Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی ، 100 انڈیکس 1250 پوائنٹس گرگیا

    اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی ، 100 انڈیکس 1250 پوائنٹس گرگیا

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروبار کا منفی دن رہا اور 100 انڈیکس میں ساڑھے 1200 پوائنٹس کی کمی ہوئی۔

    باغی ٹی وی : پی ایس ایکس میں مندی کے ساتھ آغاز کے بعد دباو کی کیفیت جاری رہی اور بینچ مارک ٹریڈنگ کے دوران 100 انڈیکس 1250 پوائنٹس کم ہوکر 43 ہزار 902 پربند ہوا-

    کاروباری دن میں 17 کروڑ شیئرز کے سودے ہوئے شیئرز بازارکےکاروبار کی مالیت 5.49 ارب روپے رہی، مارکیٹ کیپٹلائزیشن 184 ارب روپےکم ہوکر 7415 ارب روپے ہے-

    نجی خبررساں ادارے ڈان سے باتے کرتے ہوئے انٹر سیکوریٹیز مارکیٹ کے ہیڈ آف ریسرچ رضا جعفری کا کہنا تھا کہ فیصلہ ایسا تھا جس کی توقع نہیں کی جارہی تھی اور معاملہ آگے چلا گیا ہے جس کی وجہ سے بازار نے زیادہ ردعمل دیا ہے انہوں نے کہا کہ یہ دباؤ آگے بھی جاری رہ سکتا ہے۔

    اسٹاک بروکر ظفر موتی نے کہا کہ ہفتہ وار چھٹیوں پر جو سیاسی حالات پیدا ہوئے وہ سرپرائز تھے اور اسٹاک مارکیٹ نے بھی اس پر توقعات کے برعکس ردعمل دیا اب سپریم کورٹ کے فیصلے تک اسٹاک مارکیٹ دباؤ میں ہی رہے گی۔

    قوم راشن پرست یا آپ شہرت پرست ؟؟ ازقلم:غنی محمود قصوری

    واضح رہے کہ اتوار کو قومی اسمبلی میں وزیراعظم کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے مسترد کر دیا تھا، جس کے بعد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے وزیراعظم کی تجویز پر قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی منظوری دے دی تھی جس کے بعد معاملہ سپریم کورٹ میں چلا گیا ہےسپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ معاملے پر سماعت کر رہا ہے۔

    دوسری جانب صدر مملکت نے نگراں حکومت کی تشکیل کے لیے وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کو خطوط بھی ارسال کر دیئے ہیں و ز یراعظم عمران خان نے نگراں وزیراعظم کے لیے سابق چیف جسٹس گلزار احمد کا نام تجویز کیا ہے جبکہ قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے اس عمل میں حصہ لینے سے انکارکردیا۔

    بیوروکریسی اور حالات حاضرہ، ابھرتے ہوئے نوجوان کالم نگار کی ایک اور شاندار کاوش

  • محکمہ موسمیات کی ملک بھر میں بارشوں کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات کی ملک بھر میں بارشوں کی پیشگوئی

    اسلام آباد: محکمہ موسمیات کی جانب سے ملک بھر میں اپریل سے جون تک معمول سے کم بارشوں کا امکان ظاہرکیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق رواں سال اپریل اور مئی کے دوران معمول سے کافی کم جبکہ جون میں معمول سے قدرے زیادہ بارشیں متوقع ہیں اس دوران گلگت بلتستان، کشمیر، پنجاب اور بلوچستان کےاکثرعلاقوں میں معمول یا معمول سے قدرے کم بارشوں کا امکان ہے جبکہ سندھ اور خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں معمول سے کم بارشیں متوقع ہیں۔

    رمضان المبارک کے پہلے عشرے میں موسم کیسا رہے گا؟

    اپریل سے جون کے دوران ملک بھر میں دن کے وقت درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے، خشک موسم اور درجہ حرارت میں اضافہ سے پولی نیشن کے عمل میں تیزی آئے گی جس سے پولن سیزن کا جلد خاتمہ ہوگا-

    محکمہ موسمیات کے مطابق موسم سرما میں معمول سے کم برفباری اورحالیہ سیزن کے دوران معمول سے کم بارشوں کے باعث پانی کے بڑے ذخائرز میں آنے والے سیزن کے لیے پانی کی کمی کا سامنا رہے گا۔

    واضح رہے کہ قبل ازیں محکمہ موسمیات کی جانب سے ملک کے بیشتر علاقوں میں رمضان المبارک کے پہلے عشرے میں موسم شدید گرم رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا –

    محکمہ موسمیات کی طرف سے ملک کے بیشتر علاقوں میں آئندہ 10 دنوں تک درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ہوا کے زیادہ دباؤ کے باعث ملک کے بیشتر علاقوں میں آ نے والے دنوں کے دوران دن کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کی توقع ہے اس دوران سندھ ، جنوبی پنجاب ، وسطی اور جنوبی بلوچستان میں دن کا درجہ حرارت 09 سے 11 ڈگری سینٹی گریڈ معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔

    اسی طرح بالائی پنجاب ، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ، صوبہ خیبرپختونخوا ، گلگت بلتستان اور کشمیر میں بھی دن کے وقت درجہ حرارت میں معمول سے 08 سے 10 ڈگری سینٹی گریڈ اضافے کی توقع کی گئی-

    نگران وزیراعظم کون؟ تحریک انصاف نام سامنے لے آئی

  • عمران خان کی آئین شکنی ، آئی ایم ایف نے قرض پروگرام معطل کر دیا

    عمران خان کی آئین شکنی ، آئی ایم ایف نے قرض پروگرام معطل کر دیا

    عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا کہنا ہےکہ اس کا پروگرام معطل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے نئی پاکستانی حکومت کے ساتھ دوبارہ بات چیت کے لیے پرعزم ہیں۔

    باغی ٹی وی : واضح رہے کہ گزشتہ ماہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے چھٹے جائزے کے بعد پاکستان کو ایک ارب ڈالر قرضہ جاری کرنے کا فیصلہ کیا تھا –

    سپیکرکی رولنگ غلط، پیچھے موجود تمام افراد پرآرٹیکل 6 لگنا چاہئے،قمرزمان کائرہ

    https://twitter.com/shaukat_tarin/status/1488928059562545159?s=20&t=2uumzh2glpNjCZY-pcFQuA
    2 فروری کو کی گئی ایک ٹوئٹ میں وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا تھا کہ انہیں یہ بتاتے ہوئے خوشی ہے کہ آئی ایم ایف کے بورڈ نے پاکستان کے لیے امدادی پروگرام کے تحت رقم جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

    شوکت ترین کی ٹویٹ کو وزارت خزانہ کے سرکاری اکاؤنٹ سے بھی شئیر کیا گیا تھا تاہم اب تحریک انصاف حکومت کے ختم ہونے کے بعد سے آئی ایم ایف کے پاکستان کے لیے پروگرام کی معطلی سے متعلق قیاس آرائیاں جاری تھیں اب اس سلسلے میں عالمی مالیاتی ادارے کا بیان سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نئی حکومت کے ساتھ دوبارہ بات چیت کے لیے پُرعزم ہیں۔

    قوم راشن پرست یا آپ شہرت پرست ؟؟ ازقلم:غنی محمود قصوری

    آئی ایم ایف کے مطابق نئی حکومت بننےکے بعد قرض پروگرام میں شمولیت پر بات ہوگی، نئی حکومت سے معاشی پالیسیوں پر بات چیت کی جائے گی۔

    آئی ایم ایف کا کہنا ہےکہ اس کا پاکستان کے لیے اپنا قرض پروگرام معطل کرنےکا کوئی ارادہ نہیں، مجوزہ نئی حکومت کےساتھ دوبارہ بات چیت کے لیے پرعزم ہیں۔

    یاد رہے کہ آئی ایم ایف نے قرضے کی اس قسط کا اجرا پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے منی بجٹ اور سٹیٹ بینک آف پاکستان سے متعلق بل پارلیمان سے منظور کروانے کے فوراً بعد کیا تھا۔

    نگران وزیراعظم کون؟ تحریک انصاف نام سامنے لے آئی

    خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اہنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ جولائی 2019 میں آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے چھ ارب ڈالر کے قرضے کی منظوری دی تھی۔ اس قرضے کی میعاد تین سال تھی اور قرضہ منظور ہوتے ہی پاکستان کو ایک ارب ڈالر جاری کر دیے گئے تھے۔

    اس وقت آئی ایم ایف کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’ہمارے قرضے کا مقصد انتظامیہ کے معاشی اصلاحات کے پروگرام کو تقویت دینا ہے۔

    آئی ایم ایف نے قرضے کے اجرا کو سخت معاشی اصلاحات اور سہ ماہی بنیادوں پر پاکستان کی کارکردگی کے جائزے سے مشروط کیا تھا اس پروگرام کے تحت اب تک پاکستان کو آئی ایم ایف سے موصول ہونے والی کل امداد کا تخمینہ تین ارب ڈالر ہو چکا ہے۔

    فارن فنڈنگ کیس، کیا فیصلہ روز محشرکیلئے چھوڑ دیا گیا ہے؟ احسن اقبال

  • روس نے امریکا و برطانیہ سمیت متعدد ممالک پر ویزہ پابندیاں عائد کردیں

    روس نے امریکا و برطانیہ سمیت متعدد ممالک پر ویزہ پابندیاں عائد کردیں

    روس نے امریکا و برطانیہ سمیت متعدد ممالک پر ویزہ پابندیاں عائد کردیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق یوکرین حملے کے بعد روس پر پابندیاں لگانے والے ممالک کو ’غیردوست‘ ممالک کی فہرست میں ڈال دیا گیا ہے روسی صدر پیوٹن نےویزہ پابندی کے حکم نامے پر دستخط کردیئے ہیں اور ان ممالک کے شہریوں کو روس میں داخلے کیلئے سخت شرائط سے گزرنا ہوگا۔

    بھارت نے روس سے روسی کرنسی میں تجارت کی تو نتائج بھگتنا ہوں گے، امریکا

    جن ممالک پر ویزہ پابندیان عائد کی گئیں ان میں ناروے، سوئٹزرلینڈ، ڈنمارک ، آئس لینڈ، البانیہ، اندورا، آسٹریلیا، برطانیہ، جرسی، انگولیا، برٹش ورجن آئی لینڈز، جبرالٹر، کینیڈا، موناکو، نیوزی لینڈ، جنوبی کوریا، سان مارینو، شمالی مقدونیہ، سنگاپور، امریکا، تائیوان، یوکرین، مونٹی نیگرو سوئٹزرلینڈ اور جاپان شامل ہیں۔

    یوکرینی افواج کا روسی آئل ڈپو پر حملہ، روس کا شدید ردِعمل

    علاوہ ازیں روس 52 دوست ملکوں کے ساتھ پروازیں دوبارہ شروع کرے گا، روس کا 9 اپریل کے بعد سے 52 ملکوں پرعائد پروازوں کی پابندی ختم کرنے کا ارادہ ہے،روس نے کورونا پابندیوں کے باعث ان ملکوں سے پروازوں کی آمدورفت پر پابندی لگائی تھی۔

    یوکرین میں روسی فوجیوں نے غلطی سے اپنا ہی طیارہ مار گرایا

    روسی وزیر خارجہ سرگئی لارووف کاکہنا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے روس کے خلاف براہ راست مکمل ہائبرڈ وار مسلط کردی ہے مغرب کی اس محاذ آرائی کی وجہ ڈھکی چھپی نہیں، وہ روسی معیشت، ملکی سیاسی استحکام کو نقصان پہنچا کر روس کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔

    روس یوکرین کشیدگی: برطانیہ نے معید یوسف کا دورہ منسوخ کر دیا: ذرائع

  • بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کا مسلمان صحافیوں پر حملہ

    بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کا مسلمان صحافیوں پر حملہ

    نئی دہلی: بھارتی دارالحکومت میں ’ہندو مہاپنچایت‘ نامی تقریب میں انتہا پسند جنونیوں نے مسلمان صحافیوں کو جہادی قرار دیکر حملہ کردیا اور بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔

    باغی ٹی وی : انتہا پسند ہندوؤں نے برے القابات سے پکارا اور انہیں جہادی بھی کہا تشدد کی وجہ سے صحافی زخمی بھی ہوئے ہیں جب کہ پولیس نے واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پانچوں صحافیوں کو تحویل میں لے کر تھانے منتقل کر کے ان کی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا۔

    بھارت میں پٹرول کی قیمت میں 8 روز میں ساتویں باراضافہ

    بھارتی میڈیا کے مطابق ہندو مہاپنچایت کے موقع پر دو انتہاپسند ہندو رہنماؤں اور ایک دائیں بازو کے منظورِ نظر ٹی وی چینل کے چیف ایڈیٹر نے اشتعال انگیز تقاریر کیں اور مسلمان صحافیوں کو جہادی قرار دیا جس پر مسلمان صحافیوں نے احتجاج کیا تو جنونی انتہا پسند ہندوؤں نے صحافیوں پر حملہ کردیا۔ ان کے کیمرے توڑ دیئے اور تشدد کا نشانہ بنایا جبکہ مدد کو آنے والے ہندو صحافیوں کے ساتھ بھی مارپیٹ کی گئی۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس جائے وقوع پر پہنچی اور پانچوں صحافیوں کو تحویل میں لے کر مکھر جی نگر تھانے منقتل کردیا جن پانچ صحافیوں کو تھانے منتقل کیا گیا ہے ان میں سے تین مسلمان ہیں جن کے نام ارباب علی، میر فیصل اور محمد مہربان ہیں بعد ازاں ان زخمی صحافیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا۔


    دہلی پولیس کی آفیسر اوشا رنگانی کے مطابق پولیس اہلکار شکایت ملنے پر فوراً ہندو مہاپنچایت پہنچے اور وہاں موجود صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا۔

    وزیر اعلیٰ کے گھر پر حملہ :حملہ کرنے والے کون؟جان کرہرکوئی حیران

    پولیس نے تقریب کے منتظمین، دو انتہا پسند ہندو رہنماؤں اور سدھرشن نیوز کے چیف ایڈیٹر کے خلاف اشعال انگیز تقاریر کرنے اور تشدد پر اکسانے کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا ہے تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔


    بھارتی صحافی محمد سلمان نے اس حوالے سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ پر جاری بیان میں کہا کہ میرے دوست ارباب علی اور دو مزید صحافیوں میر فیصل اور محمد مہربان پر دائیں بازو کے گروپوں کے اراکین نے دہلی کے علاقے براری میں ہندو مہاپنچایت میں حملہ کیا اور انہیں ہراساں کیا تینوں ہندو مہاپنچایت کی کوریج کے لیے گئے تھے۔


    محمد سلمان کے مطابق ان کے کیمرے و فونز چھین لیے گئے اور انہیں جہادی بھی قرار دیا گیا۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے کہ صحافیوں کو ان کا کام کرنے سے روکا گیا اور ان پر حملہ کیا گیا۔

    کرناٹک میں طالبات کےحجاب پر پابندی کے بعدگائے کے گوشت کی فروخت پر پابندی


    بھارتی صحافی رانا ایوب نے ایک ٹویٹ میں تشدد کا نشانہ بنائے جانے والے صحافیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے امید ہے کہ دنیا انڈین صحافیوں خصوصاً مسلمان صحافیوں پر ہونے والے حملوں کو دیکھ رہی ہیں بھارت میں موجود ہر صحافی کو سچ بولنا چاہیے اور سب کا احتساب کرنا چاہیے۔


    زخمی صحافی ارباب علی نے بھی ٹوئٹس میں ہندو مہاپنچایت میں خود پرکیے گئے تشدد کی مذمت کی-

    بھارت نے روس سے روسی کرنسی میں تجارت کی تو نتائج بھگتنا ہوں گے، امریکا

  • امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ٹائمز اسکوائر پر نمازِ تراویح ادا ئیگی

    امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ٹائمز اسکوائر پر نمازِ تراویح ادا ئیگی

    نیویارک: امریکا کی تاریخ میں پہلی بار سینکڑوں مسلمانوں نے نیویارک کے معروف علاقے ٹائمز اسکوائر پر نمازِ تراویح ادا کی۔

    باغی ٹی وی : مسلمانوں کے مقدس ترین مہینے رمضان المبارک کا آغاز ہو چکا ہے تراویح کے بڑے بڑے اجتماعات نہ صرف مساجد بلکہ عوامی مقامات پر بھی منعقد کیے جاتے ہیں اس حوالے سے امریکی تاریخ میں پہلی بار نیویارک کے قلب اور معروف تجارتی مقام ’ٹائمز اسکوائر‘ پر باجماعت نماز تراویح ادا کی گئی جس میں سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔

    آیا صوفیہ مسجد میں 88 برس بعد نمازِ تراویح کی ادائیگی

    منتظمیں نے مقامی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ نماز تراویح کے اجتماع کے انعقاد کا مقصد اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کے غلط تاثر کو زائل کرکے یہ بتانا تھا کہ اسلام ایک پرامن مذہب ہے۔

    نماز تراویح میں شرکت کرنے والے مسلمان شہریوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تراویح میں قرآن سننا، رمضان کی خاص عبادت ہے اور آج یہ سعادت حاصل کرکے خوشی ہورہی ہے۔

    عمرہ زائرین کو مختلف مقامات پر تقسیم کرنے کا فیصلہ

    واضح رہے کہ ٹائمز اسکوائر پر افطار اور نماز مغرب کی ادائیگی کی جاتی رہی ہے تاہم پہلی بار باجماعت تراویح کا انعقاد کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب ترکی کی مشہور تاریخی مسجد “آیا صوفیہ” میں 88 برس بعد نمازِ تراویح کی ادائیگی کی جا رہی ہے استنبول میں واقع اس مسجد میں رمضان المبارک کے لیے متعدد تقاریب بھی منعقد کی جائیں گی تاریخی مسجد آیاصوفیہ کو24جولائی 2020 کو 86 سال بعدعبادت کے لیے کھولا گیا تھا مسجد کو 1934 میں ایک میوزیم میں تبدیل کیا گیا تھا اور 2020 میں اسے دوبارہ مسجد کی حیثیت دی گئی تھی۔-

    طالبان کا یکم رمضان کو ملک میں عام تعطیل کا اعلان

  • سری لنکا: احتجاج روکنے کیلئے فیس بک، یو ٹیوب ، ٹوئٹر ، انسٹاگرام اور واٹس ایپ  بلاک

    سری لنکا: احتجاج روکنے کیلئے فیس بک، یو ٹیوب ، ٹوئٹر ، انسٹاگرام اور واٹس ایپ بلاک

    سری لنکا نے ملک میں معاشی بحران کے خلاف احتجاج کو روکنے کے لیے سوشل میڈیا کے متعدد پلیٹ فارمز بلاک کردیئے۔

    باغی ٹی وی : فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سری لنکا میں احتجاجی مظاہروں پر قابو پانے کے لیے فیس بک، یو ٹیوب ، ٹوئٹر ، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کو بلاک کر دیا گیا ہے۔

    دفاعی حکام کے حکم پر انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والے اداروں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بلاک کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ سری لنکا میں شدید معاشی بحران کے باعث ملک بھر احتجاجی مظاہرے جاری ہیں ملک میں اشیائے ضرورت کی قلت، قیمتوں میں اضافے اور طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کیا جارہا ہےاحتجاج کے دوران سوشل میڈیا پر کئی دنوں سے حکومت مخالف ہیش ٹیگز ٹرینڈ کر رہے تھے۔

    یاد رہے کہ ایک روز قبل مظاہرین کے صدارتی محل پردھاوا بولنے کے بعد صدرراجا پکسا نے ملک بھرمیں ایمرجنسی نافذ کر دی تھی جس کے بعد آج صبح سے ملک میں کر فیو بھی لگا دیا گیا ہے۔

    کرناٹک میں طالبات کےحجاب پر پابندی کے بعدگائے کے گوشت کی فروخت پر پابندی

    سری لنکا کی کابینہ کے 26 ارکان نے ملک میں جاری معاشی بحران اورحکومت کے خلاف احتجاج کے باعث استعفیٰ دے دیا ارکان نے کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی اورصدرسے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔

    غیرملکی سفارتکارو ں نے سری لنکا میں نافذایمرجنسی پرتشویش کا اظہارکیا ہے ایمرجنسی کے تحت فوجی کوکسی بھی شخص کو گرفتار کرنے اورقید کرنے کے اختیارات دئیے گئے ہیں۔

    مظاہرین کے صدارتی محل پردھاوا بولنے کے بعد صدرراجا پکسا نے ملک بھرمیں رات کا کرفیو نافذ کردیا ہے سوشل میڈیا پرپابندی کے باوجود سری لنکا کے مختلف شہروں میں حکومت کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

    پولیس اورمظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ پولیس نے مظاہرین کومنتشرکرنے کے لئے پانی کی توپ اورآنسوگیس کا استعمال کیا جواب میں مظاہرین نے پولیس پرپتھراؤ کیا۔

    بھارت نے روس سے روسی کرنسی میں تجارت کی تو نتائج بھگتنا ہوں گے، امریکا

  • پاکستانی گلوکارہ  نےگریمی ایوارڈ جیت لیا

    پاکستانی گلوکارہ نےگریمی ایوارڈ جیت لیا

    لاس ویگاس: پاکستانی گلوکارہ عروج آفتاب نے 2022 کے گریمی ایوارڈز میں گلوبل میوزک پرفارمنس کا ایوارڈ جیت لیا اس طرح وہ گریمی ایوارڈ جیتنے والی پہلی پاکستانی گلوکارہ ہیں۔

    باغی ٹی وی : گریمی ایوارڈز ویب سائٹ کے مطابق عروج آفتاب کوان کے گانے ’محبت‘ پرگلوبل میوزک پرفارمنس کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ عروج آفتاب کو بہترین نئے آرٹسٹ کی کیٹگری میں بھی نامزد کیا گیا تھا۔ عروج آفتاب گریمی میں نامزدگیاں اورایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی گلوکارہ ہیں۔

    صبا قمر کی فلم "کملی” کو جون میں ریلیز کرنے کا اعلان

    اس موقع پر 37 سالہ پاکستانی گلوکارہ عروج آفتاب نے کہا کہ گریمی ایوارڈجیتنے کا سن کرخوشی کاٹھکانہ نہیں، عروج اپنے گیتوں میں کلاسیکی موسیقی کو لوک اور جیز سے ہم آہنگ کرتی ہیں۔

    جہاں عروج کی اس بڑی کامیابی پر معروف شخصیات سمیت ان کے چاہنے والے انہیں بڑی تعداد میں مبارکباد دے رہے ہیں وہیں پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان نے عروج آفتاب کوگریمی ایوارڈ جیتنے پرمبارکباد دی ہے عروج آفتاب کی غزل کو سابق امریکی صدر بارک اوباما نے بھی اپنی پسندیدہ گانوں میں شمار کیا تھا۔


    ماہرہ خان نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ اُنہیں عروج آفتاب پر بہت فخر ہے،اسی طرح وطن کا نام روشن کرتی رہیں-

    ول اسمتھ نے "آسکرز” کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا

    یاد رہے کہ پاکستانی گلوکارہ عروج آفتاب کو دنیائے موسیقی کے اعلیٰ ترین گریمی ایوارڈ کیلئے نامزد کیا گیا تھا، یہ پہلا موقع تھا کہ جب کسی پاکستانی گلوکارہ کو 2 کیٹیگریزبیسٹ گلوبل میوزک پرفارمنس اور بیسٹ نیو آرٹسٹ میں نامزد کیا گیا-

    عروج آفتاب کی پیدائش سعودی عرب میں ہوئی لیکن والدین کے ساتھ وطن آ کر لاہور سے اپنی موسیقی کا آغاز کیا 2005 میں اپنے والدین کے ساتھ لاہورسے امریکا منتقل ہوگئی تھیں انہوں نے برکلی کالج سے میوزک کی تعلیم حاصل کی ہے اب تک ان کی تین سولو البم آ چکی ہیں، عروج کو بچپن سے کلاسیکی موسیقی، غزل اور قوالی سے لگاؤ رہا ہے،عروج آفتاب عابدہ پروین کی مداح ہیں اوراردو شاعری کوپسند کرتی ہیں وہ گلوکاری کے علاوہ موسیقار اور پروڈیوسر بھی ہیں-

    احد رضا میرجلد نیٹ فلیکس کی ویب سیریز میں دکھائی دیں گے

  • قوم راشن پرست یا آپ شہرت پرست ؟؟    ازقلم:غنی محمود قصوری

    قوم راشن پرست یا آپ شہرت پرست ؟؟ ازقلم:غنی محمود قصوری

    قوم راشن پرست یا آپ شہرت پرست ؟؟

    ازقلم غنی محمود قصوری

    بڑے دنوں سے حکومت اور اپوزیشن کے مابین چپقلش جاری تھی اور بالآخر کل یکم رمضان کو عدم اعتماد کی تحریک ریجیکٹ کرتے ہوئے اسمبلیاں توڑ دی گئیں اور نئے سرے سے الیکشن کروانے کا اعلان کیا گیا اس ساری رام کہانی کا مہرہ بنے کئی ایم پی اے ،ایم این اے جو پہلے کسی پارٹی کے ساتھ تھے وہ اب دوسری پارٹی کا سہارا بذریعہ روکڑا بن گئے یہ کوئی نئی بات نہیں ایسا شروع سے ہی ہے اور یہ رسم جمہوریت ہے-

    اپوزیشن نے بھی اس قوم کو خوب برا بھلا کہا اور حکمران جماعت کے کارکنان و عہدیداروں نے بھی ،جماعت تبدیل کرنا حکومتیں گرانا نئی بات نہیں ہمارا آئین اس بات کی اجازت دیتا ہے اور یہ آئین بنانے والے بھی یہی لوگ ہیں عام شہریوں کا آئین و قانون سازی سے دور دور کا کوئی تعلق بھی نہیں –

    تاریخ پاکستان میں موجودہ حکمران نے جہاں قوم کو انتہائی غربت و مہنگائی کی آگ میں جھونکا وہیں وقت کے فرعون امریکہ کو بھی للکارا جو کہ ایک بہت بڑی جرآت مندی کی بات ہے مگر پہلے دیکھئے کہ اس جرآت مندی کے محرکات کیا ہیں؟

    جب عمران خان صاحب نے اقتدار سنبھالا تو ہمارے پڑوس میں امریکہ و چالیس ممالک کی ناٹو فورسز موجود تھیں اور ملک میں دہشت گردی کا راج تھا ہماری فورسز نے بے پناہ قربانیاں دے کر جنرل مشرف کے فارمولے پر عمل پیرا ہو کر امریکہ سے ڈبل گیم کی اور امریکہ افغانستان میں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوا اور اسے بدترین ذلت کیساتھ افغانستان سے اپنے اتحادیوں سمیت نکلنا پڑا اور اس سب کیلئے لاکھوں پاکستانیوں اور ہزاروں فوجیوں کی شہادتیں دینی پڑیں جبکہ سیاستدانوں کی کتنی جانیں اس جنگ میں گئی وہ یقیناً آپ بخوبی جانتے ہیں-

    خیر انخلا امریکہ کے بعد ہمارا ملک دہشت گردی سے کافی حد تک بچ گیا اور ہم نے امریکہ کو ایبسولوٹلی ناٹ اور ہم تمہارے غلام نہیں ہیں جیسے سخت الفاظ کہے جس سے امریکہ فرعون وقت بوکھلا گیا اور پاکستان میں اندرونی سازشوں کے ذریعہ سے انتقام پر اتر آیا جس کا واضع ثبوت تمام تر پاکستان مخالف جماعتوں کا یک جان ہو کر بلوچستان و کے پی کے میں فورسز پر بار بار حملے کرنا ہے نیز ملک کے مختلف شہروں میں بھی بم دھماکے کروائے گئے جس میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کی شہادتیں ہوئیں جن میں ہر سیاسی مذہبی جماعت کے کارکنان شامل تھے تاہم ابھی تک حالیہ حملوں میں کوئی بھی اعلی سیاستدان ان دہشت گردوں کا نشانہ نہیں بنا-

    یہاں ایک اہم بات یہ ہے کہ خان صاحب نے اپنے اقتدار کے پہلے دو سال کوئی سخت الفاظ بخلاف امریکہ کیوں نا بولا؟ وجہ صاف ہے کہ ہم اس پوزیشن میں تھے ہی نہیں اور اگر ایسا کرتے تو یقیناً خمیازہ بہت زیادہ بھگتنا پڑا خیر بات اپوزیشن و حکومت پر لاتے ہیں22 کروڑ میں سے چند سیاستدانوں نے عمران خان کا ساتھ ذاتی مفاد اور حصول اقتدار کیلئے چھوڑا تو فوری سوشل میڈیا پر خان صاحب کے تربیت یافتہ کارکنان و اپوزیشن کے کارکنان نے پاکستانی قوم پر فتویٰ صادر فرمایا کہ یہ قوم راشن پرست یہ قوم بے غیرت ہے ان سب باتوں سکرین شاٹس بطور ثبوت میرے پاس موجود ہیں-

    مزید کہا گیا کہ اس قوم کو صحت کارڈ کی جگہ غیرت کارڈ جاری کرنا چائیے یہ بھکاری قوم ہے اور پیسوں کی خاطر اپنی ماں بھی بیچ سکتی ہے وغیرہ وغیرہ نیز افواج پاکستان کو بھی کھلے عام گالیوں سے نواز گیا کہ جنرل باجوہ امریکی غلامی سے نکلنا نہیں چاہتا-

    مزید افسوس کہ مذہبی جماعتوں کے لوگ بھی سوشل میڈیا پر سرعام ایسی باتیں کرتے رہے کہ جن کے اپنے گھروں کے چولہے اسی قوم کے چندے سے چلتے ہیں اور یہ لوگ عوام سے بلا تفریق سیاسی جماعتوں کی وابستگی پیسہ لیتے ہیں عوام پر بھی لگاتے ہیں اور اپنے بیوی بچے بھی پالتے ہیں مگر جب وقت آتا ہے تو ان کی ساری وابستگیاں کسی ایک مخصوص سیاسی جماعت سے ہو جاتی ہیںافسوس صد افسوس ایسے مذہبی لوگوں پر سیاسی لوگوں پر تو کیا افسوس کرنا بنتا ہے-

    حضور والا قوم کو ان القابات سے نوازنے والوں میرے آپ سے چند سوال ہیں ذرا ان کا جواب تو دیجئے پھر میں دیکھتا ہوں کہ یہ قوم راشن پرست ہے کہ آپ چندہ،بندہ،پیسہ،شہرت پرست؟

    کیا فوجی دفاعی مضبوطی کے بغیر تمہارا خان ایبسولوٹلی ناٹ کہہ سکتا تھا؟ کیا قوم نے تمہیں ووٹ دے کر اقتدار نا دلوایا؟ کیا تمہارے ہی چنے گئے سیاستدان پیسوں کے عوض نا بکے؟کیا ملک کے اندر غربت کی بہت بڑی لہر نہیں آئی؟کیا موجودہ حکمران جماعت کے چینی و آٹا و ادویات چور کھلے عام نہیں گھوم پھر رہے؟-

    کیا جب جنرل مشرف کے دور حکومت میں جب امریکہ کے ساتھ ڈبل گیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور قوم پر اطمینان تھی اور ملکی ترقی کا آغاز ہوا تھا تب تمہارے ہی خان صاحب نے نواز،زرداری،فضل الرحمن کیساتھ مل کر جنرل مشرف کے خلاف ان کی حکومت گرانے میں مدد نا کی تھی ؟؟

    کیا تحریک عدم اعتماد میں مجھ اور آپ جیسے عام پاکستانیوں کی رائے لی گئی اسمبلی میں؟کیا عام پاکستانی اسمبلی میں جا کر تجویز پیش کر سکتا ہے؟کیا ملک بھر میں بنے مدارس و مساجد اسی عوام کے چندے پر نہیں چل رہے ؟کیا ملک بھر میں رفاعی تنظیمیں بے لوث بغیر سیاسی وابستگی لوگوں کی مدد نہیں کر رہیں اور کیا وہ تنظیمیں گورنمنٹیں چلاتی ہیں؟آج بھی جن دیہات میں دیہاتیوں کے اپنے گھروں کی چھتیں بارش میں ٹپکتی ہیں کیا وہاں کی مساجد میں لینٹر اور دیگر سہولیات موجود نہیں اور یہ سہولیات فراہم یہی راشن پرست عوام مہیا کرتی ہے کہ گورنمنٹیں؟؟-

    سوال تو اور بھی بہت ہیں جناب تحریر لمبی ہونے کے باعث مختصر کر رہا ہوں جناب والا آپ تو پوری قوم کو چند بے ضمیروں کی بدولت راشن پرست وغیرہ کہہ رہے ہیں میں قوم کی غیرت کی ایک مثال اپنی ہڈ بیتی روزہ رکھ کر تمہارے سامنے رکھتا ہوں پھر تم اس قوم کو راشن پرست کہنا یا تمام سیاست دانوں کو اقتدار کی ہوس کے پجاری-

    میری ذاتی ہڈ بیتی ہے

    2005 کا زلزلہ آیا میں نے اپنے بچپن کے ساتھیوں سے مل کر اپنے علاقے سے ایک ٹرک سامان کا بھرا اور بالاکوٹ لے کر گیا تھا اور اس وقت جماعت الدعوہ کے زیر سایہ لے کر گیا تھا کیونکہ وہ سب سے زیادہ متحرک جماعت تھی ہوا کچھ یوں کہ ہم کم عمر لڑکے ہر گھر جاتے اور ان کو بتاتے کہ ہمارے کشمیری و صوبہ سرحد کے بھائیوں پر زلزلہ کی آزمائش آن پڑی ہے ان کی چھتیں چھن گئی ہیں اور بہت سے لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں لہذہ مدد کرومجھے یاد ہے یہی ماہ مقدس رمضان تھا تب بھی ہم نے خود غریب ترین لوگوں سے ان کل کل ڈیہاری سے زیادہ کے کپڑے،سویٹر،جرسیاں،دالیں، گھی،چاول،گندم حتی کہ ادویات تک اکھٹی کیں اور بفضل تعالی لوگوں نے بخوشی دیا اپنے مصیبت زدہ بہن بھائیوں کیلئے ہاں اس وقت سیاستدانوں نے بھی بہت مدد کی تھی ہماری ایک اہم بات بتاتا ہوں-

    ہم ایک گھر میں گئے کہ جس گھر سے محض ڈیڑھ ماہ بعد لڑکی کی شادی تھی ہم نے اس بوڑھی غریب ترین عورت کے سامنے مدعا بیان کیا تو وہ کہنے لگی پتر ذرا رکو اور بیٹھ جاؤہم بیٹھے تو اماں جی نے ہمیں آواز دی کہ پتر پیٹی کھولنے میں میری مدد کرو خیر ہم نے پیٹی کھولی تو ماں جی بولی بیٹا میری بیٹی کا جہیز ہے مگر یہ تو اور بن جائے گا یہ جو وزنی والا کمبل ہے نا یہ نکالو اور لے جاؤ اور ساتھ گرم چادر بھی لے لومیں نے کہا ماں جی ہماری آپی کی شادی قریب ہے آپ بس سو پچاس روپیہ دے دیں یہی کافی ہے-

    اس اللہ کی شیرنی نے کہا کہ اوئے پتر جھلا ہویا ایں ؟وہ بھی تو میری ہی بیٹیاں ہیں تو یہ چیزیں پکڑ اور ان تک پہنچاؤاللہ کی قسم ایسے ایسے لوگوں نے ہمیں پیسے و چیزیں دیں جن کے اپنے گھروں کے خرچے بمشکل چلتے تھے ہم وہاں گئے تباہ شدہ پورا بالاکوٹ اپنی آنکھوں سے کئی دن دیکھتے رہے اور بہت سی مذہبی جماعتوں کے کام بھی دیکھے اگر قوم کا وہ جذبہ لکھنے لگوں تو محض 2005 کے زلزلہ پر میں ایک کتاب لکھ سکتا ہوں اس کے علاوہ پھر بلوچستان کا زلزلہ آیا سندھ و بلوچستان کے لوگوں کیلئے ہماری انہی راشن پرست لوگوں نے پینے کے صاف پانی کا انتظام کیا بہت مثالیں میرے پاس ذاتی ہڈ بیتی موجود ہیں ان شاءاللہ پھر کبھی رقم کرونگا بس اتنا پوچھنا ہے مجھے ان لوگوں سے کہ یہ قوم راشن پرست ہے کہ آپ شہرت پرست؟-

  • عامرلیاقت نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کردیا

    عامرلیاقت نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کردیا

    پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی عامرلیاقت نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کردیا۔

    سما جی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں عامر لیاقت حسین نے کہا کہ ڈراما ختم ہونے کے بعد کہنا چاہتا ہوں کہ وزیراعظم نے جو کچھ کیا ثابت ہوگیا کہ اپوزیشن جو کچھ کر رہی تھی درست کر رہی تھی، اس لیے میں تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان کرتا ہوں آئین سے کس نے انحراف کیا اور منحرف کون ہے؟ فیصلہ عدالت کرے گی-


    انہوں نے کہا کہ لیکن اپوزیشن نے جو کیا درست کیا ا ور آصف علی زرداری نے ایک بار پھر ’’پاکستان کھپے‘‘ ثابت کر دکھایا اسمبلی کے دروازے کے باہر کھڑا رہا، دروازے بند تھے لیکن اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ مجھے ہمت دی اور دل کی تکلیف کے باوجود سوچ بچار کر کے اسمبلی گیا۔


    نہایت تکلیف میں ہوں، آج بہتر ہوا تھا لیکن کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا میرے پاکستان کے آئین کی دھجیاں اڑا دی جائیں گی-


    عامر لیاقات حسین کا کہنا تھا کہ بہت کچھ پتہ ہے لیکن ملکی مفاد بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ صدر مملکت، وزیراعظم، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر سب آئین کو جواب دہ ہیں۔


    عامر لیاقت حسین نے وزیراعظم کی ایک ویڈیو شئیر کرتے ہوئے کہا کہ جو خدا کے سوا کسی اور کے سامنے جھکتا ہے وہ جھکا دیا جاتا ہے، تم جھوٹ بولتے تھے میرے پیارے دوست بہت پیار کیا تھا تم سے لیکن تم جھوٹے تھے دیکھ لو تم جھوٹے تھے-


    عامر لیاقت حسین نے وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ضدی، اکھڑ، تند خو،منتقم المزاج، مردم شناسی سے نا آشنا، عقل کل، تُرش، کسیلا اور کڑوا انسان صرف “میں” میں جیتا ہے، امی کہا کرتی تھیں بیٹا جو بکرا زیادہ میں ،میں،میں کرتا ہے وہ ذبح ہوجاتا ہے-