Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • اختلافات کےباوجود رواداری کی سیاست کو فروغ دینا چاہیے،شازیہ مری

    اختلافات کےباوجود رواداری کی سیاست کو فروغ دینا چاہیے،شازیہ مری

    رہنما پیپلزپارٹی شازیہ مری نے کہا کہ عمران خان نے تو کبھی اپنا خرچہ نہیں اٹھایا لوگوں کے اخراجات کا اسے کیسے پتا ہوگا؟-

    باغی ٹی وی: رہنما پیپلزپارٹی شازیہ مری نے کہا کہ عمران نیازی تاریخ کا سب سے بڑا جھوٹا او رمکار شخص ہے،عمران نیازی نے پے درپے جھوٹ بولے،عمران خان امن اور یکجہتی کی فضا کو خراب کرنا چاہتے ہیں،ملک میں نفرتیں پھیلانے کا سلسلہ پہلی دفعہ شروع نہیں ہوا،پہلے بھی اس طرح ہوتے رہے ہیں-

    عمران خان نے اعتراف کیا حکومت چلانے کیلئے اداروں اور ایجنسیوں کی مدد لی،مریم اورنگزیب

    رہنما پیپلزپارٹی شازیہ مری نے کہا کہ پاکستان میں کبھی ،کبھی رنگ اور کبھی نسل کی بنیاد پر جھگڑے کرائے گئے،عمران خان بھی اسی طرح کے فساد پیدا کر رہا ہے،انہوں نے کہا کہ عمران خان نے تو کبھی اپنا خرچہ نہیں اٹھایا لوگوں کے اخراجات کا اسے کیسے پتا ہوگا؟

    شازیہ مری نے کہا کہ عمران خان ساری عمر دوستوں کےپیسے پر پلا ہے،اختلافات کےباوجود رواداری کی سیاست کو فروغ دینا چاہیے ،عمران خان کا خاندان یہاں رہتا نہیں ہے اس کے بچے ملک سے باہر ہیں،عمران خان اخلاقیات کا درس دیتا ہے، خود اخلاقیات پر عمل نہیں کرتا-

  • ق لیگ اور پی ٹی آئی بتائیں ان کے مینڈیٹ کیسے چوری ہوئے؟ قمر زمان کائرہ

    ق لیگ اور پی ٹی آئی بتائیں ان کے مینڈیٹ کیسے چوری ہوئے؟ قمر زمان کائرہ

    لاہور: پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ سیاسی معاملات عدالتوں میں جانے سے لامتناہی کیسز کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔

    باغی ٹی وی : پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ق لیگ کے ارکان نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر ووٹ کاسٹ کیا ہے،کہا گیا عمران خان اور پی ٹی آئی کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا،کہا گیا ہے 20،کروڑ40کروڑ پیسہ چلا ہے-

    قمر زمان کائرہ نے کہا کہ عدالت نے ٹرسٹی وزیراعلیٰ کہا کہ جس کی آئین میں گنجائش نہیں ہے،چودھری شجاعت نے اپنی جماعت کو عمران خان سے اتحاد کرنے سے منع کردیا،پرویز الہٰی نے پچھلے الیکشن میں انتہائی غیر قانونی اور غیر آئینی کام کیا-

    انہوں نے کہا کہ تکنیکی بنیاد پر ق لیگ کے ووٹ مسترد ہوئے اور پرویز الہٰی کو شکست ہوئی،بہر حال عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہیں،ق لیگ اور پی ٹی آئی بتائیں ان کے مینڈیٹ کیسے چوری ہوئے،مینڈیٹ پارلیمانی پارٹی کا نہیں پارٹی سربراہ کا ہوتا ہے،ق لیگ کے ارکان نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر ووٹ ڈالا-

    انہوں نے کہا کہ حکمران اتحاد نے فل کورٹ ریفرنس سننے کا مطالبہ کیا ہے پارلیمان اور سیاستدانوں کا باقی اداروں سے کم احترام نہیں ہے پرویز الہٰی تھے جنہوں نے ہم سے اتحاد کر کے وزیر اعلیٰ کا امیدوار بننے پر آمادگی ظاہر کی اور ہم سے ڈیل کرنے کے بعد صبح تحریک انصاف کے ساتھ شامل ہو گئے۔

    انہوں نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ق لیگ آپ کے ساتھ اتحاد کرے تو اچھا اور ہمارے ساتھ کرے تو غلط۔ مسلم لیگ ق مرکز میں پہلے ہی اتحادی ہے اور تمام جماعتوں نے اپنی اپنی جماعتوں کے ساتھ رہ کر ووٹ دیا۔

    پیپلز پارٹی رہنما نے کہا کہ تکنیکی بنیاد پر ق لیگ کے ووٹ مسترد ہوئے اور پرویز الہٰی کو شکست ہوئی۔ عمران خان کو کچھ تو شرم و احساس کرنا چاہیے۔ پارلیمان ماں ہے اور سیاست سے چیزیں جنم لیتی ہیں۔ سیاسی معاملات عدالتوں میں جانے سے لامتناہی کیسز کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔

  • عمران خان نے اعتراف کیا حکومت چلانے کیلئے اداروں اور ایجنسیوں کی مدد لی،مریم اورنگزیب

    عمران خان نے اعتراف کیا حکومت چلانے کیلئے اداروں اور ایجنسیوں کی مدد لی،مریم اورنگزیب

    اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ اداروں کو گالی اور دھمکی دینے والا اداروں کا ٹھیکے دار نہ بنے کسی کو بھی آئین اور قانون کے ساتھ کھلواڑ نہیں کرنے دیں گے۔

    باغی ٹی وی : وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ 100 گنڈے اور 100 چھتر اب عمران صاحب کا مقدر ہیں،عمران خان کو اقتدار میں واپسی کے لیے کھیل کھیلنے نہیں دیں گے عمران خان نے اعتراف کیا حکومت چلانے کے لیے اداروں اور ایجنسیوں کی مدد لی دھونس، دھمکی، گالی سے انصاف کا قتل نہیں کرنے دیں گے۔

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ نوازشریف اور مسلم لیگ ن کا بیانیہ آئین کا بیانیہ ہے اور یہی رہے گا جبکہ فوج اور عدلیہ کو سیاست میں گھسیٹنا بند کیا جائے عمران خان کا نشانہ ادارے ہیں اور ان کی قیادت کو عہدوں سے اتروانا ہے۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ منہ پہ خون لگنے کی بات کر کے اب پاؤں نہ پکڑیں عمران خان کا بیرون ملک سازش کا بیانیہ دفن ہو چکا ہے اور اب اسٹیبلشمنٹ اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ کا بیانیہ شروع ہو گیا ہے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ کا فیصلہ دے۔ عمران دھونس، دھمکی کے ذریعے فارن فنڈنگ کیس میں این آر او چاہتے ہیں اور وزیر اعلیٰ ٰپنجاب کے انتخاب سے متعلق مقدمے کی سماعت فل کورٹ کرے یہ لاڈلے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے،ہم سب لاڈلے ہیں-

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فیاض الحسن چوہان نے کہا تھا کہ سوشل میڈیا اور پریس کانفرنس کے ذریعے دھمکیاں دی جا رہی ہیں، طلال چوہدری جیسے بدنام زمانہ اداکار ججز کے خلاف بولنے کے لیے لانچ کر دیے گئے ہیں۔

    ن لیگ اور ش لیگ کے لیے موجودہ صورتحال 100 پیاز اور 100 چھتر کھانےکے مترادف ہے اب تو ن لیگ بھی فوری الیکشن کا مطالبہ کرنے کی دھمکیاں دینےلگ گئی ہے جبکہ دوسری جانب بیگم صفدر اعوان کی گالم گلوچ بریگیڈ میدان عمل میں نکل آئی ہے۔

    جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے تھا سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ 100 پیاز اور 100 چھتر کا محاورہ جیسا ن لیگ پر صادق آتا ہے اس کی مثال ملنا مشکل ہے، ن لیگ نے اسٹیبلشمنٹ کی کوکھ سے جنم لیا ہے، آپس میں طے کیا ایک پرو اسٹیبلشمنٹ سیاست کرے گا اور دوسرا اینٹی اسٹیبلشمنٹ منجن بیچے گا ایک کا منجن ناکام ہو تو دوسرا آگے کر دو، یہی فارمولا اگلی نسل میں ٹرانسفر کیا جا رہا ہے، اب ن لیگ کو لگا عمران خان کے خلاف اسٹیبلشمنٹ سے نتھی ہو کر بڑی غلطی ہو گئی، مریم نواز اب اینٹی اسٹیبلشمنٹ چورن بیچیں۔

    فواد چوہدری نے کہا تھا کہ عدلیہ کے خلاف بیانات شروع ہو گئے ہیں، فوج کے خلاف اگلے چند دنوں میں شروع ہو جائیں گے، اس اسکیم میں خامی یہ ہے کہ 1990 والے لوگ اب نہیں اور مقابلہ بھی عمران خان سے ہے ن لیگ کی حکمت عملی اسے سیاست سے مکمل باہر کر دے گی لیکن اداروں کو نقصان ہو گا، اپنی حدود میں رہتے تو کچھ نہیں تھا لیکن بہرحال اب اداروں کو ن لیگ نے ٹارگٹ کرنا ہے۔

  • عمران نیازی یاداشت کی کمی کا شکار ہو گئے ہیں،وزیراعظم

    عمران نیازی یاداشت کی کمی کا شکار ہو گئے ہیں،وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان نے اقتدار کے ہوس میں اپنا توازن کھو دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ عمران نیازی نے ملک کے عالمی وقار اور دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچایا اور عمران خان نے اقتدار کے ہوس میں اپنا توازن کھو دیا ہے۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ عمران نیازی یاداشت کی کمی کا شکار ہو گئے ہیں اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت میں کرپشن میں اضافہ ہوا عمران خان کے دور میں کرپشن کے علاوہ ٹرانسفر اور پوسٹنگ بھی فروخت ہوتی رہی جبکہ عمران خان کے دور میں معیشت تباہ ہوئی اور آج اس کی قیمت عوام ادا کر رہے ہیں۔

    قبل ازیں جمیعت علما اسلام (جے یو آئی) ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قومی امور میں نرم یا سخت مداخلت ہرگز قبول نہیں کریں گےڈیرہ اسماعیل خان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کسی سے بلیک میل ہوں گے، نہ دباؤ میں آئیں گے اور آئین کے مطابق تمام فیصلے پارلیمنٹ میں طے کیے جائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ جب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت آئی پارلیمانی اور انتظامی امور میں مداخلت شروع ہو گئی۔ یہ تماشہ بند ہونا چاہیے کیونکہ اسی تجاوز سے بحران پیدا ہوتے ہیں اور پھر جب ایسی صورت حال ہو تو بحران پیدا کرنے والے ادارے خود ہی علاج کے لیے آجاتے ہیں ادارے اپنے دائرہ اختیار کی حدود سے تجاوز نہ کریں اور اگر ملک کی سلامتی عزیز ہے تو ادارے اپنی حدود میں رہیں۔ قومی امور میں نرم یا سخت مداخلت کو ہر گز برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ جس وقت عمران خان کی حکومت تھی تو عدالتیں اور مقتدرہ حلقوں نے اُس کو مکمل اور غیر مشروط حمایت دی۔ عمران خان کی کوئی سیاسی حیثیت نہیں ہے اور حکومت آئین و قانون کے مطابق پی ٹی آئی کے دور حکومت کی کرپشن کی تحقیقات کرے۔

  • پاکستان ہاکی ٹیم کامن ویلتھ گیمز برمنگھم میں شرکت کیلئے روانہ

    پاکستان ہاکی ٹیم کامن ویلتھ گیمز برمنگھم میں شرکت کیلئے روانہ

    اسلام آباد : پاکستان ہاکی ٹیم کا دستہ کامن ویلتھ گیمز برمنگھم میں شرکت کیلئے اسلام آباد ایئرپورٹ سے صبح 4:05 بجے اتحاد ایئر لائن فلائٹ نمبر 232 کے زریعے روانہ ہوا-

    باغی ٹی وی :قومی ہاکی ٹیم آفیشلز میں ٹیم منیجر اولمپیئن سید سمیر حسین ,ہیڈ کوچ سیگفرائیڈ ایکمین, ویڈیو انالسٹ ندیم خان لودھی, فزیو تھراپسٹ عدیل اختر شامل ہیں –

    جبکہ کھلاڑیوں میں گول کیپرز اکمل حسین, عبداللہ اشتیاق خان, ڈیفینڈر مبشر علی, عماد شکیل بٹ, ایم حماد الدین انجم, محمد عبداللہ, رضوان علی, مڈ فیلڈرز محمد عمر بھٹہ, معین شکیل, عبدالمنان,جنید منظور, غضنفر علی, اٹیکرز اعجاز احمد, رانا عبدالوحید, رومان, افراز, عبدالحنان شاہد اور احمد ندیم شامل ہیں-

    واضع رہے کامن ویلتھ گیمز جو کہ انگلینڈ کے شہر برمنگھم میں 28 جولائی تا 8 اگست جاری رہیں گے-

  • سری لنکا اور زمبابوے کے سابق کرکٹرز آسٹریلیا میں بسیں چلانے لگے

    سری لنکا اور زمبابوے کے سابق کرکٹرز آسٹریلیا میں بسیں چلانے لگے

    میلبورن: سری لنکا کے سابق کرکٹرز آسٹریلیا میں روزی روٹی کیلئے بسیں چلانے لگے۔

    باغی ٹی وی :سری لنکا کےسابق کرکٹرز سورج راندیو اور چنتھاکا جےسنگھے آسٹریلیا میں روزی روٹی کیلیے بسیں چلانے لگے، زمبابوے کے سابق کرکٹر ویڈنگٹن ماوینگا بھی میلبورن میں بس چلا رہے ہیں یہ تینوں ایک کمپنی ٹرانس ڈیو کے لیے کام کرتے ہیں-

    تینوں اپنے شوق کو بھی نہیں بھولے، وہ بس ڈرائیونگ کی ڈیوٹی انجام دینے کے بعد پریکٹس کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں، بعض اوقات لوگ انھیں پہچان کر بات چیت بھی کرتے ہیں، تینوں اپنے ملکی حالات اور محدود ذرائع آمدنی کی وجہ سے آسٹریلیا منتقل ہوئے اور یہاں پر کلب کرکٹ بھی کھیل رہے ہیں۔

    رندیو، چنئی سپر کنگز (CSK) کے آف اسپنر، جو 2011 کے ورلڈ کپ کے فائنل میں سری لنکا کے پلیئنگ الیون کا حصہ تھے، نے کھیل سے الگ ہونے کے بعد اپنی روزی روٹی کو پورا کرنے کے لیے آسٹریلیا میں بس ڈرائیور کا کام شروع کیا ہے۔ .

    36 سالہ رندیو نے 12 ٹیسٹ، 31 ون ڈے اور 7 ٹی ٹوئنٹی میں اپنے ملک کی نمائندگی کی ہے۔ اس نے ٹیسٹ میں 43 وکٹیں، ون ڈے میں 36 وکٹیں اور کھیل کے مختصر ترین فارمیٹ میں 7 وکٹیں حاصل کیں۔

    انہوں نے ٹیسٹ اور ون ڈے میں بالترتیب ایک اور پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ آئی پی ایل میں سی ایس کے کی نمائندگی کرتے ہوئے، رندیو نے یلو آرمی کے لیے 2 سیزن کھیلے جہاں انہوں نے 8 گیمز میں 6 وکٹیں حاصل کیں۔

    بس چلانے کے علاوہ، سابق کھلاڑی ڈینڈنونگ کرکٹ کلب کے لیے ضلعی سطح پر کھیلنا جاری رکھے ہوئے ہے سورج رندیو کو کرکٹ آسٹریلیا نے 2020-21 بارڈر-گواسکر سیریز سے قبل اسپن کے خلاف آسٹریلوی بلے بازوں کی مدد کے لیے نیٹ باؤلر کے طور پر بھی بلایا تھا۔

    سری لنکا کے ایک اور کھلاڑی آل راؤنڈر چنتھاکا جے سنگھے بھی آسٹریلیا میں بس چلا کر اپنا پیٹ پال رہے ہیں 42 سالہ نے اپنے ملک کے لیے پانچ ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلے تھے انہوں نے اپنے کرکٹ کیریئر کا آغاز 2009 میں ناگپور میں کھیلے گئے ٹی 20 میں بھارت کے خلاف کیا اور 2010 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں سری لنکن ٹیم کا حصہ بھی رہے-

    زمبابوے کے سابق آل راؤنڈر واڈنگٹن میوینگا، جنہوں نے 2005 میں بھارت کے خلاف ٹیسٹ ڈیبیو کیا تھا، وہ بھی روزی کمانے کے لیے آسٹریلیا میں بس چلا رہے ہیں۔ اپنے پہلے میچ میں، انہوں نے دسویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے ناٹ آؤٹ 14 رنز بنائے اور اس وقت کے کپتان سورو گنگولی کی وکٹ بھی حاصل کی۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ سب اب بھی آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ میں کرکٹ کھیلنے کے لیے پر امید ہیں۔ یہ سبھی باقاعدگی سے پریکٹس بھی کرتے ہیں اور دوبارہ کرکٹ میں موقع حاصل کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    اس وقت سری لنکا کی معیشت اور حکومت کریش کر چکی ہے اور شہری امن بحال کرنے کے لیے حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ لیکن یہ طے نہیں کیا جا سکتا کہ ان کرکٹرز نے کب ملک چھوڑ کر کسی اور ملک میں ملازمت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔

  • آئی ایم ایف کیساتھ اسٹاف لیول معاہدہ اہم سنگ میل ہے،قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک

    آئی ایم ایف کیساتھ اسٹاف لیول معاہدہ اہم سنگ میل ہے،قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک

    کراچی: اسٹیٹ بینک کے قائم مقام گورنر ڈاکٹر مرتضیٰ سید نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کیساتھ اسٹاف لیول معاہدہ اہم سنگ میل ہے-

    باغی ٹی وی : قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر مرتضیٰ سید نے ایس بی پی پوڈ کاسٹ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام آن ٹریک ہے، آئی ایم ایف کیساتھ اسٹاف لیول معاہدہ اہم سنگ میل ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کو اتنا آسان نہ لیا جائے۔


    انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) حکام تمام اقدامات سے مطمئن ہیں، اسٹاف لیول معاہدے سے بورڈ میٹنگ میں بڑی آسانی ہوتی ہے ڈاکٹر مرتضیٰ سید نے دعویٰ کیا کہ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ سے پاکستان کو پیسے مل جائیں گے۔

    دوسری جانب برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈاکٹر مرتضیٰ سید نےای میل پر جواب میں بتایا کہ آئی ایم ایف کےساتھ جاری پروگرام کےسبب ہماری اگلے 12 مہینوں کی مالی سال 23-2022 کے لیے 33.5 ارب ڈالر کی بیرونی فنانسنگ کی ضرورت پوری ہو چکی ہےجبکہ مالی صورت حال کے حوالے سے مارکیٹ کے غیر ضروری خدشات چند ہفتوں میں ختم ہو جائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ حالیہ اسٹاف لیول معاہدے کا اگلا جائزہ اجلاس پاکستان کو کمزور ممالک کی فہرست سے الگ کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا جبکہ زیادہ تر ممالک کو آئی ایم ایف کی حمایت حاصل نہیں۔

    انہوں نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کے قرضوں کی صورتحال جو مارکیٹوں کےلیے اہم نقطہ ہے،اس کی صورتحال قرضوں والے دیگر کمزور ممالک کے مقابلے میں بہت بہتر ہے،پاکستان پر بیرونی قرضے کم ہیں،پریزینٹیشن میں پاکستان کی صورتحال کا موازنہ حال ہی میں دیوالیہ ہونے والے سری لنکا سےکرتے ہوئےان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی بیرونی دباؤ آیا پاکستان نےزری پالیسی کو سخت کردیا اور روپے کی قدر کم کرنے کی اجازت دی۔

    ہمیں امید ہے کہ آنے والے چند ہفتوں میں حقیقت ظاہر ہو جائے گی اور پاکستان کے حوالے سے غیر ضروری خدشات ختم ہو جائیں گے۔ پاکستان کے مقابلے میں سری لنکا کی مالی صورت حال زیادہ خراب ہے۔

  • پاناما پیپرز کو لیک کرنے والا وسل بلوئر منظر عام پر آ گیا

    پاناما پیپرز کو لیک کرنے والا وسل بلوئر منظر عام پر آ گیا

    برلن: دنیا بھر میں تہلکہ مچانے والے پاناما پیپرز کو لیک کرنے والا وسل بلوئر منظر عام پر آ گیا۔

    باغی ٹی وی : "پاناما پیپرز” کے پیچھے جس نے دنیا بھر میں ٹیکس چوری اور دھوکہ دہی کا انکشاف کیا ہے، نے جرمنی کے ڈیر اسپیگل کو ہفتے کے روز شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا کہ اسے روسی انتقام کا خوف ہے۔

    میگزین نے جان ڈو کے تخلص کے تحت ان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس روسی حکام اور ان کے اتحادیوں کی طرف سے مالی غلط کاری کے ثبوت موجود ہیں جنہوں نے یوکرین میں جنگ کے لیے فنڈز فراہم کرنے میں مدد کی۔

    جرمن اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے جان ڈو کا کہنا تھا کہ وہ اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت کے لیے 6 سال خاموش رہے، پاناما پیپرز شائع کرانے کے لیے نیو یارک ٹائمز اور وال اسٹریٹ جرنل سے رابطہ کیا تھا لیکن انہوں نے دلچسپی نہیں دکھائی، وکی لیکس نے جواب ہی نہیں دیا۔

    جان ڈو کے مطابق پاناما پیپرز میں بہت کچھ ایسا ہے جو ابھی تک سامنے نہیں آیا، امریکا پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو فسطائیت سے روکنے والا ملک خود ہی فسطائیت کا شکار ہوگیا جان ڈو نے جرمن حکومت پر معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگایا جبکہ انھوں نے یہ بھی کہا کہ روسی حکومت انھیں قتل کرانا چاہتی ہے۔

    اسپیگل کے پوچھے جانے پر کہ کیا اسے اپنی جان کا خدشہ ہے، اس نے کہا، "یہ ایک خطرہ ہے جس کے ساتھ میں جی رہا ہوں، کیونکہ روسی حکومت نے اس حقیقت کا اظہار کیا ہے کہ وہ مجھے مارنا چاہتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن امریکہ کے لیے ہٹلرسے زیادہ خطرہ ہیں، اور شیل کمپنیاں ان کی بہترین دوست ہیں روسی فوج کو مالی امداد فراہم کرنے والی شیل کمپنیاں یوکرین میں معصوم شہریوں کو مارتی ہیں کیونکہ پوٹن کے میزائل شاپنگ سینٹرز کو نشانہ بناتے ہیں۔”

    انہوں نے کہا کہ گمنام فرمیں معاشرے سے احتساب کو ہٹا کر ان ہولناکیوں کو اور زیادہ ممکن بناتی ہیں۔ لیکن احتساب کے بغیر معاشرہ کام نہیں کر سکتا روس کے سرکاری فنڈ سے چلنے والے چینل RT نے پاناما پیپرز کا دو حصوں پر مشتمل دستاویزی ڈرامہ نشر کیا تھا جس میں "جان ڈو” کا کردار دکھایا گیا تھا "جسے ابتدائی کریڈٹ کے دوران تشدد کے باعث سر پر چوٹ لگی تھی”۔

    "تاہم عجیب اور مشکل، یہ ٹھیک نہیں تھا،” انہوں نے کہا مالٹا اور سلوواکیہ میں مارے جانے والے تفتیشی نامہ نگاروں کا حوالہ دیتے ہوئے،ہم نے آف شور اکاؤنٹس سے تعلق رکھنے والے اور ٹیکس جسٹس کو قتل کرنے کا سہارا لیتے ہوئے دیکھا ہے، جیسا کہ ڈیفنی کیروانا گالیزیا اور جان کوکیاک کے سانحات کے ساتھ”۔

    سنہ 2016 میں پاناما پیپرز کی ریلیز کے بعد سے ان کے پہلے انٹرویو کے طور پر جو بل دیا گیا تھا، جان ڈو نے کہا کہ ان کا نام ظاہر نہ کرنے کے بعد سے باہر آنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاناما پیپرز میں اتنی مختلف بین الاقوامی مجرمانہ تنظیمیں شامل ہیں، جن میں سے کچھ کا تعلق حکومتوں سے ہے، کہ یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ خود کو پہچاننا کیسے محفوظ ہو سکتا ہے۔

    پاناما پیپرز انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) کی جانب سے مالیاتی دستاویزات کے کئی لیکس میں سے ایک تھا۔

    پاناما پیپرز 11.5 ملین لیک شدہ دستاویزات (یا 2.6 ٹیرا بائٹس ڈیٹا) ہیں جو 3 اپریل 2016 سے شائع کیے گئے تھے۔ کاغذات میں 214,488 سے زیادہ غیر ملکی اداروں کے لیے مالیاتی اور اٹارنی کلائنٹ کی معلومات کی تفصیل ہےدستاویزات، جن میں سے کچھ 1970 کی دہائی کی ہیں، پاناما کی سابق آف شور لاء فرم اور کارپوریٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنی موساک فونسیکا نے بنائی تھیں اور ان سے لی گئی تھیں۔

    ان دستاویزات میں دولت مند افراد اور سرکاری اہلکاروں کے بارے میں ذاتی مالی معلومات ہیں جو پہلے نجی رکھی گئی تھیں ان دستاویزات کی اشاعت نے جان مارسلیک کے خلاف قانونی چارہ جوئی کو ممکن بنایا، جو روسی انٹیلی جنس اور بین الاقوامی مالیاتی دھوکہ بازوں ڈیوڈ اور جوش بازوف کے ساتھ اپنے انکشافی روابط کی وجہ سے اب بھی متعدد یورپی حکومتوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہے جبکہ آف شور کاروباری ادارے قانونی ہیں رپورٹرز نے پایا کہ کچھ موساک فونسیکا شیل کارپوریشنز کوغیر قانونی مقاصد کےلیے استعمال کیا گیا، بشمول دھوکہ دہی، ٹیکس چوری، اور بین الاقوامی پابندیوں سے بچنا۔

    جرمن صحافی باسٹین اوبرمائر کو اخبار Süddeutsche Zeitung (SZ) سے دستاویزات لیک کرنے والا "جان ڈو”، گمنام تھا، یہاں تک کہ تحقیقات پر کام کرنے والے صحافیوں تک بھی۔ "میری جان خطرے میں ہے”، سیٹی بلور نے ان سے کہا تھا 6 مئی 2016 کی ایک دستاویز میں، جان ڈو نے اس کارروائی کی وجہ آمدنی میں عدم مساوات کا حوالہ دیا اور کہا کہ دستاویزات "صرف اس لیے لیک کی گئیں کہ میں ان کے مواد کے بارے میں کافی سمجھ گیا تاکہ ان کی بیان کردہ ناانصافیوں کے پیمانے کا احساس ہو سکے” ڈو نے کبھی بھی کسی حکومت یا انٹیلی جنس ایجنسی کے لیے کام نہیں کیا تھا اور استغاثہ کی مدد کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی اگر اسے استثنیٰ دیا گیا ہو۔ ایس زیڈ اخبار کی جانب سے تصدیق کرنے کے بعد کہ یہ بیان درحقیقت پاناما پیپرز کے ذریعہ سے آیا ہے، انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (ICIJ) نے مکمل دستاویز کو اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ کیا۔

    SZ نے ڈیٹا کی مقدار کی وجہ سے ICIJ سے مدد طلب کی۔ 80 ممالک میں 107 میڈیا تنظیموں کے صحافیوں نے قانونی فرم کے کاموں کی تفصیل دینے والی دستاویزات کا تجزیہ کیا تھا ایک سال سے زیادہ کے تجزیے کے بعد، پہلی خبریں 3 اپریل 2016 کو شائع ہوئیں، ساتھ ہی 150 دستاویزات بھی تھیں۔ یہ پروجیکٹ ڈیٹا جرنلزم سافٹ ویئر ٹولز اور موبائل تعاون کے استعمال میں ایک اہم سنگ میل کی نمائندگی کرتا ہے۔

    دستاویزات کو پاناما پیپرز کا نام دیا گیا کیونکہ وہ ملک سے لیک ہوئے تھے، لیکن پاناما کی حکومت نے ان خدشات پر نام پر سختاعتراضات کا اظہار کیا کہ اس سے دنیا بھر میں حکومت اور ملک کی شبیہ خراب ہوگی، جیسا کہ پاناما اور دیگر جگہوں پر دیگر اداروں نے کیا تھا۔ اس کہانی کو کور کرنے والے کچھ میڈیا آؤٹ لیٹس نے "موساک فونسیکا پیپرز” کا نام استعمال کیا –

    اکتوبر 2020 میں، جرمن حکام نے پاناما پیپرزکےذریعے بےنقاب ہونے والے ٹیکس چوری کےاسکینڈل کی بنیاد پرقانونی فرم کے دو بانیوں کے لیے بین الاقوامی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیےتھےکولون کے پراسیکیوٹرز جرمن نژاد جورگن موساک اور پانامہ کے رامون فونسیکا کو ٹیکس چوری میں معاونت اور ایک مجرمانہ تنظیم بنانے کے الزامات کے تحت تلاش کر رہے ہیں۔

    تفتیشی ٹیم کے صحافیوں کو عالمی سیاست، کھیل اور فن کی کئی اہم شخصیات کے کاروباری لین دین کا پتہ چلا۔ اگرچہ بہت سے لین دین قانونی تھے، چونکہ ڈیٹا نامکمل ہے، بہت سے دیگر معاملات میں سوالات باقی ہیں۔ اب بھی دوسرے لوگ واضح طور پر اخلاقی طور پر ظاہر کرتے ہیں اگر قانونی نامناسب نہیں۔ کچھ انکشافات مثال کے طور پر بہت امیر اداروں اور افراد کی طرف سے بہت غریب ممالک میں ٹیکس سے بچنا – اخلاقی بنیادوں پر سوالات کا باعث بنتے ہیں۔

  • یمنی ماڈل خاتون کوانتہائی خوفناک تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قید تنہائی میں بھی بھیج دیا گیا

    یمنی ماڈل خاتون کوانتہائی خوفناک تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قید تنہائی میں بھی بھیج دیا گیا

    یمن کی ایک ماڈل خاتون انتصار الحمادی کو ایرانی حمایت حوثی ملیشیا قید تہنائی میں بھیج دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ماڈل انتصار الحمادی کو گذشتہ سال حوثیوں نے گرفتار کر کے پانچ سال قید کی سزا سنا کر جیل بھیج دیا تھا اب اسے انتہائی خوفناک تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قید تنہائی میں بھی بھیجا گیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق الحمادی کو صنعا کی سنٹرل جیل میں رکھا گیا ہے ‘یمن فیوچر’ نام کی ویب سائٹ کے مطابق الحمادی کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنانے اور سخت مارپیٹ کے بعد جیل کی قید تنہائی والی کوٹھڑی میں بند کیا گیا ہے۔

    جیل میں موجود ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ الحمادی کو جیل وارڈن نے الیکٹرک شاکس لگا کر تشدد کا نشانہ بنایا کہا گیا ہے کہ اس نے جیل میں اپنے لیے مختص کیے گئے سیل کے باہر لگے ہوئے ایک پودے کے پتے چبائے تھے، کھاٹ نامی اس پودے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے نشہ کرنے والے استعمال کرتے ہیں۔

    ماڈل الحمادی کو پچھلے سال فروری میں گرفتار کر کے جیل میں بند کیا گیا تھا اور 8 ماہ بعد اسے پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی الحمادی پر حوثیوں نے الزام لگایا تھا قحبہ گری اور منشیات کے الزامات سمیت اسلامی اقدار کی حلاف ورزی کا بھی الزام عائد کیا گیا تھا یمنی ماڈل نے ان تمام الزامات سے انکار کیا تھا-

    مئی 2021 میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے رپورٹ کیا کہ الحمادی سے زبردستی تمام اعتراف جرائم کرایا گیا اورکچھ عرصہ بعد اسے سزا سنا دی گئی تھی یمنی ماڈل خاتون نےچار سال تک بطور ماڈل کام کیا ۔ اس نے 2020 میں یمنی ٹی وی کی ڈرامہ سیریز میں بھی کام کیا۔ الحمادی کا باپ ایک یمنی جبکہ اس کی والدہ ایتھوپین ہے۔

  • سعودی عرب کا یوٹیوب سے غیراخلاقی اشتہارات ہٹانے کا مطالبہ

    سعودی عرب کا یوٹیوب سے غیراخلاقی اشتہارات ہٹانے کا مطالبہ

    سعودی عرب نے یوٹیوب سے غیراخلاقی اشتہارات ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی :”العربیہ” کے مطابق ویڈیو شیئرنگ سائٹ ’یوٹیوب‘ پرغیراخلاقی نوعیت کے اشتہارات کے بارے میں بہت سی شکایات سامنے آنے کے بعد سعودی عرب میں آڈیو ویژول میڈیا اتھارٹی اور کمیونیکیشن کمیشن نے یوٹیوب پلیٹ فارم سے ان اشتہارات کو ہٹانے اور ضوابط کی پابندی کرنے کا مطالبہ کیا ہے-

    چاند پر پہلا قدم رکھنے والے خلاءبازوں کے قدموں کے نشان 53 سال بعد بھی موجود

    ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ یہ دیکھا گیا ہے کہ یوٹیوب پلیٹ فارم نے ملک کے اندر اپنے صارفین کو ہدایت کردہ اشتہارات دکھائے، جن کی نشریات میں اسلامی اور معاشرتی اقدار اور اصولوں سے متصادم اور میڈیا مواد کی خلاف ورزی پر مبنی مواد شامل تھا۔

    آڈیو ویژول میڈیا کمیشن اور کمیونیکیشنز اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کمیشن نے پلیٹ فارم سے درخواست کی کہ وہ ان متنازعہ اشتہارات ہٹائے اور ضوابط کی پابندی کرے۔

    تیس سال کویت کی سفارتی خدمات انجام دینے والے سفیر کیلئے برطانیہ کا بڑا اعزاز

    بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے ادارے یوٹیوب پر چلائے جانے والے اشتہارات کو مانیٹر کریں گے توقع ہے کہ یوٹیوب ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے غیراخلاقی اور ذوق عام کے خلاف اشتہارات کے مواد کو ہٹانے میں تاخیر نہیں کرے گا۔

    بھارتی، بھارت سے اکتانے لگے،4 لاکھ باشندوں نے شہریت چھوڑ دی