Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • ناسا کا مریخ پر کاربن ڈائی آکسائیڈ سےآکسیجن تیار کرنے کا کامیاب تجربہ

    ناسا کا مریخ پر کاربن ڈائی آکسائیڈ سےآکسیجن تیار کرنے کا کامیاب تجربہ

    امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے مریخ پر بھیجے جانے والے مشن پرسیورینس نے 20 اپریل کو پرسیورینس نے مریخ کے ماحول سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو اکٹھا کرکے اسے سانس لینے کے قابل آکسیجن میں تبدیل کردیا۔

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق پرسیورینس میں ایک ایسا انسٹرومنٹ ( مارش آکسیجن) نصب ہے جسے اس تجربے کے لیے استعمال کیا گیا۔

    اس ٹوسٹر سائز ٹول سے اس مشن کے لیے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مالیکیولز سے آکسیجن ایٹمز کو الگ کرنا ممکن ہوا، جس کے لیے گیس کو لگ بھگ 1470 ڈگری فارن ہائیٹ پر گرم کرکے کاربن مونوآکسائیڈ کو تیار کیا گیا۔

    انسٹرومنٹ کے پہلے تجربے کے دوران 5 گرام آکسیجن تیار ہوئی، جس سے ایک خلا باز کو 10 منٹ تک انے اسپیس سوٹ میں 10 منٹ تک سانس لے سکتا ہے۔

    ناسا کے مطابق تجربے کی کامیابی سے مستقبل کے مشنز کے لیے ایک نیا ذریعہ کھل گیا ہے بالخصوص ایسے مشنز جن میں انسانوں کو راکٹوں میں مریخ میں بھیجا جائے گا، جہاں انہیں آکسیجن کی ضرورت ہوگی۔

    مثال کے طور پر مریخ پر 4 انسانوں کو لے جانے والے راکٹ میں 55 ہزار پاؤنڈ آکسیجن بھیجنے کی ضرورت ہوگی، مگر مریخ تک اتنی زیادہ مقدار میں آکسیجن بھیجنا ممکن نہیں۔

    یہی وجہ ہے کہ اس نئی ٹیکنالوجی سے مستقبل کے مشنز کے لیے سرخ سیارے کی کھوج زیادہ آسان ہوسکے گی۔

    یہ پہلی بار ہے جب زمین سے باہر کسی جگہ آکسیجن کو تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی گئی ہے جبکہ اس سے قبل مریخ میں زمین سے باہر پہلی بار ایک ہیلی کاپٹر کی پرواز میں کامیابی حاصل کی گئی تھی۔

    واضح رہے کہ ناسا کا یہ پرسیورینس روور روبوٹ سرخ سیارے پر مائیکربیل (microbial) زندگی کے آثار کی تلاش کا کام کرے گا۔

    مریخ پر لینڈنگ 2.7 ارب ڈالر اور 2 سالہ کوششوں کا خطرناک ترین منصوبہ تھا جس کا بنیادی مقصد ان مائیکروبز کے ممکنہ آثار کو کھود کر تلاش کرنا ہے جو 3 ارب برس قبل مریخ پر موجود تھے، جب نظام شمسی کا چوتھا سیارہ سورج سے زیادہ گرم ، نم اور زندگی کے لیے ممکنہ طور پر سازگار تھا۔

    پرسیورینس کیا ہے؟

    مریخ پر مشن کا ایک اہم مقصد علم نجوم ہے ، جس میں قدیم مائکروبیل زندگی کی نشانیوں کی تلاش بھی شامل ہے۔ یہ روور سیارے کی ارضیات اور ماضی کی آب و ہوا کی خصوصیات بنائے گا ، لال سیارے کی انسانی تلاش کے لئے راہ ہموار کرے گا ، اورٹوٹی ہوئی چٹان اور دھول کو جمع کرنے اور اس میں تجربہ کرنے کا پہلا مشن ہوگا۔

    اس کے نتیجے میں ناسا کے مشنز ، ESA (یورپی اسپیس ایجنسی) کے تعاون سے مریخ پر خلائی جہاز بھیجیں گے تاکہ ان مہر بند نمونوں کو سطح سے جمع کریں اور گہرائی سے تجزیہ کرنے کے لئے انہیں زمین پر واپس بھیجیں مریخ 2020پرسیورینس مشن ناسا کے چاند تا مریخ کی تلاش کے نقطہ نظر کا ایک حصہ ہے –

    سائسدانوں کو امید ہے کہ وہ اس قدیم مقام سے زندگی کے نمونوں کو تلاش کرسکیں گے اور پرسیورینس کو مریخ سے پتھر کھوج نکالنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں زمین پر ان کا تجزیہ کیا جاسکے۔

    جو انسانوں کی جانب سے کسی دوسرے سیارے سے پہلی مرتبہ جمع کیے جانے والے پہلے نمونے ہوں گے۔

    جنوبی کیلیفورنیا میں ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری ، جو کیلیفورنیا کے پاسادینا میں کیلٹیک کے ذریعہ ناسا کے لئے منظم کی گئی ہے ، اور اس نے پرسیورینس روور کی کارروائیوں کا انتظام کیا۔

    مریخ پر چھوٹے ہیلی کاپٹر’انجینیٹی‘ کی پہلی آزمائشی پرواز کامیاب

  • خوش قسمت لوگ    تحریر:حافظ امیرحمزہ سانگلوی

    خوش قسمت لوگ تحریر:حافظ امیرحمزہ سانگلوی

    خوش قسمت لوگ
    تحریر:حافظ امیرحمزہ سانگلوی

    رمضان المبارک اپنی رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ رواں دواں ہے۔ یہ مہینہ نزول قرآن کا مہینہ ہے۔تو ضروری ہے کہ اس ماہ مبارک میں اس اللہ کے کلام کو خصوصی طور پر ترجیح دی جائے۔ویسے تو ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ سارا سال ہی اس کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھے، لیکن اس مہینے میں خاص طور پر پڑھنے اور سمجھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔قرآن پاک کو پڑھنا، اسے زبانی یاد کرنا، اس میں جو احکامات الٰہی ہیں انہیں سمجھنا اور اس کی تعلیم دینا، رب العزت کا قرب حاصل کرنے کا سب سے بہترین اور پاکیزہ ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خالق کائنات نے جو ہمیں ہدایت و رہنما کتاب قرآن مجید عطا فرمائی، اس کی تعلیم حاصل کرنے اور دنیا میں بسنے والے لوگوں کو اس کی تعلیم دینے کی ترغیب دیتے ہوئے یہ اعلان فرما دیا کہ”تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن مجید سیکھتا اور دوسروں کو سکھلاتا ہے“۔(بخاری)

    سیدنا حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم ”صفہ“میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا:”تم میں سے کون ہے جو یہ پسند کرتا ہو کہ وہ ہر روز صبح سویرے”بطحان“ یا ”عقیق“ میں جائے،پھر وہاں سے دو موٹی تازی اونٹنیاں مفت میں بغیر کسی گناہ اور قطع رحمی کے لے آئے؟ہم نے کہا:اے اللہ کے رسول!ہم سب یہ پسند کرتے ہیں۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تو کیا تم میں سے کوئی شخص صبح سویرے مسجد میں نہیں جاتا جہاں وہ کتاب اللہ کی دو آیات کا علم حاصل کرے یا ان کی تلاوت کرے،یہ اِس طرح کرنا اس کے لیے دو اونٹنیوں سے بہتر ہے اور تین آیات کی تلاوت کرنا، تین اونٹنیوں سے اور چار آیات چار اونٹنیوں سے بہتر ہیں۔پھر اسی طرح ہر آیت ایک ایک اونٹ سے بہتر ہوگی۔“(احمد ومسلم) –

    یاد رہے کہ”بطحان“ مدینہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے اور”عقیق“ مدینہ میں ایک وادی کا نام ہے۔اس حدیث مبارکہ کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی مسجد میں نماز پڑھے اور پھر قرآن مجید کی دو آیتیں سیکھے یا ان کی تلاوت کرے تو یہ اس کے لیے دو بڑی، موٹی اور صحت مند اونٹنیوں سے بہتر ہو گا اور تین آیات تین اونٹنیوں سے اور چار آیات چار اونٹنیوں سے اور پچاس آیات پچاس اونٹنیوں سے بہتر ہیں، اگر کوئی اس سے بھی زیادہ آیات پڑھے گا تو اللہ کے ہاں اس سے بھی زیادہ اجر وثواب کا مستحق ٹھہرے گا۔ بڑ اہی خوش قسمت ہے وہ انسان جو ہر روز مسجد میں نماز پڑھنے جاتا ہے اور ساتھ ساتھ قرآن حکیم کی تلاوت کر کے اتنے بڑے اجر و ثواب کو اپنے نامہ اعمال میں درج کروا لیتا ہے۔ بعض لوگ اس اجر و ثواب سے کئی کئی دن اور کئی کئی مہینے محروم رہتے ہیں۔جو کہ سوائے افسوس اور خسارہ کے کچھ بھی نہیں۔

    ہمارے معاشرے میں کئی مسلمانوں کو قرآن مجید پڑھنا نہیں آتا اور عمر بھی بڑی ہوتی ہے، تو وہ بڑی عمر ہونے کی وجہ سے اسے سیکھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ حالانکہ اگر احادیث کا مطالعہ کیا جائے تو ایسے صحابہ کرام ملیں گے جنہوں نے اپنی بڑی عمر کی پرواہ کیے بغیر اسے سیکھنا شروع کیا۔ اسی طرح پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اگر کوئی مہمان مہاجر آتا تو اسے قرآن مجید کی تعلیم دلواتے۔ جیسا کہ“سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منصب نبوت کی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مشغول ہوتے تھے۔ آپ کے پاس جب کوئی مہاجر آتا تو آپ اسے ہم میں سے کسی شخص کے حوالے کر دیتے جو اسے قرآن مجید سکھلاتا۔“قرآن مجید کی تلاوت کے حوالے سے اُس بندے کی بھی بڑی فضیلت ہے جو کوشش کر کے اٹک اٹک کے پڑھتا رہتا ہے۔

    بخاری و مسلم میں روایت ہے”حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن مجید کا ماہر معزز و محترم فرشتوں اور معظم و مکرّم انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ہوگا اور وہ شخص جو قرآن مجید پڑھتا ہو لیکن اس میں اٹکتا ہو اور پڑھنا اس پر مشکل ہو یعنی کند ذہن یا موٹی زبان ہونے کی وجہ سے تو ایسے شخص کو دوگنا اجر دیا جائے گا۔”ایک دوسری روایت میں ہے کہ وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے حالانکہ یہ پڑھنا اس کے لیے سخت مشکل کا باعث ہے، اس کو دو اجر ملیں گے۔

    امام ابوالفضل الرازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں صدر اول کے لوگ قرآن مجید کو حفظ کرنے اور کروانے کا خصوصی اہتمام کیا کرتے تھے۔ بسااوقات بڑی عمر کے لوگ چھوٹی عمر کے لوگوں سے پڑھتے تھے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ:”قتادہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام دن کو لکڑیاں اکٹھی کرتے اور رات کو قیام کرتے اور ثابت رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں ہے۔ وہ ان لکڑیوں سے اہل صفہ کے لیے کھانا خریدتے تھے اور رات کو قرآن مجید پڑھتے اور اس کی تعلیم حاصل کرتے تھے۔اس حدیث مبارکہ سے پتہ چلتا ہے کہ جس کو قرآن مجید پڑھنا نہیں آتا اس کے لیے ضروری ہے کہ اپنے کام کاج سے جب فارغ ہو جائے قرآن پاک سیکھنے کے لیے کسی اچھا پڑھنے والے سے ضرور سیکھے۔

    ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: قرآن مجید پڑھا کرو،کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لیے شفاعت کرنے والا بن کر آئے گا۔“(مسلم)”حضرت ابو سعید خُدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ رب العزت فرماتا ہے: جس شخص کو قرآن اور میرا ذکر اتنا مشغول کردے کہ وہ مجھ سے کچھ مانگ بھی نہ سکے تو میں اسے مانگنے والوں سے بھی زیادہ عطا فرما دیتا ہوں اور تمام کلاموں پر اللہ تعالیٰ کے کلام کی فضیلت اسی طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کی اپنی مخلوق پرفضیلت ہے۔

  • قسط نمبر 2 : ہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیں         تحریر: کاشف علی ہاشمی

    قسط نمبر 2 : ہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیں تحریر: کاشف علی ہاشمی

    ہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیں
    تحریر کاشف علی ہاشمی
    قسط نمبر 2
    حرمت رسولؐ کا مسلہ بنا لاسٹ ٹائم آسیہ کیس اور فرانس کے معاملے پر تحریک لبیک نکلی اور دھرنے دیے اس سے پہلے جب بھی حرمت رسولؐ کا مسلہ ہوا تمام جماعتیں نکلیں اور مشترکہ جلسے کئیے مختلف بڑے شہروں میں بڑے جلسے ہوے جس میں سیاسی پارٹیاں۔شریک ہوئیں۔ لاہور میں اک اسٹیج پر تمام سیاسی و مذہبی پارٹیوں کا اکٹھ ہوا جو اک شاندار اور زبردست تحریک تھی-

    اک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
    نا کوئی بندہ رہا اور نا کوئی بندہ نواز

    مگر کوئی باضابطہ علماء کامشترکہ پلیٹ فارم نہیں بن سکا جو اس قسم کے حالات مشترکہ پیغام دیتا یا شاید اس کے بعد دیگر واقعات کی تیزی سے تبدیلی کی گرد تلے یہ موضوع تھوڑا دبا ہاں اس وقت اک مشترکہ پلیٹ فارم دفاع پاکستان کے حوالے سے مذہبی و سیاسی جماعتوں کے حوالے سے جس کی قیادت مولونا سمیع الحق اور حافظ سعید اور حمید گل جیسے معاملہ فہم اور دور اندیش قیادت کر رہے تھے مولانا سمیع الحق شہید ہوگئے حمید گل بھی اللہ کے ہاں پہنچ گئے جبکہ عالمی دبا حافظ سعید کو پابند سلاسل کیا گیا جبکہ اس طرح کے معاملات کے حوالے جو اک مشترکہ پلیٹ فارم تھا وہ بکھر گیا-

    اور جماعتوں کی قائدین بھی بدل گئے سیدمنور حسن جماعت اسلامی اور تحریک لبیک کے سربراہ مولانا خادم حسین رضوی بھی بھی خالق حقیقی سے جاملے یوں اک معاملہ فیم دینی قیادت کا فقدان نظر آرہاہے-

    اورتحریک لبیک کی قیادت بھی اک نوجوان کے ہاتھ میں مذہبی لوگوں کا جوش و خروش کو کنٹرول کرنا اور معاملات کو سمجھ کر چلنا اک مسلہ ہے درحقیقت دفاع پاکستان طرز کا اک پلیٹ فارم ازحد ضروری ہے جبکہ اس وقت سوشل میڈیا پر اس وقت ملحد سوچ جو کہ اسلام کے لبادے میں ہی اسلام کو ڈس رہی اور ہمارے کم فہم مسلمان اس سیکولر اور ملحد سوچ کا شکار ہو رہے ہیں اور فرقہ پرستی اور شخصیت پرستی کو دور دورہ ہے جبکہ مذہبی لوگ مکمل طور پر بکھرے نظر آتے ہیں حتی کہ مذہبی لوگ اک مسلک کے ہی آپس میں چھوٹے موٹے اختلافات پر دست و گریباں ہیں اور سارا ملبہ اک دوسرے پر ڈال رہے ہیں –

    منفعت ايک ہے اس قوم کی’ نقصان بھی ايک
    ايک ہی سب کا نبی’ دين بھی’ ايمان بھی ايک
    حرم پاک بھی’ اللہ بھی’ قرآن بھی ايک
    کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

    کیا اسلامی قیادتیں جو کچھ عرصہ پہلے اک منظم تھیں سور مل کر بھٹو جیسے آدمی سے قادیانی کو غیر مسلم قرار دینے کا بل پاس کروا لیا ماضی قریب میں چاہے وہ ایم ایم اے کا پلیٹ فارم تھا یا دفاع پاکسان جیسا کا مضبوط اور موثر ادارہ مگر اس عمل کو آگے بڑھنے حالات کے حوادث اور کچھ حکومت کی چالاکیوں نے روک دیا ہے یعنی کچھ فوت ہوگئے اور کچھ بین ہیں وقت آگیا ہے کہ مسلمان الگ الگ کی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے کے بجائے اک مشترکہ علماء لجنہ تشکیل دیں علماء سامنے آئیں اور اس قسم کے مسائل پر حکومت وقت کو لوگوں کے جذبات سے آگاہ کریں-

    تو دوسری طرف معاملہ فہم علماء کو سوشل میڈیا پر اک عام آدمی کی طرح اکاونٹ بنا کر بھی آنا چاہیے تاکہ جو نظریاتی حوالے سے اک شدید حملہ ہورہا ہے جہاں اک ہی بات پر مسلمانو کو اپس میں منتشر کر دیا جاتا ہے اس پر ایکشن ہو علماء کی مشترکہ کانفرنس جو اعلامیہ دے اس پر باقی علماء پابندی کریں یوں اک طاقتور مشترکہ بیانیہ تشکیل ہو اور لوگوں کو پتہ چل سکے کہ دین کا اس میں کیا کردار ہے اور اس طرح کوئی بے قابو ہجوم اپنی ہی عوامی املاک کو نقصان نا پہنچا سکے اور قیمتی جانیں ضائع ہونے سے بچ سکیں حکومت کو بھی احساس ہو کہ معاملہ کس نوعیت کا ہے-

    اس وقت سوشل میڈیا پر مولوی اور علماء مدارس کے خلاف اک منظم مہم اور ذہن سازی جاری ہے کہیں اکا دکا غلط واقعات کو ہائی لائیٹ کر کے مدارس کو بدنام کرنے کا کام منظم شاطر اور شست باندھ کر لکھنے والے خرانٹ لوگوں کا ٹولہ سرگرم عمل ہے وجہ ہمارا منظم نا ہونا اور بکھرے ہونا ہے اللہ تو قرآن میں یہود و نصاری سے یہ معاملہ کرنے کا کہہ رہے ہیں-

    قُلْ یٰٓــاَہْلَ الْکِتٰبِ تَـعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَاءٍ بَیْنَنَا وَبَیْنَـکُمْ: «(اے نبی ) کہہ دیجیے: اے اہل کتاب! آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان بالکل برابر ہے»

    یعنی یہود و نصاری سے اک مشترکہ بات پر اکٹھا ہوا جاسکتا ہے تو کیا اسلام کے یہ فرقے اور ان فرقوں کے اندر تنظیموں اور چھوٹی چھوٹی قیادتوں میں بٹی اس امت کو یکجا نہیں کیا جاسکتا ؟ اگر مسلمان اپنے فرقہ وارانہ اختلافات اک طرف رکھ کر اک مشترکہ جدو جہد کا پلیٹ فارم بنا لیں تو یقین کریں صرف مذہبی حوالے سے نہیں بلکہ ملکی حوالے سے تربیتی حوالے سے اک انقلاب برپا ہوسکتا ہے-

    آیسے وقت جب پرانی سیاسی مداری اور تمام سیکولر حکومتیں ناکامی سے دوچار ہیں اور عوام میں انکا کوئی خاص معاملہ نہیں رہ گیا اگر رہ گیا ہے تو وہ شخصیت پرستی کی حد تک ہے جس کو علماء کا یہ مشترکہ پینل تبدیل کر سکتا ہے اس حوالے سے ملک میں حافظ سعید صاحب کا رول اک زبردست رول تھا انہوں نے تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کو اک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا مگر افسوس ہماری تھکی ہوئی حکومت نے بیرونی دباو پر انہیں پابند سلاسل کر دیا-

    بحرحال اب بھی علماء کی سطح پر اک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دینے کی ضرورت ہے ورنہ سیاسی مداری اپنی حکومتوں کو مزید مضبوط کرنے کے لیے دینی طبقے کو مزید تقسیم کر رہے ہیں اور سیکولر عناصر کا بیانیہ مضبوط ہورہاہے-

    اس نئی آگ کا اقوام کہیں ایندھن ہے
    ملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہے

    کیا یہ بہتر نہیں تھا کہ تمام علماء اور مذہبی جماعتوں کا اکٹھ ہوتا اور نبیؐ کی وہ حدیث کہ شیطان اکیلے کے ساتھ ہے اور دو سے دور ہے کی بدولت یہ قیادتیں مل کر بیٹھتے اور معاملات پر جمع تفریق سے بحث ہوتی تو یقینًا شیطان دور ہوتا اور ملکی و ملی حوالے سے بہترین اقدامات لیے جاتے جس سے اہل دین کا مذاق اور دین کو نشانہ بنانے کا موقع نا ملتا جبکہ اس وقت اہل دین اک دوسرے کے مقابل مختلف سیکولر اتحادوں کے ساتھ بٹے ہوے ہیں ۔

    اس وقت امت کا مسلہ نااتفاقی اور ذاتی مفادات کی وجہ سے متحد نا ہوسکنا ہے بین الاقوامی سطح پر حکومتوں کے اختلافات اور اندرون سطح صوبائیتوں اور قومیتوں کے اختلافات اور وہیں مذہبی فرقہ وارانہ اختلافات سے آگے مسلکی جماعتوں تنظیموں اور قیادتوں کے اختلافات نے اس عظیم امت کو اک بہت بڑا بے قابو ہجوم بنا دیا ہے جسکی کوئی سمت مقرر نہیں ہے جسکا سارا فائدہ لادین قوتیں اٹھا رہی ہیں –

    سوشل میڈیا کی وجہ سے اور معاملات پہ کم فہم لوگوں کے آواز اٹھانے سے بھی معاملات خراب آپس میں اک دوسرے کی جماعتوں کو طعنے دیتے جملے کستے اور الٹی سیدھے ناموں سے توہین کرتے یہ نابالغ افراد وہ چھوٹی لکڑیاں ہیں کہ جن کے زریعے آگ شروع ہوتی ہے اور رفتہ موٹی اور بڑی لکڑیاں بھی انکی جلائی آگ کے اثر میں آجاتی ہیں آپکا کوئی جملہ یا کمنٹ کو یہ مت سمجھیں کہ آپ کوئی بہت بڑے ادمی نہیں اور اس سے فرق نہیں پڑے گا بلکہ یہ چھوٹے چھوٹے جملے لکھنے والے ہی معاملات کی ابتدا ہیں یہ چھوٹی لکڑیوں سے شروع ہونے والی آگ آہستہ آہستہ بڑی لکڑیوں کو جلانے کاباعث ہے چھوٹے کارکنان کی تربیت بھی ضروری تاکہ بڑی سطح پر آپس میں غلط فہمیاں کم ہوسکیں اور آپس میں محبت درگزر اور چشم پوشی سے کام لیا جائے اقبال نے اس حوالے سے جو رہنمائی کی واللہ اقبال کی نظر نے ان دھندلے ناقابل فہم منظر ناموں کو نکھیر کر دکھا دیا-

    تم ہو آپس میں غضبناک، وہ آپس میں رحیم
    تم خطاکار و خطابیں، وہ خطا پوش و کریم
    چاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیم
    پہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیم
    تخت فغور بھی ان کا تھا، سریر کے بھی
    یونہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھی؟

    ہمیں سب سے پہلے ذاتی مفادات سے نکلنا ہوگا اور یہ سمجھنا کہ ہم اکیلے اس سارے مسلے کا کریڈٹ لے لیں اور دیگر جماعتوں سے مشاورت ضروری نہیں بلکہ ہم خود کافی ہیں میرا خیال ہے کہ اب اس نظریے کو دفن کر کے اپنے معاشرے ملک و ملت کے لیے تمام دینی ذہن رکھنے والی جماعتوں کو اک مشترکہ پلیٹ فارم بنانا ہوگا یہ مشترکہ پلیٹ فارم اک مشترکہ سیاسی محاذ میں بھی تبدیل ہوسکتا ہے-

    ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے فرقہ وارانہ اور بین المسلکی اختلافات اور تنظیموں اور جماعتوں کے اختلافات کو اک طرف رکھ کر مشترکہ مفادات کے لیے جد جہد کریں اپنے دل میں وسعت پیدا کرنا ہوگی اور اپنی نظر کو امت کے وسیع مفاد کو دیکھنے کے لیے بنانا ہوگا اپنی ذاتی مفادات کو وقتی طور پر چوٹ بھی پہنچے تو اوج ثریا پر پہنچنے کے لیے قلب سلیم سے مدد لینا ہوگی تبھی تخت ففغور بھی تمہارا ہوگا جب تم اسلام کی حمیت پیدا کرو گے جب ہم قومیتوں فرقوں تنظیموں پارٹیوں کی عصبیتوں سے نکلیں گے اگرچہ یہ مشکل کام ہے مگر یہ کام کرنا ہوگابقول اقبال

    ہے جو ہنگامۂ بپا یورش بلغاری کا
    غافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کا
    تو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کا
    امتحاں ہے ترے ایثار کا، خود داری کا
    کیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سے
    نور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سے

    تو دوسری طرف عزیمتوں سے دور تھکی ہوئی اک سوچ کہ دشمن یہ کر دے گا فیٹف یہ کر دے گا اور حرمت رسولؐ کے حوالے عالمی سطح پر مسلمان حکمرانوں کا کمزور سا بیانیہ محض اک میاوں میاوں سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ وہ معاملہ جو اک چند گستاخوں سے شروع ہوا تھا آج سرکاری بیانیہ بن گیا مگر تجارتوں میں مصروف مسلمان حکمران کو اس سے کیا لینا دینا ان کا خیال ہے کہ دولت انبار اکٹھے کرو پھر دشمن سے مقابلہ ہو سکتا ہے قور یہاں وہی مسلہ انتشار ہے یعنی کوئی اتفاق رائے موجود نہیں بین الاقوامی سطح پر کیا مسائل ہیں اس پر مفصل گفتگو انشاءاللہ اگلی قسط میں ہوگی-

  • کشف الاسرار:  کرونا اور حقائق   تحریر: کاشف علی ہاشمی

    کشف الاسرار: کرونا اور حقائق تحریر: کاشف علی ہاشمی

    تحریر کاشف علی ہاشمی
    کشف الاسرار
    کرونا اور حقائق

    اس وقت پچھلے سال سے دنیا میں اچانک اک دھماکہ چوکڑی شروع ہوئی کرونا کے نام پر اور ساری دنیا کو بند کر دیا گیا کہیں دیر سے اور کہیں جلدی لیکن اسقدرعجیب و غریب خبریں پھیلائیں گئیں تاریخ میں پہلی مرتبہ جھوٹ پر مبنی خوف عالمی سطح پر بیچا گیا دیکھئے ہمارا ہر گز مطلب نہیں کہ کرونا نہیں ہے یا آپ احتیاط نا کریں بلکہ بلکہ ہمارا مطلب ہے یہ اتنا زوردار نہیں ہے جتنا پروپیگنڈا کیاجارہا ہے بلکہ کوڈ پہلے بھی بھی موجود تھا اب کوڈ 19 آگیا ہے-

    اس حوالے سے دنیا بھر میں جھوٹی خبریں پچھلے سال اٹلی وغیرہ اور امریکہ سے آئیں تھیں جبکہ اس سال یہ خبریں انڈیا سے آرہی ہیں عالمی سطح ٹیسٹ کٹوں کے جعلی ہونے کے کیسز سامنے آئے جسے بی بی سی جیسے اداروں نے رپورٹ کیا دنیا میں آنے والے ایونٹس کی پشین گوئیاں کرنے والے عالمی میڈیا کے اداروں نے اس پر صاف صاف کہا کہ وہ دنیا کو کنٹرول کرنے جارہے ہیں ہر چیز انڈر کنٹرول ہے ٹرمپ جیسوں نے کہا کہ ہم نے دنیا سے فراڈ کیا تھا مگر ہمارے بزر جمہر اس کو ہر صورت جان لیوا ثابت کرنے پر تیار ہیں-

    کتنے ڈاکٹروں نے کہا کہ معاملات جو بتائے جارہے ہیں ایسے ہے نہیں خود اک قریبی جاننے والے پروفیسر ڈاکٹر نے کہا کہ یہ اللہ پر ایمان رکھو بیماری کچھ نہیں پروپیگنڈا ذیادہ ہے ٹھیک ہے آپ احتیاط کریں لیکن ملک کو لاک ڈاون کرنا جیسا کہ حکومتی مشینری کے پرزے اس پر بہت اصرار کر رہے ہیں مگر عمران خان نے بارہا اس کو ریجیکٹ کیا ہے-

    عمران خان کو اس خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ اس نے ملک میں غریب لوگوں بارے سوچا ہے اب بھی عمران خان نے کہا کہ وہ فوج مقرر کریں گے مگر لاک ڈاون نہیں کریں جبکہ اسد عمر نے کہا ہے کہ اگر احتیاط نا کی گئی تو لاک ڈاون لگا دیا جائے گا-

    سارا دن میڈیا پر خبریں دینے والے میڈیا اینکرز اور سیاستدان خود کوئی احتیاط نہیں کر رہے لیکن عوام کو وبال میں ڈالا ہوا ہے فواد چوہدری کی سالگرہ پر یہ سب بغیر کسی ماسک اور کسی فاصلے بنا بیٹھے تصویریں بنواتے یعنی ان کو حقیقت پتہ ہے ورنہ انکو 10% یقین ہوتا تو خود کبھی ایسے نا بیٹھتےاور قومی اسمبلی کے اجلاس میں دیکھ لیں نا فاصلہ نا ماسک اور غریب کو پسنے کے لیے سب متفق ہیں-

    اسی طرح یہ بھی بات سامنے آرہی ہے کہ عالمی سطح سے دباو ہے بل گیٹس نے کہا تھا کہ 2021 تک سکول نہیں کھلیں گے آپ دیکھ لیں کسی کی جرات نہیں ہے دنیا اسوقت چند ہاتھوں میں یرغمال نظر آتی ہے اور نامعلوم مصلحتوں کے تحت حکومتیں بھی جھکتی نظر آتی ہیں لیکن ہمارے ہاں ہر چیز کو کانسپریسز تھیوری کے نام پر ریجیکٹ کرنا بھی بہت آسان ہے لیکن ہمیں کچھ فیکٹس پر بھی غور کرنا چاہیے اپنے محلے علاقے کا سروے کریں ڈیتھ ریٹ کیا چل رہا ہے-

    اس وقت بہت کچھ جو پہلے کبھی نہیں ہوا وہ ہورہا ہے جوکہ حکومتوں پر بیرونی دباو ظاہر کرتا ہے ٹرمپ کا عجیب و غریب معاملہ سامنے آیا ہے ترک صدر اخبار فروش اور انڈین مودی چائے فروش دنیا اکثر حکومتیں زبردستی لائی گئی ہیں یقینًا آپ بہت سی باتوں میں اختلاف کر سکتے ہیں ہمارے نقطہ نظر میں فرق ہوسکتا ہے مگر پانامہ کو عالمی سطح پر کونسی قوت لے کر آئی تھی جو ریاستوں کے سربراہوں سے بھی ٹکرا گئی ؟ –

    خیر ہم کرونا کی بات کر رہے ہیں کہ بہت سی درست خبروں کو۔میڈیا نے نہیں پھیلایا اور بہت سے فیک نیوز انٹرنیشنل میڈیا پر چلیں جس پر بعد میں ثابت ہوا اقرار کیا گیا کہ جھوٹ بولا گیا ہے-

    مگر اس پر ایسی کہانیاں بیان کی گئیں کہ الامان والحفیظ کہ جی اک بندہ اپنے گھر بیٹھا تھا وہ بالکل باہر نہیں گیا لیکن یہ ہوا کہ اسے کوڈ ہو گیا تحقیق کی تو پتہ چلا کہ آن لائن سامان منگوایا گیا تھا ڈلیوری والے لڑکے کو تھا جس سے اس شخص میں منتقل ہوا مگر حیرت انگیز طور پر باقی افراد جو ساتھ رہتے تھے ان کو نہیں ہوا اب ہم اس پر کچھ آپ سے شئیر کرتے ہیں-

    رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”لَا عَدْوٰی وَلَا صَفَرَ وَلَا ھَامَۃ“یعنی نہ بیماری کا اُڑ کر لگنا ہے، نہ صَفَر کی نحوست ہے نہ اُلّو کی نحوست ہے۔ ایک اعرابی نے عرض کی: یارسولَ اللہ! پھرکیا وجہ ہے کہ میرے اونٹ مٹی میں ہرن کی طرح (چست،تندرست و توانا)ہوتے ہیں،تو ایک خارش زدہ اونٹ ان میں داخل ہوتا ہے اور ان کو بھی خارش زدہ کر دیتا ہے ؟تو حضور علیہ الصّلوٰۃو السَّلام نے فرمایا: پہلے کو کس سے خارش لگی ؟(بخاری،ج4،ص26،حدیث:5717

    یہاں ہم جذام والی حدیث کو پڑھیں کہ کوڑھی سے ایسے بھاگو جیسے شیر سے بھاگتے ہو اور یہ دونوں حدیثیں صحیح ہیں تو انکا جمع و تطبیق یہ ہے کہ کوئی بھی بیماری از خود متعدی نہیں ہے بلکہ وہ اللہ کی معیشت سے لگتی ہے اس لیے وباوں میں لوگوں کی جس تعداد نے شکار ہونا ہوتا ہے وہ ہو کر مر جاتی ہے اور جس نے بچنا ہوتا ہے وہ بچ جاتے ہیں احتیاط کریں مگر لاک ڈاون اور کریک ڈاون سے جو حالات ہو سکتے ہیں اس پر انشاءاللہ تفصیلی الگ مضمون لکھوں گا –

    مسلم شریف کی ایک روایت میں ہےکہ سال میں ایک رات ایسی آتی ہے کہ اُس میں وَبا(یعنی بیماری) اُترتی ہے جو برتن چھپا ہوا نہیں ہے یا مَشک کا منہ بندھا ہوا نہیں ہے اگر وہاں سے وہ وَبا گزرتی ہے تو اُس میں اُتر جاتی ہے۔

    (مسلم ، ص1115 حدیث : 2014
    یعنی وبا اوپر سے نازل ہوتی ہے یعنی آپ کسی بیمار سے نہیں ملتے اچانک محلے علاقے میں آپکو ایک مرض کے مریض نظر آتے ہیں جو اس بات کی دلالت ہے کہ وبا اوپر سے ناذل ہوتی ہے احتیاط کریں مگر اس کو اس طرح مت مسلط کریں کہ ملکی معیشت کا پہیہ رک جائے اور مہنگائی کی چکی میں پسے لوگ بے روزگاری کے بوجھ میں کچلے جائیں –

    پوری میڈیا مشینری کے بے پناہ پروپیگنڈے کے باوجود ڈیتھ ریٹ میں بڑھوتری کے بجائے کمی آگئی ہے کیونکہ نارمل ڈیتھ ریٹ ڈیلی ڈیڑکھ لاکھ ہے 2017 کے اعدادو شمار کے مطابق جبکہ آج 16 17 گھنٹو میں اعدودوشمار 118000 ہیں

  • واٹس ایپ صارفین کو اپنی تصاویر اور ویڈیوز کو مزید پرائیویٹ کرنے میں مدد ملے گی

    واٹس ایپ صارفین کو اپنی تصاویر اور ویڈیوز کو مزید پرائیویٹ کرنے میں مدد ملے گی

    دنیا بھر میں مقبول میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے اپنے اینڈرائیڈ صارفین کے لیے بیٹا ورژن متعارف کروادیا ہے-

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ انتظامیہ کی جانب سے واٹس ایپ کے نئے ورژن 2.21.9.3. کی اپ ڈیٹ گوگل پلے بیٹا پروگرام کے ذریعے جمع کروادی گئی ہے اس ا پ ڈیٹ کے ذریعے جلد ہی واٹس ایپ ’Self Destructive Photos And Videos feature ‘ فیچر متعارف کروانے جارہا ہے۔


    اس فیچر کے تحت واٹس ایپ صارفین کے پاس یہ آپشن موجود ہوگا کہ وہ ’Self Destructive Message‘ کے اس فیچر کو اِن ایبل کرکے کسی کو بھی تصاویر، ویڈیوز یا جِف بھیجیں گے تو وہ بھیجے جانے والے شخص کے دیکھنے کے بعد ’چیٹ ونڈو‘ سے فوراً خود ہی غائب ہوجائے گی۔

    واٹس ایپ پر نظر رکھنے والی سائٹ ویب بیٹا انفو کے مطابق واٹس ایپ اس فیچرپر کام کررہا ہے اور جلد اس فیچر کو متعارف کرادیا جائے گا۔

    فوٹو بشکریہ ویب انفو بیٹا
    واٹس ایپ کے مطابق اس فیچر کے ذریعے صارفین کو اپنی تصاویر اور ویڈیوز کو مزید پرائیویٹ کرنے میں مدد ملے گی کیونکہ اس کے تحت پیغام وصول کرنے والا آپ کی تصاویر یا ویڈیوز کو غائب ہونے سے پہلے تک ہی کھول سکتا ہے یہ فیچر iOS اور Android کے لئے دستیاب ہوگا-

    فوٹو بشکریہ ویب انفو بیٹا
    واٹس ایپ کا مزید کہنا ہے کہ پیغام وصول کرنے والا پیغام بھیجنے والے کی تصاویر محفوظ کرنے کے لیے اسکرین شاٹ بھی لے سکتا ہے تاہم اس کے باوجود انتظامیہ اس قسم کے میڈیا کے لیے اسکرین شاٹ یا ویڈیو کیپشن کوروکنے والا کوئی فیچر متعارف نہیں کروانا چاہتی۔

  • شگفتہ اعجاز بھی کورونا ویکسین لگوانے والوں میں شامل

    شگفتہ اعجاز بھی کورونا ویکسین لگوانے والوں میں شامل

    پاکستان میں ان دنوں عالمی وبا کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگانے کی مہم جاری ہے اور اب تک متعدد فنکار کورونا ویکسین لگوا چکے ہیں-

    باغی ٹی وی : پاکستان شوبز انٖڈسٹری کی سینئر اداکارہ شگفتہ اعجاز نے بھی کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ویکسین لگوالی ہے شگفتہ اعجاز نے اپنے تصدیق شدہ انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اپنی نئی تصویر شیئر کی جس میں وہ ویکسینیشن سینٹر میں موجود ہیں اور کورونا وائرس سے محفوظ رہنے کے لیے ویکسین لگوا رہی ہیں۔

    جبکہ تصویر میں اداکارہ ارسہ غزل بھی موجود ہیں جو شگفتہ اعجاز کی تصویر خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں-

    شگفتہ اعجاز نے تصویر شئیر کرتے ہوئے کیپشن میں بتایا کہ اُنہوں نے ویکسین لگوالی ہے۔

    شگفتہ اعجاز نے مزید بتایا کہ اور یہاں ارسا غزل نے میری تصویر خراب کرنے کی ٹھان لی ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل عدنان صدیقی ، راحت کاظمی ،جاوید شیخ ، حنا خواجیہ بیات ، سمی راحیل ،ثمینہ پیرزادہ، بشریٰ انصاری، ندا یاسر، یاسر نواز، عفت عُمر، ارمینا خان،میرا اور ریما خان نے کورونا ویکسین لگوچکے ہیں-

    ندا یاسر نے کورونا ویکسین لگوالی

  • ثمینہ پیرزادہ کورونا کی اس مشکل گھڑی میں عبدالستار ایدھی کویاد کرنے لگیں

    ثمینہ پیرزادہ کورونا کی اس مشکل گھڑی میں عبدالستار ایدھی کویاد کرنے لگیں

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی سینئر اداکارہ و میزبان ثمینہ پیرزادہ کورونا وائرس کی اس مشکل گھڑی میں مشہور سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کو یاد کرنے لگیں۔

    باغی ٹی وی : اداکارہ ثمینہ پیرزادہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ ’اس دُنیا کو عبدالستار ایدھی صاحب جیسے نیک لوگوں کی شدید ضرورت ہے۔‘


    اداکارہ نے کہا کہ میں عبدالستار ایدھی صاحب کو بہت زیادہ یاد کررہی ہوں کاش! آج ایدھی صاحب انسانیت کی خدمت کرنے کے لیے زندہ ہوتے۔

    دوسری جانب بھارت میں کورونا وائرس کی تشویشناک صورتحال سے اسپتالوں میں طبی سامان اور سہولتوں کی کمی کے پیشِ نظر ایدھی فاؤنڈیشن کی جانب سے بھارت کو مدد کی پیشکش کی گئی ہے۔

    ایدھی فاونڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے نام ایک خط لکھا ہے جس میں 50 ایمبولینس سمیت ایمرجنسی میڈیکل ٹیکنیشنز کی ٹیم بھیجنے کی پیشکش کی ہے۔

    واضح رہے کہ انسانیت کی خاطر اپنی زندگی وقف کرنے والی معروف سماجی شخصیت عبدالستار ایدھی شدید علالت کے باعث 8 جولائی 2016 کو انتقال کر گئے تھے-

    ایدھی فاونڈیشن کے سربراہ کا مودی کو خط

  • انسٹاگرام پرغیراخلاقی پیغامات کی روک تھام کے لئے نئے فیچر کی آزمائش

    انسٹاگرام پرغیراخلاقی پیغامات کی روک تھام کے لئے نئے فیچر کی آزمائش

    فیس بک کی فوٹو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام صارفین کے غیراخلاقی پیغامات کو خود کار طریقے سے فلٹر کرنے کا فیچر متعارف کرائے گا-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ نیا ٹول صارفین کو خود کار طریقے سے غیر مہذب پیغامات، جملوں اور ایموجیز کو فلٹر کرنے کی سہولت فراہم کرے گا۔

    اس فیچر کو درحقیقت مشہور اور عوامی شخصیات کے لیے متعارف کروایا جائے گا جو بڑے پیمانے پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ناپسندیدہ پیغامات وصول کرتے ہیں۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ اس فیچر کے ذریعے انتظامیہ انسٹاگرام پر بھیجے جانے والے نفرت انگیز جملوں اور پیغامات سے نمٹ سکے گی۔

    اعلان میں مزید کہا گیا ہے کمپنی آئندہ ہفتوں میں متعدد ممالک میں اس فیچر کو متعارف کروائے گی تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ یہ فیچر کن ممالک میں متعارف کروایاجائے گا البتہ کمپنی اس فیچر کی دیگر ممالک میں توسیع کا ارادہ رکھتی ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل انسٹا گرام نے ’لائیک کاؤنٹ‘ چھپانے والے فیچر کی آزمائش شروع کرنے کا اعلان کیا تھا انسٹاگرام کا کہنا تھا کہ لائیک فیچر جلد متعارف کرایا جائے گا-

    انسٹاگرام اسٹوریز پر ردعمل کے اظہار کے لیے اسٹیکرز کی آزمائش

    اپنے صارفین کو ذہنی دباؤ سے بچانے کے لئے انسٹاگرام کی انوکھے اور حیرت انگیز فیچر…

     

  • فیروز خان بھی امتحانات ملتوی کرنے کے لئے طلبہ کے حق میں بول پڑے

    فیروز خان بھی امتحانات ملتوی کرنے کے لئے طلبہ کے حق میں بول پڑے

    پاکستان کے معروف اداکار فیروز خان نے کورونا کیسز میں اضافے کے باعث طلبہ کے امتحانات ملتوی کرنے کے لئے آواز اٹھا دی۔

    باغی ٹی وی : واضح رہے کہ وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود نے حال ہی میں اپنے بیان میں کہا تھا کہ اے لیول، او لیول، اے ایس، آئی جی سی ایس ای کے امتحانات شیڈول کے مطابق ہوں گے جبکہ نویں سے بارہویں جماعت کے امتحانات نئی تاریخوں کے تحت ہوں گے، امتحانات کی نئی تاریخوں کا اعلان متعلقہ بورڈ کریں گے۔

    شفقت محمود نے کہا تھا کہ امتحانات کا نیا شیڈول مدِنظر رکھتے ہوئے یونیورسٹیز میں داخلے کئے جائیں گے، متاثرہ اضلاع کی یونیورسٹیز میں آن لائن کلاسیں جاری رہیں گی 8 فیصد سے کم کیسز والے اضلاع میں یونیورسٹیاں کھول دی جائیں گی۔

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیشِ نظر حکومت نے ملک بھر میں پہلی سے آٹھویں جماعت تک اسکول عید الفطر تک بند رہیں گے۔

    وفاقی وزیر تعلیم کے اس بیان کے بعد طلبا نے مطالبہ کیا تھا کہ امتحانات کینسل کئے جائیں کیونکہ کورونا وبا کی وجہ سے اسکولز ، کالجز بند ہونے کی وجہ سے ان کا سلیبس مکمل نہیں ہوا ہے جس کے بعد شوبز شخصیات بھی طلبہ کی حمایت میں سامنے آئیں اور ملک میں بڑھتے کورونا کی شرح کے پیش نظر حکومت سے امتحانات کینسل کرنے کا مطالبہ کیا جن میں اب فیروز خان بھی شامل ہوگئے ہیں-


    سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اداکار فیروزخان نے اپنے پیغام میں کورونا کیسز میں اضافے کے باعث طلبہ کے امتحانات ملتوی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ امتحانات کینسل کر یں اور جانیں بچائیں-

    واضح رہے کہ اس سے قبل گلوکارعاصم اظہر اور وقار ذکاءبھی طلباءکے حق میں آواز اٹھا چکے ہیں-

    آغا علی نے امتحانات ملتوی کرنے کے لئے طلبہ کے حق میں آواز اٹھا دی

    ابھی بھی وقت ہے، بچوں پر ترس کھالیں ،شفقت محمود کے حالیہ بیان پر عاصم اظہر کا…

    کلاس اول سے ہشتم تک سکولوں کوبندرکھنے کے فیصلے کی توسیع کی مذمت کرتا ہوں:کاشف مرزا

    عاصم اظہر امتحانات سے متعلق پریشان طلبا کی مدد کے لیے میدان میں کود پڑے

    براہ کرم بچوں کے بارے میں سوچیں حدیقہ کیانی کی وزیر تعلیم شفقت محمود سے درخواست

  • نئی دہلی اسپتالوں میں آکسیجن کی کمی، سشمیتا سین مدد کے لئے سامنے آگئیں

    نئی دہلی اسپتالوں میں آکسیجن کی کمی، سشمیتا سین مدد کے لئے سامنے آگئیں

    بالی وڈ اداکارہ سشمیتا سین نے نئی دہلی کے اسپتالوں میں آکسیجن کی کمی پر مدد کیلئے سامنے آگئیں۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے شانتی مکند اسپتال کے سی ای او سنیل ساگر میڈیا کو کورونا کی صورتحال اور اسپتال میں آکسیجن سلنڈرز کی کمی کے بارے میں بتاتے ہوئے جذبات پرقابو نہ رکھ سکے اور روپڑے۔

    نئی دہلی کے اسپتال میں کورونا مریضوں کیلئے آکسیجن کی کمی کی خبریں سامنے آنے پر پورے بھارت میں بھونچال مچ گیا تھا تاہم اس نازک موقع پر اداکارہ سشمیتا سین پیچھے نہ رہیں اور ممبئی میں ہوتے ہوئے دہلی کے اسپتال کیلئے آکسیجن کی فراہمی میں مدد کی۔


    اداکارہ نے دہلی کے شانتی مکنڈ اسپتال کے سی ای او سنیل ساگر کی ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ملک میں آکسیجن کا بحران آگیا ہے اور ایسے میں ممبئی میں اس اسپتال کیلئے کچھ آکسیجن سلنڈرز کا انتظام کرنے میں کامیاب ہوئی ہوں لیکن مشکل یہ ہے کہ ان آکسیجن سلنڈرز کو ممبئی سے دہلی بھیجنے کے لیے کوئی راستہ نہیں ہے۔

    اداکارہ نے تمام لوگوں سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ یہ سلنڈرز دہلی پہنچانے میں ان کی مدد کریں۔

    چند گھنٹوں بعد اداکارہ نے ایک اور ٹوئٹ کرکے بتایا کہ شانتی اسپتال میں آکسجین کی کمی پوری ہوگئی ہے اور یوں مجھے سلنڈرز بھیجنے کیلئے مزید وقت مل گیا ہے، اس دوران مدد کرنے پر سب کی شکر گزار ہیں۔


    سشمیتا نے بتایا کہ آکسیجن سلنڈر ممبئی سے دہلی کے اسپتال کیلئے روانہ کردیے گئے ہیں۔

    سشمیتا سین کے اس اقدام پر کئی صارفین مدد کے لئے میدان میں آگئے-