Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • فاطمہ ثنا شیخ بھی عالمی وبا کورونا وائرس میں مبتلا ہو گئیں

    فاطمہ ثنا شیخ بھی عالمی وبا کورونا وائرس میں مبتلا ہو گئیں

    عالمی وبا کورونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھے ہے، بھارت میں بھی اس وبا نے شدت اختیار کررکھی ہے اب بالی ووڈ اداکارہ فاطمہ ثنا شیخ بھی عالمی وبا کورونا وائرس کا شکار ہوگئیں۔

    باغی ٹی وی :کورونا کی تیسری لہر نے ایک بار پھر دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا بھارت میں کورونا وائرس تیزی سے پھیلنے لگا ہے اور وائرس کی شرح میں ایک دم خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے-

    وائرس کی تیزی سے پھیلتی اس لہر نے بالی ووڈ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے او اب تک متعدد اداکار وائرس کا شکار ہوگئے ہیں جن میں رنبیر کپور، سنجے لیلا بھنسالی ،کارتک آریان اور منوج باجپائی، عامر خان و دیگر شامل ہیں اور اب اداکارہ فاطمہ ثنا شیخ نے بھی کورونا میں مبتلا ہونے کا اعلان کیا ہے-

    اداکارہ نے انسٹاگرام اسٹوری میں اطلاع دی کہ ان کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا ہے۔

    انہوں نے لکھا کہ کوویڈ مثبت آگیا ہے، اور تمام تر ایس او پیز پر عمل پیرا ہوتے ہوئے میں نے خود کو قرنطینہ کرلیا ہے۔

    اداکارہ نے خیریت دریافت کرنے والے تمام مداحوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں وبائی مرض سے محفوظ رہنے کی ہدایت بھی کی۔

    یاد رہے کہ فاطمہ ثنا شیخ نے بالی ووڈ کے مسٹر پرفیکشنسٹ عامر خان کی بلاک بسٹر فلم ’دنگل‘ سے اداکاری کی دنیا میں قدم رکھا-

    بھارتی اداکار و سیاستدان پریش راول ویکسین لگوانے کے باوجود کورونا میں مبتلا ہوگئے

  • ’ٹُک ٹُک مارچ‘  میں شوبز ستاروں کی شرکت

    ’ٹُک ٹُک مارچ‘ میں شوبز ستاروں کی شرکت

    پاکستانی شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے متعدد فنکاروں کو حال ہی میں ’ٹُک ٹُک مارچ‘ کے نام سے ہونے والی ایک تقریب میں شرکت کرتے دیکھا گیا۔

    باغی ٹی وی : ٹُک ٹُک مارچ میں ماہرہ خان، ہمایوں سعید، بلال اشرف، ایچ ایس وائے، صنم سعید، فیروز خان، مایا علی اور عائشہ عمر سمیت پاکستانی شوبز انڈسٹری کے دیگر فنکاروں نے شرکت کی۔

    ٹُک ٹُک مارچ ایک غیر سرکاری فلاحی ادارے (این جی او) کی جانب سے شروع کی گئی رکشہ سواری ہے جسے خاص طور پر معذور افراد کے لیے شروع کیا گیا ہے یعنی اس کے چلانے والے معذور افراد ہیں۔

    پاکستانی فنکاروں کی اس تقریب میں شرکت کا مقصد بھی یہی ہے کہ معذور افراد بھی اس معاشرے کا حصہ ہیں، انہیں کمتر نہ سمجھا جائے اور ان کے ساتھ سفر کرتے ہوئے کسی قسم کا خوف محسوس نہ کیا جائے۔

    تقریب میں شریک اداکار فیروز خان کا ایک معذور کیپٹن کے ساتھ رکشے پر سواری کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میں بہت پرجوش اور بہت خوش ہوں کہ ہم ان جیسے لوگوں کے لیے کچھ کر رہے ہیں۔

    فیروز خان نے کراچی کے شہریوں اور اپنے چاہنے والوں سے اپیل کی کہ وہ باہر نکلیں اور ان رکشہ ڈرائیورز پر بھروسہ کریں، ان کے ساتھ سفر کرتے ہوئے فکرمند نہ ہوں، مجھے امید ہے کہ آپ ان کے ساتھ اور یہ (رکشہ ڈرائیورز) آپ کے ساتھ خود کو محفوظ سمجھیں گے۔

    پاکستانی اداکار کا ہالی وڈ سپر اسٹار کی مثال دیتے ہوئے کہنا تھا شاید ایک کمرشل بھی ہے جس میں جیمز بانڈ ٹُک ٹُک چلا رہا ہے، تو پھر ہم کیوں اسے چلانے میں شرم محسوس کریں۔

    معذوری سے متعلق پوچھے گئے سوال پر اداکار فیروز خان کا کہنا تھا میری نظر میں کسی دوسرے کو قبول نہ کرنا معذوری ہوتی ہے۔

  • میں نے جس بھی داکارہ کے ہاتھ پر تھوکا ہے وہ نمبر ون بن گئیں    عامرخان

    میں نے جس بھی داکارہ کے ہاتھ پر تھوکا ہے وہ نمبر ون بن گئیں عامرخان

    بالی ووڈ سُپراسٹار عامر خان کا کہنا ہے کہ میں نے جس بھی اداکارہ کے ہاتھ پر تھوکا ہے وہ نمبر ون بن گئیں-

    باغی ٹی وی : بالی ووڈ ہدایت کارہ اور کوریوگرافر فرح خان نے ایک انٹریو میں انکشاف کیا ہے کہ اداکار عامر خان شوٹنگ کے دواران فلم کے سیٹ پر بہت مستی کرتے ہیں اور اکثر اپنی ساتھی فنکاروں کے ساتھ پرینک بھی کرتے ہیں لیکن ان کی ایک عجیب عادت ہے جو وہ کئی عرصہ سے کرتے ہوئے آرہے ہیں۔

    فرح خان نےعامر خان کی اس عجیب عادت کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ عامر خان سیٹ پر موجود ہر نئے شخص کو کہتے ہیں ’اپنا ہاتھ دکھاو میں تمہاری ہاتھ کی لکیریں پڑھ کر بتاتا ہوں اور جیسے ہی وہ شخص اپنا ہاتھ آگے بڑھاتا ہے، عامر خان اس پر تھوک دیتا ہے‘۔

    رپورٹس کے مطابق جب خود مسٹر پرفیکشنسٹ سے یہ سوال پوچھا گیا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ’میں نے جس جس ہیروئن کے ہاتھ پر تھوکا ہے وہ نمبر ون بن گئیں‘۔

    بالی ووڈ اداکارہ پوجا بیدی کو جب اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے ہنستے ہوئے کہا ’میں اپنی بیٹی عالیہ سے کہوں گی کہ وہ عامر انکل سے ضرور ملیں تاکہ وہ تمہارے ہاتھ پر ایک بار تھوک دیں اور تم نمبر ون بن جاو‘۔

  • ماہرہ خان کی تصویر پر بالی ووڈ اداکارہ کا تبصرہ

    ماہرہ خان کی تصویر پر بالی ووڈ اداکارہ کا تبصرہ

    پاکستان کی عالمی شہرت یافتہ اداکارہ ماہرہ خان کی تصویر پر بھارتی اداکارہ نے ردعمل کا اظہار کیا ہے-

    باغی ٹی وی : اداکارہ ماہرہ خان کے پاکستان سمیت سرحد پار اور دنیا بھر میں مداح موجود ہیں جو اپنی پسندیدہ اداکارہ کی جانب سے شئیر کی گئیں تصاویر اور پوسٹس پر پسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں تاہم اس بار انکی پوسٹ پر پڑوسی ملک بھارت کی مشہور اداکارہ نے بھی ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

    ماہرہ خان نے فوٹو اور ویڈیو ایپلیکیشن انسٹاگرام پر اپنے اکاؤنٹ پر ایک منفرد انداز میں اپنی دو تصاویر شیئر کیں جس میں انہوں نے سفید رنگ کی چادر سر پر لے رکھی ہے اور نہایت دلکش اور معصوم دکھائی دے رہی ہیں-

    تصاویر شئیر کرتے ہوئے ماہرہ نے کیپشن میں لکھا کہ’عجیب داستان ہے یہ‘۔

    ماہرہ خان کی تصاویر پر جہاں ان کی پاکستانی ساتھی اداکاراؤں یمنی زیدی،صنم سعید اور ثروت گیلانی کی جانب سے پسندیدگی کا اظہار کیا گیا وہیں بھارتی اداکارہ مونی رائے نے کمنٹ سیکشن میں اظہار پسندیدگی اور اظہار محبت کیا۔

    جبکہ کمنٹ سیکشن میں پاکستانی اداکارہ یمنیٰ زیدی نے ماہرہ خان کو حسین ترین قرار دیا-

    ماہرہ خان کی تصاویر کو مشہور شخصیات سمیت 2لاکھ 29 ہزار سے زائد افراد نے پسند کیا اور انہیں سکیڑوں تعریفی کمنٹس بھی لکھے۔

  • نئے خلائی جرثومے کا نام برصغیر پاک و ہند کے مسلمان طبی ماہر کے نام پر رکھنے کی تجویز

    نئے خلائی جرثومے کا نام برصغیر پاک و ہند کے مسلمان طبی ماہر کے نام پر رکھنے کی تجویز

    عالمی خلائی اسٹیشن سے دریافت ہونے والے ایک نئے جرثومے کا نام برصغیر پاک و ہند کے مشہور طبّی ماہر حکیم اجمل خان کے نام پر رکھنے کی تجویز دے دی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ’’ناسا‘‘ کے ماہرین نے 2011 سے 2016 تک عالمی خلائی اسٹیشن میں مختلف مقامات سے جراثیم (بیکٹیریا) کی چار اقسام حاصل کی تھیں جنہیں مزید تحقیق کےلیے زمین پر لایا گیا خلائی اسٹیشن 408 کلومیٹر بلندی پر رہتے ہوئے زمین کے گرد چکر لگا رہا ہے۔

    امریکی اور ہندوستانی ماہرین کی مشترکہ ٹیم نے ان جراثیم کا تفصیلی جینیاتی تجزیہ کرنے کے بعد گزشتہ ہفتے بتایا ہے کہ ان میں سے صرف ایک جرثومہ ایسا ہے جس کے بارے میں ہم پہلے سے جانتے ہیں، جبکہ باقی تین بیکٹیریا پہلی بار دریافت ہوئے ہیں۔

    بیکٹیریا کی یہ چاروں اقسام ’’میتھائیلو بیکٹیریاسیائی‘‘ (Methylobacteriaceae) نامی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں جس کے مختلف ارکان مٹی اور تازہ پانی میں عام پائے جاتے ہیں اور پودوں کی نشوونما سے لے کر انہیں بیماریوں سے بچانے تک میں اہم کردار ادا کرتے ہیں آسان الفاظ میں، یہ جراثیم زرعی لحاظ سے بہت مفید ہیں۔

    خلائی اسٹیشن سے ان بیکٹیریا کا ملنا کوئی عجیب و غریب بات نہیں کیونکہ خلانور پچھلے کئی سال سے خلا کے بے وزن ماحول میں چھوٹے پیمانے پر مختلف فصلیں اگاتے آرہے ہیں۔

    نئے دریافت ہونے والے تینوں جرثوموں کو ابتدائی طور پر IF7SW-B2T، IIF1SW-B5 اور IIF4SW-B5 کے عارضی نام دیئے گئے۔

    بھارتی ماہرین نے آن لائن ریسرچ جرنل ’’فرنٹیئرز اِن بائیالوجی‘‘ میں اس دریافت کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے تجویز کیا ہے کہ مذکورہ نودریافتہ جرثوموں میں سے IF7SW-B2T کو حکیم اجمل خان مرحوم کے نام پر Methylobacterium ajmalii کا باضابطہ نام دیا جائے۔

    انہیں توقع ہے کہ حکیم اجمل خان کی طبّی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی ماہرین کو بھی اس نام پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا-

  • زکوۃ کی فضیلت و اہمیت کیا ہے ؟ زکوٰۃ کے متعلق  انتہائی اہم معلومات

    زکوۃ کی فضیلت و اہمیت کیا ہے ؟ زکوٰۃ کے متعلق انتہائی اہم معلومات

    زکوۃ اسلام کا بنیادی رکن ہے۔ رسولِ پاک ﷺ کا فرمانِ پاک ہے :
    ”اسلام کی بنیاد پانچ باتوں پر ہے، اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ پاک کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (ﷺ) اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، حج کرنا اوررمضان کے روزے رکھنا۔”
    (بخاری شریف، کتاب الایمان ،باب دعا ء کم ایمانکم ،حدیث نمبر۸،ج۱،ص۱۴)

    زکوۃ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآنِ حکیم میں نماز اور زکات کا ایک ساتھ 32 مرتبہ ذکر آیا ہے۔
    (ردالمحتار،کتاب الزکاۃ، ج۳، ص۲۰۲)
    علاوہ ازیں زکوۃ دینے والا خوش نصیب دنیوی واُخری سعادتوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتا ہے۔ زکات کی فرضیت قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ اللہ پاک قرآنِ حکیم میں ارشاد فرماتا ہے :

    وَاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ

    اور نماز قائم رکھو اور زکوۃ دو۔
    (پ ۱،البقرۃ:۴۳)

    نماز کے بعد زکوٰۃ ہی کا درجہ ہے۔ قرآنِ کریم میں ایمان کے بعد نماز اور اس کے ساتھ ہی جا بجا زکوٰۃ کا ذکر کیا گیاہے۔ زکوٰۃ کے لغوی معنی پاک ہونا، بڑھنا اور نشوونما پانا کے ہیں۔ یہ مالی عبادت ہے۔ یہ محض ناداروں کی کفالت اور دولت کی تقسیم کا ایک موزوں ترین عمل ہی نہیں بلکہ ایسی عبادت ہے جو قلب او ررُوح کا میل کچیل بھی صاف کرتی ہے۔ انسان کو اللہ کا مخلص بندہ بناتی ہے۔ نیز زکوٰۃ اللہ کی عطا کی ہوئی بے حساب نعمتوں کے اعتراف اور اس کا شکر بجا لانے کا بہترین ذریعہ ہے۔

    ارشادِ باری تعالیٰ ہے اِنْ تُقْرِ ضُوااﷲَ قَرْضاً حَسَناً یُضَاعِفْہُ لَکُمْ وَ یَغْفِر لَکُمْج (سورئہ التغابن 17) ترجمہ! اگر قرض دو اللہ کو اچھی طرح قرض دینا وہ دو گنا کرے تم کو اور تم کو بخشے۔

    اس کے مقابلے میں جو لوگ زکوٰۃ ادا نہیں کرتے اُن کے لئے اللہ کاارشاد ہے وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ اْلذَّھَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلَا یُنْفِقُو نَہَا فِیْ سَبِیْلِ اﷲِ فَبَشِّرْ ہُمْ بِعَذَاْبٍ اَلِیْمٍ ط (سورئہ توبہ 34)۔ ترجمہ! جو لوگ جمع رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور اس کو خرچ نہیں کرتے اللہ کی راہ میں سو اُن کو خوشخبری سُنا دے عذاب ِ دردناک کی۔

    زکوٰۃ کے متعلق ہر طبقے مثلا عام لوگ، تاجر، زمیندار اور جانور پالنے والوں کے لئے انتہائی اہم معلومات

    ایک لاکھ پر -/2500 روپے زکوۃ ادا کی جائے گی-
    دو لاکھ پر -/5000
    تین لاکھ پر -/7500
    چار لاکھ پر -/10000
    پانچ لاکھ پر-/12500
    چھ لاکھ پر -/15000
    سات لاکھ پر-/17500
    آٹھ لاکھ پر-/20000
    نو لاکھ پر-/22500
    دس لاکھ پر-/25000
    بیس لاکھ پر-/50000
    تیس لاکھ پر-/75000
    چالیس لاکھ پر-/100000
    پچاس لاکھ پر-/125000
    ایک کروڑ پر-/250000
    دو کروڑ پر-/500000
    ‎ہم زکوٰۃ کیسےادا کریں؟
    ‎اکثرمسلمان رمضان المبارک میں زکوة ادا کرتے ہیں
    ‎سونا چاندی
    ‎زمین کی پیداوار
    ‎مال تجارت
    ‎جانور
    ‎پلاٹ
    ‎کرایہ پر دیےگئے مکان
    ‎گاڑیوں اوردکان وغیرہ کی زکوۃ کیسے اداکی جاتی ہے۔

    قرآن کریم میں زکوۃ ادا کرنے والے کے لئے سخت عذاب کی وعید سنائی گئی ہے-

    1۔زکوٰۃکا انکار کرنے والاکافر ہے۔(حم السجدۃآیت نمبر 6-7)
    ‎2۔زکوٰۃادا نہ کرنے والے کو قیامت کے دن سخت عذاب دیا جائےگا۔(التوبہ34-35)

    3۔زکوٰۃ ادا نہ کرنے والی قوم قحط سالی کاشکار ہوجاتی ہیں۔(طبرانی)
    4۔زکوٰة كامنکر‎جوزکوٰةادانہیں کرتااسکی نماز،روزہ،حج سب بیکار ہیں۔

    دوسری جانب زکوۃ دینے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے آخرت میں خوشخبری سنائی ہے-
    ‎5 ۔زکوٰۃاداکرنے والےقیامت کےدن ہر قسم کےغم اورخوف سےمحفوظ ہونگے-
    (البقرہ 277)
    ‎6۔زکوٰۃ کی ادائیگی گناہوں کا کفارہ اور درجات کی بلندی کا بہت بڑاذریعہ ہے(التوبہ103)

    ‎زکوٰۃکا حکم:
    ‎ ہر مال دارمسلمان مرد ہو یاعورت پر زکوٰۃ واجب ہے۔خواہ وہ بالغ ہو یا نابالغ ،عاقل ہویا غیر عاقل بشرط یہ کہ وہ صاحب نصاب ہو۔

    ‎نوٹ۔سود،رشوت،چوری ڈکیتی،اور دیگرحرام ذرائع سےکمایا ہوا مال ان سےزکوٰۃ دینے کابالکل فائدہ نہیں ہوگا صرف حلال کمائی سے دی گئی زکوٰۃ قابل قبول ہے۔

    ‎زکوٰۃ کتنی چیزوں پر ہے-

    ‎زکوٰۃ چار چیزوں پر فرض ہے ۔
    1۔سونا چاندی
    ‎2۔زمین کی پیداوار
    ‎3۔مال تجارت
    ‎4۔جانور۔

    ‎سونے کی زکوٰۃ:
    87گرام یعنی ساڑھےسات تولے سونا پر زکوٰۃ واجب ہے -(ابن ماجہ1/1448)

    ‎نوٹ۔سونا محفوظ جگہ ہو یا استعمال میں ہر ایک پرزکوٰۃ واجب ہے۔(سنن ابودائود کتاب الزکوٰۃ اوردیکھئے حاکم جز اول صفحہ 390 ۔
    ‎فتح الباری جز چار صفحہ 13

    ‎چاندی کی زکوٰۃ:
    612گرام یعنی ساڑھےباون تولے چاندی پر زکوٰۃواجب ہے اس سے کم وزن پر نہیں۔(ابن ماجہ)

    ‎زکوٰۃ کی شرح:
    ‎ زکوٰۃ کی شرح بلحاظ قیمت یا بلحاظ وزن اڑھائی فیصد ہے۔(صحیح بخاری کتاب الزکاۃ)

    ‎زمین کی پیدا وار پر زکوٰۃ:
    ‎ مصنوعی ذرائع سے سیراب ہونے والی زمین کی پیدا وارپر عشر بیسواں حصہ دینا ہوگا ورنہ ہے۔قدرتی ذرائع سے سیراب ہونے والی پیداوار پر شرح زکوٰۃ دسواں حصہ ہے دیکھئے(صحیح بخاری کتاب الزکوٰۃ)-

    ‎نوٹ:زرعی زمین والےافراد گندم،مکی،چاول،باجرہ،آلو،سورج مکھی،کپاس،گنااوردیگر قسم کی پیداوار سے زکوٰۃ یعنی (عشر )بیسواں حصہ ہرپیداوار سےنکالیں۔ (صحیح بخاری کتاب الزکاۃ)-

    ‎اونٹوں کی زکوٰۃ:
    ‎ پانچ اونٹوں کی زکوٰۃ ایک بکری اور دس اونٹوں کی زکاۃ دو بکریاں ہیں۔پانچ سے کم اونٹوں پر زکوٰۃ واجب نہیں۔(صحیح بخاری کتاب الزکوٰۃ)-

    ‎بھینسوں اورگائیوں کی زکوٰۃ

    30گائیوں پر ایک بکری زکوٰۃہے۔
    40گائیوں پردوسال سے بڑا بچھڑا زکوٰۃ دیں۔(ترمذی1/509)

    ‎بھینسوں کی زکوٰۃکی شرح بھی گائیوں کی طرح ہے۔

    ‎بھیڑبکریوں کی زکوٰۃ:
    40سے ایک سو بیس بھیڑ بکریوں پر ایک بکری زکوٰۃہے جبکہ 120سےلےکر200تک دو بکریاں زکوٰۃ۔ (صحیح بخاری کتاب الزکاۃ)
    ‎چالیس بکریوں سے کم پرزکوٰۃ نہیں۔

    ‎کرایہ پر دیئے گئےمکان پر زکوٰۃ:
    ‎ کرایہ پردیئے گئے مکان پر زکوٰۃنہیں لیکن اگراسکاکرایہ سال بھر جمع ہوتا رہے جو نصاب تک پہنچ جائے اور اس پر سال بھی گزر جائے تو پھر اس کرائے پر زکوٰۃ واجب ہے۔اگر کرایہ سال پورا ہونے سے پہلے خرچ ہو جائے توپھر زکوٰۃ نہیں۔شرح زکوٰۃ اڑھائی فیصد ہوگی۔

    ‎گاڑیوں پر زکوٰۃ:
    ‎ کرایہ پر چلنےوالی گاڑیوں پر زکوٰۃ نہیں بلکہ اسکے کرایہ پر ہےوہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ کرایہ سال بھر جمع ہوتا رہے اور نصاب تک پہنچ جائے۔

    ‎نوٹ:
    ‎گھریلو استعمال والی گاڑیوں، جانوروں،حفاظتی ہتھیار۔مکان وغیرہ پر زکوٰۃ نہیں (صحیح بخاری)-

    ‎سامان تجارت پر زکوٰۃ:
    ‎ دکان کسی بھی قسم کی ہو اسکےسامان تجارت پر زکوٰۃدینا واجب ہے اس شرط کے ساتھ کہ وہ مال نصاب کو پہنچ جائے اوراس پرایک سال گزر جائے۔

    ‎نوٹ:دکان کےتمام مال کا حساب کر کے اسکا چالیسواں حصہ زکوٰۃ دیں یعنی ۔دکان کی اس آمدنی پرزکوٰۃنہیں جوساتھ ساتھ خرچ ہوتی رہے صرف اس آمدنی پر زکوٰۃ دینا ہوگی جوبنک وغیرہ میں پورا سال پڑی رہے اور وہ پیسے اتنے ہوکہ ان سے ساڑھےباون تولےچاندی خریدی جاسکے-

    ‎پلاٹ یا زمین پر زکوٰۃ:
    ‎ جو پلاٹ منافع حاصل کرنے کے لیئے خریدا ہو اس پر زکوٰۃ ہوگی ذاتی استعمال کے لیے خریدا گیا پلاٹ پر زکوٰۃ نہیں۔
    ‎(سنن ابی دائودکتاب الزکوٰۃ حدیث نمبر1562)-

    ‎کس کس کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔
    ‎ماں باپ اور اولاد کےسوا سب زکوٰۃکےمستحق مسلمانوں کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔والدین اوراولادپراصل مال خرچ کریں زکوٰۃ نہیں۔
    ‎نوٹ:
    ‎(ماں باپ میں دادا دادی ، نانا نانی اوراولادمیں پوتے پوتیاں نواسیاں نواسے بھی شامل ہیں۔

    ‎زکوٰۃکےمستحق لوگ
    ‎1۔مساکین(حاجت مند)
    ‎2۔غریب
    3۔ زکاۃوصول کرنےوالے
    ‎4۔مقروض
    ‎5۔قیدی
    ‎6۔ مجاھدین
    ‎7.مسافر (سورۃالتوبہ60)

    اگر کچھ سونا ہے، کچھ چاندی ہے، یا کچھ سونا ہے، کچھ نقد روپیہ ہے، یا کچھ چاندی ہے، کچھ مالِ تجارت ہے، ان کو ملاکر دیکھا جائےتو ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت بنتی ہےاس صورت میں زکوٰۃ فرض ہے-

    ‎عشری زمین کی پیداوار پر بھی زکوٰة فرض ہے

  • شب برات کی فضیلت و حقیقت

    شب برات کی فضیلت و حقیقت

    عوام میں نصف شعبان کی رات کا اہتمام کرنے اور خاص طور سے اسی رات میں عبادات انجام دینے کے کئی اسباب ہیں جن میں ایک سبب یہ بھی ہے کہ رسول اللہ کی طرف منسوب ایسی بہت ساری احادیث کا وجود جن سے اس رات کی فضیلت، اس میں اعمال کی پیشی، عمر کی تحدید، رزق کی تقسیم، دعاء کی قبولیت اور خود رسول اللہ کااس رات عبادات کے اہتمام کا پتہ چلتا ہے لہٰذا اس عظیم ثواب کے حصول اور سنت نبوی ؐ کی پیروی میں لوگ اس رات کااہتمام اور اس رات کی تعظیم میں بہت زیادہ مبالغہ کرتے ہیں۔

    براۃ کے معنیٰ ہیں نجات، اور شبِ برات کا معنیٰ ہے گناہوں سے نجات کی رات۔ گناہوں سے نجات توبہ سے ہوتی ہے۔ یہ رات مسلمانوں کے لئے آہ و گریہ و زاری کی رات ہے، رب کریم سے تجدید عہد کی رات ہے، شیطانی خواہشات اور نفس کے خلاف جہاد کی رات ہے، یہ رات اللہ کے حضور اپنے گناہوں سے زیادہ سے زیادہ استغفار اور توبہ کی رات ہے۔ اسی رات نیک اعمال کرنے کا عہد اور برائیوں سے دور رہنے کا عہد دل پر موجود گناہوں سے زنگ کو ختم کرنے کاموجب بن سکتا ہے۔

    قرآن پاک میں فرمان باری تعالیٰ: فیہا یفرق کل أمر حکیم(الدخان 4)۔”اسی رات میں ہر فیصلہ شدہ معاملہ بانٹ دیا جاتا ہے”کی بعض تفاسیر میں آیا ہے کہ اس سے مراد نصف شعبان کی رات ہے۔ علامہ زمخشری کہتے ہیں:

    نصف شعبان کی رات کے چار نام ہیں:
    لیلۃ المبارکہ
    لیلۃ البراۃ
    لیلۃ الصک
    لیلۃ الرحمۃ
    اور کہا گیا ہے کہ اس کو شب برات اور شب صک اس لئے کہتے ہیں کہ بُندار یعنی وہ شخص کہ جس کے ہاتھ میں وہ پیمانہ ہوکہ جس سے ذمیوں سے پورا خراج لے کر ان کے لئے برات لکھ دیتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ اس رات کو اپنے بندوں کے لئے بخشش کا پروانہ لکھ دیتا ہے۔ اس کے اور لیلۃ القدر کے درمیان چالیس راتوں کا فاصلہ ہوتا ہے۔

    یہ بھی ایک قول ہے کہ یہ رات پانچ خصوصیتوں کی حامل ہوتی ہے۔

    اس میں ہر کام کا فیصلہ ہوتا ہے۔
    اس میں عبادت کرنے کی فضیلت ہے۔
    اس میں رحمت کانزول ہوتا ہے۔
    اس میں شفاعت کا اتمام ہوتا ہے۔
    اور پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس رات میں یہ عادت کریمہ ہے کہ اس میں آب زمزم میں ظاہراً زیادتی فرماتا ہے۔

    زیادہ تر مفسرین کا بھی ماننا ہے کہ مذکورہ رات سے مراد شب قدر ہے۔ چنانچہ فرمان باری تعالیٰ:

    حٰم وَالْکِتٰبِ الْمُبِيْنِ اِنَّـآ اَنْزَلْنٰـهُ فِیْ لَيْلَةٍ مُّبٰـرَکَةٍ اِنَّا کُنَّا مُنْذِرِيْنَ فِيْهَا يُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَکِيْمٍ

    حا میم (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں) اس روشن کتاب کی قسم بے شک ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں اتارا ہے۔ بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں اس (رات) میں ہر حکمت والے کام کا (جدا جدا) فیصلہ کردیا جاتاہے۔ (الدخان، 44: 1تا4)

    اس آیت کی تفسیر میں علماء فرماتے ہیں کہ برکت والی رات سے مراد شب قدر ہے۔یہاں اللہ تعالیٰ نے رات کو مبہم رکھا ہے لیکن دوسری جگہ واضح کردیا ہے کہ جس برکت والی رات میں قرآن کریم اتارا گیا ہے، وہ شب قدر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
    "بے شک ہم نے قرآن کو لیلۃ القدر یعنی خیروبرکت والی رات میں نازل کیا ہے۔”
    اور یہ نزول رمضان المباک کے مہینہ میں ہواجیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
    "وہ رمضان کا مہینہ تھا جس میں قرآن نازل ہوا۔”(البقرہ185)۔

    اور یہاں جس برکت والی رات کا جس میں ذکر ہوا ہے، اس برکت کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اس بیان میں صاف کردیا کہ لیلۃ القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔

    اللہ تعالیٰ نے اس رات کو مبارکہ(برکت والی ) رات کا نام اس لئے دیا ہے کہ اللہ اس رات لوگوں کے درجات میں اضافہ فرماتا ہے، ان کی لغزشوں کو معاف کرتا ہے، قسمت کی تقسیم کرتا ہے، رحمت پھیلاتا ہے اور خیر عطا کرتا ہے-((احکام القرآن لابن العربی)۔

    ابن العربی کہتے ہیں: "اکثر علماء کے نزدیک :فیہا یفرق کل امر حکیم(الدخان4)یعنی اسی رات میں ہر طے شدہ معاملہ بانٹ دیا جاتاہے، سے مراد شب قدر ہے جبکہ کچھ علماء کا کہنا ہے کہ یہ نصف شعبان کی رات ہے لیکن یہ بے بنیاد بات ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی سچی اور فیصلہ کن کتاب قرآن مجید میں فرمایا:وہ رمضان کا مہینہ تھا جس میں قرآن نازل ہوا(البقرہ185)۔

    سیدہ عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا :

    ” 4راتوں میں اللہ تعالیٰ خیر کے دروازے کھول دیتا ہے: عیدالاضحی کی رات، عیدالفطر کی رات، نصف شعبان کی رات جس میں عمر، روزی اور حج کرنے والے کے بارے میں لکھا جاتا ہے اور عرفہ کی رات، صبح کی اذان تک۔” (الدر المنثور، وقال ابن العربی : لایصح فیہا شیٔ ولافی نسخ الآجال ،احکام القرآن)۔

    بعض روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس رات دعا قبول ہوتی ہے مثلاً عبدالرزاق نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے :”
    4″راتوں میں دعاء مستردنہیں ہوتی: جمعہ کی رات ،پہلی رجب کی رات، نصف شعبان کی رات اورعیدین کی رات۔”(مصنف عبدالرزاق)۔
    نصف شعبان کی رات میں عبادات کااہتمام:

    نصف شعبان کی رات کی فضیلت بیان کرنے والی مذکورہ احادیث کی بنا پر لوگ نہ صرف اس رات کی تعظیم کرتے ہیں بلکہ اس رات میں نماز اور دعاء کا بھی اہتمام کرتے ہیں۔ اس رات میں عبادت کرنے کے سلسلے میں جو احادیث آئی ہیں، ان میں سیدنا علی بن ابی طالب ؓ کی یہ حدیث بھی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:

    "جب نصف شعبان ہو تو رات میں عبادت کرو اور دن میں روزہ رکھو کیونکہ اللہ تعالیٰ اس رات آفتاب غروب کے بعد آسمانِ دنیا پر اتر تاہے اور فرماتا ہے: ہے کوئی بخشش طلب کرنے والا جسے میں بخشش دوں؟ ہے کوئی روزی مانگنے والا جسے میں روزی دوں؟ ہے کوئی مصیبت زدہ، جس کی مصیبت دور کروں؟ یہاں تک فجر طلوع ہوجاتی ہے۔”(سنن ابن ماجہ، کتاب اقامۃ الصلاۃ، باب ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبان)۔

    خطیب بغدادی اور ابن نجار نے حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے روایت کی ہے کہ: رسول اللہ (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام شعبان کے روزے رکھ کر اس کو رمضان کے ساتھ ملادیتے تھے اور آپ کسی بھی ماہ کے تمام دنوں کے روزے نہ رکھتے تھے سوائے شعبان کے۔ میں نے عرض کی: یارسول اللہ (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) شعبان کا مہینہ آپ کو بڑا پسند ہے کہ آپ اس کے روزے رکھتے ہیں؟ آپ (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: ہاں۔ اے عائشہ (رضی اللہ عنہا): کوئی نفس بھی پورے سال میں فوت نہیں ہوتا مگر اس کی اجل شعبان میں لکھ دی جاتی ہے۔ تو میں پسند کرتا ہوں کہ جب میری اجل لکھی جائے تو میں اللہ کی عبادت اور عمل صالح میں مصروف ہوں۔(امام جلال الدین سیوطی ’’تفسیر در منثور‘)

    نصف شعبان کی رات کی بہت فضیلت ہے، جیسا کہ علمائے عظام کی باتوں سے معلوم ہوتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس رات کو کسی متعین عبادت کے لئے خاص کرلیا جائے۔مثلاًرات میں نماز پڑھنا اوردن میں روزہ رکھنا کیونکہ اس بارے میں رسول اللہ سے کوئی قابل اعتماد حدیث کاپتہ نہیں جبکہ کسی عبادت کی قبولیت کی2 شرطیں ہیں: صرف اللہ کی رضامندی کے لئے ہواور سنت کے مطابق ہو۔اگر کسی بھی عبادت میں ان دونوں میں سے کوئی شرط مفقود ہو تو وہ عبادت قابل قبول نہیں۔

  • ملک بھر میں شب برات آج مذہبی عقیدت و احترام سے منائی جائے گی

    ملک بھر میں شب برات آج مذہبی عقیدت و احترام سے منائی جائے گی

    ملک بھر میں شب برات آج انتہائی مذہبی عقیدت و احترام سے منائی جائیگی، یہ وہ شب مبارکہ ہے جس میں آئندہ سال ہونے والے تمام عوامل کا فیصلہ کیا جاتا ہے ۔

    باغی ٹی وی : شب کے معنی رات بارات کے معنی بری ہونے کے ہیں، برکتوں اور رحمتوں کی رات ہے، اس رات مسلمان اپنے گناہوں سے توبہ کرکے جہنم سے نجات مانگتے ہیں۔

    شب برات کو گذشتہ سال میں کیے گئے اعمال بارگاہے الہیٰ میں پیش کیے جاتے ہیں اور آنے والے سال کی زندگی اور رزق کا حساب کتاب بھی کیا جاتا ہے۔

    علماء کرام کا کہنا ہے اس کو بےشمار عبادتیں کرنی چاہیے نہ کہ گناہ کرکے اس رات کی فضیلت کو ضائع کرنا چاہیے، علمائے کرام اس کو بجٹ کی رات بھی کہتے ہیں-

    ماہِ شعبان کی پندرھویں کو گھروں اور مساجد میں شب بیداری اہتمام کیا جائے گا، جن میں فرزندان اسلام نوافل اور تسبیحات سمیت مختلف عبادات ادا کریں گے۔

    سوشل میڈیا پر بھی شب برات کی نسبت سے اپنے خیالات کا اظہار کر رہےہیں اور مبارکباد دی جا رہی ہیں اور ملک و قوم کی سلامتی اور کورونا وبا کے خاتمے کے حوالے سے دعائیں کر رہے ہیں یہاں تک کہ اس حوالے سے ٹوئٹر فہرست پر کئی ایک ٹرینڈ بھی چل رہے ہیں-


    https://twitter.com/chalBynikl/status/1376308271112454146?s=20

  • ڈرامہ نویس اور مصنفہ حسینہ معین نے زندگی بھر شادی کیوں نہیں کی تھی؟

    ڈرامہ نویس اور مصنفہ حسینہ معین نے زندگی بھر شادی کیوں نہیں کی تھی؟

    پاکستانی ٹیلی ویژن کی معروف ڈرامہ نویس، مصنفہ اور مکالمہ نگار حسینہ معین نے زندگی بھر شادی نہیں کی تھی۔

    باغی ٹی وی : 26 مارچ کو 79 برس کی عمر میں حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کرنے والی حسینہ معین نے کچھ برس قبل سینئر اداکارہ ثمینہ پیرزادہ کے ویب انٹرویو میں بطور مہمان شریک ہوئیں جہاں انہوں نے زندگی کے نشیب و فراز کے حوالے سے بات چیت کی وہیں اپنی شادی نہ کرنے کی وجہ بھی بتائی تھی-

    میزبان ثمینہ پیرزادہ کے شادی کے حوالے سے سوال کہ زندگی تنہا گزار دی، کبھی شادی کا خیال کیوں نہ آیا کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ پریشانی میری اماں کو بھی لاحق رہتی تھی مجھے لگتا ہے کہ میں شادی کے لیے نہیں بنی، خدا نے سب کا جوڑ بنایا، مگر میرا جوڑ شاید کہیں کھو گیا ہے اس لیے میں نے شادی نہیں کی۔

    شادی نہ کرنے پر افسوس کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے حسینہ معین نے کہا کہ انہیں شادی نہ کرنے کا کوئی ملال نہیں ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ رات میں اکثر جب مجھے کہیں جانا ہو اور ڈرائیور نہ ہو تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ ابھی کوئی ہوتا تو مجھے یہ پریشانی نہ ہوتی۔

  • کورونا ویکسین سے متعلق گمراہ کن معلومات :فیس بک نے وینزویلا کے صدر کا آفیشل پیج منجمند کردیا

    کورونا ویکسین سے متعلق گمراہ کن معلومات :فیس بک نے وینزویلا کے صدر کا آفیشل پیج منجمند کردیا

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک نے کورونا وائرس سے متعلق گمراہ کن معلومات پھیلانے پر وینزویلا کے صدر نکولس مارودو کے آفیشل صفحے کو منجمند کر دیا-

    باغی ٹی وی : فیس بک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ روز وینزویلا کے صدر نکولس مادور کے آفیشل پیج کو منجمد کردیا گیا جس سے کورونا ویکسین سے متعلق گمراہ کن معلومات شیئر کی گئی تھیں۔

    فیس بک نے بتایا کہ پیج پر کورونا کے علاج کے لیے ایک دیسی اور جادوئی طریقہ بتایا گیا تھا۔ یہ ایک ہومیو پیتھک دوا سے متعلق ویڈیو تھی جسے فوری طور پر ہٹا دیا گیا تھا۔

    فیس بک نے اپنے بیان میں اقرار کیا کہ کورونا سے متعلق گمراہ کن معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اکاؤنٹس بند اور مواد ہٹانے کا سلسلہ گزشتہ برس کے وسط سے جاری ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل فیس بک کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ 3 ماہ میں ایک ارب تین کروڑ اکاؤنٹس بند کرنے کے علاوہ ماہرین صحت کی نشاندہی پر کورونا ویکیسن کے خلاف غلط معلومات پر مبنی ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد مواد کو بھی ہٹایا گیا ہے-

    فیس بک نے 3 ماہ کے دوران ایک ارب 3 کروڑ جعلی اکاؤنٹس ڈیلیٹ کردیئے