Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • برف میں ہزاروں سال سے منجمند جاندار زندہ ہو گیا

    برف میں ہزاروں سال سے منجمند جاندار زندہ ہو گیا

    برف میں ہزاروں سال سے دبا خردبینی جرثومہ پھر سے زندہ ہو گیا-

    باغی ٹی وی : روس میں فزیوکیمیکل اینڈ بائیلوجی پرابلمز کے سائنس دانوں کی تحقیق کے مطابق برف میں ہزاروں سال سے دبا خوردبیبی جرثومہ نہ صرف پھر سے زندہ ہوگیا بلکہ اپنی نسل بھی بڑھانے لگا ہے-

    جیسے ہی سائنس دانوں نے مستقل برف (پرمافروسٹ) میں دبے اس کثیرخلوی لیکن خردبینی جان دار کو برف سے الگ کیا تو وہ زندہ ہوگیا اور نسل بڑھانے لگا سائنسدانوں کے مطابق اس سے ہم برف میں خلوی تباہ کاری سے بچنے کی نئی راہ تلاش کرسکتے ہیں اور اس سے ہم انسان بھی استفادہ کرسکتے ہیں۔

    اس ادارے سے وابستہ حیاتیات داں اسٹاس مالاوِن کہتے ہیں کہ ہماری تحقیق مشکل سے ملنے والا ثبوت پیش کرتی ہے کہ کس طرح کثیرخلوی جاندار سیکڑوں ہزاروں سال برف میں موت جیسی خوابیدگی کے باوجود زندہ رہتے ہیں اور ان میں استحالے (میٹابولزم) کا پورا نظام بھی شروع ہوجاتا ہے۔

    ’روٹیفائر‘ نہ صرف پھر سے زندہ ہوگیا بلکہ اپنی نسل بھی بڑھانے لگا ہے-

    اس جاندار کا نام ’روٹیفائر‘ ہے جو پوری دنیا کے تالاب اور جوہڑوں میں عام پائے جاتے ہیں اگرچہ ان کی یہ خاصیت سامنے آچکی تھی لیکن ہزاروں برس تک ان کے زندہ رہنے کے ثبوت پہلی مرتبہ ملے ہیں زیرِ تجربہ جان دار آرکٹک پرمافراسٹ سے ملا ہے جہاں پہلے ہی قدیم خرد نامے مل چکے ہیں، جن میں وائرس، پودے اور زردانے بھی شامل ہیں۔

    جس جگہ سے یہ روٹیفائر ملا ہے وہاں ریڈیو کاربن ڈیٹنگ سے معلوم ہوا ہے کہ یہ جانور کم سے کم 24 ہزار سال قدیم ہے۔ زندہ ہونے کے بعد اس جانور نے غیرجنسی کلوننگ سے اپنی نسل بھی بڑھانی شروع کردی جسے ’پارتھینوجنیسس‘ کہا جاتا ہے۔

  • بھارت میں بڑھتے جنسی واقعات ادکارہ راکول پریت سنگھ پھٹ پڑیں

    بھارت میں بڑھتے جنسی واقعات ادکارہ راکول پریت سنگھ پھٹ پڑیں

    بھارتی معروف اداکارہ راکول پریت سنگھ بھارت میں بڑھتے جنسی زیادتی کے واقعات پر پھٹ پڑیں۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق اخبارات میں جنسی زیادتی کے واقعات پڑھ پڑھ کر راکول پریشان ہوگئیں ہیں اور سوال اٹھایا کہ کورونا وائرس سے پھیلنے والی تباہی دیکھ کر بھی اگر لوگوں کو انسانیت کا احساس نہیں تو پھر کب ہوگا؟-

    اداکارہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ میں نے حال ہی میں ریاست ہریانہ کے شہر مانیسر میں ایک جنسی زیادتی کے واقعے کے بارے میں پڑھا، مجھے اس جانب لوگوں کی توجہ مبذول کرانی ہے، ایک طرف کورونا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور دوسری جانب ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔

    راکول پریت سنگھ نے اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ جب بھی ایسے واقعات کا علم ہوتا ہے تو میرا خون کھولنے لگتا ہے، کبھی کبار تو سمجھ نہیں آتی کہ زیادتی کرنے والوں کو کیا نام دیا جائے؟ یہ کم از کم انسان تو نہیں ہوسکتے۔

  • کیا یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ؟   تحریر: ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

    کیا یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ؟ تحریر: ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

    سوشل میڈیا پر علیزے شاہ کے بعد ہانیہ عامر کی ویڈیوز واٸرل ہوٸیں۔ سوشل میڈیا صارفين کی طرف سے خاصی تنقید ہوٸی۔ متعدد سوشل میڈیا صارفین نے ان ویڈیوز اور تصاویر کو روایت کے مطابق "”Is this Islamic Republic of Pakistan?”” کے ساتھ پوسٹ کیا۔

    اس جملے پر اگر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ یا تو تنقید پاکستان پر ہو رہی ہے یا اسلام پر یا پھر اسلام کے نام پر بنے والے ملک پاکستان پر۔

    پاکستان میں ہر شہری آزاد ہے، تو اس لحاظ سے اس طرح کی ویڈیوز اور تصاویر بنا کر شیٸر کرنے والے شہری حقوق کے لحاظ آزاد ہیں۔ یہ ویڈیوز اور تصاویر بنانا اور پوسٹ کرنا ان کا ذاتی فعل ہے، اور پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنانا ہرگز مناسب عمل نہیں ہے۔

    ستر کی دہائی میں قومی اسمبلی میں ایک خاتون نے سوال کیا کہ مرد اگر چار شادیاں کر سکتا تو عورت کیوں نہیں؟ اس پر ردعمل دیتے ہوٸے مفتی محمود صاحب نے تاریخی جملہ کہا ”آپ کے لیے تو کوٸی رکاوٹ نہیں، رکاوٹ تو قرآن کا حکم ماننے والوں پر ہے““۔

    اس بات سے یہ تو ثابت ہوا کہ یہ سب حدیں اور رکاوٹيں صرف ان لوگوں کے لیے ہیں جو اسلام کا حکم ماننا فرض سمجھتے ہیں، اور اس کے مطابق زندگی گزارنے کو ترجيح دیتے ہیں۔ ناکہ ان لوگوں پر جو اسلام پر عمل کرنے کو بوجھ سمجھتے ہیں۔ تو اس لحاظ سے اگر تنقيد کرنے وانے والوں کا مقصد اسلام پر تنقید ہے یا اسلام کے ماننے والوں پر تنقید ہے تو یہ بھی ہرگز ہرگز مناسب نہیں ہے۔

    اسلام کے نام پر بننے والی ریاستوں کے شہریوں پر اسلام زور زبردستی سے ٹھونسا نہیں جاتا بلکہ نیکی کرنا آسان اور بدی کے لیے رکاوٹ ہوتی ہے۔ تو اگر پھر بھی کوٸی برائی اختيار کرتا ہے تو وہ اس کا ذاتی فعل ہوتا ہے جس پر ریاست کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جاتا۔

    سوشل میڈیا پر بہت سارے پاکستانی Activist ایسے موجود ہیں جو کسی بھی ایسے اشو پر اپنی توپوں کا رُخ سیدھا پاکستان، ریاستِ مدینہ یا اسلام پر کر دیتے ہیں جوکہ نہایت غیر اخلاقی حرکت ہے۔

    صرف علیزے شاہ یا ہانیہ عامر ہی نہیں، اس سے پہلے بھی جو کوٸی بھی ایسی حرکت کرتا رہا ہے، سوشل میڈیا صارفين اس پر تنقید کے نام پر پروموٹ کرتے رہے ہیں، جس سے ان کے واٸرل ہونے کا مقصد بآسانی حاصل ہو جاتا ہے۔

    سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر کوٸی اس قابل نہیں ہوتا کہ آپ اس کو اہمیت دیں۔ خاص طور پر وہ لوگ اخلاق باختہ حرکات کر کے ”ہٹ“ ہونے کی کاوشیں کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایکٹیوسٹس ایک بہت اچھا مقصد لے کر چل رہے ہیں، اور پاکستان کا مثبت چہرہ دنیا کو دکھا رہے ہیں اور انہیں اسی پر کاربند رہنا چاہیے۔
    خدا ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

  • خاتون کے ہاں بیک وقت 10 بچوں کی پیدائش

    خاتون کے ہاں بیک وقت 10 بچوں کی پیدائش

    جنوبی افریقا : خاتون کے ہاں بیک وقت 10 بچوں کی پیدائش ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنوبی افریقا کی رہائشی 37 سالہ سیتھول نامی خاتون نے بیک وقت 10 بچوں کو جنم دیا جن میں 7 بیٹے اور 3 بیٹیاں شامل ہیں۔

    ڈاکٹرز نے بتایا کہ تمام بچے زندہ ہیں مگر قبل از وقت پیدائش کی وجہ سے اُن کا وزن کم ہے تاہم ان کی صحت خطرے سے باہر ہے –

    ڈاکٹر کے مطابق ان بچوں کو چند ماہ کے لیے انکیبیوٹر پر رکھا جائے گا تاکہ وہ صحت مند ہوسکیں-

    اگر افریقی خاتون کے بچے زندہ بچ گئے تو وہ ایک نیا ریکارڈ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گی-

    واضح رہے کہ اس سے قبل افریقی ملک مالی کی 25 سالہ خاتون حلیمہ سیسی نے 5 مئی کو افریقی ملک مراکش میں بیک وقت 9 بچوں کو جنم دیا تھا، ان کے ہاں 5 بیٹے اور 4 بیٹیاں ہوئی تھیں جبکہ ان سے قبل 2009 میں امریکی خاتون نادیہ سلیمان کے ہاں پیدا ہونے والے 8 ہی بچے زندہ ہیں۔

  • دل کا دورہ پڑنے سے قبل کی علامات    تحریر:سمیع اللہ

    دل کا دورہ پڑنے سے قبل کی علامات تحریر:سمیع اللہ

    موضوع دل کا دورہ پڑنے سے قبل کی علامات

    تحریر سمیع اللہ

    انسان کا جسم دل کے دورے سے ایک ماہ قبل بلکہ اس سے بھی پہلے خبردار کرنا شروع کردیتا ہے۔بس ان علامات یا نشانیوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے پریشان بھی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ صحت کے حوالے سے شعور پیدا کرنا کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا۔

    یہاں ایسی علامات کے بارے میں جانیں، جو دل میں خرابیوں کی جانب کئی ہفتے پہلے اشارہ کرنے لگتی ہیں۔

    تھکاوٹ

    یہ ایسی علامت ہے جو 70 فیصد ہارٹ اٹیک کی شکار خواتین میں کئی ہفتے پہلے سامنے آئی، غیر معمولی حد تک جسمانی تھکاوٹ ہارٹ اٹیک کی جانب سے اشارہ کرتی ہے اور مرد و خواتین دونوں میں یہ نظر آسکتی ہے۔ اگر یہ تھکاوٹ کسی جسمانی یا ذہنی سرگرمی کا نتیجہ نہ ہو اور دن کے اختتام پر اس میں اضافہ ہو، تو اس پر توجہ ضرور مرکوز کی جانی چاہیے۔

    پیٹ میں درد

    50 فیصد ہارٹ اٹیک کے واقعات میں یہ علامت کچھ عرصے پہلے سامنے آئی، معدے میں درد، دل متلانا، پیٹ پھولنے یا موشن وغیرہ متعدد عام علامات ہیں، ہارٹ اٹیک سے قبل پیٹ یا معدے میں درد کچھ عجیب سا ہوتا ہے، یعنی کبھی ہوتا ہے اور پھر آرام محسوس ہونے لگتا ہے، مگر کچھ وقت بعد پھر لوٹ آتا ہے۔

    بے خوابی

    یہ علامت مردوں کے مقابلے میں خواتین میں زیادہ نظر آتی ہے، ویسے طبی ماہرین اس علامت کو ہارٹ اٹیک یا فالج وغیرہ کے بڑھتے خطرے کا عندیہ قرار دیتے ہیں۔ رات کو نیند نہ آنے کے ساتھ شدید نوعیت کی ذہنی بے چینی اور غیر حاضر دماغی کا سامنا ہو تو یہ تشویشناک ہوسکتا ہے۔

    سانس گھٹنا

    چالیس فیصد کیسز میں یہ علامت سامنے آتی ہے، یعنی سانس لینے میں مشکل اور یہ احساس کہ گہرا سانس لینا ممکن نہیں، یہ مردوں اور خواتین کے اندر ہارٹ اٹیک سے 6 ماہ قبل بھی اکثر سامنے آتی ہے، یہ عام طور پر ایک انتباہی علامت ہوتی ہے کہ ڈاکٹر سے رجوع کیا جانا چاہیے۔

    بال گرنا

    بالوں کا تیزی سے گرنا بھی امراض قلب کی ایک واضح علامت ہے، عام طور پر یہ پچاس سال سے زائد عمر کے مردوں میں زیادہ نظر آتی ہے مگر کچھ خواتین میں بھی یہ سامنے آتی ہے۔

    دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی

    دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی اکثر پینک اٹیک اور ذہنی بے چینی کے ساتھ حملہ آور ہوتی ہے، خاص طور پر خواتین میں، یہ اچانک حملہ کرتی ہے۔ اگر دل کی دھڑکن میں تیزی ایک سے دو منٹ تک برقرار رہے اور اس میں کمی نہ آئے، اس کے علاوہ دھڑکن کی رفتار میں کمی بیشی سے غشی اور تھکاوٹ کا محسوس ہونا اس بات کی علامت ہے کہ ڈاکٹر سے رجوع کرلینا چاہیے۔

    بہت زیادہ پسینہ آنا

    غیرمعمولی یا بہت زیادہ پسینہ آنا بھی ہارٹ اٹیک کی ایک ابتدائی انتباہی علامت ہے، جو کہ دن یا رات کسی بھی وقت سامنے آسکتی ہے۔ یہ علامت عام طورپر خواتین میں زیادہ سامنے آتی ہے، تاہم وہ اسے نظر انداز کردیتی ہیں۔ تاہم اگر اس کے ساتھ فلو جیسی علامات ہوں، جلد پر چپچپا پن یا خوشگوار موسم کے باوجود پسینہ آئے تو یہ خطرے کی گھنٹی ہوسکتی ہے۔

    سینے میں درد

    مردوں اور خواتین دونوں میں سینے میں درد مختلف شدت اور طریقے سے سامنے آتا ہے۔ مردوں میں یہ علامت انتہائی اہم ابتدائی علامات میں سے ایک ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے، جبکہ خواتین کے 30 فیصد واقعات میں یہ سامنے آتی ہے۔ سینے میں درد ایک یا دونوں ہاتھوں میں (اکثر بائیں ہاتھ میں)، نچلے جبڑے میں، گرد، کندھوں یا معدے میں شدید نوعیت کی بے اطمینانی کی شکل میں پھیل جائے تو ڈاکٹر سے رجوع کرلیا جانا چاہیے۔

  • کیا پاکستان اخلاقی طور پر کمزور ہے ؟     تحریر: احسن ننکانوی

    کیا پاکستان اخلاقی طور پر کمزور ہے ؟ تحریر: احسن ننکانوی

    کیا پاکستان اخلاقی طور پر کمزور ہے ؟؟-

    اخلاق کسی بھی ملک کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔اخلاق دنیا کے تمام مذاہب کا مشترکہ باب ہے جس پر کسی کا اختلاف نہیں ۔ انسان کو جانوروں سے ممتاز کرنے والی اصل شئے اخلاق ہے۔اچھے اور عمدہ اوصاف و ہ کردار ہیں جس کی قوت اور درستی پر قوموں کے وجود، استحکام اور بقا کا انحصار ہوتا ہے۔

    معاشرہ کے بناؤ اور بگاڑ سے قوم براہ راست متاثر ہوتی ہے۔ معاشرہ اصلاح پذیر ہو تو اس سے ایک قوی، صحت مند اور با صلاحیت قوم وجود میں آتی ہے اور اگر معاشرہ بگاڑ کا شکار ہو تو اس کا فساد قوم کو گھن کی طرح کھا جاتا ہے۔جس معاشرہ میں اخلاق ناپید ہو وہ کبھی مہذب نہیں بن سکتا، اس میں کبھی اجتماعی رواداری، مساوات،اخوت و باہمی بھائی چارہ پروان نہیں چڑھ سکتا۔

    جس معاشرے میں جھوٹ اور بددیانتی عام ہوجائے وہاں کبھی امن و سکون نہیں ہوسکتا۔ دنیا میں عروج و ترقی حاصل کرنے والی قوم ہمیشہ اچھے اخلاق کی مالک ہوتی ہے جبکہ برے اخلاق کی حامل قوم زوال پذیرہوجاتی ہے۔ یہ منظر آپ اِس وقت دنیا میں اپنے شرق و غرب میں نظر دوڑا کر دیکھ سکتے ہیں کہ عروج و ترقی کہا ں ہے اور ذلت و رسوائی کہاں ہے؟-

    اب آتے ہیں اپنے موضوع کی طرف کیا پاکستان اخلاقی طور پر کمزور ہے –

    تو جی ہاں پاکستان اصل میں ہے ہی اخلاقی طور پر کمزور جدھر دیکھوں جھوٹ فریب دھوکہ بازی رشوت خوری جیسی لعنتوں سے یہ ملک بھرا پڑا ہے کل ایک آدمی سے ملاقات ہوئی تو حال احوال کے بعد جوب کا پوچھا تو جناب نے کہا ٹھیک چل رہی ہے اور تنخواہ کے علاوہ اوپر سے بھی پیسے آجاتے ہیں میں سوچ میں پڑ گیا شاید جناب کے لئے روپوں کی بارش ہوتی ہے وہ تو بعد میں اس نے یہ مسئلہ خود ہی حل کر دیا کہ لوگوں کے ناجائز کام کے تو روپے لیتے ہی ہیں جائز کام بھی پیسے کے بنا نہیں کرتے ہیں۔

    جب اس کو یہ کام چھوڑنے کا کہا گیا تو اس نے کہا اگر میں نہیں کرو گا تو کوئی اور لے گا اس حکومت نے یقین دلایا تھا کہ ایسے کام نہیں ہوں گے باقی کام تو چھوڑیں جب پاکستان پبلک سروس کمیشن جیسے ادارے میں بھی ہیرا پھیری ہونے لگی تو اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہے ۔
    بیوروکریسی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے جب وہ ہی ایسے کام کرے گی تو بس اللہ اللہ ہم اخلاقی طور پر اتنے گرے ہوئے ہیں اگر کسی جگہ ایکسیڈنٹ ہو جائے تو ویڈیو بنانے لگ جاتے ہیں نا کہ لوگوں کی خدمت جب تک پاکستان اخلاقی طور پر ٹھیک نہیں ہو گا
    معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے-

    تحریر: احسن ننکانوی
    @Ahsannankanvi

  • کیا مسلمانوں کا خون سستا ہو چکا ہے؟  تحریر:احسن ننکانوی

    کیا مسلمانوں کا خون سستا ہو چکا ہے؟ تحریر:احسن ننکانوی

    اسلامی فوبیا!
    کینیڈا میں ایک پاکستانی مسلم فیملی کا قتل پوری دنیا کے لئے خاص طور پر پاکستان کہ منہ پر ایک زور دار طمانچہ ہے جسے ساری عمر سہلایا جائے تو پھر بھی درد نہ جائے ۔
    ‏کیا مسلمانوں کا خون سستا ہو چکا ہے؟

    حدیث شریف میں آتا ہے کہ زمانہ آخرت میں پوری دنیا مسلمانوں پر چڑھ دوڑے گی ایسے جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے…

    امت مسلمہ بدترین زوال کی زد میں ہے اور حکمران بے حسی کی زد میں
    اگر کوئی ہمارے حکمرانوں کو پکارے تو آگے سے آواز آتی ہے جی ہم تو امن کا درس دیتے ہیں۔
    اس سے پہلے بھی جرمنی میں مسلمانوں پر حملے ہوئے ہوئے
    اس کے علاوہ بہت سارے یورپی ممالک میں مسلمانوں پر تو حملے ہوتے ہی ہیں۔
    اس کے علاوہ اسلام پر بھی حملے ہوتے ہیں۔
    ہمارے پیارے آقا آخری نبی حضرت محمد ﷺ کی ذات پر حملے کئے گئے اور مسلمان چپ سادھے بیٹھے رہے۔
    ‏‎سب سے بڑا حق تو رسول اللّٰہ ﷺ کا ہے
    جب حکمران نبی کریم ﷺ کی سرکاری سطح پر گستاخی ہونے کے باوجود فرانس سے سخت لہجے میں بات کرنے سے خوفزدہ ہیں کہ روزی روٹی کے لالے پڑ سکتے ہیں تو عوام کی جان و مال اور عزت و آبرو پر خاک پہرہ دیں گے۔
    کیونکہ اسلام تو اب امن کا درس دیتا ہے۔
    ‏ہم مسلمانوں کا خون اتنا سستا ہے کہ کوئی بھی پوچھتا نہیں اگر یہی کسی چائنہ کے خاندان یا اسرائیلیوں پر حملہ ہوتا وہ ملک اینٹ سے اینٹ بجا دیتے یہاں بس مزمت ہے ۔
    ‏اپنے ملک میں نوکریاں روزگار ہوتا تو کینیڈا میں یہ پاکستانی آج اس طرح بے دردی سے قتل نا ہوتے۔سارے قابل ترین لوگ ملک چھوڑ کر چلے جاتے کیونکہ اپنے ملک میں انکو کوئی سہولت میسر نہیں ہوتی
    ‏کیا زندگی ہے پاکستانیوں کی
    اپنے ملک میں سہولت میرٹ نام کی چیز نہیں دھکے کھاتے اپنا ملک چھوڑ کر بیرون ملک جاتے نوکریاں کرتے محنت کرتے گھر بار وطن سب چھوڑتے پاکستان پیسے بھیجتے اور بدلے میں پردیس میں بھی انکو مار دیا جاتا۔
    اور یہاں پر مجھے علی زریون عہد حاضر کے ایک شاعر کا شعر یاد آگیا۔

    میرے وطن تیرے چہرے کو نوچنے والے
    یہ کون ہیں یہ گھرانے کہاں سے آگئے ہیں ۔۔

    مطلب ہمارے ملک کا یہ حال ہو گیا ہے نہ ہم اسلام کا دفاع کر سکتے ہیں نہ ہم مسلمانوں کا دفاع کر سکتے ہیں
    اگر ہمارے ملک میں نوکریاں روزگار ہوتا تو کینیڈا میں یہ پاکستانی آج نہ مرتے
    ‏‎اللہ اس ملک کا حامی و ناصر ہو
    تحریر: احسن ننکانوی
    ahsannankanvi@gmail.com

  • آزادئ اظہارِ رائے یا کُچھ اور    تحریر: ماریہ ملک

    آزادئ اظہارِ رائے یا کُچھ اور تحریر: ماریہ ملک

    آزادئ اظہارِ رائے یا کُچھ اور

    کُچھ وقت سے پاکستان میں چند مخصوص اداروں کے چند لوگوں کی طرف سے تسلسل کے ساتھ پاکستان کے ایک انتہائی اہم عسکری ادارے کے خلاف مہم جوئی اور الزام تراشی پر مبنی بیانات، تقریریں اور سوشل میڈیا پر کمپین جاری کی گئی ہے کیا یہ محض اتفاق ہے؟ یہاں تک کہ جب اس مہم کو بھارت کی طرف سے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے اور اُن صحافیوں کو سپورٹ کیا جاتا ہے جو پاکستان کے اہم اداروں پر بغیر ثبوت کے الزام تراشی کرتے ہیں۔ تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ سب مہم باقائدہ بیرونی ایجنڈوں کے تحت عمل میں لائی گئی ہے

    بھارت پاکستان کے اندر ہر وہ حربہ استعمال کرتا ہے جس سے پاکستان میں سیاسی طور پر محاذ آرائی قائم رہے اور پھر معاشی طور پر پاکستان کو بحرانی صورت حال میں مبتلا رکھا جا سکے اس سلسلے میں بھارتی خفیہ ایجنسی "را” ہمیشہ کی طرح اپنے مشن پر کام کر رہی ہے پاکستان میں صحافت کے حوالے سے جو پروپیگنڈہ بھارتی میڈیا کر رہا ہے یہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ یہ ایک منظم سازش ہے جس کا جال اب بنُنا جا رہا ہے اس میں بھارت کا کردار کلیدی ہے۔

    پاکستان پوری مسلم امہ میں واحد ایٹمی قوت ہے اور پھر پاکستان چین کے ساتھ مل کر CPEC کے تحت جس معاشی ترقی کے سفر پر رواں دواں ہے اس سے خطے میں پاکستان کو منفرد حیثیت حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر بھی سفارتی کامیابیاں ملی ہیں جس کی واضح مثال حالیہ دنوں میں ترکی، سعودی عرب اور دیگر مسلم ریاستوں کی مشترکہ سفارت کاری ہے جو کہ اقوام متحدہ میں دیکھی گئی ہے اس میں پاکستان کا کردار بڑا واضح ہے۔

    کشمیر اور فلسطین کے حوالے سے پاکستان کی سفارت کاری اقوام عالم میں اعلیٰ حیثیت سے ہمکنار ہوئی ہے پاکستان کا موقف تسلیم کیا جانے لگا ہے جو کہ بہت بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ افواجِ پاکستان جس کو اب پوری دنیا میں قدر کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور پاکستان مخالف قوتیں بھی یہ تسلیم کرتی ہیں کہ پاکستان نے جس طریقے سے دہشت گردی کے ناسور پر قابو پایا ہے اور پاکستان کے قبائلی علاقوں سے جس طرح دہشت گردوں اور شدت پسند عناصر کا خاتمہ کیا ہے اس میں افواج پاکستان کی پیشہ وارانہ مہارت ہی ہے جو کہ پاکستان کو محفوظ بنائے ہوئے ہے۔ برطانوی اور امریکی افواج کے اعلیٰ افسران بڑے واضح الفاظ میں افواج پاکستان کے کردار کو سراہتے ہیں۔

    چند مخصوص صحافیوں اور این جی اوز نے جس طریقے سے ایک حساس ادارے کے خلاف اپنی مہم شروع کر رکھی ہے یہ ریاست پاکستان کے خلاف گہری سازش ہے۔ جو یقینا غیر ملکی ایجنڈے کی کڑی ہے جو کہ دیگر مسلم ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل چاہتے ہیں-

    آؤ ذرا تھوڑا ماضی میں جھانکیں کہ جب سرزمین پاکستان پر امریکی افواج نے رات کے اندھیرے میں آپریشن کر کے اسامہ بن لادن کو جان بحق کیا جہاں اس فوجی کارروائی کو پاکستان کی قومی سلامتی پر بڑا حملہ قرار دیا گیا وہیں یہ بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی تھی لیکن اس وقت کے صدر مملکت آصف علی زرداری نے اس آپریشن پر امریکی صدر بارک حسین اوباما کو مبارکباد دی تھی۔

    بارک حسین اوباما اپنی کتاب A Promised Land کے صفحہ نمبر 696 پر اس آپریشن کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جب میں نے پاکستان کی سرحدی حدود کی ہونے والی خلاف ورزی کے تحت ہونے والے اُسامک بن لادن کی ہلاکت والے اس آپریشن کے بعد جب صدر آصف علی زرداری کو فون کیا تو میرا خیال تھا کہ میری یہ فون کال انتہائی مشکل ہو گی اور مجھے تلخ الفاظ سننے کو ملیں گے مگر ایسا نہیں ہوا بلکہ آصف علی زرداری نے ہمارے اس آپریشن پر ہمیں مبارکباد دی اور امریکی افواج کی تعریف کی۔

    میاں نواز شریف بطور وزیر اعظم پاکستان امریکی صدر بل کلنٹن سے پاکستان میں اپنی حکومت برقرار رکھنے کی غرض سے امریکی حمایت مانگتے رہے اور ساتھ ہی وزیر اعظم ہائوس میں امریکی فوجی کمانڈوز کی کمانڈ بھی حاصل کرنا چاہتے تھے تاکہ کسی بھی فوجی بغاوت کی صورت میں وہ امریکی کمانڈوز ان کی حفاظت کر سکیں اور فوجی مداخلت کو ناکام بنانے میں کارگر ثابت ہو سکیں۔

    یہ وہ حقائق ہیں جو کہ اب تاریخ کا حصہ ہیں اور عالمی سطح پر شائع ہونے والی کتابوں میں شائع ہو چکے ہیں۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستانی قیادت بیرون الاقوامی دباؤ کے تحت اپنی پالیسی مرتب کرتی تھی لیکن اب پاکستان بدل رہا ہے۔ پاکستان نے ملکی مفاد میں پالیسی بنانا شروع کر دیا ہے۔ حالیہ پاکستانی فلسطین/اسرائیل معاملے پر پاکستانی سفارتکاری نے اسرائیل کو حملے روکنے پر نہ صرف مجبور کیا بلکہ اقوامِ متحدہ کو اسرائیلی جنگی جرائم کی تحقیق کرنے پر مجبور کیا۔

    پاکستان کے اِن تمام اقدام کے ہیشِ نظر پاکستان دُشمن اقوام بلخصوص ہندوستان اور اسرائیل پاکستان میں اپنے ایجنڈے کے تحت کام کر رہے ہیں اور اداروں کو کمزور کرنے کی سازش پر کام کر رہے ہیں۔

    اب ضرورت اس امر کی ہے کہ خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر پاکستان میں قومی یکجہتی کا مظاہرہ کیا جائے اور قومی اداروں پر بے جا کیچڑ نہ اچھالا جائے اور ساتھ ہی ابن الوقت اور بدعنوان حکمرانوں کی خاندانی اجارہ داریوں سے نجات حاصل کرکے حقیقی جمہوریت کی راہ ہموار کی جائے اور تمام کرپٹ عناصر کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ الله کریم پاکستان کو مضبوط، خودمختار اور ترقی یافتہ ملک بنائے۔ آمین

    تحریر: ماریہ ملک

  • کورونا کے بعد پنجاب میں ڈینگی کا خطرہ ،محکمہ صحت پنجاب نے خبردار کر دیا

    کورونا کے بعد پنجاب میں ڈینگی کا خطرہ ،محکمہ صحت پنجاب نے خبردار کر دیا

    محکمہ صحت پنجاب کے مطابق لاہور میں رواں برس مختلف مقامات سے 7 ہزار636 مقامات پر لاروا پایا گیا-

    باغی ٹی وی : محکمہ صحت کے مطابق لاہورمیں ڈینگی کے 17ہزار84 ہاٹ سپاٹس کی نشاندہی کی گئی ہے جبکہ لاہور میں ڈینگی ہاٹ سپاٹس کی تعداد17ہزار سے تجاوز کر گئی ہے-

    محکمہ صحت پنجاب کے مطابق رواں برس ایک ہزار195 مشتبہ مریض رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ لاہور میں رواں سال اب تک 17 افراد ڈینگی سے متاثر ہوئے-

    محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق لاہورمیں ڈینگی وائرس کے 2 مزید کیسز سامنے آ گئےہیں-

    ڈینگی کیا ہے؟ اس کی علامات –

    ڈینگی ایک مخصوص مادہ مچھرکے کاٹنے سےہوتا ہے یہ ہڈی توڑ بخار، ڈینڈی فیور، ڈینگی ہیمریجک فیور اور ڈینگی شاک سنڈروم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ ذیادہ تر ٹراپیکل اور سب۔ٹراپیکل موسمی حالات میں شہری علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ تمام عمر کے افراد جو کہ متاثرہ مچھر تک رسائی رکھتے ہیں اس بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں۔

    یہ بیماری ذیادہ تر ایشیاء اور جنوبی امریکہ کے ٹراپیکل علاقوں میں بارشوں کے موسم میں ہوتے ہیں جہاں وہ مخصوص مچھر ذیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ یہ وائرس متاثرہ مادہ مچھروں کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے وائرس کے خون میں داخل ہونے اور علامات ظاہر ہونے تک کا دورانیہ 14۔3 دن ہے جبکہ بیماری کا دورانیہ 7۔3 دن ہے۔

    علامات میں شدید سر درد، ہڈیوں جوڑوں اور پٹھوں میں شدید درد، آنکھ کے پیچھے شدید درد، جسم پر ریشم اور مختلف اشکال اور سائز کے نیل پڑ جانا، ناک سے خون نکلنا، مسوڑوں سے خون رسنا، پیشاب میں خون آنا اور بازو پر پٹی باندھنے والا ٹیسٹ پوزیٹو آنا قابل ذکر ہیں

    ماہرین صحت کے مطابق ڈینگی کے مرض میں مبتلا 80 فیصد افراد کو اسپتال میں علاج کی ضرورت نہیں ہوتی اور ان کا علاج گھر پر ممکن ہے۔

    ڈینگی مچھر صبح روشنی ہونے سے پہلے اور شام میں اندھیرا ہونے سے دو گھنٹے قبل زیادہ متحرک ہوتا ہے، اس کی افزائش آگست سے اکتوبر کے مہینے کے دوران میں ہوتی ہے اور سرد موسم میں ڈینگی کی کی افزائش نسل رک جاتی ہے۔

    ڈینگی کا مرض مچھر کے ذریعے مریض سے کسی بھی دوسرے شخص کو منتقل ہوسکتا ہے۔

    طبی ماہرین کہتے ہیں کہ مرض میں مبتلا مریضوں کے خون میں پلیٹیٹس کی تعداد 50 ہزار سے کم ہونے لگے تو وہ علاج کے لیے اسپتال جائیں ۔

    بالآخر ڈینگی بخار کے توڑ کیلئے ویکیسن تیارکرلی گئی ، کہاں تیار ہوئی ؟ جانیئے

    اس وائرس میں مبتلا ذیادہ تر افراد بالکل تندرست ہو جاتے ہیں۔ جبکہ شرح اموات 5۔1 فیصد ہے جو کہ مکمل علاج سے 1 فیصد سے بھی کم رہ جاتی ہے۔ تاہم اگر بلڈ پریشر خاصا کم ہو جائے تو اموات کی شرح بڑھ کر 26 فیصد تک چلی جاتی ہے۔

    احتیاطی تدابیر:

    پورے بازوں والی قمیضیں پہنیں اور پوری ٹانگوں کو ڈھانپنے والی پینٹس کا استعمال کریں ، اپنے کپڑوں پر مچھر مار ادویات یا سپرے(پرمیتھرن) کا چھڑکاؤ کریں۔

    ای۔پی۔اے سے منظور شدہ مچھر مار ادویات جیسا کہ ڈیٹ کا استعمال کریں ، اگر آپ کے علاقے میں مچھر کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں تو مچھر دانی کا استعمال لازمی کریں۔

    اپنے گھروں میں، برتنوں میں، ٹوٹے ہوئے ٹائروں میں، گلدانوں میں یا ٹوٹی ہوئی بوتلوں میں پانی مت کھڑا ہونے دیں۔ ڈینگی کے بخار کی ویکسین لگوائیں ۔

    کیا ڈینگی کے مریضوں میں کووڈ کی علامات کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے؟

    نجی خبررساں ادارے ڈان کی رپورٹ کے مطابق یہ بات برازیل میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے کہ ماضی میں ڈینگی کا سامنا کرنے والے افراد میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے پر کووڈ کی علامات ابھرنے کا امکان دگنا زیادہ ہوتا ہے۔

    یونیورسٹی آف ساؤ پاؤلو بائیومیڈیکل سائنس انسٹیٹوٹ کی اس تحقیق میں برازیل کے ایمیزون خطے کے ایک قصبے کے 1285 افراد کے خون کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا۔

    تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ ڈینگی کا شکار ہوچکے ہوتے ہیں ان میں کووڈ 19 سے سنگین حد تک بیمار ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے ایک طرف کووڈ 19 کے نتیجے میں ڈینگی کی روک تھام کے اقدامات متاثر ہوئے ہیں، وہی دوسری جانب ڈینگی سے کووڈ کا شکار ہونے کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔

    کرونا کے بعد پنجاب میں ڈینگی کا خطرہ، ایک اور نیا مریض سامنے آ گیا

    یہ تحقیقی ٹیم عرصے سے اس خطے میں ملیریا کی روک تھام کے لیے کام کررہی ہے اور 2018 میں انہوں نے ہر ماہ بعد قصبے کی آبادی کے سروے کا پراجیکٹ شروع کیا تھا تاہم کورونا وائرس کی وبا کے بعد اس کا رخ کووڈ کی جانب موڑ دیا گیا۔

    محققین کا کہنا تھا کہ ستمبر 2020 میں ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ایسے علاقے جہاں ڈینگی کے کیسز بہت زیادہ رپورٹ ہوچکے ہیں وہاں کووڈ 19 سے زیادہ اثرات مرتب نہیں ہوئے۔

    انہوں نے بتایا کہ چونکہ ہم اس خطے کے رہائشیوں کے خون کے نمونے کورونا وائرس کی وبا کی پہلی لہر سے پہلے اور بعد میں اکٹھے کرچکے تھے، تو ہم نے ان کو اس خیال کی جانچ پڑتال کے لیے آزمانے کا فیصلہ کیا کہ ماضی میں ڈینگی وائرس کا سامنا کرنے والے افراد کو کسی حد تک کووڈ سے تحفظ حاصل ہوتا ہے، مگر نتائج اس سے بالکل متضاد رہے۔

    تحقیق میں جن خون کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا وہ نومبر 2019 اور نومبر 2020 میں اکٹھے کیے گئے تھے اور ان میں موجود اینٹی باڈیز کو ڈینگی تمام اقسام اور کورونا وائرس کے خلاف آزمایا گیا تاہم نتائج سے ثابت ہوا کہ 37 فیصد افراد نومبر 2019 سے قبل ڈینگی جبکہ 35 فیصد افراد نومبر 2020 سے قبل کورونا سے متاثر ہوچکے تھے۔

    محققین کے مطابق ہم نے شماریاتی تجزیے سے نتیجہ نکالا کہ ماضی میں ڈینگی وائرس سے متاثر ہونے سے کووڈ سے بیمار ہونے کا خطرہ کم نہیں ہوتا۔

    ان کہنا تھا کہ درحقیقت تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ جن لوگوں کو ڈینگی کا سامنا ہوچکا ہے، ان میں کورونا سے متاثر ہونے پر علامات ابھرنے کا امکان دیگر سے زیادہ ہوتا ہے-

    ڈینگی بخار یا بریک بون فیور کی علامات بچاو اور احتیاطی تدابیر

  • سڑکیں بنانے سے ملکی ترقی نہیں  ہوتی تو ترقیاتی بجٹ میں 38 فیصد کا اضافہ کیوں کیا گیا؟  بلاول بھٹو

    سڑکیں بنانے سے ملکی ترقی نہیں ہوتی تو ترقیاتی بجٹ میں 38 فیصد کا اضافہ کیوں کیا گیا؟ بلاول بھٹو

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ سڑکیں بنانے سے ملکی ترقی نہیں ہوتی تو ترقیاتی بجٹ میں 38 فیصد کا اضافہ کیوں کیا گیا؟-

    باغی ٹی وی : چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے قومی اقتصادی کونسل کے فیصلوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بجٹ میں شعبہ صحت و تعلیم کے لیے مزید فنڈز مختص کرنے کا مطالبہ کیا –

    بلاول بھٹو نے کہا کہ تعلیم کے لیے بجٹ میں 5.5 فیصد فنڈز مختص کرکےقوم کے ساتھ مذاق کیا گیا، صحت کے لیے 30 ارب روپے مختص کرنا عوام دشمنی کی انتہا ہے-

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹونے کہا کہ وزیراعظم نے سلیکٹڈ بجٹ بنایا جسے کسی طور قبول نہیں کریں گے-

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ بجٹ میں شعبہ صحت و تعلیم کو نظر انداز کیا گیا-

    بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت کے مطابق سڑکیں بنانے سے ملکی ترقی نہیں ہوتی تو پھر اب ترقیاتی بجٹ میں 38 فیصد کا اضافہ کیوں کیا گیا؟