Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • بھارت کی شوٹر دادی کورونا کے باعث چل بسیں

    بھارت کی شوٹر دادی کورونا کے باعث چل بسیں

    بھارت میں شوٹر دادی کے نام سے مشہور چندرو تومار بھی جمعہ کے روز کورونا کے باعث چل بسیں۔

    باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ دنوں 89 سالہ شوٹر دادی میں کورونا کی تشخیص ہوئی تھی جس کے بعد سے وہ میرٹھ کے اسپتال میں زیر علاج تھیں۔

    اسپتال میں دوران علاج شوٹر دادی کا انتقال ہوگیا۔

    شوٹر دادی نے بڑی عمر میں کئی نیشنل اور ریاستی سطح پر نشانہ بازی کے مقابلوں میں حصہ لیا اور میڈلز جیتے ہیں۔

    واضح رہے کہ چندرو اور پرکاشی، بھارت میں شوٹر دادی کے نام سے مشہور ہوئیں جس کی وجہ یہ تھی کہ ان دونوں نے پہلی بار جب بندوق اٹھائی تو ان دونوں کی عمریں اس وقت ساٹھ سال سے زیادہ تھی۔ جس کے بعد ان دونوں نے قومی سطح کے کئی مقابلے جیتے۔

    ان پر بالی وڈ میں 2019 میں فلم ساند کی آنکھ بنائی گئی جس میں تاپسی پنوں اور بھومی پیڈنیکر نے مرکزی کردار ادا کیے۔

    دادی کے انتقال پر بالی وڈ شخصیات کی جانب سے شدید غم کا اظہار کیا جا رہا ہے جبکہ بھومی پیڈنیکر اور تاپسی پنو نے سوشل میڈیا پر آنجہانی دادی چندرو تومار کو خراج عقیدت پیش کیا۔

  • آنجہانی رشی کپور کی پہلی برسی،اہلخانہ کی آن لائن پوجاپاٹ

    آنجہانی رشی کپور کی پہلی برسی،اہلخانہ کی آن لائن پوجاپاٹ

    بالی وڈ اداکار رشی کپور کی پہلی برسی پراہلیہ نیتو کپور اور بیٹے رنبیر کپور نے کورونا وبا کی وجہ سے آن لائن پوجا پاٹ کی۔

    باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ برس 30 اپریل 2020 کو رشی کپور چل بسے تھے اور آج ان کی پہلی برسی منائی جا رہی ہے۔

    پرآنجہانی اداکار کی برسی کے موقع پر جہاں نامور شخصیات اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ان کی یادیں تازہ کی جارہی ہیں۔

    وہیں بھارت میں کورونا کی ابتر صورتحال کے پیش نظر رشی کپور کی اہلیہ نیتو کپور اور بیٹے رنبیر کپور نے پہلی برسی پر آن لائن پوجا پاٹ رکھی ہے۔

    اس ورچوئل پوجاپاٹ میں خاندان کے افراد شریک ہوں گے۔

    رشی کپور کی بہن ریما کپور کے مطابق ممبئی میں کورونا کیسز کے اضافے کے پیش نظر گھر میں افراد کے جمع ہوکر پوجا نہیں رکھی گئی۔

  • ٹک ٹاکرز نے مقبولیت کا مفہوم ہی تبدیل کر دیا ہے   فرقان قریشی

    ٹک ٹاکرز نے مقبولیت کا مفہوم ہی تبدیل کر دیا ہے فرقان قریشی

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے نامور اداکار فرقان قریشی ٹک ٹاکرز کی مقبولیت سے پریشان ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : "خدا میرا بھی ہے” ،”لوگ کیا کہیں گے”،میرے پاس تم ہو اور بھڑاس میں اداکاری کرنے والے اداکار فرقان قریشی نے ایک ٹی وی شو میں انٹرویو کے میں کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ میں ان ٹک ٹاکرز کا کیا کروں ؟ ان ٹک ٹاکرز نے مقبولیت کا مفہوم ہی تبدیل کردیا ہے۔

    اداکار نے مزاحیہ لہجے میں شکوہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ ان ٹک ٹاکرز کے ساتھ بھی 200 بندہ تصویر کھنچوارہا ہے اور میرے ساتھ بھی 200 لوگ ہی تصویر کھنچوارہے ہیں، تو میں نے کون سا تیر مار لیا۔

    خیال رہے کہ اداکار فرقان قریشی کا شمار ان اداکاروں میں ہوتا پے جنہیں شوبز انڈسٹری میں کامیاب ہونے کے لیے خاصی محنت اور جدوجہد کرنا پڑی۔

    فرقان قریشی نے اپنے کیرئیر کا آغاز بطور ماڈل کیا اور اب اداکار مقبول ڈراموں میں منفرد کردار نبھانے کی وجہ سے شوبز انڈسٹری میں اپنی ایک الگ شناخت بنائی ہے جب کہ ان کی ویب سیریز نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت میں بھی داد سمیٹنے میں کامیاب رہی ہے۔

  • کورونا ویکیسن لگوانے کی ویڈیو کیوں بنائی ؟ نیلم منیر نے وجہ بتا دی

    کورونا ویکیسن لگوانے کی ویڈیو کیوں بنائی ؟ نیلم منیر نے وجہ بتا دی

    پاکستان کی خوبرو اور باصلاحیت اداکارہ نیلم منیر نے بھی عالمی وبا کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ویکسین لگوالی۔

    باغی ٹی وی: نیلم منیر نے اپنے تصدیق شدہ انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اپنی ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں وہ کورونا ویکسین لگوا رہی ہیں۔

    نیلم منیر نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں بتایا کہ اُنہوں نے اور اُن کی والدہ نے کورونا ویکسینیشن کی پہلی خوراک لے لی ہے۔

    اداکارہ نے ویکسین لگواتے ہوئے ویڈیو بنانے کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھا کہ میں نے یہ ویڈیو صرف اس لیے بنائی ہے تاکہ دوسرے لوگوں کو ویکسین لگوانے کی ہمت اور حوصلہ مل سکے۔‘

    نیلم منیر نے لکھا کہ کورونا وائرس سے خود کو بچائیں اور تمام احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

    اُنہوں نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ براہ کرم! اپنے آپ کو اور اپنے پیاروں کو لازمی کورونا ویکسین لگوائیں۔

    خیال رہے کہ نیلم منیر سے قبل بھی پاکستان شوبز کے کئی فنکار ویکسین لگواچکے ہیں جن میں عدنان صدیقی، بشریٰ انصاری، ارمینا خان، عفت عُمر، حنا خواجہ، سیمی راحیل،ندا یاسر، یاسر نواز،راحت کاظمی، میرا اور ثمینہ پیرزادہ سمیت دیگر شامل ہیں-

  • چینی خلائی اسٹیشن ’تیانگونگ 3‘ کا کورموڈیول کامیابی سے مدار میں پہنچا دیا گیا

    چینی خلائی اسٹیشن ’تیانگونگ 3‘ کا کورموڈیول کامیابی سے مدار میں پہنچا دیا گیا

    بیجنگ: چینی خلائی اسٹیشن ’تیانگونگ 3‘ کا اہم ترین اور مرکزی حصہ (کور موڈیول) جمعرات کامیابی سے اپنے مدار میں پہنچایا جاچکا ہے۔

    باغی ٹی وی :یہ خلا میں انسانوں کے قیام اور مختلف معاملات کی کھوج کے چین کے بلند عزائم کا ایک اہم سنگ میل ہے’تیانہے‘ نامی اس موڈیول میں 3 افراد کی رہائش کے لیے کوارٹر موجود ہیں اور اسے 28 اپریل کو لانگ مارچ 5 بی راکٹ سے لانچ کیا گیا۔

    یہ خلائی اسٹیشن 2022 تک مکمل فعال ہونے کی توقع ہے اور اس سے قبل 10 مشنز کے ذریعے زمین کے مدار میں اسپیس اسٹیشن کے مزید حصے بھیج کر اسمبل کیے جائیں گے۔

    تاہم 28 اپریل کو لانچ کے بعد خلائی اسٹیشن ’تیانگونگ 3‘ کا اہم ترین اور مرکزی حصہ (کور موڈیول) جمعرات کو کامیابی سے اپنے مدار میں پہنچایا جاچکا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق 29 اپریل کی رات 11 بجکر 11 منٹ پر چین کی وین چھانگ اسپیس لانچ سائٹ سے چینی خلائی اسٹیشن کا مرکزی ماڈیول کامیابی سے لانچ کیا گیا جسے چین کی جانب سے خلائی مشن کے نئے دور میں کامیابی کا اعلان قرار دیا جارہا ہے۔

    واضح رہے کہ اب تک زمین کے گرد مدار میں کئی چھوٹی موٹی تجربہ گاہیں بھیجی جاچکی ہیں لیکن صحیح معنوں بڑے خلائی اسٹیشنوں کی تعداد صرف 2 رہی ہے: سابق سوویت یونین کا ’میر‘ اور امریکی قیادت میں ’بین الاقوامی خلائی اسٹیشن‘ (آئی ایس ایس)۔ اس طرح چین وہ تیسرا ملک ہوگا جو تنِ تنہا ایک بڑا خلائی اسٹیشن زمین کے گرد مدار میں پہنچائے گا۔

    چینی خلائی اسٹیشن کے مرکزی ماڈیول کا نام ’تیانہے‘ رکھا گیا ہے جس کی مجموعی لمبائی 16.6 میٹر، قطر 4.2 میٹر اور ٹیک آف کے وقت وزن 22.5 ٹن ہے۔

    یہ مستقبل میں خلائی اسٹیشن کے انتظام اور کنٹرول کا مرکزی حصہ ہے جس میں تین خلانورد سائنسی تحقیق کےلیے طویل عرصے تک قیام کرسکیں گے۔

    ’تیانہے‘ کے خلاء میں پہنچ جانے کے بعد خلائی اسٹیشن کےلیے نئی ٹیکنالوجیز، مثلاً روبوٹ بازو، کی جانچ پڑتال اور توثیق کی جائے گی اگر سب کچھ طے شدہ منصوبے کے مطابق ہوا تو آئندہ ماہ چینی خلانورد اس ماڈیول تک بھیجے جائیں گے جو اس کے باہر کئی طرح کی اہم سرگرمیاں انجام دیں گے۔

    چینی خلائی اسٹیشن کے تعمیراتی منصوبے کے مطابق 2021 سے 2022 کے دوران 11 خلائی پروازوں کے ذریعے ’تیانگونگ 3‘ کے دیگر ماڈیولز، ضروری ساز و سامان اور عملہ وغیرہ بھیجے جائیں گے۔

    2022 تک مدار میں اپنی تکمیل مکمل کرنے کے بعد، چین کا یہ خلائی اسٹیشن مسلسل پندرہ سال تک مقررہ مدار میں رہتے ہوئے کام کرسکےگا۔

    امریکی جریدے ’سائنٹفک امریکن‘ کے مطابق ’تیانگونگ 3‘ میں سائنسی تجربات کےلیے اندرونی طور پر 14 الماریاں نصب کی جائیں گی جبکہ بیرونی حصے میں 50 ایسے مقامات (ایکسٹرنل ڈاکنگ پوائنٹس) مخصوص ہوں گے جہاں خلائی تحقیق سے متعلق آلات منسلک کیے جاسکیں گے۔

    خلائی تحقیق کے چینی ادارے نے ’تیانگونگ 3‘ میں انجام دینے کےلیے تقریباً 100 تجربات ابھی سے منتخب کرلیے ہیں جن میں 9 بین الاقوامی خلائی تحقیقی تجربات بھی شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ چین کی جانب سے خلائی کھوج کے لیے اربوں ڈالرز خرچ کیے جارہے ہیں اور اس حوالے سے ٹیکنالوجی پیشرفت بھی کی جارہی ہےچین کے خلائی پروگرام نے حال ہی میں چاند کی سطح کے نمونے واپس لانے میں کامیابی حاصل کی تھی جبکہ آئندہ ماہ مریخ پر اس کا مشن لینڈ ہونے کی توقع ہے۔

    خلائی اسٹیشن کے موڈیول کو بھیجنے کے مشن کو روانہ ہوتے ہوئے بیجنگ میں چینی وزیراعظم اور دیگر اعلیٰ قیادت نے لائیو دیکھاچین کا یہ اسپیس اسٹیشن مکمل ہونے پر زمین کے زیریں مدار میں 15 سال تک موجود رہے گا۔

    کم از کم 12 خلابازوں کی جانب سے پرواز اور اسٹیشن میں رہنے کی تربیت حاصل کی جارہی ہے جبکہ چین کا پہلا انسان بردار مشن جون میں بھیجے جانے کا امکان ہے2022 کے آخر تک مکمل ہونے پر ٹی شکل کے اس اسپیس اسٹیشن کا وزن 66 ٹن ہوگا جو کہ موجودہ انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن سے چھوٹا ہےچین کی جانب سے اپنے اسپیس اسٹیشن کو آئی ایس ایس کی طرح استعمال کرنے کا منصوبہ تو نہیں مگر چینی حکام کا کہنا ہے کہ گیرملکی شراکت داری کی راہ کھلی ہے۔

  • دنیا کی پہلی حنوط شدہ حاملہ مصری ممی دریافت

    دنیا کی پہلی حنوط شدہ حاملہ مصری ممی دریافت

    پولینڈ کے سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے 2 ہزار سال قدیم ممی کے اسکین کے بعد دنیا کی پہلی حنوط شدہ حاملہ مصری ممی دریافت کی ہے یہ اپنی طرز کی واحد دریافت ہے-

    باغی ٹی وی : جمعرات کو جرنل آف آرکیالوجیکل سائنس میں چھپنے والی ایک مضمون کے مطابق یہ دریافت وارسا ممی پراجیکٹ کے محققین نے کی ہے۔

    2015 میں شروع ہونے والے پراجیکٹ میں وارسا کے نیشنل میوزیم میں رکھے گئے نوادرات کی جانچ پڑتال کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہےپہلے خیال تھا کہ یہ کسی مرد پجاری کی ممی ہے جو پہلی صدی قبل از مسیح یا پہلی صدی عیسوی کے درمیان زندہ تھے لیکن سکین سے پتہ چلا کہ یہ کسی عورت کی ممی ہے جو حمل کے آخری مراحل میں تھی۔

    اس منصوبے کے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کسی ایسی خاتون کی باقیات ہیں جو 20 اور 30 سال کی عمر کے پیٹے میں تھی اور اس کا تعلق کسی اونچے خاندان سے تھا، جو پہلی صدی قبل مسیح کے دوران وفات پا گئی تھی۔

    جرنل میں چھپنے والے مضمون میں انہوں نے اپنی دریافت کا اعلان کرتے ہوئے لکھا کہ پیش ہے ایک حنوط شدہ حاملہ عورت کی ممی کی پہلی مثال اور اس طرح کے جنین کی پہلی ریڈیولوجیکل تصاویر۔

    جنین کے سر کے گھیرے سے انھوں اندازہ لگایا کہ جب ماں کی موت نامعلوم وجوہات کی بنا پر ہوئی تو اس وقت اس کی عمر 26 اور 30 ​​ہفتوں کے درمیان ہو گی۔

    منصوبے میں شامل پولینڈ اکیڈمی کے سائنسدان ووجیچ ایجسمنڈ نے کہا کہ ‘ہم نہیں جانتے کہ ماں کے پیٹ سے ممی بنائے جانے کے وقت ان بچوں کو کیوں نہیں نکالا گیا’، انہوں نے مزید کہا کہ ‘اسی لیے یہ ممی منفرد نوعیت کی ہے، ہم نے اس سے پہلے اس طرح کے کیسز نہیں دیکھے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری دریافت دنیا کی پہلی حاملہ ممی ہے۔

    سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ اسے کیوں نہیں نکالا گیا اور الگ کیا گیا، لیکن ان کا خیال ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس کا تعلق بعد کی زندگی یا اسے نکالنے میں مشکلات سے ہو۔

    وزیرک سزیلک نے اندازہ لگایا ہے کہ شاید حمل ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہو یا پھر اس کا تعلق اس وقت کے دوبارہ جنم لینے کے عقائد سے متعلق ہوسکتا ہے۔

    سائنسدانوں کو اب یقین ہے کہ یہ اس سے بھی قدیم زمانے سے تعلق رکھتی ہے اور وہ اب اس کی ہلاکت کی وجوہات تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ممی کھولی نہیں گئی ہے تاہم اسکین میں عورت کے لمبے گھنگریالے بال اس کے کندھے پر دیکھے جاسکتے ہیں۔

    اشاعت کے مطابق یہ محفوظ کی گئی حاملہ خاتون کی دریافت کا پہلا کیس ہے، اس کے ذریعے قدیم وقتوں میں حمل اور زچگی سے متعلق نئے ممکنات پر تحقیق کے موقع ملیں گے-

    فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق یونیورسٹی آف وارسا کی ماہر بشریات (anthropologist) اور ماہر آثار قدیمہ (archaeologist) مرزینہ اوزیرک سزیلک نے صحافیوں کو بتایا کہ ‘میرے شوہر اسٹینسلا، ایک ماہر مصری آثار قدیمہ، اور میں نے ممی کا ایکسرے دیکھا جس میں مردہ حاملہ عورت (ممی) کے پیٹ میں تین بچوں کے آثار دیکھائی دیئے-

    انھوں نے بتایا کہ ٹیم امید کرتی ہے کہ اب وہ ممی کے جسم میں سے کچھ ٹشو حاصل کر کے حنوط شدہ خاتون کی موت کی وجہ کا بھی تعین کرے گی۔

    محققین کے مطابق ممی بہت اچھی حالت میں محفوظ‘ ہے لیکن اس کی گردن کے گرد کپڑے کو پہنچنے والے نقصان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسا کسی وقت قیمتی سامان ڈھونڈنے والوں نے کیا تھا۔

    ماہرین کہتے ہیں کہ کم از کم 15 اشیا جن میں ممی کی طرح کے تعویذ کا ایک ’مہنگا سیٹ‘ بھی شامل ہے، ممی کے اندر لپٹا ہوا برآمد ہوا ہے۔

    مذکورہ ممی کو 19ویں صدی میں پولینڈ منتقل کیا گیا تھا اور اسے وارسا یونیورسٹی کے نوادرات کے کلیکشن کا حصہ بنایا گیا تھا اس ممی کو 1917 میں نیشنل میوزیم میں رکھا گیا جسے علامتی تابوت کے ساتھ عوام کے دیکھنے کے لیے پیش کیا گیا۔

  • کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی، شہریار منور نے معافی مانگ لی

    کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی، شہریار منور نے معافی مانگ لی

    پاکستانی ماڈل و اداکار شہریارمنور نے کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے پر معافی مانگ لی۔

    باغی ٹی وی : ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر تیزی سے پھیل رہی ہے جس پر قابو پانے کے لیے حکومت، شوبز، اسپورٹس اور دیگر حلقوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات عوام سے بار بار ماسک پہنے اور کورونا ایس او پیز پر عمل کرنے کی درخواست کررہی ہیں-

    تاہم اداکار شہریار منور کو ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے پر سوشل میڈیا صارفین نے تنقید کا نشانہ بنایا جس پر انہوں نے معافی بھی مانگی۔

    چند روز قبل اداکار شہریار منور نے اداکارہ ثروت گیلانی کے گھر میں ایک تقریب میں شرکت کی جس میں وہ بغیر ماسک کے دکھائی دیئے جس پر انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا-


    شہریار منور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں معافی مانگتے ہوئے کہا کہ میں سالگرہ کی تقریب میں گیا تھا اور امید نہیں تھی کہ اتنے لوگ وہاں موجود ہوں گے لہذا میں صرف 5 منٹ میں واپس آگیا لیکن تصویر لینے کے لیے ماسک اتارا جس پر معافی چاہتا ہوں۔

    شہریار منور نے سوشل میڈیا صارفین کا شکریہادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ مشکور ہیں کہ صارفین نے ان کی توجہ اس طرف مبذل کرائی –

    اداکار نے کہا کہ اس مشکل وقت میں ہمیں گورنمنٹ کی جانب سے لاگو کی گئی ایس او پیز پر ضرور عمل کرناچاہیئے میری دعائیں اس وبا میں مبتلا لوگوں کے لئے ہیں-

    شہریار منور نے اپنے ٹوئٹ میں کورونا کے حوالے سے مختلف ہیش ٹیگز بھی استعمال کئے-

  • کورونا کا شکار کرینہ کپور کے والد آئی سی یو منتقل

    کورونا کا شکار کرینہ کپور کے والد آئی سی یو منتقل

    کورونا وائرس کا شکار کرینہ اور کرشمہ کپور کے والد رندھیر کپور کو انتہائی نگہداشت وارڈ منتقل کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق رندھیر کپور نے اپنا کورونا ٹیسٹ کروایا جو مثبت آیا اور ان کی طبیعت بھی مسلسل خراب ہورہی تھی جس کے باعث انہیں ممبئی کے کے کوکیلابین امبانی اسپتال میں داخل کردیا گیا تھا۔

    مبئی کے کوکیلابین امبانی اسپتال کے سی ای او ڈاکٹر سنتوش سیٹھی نے اداکار رندھیر کپور کے اسپتال میں داخل ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ اداکار کی طبیعت میں مسلسل بہتری آرہی ہے تاہم ان کے متعدد ٹیسٹ لیے گئے ہیں جن کی رپورٹس آنے پر ان کی صحت سے متعلق کچھ کہا جاسکتا ہے۔

    اب اسپتال انتظامیہ کی جانب سے جاری کی گئی تازہ ترین معلومات کے مطابق رندھیر کپور کو انتہائی نگہداشت وارڈ (آئی سی یو) منتقل کردیا گیا ہے جہاں اُن کا علاج جاری ہے ڈاکٹرز نے اداکار کے تمام ٹیسٹ کے نتائج آنے کے بعد اُنہیں انتہائی نگہداشت وارڈ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    واضح رہے کہ رندھیر کپور نے اپنے مداحوں کو یقین دلایا تھا کہ انہیں سانس لینے میں کوئی دشواری پیش نہیں آ رہی ہے اور انہیں آئی سی یو منتقل ہونے کی بھی ضرورت نہیں ہے-

  • بھارت میں کورونا بحران: جان ابراہم نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس این جی اوز کے حوالے کر یئے

    بھارت میں کورونا بحران: جان ابراہم نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس این جی اوز کے حوالے کر یئے

    بھارت میں کورونا وائرس کی دوسری تباہ کن لہر کا شکار مریضوں کی مدد کے لئے جان ابراہم بھی میدان میں آگئے-

    باغی ٹی وی : کورونا وائرس کے باعث بھارت میں حالات ابتر ہوتے جارہے ہیں ایسے میں بالی ووڈ شخصیات بھی مدد کیلئے میدان میں آگئی ہیں۔

    بالی ووڈ اداکار جان ابراہم نے کورونا کی بدترین صورتحال میں متاثرین کی مدد اور درست معلومات کیلئے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس این جی اوز کے حوالے کردیے ہیں۔
    https://twitter.com/TheJohnAbraham/status/1388032244879486979?s=20
    اداکار نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ میں نے آج سے اپنے اکاؤنٹ این جی اوز کے حوالے کردیے ہیں، اب سے میرے اکاؤنٹ سے شیئر کیا گیا مواد متاثرین کی مدد اور ضرورتوں کیلئے ہوگا۔

    اداکار کی اس پوسٹ کے بعد ان کے اکاؤنٹ سے متاثرین کی مدد اور متعلقہ معلومات پر مبنی پوسٹس شیئر کی جارہی ہیں۔

    جان ابراہم کے فیس بک پر ایک کروڑ سے زائد، انسٹاگرام پر 88 لاکھ اور ٹوئٹر پر 32 لاکھ فالوورز ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل سلمان خان اور ان کی فاؤنڈیشن نے گزشتہ سال کی طرح اس بار بھی کورونا کیخلاف فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز میں امدادی سامان تقسیم کیا سلمان خان امدادی سامان کی تقسیم سے قبل خود اس کو چیک کرنے پہنچے اور اپنی ٹیم کا حوصلہ بھی بڑھایا۔

    گزشتہ دنوں نئی دہلی کے اسپتال میں کورونا مریضوں کیلئے آکسیجن کی کمی کی خبریں سامنے آنے پر پورے بھارت میں بھونچال مچ گیا تھا تاہم اس نازک موقع پر اداکارہ سشمیتا سین پیچھے نہ رہیں اور ممبئی میں ہوتے ہوئے دہلی کے اسپتال کیلئے آکسیجن کی فراہمی میں مدد کی۔

    جبکہ اداکار اکشے کمار نے کورونا ریلیف ورک کے لیے کرکٹر گوتم گمبھیر کی این جی او کو ایک کروڑ روپے د ینے کا اعلان کیا تھا بعد ازاں اجے دیوگن نے بھی آئی سی یو کے لئے ایک کروڑ روپے عطیہ دیا تھا-

    واضح رہے کہ بھارت میں کورونا وبا کی بگڑتی صورتحال کی وجہ سے اسپتالوں میں آکسیجن کی کمی اور صحت کے نظام پر دباؤ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ گزشتہ کئی دنوں کے دوران اسپتالوں میں بستر اور آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے سیکڑوں افراد موت کے منہ میں جاچکے ہیں۔

    نئی دہلی اسپتالوں میں آکسیجن کی کمی، سشمیتا سین مدد کے لئے سامنے آگئیں

  • جون ایلیاء کی شاعری پر امیدوار کی تضحیک، ساحر لودھی کو شدید تنقید کا سامنا

    جون ایلیاء کی شاعری پر امیدوار کی تضحیک، ساحر لودھی کو شدید تنقید کا سامنا

    رمضان المبارک کے آغاز میں رکنِ قومی اسمبلی اور میزبان عامر لیاقت حسین کا ‘ناگن ڈانس’ وائرل ہوا تھا جس پر انہیں سخت تنقید کا سامنا رہا تھا اور اب میزبان ساحر لودھی بھی تنقید کی زد میں آگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی :حال ہی میں سوشل میڈیا پر ساحر لودھی کی ایک ویڈیو گردش کررہی ہے اور انہیں صارفین کی شدید تنقید کا بھی سامنا ہے۔

    ساحر لودھی ان دنوں نجی ٹی وی چینل ‘ٹی وی ون’ پر رمضان ٹرانسمیشن کی میزبانی کررہے ہیں اور وائرل ہونے والی ویڈیو بیت بازی پر مشتمل سیگمنٹ کی ہے۔

    ویڈیو میں ساحر لودھی، رمضان ٹرانسمیشن میں بیت بازی کے مقابلے کی میزبانی کرتے نظر آرہے ہیں جہاں ایک جانب ججز بھی موجود ہیں۔

    وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مقابلے میں شریک امیدوار نے اردو کے مشہور شاعر جون ایلیا کا شعر پڑھا، تاہم ساحر لودھی نے ان سے شعر کا پہلا مصرعہ دوبارہ پڑھنے کو کہا اور پھر کہا کہ مجھے لگ رہا ہے یہ شعر ٹھیک نہیں اور اس شعر میں وزن نہیں۔

    اس سیگمنٹ میں موجود ججز نے بھی ساحر لودھی سے اتفاق کیا اور اس دوران ساھر لودھی، جون ایلیا کے شعر کے مصرعہ ‘ تم سے مل کر بہت خوشی ہو کیا ‘ کو درست قرار نہ دینے پر بضد رہے کہ اس کا کوئی مطلب نہیں بن رہا۔

    تاہم جس امیدوار نے یہ شعر پڑھا تھا انہوں نے اپنا بھرپور دفاع کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ انہوں نے شعر صحیح پڑھا ہے۔

    ساحر لودھی نے کہا کہ یہ رنگ تو جون بھائی کا ہی ہے لیکن یہ شعر جون ایلیا کا نہیں ہوسکتا، جیسے آپ لوگ ریختہ میں سے نکال کر کچھ بھی پڑھ لیتے ہیں نا پہلا مصرعہ اقبال کا، دوسرا وصی شاہ کا، تیسرا کسی اور کو۔

    اس دوران متعلقہ امیدوار 3 سے 4 مرتبہ وہی شعر پڑھتے نظر آئے لیکن ساحر لودھی نے تو یہ سوال بھی کردیا کہ اس کا مطلب کیا ہے جبکہ شعر و شاعری کے مقابلے میں عموماً مطلب نہیں پوچھے جاتے۔

    جس پر آخر کار امیدوار نے کہہ دیا کہ یہ تو جون سے پوچھیں انہوں نے لکھا ہے اس پر ساحر لودھی نے بات کا رخ ججز کی طرف موڑ دیا اور ایک خاتون جج نے کہا کہ جون ایلیا سے پوچھنے کے لیے تو عالمِ بالا میں جانا پڑے گا۔

    تاہم اس دوران ساحر لودھی، جون ایلیا کے شعر کو غلط کہنے اور امیدوار کی تضحیک کرنے میں مصروف نظر آئے اور انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ میرے لیے یہ شعر نہیں ہے اور ججز کا بھی یہی فیصلہ ہے۔

    جبکہ اس مقابلے کے امیدوار نے جو اشعار پڑھے تھے وہ جون ایلیا ہی کی غزل کے تھے جو ان کی غزلیات کے مجموعے ‘شاید’ کا حصہ ہے۔

    2 منٹ کے دورانیے پر مشتمل یہ ویڈیو جب سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو صارفین کی جانب سے ساحر لودھی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور اس حوالے سے ٹوئٹر پر ٹرینڈ بھی چل رہا ہے۔


    مزمل نامی صارف نے لکھا کہ ‘ریختہ کے تم ہی استاد نہیں ہو غالب، کہتے ہے اگلے زمانے میں کوئی ساحر بھی تھا’۔


    غزل نامی صارف نے ساحر لودھی پر بین لگانے کا مطالبہ کیا-


    عاصم نقوی نامی صارف نے بھر پور غصے کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ کاش اس زباں دراز کا منہ نوچ لے کوئی-


    جرنلست شیراز حسن نے کہا کہ پیمراکو اس کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے یہ غنڈہ گردی ہے-


    ایک صارف نے کہا کہ ساحل لودھی لوزر ہیں وہ جون ایلیا کے اشعار ہیں اور مقابلہ کرنے والے نے بالکل ٹھیک کہا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ نام نہاد ججوں نے بھی ساھر لودھ سے اتفاق کیا۔


    سعد نامی صارف نے لکھا کہ ساحر لودھی صاحب جون ایلیا کے ٹھیک شعر کو ٹھیک کرتے ہوئے.


    جون صاحب کے شعر میں نہ تو ربط ہے اور نہ شعر وزن میں ہے، شعر کس طرح کا ہونا چاہیے وہ بھی موصوف نے بتا دیا ہے۔


    ظفر اقبال صاحب بھی بے وزن لکھتے ہیں۔بقول ساحر لودھی چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں-


    جون بھائی ایسے کہا ہے جیسے کچی پکی سے ساتھ پڑھتے ہوں… اور شعر ٹھیک کر کون رہا ہے آباؤ اجداد میں جن کا سخن سے کوئی لگاؤ ہی نہیں-


    ارسلان شیرازی نامی صارف نے لکھا کہ ‘لگتا ہے جون صاحب اور ناصر کاظمی صاحب کی شاعری کا پہلا اور مستند قلمی نسخہ ساحر لودھی کے پاس ہے جس کی وجہ سے ان 2 مقبول شاعروں کے زبان زد عام اشعار میں بھی ساحر لودھی کو گڑ بڑ نظر آرہی ہے۔


    طاہر عمران نامی صارف نے لکھا کہ ‘ اس جاہل اینکر، منصفین اور پروگرام کے عملے کو گوگل تک رسائی نہیں ملی؟-


    میر ایلیا نامی صارف کی جانب سے اس رمضان ٹرانسمیشن کے نام ایک شکایت بھی شیئر کی گئی۔


    محمد اطہر نامی صارف نے لکھا کہ ‘جب آپ کو علم ہی نہیں شعرا کرام کے کلام کا تو کیوں رائے زنی کرتے ہیں؟ جون ایلیا کے اشعار کو آپ نے یہ کہہ کر رد کر دیا کہ یہ ان کا نہیں لگتا، اپنی کم علمی پر شریکِ محفل پر تنقید کر ڈالی، آپ کا مطالعہ وسیع نہیں تو شریک مقابلہ کا کیا قصور تھا؟-

    واضح رہے کہ ساحر لودھی کو اس سے قبل بھی اپنی رمضان ٹرانسمیشن میں امیدواروں سے تضحیک آمیز سلوک پر تنقید کا سامنا رہا ہے۔

    2017 میں ساحر لودھی کی رمضان ٹرانسمیشن کی ایک قسط سے حال ہی میں ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس میں انہوں نے طالبہ کو ان کی تقریر کے دوران روک کر اپنے غصے کا اظہار کرنا شروع کردیا تھااس ویڈیو کے بعد انٹرنیٹ پر ساحر لودھی کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا

    رمضان ٹرانسمیشن میں ناگن ڈانس پر تنقید:عامر لیاقت کا ردعمل