Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • ویسٹ انڈیز ٹیم کے مزید 5 ممبران کا کورونا ٹیسٹ مثبت، سیریز شبہات کا شکار

    ویسٹ انڈیز ٹیم کے مزید 5 ممبران کا کورونا ٹیسٹ مثبت، سیریز شبہات کا شکار

    کراچی میں ویسٹ انڈیز ٹیم کے مزید 5 ممبران کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا.

    باغی ٹی وی : ویسٹ انڈیز کے 3کھلاڑی اور 2معاون اسٹاف کا کورونا مثبت آیا ہے ویسٹ انڈیز کے متاثرہ کھلاڑی اور معاون ا سٹاف قرنطینہ کریں گے ویسٹ انڈیز کے کھلاڑی شائے ہوپ، عقیل حسین ، جسٹن گریوز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا۔ویسٹ انڈیز کے اسسٹنٹ کوچ ، ٹیم فزیشن میں بھی کورونا کی تصدیق ہوئی ہے ڈیون تھامس پہلے ہی فنگر انجری کے باعث سیریز سے باہر ہوگئے تھے۔

    آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ کے شیڈول کا اعلان

    اس صورتحال میں ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ (سی ڈبلیو آئی) آج پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ اجلاس کررہا ہے جس میں اس بات پر غور کیا جائے گا کہ کیا دورہ یہیں ختم کردیا جائے۔

    خیال رہے کہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم کو پاکستان میں 3 ون ڈے انٹرنیشنل میچز بھی کھیلنے تھے۔

    میچز اسٹیڈیم میں اسٹوڈنٹس کی انٹری مفت کردیں، اسد عمرکی رمیز راجہ سے درخواست

    برطانوی خبررساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ نے کراچی میں ہونے والے تیسرے ٹی 20 سے چند گھنٹے قبل ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ دونوں بورڈز اس بات کا فیصلہ کرنے کے اجلاس کررہے ہیں کیا دورہ جاری رہنا چاہیے۔

    کامران اکمل کا پی ایس ایل 7 سے دستبرداری کا فیصلہ واپس لینے کا اعلان


    ویسٹ انڈیز بورڈ کے بیان میں کہاگیا کہ چنانچہ تینوں کھلاڑی آئندہ میچز میں شرکت نہیں کریں گے اور پانچوں افراد ویست انڈیز اسکواڈ سے الگ ہو کر آئسولیشن میں رہیں گے وہ 10 یا اس وقت تک آئسولیشن میں رہیں گے جب تک ان کے پی سی آر ٹیسٹ منفی نہیں آجاتے‘

    ٹی ٹوئنٹی کرکٹ: پاکستان کا نیشنل اسٹیڈیم میں منفرد ریکارڈ

    خیال رہے کہ اسے قبل پاکستان آنے کے بعد ویسٹ انڈیز کے فاسٹ باؤلر شیلڈن کوٹریل اور آل راؤنڈرز روسٹن چیز اور کیل میئرز کورونا وائرس سے متاثر پائے گئے تھے جبکہ ایک نان کوچنگ رکن میں بھی وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔

  • لیسکو کا کارنامہ سردیوں میں بھی بجلی غائب مبشر لقمان پھٹ پڑے

    لیسکو کا کارنامہ سردیوں میں بھی بجلی غائب مبشر لقمان پھٹ پڑے

    لیسکو کا کارنامہ سردیوں میں بھی بجلی غائب مبشر لقمان پھٹ پڑے-

    باغی ٹی وی : شدید دھند اور فوگ کے باعث جہاں موٹروے ،رنگ روڈ اور علامہ اقبال موٹر وے کی رابطہ سڑکیں بند کر دی گئیں 5 پروازیں مسوخ جبکہ 17 کا شیڈول تبدیل کر دیا گیا وہیں بجلی کی غیر اعلانیہ طویل دورانیہ لوڈ شیڈنگ کا شدید ترین سلسلہ شروع ہے جس کی وجہ سے عوام پریشانی کا شکار ہے –

    سرگودھا : واپڈا فیسکو ایس ای کی جوہرآباد میں کھلی کچہری ۔

    بجلی کی طویل بندش سے مسجدوں اور گھروں میں پانی بھی نایاب ہوگیا ہے جبکہ بجلی کی لوڈشیڈنگ ہونے کی وجہ سے بجلی نہ ہونے کی صورت میں کیا جانیوالا متبادل نظام بھی ختم ہو گیا ہے جس وجہ سے صارفین کو اضافی مشکلات کا سامنا ہے-

    ریلوے میں افسرشاہی ختم نہ ہوسکی

    جبکہ دوسری طرف لیسکو واپڈا کے افسران حکومت کی طرف سے ملنے والے سرکاری موبائل فون پر شہریوں کی شکایات کے ازالے کے لیے فون سننا بھی پسند نہیں کرتے حالانکہ بجلی کے بل پر شکایات نمبر درج ہیں مگر ستم ظریفی کا عالم یہ ہے کہ شہریوں کی طرف سے فون کرنے کے باوجود ایس ڈی او کسی شہری کا فون نہیں سنتے اور ان کی بجلی کے متعلق شکایات کا ازالہ نہیں ہورہا –

    لاہور: دھند اور سموگ کے باعث ائیر پورٹ بند،فلائٹ آپریشن متاثر

    فی الوقت پاکستان کاسب سے بڑا اور اہم عوامی مسئلہ ہے۔ یہی وہ ایشو ہے جس پر ‘عام آدمی’ سے لیکر ‘خاص آدمی’ تک سبھی اس سے متاثر ہیں تاہم لیسکو کی وجہ سے پریشانی کا شکار عوام کے لئے معروف صحافی مبشر لقمان نے آواز اٹھائی ہے-https://twitter.com/mubasherlucman/status/1471198303337521159?s=20
    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مبشر لقمان نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ لیسکو کی ایک بار پھر نا اہلی ناقابل یقین ہے بجلی کے مکمل وولٹیج نہیں آ رہے جس سے الیکڑونکس ڈیوائسز خراب ہو جاتے ہیں جبکہ


    انہوں نے لکھا کہ کل رات سے اب تک لائٹ نہیں ہے لیسکو حکام فون تک نہیں اٹھا رہے کہ یہ بتانے یا جواب دینے کے لیے کہ یہ لائٹ کب تک آئے گی اس حکومت میں حقیقی معنوں میں کوئی کسی کو جوابدہ نہیں یہ ملک کی بدترین حکمرانی ہے۔

    عمران نیازی کھلاڑی نہیں کھلواڑ کرنے والا شخص ہے، حمزہ شہباز

    اے پی ایس کے شہید بچوں کیلئے دعائیہ تقریبات

  • انڈونیشیا اور نیوزی لینڈ میں اومی کرون کا پہلا کیس رپورٹ

    انڈونیشیا اور نیوزی لینڈ میں اومی کرون کا پہلا کیس رپورٹ

    انڈونیشیا اور نیوزی لینڈ میں بھی کورونا کا نیا وئیرینٹ پہنچ گیا، پہلے کیس کی تصدیق ہو گئی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کی جانب آسٹریلوی باشندوں کو ملک سے باہر کرنے کے بعد اومی کرون کا اپنا پہلا کیس سامنے آیا ہے۔ کورونا کی نئی قسم سے متاثرہ شخص جرمنی سے ملک واپس آیا تھا ، جسے فوری آئسولیٹ کر دیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق یہ شخص کرائسٹ چرچ منتقل ہونے سے پہلے جرمنی سے آکلینڈ آیا تھا اب یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ اومی کورونا کے کیوی ساحلوں پر پہنچنے سے سرحد کی بندش کو مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔

    لندن:اومی کرون کا پھیلاؤ روکنے کیلئےپارلیمنٹ میں خصوصی بل منظور

    نئے قوائد میں 17 جنوری سے آسٹریلیا میں مقیم نیوزی لینڈ شہریوں کو مکمل ویکسین کے ساتھ ملک میں داخلے کے لیے ایک ہفتے کے لیے قرنطینہ ہونا ہوگا۔

    دوسری جانب انڈونیشیا میں بھی پہلے اومی کرون کیس کی تصدیق ہوئی ہے کورونا کی نئی قسم سے متاثرہ شخص کو فوری آئسولیٹ کر دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ کورونا کی تیزی سے پھیلتی نئی قسم اومی کرون میں یہ تحقیق سامنے آئی ہے کہ اومی کرون مریض کو زیادہ بیمار نہیں کرتی اور نہ ہی کورونا کی اس نئی قسم کا متاثرہ شخص زیادہ دن اسپتال میں زیر علاج رہتا ہے۔

    کورونا کی نئی قسم کا خوف،چین میں 5 لاکھ سے زائد افراد قرنطینہ

    اس سے قبل جنوبی افریقہ سائنسدانوں نے اپنی رپورٹ کی بنیاد پر کہا تھا کہ کورونا کی نئی قسم کے تیزی سے پھیلنے کے شواہد نہیں ملے اومی کرون اب تک جنوبی افریقہ کے 9 صوبوں تک پھیل چکا ہے اومی کرون سے متاثرہ شخص میں سنگین علامات دکھائی نہیں دیتیں تاہم اسے کم شدت والی قسم قرار دینا قبل ازوقت ہو گا اس کے لیے مزید ریسرچ کی ضرورت ہے۔

    اس سے قبل کورونا کے نئے ویریئنٹ ’اومیکرون‘ کے پھیلاؤ کے متعلق سب سے پہلے خبردار کرنے والوں میں سے ایک افریقی ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ ’او می کرون‘ کی علامات بہت ہی معمولی ہیں اور یہ وائرس 40 سال یا اس سے کم عمر کے افراد کو متاثر کر رہا ہے۔

    اومی کرون سے متاثرہ شخص زیادہ دن اسپتال میں زیر علاج نہیں رہتا

  • لاہور: دھند اور سموگ کے باعث  ائیر پورٹ بند،فلائٹ آپریشن متاثر

    لاہور: دھند اور سموگ کے باعث ائیر پورٹ بند،فلائٹ آپریشن متاثر

    لاہور اور گردونواح میں دھند اور اسموگ کے باعث فلائٹ آپریشن بری طرح سے متاثر ہو گیا-

    باغی ٹی وی : لاہورایئرپورٹ کے اطراف شدید دھند کے باعث حدنگاہ 50 میٹر رہ گئی لاہور ایئرپورٹ کو دھند کے باعث رات 8 بجے بند کیا گیا تھا دھند کے باعث لاہور سے 5 پروازوں کی آمدورفت منسوخ کی گئیں جبکہ 17 فلائٹس کے اوقات کارتبدیل کیے گئے۔

    لاہور سے گلگت جانےوالی پرواز پی کے609 اور گلگت سے آنےو الی پرواز پی کے 610 کو منسوخ کردیاگیا شارجہ سے آنیوالی پرواز پی کے 186 اورکراچی جانے والی پرواز پی کے 303 کو بھی منسوخ کردیاگیا۔

    شارجہ جانے والی پرواز پی اے 412 اور ابوظہبی جانیوالی پرواز پی اے 430 بارہ بجے روانہ ہوگی ، قطرایئر لائنز پرواز کیو آر 621 سوا بارہ بجے روانہ ہو گی ،ٹورنٹو جانیوالی پرواز دوپہر 2 بجے لاہور سے روانہ ہوگی-

    استنبول لندن جانیوالی برٹش ایئر کی پرواز بی اے 258 دوپہر سوا ایک بجے روانہ ہوگی ،لندن جانیوالی برٹش ایئر کی پرواز بی اے 258 دوپہر سوا ایک بجے روانہ ہوگی جبکہ ترکش ایئرویز کی پرواز ٹی کے 714 سوا 4 بجے لاہور پہنچے گی-

    ترجمان پی آئی اے کے مطابق ایئرلائنز انتظامیہ نے فلائٹس کی منسوخی اور تاخیر سے متعلق مسافروں کو پیشگی اطلاع کردی تھی۔

  • عمران نیازی  کھلاڑی نہیں کھلواڑ کرنے والا شخص ہے، حمزہ شہباز

    عمران نیازی کھلاڑی نہیں کھلواڑ کرنے والا شخص ہے، حمزہ شہباز

    اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ عمران نیازی کوملک میں مہنگائی اور قوم کیساتھ جھوٹےوعدوں کا حساب دینا ہوگا۔

    باغی ٹی وی :اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز نےعدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان جب سے آئے ہیں انہوں نے ڈرامہ رچایا ہوا ہے حکومت کا چوتھا سال ہے کہاں ہیں 50 لاکھ گھر؟پیشی اس کی ہونی چاہیے جس نے ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کیا مگر نہیں دی پیشی اس کی ہونی چاہیے جس نے عوام کو چینی کے لیے لائنوں میں لگادیا۔

    حمزہ شہباز نے کہا کہ معاشی ماہرین کہہ رہےہیں پاکستان دیوالیہ ہوچکا عمران نیازی کوبنی گالہ میں بیٹھ کرغریب کےدکھ نظرنہیں آتے؟آج یوریا کھاد کی قیمت آسمان سےباتیں کررہی ہے آج مریضوں کےپاس دواخریدنےکےپیسےنہیں ہیں کہتےہیں گیس صبح،دوپہر،شام آئےگی،کیا قوم بھکاری ہے؟-

    "یہ غم انگیز سولہ دسمبر، اصل غم کس بات کا ہے” محمد عبداللہ

    مسلم لیگ ن رہنما نے کہا ہے کہ 3 سال سے عوام کودھوکہ دیا جارہاہے ،معیشت کوتباہ کردیا گیا یہ کھلاڑی نہیں کھلواڑ کرنے والا شخص ہےاس حکومت نے ایک کلو میٹر موٹروے نہیں بنائی موٹروے پر جگہ جگہ گڑھے پڑ چکے ہیں،عمران نیازی یوم حساب کا وقت آچکا ہے افغانسان کے کرائسسز کے اثرات پاکستان پر مرتب ہو رہے ہیں چار سالوں میں یہ حکومت ایک دن بھی سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر بیٹھی ہے؟ ان کی انا بنی گالہ سے بھی اونچی ہے اگر اس قوم نے عوامی مسائل سے چھٹکارا پانا ہے تو حکومت کے سامنے کھڑے ہو جائیں۔

    ایک ہی دشمن کے دو زخم ازقلم :غنی محمود قصوری

    حمزہ شہبازکا کہنا ہے کہ آج کا دن یہ یاد دلاتا کہ اس قوم کو دہشت گردی کے ناسور کے خلاف متحد ہونا پڑے گا،مسانحہ اے پی ایس کے بچے اس قوم کو جھومر ہیں سکیورٹی کا معاملے پر وزیر اعظم غائب کیوں ہو جاتے ہیں سانحہ اے پی ایس کا سبق ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر کام کرنا ہے۔

    کورونا وبا: مزید 6 افراد جاں بحق،302 نئے کیسز رپورٹ

  • نیوزی لینڈ حکومت کا کرائسٹ چرچ مسجد حملے کے 10 ہیروزکیلئے اعلیٰ ترین ایوارڈ

    نیوزی لینڈ حکومت کا کرائسٹ چرچ مسجد حملے کے 10 ہیروزکیلئے اعلیٰ ترین ایوارڈ

    کرائسٹ چرچ مسجد حملے کے 10 ہیروز کے لیے نیوزی لینڈ حکومت نے اعلیٰ ترین ایوارڈ دینے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : "دی گارجئین” کے مطابق 2019 کے کرائسٹ چرچ مسجد کے قتل عام کے دوران دوسروں کو بچانے کے لیے اپنی جانیں خطرے میں ڈالنے والے دس افراد کو نیوزی لینڈ کے سب سے معتبر ایوارڈز سے نوازا گیا ہے۔

    شہید نعیم رشید کے لیے نیوزی لینڈ کراس ایوارڈ کا اعلان کیا گیا ہے، حملے میں بچ جانے والے عبدالعزیزکے لیے بھی نیوزی لینڈ کراس ایوارڈ دیا جائے گا۔

    شہید ڈاکٹر نعیم رشید
    وزیراعظم جسینڈرا آرڈرن کا کہنا تھا کہ ان شہریوں نے جس جرات کا مظاہرہ کیا وہ بے لوث اور قابل تعریف تھا۔ اس دن ان کی بہادری کا دل کی گہرائیوں سے احترام کرتے ہیں اور مشکور ہیں اگر اس دن یہ لوگ بہادری سے کام نہ لیتے اور اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر مدد نہ کرتے تو شاید ہم کہیں زیادہ جانیں کھو دیتے۔

    جسینڈرا آرڈرن نے کہا کہ اس فہرست میں ملک کے اعلیٰ ترین بہادری کے اعزاز کے دو ایوارڈز شامل ہیں، نیوزی لینڈ کراس جو کہ وکٹوریہ کراس کے مترادف ہے، جو نیوزی لینڈ کا اعلی ترین سول ایوارڈ ہے-

    امریکا میں اسلامو فوبیا کے خلاف بل منظور

    1999 میں شروع ہونے کے بعد سے اس سے قبل یہ ایوارڈ صرف دو افراد کو دیا گیا تھا۔ ایوارڈ جیتنے والوں کو اعزاز دینے کی تقریب اگلے سال کے آغاز میں منعقد کی جائے گی۔

    15 مارچ 2019 کو، نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں ایک سفید فام نسل پرست دہشت گرد نے النور مسجد میں نماز جمعہ کے دوران اندھا دھند فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں 51 افراد شہید اور 40 سے زائد ہو گئے تھے۔

    20 سال قبل امریکا کے مسترد کئے گئے ڈیزائن پر چین کا ہائپر سونک لڑاکا طیارہ

    ڈاکٹر نعیم رشید کو بعد از مرگ نیوزی لینڈ کراس سے نوازا گیا، جب انہوں نے النور مسجد میں حملہ آور کو چیلنج کرنے کے لیے اپنی حفاظت کو نظر انداز کیا تھا۔ جیسے ہی بندوق بردار مرکزی نماز کے کمرے میں آیا اور گولیاں برسانا شروع کر دیں، جماعت نے بھاگنے کی کوشش کی، لیکن رشید بندوق بردار پر بھاگا۔

    آرڈرن نے کہا ڈاکٹر نعیم رشید "ایسا کرتے ہوئے، دوسروں کو فرار ہونے کے قابل بنایا اور اپنی جان کے نقصان کے ساتھ حتمی قیمت ادا کی۔ میں ڈاکٹر راشد کی اہلیہ اور خاندان کو خاص طور پر تسلیم کرنا چاہتی ہوں، جو سب اچھی طرح جانتے ہوں گے کہ اس دن ان کے اعمال اس بات کی عکاسی کرتے تھے کہ وہ ایک شخص کے طور پر کون تھے-

    نعیم رشید کی اہلیہ عنبرین نعیم نے ایک بیان میں کہا کہ وہ اس ایوارڈ کے لیے شکر گزار ہیں۔ "آج ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے، لیکن انہوں نے اپنا امن اور محبت کا پیغام پوری دنیا میں پھیلا دیا ہے۔”

    ڈالرنے ترکی کی کرنسی کا ستیاناس کرکے رکھ دیا:”لیرا”لیراں لیراں ہوگیا:

    عبدالعزیز کوبھی بندوق بردار کو چیلنج کرتے ہوئے بڑی ہمت اور بہادری کا مظاہرہ کرنے پر نیوزی لینڈ کراس سے نوازا گیا۔ عزیز نے مزید جانی نقصان کو روکنے کے ارادے سے بندوق بردار پر اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کیا۔ عزیز کے اقدامات نے بندوق بردار کو اسلامک سنٹر میں دوبارہ داخل ہونے سے روکا اور بالآخر اسے مسجد سے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔

    عبدالعزیز

    رپورٹ کے مطابق عزیز نے جمعرات کو آر این زیڈ کو بتایا، "آپ سچ پوچھیں تو، میرے پاس کسی چیز کے بارے میں سوچنے کا وقت بھی نہیں تھا، میں صرف اس آدمی بزدل آدمی کو پکڑنا چاہتا تھا-

    جہاں عزیز نے امید ظاہر کی کہ اپنی کمیونٹی کو دہشت گردی سے بچانے میں مدد کرنے پر کسی کو دوبارہ ایوارڈ نہیں لینا پڑے گا، اس نے تسلیم کیا کہ یہ اعزاز پا کر اچھا لگا۔ "یہ ہماری تمام کمیونٹی اور تمام مسلمانوں کے لیے اور میرے لیے بھی بہت معنی رکھتا ہے، کیونکہ ان تمام اوقات میں ہم نشانہ بنے ہیں، اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ لوگ ہمارے ساتھ ہیں”یہ اچھا لگتا ہے، جیسے آپ نے اپنی زندگی میں کچھ اچھا کیا ہو۔”

    جاپان کی پاکستان کو پولیو ویکسین کی خریداری کے لیےگرانٹ کی منظوری

  • ایک ہی دشمن کے دو زخم   ازقلم :غنی محمود قصوری

    ایک ہی دشمن کے دو زخم ازقلم :غنی محمود قصوری

    ایک ہی دشمن کے دو زخم

    ازقلم غنی محمود قصوری

    قیام پاکستان سے ہی ہندوستان نے اس ارض پاک کو بے شمار زخم دیئے ہیں مگر اس نجس ہندو پلید کے دو زخم ایسے ہیں کہ جو ہم سدا یاد رکھینگے اور کبھی بھلا نا پائین گے اللہ کی حکمت ہے اللہ رب رحمان جو بھی کرتا ہے سب اچھا ہی کرتا ہے اس کے فیصلے میں ہمیشہ ہی بہتری ہوتی ہے بس ہمیں وقتی نامناسب لگتا ہے مگر وہ نامناسبیتی ہمیں بہت سے سبق دے دیتی ہے جو کہ ہمارے آنے والے وقت اور آنے والی نسلوں کیلئے بہت سود مند ہوتا ہے

    آج ارض پاک پاکستان کو دولخت ہوئے 50 سال اور سانحہ اے پی ایس پشاور کو ہوئے 7 سال ہو چکے ہیں

    یہ دونوں زخم بہت بڑے ہیں اور ان دونوں زخموں کو دینے والا ہمارا پڑوسی اور سب سے بڑا دشمن ملک بھارت ہے اس رزدیل نے مشرقی پاکستان میں شورش بپا کروائی اور اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو ایک دوسرے کے خلاف کروا دیا اس نے سیاستدانوں کی غلط پالیسوں کو بنیاد بنا کر علیحدگی کا نعرہ لگوا کر مکتی باہنی جیسی علیحدگی پسند تنظیم کی بنیاد رکھی اور اسے مسلح تربیت دی جس نے مشرقی پاکستان میں قومیت،لسانیت جیسا نفرت انگیز نعرہ لگا کر علیحدگی کی شروعات کی-

    اس شورش کا آغاز تو 1971 سے پہلے ہی ہو چکا تھا مگر باقاعدہ آغاز مارچ 1971 کو ہوا تھا مشرقی پاکستان یعنی موجودہ بنگلہ دیش ہمارا حصہ اور صوبہ تھا جس کے بیچ انڈیا سینڈوچ بنا ہوا تھا اور اس کی ہر تدبیر پاکستان کو دولخت کرنے کیلئے ہوتی تھی مشرقی پاکستان میں ہماری مسلح وج یعنی ایسٹرن ٹھیٹر ان کمان میں ہمارے کل فوجی جوانوں کی تعداد 42 ہزار تھی 90 ہزار بتائے جانے والے بات ایک بہت بڑا جھوٹ ہے-

    جبکہ ان کے مدمقابل مکتی باہنی کے غنڈوں کی تعداد تقریبا 190000 اور اس کی پشت پناہی کیلئے بھارتی فوج کی تعداد 250000 تھی یعنی کہ 42 ہزار کے مقابلے میں ساڑھے چار لاکھ مگر اس کے باوجود ہمارے فوجی جوانوں نے انتہائی کم وسائل کے باوجود تقریباً 9 ماہ تک اپنے سینوں پر گولیاں کھا کر دشمن کے عزائم کو روکے رکھا اور ان کا خوب ڈٹ کر مقابلہ کیا تاہم ایسٹرن ٹھیٹر ان کمان کے کمانڈر ان چیف امیر عبداللہ خان نیازی کے حکم پر 16 دسمبر 1971 میں ہتھیار ڈالے گئے-

    تاریخ گواہ ہے اور آج بھی بنگالی اپنی زبان سے بتلاتے ہیں کہ پاک فوج کے جوان بھوکے پیسے اور زخمی ہو کر بھی خالی بندوقوں کی سنگینوں سے لڑتے رہے مگر ہتھیار ڈالنے کو تیار نا تھے جس پر ہندو درندہ صفت فوج اور مکتی باہنی کے غنڈوں نے عام مشرقی،و مغربی پاکستانیوں کو شہید کرنا شروع کر دیا تو جنرل نیازی نے سختی سے ہتھیار ڈالنے کا حکم جاری کیا اور واسطہ دیا کہ اپنی جانیں دے کر ان سویلینز کو بچا لو جو کہ ایک سپاہی کا اصل کام ہوتا ہے
    تب ہمارے شیر دل جوان مجبوراً ہتھیار ڈالنے پر راضی ہوئے-

    واضع رہے کہ مشرقی پاکستان میں بہت زیادہ تعداد میں سول محکموں میں سویلین مغربی پاکستانی تعینات تھے جن کو مکتی باہنی و بھارتی فوج نے بے تحاشہ قتل کرنا شروع کر دیا تھا اور یہی سب سے بڑی وجہ ہتھیار ڈالنے کی بنی نیز چائنہ و امریکہ کی طرف سے باوجود وعدہ کے عین ٹائم پر ہتھیاروں کی کھیپ روک لی گئی اور محض تسلیاں ہی دی گئیں جس سے ہماری مسلح طاقت ختم ہو کر رہ گئی تھی-

    بھارت کے جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ کی سربراہی میں تقریباً 40 ہزار فوجی جوانوں و 50 ہزار عام مغربی پاکستانیوں کو گرفتار کیا گیا جنہیں انڈیا میں 1974 تک قید رکھا گیا تھا-

    واضع رہے دو طرفہ سیاستدانوں کی نااہلی و ذاتی مفاد پرستی کے باعث جنگ عظیم دوئم کے بعد ہتھیار ڈالنے والے فوجیوں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہےتاہم مغربی محاذ پر پاکستان کو ہر لحاظ سے بھارت پر برتری حاصل تھی اس کے کئی شہروں پر پاکستانی فوج نے قبضہ کر لیا تھا مگر مکار ہندو بنئے نے موقع دیکھ کر سلامتی کونسل سے جنگ بندی کروائی اور مشرقی پاکستان میں اپنی فتح کو مغربی پاکستان میں شکست میں تبدیل ہونے سے بچا لیا ارض پاک کو دولخت کرنے کا یہ زخم ہمیشہ ہمارے سینوں میں ہمیشہ تازہ رہے گا-

    بھارت مکار نے 1971 کے بعد پاکستان میں اپنی مکاریوں کا جال مذید بچھا دیا اس نے قومیت،لسانیت،صوبائیت،فرقہ واریت،مہاجریت جیسے مکروہ نعروں کو پروان چڑھایا اور مغربی ماندہ پاکستان کو بھی ختم کرنے کی کوششیں تیز کر دیں مگر رب کریم نے ہر مرتبہ بھارت کو افواج پاکستان و عوام پاکستان سے ذلیل ہی کروایا-

    16 دسمبر 2014 کو انڈیا نے اپنی لے پالک اور تربیت یافتہ مسلح خارجی جماعت تحریک طالبان پاکستان سے آرمی پبلک سکول پشاور پر دہشت گردانہ حملہ کروایا جس میں سکول میں پڑھنے والے 8 سال سے 18 سال کے لگ بھگ 132 طالب علموں کو شہید کیا گیا اور دیگر 17 اساتذہ و سکول عملے کو بھی شہید کیا گیا کہ جن میں خواتین بھی شامل تھیں-

    دشمن کی یہ حرکت انتہائی تکلیف دہ ہے اس نے ہمارے بچوں کو تعلیم سے دور کرنے اور جہاد جیسے مقدس فرض کو بدنام کرنے کیلئے بدنام زمانہ خودساختہ جہادی اور حقیقتاً خارجی جماعت تحریک طالبان پاکستان سے یہ کام کروایا تھا جنہوں نے بڑے فخر سے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی تھی-

    واضع رہے کہ متعدد بار پاکستان نے تحریک طالبان کی انڈین را سے فنڈنگ کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے حتی کہ اس خارجی جماعت کے نہاد مجاھدین کا حال یہ ہے کہ ان کو کلمہ تک نہیں آتا اور ان کے ختنے تک نہیں ہوئے بلکہ ماضی میں امریکن سی آئی اے کے ایجنٹ بھی پکڑے گئے جو تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مل کر پاکستانی فوج کے خلاف لڑتے تھے اور باقاعدہ ان نام نہاد خودساختہ مجاھدین کو ٹریننگ بھی دیتے تھے-

    یہ ظالم درندے بھول گئے کہ اسلام تو بچوں،بوڑھوں،عورتوں حتی نا لڑنے والے نوجوانوں تک کو بھی قتل کرنے سے منع کرتا ہے مگر اس سب کے باوجود ان نام نہاد جہادیوں نے جہاد کو بدنام کرنے اور انڈیا کو خوش کرنے کیلئے معصوم بچوں کا قتل عام کیا اور دن کا انتخاب بھی سقوط ڈھاکہ والے دن کا کیا تاکہ زخمی محب وطنوں کو مذید دکھی کیا جائے-

    میرے پاک نبی کا فرمان ہے کہ مسلمانوں کو جہاد کے نام پر ناحق قتل کرنے والے خارجی ہیں اور ان کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں یہ لوگ پکے جہنمی ہیں جبکہ اللہ تعالی کا بے گناہ مارے جانے اور اللہ کے راستے میں لڑتے ہوے مارے جانے والوں کیلئے ارشاد ہے-

    "اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انھیں مردہ نہ کہو ایسے لوگ تو حقیقت میں زندہ ہیں مگر تمھیں ان کی زندگی کا شعور نہیں-"( 154 آل بقرہ)

    یقیناً بھارت نے سقوط ڈھاکہ 16 دسمبر کی یاد تازہ کرنے کیلئے آرمی کے سکول میں اس لئے بچوں کا قتل عام کروایا تھا کہ کل کو یہی بچے بڑھے ہو کر فوج میں بھرتی ہو کر بھارت کے خلاف لڑینگے اسی لئے بھارت نے بچوں میں خوف و ہراس پیدا کرکے تعلیم سے دور کرنے کی کوشش کی مگر بچ جانے والے بچوں نے بھارت کو بڑا سخت پیغام دیا-

    مجھے ماں اس سے بدلہ لینے جانا ہے
    مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے

    غور کیجئے یہ بچے کہہ رہے ہیں ہم تعلیم حاصل کرکے اپنے دشمن کے بچوں سے بدلہ لینا ہے مگر کون سا بدلہ؟ وہ بدلہ اس ظالم کی نسلوں کو اسلام کا سبق دے کر اصلاح کرکے دین اسلام کی حقانیت دکھا کر دین حنیف میں لانا ہے –

    سانحہ اے پی ایس پشاور میں زخمی ہونے والے بچوں کے بیانات پوری دنیا نے بذریعہ میڈیا دیکھے اور سنے اور سبھی کہنے پر مجبور ہو گئے کہ یہ ایک آہنی قوم ہے اس کے بچوں کے جذبے بلند ہیں تو بڑے تو پھر فولادی عزم سے بھی اوپر عزم رکھتے ہیں ایک ہی دشمن کے یہ دو زخم ہمارے دل میں اس نجس دشمن کیلئے مذید نفرت ڈال رہے ہیں-

  • کورونا وبا: مزید 6 افراد جاں بحق،302 نئے کیسز رپورٹ

    کورونا وبا: مزید 6 افراد جاں بحق،302 نئے کیسز رپورٹ

    پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید 6 افراد جاں بحق ہو گئے-

    باغی ٹی وی : نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھرمیں42 ہزار895 کورونا ٹیسٹ کیے گئے مزید 302 کورونا کیسز رپورٹ ہوئے۔

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 12 لاکھ 90 ہزار215 جبکہ مجموعی اموات کی تعداد 28 ہزار 849 ہو گئی ہے اور مثبت کیسز کی شرح 0.70 فیصد رہی۔

    سندھ میں کورونا کے کیسز کی تعداد 4 لاکھ 78 ہزار 564، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 80 ہزار 825، پنجاب میں 4 لاکھ 44 ہزار 32،اسلام آباد میں ایک لاکھ 8 ہزار198، بلوچستان میں 33 ہزار 540، آزاد کشمیر میں 34 ہزار 627 اور گلگت بلتستان میں 10 ہزار 428 ہو گئی ہے۔

    کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 13 ہزار 53 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 7 ہزار 640، خیبرپختونخوا 5 ہزار 900، اسلام آباد 963، گلگت بلتستان 186، بلوچستان میں 363 اور آزاد کشمیر میں 744 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

  • سانحہ اے پی ایس،پاک افواج کو خراج تحسین جنہوں نے جانیں دے کر ملک میں امن بحال کیا،آصف علی زرداری

    سانحہ اے پی ایس،پاک افواج کو خراج تحسین جنہوں نے جانیں دے کر ملک میں امن بحال کیا،آصف علی زرداری

    سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور: شہداء کی ساتویں برسی آج 16 دسمبر جمعرات کو منائی جا رہی ہے-

    باغی ٹی وی : سات برس بیت گئے مگر زخم آج بھی تازہ ہیں، سانحہ اے پی ایس ایک ایسا اندوہناک واقعہ جو کبھی بھلایا نہ جا سکے گا سانحہ کی یاد میں جہانیاں سمیت ملک بھر میں سیاسی و سماجی تنظیموں ،سول سوسائٹی اوراین جی اوز کے زیر اہتمام شہداء کیلئے قرآن خوانی ، فاتحہ خوانی اور دعائیہ تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا-

    پشاور میں بھی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا،جس کے باعث سکیورٹی کے بھی انتظامات کرلئے گئے ہیں شہدا کی درجہ بلندی کے لئے فاتحہ خوانی اور قرآن خوانی بھی کی جائے گی شہدا کے قبروں پر پھولوں کی چادریں چڑھائی جائیں گیں۔

    16 دسمبر 2014 ء کی صبح 6 بزدل دہشت گرد آرمی پبلک اسکول پشاور میں داخل ہوئے، عقبی دیوار پھلانگ کر داخل ہونے والے دہشت گردوں نے اسکول کے آڈیٹوریم ہال میں جاری فرسٹ ایڈ ورکشاپ میں شامل بچوں پر گولیوں کی اندھا دھند بوچھاڑ کردی گولہ بارود اور خودکش جیکٹوں سے لیس درندہ صفت حملہ آوروں اس بزدلانہ کارروائی میں 132 طالبِ علموں سمیت 141 افراد کو شہید کردیا تھا-

    اس دن ہر آنکھ اشکبار تھی، ملک سوگ میں ڈوب چکا تھا ہر طرف قیامت جیسا سناٹا تھا، اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کا خواب دیکھنے والے والدین اپنے بچوں کے ساتھ ان سارے خوابوں کو بھی دفن کرتے رہے، روتے بلکتے بس ایک ہی سوال پوچھتے رہے کہ آخر ان کے بچوں کا قصور کیا تھا ، خودان کا قصور کیا تھا۔

    16 دسمبر 2014 کو اے پی ایس کے واقعہ نے پوری قوم کو یکجا کر دیا ،دفاعی و سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کا زخم بہت گہرا تھا لیکن پاکستانی قوم اور اداروں کا عزم اس سے کہیں بلند۔

    پوری قوم نے پاکستان کے سیکورٹی اداروں کے ساتھ مل کر ایک ایسے آپریشن کا آغاز کیا کہ جس کا ہدف ایک ایسا پاکستان تھا جہاں ریاست ہی کو طاقت کے استعمال کا حق حاصل ہو معصوم بچوں پرحملہ کرنے والے دہشت گردوں کو افواج پاکستان نے اسی وقت آپریشن میں جہنم واصل کردیا جبکہ سہولت کار بعد میں پھانسی پر چڑھ گئے لیکن 16 دسمبر کا وہ دن ملک کی تاریخ کا بھیانک خواب بن کررہ گیا۔

    اس واقعے کو گزرے 7سال بیت چکے ہیں،سانحے میں شہید ہونے والے طلبہ کے والدین تاحال انصاف کے منتظر ہیں،سپریم کورٹ آف پاکستان میں کیس کی سماعت بھی جاری ہے،جس میں وزیراعظم عمران خان نے عدالت عظمیٰ کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ججز حکم دیں تومتعلقہ حکام کے خلاف ایکشن لیں گے۔

    ادھر پاکستان پیپلز پارٹی کےشریک چیئرمین آصف علی زرداری نے سانحہ اے پی ایس کے شہدا کی یوم شہادت پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ جب تک منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کو کٹہرے میں لاکر سزا نہیں دی جاتی ریاست شہیدوں کی مقروض رہے گی۔نیشنل ایکشن پلان میں ملک کو دہشتگردوں سے پاک کرنے کا عہد کیا گیا تھا،افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے جانیں دے کر ملک میں امن بحال کیا۔


    چوہدری مونس الہی نے یوم سقوط ڈھاکہ اور یوم سانحہ اے پی ایس پر اپنے پیغام میں کہا کہ آج 16 دسمبر ہےسقوط مشرقی پاکستان اور سانحہ اے پی ایس کی تاریخ ۔آئیے آج کے روز ان سانحات کےشھیدوں کو اس عہد کےساتھ سلام پیش کریں کہ ہم ان کی عظیم قربانیوں کو کبھی نہ بھولیں گےاور دشمن کو اس کے ناپاک ارادوں میں شکست دیں گے۔ پاکستان زندہ باد۔


    سینیٹر اعجاز چوہدری نے کہا 16دسمبر وطن عزیز کی تاریخ میں غم واندوہ لیکر آتاہے،سانحہ مشرقی پاکستان ہو یا اے پی ایس سکول کے بچوں کا صدمہ جانکاہ بحیثیت قوم جسد قومی کو ہلا کررکھ دیتا ہےاور تقاضہ کرتا ہے کہ ہم اپنےدُشمن کو پہچانے،اُس کا تدارک کریں۔ وہ ہندتوا ہے یااُنکے معنوی پیروکار


    پی ٹی آئی کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے ٹوئٹ میں کہا گیا کہ 16 دسمبر وہ دن جب پاکستانی قوم کو ایک مشترکہ اور ناقابلِ فراموش غم کی کٹھن گھڑی سےگزرنا پڑا۔ اُس دن سے دہشت گردی کیخلاف ہمارا عزم مضبوط تر ہے۔ پاکستان نے دہشت گردوں کےکیمپوں اور ٹھکانوں کیخلاف کارروائی شروع کی اور پاک سر زمین کو دہشت گردی سے پاک کیا۔


    عامر لیاقت نے کہا کہ آرمی پبلک اسکول کے بچوں کو عامر لیاقت حسین کا سلام تحسین , میرے وطن کی شہید ننھی کلیاں اب شہادت کے رنگین پھول بن چکے مگر اب بھی انصاف سے محروم ہیں، اللہ والدین کو صبر جمیل عطا فرمائے،آمین


    وجیہہ قمر نے کہا کہ تعلیم پر حملہ ہمارے کامیابی کے راز پر حملہ ہے۔ بچوں پر حملہ ہمارے مستقبل پر حملہ ہے سانحہ اے پی ایس ہمیں دشمن کے خلاف مضبوط اور اتفاق کے ساتھ مقابلے کرنے کا درس دیتا ہے-


    سینیٹر ذیشان خانزادہ نے لکھا کہ شہدائے آرمی پبلک سکول پشاور ہم تمہیں بھولے نہیں ہیں ۔ پروردگار اے پی ایس کے شہدا کے درجات بلند فرمائے اور ہمارے وطن پاکستان کی حفاظت فرمائے ،آمین


    انہوں نے لکھا کہ اے پی ایس شہداء کی قربانیوں کو رہتی دُنیا تک یاد رکھا جائیگا، جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر مُلکی یکجہتی اور سالمیت کو برقرار رکھنے میں اپنا اہم کردار ادا کیا-

    سقوط ڈھاکہ کے 50 سال:آج ملک بھر میں یوم سقوط ڈھاکہ منایا جائے گا

  • سقوط ڈھاکہ کے 50 سال:آج ملک بھر میں یوم سقوط ڈھاکہ منایا جائے گا

    سقوط ڈھاکہ کے 50 سال:آج ملک بھر میں یوم سقوط ڈھاکہ منایا جائے گا

    ملک بھر میں یوم سقوط ڈھاکہ آج 16 دسمبر جمعرات کو منایا جائے گا –

    باغی ٹی وی : اس سانحہ کے حوالے سے سیاسی و سماجی تنظیموں کے زیر اہتمام مختلف تقریبات اور سیمینارز کا اہتمام کیا جائے گا ،سانحہ مشرقی پاکستان 16 دسمبر 1971 ء کو پیش آیا جسے سقوط ڈھاکہ بھی کہا جاتا ہے۔سقوط ڈھاکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جنگ تھی جس کے نتیجے میں بنگلا دیش دنیا کے نقشے پر ابھرا۔بھارتی سازشوں کے نتیجے میں 26 مارچ 1971 ء کو جنگ کا آغاز ہوا اور 16 دسمبر 1971 ء کو مشرقی پاکستان علیحدہ ہو گیا جس کی وجہ سے پاکستان آبادی اور رقبے کے لحاظ سے ایک بڑی ریاست سے محروم ہو گیا ۔

    بنگلہ دیش کی جنگ آزادی، جسے بنگالی میں مکتی جدھو اور پاکستان میں سقوط مشرقی پاکستان یا سقوط ڈھاکہ کہا جاتا ہے، پاکستان کے دو بازوؤں، مشرقی و مغربی پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جنگ تھی جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان آزاد ہو کر بنگلہ دیش کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھرا۔

    چودہ اگست 1947 کو اسلام کے نام پر ایک نیا ملک پاکستان وجود میں آیا، بھارت نے دنیا کی اس سب سے بڑی اسلامی مملکت کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا پڑوسی ملک نے پاکستان کے قیام کے بعد ہی اس کے خلاف سازشوں کے جال بننا شروع کر دیے، بھارت کو مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمان کے روپ میں ایک غدار بھی مل گیا 1970 کے انتخابات کے بعد شیخ مجیب الرحمان نے بھارتی ایما پر احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا اور مشرقی پاکستان کے حالات تیزی سے خراب ہونے لگے۔

    جنگ کا آغاز 26 مارچ 1971ء کو حریت پسندوں کے خلاف پاک فوج کے عسکری آپریشن سے ہوا جس کے نتیجے میں مقامی گوریلا گروہ اور تربیت یافتہ فوجیوں (جنہیں مجموعی طور پر مکتی باہنی کہا جاتا ہے) نے عسکری کارروائیاں شروع کیں اور افواج اور وفاق پاکستان کے وفادار عناصر کا قتل عام کیا۔

    مارچ سے لے کے سقوط ڈھاکہ تک تمام عرصے میں بھارت بھرپور انداز میں مکتی باہنی اور دیگر گروہوں کو عسکری، مالی اور سفارتی مدد فراہم کرتا رہا بھارتی فوج کے زیر اثر قائم مکتی باہنی کے غنڈے سرعام قتل کرنے لگے حکومتی رٹ قائم کرنے اور امن وامان برقرار رکھنے کی غرض سے فوجی آپریشن کا آغاز کیا گیا، بھارت نے تمام بین الاقوامی ضابطوں کو پامال کرتے ہوئے مشرقی و مغربی پاکستان پر جنگ مسلط کر دی مکتی باہنی نامی دہشت گرد تنظیم نے لاکھوں غیر بنگالی مسلمانوں کا قتل عام کیا اور دہشت گردی کی تاریخ رقم کی اس جنگ کا اختتام پاکستان کے قیام کے صرف چوبیس سال بعد ہی اس کے دولخت ہونے پر ہوا اور بالآخر دسمبر میں مشرقی پاکستان کی حدود میں گھس کر اس نے 16 دسمبر1971ء کو ڈھاکہ میں افواج پاکستان کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا۔

    یہ جنگ عظیم دوم کے بعد جنگی قیدیوں کی تعداد کے لحاظ سے ہتھیار ڈالنے کا سب سے بڑا موقع تھا۔ بنگلہ دیش کی آزادی کے نتیجے میں پاکستان رقبے اور آبادی دونوں کے لحاظ سے بلاد اسلامیہ کی سب سے بڑی ریاست کے اعزاز سے محروم ہو گیا مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے اسباب جاننے کے لیے حمود الرحمٰن کمیشن تشکیل دیا گیا، جس نے حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ جاری کی۔

    سقوط ڈھاکہ میں بھارتی کردار کو اس وقت کی بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی اور موجودہ وزیراعظم نریندر مودی نے بھی تسلیم کیا اندرا گاندھی نے تو جوش خطابت میں یہاں تک کہہ دیا کہ ’آج ہم نے دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہےپاکستان کو دولخت کرنے کے بعد بھی بھارت اپنے مذموم ارا دوں سے باز نہ آیا اور اب بھی انتہا پسند ہندو سوچ اَکھنڈ بھارت بنانے کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔