Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • بجلی استعمال ہو نہ ہو کپیسٹی پیمنٹ کرنا پڑےگی،نپیرا نے کے الیکٹرک صارفین پر بم گرا دیا

    بجلی استعمال ہو نہ ہو کپیسٹی پیمنٹ کرنا پڑےگی،نپیرا نے کے الیکٹرک صارفین پر بم گرا دیا

    اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کے الیکٹرک کے آئندہ 7 سال کے جنریشن ٹیرف کی منظوری دے دی۔

    باغی ٹی وی : نیپرا نے کے الیکٹرک کی درخواست پر فیصلہ جاری کردیا،جس کے مطابق بجلی استعمال ہو نہ ہو کپیسٹی پیمنٹ کرنا پڑےگی،کے الیکٹر ک کے جنریشن ٹیرف ڈیزل پر 44 روپے 33 پیسے سے 50 روپے 75 پیسے فی یونٹ تک منظوری دی گئی ہے،اس کے علاوہ ایل این جی پر جنریشن ٹیرف20 روپے67 پیسے سے 41 روپے75 پیسے فی یونٹ تک منظور کیا گیا، فرنس آئل پرجنریشن ٹیرف 33 روپے 31 پیسے سے 34روپے 64 پیسے فی یونٹ تک مقرر کیا گیا ہے جب کہ گیس پر فی یونٹ جنریشن ٹیرف6 روپے 83 پیسے سے9 روپے 62 پیسے تک مقرر کیا گیا ہے۔

    نیپرا نے ٹیرف کی یہ منظوری جون 2023 کے بعد سے اگلے سات سال کے لیے دی ہے، کے الیکٹرک نے دسمبر 2022 میں پاور جنریشن کے حوالے سے ٹیرف اور اس میں 14 فی صد ڈالر انڈیکشن مانگی تھی، جو نیپرا نے 11.50 فی صد تک دے دی ہے۔

    کے الیکٹرک کے 2 پاور پلانٹس گیس نہ ہونے کے باعث بند ہیں، انھیں ’ٹیک یا پے‘ پر منتقل کر دیا گیا ہے، بن قاسم کیو ایس تھری کے لیے ہائی اسپیڈ ڈیزل بیک اپ فیول کی اپیل مسترد کر دی گئی، کے الیکٹرک کے پاور پلانٹس میں بن قاسم پی ایس تھری کو 11 سال کا جنریشن ٹیرف دیا گیا ہے۔

    کے الیکٹرک کے دیگر پلانٹس جن کی مدت سات سال سے پہلے ختم ہو جائے گی، ان کا ٹیرف ان کی لائف پر دیا گیا ہےکے الیکٹرک نے نان ایکسکلوزیو ٹیرف مانگا تھا، ادارے کی پاور جنریشن اس وقت تقریبا 2800 میگا واٹ ہے، اس جنریشن ٹیرف کا عام صارف کے بل پر کوئی اثر نہیں آئے گا-

  • 40 فیصد  مقدمات آئینی بنچوں کو منتقل کئے جائیں گے

    40 فیصد مقدمات آئینی بنچوں کو منتقل کئے جائیں گے

    اسلام آباد: آئینی ترمیم کے نتیجے میں 20 لاکھ سے زائد زیرالتوا کیسوں کے سائلین کو جلد انصاف ملنے کی امید ہے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق ترمیم کی منظوری کے بعد ملک کی عدالتوں نے آئینی درخواستوں کی سماعت معطل کر دی ہے، آئندہ ماہ سے ملک بھر کی عدالتوں میں زیرسماعت 40 فیصد درخواستیں آئینی بنچوں کو منتقل کی جائیں گی، سپریم کورٹ اور پانچوں ہائی کورٹس کی آئینی درخواستوں اور رٹ پٹیشنز کے فیصلے آئینی بنچ کریں گے، جس سے مقدمات کی سماعت میں تیزی آئے گی۔

    ملک میں ضلع، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں زیرالتوا مقدمات کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے عوام کو یہ امید ہے کہ یہ آئینی ترمیم انصاف کی فراہمی کے عمل کو تیز کرے گی،یہ بات بھی اہم ہے کہ آئین کے آرٹیکل 37ڈی میں واضح کیا گیا ہے کہ ریاست سستے اور آسان انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائے گی۔

    اس کی دو اہم وجوہات ہیں: پہلی یہ کہ آئینی بنچوں میں منتقل ہونے والے تقریباً 40 فیصد مقدمات کی تعداد میں کمی آئے گی، اور دوسری وجہ ہائی کورٹس کے ججوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل ہے، جو وقتاً فوقتاً ان کی کارکردگی کو جانچے گا۔

  • ایک ہی دن میں انڈیا کے درجنوں مسافر طیاروں کو بم کی دھمکیاں موصول

    ایک ہی دن میں انڈیا کے درجنوں مسافر طیاروں کو بم کی دھمکیاں موصول

    ممبئی: اتوار (20 اکتوبر 2024) کو ہندوستانی ایئر لائنز کی 25 پروازوں کو بم کی دھمکیاں موصول ہوئیں، جس سے سیکڑوں مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور حکام نے تفصیلی جانچ کے لیے متعدد طیاروں کو متعلقہ ہوائی اڈوں پر الگ تھلگ جگہوں پر منتقل کردیا-

    باغی ٹی وی :بھارتی میڈیا کے مطابق یہ پیش رفت مختلف ہندوستانی جہازوں کی 30 سے ​​زائد پروازوں کو بم کی دھمکیاں ملنے کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے اس ہفتے، تقریباً 100 پروازوں کو دھمکیاں موصول ہوئیں جس نے سیکیورٹی ایجنسیوں کی دوڑیں لگوا دیں،تاہم یہ دھمکیاں بعد میں دھوکہ دہی ثابت ہوئیں۔

    ذرائع کے مطابق، اتوار (20 اکتوبر 2024) کو انڈیگو ، وستارا،ائیر انڈیا اور اکاسا ائیر کی چھ پروازوں اور ایئر انڈیا ایکسپریس کی کم از کم ایک پرواز کو دھمکیاں موصول ہوئیں۔

    متعدد انڈین مسافر طیاروں میں بم کی موجودگی کی جھوٹی اطلاعات کے سبب دنیا کے متعدد ایئرپورٹس پر نہ صرف دیگر پروازیں تاخیر کا شکار ہوئی ہیں بلکہ متعدد جہازوں کے ہوائی روٹ بھی تبدیل کیے گئے۔

    الگ الگ بیانات میں، انڈیگو کے ترجمان نے کہا کہ ایئر لائن پرواز وں 6E 58 (جدہ سے ممبئی)، 6E87 (کوزی کوڈ سے دمام)، 6E11 (دہلی سے استنبول)، 6E17 (ممبئی سے استنبول)، 6E133 ،پونے سے جودھ پور) اور 6E112 آپریٹنگ (گوا سے احمد آباد) جانے والی پروازوں کو دھمکیاں موصول ہوئیں جس کے بعد ان پروازوں کے مسافروں بحفاظت اتارا-

    وستارا نے کہا کہ اسے چھ پروازوں کے لیے سیکورٹی خطرات ہیں جن میں UK25 (دہلی سے فرینکفرٹ)، UK106 (سنگاپور سے ممبئی)، UK146 (بالی سے دہلی)، UK116 (سنگاپور سے دہلی)، UK110 (سنگاپور سے پونے) اور UK107 (ممبئی سے) سنگاپور) پروازیں شامل ہیں-

    آکاسا ایئر کی چھ پروازوں کے لیے سیکورٹی الرٹس موصول ہوئے تھے – QP1102 (احمد آباد سے ممبئی)، QP 1378 (دہلی سے گوا)، QP 1385 (ممبئی سے باگڈوگرا)، QP 1406 (دہلی سے حیدرآباد)، QP 1519 (کوچی سے ممبئی) اور QP 1526 (لکھنؤ سے ممبئی) شامل ہیں-

    آکاسا ایئر کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ "تعین شدہ طریقہ کار اور چھ طیاروں کے مکمل معائنہ کے بعد، انہیں آپریشن کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔”

    ذرائع نے یہ بھی کہا کہ ایئر انڈیا کی کم از کم چھ پروازوں کو خطرہ ہے، ایئر لائن کی طرف سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

    ذرائع نے بتایا کہ کوچی سے دمام جانے والی ایئر انڈیا ایکسپریس کی پرواز IX481 کو بم کی دھمکی موصول ہوئی اور پرواز بحفاظت دمام میں اتر گئی۔

    اتوار (20 اکتوبر 2024) کو، سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ایک ہینڈل جس نے کچھ پروازوں کو بم کی دھمکیاں جاری کی تھیں، کو بلاک کر دیا گیا۔

    ایئر لائنز کو زیادہ تر سوشل میڈیا کے ذریعے بم کی دھمکیوں کے پس منظر میں، بیورو آف سول ایوی ایشن سیکیورٹی (BCAS) نے ہفتہ (19 اکتوبر 2024) کو ایئر لائنز کے نمائندوں کے ساتھ ایک میٹنگ کی۔

  • اڈیالاجیل انتظامیہ نے بشریٰ بی بی سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرادی

    اڈیالاجیل انتظامیہ نے بشریٰ بی بی سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرادی

    راولپنڈی: اڈیالاجیل انتظامیہ نے بشریٰ بی بی سے متعلق رپورٹ اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند کی عدالت میں جمع کرا دی-

    باغی ٹی وی : اڈیالاجیل انتظامیہ کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ بشریٰ بی بی کو خواتین وارڈ میں انتہائی محفوظ سیل میں رکھا گیا ہے اور جیل عملے کو سپرنٹنڈنٹ جیل کی اجازت کے بغیر بشریٰ بی بی کے سیل میں داخلے کی اجازت نہیں، بشریٰ بی بی کے ساتھ انتہائی پیشہ ورانہ تربیت یافتہ عملہ تعینات ہے، ان کیلئے خاتون میڈیکل افسر بھی تعینات ہے جب کہ ہولی فیملی اسپتال راو لپنڈی کے 6 سینئرڈاکٹرزکی ٹیم ہرہفتے ان کا طبی معائنہ کرتی ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ بشریٰ بی بی کیلئے ڈاکٹر 24 گھنٹے دستیاب رہتا ہے، ہر ہفتے اسلام آباد سے ماہر ڈاکٹرز بھی قیدیوں کے طبی معائنے کیلئے جیل کا دورہ کرتے ہیں، انہیں کو جیل مینوئل کے تحت تمام طبی و بنیادی سہولیات دستیاب ہیں، اڈیالہ جیل صوبے کی انتہائی حساس جیل ہے جس میں 8 ہزار قیدی ہیں جب کہ گنجائش صرف 3 ہزار کی ہے، جیل میں سیاسی قیدیوں سمیت ہائی پروفائل قیدی بھی قید ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خصوصی سورس رپورٹ پرپنجاب حکومت نے 25 اکتوبر تک ملاقاتوں پر پابندی لگائی ہے، ملاقاتوں پر پابندی سکیورٹی الرٹ کی وجہ سے عائد کی گئی ہے، اس کے علاوہ پنجاب حکومت نے جیل کی سکیورٹی بڑھانے کی ہدایت کی ہے، سکیورٹی خدشات پر جیل میں ماک ایکسرسائز کی ہدایات بھی کی گئی ہیں، قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے تعاون سے جیل میں فرضی مشقیں کی جارہی ہیں، ایمرجنسی سکیورٹی پلان کے باعث قیدیوں کی ملاقاتوں پر پابندی ہے، ملاقاتوں پر پابندی ختم ہوتے ہی ایس او پیز کے تحت بشریٰ بی بی کی ملاقات کا اہتمام کیا جائے گا۔

  • اسرائیل کا وحشیانہ قتل عام جاری،شمالی غزہ کے اسپتالوں میں کفن ختم ہو گئے

    اسرائیل کا وحشیانہ قتل عام جاری،شمالی غزہ کے اسپتالوں میں کفن ختم ہو گئے

    شمالی غزہ میں فلسطینیوں کی نشل کشی جاری، اسرائیلی جارحیت اور قتل عام اس قدر بڑھ چکا ہے کہ غزہ کے اسپتالوں میں شہید فلسطینوں کی لاشوں کو دفنانے کیلئے کفن ختم ہوچکے ہیں۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق غزہ کی وزارت صحت کے ڈائریکٹر منیر البرش جو اس وقت شمالی غزہ میں موجود ہیں کا کہنا ہے کہ ہماری آنکھوں کے سامنے کئی زخمی شہید ہوگئے اور ہم ان کے لیے کچھ بھی نہ کرسکے اسپتالوں میں کفن ختم ہوچکے ہیں اور ہم نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں موجود کپڑے عطیہ کریں۔

    عرب میڈیا کے مطابق فلسطینی حکام اور سول سروسز کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کے حملوں میں شہید ہونے والے درجنوں افراد کی لاشیں سڑکوں پر بکھری ہوئی ہیں یا عمارتوں کے ملبے میں دبی ہوئی ہیں تاہم مسلسل بمباری کے باعث ان تک پہنچنا مشکل ہورہا ہے۔

    عرب خبر رساں ادارے الجزیرہ نے طبی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ آج صبح سے غزہ پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 45 افراد شہید ہو چکے ہیں ان میں سے 37 شمالی غزہ میں مارے گئے، اسرائیلی فوج شمالی غزہ میں 18 روز سے جاری محاصرے کے دوران 640 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کرچکی ہے۔

    دوسری جانب شمالی غزہ کے زیر محاصرہ علاقے جبالیہ کے کمال عدوان اسپتال کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اگر امداد نہ پہنچی تو آئندہ چند گھنٹوں میں اسپتال میں موجود زخمی زندہ نہیں بچیں گے کمال عدوان اسپتال کے سربراہ ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی جاری ہے دنیا فوری طور پر ادویات، امداد اور طبی عملے کی فراہمی کےلیے اقدامات کرے اگر ایسانہ کیا گیا تو آئندہ چند گھنٹوں میں زخمی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے، گلیوں میں جو کوئی نظر آتا ہے اس پر گولی چلائی جاتی ہے، یہاں موجود لوگوں کا قتل عام ہورہا ہے۔

    واضح رہے کہ غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 7 اکتوبر 2023 سے اب تک 42 ہزار 600 سے زائد افراد، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، شہید ہو چکے ہیں جبکہ99 ہزار 800 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

  • پاکستانی حکام کو عمران خان کو فوری رہا کرنا چاہیے،برطانوی ارب پتی

    پاکستانی حکام کو عمران خان کو فوری رہا کرنا چاہیے،برطانوی ارب پتی

    لندن: برطانوی ارب پتی رچرڈ برانسن نے عمران خان کی رہائی کیلئے آواز بلند کر تے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی حکام کو عمران خان کو فوری رہا کرنا چاہیے-

    باغی ٹی وی : رچرڈ برانسن نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر عمران خان کے ساتھ کھینچی گئی ایک پرانی تصویر شیئر کی اور ساتھ ہی کہا کہ یہ کرکٹ کے بارے میں نہیں ہے، پاکستانی حکام کو عمران خان کو فوری رہا کرنا چاہیے ان کی بلاجواز گرفتاری سے پاکستان میں جمہوریت اور قانون کی حکمرانی پر سیاہ بادل منڈلا رہے ہیں۔‘
    pak
    رچرڈ برانسن نے اپنی اس پوسٹ کے ساتھ مشہور میگزین ”ٹائم“ کا ایک مضمون بھی شیئر کیا جس میں اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی صحت، وہاں کی ناقص سہولیات اور ان کی سابقہ اہلیہ جمائمہ گولڈ اسمتھ کے خدشات پر بات کی گئی تھیعمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما گولڈ سمتھ نے عمران خان، ان کی بہنوں عظمیٰ خان، علیمہ خان اور بھانجے حسان نیازی کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا تھا-

    جمائما گولڈ سمتھ نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک طویل پوسٹ میں لکھا تھا کہ میرے بچوں قاسم اور سلیمان کے والد عمران خان کے ساتھ جیل میں روا رکھے گئے سلوک پر ہمیں تشویش ہے، حکام نے عمران خان سے ملاقاتوں اور بچوں کے ساتھ ان کی ہفتہ وار فون کال پر پابندی عائد کر دی ہے جبکہ ان کے مقدمات کی سماعت بھی ملتوی کر دی گئی ہے،جیل میں عمران خان کے سیل کی بجلی کاٹ دی گئی ہے اور وہ اب مکمل اندھیرے میں قید تنہائی کاٹ رہے ہیں، جیل کے باورچی کو بھی چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے، وکلا کو عمران خان کو صحت سے متعلق بھی تحفظات ہیں۔‘

  • خیبرپختونخوا حکومت کا وزرا  اور مشیروں کی تنخواہوں اور مراعات کا ترمیمی بل 2024 اسمبلی میں پیش

    خیبرپختونخوا حکومت کا وزرا اور مشیروں کی تنخواہوں اور مراعات کا ترمیمی بل 2024 اسمبلی میں پیش

    پشاور:خیبرپختونخوا حکومت نے وزرا اور مشیروں کے مراعات میں مزید اضافے کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : کے پی کے وزرا اور مشیروں کے مراعات میں مزید اضافے کے حوالے سے تنخواہوں اور مراعات کا ترمیمی بل 2024 اسمبلی میں پیش کردیا گیا ہے،صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کابینہ اراکین کو رہائش گاہ فراہم کرنے کی پابند ہے، حکومت میں آئے تو وزرا کے لئے صرف 7 گھر دستیاب تھے، وزیراعلیٰ نے قرعہ اندازی کے ذریعے وہ گھر تقسیم کئے۔

    انہوں نے کہا کہ نگران وزرا کو سرکاری گھر کی سہولت حاصل نہیں تھی، پہلے تزئین و آرائش کے لئے 5 لاکھ روپے مختص تھے جس میں سے تین ساڑھے تین لاکھ روپے دیئے جاتے تھے، تین لاکھ میں تو گھر کے لئے صرف پردے بھی نہیں آتے2014 سے ہاؤس رینٹ کی مد میں 70 ہزار روپے ملتے تھے، حکومت نے اس 70 ہزار کو صرف دو لاکھ کردیا ہے، 2 لاکھ میں کسی پوش علاقہ میں ایک اوسط گھر ہی مل سکتا ہے پنجاب حکومت نے وزرا کے لئے الگ رہائش گاہوں کی تعمیر کا فیصلہ کیا ہے، اس ایک ایک رہائش گاہ پر 50 کروڑ کی لاگت آئے گی، اس صوبے میں معمولی اضافہ پر واویلا نہ کیا جائے۔

    اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا کہ صوبے کے حالات کو دیکھتے ہوئے میں اپنی تمام مراعات نہ لینے کا اعلان کرتا ہوں، میں نے نہ کوئی سرکاری رہائش گاہ لی ہے اور نہ ہی کرایہ کی مد میں پیسے لوں گا۔

    واضح رہے کہ نئی ترامیم کے تحت وزراء کو سرکاری گھر میں تزئین و آرائش کیلئے ایک دفعہ 10 لاکھ دیئے جائیں گے، 10 لاکھ روپے کی اس تزئین و آرائش میں قالین، پردے، ائیر کنڈیشن اور ایک ریفریجریٹر شامل ہوگا سرکاری گھر نہ ہونے کی صورت میں وزیر کو کرائے پر گھر لینے کے لئے ماہانہ 2 لاکھ روپے دیے جائیں گے، کرائے کے گھر میں بھی وزرا تزئین و آرائش کیلئے ایک دفعہ 10 لاکھ روپے خرچ کرسکیں گے کوئی وزیر رہائش کیلئے اپنا ذاتی گھر استعمال میں لانے پر 2 لاکھ روپے کرایہ وصول کرسکے گا، لیکن سرکاری یا کرائے کی رہائش گاہ خالی کرنے پر ترئین و ارائش کی اشیاء واپس کرنی ہوں گی۔

  • مخصوص نشستوں کے کیس میں دو ججز کا اقلیتی تفصیلی فیصلہ جاری

    مخصوص نشستوں کے کیس میں دو ججز کا اقلیتی تفصیلی فیصلہ جاری

    اسلام آباد: مخصوص نشستوں کے کیس میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے اقلیتی تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اقلیتی فیصلے میں اضافی نوٹ بھی لکھا ہے۔

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے 14 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ تحریر کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ فیصلے میں آئینی خلاف ورزیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی میرا فرض ہے، توقع ہے کہ اکثریتی ججز اپنی غلطیوں پرغور کرکے انہیں درست کریں گے پاکستان کا آئین تحریری ہے اور آسان زبان میں ہے، امید کرتا ہوں اکثریتی ججز اپنی غلطیوں کی تصیح کریں گے، بردار ججز یقینی بنائیں گے کہ پاکستان کا نظام آئین کے تحت چلے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے اکثریتی مختصر فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواستوں پر سماعت نہیں ہوسکی،میرے ساتھی ججز جسٹس منصور اور جسٹس منیب نے اس کے خلاف ووٹ دیا ، امید کرتا ہوں کہ اکثریتی فیصلہ دینے والے اپنی غلطیوں کا تدا ر ک کریں گے، امید کرتا ہوں کہ اکثریتی ججز اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ آئین کے مطابق پاکستان کو چلائیں، پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں جسٹس منصورعلی شاہ اور جسٹس منیب اختر میری رائے کے خلاف گئے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اکثریتی ججز کی رائے پر بھی سوالات اٹھائے، چیف جسٹس نے لکھا کہ آٹھ اکثریتی ججز کے فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے، آٹھ اکثریتی ججز نے مخصوص نشستوں سے متعلق اپیلیں نمٹائی نہیں، جب اپیلیں نمٹائی نہیں گئیں تو کیس زیرِ التوا سمجھا جائے گا، آٹھ ججز نے اپیلیں زیرالتوا رکھ کر پی ٹی آئی اور الیکشن کمیشن کونئی درخواستیں دائرکرنے کا کہا، حتمی فیصلہ نہیں ہوا اس لیے اکثریتی فیصلے پرعملدرآمد نہ کرنے سے توہین عدالت نہیں لگے گی۔

    چیف جسٹس نے لکھا کہ اکثریتی ججز نے وضاحت کی درخواستوں کی گنجائش باقی رکھی، کیس کا چونکہ حتمی فیصلہ ہی نہیں ہوا اس پر عمل درآمد ضروری نہیں، آٹھ ججز نے چیف جسٹس سمیت دیگر بنچ کے ممبران کو آگاہ کیے بغیر وضاحت جاری کی، چیف جسٹس پاکستان کی اجا زت کےبغیر وضاحت ویب سائٹ پر اپلوڈ کی گئی،نہیں معلوم پی ٹی آئی اورالیکشن کمیشن کی وضاحتی درخواستوں پر سماعت کہاں ہوئی، اکثریتی ججزمیں سے متعدد دستیاب نہیں تھے تو چیمبر میں سماعت کیسے ہوئی، ججز کی عدم دستیابی کے باوجود وضاحتی فیصلہ جاری ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔

    واضح رہے کہ 12 جولائی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن اور پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا اور مخصوص نشستیں تحریک انصاف کو دینے کا حکم دیا تھا13 رکنی فل کورٹ بینچ کے 5-8 کی اکثریت کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ تحریک انصاف سیاسی جماعت تھی اور ہے، پی ٹی آئی خواتین اور اقلیتی نشستوں کی حقدار ہے، انتخابی نشان نہ ملنے سے کسی سیاسی جماعت کا انتخابات میں حصہ لینے کا حق ختم نہیں ہوتا۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی 15 دن میں مخصوص نشستوں کیلئے اپنی فہرست جمع کرائے، 80 میں سے 39 ایم این ایز پی ٹی آئی سے وابستگی ظاہر کر چکے ہیں، باقی 41 ارکان 15 دن میں پارٹی وابستگی کا حلف نامہ دیں،سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف ن لیگ اور ارکان اسمبلی نے نظرثانی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں، بعدازاں سپریم کورٹ کے 8 رکنی بینچ نے 2 بار اپنے فیصلے کی وضاحت جاری کی۔

  • بلوچستان کو ملنے والے عالمی بینک کے قرضوں پر وفاق کی گارنٹی ہے ،ذرائع وزارت خزانہ

    بلوچستان کو ملنے والے عالمی بینک کے قرضوں پر وفاق کی گارنٹی ہے ،ذرائع وزارت خزانہ

    اسلام آباد: بلوچستان میں سیلاب سے تباہ ہونے والے علاقوں کی بحالی کے لیے چین کی فراہم کی گئی گرانٹ کی قسط پائلٹ پروجیکٹ کے لیے مکمل استعمال نہیں ہوسکی۔

    باغی ٹی وی : ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق عالمی بینک نے سیلاب بحالی پروجیکٹ کے تحت 40 کروڑ ڈالر قرض منظورکیا تھا جس میں سے 21کروڑ 30لاکھ ڈالر کی پہلی قسط استعمال ہونےکے بعد دوسری قسط جاری کی جائے گی، سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کیلئے فنڈز موجود ہیں لیکن حکومت بلوچستان پروجیکٹ پر عملدرآمد کرنے میں ناکام ہے۔

    ذرائع کے مطابق چین نے بلوچستان میں گھروں کی تعمیر کے لیے 20کروڑ ڈالر گرانٹ منظور کی جس سے تقریباً 35 ہزار گھر بنائے جانے ہیں، چین نے پائلٹ پروجیکٹ کے طور 60 لاکھ ڈالر فراہم کیے جس میں 8 ہزار سے زائد گھر کی تعمیر ہونی تھی مگر چین کی فراہم کی گئی گرانٹ کی قسط بلوچستان میں پائلٹ پروجیکٹ کے لیے مکمل استعمال نہ ہوسکی۔

    ذرائع کے مطابق عالمی بینک نے بلوچستان کے لیے 10 کروڑ ڈالر پانی سے متعلق پروجیکٹ کے لیے بھی منظور کیے وفاق نے حکومت بلوچستان کو پروجیکٹس پر تیزی سے عملدرآمد کیلئے بہتر سسٹم بنانے کی تجویز دی ہے، بلوچستان پروجیکٹس پر تیزی سے عملدرآمد کیلئے بہتر سسٹم قائم نہیں کرتا تب تک فنڈز جاری نہیں ہوسکتے، بلوچستان کو ملنے والے عالمی بینک کے قرضوں پر وفاق کی گارنٹی ہے جو وہ بلوچستان کو گرانٹ کے طور پر فراہم کرے گا۔

  • ایرانی حمایت یافتہ عسکریت پسند شخصیات کو ’دہشتگردی‘ سے جوڑنے پر سعودی ٹی وی کا لائسنس معطل

    ایرانی حمایت یافتہ عسکریت پسند شخصیات کو ’دہشتگردی‘ سے جوڑنے پر سعودی ٹی وی کا لائسنس معطل

    بغداد: عراق کے میڈیا ریگولیٹری نے ملک میں کام کرنے والے سعودی ٹی وی کا لائسنس منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : عراق کے میڈیا کی نگرانی کرنے والے کمیشن نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ وہ ملک میں کام کرنے کے لیے سعودی ٹیلی ویژن اسٹیشن کا لائسنس منسوخ کرنے کے لیے اقدامات کرے گا، یہ اس رپورٹ کے خلاف احتجاج کے طور پر عراقی ملیشیا کے درجنوں حامیوں نےبغداد میں نشریاتی ادارے ایم بی سی کےدفتر پر دھاوا بول دیا جس میں کچھ ایرانی حمایت یافتہ عسکریت پسند شخصیات کو ”دہشت گرد“ کا لیبل لگا کر عراقی ملٹری کے حامیوں کو ناراض کیا گیا تھا۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق رپورٹ میں حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ اور یحییٰ سنوار، حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ اور ایرانی جنرل قاسم سلیمانی جیسی شخصیات کا ذکر کیا گیا ہے، عراق سعودی عرب کے چینل کو ملک میں مکمل طور پر بند کرنے کے اقداما ت بھی کر رہا ہے۔

    عراق کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی ویب سائٹ پر موجود عراقی میڈیا ریگولیڑ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایم بی سی نے اپنی رپورٹ میں شہیدوں کی توہین کی ہے سعودی ٹی وی چینل پر اس رپورٹ کے نشر ہونے کے بعد بغداد میں ایم بی سی میڈیا گروپ کے چینل پر ایران کے حامی مسلح گروہوں نے حملہ کر دیا تھا اور دفاتر میں توڑ پھوڑ بھی کی تھی۔

    گذشتہ جمعے یہ رپورٹ نشر کرنے پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایم بی سی میڈیا گروپ کے دفتر کے باہر جمع ہوگئی تھی اور ان کی جانب سے سعودی عرب مخالف نعرے بھی لگائے گئے تھے، عراق میں پائے جانے والے غم و غصے کے سبب سعودی عرب نے اپنی ایک وضاحت میں کہا کہ ایم بی سی نے اس رپورٹ کو نشر کر کے سعودی عرب کی اپنی میڈیا پالیسی کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔

    امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق سعودی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنے قوانین کے تحت بھی ٹی وی چینل کے خلاف کارروائی کرنے پر غور کر رہے ہیں۔