے درمیان ہمارے سفارتی رابطے بند نہیں ہوئے اور اقتدار کی تبدیلی سے قبل طالبان تحریک کے ساتھ رابطے بھی ہوئے ہیں-

    طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ وہ متوازن پالیسی کے ذریعے دوسرے ملکوں کے ساتھ تعلقات رسمی شکل دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ طالبان حکومت کے نائب ترجمان انعام اللہ سمنگانی نے کہا کہ روس کے ساتھ سفارتی تعلقات افغان حکومت کے لیے اہم ہیں۔

    یورپی یونین کا روس کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان

    بین الاقوامی تعلقات کے ماہر، سید جواد سجادی نے کہا، "ایک حکومت، جو ملک میں برسراقتدار ہے، کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے ملکوں کے ساتھ سفارتی تعلقات برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔

    قبل ازیں افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے چین میں اجلاس کے بعد روسی وزیر خارجہ سرگئی لاووروف نے ماسکو میں افغان سفارت خانے میں طالبان کے پہلے سفارت کار کا استقبال کیا تھا-

    واضح رہے کہ کسی ملک نے طالبان حکومت کو ابھی تک سرکاری طور پر تسلیم نہیں کیا لیکن ازبکستان، پاکستان، ترکمانستان، چین اور روس طالبان کے سفارت کاروں کو قبول کر چکے ہیں۔

    طالبان کی حکومت کو ابھی تک دنیا کے کسی بھی ملک نے تسلیم نہیں کیا تاہم افغانستان میں حکمران طالبان نے بین الاقوامی تنہائی سے نکلنے کا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے- وہ اپنی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کروانے کے لیے ہمسایہ ممالک اور دیگر کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر رہے ہیں-

    بھارت: ہندوانتہا پسندوں نےمسلمان ڈرائیوروں کے خلاف مہم شروع کر دی

  • کم عمر لڑکی کیساتھ تعلقات : ناروے کے وزیر دفاع نے استعفیٰ دے دیا

    کم عمر لڑکی کیساتھ تعلقات : ناروے کے وزیر دفاع نے استعفیٰ دے دیا

    اوسلو:ناروے کی حکومت نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ وزیر دفاع ایک کم عمر لڑکی کے ساتھ خفیہ معاشقے کی معلومات منظرعام پر آنے کے بعد عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی: فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وزیر دفاع اوڈ روجر ایناکسن کا اپنے سے کم عمر لڑکی کے ساتھ طویل عرصے سے معاشقہ چل رہا تھا وزیر دفاع کا عشق ایک 18 سالہ ہائی سکول کی طالبہ کے ساتھ سال 2005 میں شروع ہوا تھا جب ایناکسن خود 50 برس کے تھے جو منظر عام پر آنے کے بعد انہوں نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا-

    عراق میں 103 سالہ شخص نے 37 سالہ خاتون سے تیسری شادی کر لی

    اوڈ روجر ایناکسن نے اپنے رومانوی تعلق کے حوالے سے کہا کہ انہوں نے کئی بُرے فیصلے کیے اور وہ اپنے فعل پر معافی مانگتے ہیں جن کی وجہ سے دوسروں کی زندگی مشکل ہوئی۔

    ناروے کے وزیراعظم جوناس گاہر سٹور نے پریس کانفرنس سے خطاب میں بتایا کہ انہوں وزیر دفاع کا استعفیٰ قبول کرلیا ہے اور یہ ایک ضروری فیصلہ تھا ایناکسن نے عہدہ سنبھالنے سے پہلے اپنے رومانوی تعلق کے بارے میں آگاہ نہیں کیا تھا۔

    ناروے کے خبررساں ادارے وی جی کے مطابق طالبہ سکول ٹرپ پر ناروے کی پارلیمنٹ کے دورے پر آئی تھیں جب ان کی ملاقات سینٹر پارٹی کے رکن ایناکسن سے ہوئی سکول ٹرپ کے بعد طالبہ اور ایناکسن کے درمیان انتہائی سنجیدہ نوعیت کا ایک رومانوی تعلق قائم ہوا مذکورہ خاتون کی عمر اب تیس سال سے زائد ہے۔

    خاتون نے اخبار کو اپنے تعلق کے بارے میں بتایا کہ وہ سیاست میں دلچسپی کے باعث ایناکسن سے بہت زیادہ متاثر ہوگئی تھیں اور سیاست دان نے اپنی طاقت کا فائدہ اٹھایا سال 2006 سے 2007 کے درمیان وہ ایناکسن سے 12 مرتبہ ان کے دفتر میں ملی تھیں جب وہ وزیر توانائی تھے۔

    دوسری جانب ایناکسن نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ رومانوی تعلق میں ان کی ایسی پوزیشن نہیں تھی کہ وہ خاتون پر اثر انداز ہوسکیں ایناکسن نے کہا کہ جب تک وہ حکومت میں تھے تب تک ان کا تعلق جنسی نوعیت کا نہیں تھا –

    تاہم خاتون نے ایناکسن کے اس دعوے کی تردید کی ہے۔

    بھارت: ہندوانتہا پسندوں نےمسلمان ڈرائیوروں کے خلاف مہم شروع کر دی

  • نئے وزیراعظم کے انتخاب کیلئے قومی اسمبلی کے اجلاس کا وقت تبدیل

    نئے وزیراعظم کے انتخاب کیلئے قومی اسمبلی کے اجلاس کا وقت تبدیل

    نئے وزیراعظم کے انتخاب کیلئے قومی اسمبلی کے اجلاس کا وقت تبدیل کر دیا گیا-

    باغی ٹی وی : باخبر ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی نے نئے وزیراعظم کے انتخاب کا شیڈیول جاری کر دیا ہے جس کے مطابق کاغذات نامزدگی آج دوپہر 2 بجے تک جمع کرائے جا سکیں گے اور کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال سہ پہر3 بجے تک ہو گی۔

    تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے پر متحدہ اپوزیشن کا ملک بھر میں جشن

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق نئے وزیراعظم کا الیکشن کل بروز پیر دوپہر2 بجے ہو گا جبکہ اس سے قبل نئے قائد ایوان کے چناؤ کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی صبح 11 بجے طلب کیا گیا تھا۔

    یاد رہے کہ خیال رہے کہ متحدہ اپوزیشن کی جانب سے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کو وزارتِ عظمٰی کا امیدوار نامزد کیا گیا ہے-

    قومی اسمبلی میں پارلیمانی قائدین کے خطاب کے بعد ایاز صادق نے اجلاس 11 اپریل کی صبح 11 بجے تک ملتوی کردیا تھا ایاز صادق کا کہنا تھاکہ وزیر اعظم کیلئے کاغذات نامزدگی آج دن 2 بجے تک وصول کیے جائیں گے اور کاغذات کی اسکروٹنی سہ پہر تین بجے تک ہو گی جس کے بعد نئے قائد ایوان کا انتخاب 11 اپریل کو ہوگا-

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگئی جس کے بعد وہ ملک کے وزیراعظم نہیں رہے اور ساتھ ہی عدم اعتماد کے ذریعے ہٹائے جانے والے ملک کے پہلے وزیراعظم بن گئے ہیں-

    ویلکم بیک پرانا پاکستان،ظلم بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے،بلاول

    تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانے سے انکار کرکے اسپیکر اسد قیصر مستعفی ہوکر ایوان ایاز صادق کے حوالے کرگئے تھے جس کے بعد ان کی صدارت میں اجلاس کی کارروائی آگے بڑھائی گئی اس دوران ایوان میں حکومتی بینچز مکمل طور پر خالی ہوگئے تھے اور حکومتی ارکان ایوان سے چلے گئے تھے-

    ایوان میں 5 منٹ کیلئے گھنٹیاں بجائی گئیں اور دروازے بند کردیئے گئے تھے جس کے بعد ایاز صادق نے وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پڑھ کر سنائی اور ایوان کا اجلاس 12 بج کر دو منٹ تک ملتوی کردیا گیا تھا-

    بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس دوبارہ تلاوت قرآن پاک سے باقاعدہ شروع ہوا اور نوید قمر نے عمران خان کیخلاف عدم اعتماد کی قرارداد پیش کی جس کے بعد رائے شماری کا آغاز ہوا تھا

    نواز شریف کی کمی محسوس ہو رہی ہے،ایاز صادق،صبر، ہر قسم کے جبر سے جیت گیا۔مریم

    اس دوران 174 ارکان نے عدم اعتماد کی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا اور یوں عمران خان عدم اعتماد کے ذریعے ہٹائے جانے والے ملک کے پہلے وزیراعظم بن گئے۔

    تحریک عدم اعتماد کے دوران منحرف ارکان نے اپنے ووٹ نہیں کاسٹ کیے جبکہ حکومتی عمران چونکہ ایوان میں موجود نہیں تھے لہٰذا ان کے ووٹ بھی کاسٹ نہیں ہوئے اور یوں تحریک عدم اعتماد 0-174 سے کامیاب قرار پائی۔

    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد خطاب میں اعلان کیا تھا کہ ہم کسی سے بدلہ نہیں لیں گے اور کسی سے نا انصافی نہیں کریں گے آج ایک نئی صبح طلوع ہونے والی ہے اور پاکستان کے عوام کی دعائیں اللہ نے قبول کرلی ہیں۔

    تاریخ رقم،عمران خان سابق وزیراعظم ، عدم اعتماد کامیاب

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد خطاب میں کہا تھا کہ ’ویلکم بیک ٹو پرانا پاکستان ،پاکستان میں پہلی بار عدم اعتماد کامیاب ہوئی ہے اور ایک تاریخ رقم ہوئی ہے جبکہ آج 10 اپریل 1973 کو آئین منظور کیا گیا تھا انہوں نے تحرک عدم اعتماد کامیاب ہونے پر پاکستانی قوم کو مبارکباد دی تھی-

    وزارت عظمیٰ کی کرسی چھننے کے بعد عمران خان آج کیا کرنیوالے ہیں؟