Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • بالی ووڈ میں کورونا وائرس بحران: دلیپ کمار کے بھتیجے مفلسی کا شکار

    بالی ووڈ میں کورونا وائرس بحران: دلیپ کمار کے بھتیجے مفلسی کا شکار

    بالی ووڈ کے لیجنڈ اداکار دلیپ کمار کے بھتیجے اور اداکار ایوب خان کا کہنا ہے کہ بالی ووڈ میں کورونا وائرس کی وجہ سے ایسے حالات پیدا ہوگئے ہیں کہ اب لگتا ہے انھیں لوگوں سے مدد مانگنا پڑے گی۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ سال سے کورونا وبا نے دنیا بھر کی معشیت کو شدید متاثر کیا ہےجہاں تمام کاروباری ،ثقافتی سرگرمیاں کورونا وبا سے متاثرہوئیں ہیں وہیں دنیا بھر کی شوبز انڈسٹری کو بھی متاثر کیا جن میں بالی ووڈ بھی شامل ہے یہاں تک کہ فنکار مختلف کام اور مزدوریاں کرنے پر مجبور ہو گئے-

    تاہم اب اس حوالے سے لیجنڈ اداکار دلیپ کمار کے بھتیجے اور اداکار ایوب خان کا کہنا ہے کہ انھوں نے گزشتہ ڈیڑھ برس سے کچھ نہیں کمایا اور اب جمع پونجی بھی ختم ہونے کو ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق اداکار نے کہا انھیں خدشہ ہے کہ اگر کورونا وائرس کا بحران جاری رہا اور حالات میں بہتری نہ آئی تو ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی آپشن نہ ہوگا کہ وہ مدد کے لیے لوگوں کی جانب دیکھیں۔

    اداکار نے کہا کہ ریاست مہاراشٹر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی کی وجہ سے نافذ کردہ پندرہ روزہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے شوٹنگ بند ہے، اور کام متاثر ہورہا ہے اور ہر کوئی زندگی گزارنے کے لیے ہاتھ پاؤں مارہا ہے۔

    52 سالہ ایوب خان نے کہا کہ میں ڈیڑھ برس سے مسلسل بیکار بیٹھا ہوں اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو پھر لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں رہ جائے گا۔

    واضح رہے کہ ایوب خان اداکار دلیپ کمار کے چھوٹے بھائی اداکار ناصر خان اور 1940 اور 1950 کے عشرے کی معروف اداکارہ بیگم پارہ کے بیٹے ہیں-

  • پاکستان کے تاریخی شہر لاہور پر مر مٹنے والی شہزادی بامبا سدھر لینڈ

    پاکستان کے تاریخی شہر لاہور پر مر مٹنے والی شہزادی بامبا سدھر لینڈ

    پاکستان کے تاریخی شہر لاہور پر مر مٹنے والی شہزادی بامبا سن 1843 سے سن 1849 تک سلطنتِ پنجاب کے حکمران مہاراجہ دلیپ سنگھ کے گھر 29 ستمبر سن 1869 کو لندن میں بیٹی پیدا ہوئی۔

    نومولود بیٹی کا نام بامبا صوفیہ جنداں دلیپ سنگھ رکھا گیا بامبا ان کی والدہ، صوفیہ نانی اور جند دادی کا نام تھا پنجاب کے سب سے معروف مہاراجہ رنجیت سنگھ شہزادی بمبا کے دادا تھے شہزادی بمبا نے لندن میں ہی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا جس کے بعد امریکی شہر شکاگو کے ایک میڈیکل کالج چلی گئیں۔

    بیسویں صدی کے آغاز میں شہزادی بامبا نے اپنے آباؤ اجداد کی سرزمین ہندوستان کے دورے کرنا شروع کر دئیے وہ ہمیشہ لاہور یا شملہ میں رہتی تھیں شہزادی بمبا کو لاہور اس قدر پسند آیا کہ انہوں نے انگلستان کو چھوڑ کر تنہا ہی لاہور کو اپنا مستقل مسکن بنا لیا۔

    انہوں نے ماڈل ٹاؤن کے اے بلاک میں مکان نمبر 104 خرید کر اس میں رہائش اختیار کر لی شہزادی بامبا نے اس گھر کا نام ’گلزار‘ رکھا اور اس میں اپنے ہاتھ سے کئی اقسام کے گلاب کے پودے لگا کر ان کی دیکھ بھال شروع کر دی۔

    سن 1915 میں شہزادی بامبا نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور کے پرنسپل ڈاکٹر ڈیوڈ سدھر لینڈ کے ساتھ شادی کر لی اور ان کا نام شہزادی بامبا سدھرلینڈ ہو گیا۔

    شہزادی بامبا کی دادی کا انتقال سن 1863 میں ہو گیا تھا لیکن شہزادی بمبا نے سن 1924 میں ان کی باقیات لاہور منگوا کر اپنے دادا مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سمادھی میں دفن کروائیں۔

    سن 1939 میں ڈاکٹر ڈیوڈ سدرلینڈ کے انتقال کے بعد شہزادی بامبا لاہور میں اکیلی رہ گئیں لیکن انہوں نے لاہور سے بے پناہ محبت کے باعث ماڈل ٹاؤن میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا ان کا خیال تھا کہ وہ اس طرح اپنے مرحوم باپ دلیپ سنگھ کی روح کو کسی طور پر سکون پہنچا سکے گی۔

    اس دوران شہزادی بامبا کا شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کے ساتھ بھی ملنا جلنا رہا علامہ اقبال، شہزادی بامبا کی انتہائی عزت کرتے تھے۔ شہزادی بامبا کا 88 سال کی عمر میں اسی گھر میں انتقال ہوا وہ عمارت سن 1944 میں سات ہزار روپے میں خریدی گئی تھی آج بھی یہ عمارت ان کے خاص ملازم پیر بخش کی اولاد کے زیراستعمال ہے۔

    تقسیم کے ایک برس قبل 13جولائی 1946ء کو بامبا نے رنجیت سنگھ کی اولاد کا ایک حقیقی وارث ہونے کے ناطے اپنے ایک وکیل رگھبیر سنگھ ایڈووکیٹ فیڈرل کورٹ آف انڈیا کی وساطت سے اپنی پنجاب کی سلطنت کا مطالبہ کر تے ہوئے ایک خط یو این او کو بھجوایا لیکن اس خط کا کوئی بھی خاطر خواہ جواب نہ دیا گیا۔

    تقسیم کے وقت شہزادی بامبا انگلینڈ، ہندوستان اور دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک میں رہنے کا حق رکھتی تھیں لیکن انہوں نے اپنے دادا کی سلطنت پنجاب کے دارالحکومت لاہور کو ہر چیز پر ترجیح دی وہ لاہور میں رہ کر دلیپ سنگھ کی جائیداد اور دیگر معاملات کو دیکھتی رہیں وہ لاہور میں اکثر اپنی گاڑی پر مال روڈ اور دوسرے علاقوں میں چلی جاتیں اور عہد رفتہ کی عمارات کو دیکھتی رہتی تھیں۔

    شہزادی بامبا نے ایک مرتبہ ایک سرکاری افسر سے گلہ کیا کہ میں اس بادشاہ کی پوتی ہوں جس کی ملکیت میں تمام پنجاب تھا اور مجھے بس میں الگ سے کوئی نشست بھی نہیں دی جاتی بامبا کے آخری ایام انتہائی تکلیف دہ تھے وہ اپنی وفات سے دو برس قبل ہی کانوں سے بہری ہو چکی تھیں، آنکھوں سے خاص دکھائی بھی نہیں دیتا تھا اور فالج کے حملے کے باعث وہ اپنے دستخط بھی نہ کر سکتی تھیں۔

    ان تمام حالات کی خبر شہزادی کے قریبی رشتہ داروں میں سے پریتم سنگھ کو مکمل طور پر تھی 10 مارچ سن 1957 کو بامبا انتقال کر گئیں اور پاکستان میں برطانیہ کے ڈپٹی ہائی کمشنر نے ان کی عیسائی رسومات کی ادائیگی کرنے کے بعد شیر پاؤ پُل کے قریب جیل روڈ کےگورا قبرستان میں دفنایا گیا۔

    ان کی وصیت کے مطابق ان کی قبر کے کتبے پر فارسی کے دو اشعار لکھے گئے جن کا ترجمہ کچھ یوں ہے:

    حاکم اور محکوم میں تفریق باقی نہیں رہتی
    جس لمحے تقدیر کا لکھا آن ملتا ہے
    اگر کوئی قبر کو کھود کر دیکھے
    تو امیر اور غریب کو الگ الگ نہیں کر سکتا

    علاوہ ازیں شہزادی بامبا کی قبر کے کتبے پر درج ذیل تحریر رقم ہے۔

    Here lies in eternal peace The Princess Bamba Sutherland Eldest Daughter of Maharajah Daleep Singh and Grand Daughter of Maharajah ranjit Singh of Lahore.Born on 29th September 1869 in London-Died on 10th March 1957 at Lahore.

    شہزادی بامبا کو آرٹ سے گہرا لگاؤ تھا اور جب ان کا انتقال ہوا ان کے پاس بیش قیمت پینٹگز کا پورا خزانہ موجود تھا جوان کی وصیت کے مطابق ان کے خاص ملازم پیر کریم بخش سپرا کے سپرد کیا گیا اس خزانے میں واٹر کلر، ہاتھی کے دانتوں پر پینٹنگز، مجسمے اورآرٹ کے دیگر شاہکار نمونے شامل تھے۔

    جبکہ لندن میں بچی ہوئی دلیپ سنگھ کی وسیع و عریض جائیداد کا کوئی بھی وارث نہ بچا اور نہ ہی کسی نے اس کا مطالبہ کیا اور یوں وہ تمام جائیداد تاج برطانیہ کو منتقل ہو گئی۔

    لیکن لندن میں موجود سکھ خاندان کے نوادرات وصیت کے مطابق پیر کریم بخش نے حکومت پاکستان کے تعاون سے لاہور منگوانے کی درخواست دائر کی متعلقہ بنک نے انتہائی ایمانداری سے وہ خاندانی نوادرات ایک ہفتے میں لاہور بھجوا دیئے۔

    ان نوادرات کوشہزادی بامبا کی رہائش گاہ میں محفوظ کر کے ’اورئینٹل میوزیم‘ کھولا گیا 1962ء میں حکومتِ پاکستان نے شہزادی بامبا کے آرٹ کے اس خزانے کو قومی اثاثہ قرار دے کر خرید لیا اور اسے لاہور کے شاہی قلعے میں محفوظ کر لیا۔

    سن 2018 میں اس کولیکشن کو عام شہریوں کے لیے کھول دیا گیا اسے دیکھ کر پنجاب میں سکھوں کی حکمرانی کی شان و شوکت کا اندازہ ہوتا ہے۔

  • بچوں کے لئے دنیا کا پہلا اسمارٹ فون نووس

    بچوں کے لئے دنیا کا پہلا اسمارٹ فون نووس

    نیویارک :ایک کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے دنیا کا پہلا اسمارٹ فون بطور خاص بچوں کے لئے تیار کیا ہے اسے نووس کا نام دیا گیا ہے

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نووس ایک ہی وقت میں اسمارٹ فون، اسمارٹ واچ اور مصنوعی ذہانت والا اسپیکر بن جاتا ہے۔ یہ فورجی نیٹ ورک کو سپورٹ کرتا ہے جبکہ ویڈیوکال، آڈیو کال، اسمارٹ میسجنگ کی سہولت موجود ہے۔

    اس فون کی اہم بات یہ ہے کہ اسے چھوٹے ہاتھوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہےاور اس کی بیٹری روایتی فون کے مقابلے میں تین گنا زیادہ کام کرتی ہے۔

    بچوں کے لیے ڈیزائن کردہ اس فون میں والدین کی جانب سے لگائے جانے والے لاک اور پابندیوں کی سہولت موجود ہے اور اس فون کو تلاش کرنے کے لیے کئی آپشن دیئے گئے ہیں۔

    کمپنی نے دعویٰ کیاہے کہ نووس بچوں کو ورزش کی ترغیب دیتا ہے اور کسی بھی مدد کی صورت میں وہ صرف ایک بٹن دبا کر والدین کو مدد کے لیے پکار سکتے ہیں۔

    اس کے علاوہ یہ فون گھریلو پوڈ میں لگا کر اے آئی اسپیکر اور گوگل اسسٹنٹ کا کام بھی کرتا ہے اس کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ فون کھول کر اس کا اسکرین نکال کر پٹہ باندھ کر اسے اسمارٹ واچ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے-

    فون کا خاص نظام ہروقت بچے کی لوکیشن نوٹ کرتا رہتا ہے اور اگر بچہ کسی غیر آگاہ راستے پر چل پڑے تو اس کی اطلاع والدین کو بھی دیتا ہے۔

    تاہم اس کا اسکرین چھوٹا اور ٹچ کے قابل نہیں اگر بچہ واچ میں لگا بٹن تین مرتبہ دبادے تو وہ مدد یعنی ایس او ایس کا پیغام بن کر والدین تک پہنچ جائے گا۔

    کمپنی کی جانب سے نووس کی قیمت 199 ڈالر رکھی گئی ہے۔

  • شوبز شخصیات نے رائلٹی کی ادائیگی کیلئے آواز اٹھا دی

    شوبز شخصیات نے رائلٹی کی ادائیگی کیلئے آواز اٹھا دی

    پاکستان شوبز کے فنکار بھی ٹیلی ویژن پر ڈراما کی دوبارہ نشریات پر فنکاروں کو معاوضہ دینے سے متعلق آواز اٹھانے والی نائلہ جعفری کی حمایت میں بول پڑے-

    باغی ٹی وی : اداکاروں کا یہ پیغام ایسے وقت میں سامنے آیا جب نامور اداکارہ نائلہ جعفری نے اسپتال سے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں انھوں نے یہ اپیل کی تھی کہ انھیں ان کے ڈراما میں سے معاوضہ بطور حق ادا کیا جائے تاکہ وہ خود کو لاحق کینسر کے مرض کا علاج کرواسکیں۔

    اداکارہ کا کہنا تھا کہ جب میں نے پی ٹی وی جوائن کیا تو ہمیں دوبارہ نشر کیے جانے والے شوز کی رائلٹی ملا کرتی تھی، اگرچہ یہ پیسے بہت کم ہوتے تھے لیکن اس کے باوجود ہمیں خوشی ہوتی تھی۔

    ان کی ویڈیو منظر عامر پر آنے کے بعد سندھ کے وزیر ثقافت سردار علی شاہ نے نائلہ جعفری کا علاج سندھ حکومت کے خرچے پر کروانے کا اعلان کیا تھا۔

    بعد ازاں سینیٹر فیصل جاوید خان کی جانب سے بھی شوبز انڈسٹری کے لیے قانون سازی کرنے کا اعلان کیا گیا-

    فیصل جاوید خان نے رواں ماہ 12 اپریل کو ٹوئٹر پر اپنی دو سلسلہ وار ٹوئٹس میں بتایا تھا کہ وہ پاکستان میں ڈراما و فلم پروڈیوسرز کی جانب سے فنکاروں کو کم معاوضہ یا ڈراموں یا فلموں کے دوبارہ نشر کیے جانے پر انہیں دوبارہ معاوضہ نہ دیے جانے کے مسائل کو حل کرنے کے لیے قانون سازی پر کام کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس سنگین مسئلے کو حل کرنے کے لیے قانون سازی کرنے میں مصروف ہیں اور وہ متعلقہ معاملے پر اسٹیک ہولڈرز سے بھی رابطے میں ہیں جلد ہی وہ فنکاروں کو ان کے حقوق دلانے کا قانون سامنے لائیں گے، جس سے فنکاروں کا دیرینہ مسئلہ حل ہوجائے گا اور وہ بہتر معاوضہ حاصل کریں گے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ چند سال سے مختلف شوبز شخصیات پرانے ڈراموں یا فلموں کو دوبارہ نشر یا ریلیز کرنے پر فنکاروں کو بھی دوبارہ معاوضہ دینے کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں جن میں میکال ذوالفقار ، یاسر حسین اور نائلہ جعفری سر فہرست ہیں-

    تاہم اور اب عمران عباس اور منال خان سمیت دیگر شوبز شخصیات کی جانب سے رائلٹی کی ادائیگی کیلئے آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں

    فوٹوز اینڈ ویڈیوز شیئرنگ ایپ انسٹاگرام اکاؤنٹس پر پاکستانی فلم اور ڈرامہ انڈسٹری کے فنکاروں نے سادہ لیکن پُرزور انداز میں ایک پیغام کے ذریعے نائلہ کی آواز سے آواز ملائی۔

    انھوں نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں ایک نوٹ صرف #GiveRoyaltiesToArtists کے ساتھ شیئر کرتے ہوئے پروڈکشن ہاؤسز اور ٹی وی چینلز سے رائلٹی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    جن میں احمد علی بٹ ، مہوش حیات ،ماہرہ خان ، ہمایوں سعید ، اقراعزیز ، یمنیٰ زیدی ، زاہد احمد، عائشہ عمر، مایا علی ، یاسر نواز، فیصل قریشی م کبریٰ خان، اعجاز اسلم ،جنید خان ،صبا فیصل ، ثروت گیلانی، رمشا خان، ارمینہ خان،سمی راحیل ، حاجرہ یامین ،سمیع خان ، شہزاد شیخ ،مومل شیخ ، مشال خان،صحیفہ جبار ، عائزہ سموں ،جگن کاظم ، عتیقہ اوڈھو ،نازش جہانگیر ، محسن عباس حیدر، صنم جنگ، زرمش خان،حبا بخاری ، منشا پاشا ،اشنا شاہ اور عثمان خالد بٹ سمیت دیگر شامل ہیں-

    کینسر کا شکار نائلہ جعفری کی وائرل ویڈٰیو پر شوبز فنکاروں کا رد عمل

    سندھ حکومت کا کینسر کا شکار نائلہ جعفری کی مالی معاونت کا اعلان

    شوبز شخصیات کے معاوضوں پر قانون سازی کے اعلان کے بعد فنکار فیصل جاوید مشکور

    دوبارہ نشریات پرفنکاروں کومعاوضہ دینےکامعاملہ :عمران عباس اورمنال خان بھی نائلہ جعفری کےساتھ کھڑے ہوگئے

  • لاہور میں کورونا کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ تمام بڑے اسپتالوں کے آئی سی یو وارڈز مریضوں سے بھر گئے

    لاہور میں کورونا کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ تمام بڑے اسپتالوں کے آئی سی یو وارڈز مریضوں سے بھر گئے

    لاہور میں کورونا کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی میو اسپتال، جناح اسپتال، کوٹ خواجہ سعید اسپتال اور نواز شریف اسپتال کے تمام آئی سی یو وارڈز 100 فیصد بھر گئے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق لاہور میں کورونا کے 250 مریض وینٹی لیٹرز پر اور 700 کے قریب ہائی آکسیجن وارڈز میں زیر علاج ہیں۔

    ایک رپورٹ کے مطابق لاہور کے اسپتالوں کے آئی سی یو وارڈز میں مریضوں کا تناسب 89 فیصد، ہائی آکسیجن والے یونٹس میں 94 فیصد اور کم آکسیجن والے یونٹس میں 45 فیصد ہے۔

    کورونا کیسز بڑھنے کے باعث لاہور میں ایک ہفتے کے دوران 100 نئے وینٹی لیٹرز اور 300 بیڈز کا اضافہ کیا گیا۔

    کورونا کمیٹی برائے پنجاب کے چیف کوآرڈی نیٹر ڈاکٹر اسد اسلم کے مطابق صورتحال کنٹرول میں ہے کورونا کے مریض اسپتالوں میں داخلے کے لیے ریسکیو 1122 سے رابطہ کریں تاکہ کنٹرول روم کے ذریعے مریض کو اس کی حالت کے مطابق متعلقہ اسپتال منتقل کر دیا جائے۔

    واضح رہے کہ پاکستان میں کورونا کی تیسری لہر جاری ہے، کرونا مریضوں اور اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کورونا سے اموات کا ریکارڈ آج پھر ٹوٹ گیا۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 137 افراد انتقال کر گئے یہ جون 2020 کے بعد ایک دن میں اموات کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ روز کورونا کے 68 ہزار 2 ٹیسٹ کئے گئے5 ہزار 445 نئے کیس سامنے آ گئے۔ ملک بھر میں مثبت کیسز کی شرح تقریبا 8.00 فی صد رہی۔

    پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 16 ہزار 243 تک پہنچ گئی جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 7 لاکھ 61 ہزار879 ہو چکی ہے۔

  • بالی ووڈ بلبلے کی مانند ہے   پراچی ڈیسائی

    بالی ووڈ بلبلے کی مانند ہے پراچی ڈیسائی

    بالی وڈ اداکارہ پراچی ڈیسائی نے انکشاف کیا ہےکہ ایک مرتبہ انہیں بولڈ مناظر شوٹ کرانے سے انکار کرنے پر فلم سے نکال دیا گیا تھا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے طابق ایک انٹرویو میں پراچی ڈیسائی نے کہا کہ مجھے کچھ مناظر عکس بند کرانے سے انکار پر فلم سے نکال دیا گیا یہ ہے فلم انڈسٹری، جس میں فلم میکر اتنے بھی اچھے نہیں کہ وہ کسی کو فلم سے نکالنے کی وجہ ہی بتادیں۔

    پراچی ڈیسائی کا کہنا تھا کہ جب وہ انڈسٹری میں نئی آئیں تو اپنے سر کو چھپا کر رکھتی تھی انہیں سمجھ نہیں آتا تھا کہ جب لوگ کہتے تھے کہ یہ کافی دلکش ایہ اُتنی بے باک نہیں جتنی ہم چاہتے ہیں اسے مزید بے باک گانے فلمانے کی ضرورت ہے یہ میں آج تک سمجھ نہیں پائی کہ مجھے یہ بولڈ مناظر اور بولڈ گانے کس کے لیے شوٹ کروانے تھے؟-

    پراچی ڈیسائی نے بالی ووڈ کو بلبلے سے تعبیر کیا اور کہا کہ یہاں آپ کو ویسا ہی بننا پڑتا ہے جیسے کچھ فلمی صنعت سے وابستہ کاروباری لوگ چاہتے ہیں ہم اداکاراؤں کو مرد کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ آپ بہت ہاٹ نہیں، آپ کو مزید ہاٹ ہونے کی ضرورت ہے۔

    اداکارہ کا کہنا تھا کہ ایک مرتبہ فلم کی شوٹنگ شروع ہونے سے 6 روز قبل انہیں پتہ چلا کہ وہ فلم میں کام نہیں کررہیں جس کی وجہ یہی تھی کہ میں نے بولڈ مناظر سے انکار کیا تھا۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ اب بھی کچھ تبدیل نہیں ہوا ہے اور چند ماہ قبل بھی میرے ساتھ ایسا ہی واقعہ پیش آیا ہے۔

  • دوبارہ نشریات پرفنکاروں کومعاوضہ دینےکامعاملہ :عمران عباس اورمنال خان بھی نائلہ جعفری کےساتھ کھڑے ہوگئے

    دوبارہ نشریات پرفنکاروں کومعاوضہ دینےکامعاملہ :عمران عباس اورمنال خان بھی نائلہ جعفری کےساتھ کھڑے ہوگئے

    پاکستان شوبز کے عالمی شہرت یافتہ اداکار و ماڈل عمران عباس اور اداکارہ و ماڈل منال خان بھی ٹیلی ویژن پر ڈراما کی دوبارہ نشریات پر فنکاروں کو معاوضہ دینے سے متعلق آواز اٹھانے والی نائلہ جعفری کی حمایت میں سامنے آگئے-

    باغی ٹی وی :فوٹوز اینڈ ویڈیوز شیئرنگ ایپ انسٹاگرام اکاؤنٹس پر عمران عباس اور منال خآن نے سادہ لیکن پُرزور انداز میں ایک پیغام کے ذریعے نائلہ کی آواز سے آواز ملائی۔

    انھوں نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں ایک نوٹ صرف #GiveRoyaltiesToArtists کے ساتھ شیئر کیا۔ اور لکھا کہ اب ٹائم آگیا ہے اس مسئلے پر آواز اٹھانے کا-

    خیال رہے کہ اداکاروں کا یہ پیغام ایسے وقت میں سامنے آیا جب نامور اداکارہ نائلہ جعفری نے اسپتال سے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں انھوں نے یہ اپیل کی تھی کہ انھیں ان کے ڈراما میں سے معاوضہ بطور حق ادا کیا جائے تاکہ وہ خود کو لاحق کینسر کے مرض کا علاج کرواسکیں۔

    ان کی ویڈیو منظر عامر پر آنے کے بعد سندھ کے وزیر ثقافت سردار علی شاہ نے نائلہ جعفری کا علاج سندھ حکومت کے خرچے پر کروانے کا اعلان کیا تھا۔

    بعد زازاں سینیٹر فیصل جاوید خان کی جانب سے بھی شوبز انڈسٹری کے لیے قانون سازی کرنے کا اعلان کیا گیا-

    فیصل جاوید خان نے رواں ماہ 12 اپریل کو ٹوئٹر پر اپنی دو سلسلہ وار ٹوئٹس میں بتایا تھا کہ وہ پاکستان میں ڈراما و فلم پروڈیوسرز کی جانب سے فنکاروں کو کم معاوضہ یا ڈراموں یا فلموں کے دوبارہ نشر کیے جانے پر انہیں دوبارہ معاوضہ نہ دیے جانے کے مسائل کو حل کرنے کے لیے قانون سازی پر کام کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس سنگین مسئلے کو حل کرنے کے لیے قانون سازی کرنے میں مصروف ہیں اور وہ متعلقہ معاملے پر اسٹیک ہولڈرز سے بھی رابطے میں ہیں جلد ہی وہ فنکاروں کو ان کے حقوق دلانے کا قانون سامنے لائیں گے، جس سے فنکاروں کا دیرینہ مسئلہ حل ہوجائے گا اور وہ بہتر معاوضہ حاصل کریں گے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ چند سال سے مختلف شوبز شخصیات پرانے ڈراموں یا فلموں کو دوبارہ نشر یا ریلیز کرنے پر فنکاروں کو بھی دوبارہ معاوضہ دینے کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں جن میں میکال ذوالفقار ، یاسر حسین اور نائلہ جعفری سر فہرست ہیں اور اب ان میں عمران عباس اور منال خان بھی شامل ہو گئے ہیں-

    کینسر کا شکار نائلہ جعفری کی وائرل ویڈٰیو پر شوبز فنکاروں کا رد عمل

    سندھ حکومت کا کینسر کا شکار نائلہ جعفری کی مالی معاونت کا اعلان

    شوبز شخصیات کے معاوضوں پر قانون سازی کے اعلان کے بعد فنکار فیصل جاوید مشکور

  • بالی وڈ موسیقار شراوان راٹھوڑ کورونا وائرس میں مبتلا ،حالت تشویشناک

    بالی وڈ موسیقار شراوان راٹھوڑ کورونا وائرس میں مبتلا ،حالت تشویشناک

    بالی ووڈ کے میوزک ڈائریکٹر و کمپوزر جوڑی میں شامل رکن شراوان راٹھوڑ کورونا وائرس میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شرون راٹھور میں مہلک وائرس کی تشخیص ہوئی جس کے بعد ان کی حالت تشیویشناک ہے اور وہ وینٹی لیٹر پر ہیں۔

    موسیقار کے بیٹے سنجیو کے مطابق والد کی حالت تشویشناک ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ انھیں دیگر بیماریاں بھی لاحق ہیں۔

    سنجیو نے بتایا کہ انھیں کورونا وائرس کی وبا لاحق ہوتے ہی ممبئی کے ایس ایل راحیجا اسپتال میں داخل کروادیا گیا تھا۔

    یاد رہے کہ شراون راٹھوڑ مشہور میوزک کمپوزر جوڑی ندیم شراون کے رکن ہیں۔ سنجیو نے بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرستاروں سے انکی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی درخواست کی۔

    شرون راٹھور نے متعدد کامیاب فلموں کے گانوں کی موسیقی ترتیب دی اور ان کے کئی گیت 90 کی دہائی میں ہٹ ہوئے ہیں انہوں نے ’عاشقی‘، ’ساجن‘، ’دل ہے کہ مانتا نہیں‘، ’سڑک‘ اور ’دیوانہ‘ سمیت متعدد فلموں میں موسیقاری کے فرائض سرانجام دیئے ہیں۔

  • فیس بک پوڈ کاسٹ پر مشتمل نیا فیچر متعارف کرائے گی

    فیس بک پوڈ کاسٹ پر مشتمل نیا فیچر متعارف کرائے گی

    دنیا بھر میں مقبول سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک اگلے ہفتے صارفین کے لیے نئے فیچرز کی سیریز کا اعلان کرنے جا رہی ہے۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فیس بک اپنی اس سیریزکا اعلان ’سوشل آڈیو‘ کے بینر تلے کرے گا اس حوالے سے فیس بک نے ایک سال قبل ’روم‘ کے نام سے ویڈیو کانفرنسنگ پراڈکٹ متعارف کرائی تھی، جس کا آڈیو ورژن بھی نئی سیریز میں شامل ہے۔

    رپورٹ کے مطابق صارفین کلب ہاؤس جیسی پراڈکٹ سے مختلف لوگوں پر مشتمل گروپ ایک ’ ورچوئل اسٹیج‘ بنا کر اپنے اسپیکر کے ذریعے میوزک سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔

    فیس بک ایک ایسی پراڈکٹ بھی متعارف کروانے جا رہی ہےجس کے ذریعے استعمال کنندہ مختصر آڈیو پیغام ریکارڈ کرکے اسے اپنی نیوز فیڈ پر پوسٹ کرسکیں گے جبکہ پوڈ کاسٹ ڈسکوری پراڈکٹ کو اسپاٹی فائے سے بھی منسلک کرسکیں گے۔

    رواں ماہ ہی فیس بک نے ایک نئی ایپلی کیشن ’ ہاٹ لائن‘ آزمائش کے لیے صارفین کے سامنے پیش کی تھی، جس میں تخلیق کار گفتگو کرنے کے ساتھ ساتھ حاظرین سے براہ راست سوالات بھی لے سکتا ہے۔

    سوشل آڈیو کیا ہے-
    ’سوشل آڈیو‘ سیریز کے ان نت نئے فیچرز میں آڈیو چیٹ کی ایپلی کیشنز ہیں جو خصوصی طور پر پوڈکاسٹ کے شائق صارفین کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل فیس بک نے گانوں کے شوقین افراد کے لیے نئی ایپ لانچ کی تھی فیس بک نیو پراڈکٹ ایکسپیریمنٹیشن (این پی ای) کی ٹیم کی جانب سے ایک جانب سے ’بارز‘ نامی ایپلی کیشن کو امریکا میں آزمائشی طور پر پیش کیا گیا –

    فیس بک کی ایپ بارز کے تحت ایسے لوگ جو ریپنگ کرنے کے خواہش مند ہیں، ان کی کافی مدد ہو سکے گی جبکہ یہ صارفین کو سینکڑوں بیٹس بھی فراہم کرے گی جس پر ریپر 60 سیکنڈز کی ویڈیو ریکارڈ کرسکیں گے۔

    اس کے علاوہ بارز ایپلی کیشن میں ریپنگ لیرکس لکھنے پر ایپ دھنیں، آڈیو اور ویڈیو فلٹرز تجویز کرے گی نئی ایپ میں ٹک ٹاک کی طرح ہی فیڈ ہوگی جس پر دوسروں کی جانب سے پوسٹ کی جانے والی ویڈیوز نظر آئیں گی اور اگر آپ کو کسی کی ویڈیو پسند آئے گی تو اسے لائیک کرنے کے لیے فائر (آئکن) پر کلک کرنے سے وہ ویڈیو لائیک ہو جائے گی۔

    علاوہ ازیں فیس بک نے نیوز فیڈ کو مزید کنٹرول کرنے والے نئے فیچرز متعارف کرائے فیس بک کے اس فیچرز کے ذریعے صارف اپنی فیڈز کی الگورتھم رینکنگ کو بند کرسکتے ہیں اور نیوز فیڈ پر اپنی پسند کا مواد دیکھ سکتے ہیں۔ نئے فیچرز کے ذریعے صارف کمنٹ آڈینس کو کنٹرول کرسکتا ہے لیکن اس فیچر کے ذریعے صرف اسی آڈینس کو کنٹرول کیا جاسکے گا جنہیں مینو میں سے منتخب کیا گیا ہو۔فیچرز کے ذریعے نیوز فیڈ کو ترتیب دینے اور براؤز کرنے میں آسانی ہو گی ساتھ ہی صارف نیوز فیڈ پر اپنی مرضی کا مواد دیکھ سکتا ہے۔اس فیچر کے استعمال سے سوشل میڈیا پر تنقید سے بچا جا سکتا ہے تاہم مذکورہ فیچر فوری طور پر بڑی کمپنیز کے پیجز، مواد تیار کرنے والے اداروں، معروف شخصیات اور برانڈز کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔

    مذکورہ فیچر کے تحت شخصیات، اداروں اور برانڈز کو یہ سہولت دی گئی ہے کہ وہ چاہیں تو اپنی پوسٹس پر کمنٹس کا سیکشن بند کردیں یا پھر محدود کردیں۔

    یعنی پوسٹ کرنے کے بعد انہیں کمنٹس کو کنٹرول کرنے کے لیے اضافی آپشن دیا گیا ہے اور نئے فیچر کے تحت فیس بک شخصیات، اداروں اور برانڈز سے پوچھے گا کہ وہ چاہیں تو اپنے خاص دوستوں یا پیجز کو ہی کمنٹس کرنے کی اجازت دیں، چاہیں تو کمنٹس کا سیکشن ہی بند کریں۔

    فیس بک نے ’ فیورٹس‘ نامی فیچر متعارف کروایا تھا جس کے ذریعے صارفین اپنے دوستوں اور منتخب پیجز کے مواد کو ترجیحی بنیاد پر دیکھ سکتے ہیں۔

    فیورٹس ٹول کے ذریعے کوئی بھی صارف 30 دوستوں اور پیجز کو منتخب کرسکتا ہے جس کے بعد انہی دوستوں یا صفحات کی پوسٹس نیوز فیڈ پر سب سے پہلے نظرآئیں گی۔

    فیس بک نے گانوں کے شوقین افراد کے لیے نئی ایپ لانچ کردی

    فیس بک کاعوامی ویڈیوزکےاعداد و شماراورکاپی رائٹس جیسےمسائل کیلئےآرٹیفیشل…

    فیس بک کا سیاسی و سماجی گروپوں سے متعلق اہم اقدام

    فیس بک نے 3 ماہ کے دوران ایک ارب 3 کروڑ جعلی اکاؤنٹس ڈیلیٹ کردیئے

    فیس بک پلیٹ فارم اور انسٹاگرام پر بطورعطیہ جمع کی گئی رقم پانچ ارب ڈالرتک جا پہنچی

    کورونا ویکسین سے متعلق گمراہ کن معلومات :فیس بک نے وینزویلا کے صدر کا آفیشل پیج…

    پاکستان میں دفتر کھولنے کا کوئی ارادہ نہیں ترجمان فیس بک

    فیس بک نے نیوز فیڈ سے متعلق نئے فیچرز متعارف کرا دیئے

    فیس بک کے بانی سمیت 50 کروڑ صارفین کی تفصیلات آن لائن لیک

  • آمنہ الیاس نے کراچی کے ایک اہم مسئلے کو اجاگر کر کے مداحوں کے دل جیت لئے

    آمنہ الیاس نے کراچی کے ایک اہم مسئلے کو اجاگر کر کے مداحوں کے دل جیت لئے

    پاکستان شوبز کی اداکارہ و ماڈل آمنہ الیاس نے کا کہنا ہے کہ پان تھوکنے کے مسئلے کو کراچی میں معمولی سمجھا گیا۔

    باغی ٹی وی : اداکارہ و ماڈل آمنہ الیاس سماجی و معاشرتی مسائل سے متعلق ویڈیوز اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر پوسٹ کرتی رہتی ہیں جنہیں مداحوں کی جانب سے بھی خوب سراہاجا تا ہے معاشرتی و سماجی مسائل پر مزاحیہ اور منفرد طریقے میں آواز اٹھانے پر صارفین اداکارہ کی خوب حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں تاہم آمنہ الیاس نے ایک بار پھر کراچی کے مسئلے کو اجا گر کر کے مداحوں کی توجہ سمیٹ لیہے-

    فوٹو اینڈ ویڈیو شئیرنگ ایپلیکیشن انسٹاگرام پر آمنہ الیاس نے مزاحیہ انداز میں اپنی ویڈیو کے ذریعے سڑکوں پر پان تھوکنے والوں کی طرف اشارہ کیا ہے-ویڈیو میں آمنہ الیاس ایک ایسے آدمی سے راستہ پوچھتی ہیں جو پان کھا رہا ہے اور وہ آدمی پراستہ بتانے کے ساتھ ساتھ بار بار سڑک پر تھوک بھی رہا ہے-

    ویڈیو شئیر کرتے ہوئے اداکارہ نے لکھا کہ یہ رنگ کرنے والے صرف ’لال‘ رنگ کا انتخاب کرتے ہیں پان تھوکنے کے مسئلے کو کراچی میں معمولی سمجھا گیا۔

    واضح رہے کہ آمنہ الیاس عالمگیر وبا کورونا کا بھی شکار ہو چکی ہیں جس کی اطلاع انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پر دی تھی-

    خیال رہے کہ اس سے قبل حاجرہ یامین نے بھی ایک ویڈیو میں کراچی کے مسائل کی وجوہات اور ان کا حل بتایا ہے اور انہوں نے عوام کو اپنے بنیادی حقوق کے لئے آواز بلند کرنے کیا مشورہ دیا تھا ان کا کہنا تھا کہ ناانصافی کے خلاف چپ رہنے کا جو کلچر ہے نا یہ ہمارا طرزِ زندگی بن گیا ہے۔

    انہوں نے کہا تھا کہڈئیر کراچی، مجھے نہیں پتا تم نے چپ رہنا کب سیکھا، تب جب بچپن میں تمہیں سوال کرنے سے روکا گیا؟ یا شاید تب جب تمہیں احساس ہوا کہ دیواروں پر پان کی پیکوں کے بیچ معصوم خون بھی ہے یا پھر شاید تب جب تمہارے سر پر کسی نے پستول رکھ دی اور تمہیں جان اور مال کے بیچ میں سے کسی ایک کو چننا پڑا۔

    ناانصافی کے خلاف چپ رہنے کا کلچر ہمارا طرزِ زندگی بن گیا ہے حاجرہ یامین