Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • مشرق وسطیٰ کشیدگی: تیل کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

    مشرق وسطیٰ کشیدگی: تیل کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

    امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں تیل کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشات نے عالمی منڈی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں تقریباً 20 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور قیمتیں جولائی 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری کشیدگی نے تیل کی عالمی سپلائی سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں، اس صورت حال کے باعث مشرقِ وسطیٰ کے چند بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک نے پیداوار کم کرنا شروع کر دی ہے جب کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی میں طویل تعطل کا بھی خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

    پیر کو برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں ایک موقع پر 18 ڈالر 35 سینٹ یا تقریباً 19.8 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 111.04 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ بعد ازاں قیمت 15 ڈالر 24 سینٹ اضافے کے ساتھ 107.93 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتی دیکھی گئی اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ آئل کی قیمت 16 ڈالر 50 سینٹ یا 18.2 فیصد اضافے کے ساتھ 107.40 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جب کہ سیشن کے دوران یہ 111.24 ڈالر فی بیرل تک بھی پہنچ گئی تھی، گزشتہ ہفتے بھی برینٹ کروڈ میں 27 فیصد اور ڈبلیو ٹی آئی میں 35.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

    ڈی جی خان میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، فتنہ الخوارج کے 4 دہشتگرد ہلاک

    رپورٹ کے مطابق عراق اور کویت نے تیل کی پیداوار میں کمی شروع کر دی ہے، جب کہ اس سے قبل قطر کی جانب سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی برآمدات میں بھی کمی دیکھی گئی تھی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ذخیرہ کرنے کی گنجائش ختم ہوتی رہی تو متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کو بھی جلد تیل کی پیداوار کم کرنا پڑ سکتی ہے، اگرچہ یہ جنگ جلد ختم بھی ہو جائے تو بھی دنیا بھر کے صارفین اور کاروباری اداروں کو کئی ہفتوں یا مہینوں تک مہنگے ایندھن کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیوں کہ سپلائی چین، تیل کی تنصیبات اور شپنگ کے خطرات بدستور برقرار رہیں گے۔

    ریاست کی رٹ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے،شفیع اللہ جان

  • وزیراعظم کا قومی ہاکی ٹیم کے ہر کھلاڑی کے لیے 15 لاکھ روپے انعام کا اعلان

    وزیراعظم کا قومی ہاکی ٹیم کے ہر کھلاڑی کے لیے 15 لاکھ روپے انعام کا اعلان

    وزیراعظم شہباز شریف نے قومی ہاکی ٹیم کے ہر کھلاڑی کے لیے 15 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے-

    وزیراعظم کے دفتر کی میڈیا ونگ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ورلڈ کپ کوالیفائر میں شرکت کرنے والی قومی ہاکی کھلاڑیوں کی شاندار کارکردگی کے اعتراف میں ٹیم کے ہر کھلاڑی کے لیے 15 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے یہ اقدام نہ صرف ٹیم کی محنت اور کھیل کے لیے لگن کا اعتراف ہے بلکہ پاکستان میں ہاکی کے فروغ کے لیے بھی ایک اہم قدم ہے۔

    قومی ہاکی ٹیم کی ورلڈ کپ کوالیفائرز میں شرکت نے شائقین کے درمیان جوش و خروش پیدا کر دیا ہے اور یہ انعام ان کی ثابت قدمی اور محنت کا واضح اعتر اف ہے۔

    6 مارچ کو اسماعلیہ، مصر میں ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کوالیفائرز کے سنسنی خیز سیمی فائنل میں پاکستان نے جاپان کو 3-4 سے شکست دی،جس کے نتیجے میں نہ صرف ٹیم فائنل میں پہنچ گئی بلکہ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کے لیے کوالیفائی بھی کر گئی میچ میں پاکستان نے شاندار واپسی کا مظاہرہ کیاپاکستان نے پہلے کوارٹر میں برتری حاصل کی، تاہم جاپان نے دوسرے کوارٹر میں اس کا مقابلہ کرتے ہوئے اسکور برابر کر دیا۔

    تیسرے کوارٹر میں جاپان نے دو گول کر کے 1-3 کی برتری حاصل کر لی، جس سے پاکستانی ٹیم پر شدید دباؤ پڑا، لیکن آخری کوارٹر میں گرین شرٹس نے زبرد ست مزاحمت دکھاتے ہوئے 3 گول کر کے میچ 3-4 سے جیت لیا،پاکستان کے لیے محمد عماد، ابو بکر محمود، سفیان خان اور افراز نے ایک ایک گول کیا۔ محمد عماد کو جاپان کے خلاف شاندار کارکردگی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

    میچ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے جارحانہ کھیل میں برتری حاصل کرتے ہوئے سرکل میں 28 حملے کیے جبکہ جاپان نے صرف 17، جس سے ٹیم کے جارحانہ رویے کی عکاسی ہوتی ہےاس فتح کے ساتھ پاکستان نہ صرف کوالیفائرز کے فائنل میں پہنچ گیا بلکہ ہاکی ورلڈ کپ 2026 میں حصہ لینے کی بھی ضمانت حاصل کر لی۔

  • ریاست کی رٹ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے،شفیع اللہ جان

    ریاست کی رٹ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے،شفیع اللہ جان

    خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات، شفیع اللہ جان نے کہا ہے کہ مذاکرات کی آڑ میں دہشتگردی کا کھیل ، اب اور نہیں، ریاست کی رٹ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے

    خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات، شفیع اللہ جان نے 8 مارچ کو اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا بہترین حل بات چیت کرنا اور قبائلی جرگے ہیں اگرچہ ماضی میں استنبول اور اسلام آباد میں ہونے والی ملاقاتیں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئیں، لیکن جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔

    لیکن اگر ہم تاریخ اٹھا کر دیکھے تو 2021 سے پاکستان نے افغانستان سے بار بار بات چیت کر کے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی لیکن ہر بار افغانستان کی زمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہوتی رہی مذاکرات کی یہ ناکام تاریخ گواہ ہے کہ 6 جنوری 2021 کو دوحہ میں انٹرا افغان مذاکرات کے دوسرے دور سے لے کر 8 نومبر 2021 میں "گڈ ول جیسچر” کے نام پر صوبائی جیلوں سے 100 سے زائد خطرناک دہشت گردوں کی رہائی تک، ریاست کی رٹ پر سمجھوتہ کیا گیا۔

    ایران جنگ میں امریکا کو شکست ہوگی، چینی نوسترادامس کی پیشگوئی

    انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا یہ سلسلہ 2022 میں مزید وسعت اختیار کر گیا جب اپریل 2022 میں عید کے موقع پر 11 دن کی جنگ بندی ہوئی اور مئی 2022 میں اس وقت کے کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی قیادت میں وفد نے کابل کے سرینا ہوٹل میں ٹی ٹی پی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔

    اسی دوران محسود قبائل کے 32 رکنی اور ملاکنڈ ڈویژن کے 19 رکنی جرگوں نے مئی 2022 میں کابل میں مذاکرات کیے، جس کے نتیجے میں ٹی ٹی پی نے غیر معینہ مدت کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا جون 2022 میں مریم اورنگزیب نے ان مذاکرات کی حکومتی سطح پر تصدیق بھی کی، لیکن ٹی ٹی پی نے فاٹا انضمام کے خاتمے جیسے غیر آئینی مطالبات رکھ کر ریاست کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔

    واٹر سپلائی کے پانی سے سانپ کے بچے نکلنے پر تشویش

    حالیہ برسوں میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا، جنوری 2024 میں مولانا فضل الرحمٰن کا دورہ کابل اور جولائی 2024 میں مفتی تقی عثمانی صاحب کی قیادت میں جید علماء کے وفود کابل گئے تاکہ مذہبی اور قبائلی بنیادوں پر حل نکالا جا سکے فروری 2025 میں خوست میں عارضی سیز فائر اور 18 اکتوبر 2025 کو دوحہ و استنبو ل کے مذاکراتی راؤنڈز نے بھی یہی ثابت کیا کہ یہ گروہ مذاکرات کو صرف اپنی طاقت بڑھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

    پاکستان کا مطالبہ اب دوٹوک ہے کہ افغان سرزمین پر فتنہ الخوارج کی پناہ گاہیں اور ان کو ملنے والی سہولت کاری کا مکمل خاتمہ کیا جائے کیونکہ مذاکرات کی آڑ میں معصوم شہریوں کا مزید قتل عام برداشت نہیں کیا جائے گا پاکستان نے تمام سیاسی و سفارتی کوششیں اور آبادکاری کی پالیسیاں ناکام ہونے کے بعد ہی بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کیا اور سرحد پار ان ٹھکانوں پر کاری ضرب لگائی جہاں سے پاکستان میں دہشتگرد حملوں کی منصوبہ بندی ہو رہی تھی اب ریاست پاکستان سیاست دانوں کی نااہلی کا بوجھ نہیں اٹھائے گی، اور ریاست کی رٹ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے-

    
مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب

  • ایران جنگ میں امریکا کو شکست ہوگی، چینی نوسترادامس کی پیشگوئی

    ایران جنگ میں امریکا کو شکست ہوگی، چینی نوسترادامس کی پیشگوئی

    چینی نوسترادامس نے پیشگوئی کی ہے کہ ایران جنگ میں امریکا کو شکست ہوگی۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق چین کے پروفیسر ژوچن جیانگ، جنہیں ‘چین کا نوسترادامس‘ کہا جاتا ہے نے 2024 میں ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت اور ایران کے خلاف جنگ کی درست پیشگوئی کی تھی ٹرمپ نے ایران پر حملہ اس لیے کیا کہ ملک کی نیوکلیئر صلاحیتیں ختم ہوں اور جمہوریت لائی جا سکے، لیکن ایران نے پروکسی گروپس کے ذریعے سخت جوابی کارروائیاں کیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اب پروفیسر ژوچن جیانگ نے پیشگوئی کی ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ میں امریکا کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اپنی قومی عزت، وقار اور خودمختاری کے دفاع کے لیے ڈٹا ہوا ہے اور کسی بھی دباؤ کے تحت سرنڈر نہیں کرے گا۔

    ایک انٹرویو میں عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت اپنی قوم اور اپنے وقار کا دفاع کر رہا ہے اور ملک کی عزت و وقار فروخت کے لیے نہیں ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس بھی ایران سے غیر مشروط سرنڈر کا مطالبہ کیا تھا، تاہم ایران نے اس وقت بھی ہتھیار نہیں ڈالے تھے۔

    ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق ایران کسی بھی دباؤ کے سامنے جھکنے والا نہیں اور ملک نے ماضی میں بھی اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا تھا جب تک مکمل جنگ بندی کا واضح عہد نہیں کیا جاتا، ایران اپنی مزاحمت جاری رکھے گا اور لڑائی جاری رہے گی، ایران اپنے قومی مفادات اور وقار کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور کسی بھی صورت میں سرنڈر نہیں کرے گا۔

  • اسلام آباد :عورت مارچ پر پولیس کارروائی، متعدد خواتین،مرد اور منتظمین گرفتار

    اسلام آباد :عورت مارچ پر پولیس کارروائی، متعدد خواتین،مرد اور منتظمین گرفتار

    انٹرنیشنل ویمنز ڈے کے موقع پر اسلام آباد میں عورت مارچ کے منتظمین اور شرکاء پر پولیس نے سخت کارروائی کی، جس کے دوران متعدد خواتین اور کارکنان کو حراست میں لے لیا گیا،اسلام آباد پولیس نےسیکٹرایف 6 سےعورت مارچ میں شریک 11 خواتین،اور 3 مرد گرفتارکرلیے-

    عورت مارچ آرگنائزیشن کی رکن نشاط مریم کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں معروف ویمن رائٹس ایکٹیویسٹ ڈاکٹر فرزانہ باری بھی شامل ہیں مارچ کے لیے این او سی کی درخواست ایک ماہ قبل جمع کروائی گئی تھی، لیکن انتظامیہ کی جانب سے این او سی جاری نہیں کیا گیا، جس کی بنیاد پر پرامن اجتماع کے حق سے شرکا کو محروم کیا گیا،پولیس نے منتظمین کو گاڑی سے باہر نکلتے ہی زبردستی حراست میں لیا،قریباً 8 خواتین کو گرفتار کرکے جی-7 تھانے منتقل کیا گیا اور بعد میں مزید منتظمین اور بعض اہل خانہ کو بھی حراست میں لیا گیا۔

    آپریشن ’غضب للحق‘:583 افغان طالبان ہلاک، 242 چیک پوسٹیں تباہ اور 38 پر قبضہ

    دوسری جانب ترجمان اسلام آباد پولیس نے بتایا کہ شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے، جس کے تحت ہر قسم کے احتجاج اور اجتماعات پر پابندی ہے، اور عورت مارچ کے لیے این او سی جاری نہ ہونے کی وجہ سے کارروائی کی گئی،جبکہ عورت مارچ کے منتظمین اور انسانی حقوق کے کارکنان نے اس کارروائی کو پرامن احتجاج پر ریاستی جبر قرار دیا اور کہا کہ شہریوں کو آئین کے تحت پرامن اجتماع کا حق حاصل ہے، جسے بلا وجہ روکا جا رہا ہے۔

    افغان کرکٹر راشد خان کا خاندان کے ہمراہ پشاور میں قیام ،خواجہ آصف کا شدید ردعمل

  • آپریشن ’غضب للحق‘:583 افغان طالبان ہلاک، 242 چیک پوسٹیں تباہ اور 38 پر قبضہ

    آپریشن ’غضب للحق‘:583 افغان طالبان ہلاک، 242 چیک پوسٹیں تباہ اور 38 پر قبضہ

    افغانستان سے دہشت گردی اور بلا اشتعال جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے آپریشن غضب للحق کامیابی کے ساتھ جاری ہے،وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے آپریشن ’غضب للحق‘ سے متعلق تازہ صورتحال جاری کی ہے-

    سوشل میڈیا پر جاری بیان میں عطا تارڑ نے بتایا کہ اب تک 583 افغان طالبان ہلاک جبکہ 795 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، 242 چیک پوسٹیں تباہ اور 38 چیک پوسٹوں پر قبضہ کرکے انہیں بھی تباہ کیا گیا،اب تک افغان طالبان رجیم کے 213 ٹینکس، بکتر بند گاڑیاں اور آرٹلری گنز (توپیں) تباہ کی جاچکی ہیں، افغانستان بھر میں 64 مقامات کو فضائی کارروائی میں مؤثر طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔

    افغان کرکٹر راشد خان کا خاندان کے ہمراہ پشاور میں قیام ،خواجہ آصف کا شدید ردعمل

    خیال رہے کہ جمعرات 26 فروری کی رات پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی جانب سے بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں پاکستان کی مسلح افواج کا آپریشن غضب للحق جاری ہے،پاک فوج نے افغانستان کی حدود کے اندر مختلف مقامات پر جوابی کارروائیاں کیں اور کابل، قندھار اور پکتیا سمیت دیگر مقاما ت پر موجود عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا اور کئی چیک پوسٹیں تباہ کیں۔

    خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ مختلف جھڑپوں میں 13 خوارج ہلاک

  • افغان کرکٹر راشد خان کا خاندان کے ہمراہ پشاور میں قیام ،خواجہ آصف کا شدید ردعمل

    افغان کرکٹر راشد خان کا خاندان کے ہمراہ پشاور میں قیام ،خواجہ آصف کا شدید ردعمل

    وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ افغان مہاجرین پاکستان کے دیئے گئے تحفظ اور بہتر زندگی کے مواقع کے بدلے ’زہریلی تنقید‘ کرتے ہیں۔

    خواجہ آصف نے ایکس پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ وہ نہ صرف ناشکرے ہیں بلکہ ان لوگوں کے خلاف زہر اگلتے ہیں جنہوں نے انہیں تحفظ اور بامعنی زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کیے، اگر یہ سچ ہے تو اسے (راشد خان) کہیں اور پناہ لینی چاہیے لاکھوں لوگوں نے پچھلی نصف صدی میں ہمیں بیوقوف بنایا، وقت آگیا ہے کہ سب گھر واپس جائیں،طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان جنت بن گیا ہے، جہاں فرشتے حکمرانی کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ وزیر دفاع کا بیان اس وقت سامنے آیا جب ایک صارف ثنا یوسفزئی نے بذریعہ ٹویٹ اطلاع دی کہ افغان کرکٹر راشد خان اور ان کا خاندان سیکیورٹی خدشات کے باعث پشاور میں مقیم ہے-

    دبئی میں میزائل کے ملبے سے 2 پاکستانیوں کی ہلاکت پروزیراعظم کا اظہار افسوس

    قبل ازیں وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کو کہا تھا کہ آپ ہمارے مہمان رہے، آپ کے خاندانوں کی دہائیوں تک مہمانداری کی، سوویت یونین کے خلاف ہم نے مل کے جنگ لڑی، ہم آپ کی آپس کی لڑائیں ختم کراتے رہے، مکہ میں صلح کراتے رہے، صلہ کیا ملا ؟ آپ نے ہمارے قاتلوں کو پناہ دی، آپ کا اور ہمارا ایک ہی ہدف تھا اور یہ ہدف آپ کو اور ہمیں امریکہ نے دیا تھا۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ اب آ جائیں 9/11 کے بعد ہمُ نیٹو کے سہولت کا ر ضرور تھے مگر ہم پہ امریکہ کا الزام رہا کہ ہم حقانی نیٹ ورک کے سہولت کار ہیں ان کی اعانت کرتے ہیں، ہم سے آپکا پتہ پوچھا جاتا تھا، کچھ یاد ہے آپکو، ہم پہ آپکی سہولت کاری کا الزام سچ تھا یا جھوٹ آپ ہی دنیا کو بتا دیں، ان دونو ں نورا کشتیوں کے درمیان 1979سے 9/11 تک امریکہ نے ہمیں اور آپ کو لفٹ کرانا بند کردی، آپ سب ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے، ہم نے آپ کے بزرگوں سے لے کر تین نسلوں کی مہان نوازی کی ہے۔

    پاک افغان سرحد پرفتنہ الخوارج کی دراندازی کی کوشش ناکام، ایک دہشت گرد ہلاک

    صلہ کیا ملا آپ ہمارے قاتلوں کو پناہ دیں معصوم بچوں کے خون سے ہولی کھیلنے والوں کو سینے سے لگائیں، ہمارے گلی محلوں کو خون سے رنگین کرنے والوں کے حلیف بنیں، میں کابل گیا آپ سے ملاقات ہوئی تھی، ایک درخواست کی تھی ہمارے دشمنوں کے حلیف نہ بنے اعانت نہ کریں، آپ نے رقم ما نگی ہم وہ بھی دینے کو تیار تھے مگر ضمانت کوئی نہیں تھی۔

    وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ جس نسبت سے آپ کو حقانی پکارا جاتا ہے وہ بہت عظیم بزرگ تھے، اس نام کی ہی لاج رکھیں، ہم آپ سے کچھ بھی نہیں مانگتے، آپ اپنے گھر راضی رہیں ہم اپنے گھر راضی رہیں، ہمارے دشمن کو بیشک اپنے گھر بسائیں، لیکن ان کے ساتھ مل کر ھمارے ساتھ دشمن کا کردار نہ ادا کر یں، اپنی سر زمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہونے دیں،ہماری روایت، ثقافت اور دین سکھاتا ہے کہ جس گھر میں پناہ لی ہو اس کی خیر مانگتے ہیں۔ اللہ اکبر ۔۔۔۔پاکستان زندہ باد

    پنجاب میں دفعہ 144 میں توسیع

  • دبئی میں میزائل کے ملبے سے 2 پاکستانیوں کی ہلاکت پروزیراعظم  کا اظہار افسوس

    دبئی میں میزائل کے ملبے سے 2 پاکستانیوں کی ہلاکت پروزیراعظم کا اظہار افسوس

    وزیر اعظم شہباز شریف نے دبئی میں میزائل کے ملبے سے 2 پاکستانی شہریوں کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    انہوں نے ایکس اکاؤنٹ پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ پاکستان کے سفارتی مشنز متحدہ عرب امارات میں دبئی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں تاکہ متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا سکے اور ہلاک ہونے والوں کی واپسی کا عمل آسان بنایا جا سکے۔ وزیر اعظم نے مرحومین کے لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔

    پنجاب میں دفعہ 144 میں توسیع

    واضح رہے کہ گزشتہ شام اماراتی حکام نے تصدیق کی ہے کہ دبئی کے علاقے البرشا میں ہفتہ کی شام جاں بحق ہونے والا شخص پاکستانی شہری تھا جو بطور ڈرائیور فرائض انجام دے رہا تھا دبئی میں حالیہ حملوں کے نتیجے میں اب تک 2 پاکستانیوں سمیت 4 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    کل تک پپٹرول کے 3 جہاز پاکستان پہنچنے کی توقع ہے،وزیر پیٹرولیم

    اس سے قبل دبئی میڈیا آفس نے بتایا تھاکہ البرشا میں فضائی دفاعی کارروائی کے دوران گرنے والے ملبے سے ایک گاڑی کو نقصان پہنچا جس کے نتیجے میں ایشیائی ڈرائیور ہلاک ہوگیا ادھر ایرانی پاسداران انقلاب نے بھی تصدیق کی ہے کہ دبئی مرینا میں امریکی فوجی مقام کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا، تہران ریفائنری پر حملے کے بعد حیفا ریفائنری کو بھی نشانہ بنایا گیا ۔

  • پاک افغان سرحد پرفتنہ الخوارج کی دراندازی کی کوشش ناکام، ایک دہشت گرد ہلاک

    پاک فوج نے پاک افغان سرحد چمن سیکٹر پر فتنہ الخوارج کی دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی ہے جب کہ کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ایک خارجی دہشت گرد ہلاک ہوگیا-

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کی جانب سے سرحدی باڑ کی حفاظت اور دراندازی روکنے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں، پاک افغان بارڈر پر چمن سیکٹر سے ملحقہ سرحدی علاقے میں 3 سے 4 خوارج پر مشتمل تشکیل کی دراندازی کو پاک فوج نے ناکام بنا دیا ہے پاک فوج نے باڑ کاٹنے والے خوارج کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا جب کہ بروقت کارروائی کے دوران ایک خارجی دہشت گرد ہلاک جب کہ دیگر زخمی حالت میں فرار ہو گئے ہیں، خارجی دہشت گردوں سے 4 سے 5 آئی ای ڈیز اور باڑ کاٹنے کا سامان بھی برآمد کر لیا گیا ہے، پاک فوج کی منظم کارروائی سے دہشت گردوں کے منصوبے خاک میں مل گئے ہیں۔

    پنجاب میں دفعہ 144 میں توسیع

    کل تک پپٹرول کے 3 جہاز پاکستان پہنچنے کی توقع ہے،وزیر پیٹرولیم

    خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ مختلف جھڑپوں میں 13 خوارج ہلاک

  • پنجاب میں دفعہ 144 میں توسیع

    پنجاب میں دفعہ 144 میں توسیع

    پنجاب حکومت نے امن و امان کے خدشات اور دہشتگردی کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر دفعہ 144 کے نفاذ میں 7 روز کی توسیع کر دی ہے، جو اب 14 مارچ تک جاری رہے گی۔

    محکمہ داخلہ پنجاب نے پابندی کے تحت 4 یا اس سے زائد افراد کے عوامی اجتماعات، جلوسوں اور مظاہروں پر روک لگا دی ہے بغیر اجازت عوامی مقاما ت پر اجتماع منعقد کرنا بھی ممنوع ہوگا تاہم شادی، جنازہ، تدفین، سرکاری و نیم سرکاری دفاتر کے اجلاس، عدالتیں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار اس پابند ی سے مستثنیٰ ہیں۔

    کل تک پپٹرول کے 3 جہاز پاکستان پہنچنے کی توقع ہے،وزیر پیٹرولیم

    پنجاب بھر میں ہر قسم کے اسلحے کی نمائش اور عوامی مقامات پر استعمال پر مکمل پابندی عائد ہے، انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق حساس اجتماعات دہشتگردی یا فرقہ واریت کا ہدف بن سکتے ہیں، ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو سختی سے پابندی کے نفاذ کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

    خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ مختلف جھڑپوں میں 13 خوارج ہلاک