Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • ملک میں کورونا سے مزید 40 افراد جاں بحق ،مثبت کیسز کی شرح 2 فیصد پر برقرار

    ملک میں کورونا سے مزید 40 افراد جاں بحق ،مثبت کیسز کی شرح 2 فیصد پر برقرار

    پاکستان میں کورونا کی لہر کی شرح میں کمی،24 گھنٹوں میں 40 اموات-

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کی تیسری لہر جاری ہے، کورونا مریضوں اور اموات میں کی شرح میں کمی ہو رہی ہے-


    نیشنل کمانڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق عالمی وبا کورونا وائرس پر پاکستان میں کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے اور ملک بھر میں کورونا سے اموات اور مثبت کیسز کی شرح میں کسی حد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا سے مزید 27 اموات ہوئی ہیں-

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ روز کورونا کے 46 ہزار 145 نئے ٹیسٹ کئے گئے1 ہزار 37 نئے کیسز سامنے آ گئے۔ ملک بھر میں مثبت کیسز کی شرح تقریباً 2.2 فی صد رہی۔

    پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 22 ہزار 321 تک پہنچ گئی جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 9 لاکھ 58 ہزار 408 ہو چکی ہے۔

  • پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس آجٕ ہوگا

    پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس آجٕ ہوگا

    پارلیمانی کمیٹی برائےقومی سلامتی کااجلاس آج قومی اسمبلی ہال میں ہوگا-

    باغی ٹی وی : باخبر ذرائع کے مطابق پارلیمانی کمیٹی برائےقومی سلامتی کااجلاس آج قومی اسمبلی ہال میں ہوگا اجلاس کے لیےقومی اسمبلی ہال کوکمیٹی روم کادرجہ دےدیا گیا ہے-

    ذرائع نے بتایا کہ قومی سلامتی کونسل اجلاس کیلئےاپوزیشن اور حکومت میں معاملات طے پا گئے ہیں ،اپوزیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ غیرمنتخب نمائندےآج اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے بلکہ قومی سلامتی اجلاس میں منتخب اورمحدودنمائندےشریک ہوں گے-

    ذرائع نے مزید بتایا کہ اجلاس میں افغانستان کےمعاملےپر حکومت اپوزیشن کومکمل اعتمادمیں لے گی تاہم اسپیکرقومی اسمبلی اسد قیصر نےاپوزیشن کےتمام مطالبات تسلیم کرلیے ہیں-

    اس سےقبل بتایا گیا تھا کہ اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کے 29 اراکین بطور کمیٹی رکن شرکت کریں گے، اجلاس یکم جولائی کو 3 بجے پارلیمانی ہاؤس میں ہوگا 16اراکین کوپارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی اجلاس میں خصوصی شرکت کی دعوت دی گئی ہے-

    اسپیکر اسد قیصر پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی اجلاس کی صدارت کریں گے ،اجلاس میں شہباز شریف، بلاول بھٹو، خواجہ آصف اور یوسف رضا گیلانی ،غفور حیدری اورمولانا اسعد محمود ، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، وزیر داخلہ شیخ رشید ، وزیر دفاع اور وزیر خارجہ شرکت کریں گے-

    پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاوَس میں یکم جولائی کو طلب
  • قیمہ بھرے کریلے بنانے کا طریقہ

    قیمہ بھرے کریلے بنانے کا طریقہ

    قیمہ بھرے کریلے

    وقت: 1 سے1½ گھنٹہ

    4 سے 6 افراد کے لئے

    اجزائے ترکیبی ………… مقدار …………

    کریلے ………… ایک کلو
    تیل (تلنے کے لئے) ………… ½کپ
    نمک ………… حسب ذائقہ
    قیمے کی تیاری…………
    مٹن قیمہ ………… ½کلو
    تیل ………… ¼کپ
    پیاز (کٹے ہوئے) ………… 1کپ
    پیاز (قتلے) ………… ½کپ
    ادرک لہسن کا پیسٹ ………… 1کھانے کا چمچ
    ٹماٹر (گرائنڈ کئے ہوئے) ………… 1کپ
    ہر ا دھنیا (کٹا ہو) ………… 2کھانے کے چمچ
    ہری مرچیں (کٹی ہوئی) ………… 1کھانے کا چمچ
    نمک ………… حسب ذئقہ
    سرخ مرچ پاؤڈر ………… 2چائے کے چمچ
    ہلدی پاؤڈر ………… 1چائے کا چمچ
    ہلدی پاؤڈر ………… 1چائے کا چمچ
    زیرہ ………… 1 چائے کا چمچ
    خشک دھنیا پاؤڈر ………… 2چائے کے چمچ

    سجاوٹ کے لئے:
    ہری مرچیں (قتلے) ………… 1کھانے کا چمچ
    ادرک (لمبائی میں کٹی ہوئی) ………… 1کھانے کا چمچ

    طریقہ کار:
    کریلوں کو چھیل کر کٹ لگائیں اور تمام بیج چمچ سے باہر نکال دیں۔ 1½ چمچ نمک کریلوں کے اندر اور باہر لگا کر 30سے 40 منٹ تک رکھی تاکہ کریلوں کی کڑواہٹ نکل جائے۔ اب کریلوں کودھو کر فالتو پانی دبا کر نکال دیں۔ ایک فرائی پین میں تیل ڈال کر کریلوں کو کرسپی اور گولڈن براؤن ہونے تک تلیں آنچ ہلکی رکھیں۔ اب کریلوں کو نکال کر ایک ڈھکن والے برتن میں رکھ دیں تاکہ وہ میٹھے ہوجائیں۔ ایک اور برتن میں تیل گرم کرکے پیاز ہلکے براؤن کرلیں۔ ادرک لہسن کا پیسٹ شامل کرکے دو منٹ تک پکائیں۔ اب اس میں ٹماٹر، نمک، ہلدی، زیرہ، خشک دھنیا اور ہری مرچیں شامل کریں۔ 10سے 12منٹ مصالحہ تیار ہو کر گھی چھوڑنے تک پکائیں۔اب مٹن قیمہ اور ایک کپ پانی شامل کرکے قیمے کے گلنے تک پکائیں۔ ہرا دھنیا ڈال کر چولہے سے اتار لیں اور کمرے کے درجہ حرارت پرٹھنڈا ہونے دیں۔ پکے ہوئے قیمے کوکریلوں میں بھر دیں اوردھاگا لپیٹ دیں۔ پکے ہوئے قیمے کی کچھ مقدار بچالیں۔ اب اس قیمے کو ایک برتن میں ڈال کر قتلوں میں کئے پیاز شامل کریں پیاز نر م ہونے تک پکائیں۔ اس قیمے میں بھرے ہوئے کریلے شامل کریں اور برتن کو ڈھک کر 8سے 10 منٹ تک ہلکی آنچ پر پکائیں۔ ہری مرچوں اور ادرک کے ساتھ سجائیں۔ ایک ہی سائز کے کریلے استعمال کریں۔ مٹن قیمے کی بجائے آپ بیف قیمہ بھی استعمال کرسکتے ہیں۔

  • محل سے میوزیم میں تبدیل ہونے والا "مُکھی ہاؤس”

    محل سے میوزیم میں تبدیل ہونے والا "مُکھی ہاؤس”

    1921 میں ، جیٹھانند مکھی نے حیدرآباد میں مکھی ہاؤس (مکھی بیٹی کا نام تھا) تعمیر کیا۔ اس وقت اسے سونے کے حقیقی پانی سے پینٹ کیا گیا تھا۔ 2008 میں ، مکھی خاندان کی اولادوں نے مکھی ہاؤس کے مستقبل کے دعوؤں کو اس شرط پر چھوڑ دیا کہ اسے محفوظ کرکے میوزیم میں تبدیل کردیا جائے۔

    باغی ٹی وی : اس تحفظ کی سربراہی ڈاکٹر کلیم لاشاری نے سندھ کے محکمہ نوادرات سے کی تھی ، جس کا سن 2014 میں میوزیم کے منصوبے کا افتتاح کیا گیا تھا۔ بڑے گھر میں سندھی ہندوؤں کا وہ متمول حصہ دکھاتا ہے جس کی تعلیم سے لے کر معاشرتی بہبود تک ہر شعبے میں نمایاں رہی ہے تقسیم ہند کے دوران کنبے کو چھوڑنا پڑا۔

    اب ایک صدی ہونے کو آئی ہے۔ یہ گھر آج بھی نظر رکھنے والی آنکھوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے، اور دیکھنے والے کو مسحور کر دیتا ہے۔ یہ گھر حیدرآباد میں ہوم اسٹیڈ ہال کے سامنے مکھی ہاؤس کے نام سے مشہور ہے جسے ‘مکھی محل’ بھی کہتے ہیں۔

    یہ عمارت 1921 میں اس وقت کی مشہور شخصیت جیٹھانند مکھی نے اپنی خواہش کے مطابق تعمیر کروائی تھی، جسے انہوں نے گھر کا نہیں بلکہ مکھی محل کا نام دیا تھا، اور یہ واقعی ایک محل سے کم نہیں ہے۔ جیٹھانند مکھی اس زمانے میں حیدرآباد کی شہری انتطامیہ کے سربراہ تھے۔ شہر کے کافی انتظامی معاملات ان کے سپرد تھے۔ اسی مکھی ہاؤس سے تھوڑے سے فاصلے پر مکھی باغ بھی تھا مگر اب اس باغ کے کوئی بھی آثار دکھائی نہیں دیتے، جہاں پر اب گنجان آبادی ہے۔ اس شاہکار گھر کی تعمیر کے سات برس بعد جیٹھانند مکھی 1927 میں انتقال کر گئے۔

    برصغیر کی تقیسم کے بعد جو ہجرت کا سلسلہ شروع ہوا وہ سالہا سال تک جاری رہا۔ شاید ان گھروں کے در و دیوار کو کبھی یہ اندازہ نہیں رہا ہو گا کہ وہ تنہا رہ جائیں گے اور ان گھروں کی کہانیاں صرف ہم لوگوں سے زبانی ہی سنتے رہیں گے، لیکن مکھی خاندان پاکستان بننے کے بعد بھی اسی شہر اور گھر میں مقیم تھا۔

    1957 کو انہیں اس شہر کو چھوڑ کر جانا پڑا۔ جیٹھانند مکھی کی وفات کے بعد ان کی بیوہ اور دو بیٹے یہاں پر رہ رہے تھے، مگر انہیں یہ کہا گیا تھا کہ اگر وہ یہاں مزید رہے تو ان پر حملہ ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ انہیں اس محل نما گھر کو خیرباد کہنا پڑا اور یہ خاندان ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہندوستان چلا گیا۔

    یہاں پر کسی زمانے میں ہندوستانی سفارت خانہ بھی قائم کیا گیا تھا۔ اس کے بعد یہ ایف سی کا ہیڈ کوارٹر بھی رہا، جبکہ اسے کے نچلے حصے کو اسکول میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔

    حیدرآباد کے شہر نے اس وقت اپنا سکون کھو دیا جب 1988 میں یہاں لسانی فسادات ہوئے تھے۔ انہی دنوں مکھی ہاؤس کو نذر آتش کر دیا گیا تھا۔ گھر کے دروازے، کھڑکیاں اور کمروں میں رکھا فرنیچر جل کر خاک ہو گئے تھے مگر اس کے باوجود بھی آج مکھی ہاؤس سلامت ہے۔

    2009 میں سندھ حکومت کے محکمہء آثارِ قدیمہ نے اس گھر کو سنبھالنے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد 2013 میں مکھی خاندان نے اپنے قدیم گھر کا دورہ کیا اور اسے سندھ حکومت کے حوالے کرنے کے بعد میوزیم میں تبدیل کرنے کی اجازت دی گئی، چنانچہ اب اسے ایک میوزیم میں تبدیل کیا گیا ہے۔

    مکھی ہاؤس ایک دو منزلہ عمارت ہے، جس میں 12 کمرے اور دو بڑے ہال ہیں۔ نذر آتش ہو جانے کے بعد دیواروں پر کیے گئے نقش و نگار بھی مٹ گئے تھے مگر چند بچ جانے والے نقوش کو دیکھ کر دیواروں اور چھت پر اسی قسم کے نقش و نگار بنائے گئے ہیں، تاکہ اس کی قدامت برقرار رہے۔

    موٹی دیواروں میں کافی کھڑکیاں اور دروازے بنائے گئے ہیں، جن میں شیشم اور ساگوان کی لکڑی کا استعمال کیا گیا ہے۔ ہر کمرے کی دیوار میں الماریاں نصب کی گئی ہیں، روشندان بنائے گئے ہیں۔ اس دور میں جو فن تعمیر کے رجحانات تھے، انہیں برقرار رکھتے ہوئے گھر کو بنایا گیا ہے۔ مگر اس گھر کی خاص بات یہ کہ اس کا ایک مرکزی گنبد بھی ہے جو اسے تمام عمارات سے ممتاز بناتا ہے، اور اسے دور سے دیکھا جا سکتا ہے۔ کشادہ کمرے اور رہداریاں بھی گھر کی زینت میں اضافہ کرتے ہیں۔ عمارت کی تعمیر میں اینٹ کے بجائے بلاکس کا استعمال کیا گیا ہے-

    اس گھر میں ان لوگوں کی یادیں بسی ہیں جن میں سے کافی اب اس دنیا میں نہیں رہے، مگر یہ گھر ایک ایسا تاریخی ورثہ بن چکا ہے جس کی حفاظت نہ صرف شہریوں پر بلکہ حکومت پر بھی لازم ہے تاکہ یہ دوبارہ کسی زوال کا شکار نہ ہو، کیونکہ اس طرح کی عمارات اب حیدرآباد میں نایاب ہوتی جا رہی ہیں۔

     

    پاکستان کے تاریخی شہر لاہور پر مر مٹنے والی شہزادی بامبا سدھر لینڈ
  • رشتوں کو بچائیں مگر کیسے؟      تحریر: سعدیہ بنت خورشید احمد

    رشتوں کو بچائیں مگر کیسے؟ تحریر: سعدیہ بنت خورشید احمد

    رشتوں کو بچائیں مگر کیسے
    تحریر:- سعدیہ بنت خورشید احمد

    خاندانی نظام معاشرے کی بہت اہم اکائی ہے مختلف افراد سے مل کے ایک خاندان بنتا ہے۔ اس خاندان کو قائم رکھنے کے لئے ایثار ، قربانی، محبت و مودّت، سمجھوتہ وغیرھم کرنے کی سخت ترین ضرورت ہوتی ہے اس لئے کہ ہر فرد کی سوچ مختلف ہوتی ہے۔ جب سوچ مختلف ہو تو مسائل بھی مزید بڑھتے ھیں۔
    ہمارے روایتی معاشرے میں خاندانی نظام کو بہت اہمیت حاصل ہے۔

    اس کی اس سے بھی زیادہ اہمیت قرآن و حدیث میں واضح کردی گئی ہےنبی علیہ الصلوۃ والسلام کی حیات طیبہ ھمارے لئے ایک رول ماڈل کی حیثیت سے موجود ہے بیویوں کے حقوق الگ، والدین کے الگ، شوہر کے الگ اولاد کے الگ حقوق متعین فرمائےاور ان کو اپنی عملی زندگی میں لاگو کرکے دکھایا مزید اس کی تائید یوں فرمائی کہ جو ھمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کا ادب نہ کرے وہ ھم میں سے نہیں۔

    اس حدیث پر غور و خوض کیا جائے تو یہ بہت وسیع معنی رکھتی ہے جس میں پورا کا پورا خاندان سما جاتا ہےاسلام خاندان کا ایک وسیع تصور رکھتا ہے جس میں ماں باپ بیٹے بیٹیاں، دادا دادی۔ چچا تایا وغیرہ سب شمار ہوتے ھیں لیکن شریعت نے سب کی حدود بھی متعین فرمائیں کہ کوئی کسی دوسرے کی ذاتیات یا حقوق کو پامال نہ کرے۔

    ھمارے معاشرے میں خاندان تو بہرحال موجود ھیں لیکن بدقسمتی سے ہم یورپ کی رنگینیوں سے مرعوب ہو کر جدیدیت کا شکار ہو گئےھم اپنی تمام روایات کی پاسداری بھی کرنا چاہتے ھیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ماڈرن ازم بھی ھمارے اندر موجود ہے جو کہ بالکل ہی متضاد نظام ھیں یعنی ھم روایتی معاشرے کے مطابق رشتوں ناتوں کو بھی بچانا چاہتے ہیں اور یورپ کی طرح ایک خاص لائف اسٹائل کو بھی اپنانا چاہتے ھیں۔

    یورپ نے تو خاندانی نظام کو بالکل ختم ہی کردیا اس لئے جو شخص کماتا ہے وہ ساری کمائی اپنے آپ پر ہی خرچ کرتا ہے اس لئے ان کے لائف اسٹائلز ھمارے سامنے اپنی مثال آپ ھیں جبکہ ھمارے ہاں جہاں خاندانی نظام رائج ہےایک شخص کمانے والا ہوتا ہے جبکہ باقی سب افراد کھانے والے، تو وہاں ایسے شاہانہ لائف اسٹائل کا سوچنا ہی بے کار ہے۔

    مزید برآں یہ کہ ایک شخص شادی سے پہلے اپنی تمام کمائی اپنی ماں کے حوالے کرتا ہے اور اس کی توجہ کا مرکز اس کی ماں اور بہن ہی ہوتی ہے جبکہ شادی کے بعد یہ نظام دو حصوں میں منقسم ہو جاتا ہے اور بچوں کی پیدائش کے بعد معاملات مزید بڑھ جاتے ھیں جس میں اخراجات بڑھ جاتے ھیں اور سب کو وقت دینا مشکل ہو جاتا ہے-

    یہ تقسیم عموماً ایک ماں کی برداشت سے باہر ہوتی ہے۔ جس سے مسائل مزید بڑھتے ھیں اور ساس بہو اور نندوں کے درمیان معمولی سے معمولی بات پہ لڑائی ہوتی چلی جاتی ہے جب ایک عورت کی خواہشات پوری نہیں ہو پاتیں تو حقوق نسواں کا نعرہ بلند ہونے لگتا ہے جو کہ مغرب نے عورت کے دماغ میں فتور ڈالا ہوا ہے۔

    عورت مرد کو اپنا حریف سمجھتی ہے ھماری عورت اس مغرب زدہ نعرے کو سمجھ ہی نہ سکی جو معاشرے کو بگاڑنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے مغرب نے اپنے اہداف کو پورا کرنے کے لئے مسلمانوں کے مضبوط ترین خاندانوں کو نشانہ بنایا -اور بالآخر ھمارے خاندان اب کمزور ہو چکے ھیں مسئلہ سمجھنے کا یہ ہے کہ جدید دور میاں بیوی کو لڑانا چاہتا ہے-

    عورت کی خواہشات زیادہ، آمدنی کم ہوتی ہے جس سے ایک عورت اپنی زندگی کا دائرہ تنگ ہوتا ہوا محسوس کرتی ہے جس کے پیش نظر وہ مادیت پرستی کی اس خواہش کو لے کر گھر سے باہر نکلتی ہے قطع نظر اس سے کہ بچوں کی تعلیم و تربیت متاثر ہوگی ھم باہر بہت کم وقت گزارتے ہیں جس سے سے لوگوں کے رہن سہن کا ٹھیک سے اندازہ کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

    باہر نکلتے ہوئے مرد اور عورت سب ہی اچھا خاصا تیار ہوتے ھیں اور بول چال بھی اکثر خوبصورت ہوتا ہے جس کو دیکھ کے ھم بہت جلد مرعوب ہو جاتے ھیں یہی چیز ہمارے گھر کے ماحول کو خراب کرنے کی ایک اھم وجہ بنتی ہے کہ ہمیں باہر کے ماحول کو دیکھ کے گھر کے ماحول میں خامیاں نظر آنے لگتی ھیں۔

    عملی زندگی باہر کی دنیا سے یکسر مختلف ہے جس میں بہت کچھ دیکھنا سننا برداشت کرنا پڑتا ہے لیکن افسوس کہ ھمارے اندر قوت برداشت بہت کم ہو چکی ہے جس کی وجہ سے خاندان جڑنے سے پہلے ہی ٹوٹ جاتے ھیں دوسروں کے طرز زندگی سے مرعوب ہو کر اورباہر کے لوگوں کی نظر آنے والی خوبیوں سے متاثر ہو کر جب ھم اپنے گھریلو نظم کی کسی تیسرے شکایت کرتے ھیں تو تیسرا فریق اس مسئلہ کو مزید ابھار کے بگاڑنے کی کوشش کرتا ہے۔

    اگر کہیں کسی نے غلطی سے کچھ برداشت کر لیا تو تیسرے شخص کو یہ بات برداشت نہیں ہوتی اور اکثر ایسا کہا جاتا ہے کہ تمہارا فوری دو کی بجائے چار سنانا بنتا تھا تاکہ آئندہ مزید کچھ کہنے کی ہمت نہ ہو جو بات گھر کی چار دیواری میں خوش اسلوبی سے منظم طریقے سے حل کی جا سکتی تھی وہ کورٹ کچہریوں کی زینت بن جاتی ہے۔ گلیوں کوچوں کا ایک خاص موضوع بننے کے بعد گھر کی عزت کو داغ دار کرنے کا سبب بنتی ہے جس کے باعث جو مرد بہادری کے طور پہ معروف ہوتے ھیں، کسی کو منہ دکھانے سے کنی کتراتے ھیں ۔

    یوں معاملات سلجھنے کی بجائے مزید الجھتے چلے جاتے ھیں یوں جدید دور میاں بیوی کو لڑوا کر باہر کے لوگوں سے جوڑنا چاہتا ہے ھماری اصل یہ ہے کہ ہم تضاد کا شکار ہوگئے ھیں ان مسائل کا واحد حل صرف اور صرف سمجھوتہ ہے ماں ہے تو اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ مزید ذمہ داریوں اور وقت کی قلت کے پیش نظر اگر توجہ کم دی جا رہی ہے تو اس کو زیادہ مسئلہ نہ بنایا جائے کیونکہ بیوی بچوں کے حقوق بھی بہرحال مسلّم ھیں-

    ایک بیوی کو غور کرنا چاہیے کہ افراد زیادہ ھیں کمانے والا ایک ہے تو اخراجات کی فہرست کم رکھےمعاملہ جس بھی طرف ہو، سمجھوتہ مرد اور عورت دونوں کی اشد ترین ضرورت ہے جس کی وجہ سے ہم اپنے خوبصورت خاندانی نظام کو قائم رکھ سکتے ھیں اور رشتوں کو بچا سکتے ھیں کیونکہ زندگی اک جہد مسلسل ہے، سفر مسلسل ہے ۔ یہاں ھمیشہ نہیں رہنا ماسوائے جتنا وقت ہمارے لئے لکھ دیا گیا اس کو گزارنا ہے فقط۔ یوں نہیں تو یوں صحیح گزر ہی جائے گی

  • مدرسے میں بچے پر استاد کا شدید تشدد، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

    مدرسے میں بچے پر استاد کا شدید تشدد، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

    مدرسے میں بچے پرشدید تشدد:بچے کی چیخوں نے دل چیردیئے ،اطلاعات کے مطابق سوشل میڈیا پرایک ایسی ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں‌ ایک مدرسے کے استاد بچے کو چھڑی سے بُری طرح پیٹ رہے ہیں
     
    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا پر وائرل اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک استاد ایک بچے کو غصے میں اس کے باز سے پکڑکرمدرسے کے کمرے میں لاکر چھڑی سے بُری طرح پیٹ رہا ہے جس کی تکلیف سے بچے کی چیخوں نے بڑے بڑے سخت دلوں کوبھی ہلا کررکھ دیا ہے-

    ادھراس حوالے سے سوشل میڈیا پروائرل ہونے والی ویڈیو کے بعد عوام الناس کی طرف سے پرزورمطالبہ کیا جارہا ہےکہ اس مدرسے کے ان استاد کے خلاف کارروائی کی جائے اوراس واقعہ میں ملوث تمام کرداروں کوکیفرکردار تک پہنچایا جائے-

    واضح رہے کہ اس سے قبل خیبر پختونخوا کے ایک مدرسے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں‌ ایک مدرسے کے اساتذہ ایک بجے پرالیکٹرک گن سے تشدد کررہے ہیں جس میں ایک استاد ایک بچے کواس کے بازووں سے پکڑتا ہے تودوسرا استاد اس بچے کو الیکٹرک گن سے کرنٹ لگاتا ہے-

  • واٹس ایپ صارفین کی دیرینہ خواہش تکمیل کے مراحل میں داخل

    واٹس ایپ صارفین کی دیرینہ خواہش تکمیل کے مراحل میں داخل

    فیس بک کی ایپ واٹس ایپ صارفین جلد ہی واٹس ایپ کو مختلف ڈیوائسز پر استعمال کرسکیں گے۔

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ کو آپ ایک وقت میں ایک اکاؤنٹ کو ایک ہی ڈیوائس پر چلا سکتے ہیں، اور کمپیوٹر پر چلانے کے لیے آپ کے موبائل کا انٹرنیٹ سے منسلک ہونا بھی ضروری ہے۔ لیکن اب واٹس ایپ گوگل پلے بیٹا پروگرام کے ذریعے دی گئی نئی اپ ڈیٹ 2.21.14.1 میں اپنے استعمال کنندگان کے لیے نہایت اہم فیچر کی آزمائش کر رہا ہے۔

    اس نئی اپ ڈیٹ کے بیٹا(آزمائشی) ورژن میں واٹس ایپ کے مختلف ڈیوائسز پر کام کرنے کا تجربہ کیا جا رہا ہے۔ اور اس نئے فیچر کی اپ ڈیٹ جلد ہی صارفین کے لیے جاری کردی جائے گی جس کے بعد صارفین واٹس ایپ ویب، واٹس ایپ ڈیسک ٹاپ اور پورٹل کو موبائل فون کے انٹرنیٹ سے منسلک ہوئے بنا استعمال کر سکیں گے۔


    ٹیکنالوجی ویب سائٹ ویب بیٹا کے مطابق واٹس ایپ لنکڈ موبائل ڈیوائسز کے لیے ’ لاگ آؤٹ‘ کے آپشن پر کام کر رہا ہے اور یہ فیچر بھی مستقبل میں دستیاب ہوگا۔ آج بھی واٹس ایپ نے اس سیکشن کو دوبارہ اپ ڈیٹ کیا ہے جو کہ واٹس ایپ اکاؤنٹس میں ملٹی ڈیواسز فعال ہونے کے بعد دستیاب ہوگا۔ جب کہ ملٹی ڈیوائسز استعمال کرتے ہوئے آپ کی کالز اور پیغامات ’ اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹیڈ‘ ہوں گے۔

    ملٹی ڈیوائس کے بارے میں تازہ ترین خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ملٹی ڈیوائس کے پہلے ورژن کو استعمال کرتے ہوئے دوسرے موبائل کو کنیکٹ کرنا ممکن نہیں ہوگا اور مندرجہ بالااسکرین شاٹ میں واٹس ایپ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ملٹی ڈیوائس بیٹا کو استعمال کرتے ہوئے آپ صرف ایک فون ہی استعمال کر سکتے ہیں۔

    ویب سائٹ ویب بیٹا کے مطابق فیس بک کے بانی مارک زکر برگ بھی اس بات کی تصدیق کرچکے ہیں کہ ملٹی ڈیوائس فیچر اگلے دو ماہ کے اندر اینڈروئیڈ اور آئی او ایس کے استعمال کنندگان کے لیے دستیاب ہوگا۔

  • کترینہ کیف کی خواہش جس پر اکشےکمار بھڑک اٹھے اورارجن کپور تو غائب ہی ہوگئے

    کترینہ کیف کی خواہش جس پر اکشےکمار بھڑک اٹھے اورارجن کپور تو غائب ہی ہوگئے

    بالی ووڈ کی خوبرو اور باربی ڈول کے نام سے مشہور اداکارہ کترینہ کیف نے ایک بار اداکار اکشے کمار اوراداکار ارجن کپور کو راکھی باندھنے کی خواہش ظاہر کی تو دونوں نے کترینہ کو لاجواب کردیا۔

    باغی ٹی وی :بھارتی میڈیاکے مطابق کترینہ کیف کا کوئی بھائی نہیں ہے جس کے لیے انہوں نے متعدد اداکاروں کو راکھی باندھنے کی خواہش ظاہر کی تاہم کسی نے بھی کترینہ کو بہن بنانے میں دلچسپی نہیں لی۔

    اداکارہ کترینہ کیف نے ’کافی ود کرن‘ میں انٹریو کے دوران انکشاف کیا کہ میں اکشے کمار کو بہت اچھا دوست سمجھتی ہوں اس لیے ’تیس مار خان‘ کی شوٹنگ کے دوران میں نے اکشے کمار کو راکھی باندھنے کی خواہش ظاہر کی تو اکشے کمار بھڑک گئے اور جواب میں مجھے کہا ’’کیا آپ تھپڑ کھانا پسند کریں گی‘‘

    کترینہ کیف نے مزید بتایا کہ میں نے اسی رات ایک تقریب کے دوران اداکار ارجن کپور سے کہا کہ تم میرے بھائی بن جاؤ، میں تمہیں راکھی باندھتی ہوں، جس پر ارجن کپور نے دوڑ لگادی اور تقریب سے چلے گئے، پھر واپس بھی نہیں آئے۔

    واضح رہے کہ بالی ووڈ کے کھلاڑی اکشے کمار اور کترینہ کیف ’نمستے لندن‘، ’دے دنا دن‘، ’تیس مار خان‘سمیت متعدد فلموں میں ایک ساتھ کام کرچکے ہیں جب کہ یہ آن اسکرین جوڑی روہت شیٹھی کی ہدایت کاری میں بننے والی میگا بجٹ فلم ’سوریاونشی‘ میں بھی ایک ساتھ دکھائی دے گی۔

    بھارت: پولیس کا منشیات پارٹی پر چھاپہ متعدد معروف اداکاراؤں سمیت 22 افراد گرفتار

  • حمزہ علی عباسی نے آئٹم نمبرسانگز کو خواتین کی توہین قرار دیا

    حمزہ علی عباسی نے آئٹم نمبرسانگز کو خواتین کی توہین قرار دیا

    پاکستان کے معروف اداکار حمزہ علی عباسی نے ہمیشہ ہی فلموں میں آئٹمز نمبر کے خلاف آواز اٹھائی ہے ان کا کہنا ہے کہ فلموں میں آئٹم نمبرز کو خواتین کی توہین قرار دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : حمزہ علی عباسی کا شمار ان چند اداکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے ہمیشہ فلموں میں آئٹمز نمبر کے خلاف آواز اٹھائی حمزہ علی اکثر اپنے انٹر ویوز میں آئٹمز نمبر کے خلاف بات کرتے دکھائی د یتے ہیں-

    تاہم حال ہی میں اداکار کے دیئے گئے ایک انٹرویو کا کلپ وائرل ہو رہا ہے جس میں انہوں نے نہ صرف اپنی بچپن، جوانی، نجی و پیشہ ورانہ زندگی سے متعلق سوالات کے دلچسپ جواب دیئے ساتھ ہی انہوں نے فلموں میں آئٹم سانگزکے حوالے سے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا-

    اداکاروں کی زندگی اتنی آسان نہیں ہوتی عدنان صدیقی

    حمزہ علی عباسی سے شو کی میزبان کی جانب سے فلموں کی ریٹنگ بڑھانے کے لیے آئٹم نمبرز کا سہارا لینے اور اِن سے متعلق سوال پوچھا گئے سوال پر حمزہ علی عباسی کا کہنا تھا کہ ’آئٹم سانگز پر پابندی ہونی چاہیے، کم از کم پاکستان میں آئٹم سانگز بند ہونے چاہئیں، آئٹم سانگز کے گانے کے بول نہایت گندے ہوتے ہیں جو کہ صرف اُن کے خیال میں سراسر خواتین کی توہین ہے۔

    حمزہ علی عباسی کا مزید کہنا تھا کہ عوام، بچے بوڑھے اتنا سیاستدانوں کو فالو نہیں کرتے ہیں جتنا فنکاروں کو فالو کرتے ہیں، اگر وہ قمیص پہنے بغیر کوئی تصویر بنوائیں اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کریں یا پھر اگر کوئی ٹی وی ڈرامہ کی اداکارہ آئٹم سانگ کے لیے کم کپڑے پہنے تو بچوں کے ذہنوں پر کیا اثر پڑے گا۔

    میری کئی باتیں تنازعہ کی وجہ تو بنتی ہیں لیکن متنازع نہیں ہوتی یاسر حسین

  • نصیرالدین شاہ طبیعت خرابی کے باعث اسپتال منتقل

    نصیرالدین شاہ طبیعت خرابی کے باعث اسپتال منتقل

    بالی ووڈ کے سینئیر اداکار نصیرالدین شاہ کو طبیعت کی خرابی پر اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اداکار گزشتہ دو دن سے طبی نگرانی کیلئے اسپتال میں ہیں، اداکار میں نمونیا کی تشخیص ہوئی، علاج کے دوران ان کے پھیپھڑوں میں غیر ضروری چیز بھی دیکھی گئی جس کے باعث انہیں فوراً ہی اسپتال میں داخل کیا گیا۔

    دوسری جانب نصیرالدین شاہ کے مینجر کے مطابق اداکار میں نمونیا کی تشخیص ہوئی ہے جس کے باعث وہ اسپتال میں زیر علاج ہیں اسپتال میں ان کی اہلیہ اداکارہ رتنا پاٹھک شاہ اور بچے ان کے ہمراہ موجود ہیں-

    ادھر سینئیر اداکار دلیپ کمار کو بھی طبعیت خرابی کے باعث ایک مرتبہ پھر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں انتہائی نگہداشت کی وارڈ (آئی سی یو ) میں رکھا گیا ہے-

    ایک بار پھر دلیپ کمار طبیعت کی خرابی پر اسپتال منتقل