Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • سلمان خان اور سنجے دت کی دبئی کے ولی عہد کو مبارکباد

    سلمان خان اور سنجے دت کی دبئی کے ولی عہد کو مبارکباد

    بالی ووڈ سُپر اسٹار سلمان خان نے دبئی کے ولی عہد شہزادہ شیخ حمدان کو جڑواں بچوں کی پیدائش پر مبارک باد دی ہے۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سلمان خان نے شہزادہ شیخ حمدان کی بچوں کے ہمراہ تصویر شیئر کی اور مبارکباد دی۔


    سلمان خان نے بچوں کے لئے محبت اور نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا اس کے علاوہ اداکار سنجے دت نے بھی شیخ حمدان کو مبارک باد دی اور بچوں کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا-


    واضح رہے کہ شیخ حمدان نے 20 مئی کو جڑواں بچوں کی پیدائش کی خبر شیئر کی تھی جس کے ایک دن بعد انہوں نے بچوں کی تصویر بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی۔

    خیال رہے کہ مئی 2019 میں شیخ محمد بن راشد المکتوم کے تینوں بیٹے ایک ہی روز شادی کے بندھن میں بندھے تھے۔

    دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد اور ان کے دو بھائیوں کی شادی کی مشترکہ تقریب ہوئی تھی، ا سی مناسبت سے یو اے ای میں اس وقت جشن کا سماں رہا-

    دبئی ولی عہد شیخ حمدان کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش

  • پی ڈی ایم میں واپسی کیلئے پیپلز پارٹی کو اپنی غلطی تسلیم کرنا ہو گی     مولانا فضل الرحمٰن

    پی ڈی ایم میں واپسی کیلئے پیپلز پارٹی کو اپنی غلطی تسلیم کرنا ہو گی مولانا فضل الرحمٰن

    لاہور: پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کا سربراہی اجلاس 29 مئی کو طلب کرلیا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پی ڈی ایم کے سربراہ مولانافضل الرحمان نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم میں واپسی کیلئے پیپلز پارٹی کو اپنی غلطی تسلیم کرنا ہو گی،اے این پی اور پی پی کو رجوع کے لئے وقت دیا لیکن مثبت جواب نہیں ملا-

    ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر شہبازشریف نے مولانافضل الرحمان سے اسلام آباد میں ملاقات کی، ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں میں پی ڈی ایم سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا –

    ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف نے پیپلز پارٹی اور اے این پی کی پی ڈی ایم میں واپسی کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے اپنی تجاویز دیں-

    جس پر مولانا فضل الرحمن نے انہیں دونوں پارٹیوں کے متعلق پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے متفقہ فیصلوں سے آگاہ کیا اور کہا کہ پی ڈی ایم نے دونوں جماعتوں کو رجوع کے لئے وقت دیا تھالیکن دونوں جماعتوں نے پی ڈی ایم سے تا حال رجوع نہیں کیا، انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو اپنی غلطی تسلیم کرنا ہو گی ۔

  • اسد علی طور معاملہ: حکومت صحافیوں کے تحفظ پر لیکچر دینے کے بجائے میڈیا کا تحفظ یقینی بنائے     مریم اورنگزیب

    اسد علی طور معاملہ: حکومت صحافیوں کے تحفظ پر لیکچر دینے کے بجائے میڈیا کا تحفظ یقینی بنائے مریم اورنگزیب

    اپوزیشن جماعت پاکستان مسلم لیگ ن (پی ایم ایل این) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے صحافی اور بلاگر اسد طور پر حملے کی شدید مذمت کی ہے-

    باغی ٹی وی : مریم اورنگزیب نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ حکومت صحافیوں کے تحفظ پر لیکچر دینے کے بجائے میڈیا کا تحفظ یقینی بنائے۔

    دوسری جانب ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز نے بھی صحافی اور بلاگر اسد طور پر نامعلوم افراد کے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے صحافیوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کا مطالبہ کردیا۔

    وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس پی اسلام آباد کو جلد تحقیقات کی ہدایت کردیں ہیں-

    فواد چوہدری کی اسد علی طور پر حملے کی شدید مذمت،ایس ایس پی اسلام آباد کو فوری تفتیش کی ہدایات

    واضح رہے کہ گزشتہ شب اسلام آباد کے سیکٹر ایف الیون میں پیش آیا جب تین نامعلوم افراد اسد علی طور کے فلیٹ میں زبردستی داخل ہوئے اور ان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر ان پر تشدد کیا۔

    اسد علی طور نے پولیس کو اپنے بیان میں بتایا ہے کہ ان پر تشدد کر نے والے افراد پستول سے مسلح تھے اور انھوں نے اسد علی طور کو پستول کے بٹ اور پائپ سے مارا پیٹا۔

    اسد علی طور کا کہنا ہے کہ ان پر حملہ کرنے والے افراد نے انھیں ٹھوکریں ماریں اور ان سے زبردستی ‘پاکستان زندہ باد کے نعرے لگوائے۔

    اسد علی طور پر حملے کی خبر عام ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر جہاں ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ کر رہا ہے جس میں ان پر ہونے والے حملے کی مذمت کا سلسلہ شروع ہوا وہیں حال ہی میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے منظور کیے جانے والے قانون کی اہمیت پر بھی سوال اٹھائے جانے لگے۔

    تین نامعلوم افراد کا صحافی اسد علی طور پر گھر میں گھس کر بہیمانہ تشدد

    صحافی برادری کے علاوہ حکومتی نمائندوں کی جانب سے بھی اسد علی طور پر کیے جانے والے حملے مذ مت کی گئی ہے-

    واضح رہے کہ اسد علی طور اپنی عدالتی رپورٹنگ اور حکومت اور ریاستی اداروں پر تنقیدی یو ٹیوب پر ویڈیو بلاگز کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔

    گذشتہ برس اسد طور پر راولپنڈی کی پولیس نے سوشل میڈیا پر پاکستانی اداروں بالخصوص فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے، پوسٹس اور تبصرہ کرنے کے الزام میں صحافی اسد طور کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا تھا۔

    خیال رہے کہ یہ اسلام آباد میں حکومت کے ناقدین صحافیوں پر حملے کا حال ہی میں دوسرا واقعہ ہے چند ہفتے قبل ایک اور صحافی ابصار عالم ایف الیون میں ہی اس وقت زخمی ہو گئے تھے اب ان پر گھر کے قریبی پارک میں چہل قدمی کرتے ہوئے فائرنگ کی گئی۔

  • فواد چوہدری کی اسد علی طور پر حملے کی شدید مذمت،ایس ایس پی اسلام آباد کو فوری تفتیش کی ہدایات

    فواد چوہدری کی اسد علی طور پر حملے کی شدید مذمت،ایس ایس پی اسلام آباد کو فوری تفتیش کی ہدایات

    فواد چوہدری کی جانب سے اسد طور پر کیے گئے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایس ایس پی اسلام آباد کو حملے کی فوری تفتیش کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں –

    باغی ٹی وی : گزشتہ شب اسلام آباد کے سیکٹر ایف الیون میں پیش آیا جب تین نامعلوم افراد اسد علی طور کے فلیٹ میں زبردستی داخل ہوئے اور ان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر ان پر تشدد کیا۔

    اسد علی طور نے پولیس کو اپنے بیان میں بتایا ہے کہ ان پر تشدد کر نے والے افراد پستول سے مسلح تھے اور انھوں نے اسد علی طور کو پستول کے بٹ اور پائپ سے مارا پیٹا۔

    اسد علی طور کا کہنا ہے کہ ان پر حملہ کرنے والے افراد نے انھیں ٹھوکریں ماریں اور ان سے زبردستی ‘پاکستان زندہ باد کے نعرے لگوائے۔

    اسد علی طور پر حملے کی خبر عام ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر جہاں ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ کر رہا ہے جس میں ان پر ہونے والے حملے کی مذمت کا سلسلہ شروع ہوا وہیں حال ہی میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے منظور کیے جانے والے قانون کی اہمیت پر بھی سوال اٹھائے جانے لگے۔

    صحافی برادری کے علاوہ حکومتی نمائندوں کی جانب سے بھی اسد علی طور پر کیے جانے والے حملے مذ مت کی گئی ہے-


    وزارت اطلاعات و نشریات کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ٹویٹ میں وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی جانب سے اسد طور پر کیے گئے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایس ایس پی اسلام آباد کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ اس حملے کی فوری تفتیش کریں۔

    واضح رہے کہ اسد علی طور اپنی عدالتی رپورٹنگ اور حکومت اور ریاستی اداروں پر تنقیدی یو ٹیوب پر ویڈیو بلاگز کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔

    گذشتہ برس اسد طور پر راولپنڈی کی پولیس نے سوشل میڈیا پر پاکستانی اداروں بالخصوص فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے، پوسٹس اور تبصرہ کرنے کے الزام میں صحافی اسد طور کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا تھا۔

    خیال رہے کہ یہ اسلام آباد میں حکومت کے ناقدین صحافیوں پر حملے کا حال ہی میں دوسرا واقعہ ہے چند ہفتے قبل ایک اور صحافی ابصار عالم ایف الیون میں ہی اس وقت زخمی ہو گئے تھے اب ان پر گھر کے قریبی پارک میں چہل قدمی کرتے ہوئے فائرنگ کی گئی۔

  • تین نامعلوم افراد کا صحافی  اسد علی طور پر گھر میں گھس کر بہیمانہ تشدد

    تین نامعلوم افراد کا صحافی اسد علی طور پر گھر میں گھس کر بہیمانہ تشدد

    اسلام آباد : نامعلوم افراد نے صحافی اور بلاگر اسد علی طور پر گھر میں گھس کر بہیمانہ تشدد کیا۔

    باغی ٹی وی :اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ منگل کی شب اسلام آباد کے سیکٹر ایف الیون میں پیش آیا جب تین نامعلوم افراد اسد علی طور کے فلیٹ میں زبردستی داخل ہوئے اور ان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر ان پر تشدد کیا ۔

    اسد علی طور نے پولیس کو اپنے بیان میں بتایا ہے کہ ان پر تشدد کر نے والے افراد پستول سے مسلح تھے اور انھوں نے اسد علی طور کو پستول کے بٹ اور پائپ سے مارا پیٹا۔

    اسد علی طور کا کہنا ہے کہ ان پر حملہ کرنے والے افراد نے انھیں ٹھوکریں ماریں اور ان سے زبردستی پاکستان زندہ باد کے نعرے لگوائے۔

    فلیٹ کے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئے جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسد طور پر حملے کرنے والے تینوں افراد چہرے پر ماسک پہنے ہوئے تھے اور ان پر تشدد کرنے کے بعد باآسانی فرار ہو گئے۔

    سی سی ٹی وی فوٹیج میں اسد علی طور کو زخمی حالت میں فلیٹ سے باہر نکلتے اور مدد کے لیے پکارتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    سد علی طور پر حملے کی خبر عام ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر جہاں ان پر ہونے والے حملے کی مذمت کا سلسلہ شروع ہوا وہیں حال ہی میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے منظور کیے جانے والے قانون کی اہمیت پر بھی سوال اٹھائے جانے لگے۔جبکہ اسد علی طور ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ پر ہے جس میں عوام کی جانب سے غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کرنے اور سزا دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے-


    https://twitter.com/meherbokhari/status/1397296971484962818?s=20


    https://twitter.com/anis_farooqui/status/1397309811100897281?s=20

  • سندھ میں نئی کورونا پابندیاں ،کلفٹن، ڈیفنس، صدر سمیت مختلف علاقوں میں کئی دکانیں سیل

    سندھ میں نئی کورونا پابندیاں ،کلفٹن، ڈیفنس، صدر سمیت مختلف علاقوں میں کئی دکانیں سیل

    سندھ میں نئی کورونا پابندیاں شروع ہو گئیں۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں میں ناکے لگا کر پولیس اہلکار لوگوں سے پوچھ گچھ کرتے رہے اور بغیر ضرورت گھر سے نکلنے والوں کو واپس بھیج دیا گیا-

    سخت پابندی کے واجہ سے ٹریفک کی روانی کم رہی جبکہ کلفٹن، ڈیفنس، صدر سمیت مختلف علاقوں میں کئی دکانیں سیل کر دی گئیں۔

    علاوہ ازیں کراچی کی مختلف اہم سڑکوں پر پولیس کی جانب سے رکاوٹیں بھی رکھی گئیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی وقار مہدی نے شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور لاک ڈاؤن اور ایس او پیز کا جائزہ لیا۔

    اس موقع پر وقار مہدی کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی ہدایت پر لاک ڈاؤن پر مکمل پابندی کرائی جارہی ہے۔

  • پاکستان میں کورونا سے مزید 65 اموات ،2 ہزار 724 نئے کیسز رپورٹ

    پاکستان میں کورونا سے مزید 65 اموات ،2 ہزار 724 نئے کیسز رپورٹ

    پاکستان میں کورونا کی لہر میں شدت،24 گھنٹوں میں 65 اموات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کی تیسری لہر جاری ہے، کورونا مریضوں اور اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق عالمی وبا کورونا وائرس پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے ملک بھر میں کورونا سے اموات کا اموات کا سلسلہ جاری ہے گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا سے مزید 65 اموات ہوئی ہیں-


    این سی او سی کے مطابق گزشتہ روز کورونا کے 59ہزار76 ٹیسٹ کئے گئے2 ہزار724 نئے کیس سامنے آ گئے۔ ملک بھر میں مثبت کیسز کی شرح تقریبا 4.61 فی صد رہی۔

    پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 20 ہزار256 تک پہنچ گئی جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 9 لاکھ 2 ہزار 779 ہو چکی ہے۔

    کورونا وائرس پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے پاکستان کے 26 اضلاع ہائی رسک قرار دیئے گئے ہیں-

    خیال رہے کہ پاکستان میں کورونا کی ویکسینیشن جاری ہے اور پانچویں مرحلے میں30 سال سے زائد سال کے درمیان عمر والے افراد کو ویکسین لگائی جا رہی ہے جبکہ 18 سال سے زائد عمر کے افراد کی ویکسین کی رجسٹریشن جاری ہے-

    دوسری جانب محکمہ صحت سندھ نے پہلے کہا تھا کہ اٹھارہ سال اور اس سے زیادہ عمر کے افراد کے لیے 21 مئی جمعے سے ویکسینیشن کا آغاز ہورہا ہے، پھر کہا کہ نہیں صرف وہ افراد ویکسین لگوانے کے اہل ہیں جو بیرون ملک جارہے ہوں۔

    دوسری جانب وفاقی حکومت نے ٹیچرز کی فوری طور پر ویکسی نیشن کا فیصلہ کیا ہے۔ بورڈ امتحانات سے پہلے نگران عملے کے لیے ویکسی نیشن لازمی قرار دے دی گئی ہے-

    بیرون ملک جانے کے منتظر طالب علموں اور مزدوروں کی ویکسی نیشن کے لیے عمر کی حد ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ورک پرمٹ، اقامہ، اسٹوڈنٹ ویزا دکھانے پر کسی بھی مرکز سے ویکسی نیشن کراسکیں گے۔

  • مزیدار توا جھینگے بنانے کی آسان ریسیپی

    مزیدار توا جھینگے بنانے کی آسان ریسیپی

    توا جھینگے

    وقت : 25 سے 30 منٹ

    6 سے 8 افراد کے لئے

    اجزائے ترکیبی مقدار
    پورے جھینگے 8بڑے مٹی کے جھینگے یا 12 نیلے جھینگے
    تیل 2کھانے کے چمچ
    ادرک (باریک کٹا ہوا) 2کھانے کے چمچ
    لہسن کے جوے (چھلے اور دو ٹکڑوں میں کٹے ہوئے) 3عدد
    ٹماٹر (چھلکے اترے اور بیج نکلے ہوئے) ½کپ
    ہرا پیاز (بڑا کٹا ہوا) 2کھانے کے چمچ
    نمک حسب ذائقہ
    سرخ مرچ پاؤڈر 2چائے کے چمچ
    ہلدی پاؤڈر 1چائے کا چمچ
    خشک دھنیا (موٹا کٹا ہوا) ½چائے کا چمچ
    بادیان کا پھول 2ٹکڑے
    خشک اناردانہ (کٹا ہوا) ½چائے کا چمچ

    چھڑکاؤ کے لئے :
    گرم مصالحہ پاؤڈر ½چائے کا چمچ

    طریقہ کار:
    جھینگوں کو صاف کرکے درمیانے ٹکڑوں میں کاٹ لیں۔ جھینگوں کے پروں کو دراڑیں ڈالیں تاکہ مصالحہ اندر تک جذب ہو سکے۔ ایک بڑے موٹے توے پر تیل گرم کریں۔ لہسن کے جوے، ٹماٹر، نمک، سرخ مرچ پاؤڈر، ہلدی پاؤڈر، خشک دھنیا، بادیان کے پھول اور خشک انار دانہ شامل کرکے 3سے 4 منٹ تک پکائیں۔ اگر ضرورت ہو تو 2سے 3کھانے کے چمچ پانی شامل کرلیں تاکہ مکسچر توے پر نہ چپکیں۔ اب جھینگے شامل کرکے 5سے 6منٹ تک پکائیں۔اب ہرا پیاز، ادرک، سرخ اور سبزمرچ ڈالیں۔ اب ڈھکن سے ڈھانپ دیں اور مزید 4سے 5 منٹ تک جھینگے تیار ہونے تک پکائیں۔ زیادہ نہ پکائیں اس طرح جھینگے سخت اور خشک ہو جائیں گے۔ گرم مصالحہ چھڑک کر گرم گرم پیش کریں۔ توے کی بجائے آپ جھینگے کڑاہی میں بھی پکا سکتے ہیں۔

  • اوور ٹائم کرنے سے ملازمین میں ہارٹ اٹیک ، فالج اور موت کا خطرہ بڑھ سکتا ہے    عالمی ادارہ صحت

    اوور ٹائم کرنے سے ملازمین میں ہارٹ اٹیک ، فالج اور موت کا خطرہ بڑھ سکتا ہے عالمی ادارہ صحت

    عالمی ادارہ صحت اور محنت کشوں کی عالمی تنظیم کی ایک مشترکہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ اوور ٹائم کرنے سے ملازمین میں موت کا خطرہ بڑھ سکتا ہے-

    باغی ٹی وی : تحقیق کے مطابق روزانہ 9 گھنٹے یعنی ہفتے میں 55 گھنٹے یا زیادہ دورانیے کی ملازمت سے دل کے دورے یا فالج کے باعث موت کا خطرہ بھی بہت بڑھ جاتا ہے یہ اوقاتِ ملازمت اور صحت میں باہمی تعلق پر اپنی نوعیت کا سب سے بڑا عالمی تحقیقی مطالعہ ہے جس کے نتائج تحقیقی مجلے ’’اینوائرونمٹ انٹرنیشنل‘‘ کے تازہ ترین شمارے میں شائع ہوئے ہیں۔

    اس حوالے سے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ تحقیق میں دو منظم ریویوز اور میٹا تجزیوں سے استفادہ کیا گیا جبکہ امراضِ قلب سے متعلق 37 اور فالج کے بارے میں 22 جامع مطالعات سے حاصل شدہ اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا مجموعی طور پر اِن 59 مطالعات میں 16 لاکھ سے زائد افراد شریک تھے۔


    اس تحقیق کےلیے 1970 سے 2018 کے دوران 154 ممالک میں کیے گئے 2300 سے زائد سرویز کا احاطہ کیا گیا ہے جو عالمی، علاقائی اور قومی سطح کے تھے۔

    تجزیئے سے معلوم ہوا ہے کہ 2016 میں فالج سے 3 لاکھ 98 ہزار اموات جبکہ امراضِ قلب سے 3 لاکھ 47 ہزار اموات کی وجہ ملازمت کے طویل اوقات تھے۔


    سال 2000 کے مقابلے میں فالج سے اموات کی یہ شرح 19 فیصد زیادہ، جبکہ امراضِ قلب سے اموات کی شرح 42 فیصد زیادہ تھی جو بلاشبہ تشویشناک ہے۔

    یہی نہیں بلکہ مردوں میں 72 فیصد اموات کا سبب کام کا مسلسل دباؤ اور زیادہ اوقات تھے جبکہ مرنے والوں کی بڑی تعداد کا تعلق مغربی بحرالکاہل اور جنوب مشرقی ایشیا کے علاقوں سے دیکھا گیا تاہم 2000 سے 2016 تک 7 لاکھ 45 ہزار ملازم موت کے منہ میں چلے گئے-


    ملازمت کے اوقات میں زیادتی کے باعث مرنے والوں کی عمریں 60 سے 79 سال کے درمیان تھیں جبکہ انہوں نے 45 سے 74 سال کی عمر کے درمیان ہفتے میں 55 گھنٹے یا زیادہ دیر تک کام کیا تھا۔

    اس تحقیق کی روشنی میں عالمی ادارہ صحت نے تجویز کیا ہے کہ ملازمین پر کام کا دباؤ کم کرتے ہوئے ملازمت کے اوقات کم کیے جائیں اور اداروں میں ملازمین کو اوور ٹائم کرنے پر مجبور نہ کیا جائے-

  • دہلی ہائیکورٹ کا واٹس ایپ انتظامیہ کو فلم ’رادھے‘ شئیر کرنے والے اکاؤنٹس بند کرنے کا حکم

    دہلی ہائیکورٹ کا واٹس ایپ انتظامیہ کو فلم ’رادھے‘ شئیر کرنے والے اکاؤنٹس بند کرنے کا حکم

    دہلی ہائی کورٹ نے واٹس ایپ انتظامیہ سلمان خان کی عید پر ریلیز ہونے والی فلم ’رادھے: یور موسٹ وانٹڈ بھائی‘ کو واٹس ایپ پر شیئر کرنے والے صارفین کےاکاؤنٹ بند کرنے کا حکم دیا ہے-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق دہلی ہائی کورٹ میں رادھے کے نشریاتی حقوق لینے والے ٹی وی چینل نے واٹس ایپ پر سلمان خان کی فلم ’رادھے‘ کی غیر قانونی شیئرنگ کو روکنے کی درخواست کی تھی۔

    درخواست میں فلم کے تقسیم کار نے موقف اختیار کیا تھا کہ فلم رادھے پائریسی کا شکار ہوگئی ہے اور اسے بڑے پیمانے پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کیا جا رہا ہے۔

    اس درخواست پر ہائی کورٹ نے فلم کی غیر قانونی کاپی فروخت اور شیئر کرنے والے استعمال کنندگان کے واٹس ایپ اکاؤنٹس بند کرنے کا حکم جاری کیا۔

    فلم کی ریلیز سے ایک دن قبل پرجوش تو ہوں لیکن گھبراہٹ بھی محسوس کررہی ہوں دیشا…

    عدالت نے بھارت کی بڑی ٹیلی کام کمپنیوں کوآن لائن پائریسی میں ملوث سسکرائبرز کے فون نمبرز درخواست گزار یعنی ٹی وی چینل کو دینے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کے احکامات دیئے ہیں ۔

    واضح رہے کہ 13 مئی کو ریلیز ہونے والی فلم ’ رادھے‘ کو اسٹریمنگ ویب سائٹ ’’زی فائیو‘‘ پرریلیز کیا گیا تھا۔ تاہم فلم ریلیز ہونے کے کچھ گھنٹوں بعد ہی لیک ہوگئی تھی اورانٹرنیٹ پر ناظرین کے لیے مفت دستیاب تھی۔

    جب کہ سلمان خان نے اپنے فینز سے درخواست کی تھی کہ ’’ہم نے آپ کو اپنی فلم ’’رادھے‘‘ کو 249 بھارتی روپے کی مناسب قیمت پر دیکھنے کی پیشکش کی ہے اس کے باوجود چند پائیریٹڈ ویب سائٹس فلم ’’رادھے‘‘ کو غیرقانونی طور پر دکھارہی ہیں جو ایک سنگین جرم ہے سائبر سیل ان تمام غیرقانونی سائیٹس کے خلاف کارروائی کررہا ہے۔‘‘

    سلمان خان کی فلم رداھے دیکھنے والوں کو وارننگ