Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • آرٹیکل 63 اے: چیف جسٹس نے بیرسٹر علی ظفر کو عمران خان سے ملنے کی اجازت دیدی

    آرٹیکل 63 اے: چیف جسٹس نے بیرسٹر علی ظفر کو عمران خان سے ملنے کی اجازت دیدی

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے خلاف نظرثانی اپیلوں پر سماعت آج ہو رہی ہے سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل سید مصطفین کاظمی اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے درمیان تلخ کلامی ہوئی،جس پر چیف جسٹس نے پی ٹی آئی وکیل کو کمرہ عدالت سےباہر نکالنے کا حکم دیا-

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 5 رکنی لارجر بینچ سماعت کررہا ہے، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس مظہر عالم میاں خیل بینچ کا حصہ ہیں۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز جسٹس منیب اختر کی بینچ میں شمولیت سے انکار کے بعد نیا بینچ تشکیل دیا گیا، ججز کمیٹی نے جسٹس منیب اختر کی جگہ جسٹس نعیم اختر افغان کو بینچ کا حصہ بنایا۔

    سماعت کے آغاز پر 63 اے تفصیلی فیصلے سے متعلق رجسٹرار کی رپورٹ پیش کی گئی جس کے مطابق کیس کا تفصیلی فیصلہ 14 اکتوبر 2022 کو جاری ہوا،صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت روسٹرم پر آگئے، چیف جسٹس نے شہزاد شوکت سے استفسار کیا کہ آپ کے دلائل تو مکمل ہو چکے تھے۔

    صدر سپریم کورٹ بار نے عدالت کو بتایا کہ تفصیلی فیصلے کے انتظار میں نظرثانی دائر کرنے میں تاخیر ہوئی، مختصر فیصلہ آ چکا تھا لیکن تفصیلی فیصلے کا انتظار کررہے تھے،جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ عام بندے کا کیس ہوتا تو بات اور تھی، کیا سپریم کورٹ بار کو بھی پتہ نہیں تھا نظرثانی کتنی مدت میں دائر ہوتی ہے۔

    شہزاد شوکت نے کہا کہ مفادِ عامہ کے مقدمات میں نظرثانی کی تاخیر کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے، مفادِعامہ کے مقدمات کو جلد مقرر بھی کیا جاسکتا ہے، نظرثانی 2 سال سے سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوئی تھی۔

    اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کے وکیل علی ظفر روسٹرم پر آگئے اور انہوں نے کہا کہ نظرثانی درخواست تاخیر سے دائر ہوئی جس کے باعث مقرر نہیں ہوئی، میں پہلے ایک بیان دے دوں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت میں بیان نہیں گزارشات سنتے ہیں، بیان ساتھ والی عمارت پارلیمنٹ میں جا کر دیں۔

    علی ظفر نے کہا کہ نظرثانی درخواست تاخیر سے دائر ہوئی جس کے باعث مقرر نہیں ہوئی، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ بتائیں نظرثانی فیصلے کے خلاف ہوتی یا اس کی وجوہات کے خلاف ہوتی؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ کل کے دلائل بہت میٹھے تھے، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ آج کے دلائل کل سے بھی زیادہ میٹھے ہوں گے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یعنی آپ کو کل کے دلائل پسند آئے تھے، جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ شیریں اور تلخ کی ملاوٹ سے ہی ذائقہ بنتا ہے،وکیل علی ظفر نے کہا کہ میں بتانا چاہتا ہوں کہ آج میں تلخ دلائل دوں گا، میں نے درخواست دائر کی لیکن سپریم کورٹ آفس نے منظور نہیں کی، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمیں درخواست کا بتا دیں، آپ نے صبح دائر کی ہوگی۔

    عمران خان کے وکیل نے کہا کہ مجھے دلائل دینے کے لیے وقت درکار ہے، مجھے بانی پی ٹی آئی سے کیس پر مشاورت کرنی ہے، آپ نے کہا تھا آئینی معاملہ ہے، وہ سابق وزیرِ اعظم ہیں، درخواست گزار بھی ہیں، ان کو آئین کی سمجھ بوجھ ہے، ان کو معلوم ہے کیا کہنا ہے کیا نہیں، مجھے اجازت دیں کہ ان سے معاملے پر مشاورت کرلوں۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ اپنے دلائل شروع کریں، جس پر وکیل علی ظفر نے کہا کہ یعنی آپ میری بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست مسترد کر رہے ہیں، جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ آپ کل بھی ملاقات کر سکتے تھے، جس پر علی ظفر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان جیل میں ہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے مشاورت کرنی تھی تو کل بتاتے، عدالت کوئی حکم جاری کر دیتی، ماضی میں ویڈیو لنک پر بانی پی ٹی آئی عمران خان کو بلایا تھا، وکلا کی ملاقات بھی کرائی تھی، وکیل علی ظفر نے چیف جسٹس سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یقین تھا آپ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست منظور نہیں کریں گے۔

    کیس کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی وکیل مصطفین کاظمی روسٹرم پر آگئے، چیف جسٹس نے استفسار کیا آپ کس کی طرف سے ہیں، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ میں پی ٹی آئی کی نمائندگی کر رہا ہوں، چیف جسٹس نے ہدایت دی کہ آپ بیٹھ جائیں اگر آپ نہیں بیٹھ رہے تو پولیس اہلکار کو بلا لیتے ہیں جس پر مصطفین کاظمی نے کہا کہ آپ کر بھی یہی سکتے ہیں، باہر ہمارے 500 وکیل کھڑے ہیں، دیکھتے ہیں کیسے ہمارے خلاف فیصلہ دیتے ہیں۔

    اس موقع پر مصطفین کاظمی ایڈووکیٹ نے بینچ میں شریک 2 ججز جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ 5 رکنی لارجر بینچ غیر آئینی ہے، 2 ججز کی شمولیت غیر آئینی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پی ٹی آئی وکیل مصطفین کاظمی کو کمرہ عدالت سے باہرنکالنے کا حکم دے دیا اور عدالت میں سول کپڑوں میں موجود پولیس اہلکاروں کو ہدایت دی کہ اس جینٹل مین کو باہر نکالیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ملکی اداروں کو اس طرح دھمکا کر چلانا چاہتے ہیں؟ میرا قصور صرف یہ ہے کہ میں نے ہمیشہ برداشت کا مظاہرہ کیا، میری عدم برداشت کی ایسی تربیت ہی نہیں ہے، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کتنے اراکین پارلیمنٹ کو جیل بھیجا ذرا بتائیں، کوئی جتنا مرضی برا بھلا کہتا رہے ہم کیس چلائیں گے۔

    چیف جسٹس بولے کہ ہم اپنی توہین برداشت نہیں کریں گے، جسٹس مظہر عالم میاں نے کہا کہ عدالت میں کھڑے ہو کر سیاسی باتیں نہ کریں، جب کہ وکیل طیب مصطفین کاظمی کمرہ عدالت سے باہر چلے گئے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا بیرسٹر علی ظفر صاحب یہ کیا ہورہا ہے؟ آپ آئیں اور ہمیں بے عزت کریں، ہم یہ ہرگز برداشت نہیں کریں گے، علی ظفر نے جواب دیا میں تو بڑے آرام سے بحث کررہا تھا اور آپ بھی آرام سے سن رہے رہے تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ججز سے بدتمیزی کا یہ طریقہ اب عام ہوگیا ہے، کمرہ عدالت سے یوٹیوبرز باہر جاکر اب شروع ہوجائیں گے۔

    جسٹس جمال نے کہا کہ یہ ٹرینڈ بن چکا ہے فیصلہ پسند نہ ہو تو عدالتی بنچ پر ہی انگلیاں اٹھانا شروع کر دو، ہم یہاں عزت کیلئے بیٹھے ہیں یہ کوئی طریقہ نہیں ہے جس کے دل میں جو آتا ہے کہتا چلا جاتا ہے ہم پیسوں کے لیے جج نہیں بنے، آپ کو پتا ہے جتنی جج کی تنخواہ بنتی ہے اتنا تو وکیل ٹیکس دے دیتا ہے آئینی اداروں کو دھمکیاں لگانے کا سلسلہ بند کریں۔

    جسٹس جمال نے کہا کہ کہا جاتا ہے عدلیہ میں دو گروپ بنے ہوئے ہیں کیا ہم قومی اسمبلی یا سینیٹ کے ممبران ہیں جو گروپنگ کریں گے؟ اگر کوئی جاہل یا ان پڑھ ایسی بات کرے تو سمجھ بھی آتا ہے یہ جو شخص یہاں آیا تھا میں نے اسے سپریم کورٹ میں اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا، یہ شخص شکل سے تو خاندانی لگ رہا تھا، کیا یہ اپنے بزرگوں کو بھی ایسے ہی کہتا ہوگا؟ ہم اپنی نوجوان نسل کو کس طرف لے کر جا رہے ہیں؟ چند لوگ ملک یا اداروں میں ہیں جو چاہتے ہیں پاکستان اسی طرح چلایا جائے جو ہمدردی تھی وہ بھی شاید آپ کو اب نہ ملے۔

    چیف جسٹس نے بیرسٹر علی ظفر کو دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کی علی ظفر نے کہا کہ اس کیس میں ہمیں کوئی نوٹس تک نہیں دیا گیا، کل عدالت نے جو طریقہ اپنایا وہ غیر قانونی ہے، ایک ہی دن سب کو اکٹھا کر کے کہہ دیا کہ کون کون نظر ثانی کی حمایت کرتا ہے؟ اس کیس میں فریقین کو نوٹس جاری کرنا ضروری تھا بیرسٹر علی ظفر نے بینچ پر اعتراض کیا کہ یہ بینچ قانونی نہیں ہے یہ بینچ ترمیمی آرڈیننس کے مطابق بھی درست نہیں اب میرے دلائل سخت ہوں گے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے لہجے میں آج تک تلخی نہیں دیکھی علی ظفر نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس میں یہ عدالت فیصلہ دے چکی چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی جماعت نے اس ایکٹ کی مخالفت کی تھی علی ظفر نے کہا کہ دلائل میں کسی نے کیا کہا وہ اہم نہیں آپ کا فیصلہ اہم ہے۔

    جسٹس جمال نے کہا کہ آپ کی جماعت کل پارلیمنٹ میں موجودہ آرڈیننس کو ختم کرنے کا بل لاسکتی ہے، کل آپ کی جماعت ایسا قانون بنا دے تو کیا میں کہہ سکتا ہوں یہ ججز کی پسند یا ناپسند کی بات نہیں، قانون معطل تھا، اس کے باوجود میں نے چیف جسٹس بن کر دو سینئر ججز سے مشاورت کی۔

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جسٹس منصور نے آپ کا حوالہ بھی دیا جب آپ سینئر جج تھے، آپ بھی ایک عرصے تک چیمبر ورک پر چلے گئے تھے،چیف جسٹس نے کہا کہ میرے اعمال میں شفافیت تھی سمجھتا تھا قانون کو بل کی سطح معطل نہیں ہونا چاہیے، کیا ہم فل کورٹ میٹنگ بلا کر ایک قانون کو ختم کر سکتے ہیں؟ میری نظر میں میرے کولیگ نے جو لکھا وہ آئین اور قانون کے دائرے میں نہیں تھا، کل میں میٹنگ میں بیٹھنا چھوڑ دوں تو کیا سپریم کورٹ بند ہو جائے گی؟

    جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کل میرے کزن نے مجھے کہا سپریم کورٹ تو برباد ہو گئی ہے، میں نے پوچھا کیا وجہ ہے؟ کزن نے کہا پریکٹس اینڈ پروسیجر کی وجہ سے سپریم کورٹ برباد ہوئی، میں نے کزن سے پوچھا کیا آپ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر پڑھا ہے، اس نے کہا نہیں، ہم لوگوں کو قانون پڑھا نہیں سکتے، صرف ضمیر کے مطابق قانون کے تحت فیصلے کرسکتے ہیں۔

    علی ظفر نے کہا کہ جسٹس منیب 30 ستمبر کو بینچ کا حصہ نہیں بنے جسٹس منیب کی غیر موجودگی میں بینچ کو بیٹھنا نہیں چاہیے تھا۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ علی ظفر صاحب آپ ججز کا انتخاب خود نہیں کرسکتے ایسا طرز عمل تباہ کن ہے، کیا ماضی میں یہاں سینیارٹی پر بینچ بنتے رہے؟ آپ نے بار کی جانب سے کبھی شفافیت کی کوشش کیوں نہ کی؟ 63 اے پر آپ کا ریفرنس آیا، فوری سنا گیا، اُس وقت 10 سال پرانا بھٹو ریفرنس زیر التوا تھا، بابر اعوان دونوں ریفرنسز میں بطور وکیل پیش ہوئے، شفافیت کا تقاضا تھا بابر اعوان پہلے دن کہتے پہلے پرانا ریفرنس سنیں۔

    پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پہلے یہ فیصلہ کیا جائے کہ یہ بنچ قانونی ہے پہلے یہ طے ہوجائے پھر میں دلائل دوں گا۔

    چیف جسٹس نے بینچ کی تشکیل پر اعتراض مسترد کردیا اور کہا کہ آپ نے کہا فیصلہ سنادیں تو ہم نے سنا دیا ہم سب کا مشترکہ فیصلہ ہے بینچ کے اعتراض کو مسترد کرتے ہیں،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بینچ تشکیل دینے والی کمیٹی کے ممبران بینچ کا حصہ ہیں، وہ خود کیسے بینچ کی تشکیل کو قانونی قرار دے سکتے ہیں؟

    چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ایسا ہو تو ججز کمیٹی کے ممبران کسی بینچ کا حصہ ہی نہ بن سکیں، آپ ہمیں باتیں سناتے ہیں تو پھر سنیں بھی، ہم پاکستان بنانے والوں میں سے ہیں توڑنے والوں میں سے نہیں، ہم نے وہ مقدمات بھی سنے جو کوئی سننا نہیں چاہتا تھا، پرویز مشرف کا کیس بھی ہم نے سنا۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر سے کہا کہ آپ نے بہت کوشش کی ہم ناراض ہو جائیں ہم کم از کم آپ سے ناراض نہیں ہوں گے،وکیل پیپلز پارٹی فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ویسے جس انداز میں آج دلائل دیے گئے میری رائے مزید پختہ ہوچکی کہ ملک میں آئینی عدالت بننی چاہیے،چیف جسٹس پاکستان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ میں اس پر کچھ نہیں کہوں گا۔

    چیف جسٹس نے بیرسٹر علی ظفر کو عمران خان سے ملنے کی اجازت دی اور کہا کہ وہ اس وقت سے لے کر صبح دس بجے تک جب چاہیں ملاقات کرسکتے ہیں، کوئی مسئلہ ہو تو علی ظفر ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے فون پر فوری رابطہ کریں، عدلیہ میں شفافیت آچکی آمرانہ دور گزر چکا اور آمرانہ دور کو سپورٹ کرنے والا دور بھی گزرچکا، اب نہ اداروں میں آمرانہ دور آئے گا اور نہ ملک میں۔

    جسٹس جمال نے کہا کہ پتا نہیں ہم کل رہتے بھی ہیں یا نہیں، اگر ججز کمیٹی میں ایک ممبر انکار کردے تو کیا ہونا چاہیے آپ تجویز دے دیں، ہم وہ تجویز آنے والے چیف جسٹس پاکستان تک پہنچا دیں گے، فی الحال تو ہماری رائے یہی ہے کہ دو ججز کی کمیٹی اپنے امور جاری رکھ سکتی ہے۔

    وکیل بانی پی ٹی آئی بیرسٹر ظفر نے کہا کہ فیصلہ لکھنے والے جج کو بنچ میں ضرور ہونا چاہیے،چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ہمارے پاس ایسا اختیار ہے ہم کسی کو پکڑ کر بینچ میں بٹھا سکیں؟

    جسٹس جمال نے کہا کہ اگر کوئی خود بینچ میں نہ آنا چاہے تو کیا ہم جرگہ لے کر چلے جائیں؟ بتائیں ہم کیا کریں؟ اس پر علی ظفر نے کہا کہ عدالت کو اس کیس میں جلدی کیا ہے؟

    چیف جسٹس نے کہا کہ تقریباً ڈھائی سال بعد کیس لگ رہا ہے اور آپ اسے جلدی کہہ رہے ہیں؟ طویل سماعت کے باوجود آپ نے کیس کے میرٹس پر ایک لفظ بھی نہیں کہا، فرض کریں ایک وزیراعظم اپنے دفتر کو ذاتی مفادات کیلئے استعمال کرے، اس وزیراعظم کے اپنے ممبران اسے ہٹانا چاہیں تو اس فیصلے سے وہ راستہ بند کردیا گیا ہے، اس عدالتی فیصلے کی موجودی میں تو اپوزیشن بھی عدم اعتماد کی تحریک نہیں لاسکے گی پارلیمنٹ اگر خود سے چاہے تو آرٹیکل 63 اے اور آرٹیکل 136 کو ختم کردے۔

    علی ظفر نے کہا کہ میری استدعا ہے کہ اس ادارے سپریم کورٹ کیلئے کچھ کریں، میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں،جسٹس جمال نے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ صاحب نے بہت کوششیں کیں، ملاقات کیلئے اکیلے جائیں جلوس لے کر نہ جائیے گا۔

    وکیل پیپلز پارٹی فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا میں فلور کراسنگ کا تصور ہے، ان ممالک کا ماننا ہے کہ فلور کراسنگ سے جمہوریت مضبوط ہوتی ہے،چیف جسٹس نے فاروق نائیک سے کہا کہ ایسی باتیں نہ کریں کہیں آپ کو آپ کی پارٹی نکال نہ دے۔

    فاروق نائیک نے کہا کہ میری ایک بار صدر آصف زرداری سے ملاقات ہوئی انھوں نے کہا ایسا قانون نہ بنانا جو کل تمھارے آگے آئے،جسٹس جمال نے کہا کہ آپ پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین ہیں کیا آپ نے وکیل کے کنڈکٹ کا نوٹس لیا ؟ اس پر فاروق نائیک نے یقین دہانی کرائی کہ عدالت سے بدتمیزی کرنے والے وکیل کو نوٹس جاری کیا جائے گا۔

    بعدازاں کیس کی سماعت کل ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردی گئی۔

  • ٹیسٹ سیریز :انگلینڈ  کرکٹ ٹیم  پاکستان پہنچ گئی

    ٹیسٹ سیریز :انگلینڈ کرکٹ ٹیم پاکستان پہنچ گئی

    ملتان: انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کی ٹیسٹ سیریز کھیلنے کے لیے پاکستان پہنچ گئی-

    باغی ٹی وی : پاکستان کے خلاف 3 میچوں کی ٹیسٹ سیریز کھیلنے کے لیے انگلینڈ کرکٹ ٹیم پاکستان پہنچ گئی، انگلش آل راؤنڈر اور کپتان بین اسٹوکس کی قیادت میں انگلینڈ ٹیم ملتان ایئرپورٹ پہنچی،ملتان میں انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم 2 اور 3 اکتوبر کو آرام کے بعد 4 اکتوبر سے اپنی پریکٹس شروع کرے گی۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ 7 اکتوبر سے ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، دوسرا ٹیسٹ بھی ملتان میں 15 اکتوبر سے شروع ہوگا جبکہ تیسرا ٹیسٹ 24 اکتوبر سے راولپنڈی میں کھیلا جائے گا۔

  • ایران کی جانب سے اگلا حملہ اس سے کہیں زیادہ تکلیف دہ  ہوگا،ایرانی سپریم لیڈر

    ایران کی جانب سے اگلا حملہ اس سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہوگا،ایرانی سپریم لیڈر

    تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ ایران کی جانب سے اگلا حملہ اس سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوگا ،ایرانی وزیر دفاع نے کہا کہ اسرائیل پر جوابی حملے میں صرف ایک فیصد میزائل استعمال کیے،جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا ذمہ دار جوبائیدن کو قراردیا،جبکہ مشرقی وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : اسرائیل پر حملے کے بعد سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں اسرائیل کو وارننگ دی،آیت اللّٰہ خامنہ ای نے اپنے بیان میں کہا کہ اللہ کی مدد سے مزاحمت محاذ جو ضرب صیہونی ریاست کو لگائے گا وہ اس سے کہیں زیادہ شدید اور تکلیف دہ ہوگی۔

    آیت اللہ خامنہ ای نے سوشل میڈیا پر یہ پوسٹ عبرانی زبان میں کی ہے اور یہ پوسٹ ایران کی جانب سے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل برسانے کے چند ہی لمحے بعد کی گئی۔

    اس سے قبل سپریم لیڈر کے ایکس کے آفیشل اکاؤنٹ سے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے بنی میزائلوں کی تصویر پوسٹ کی گئی اور اس پر ’نصر من اللہ و فتح قریب‘ درج ہے،اس ٹوئٹ کو چند منٹ میں سیکڑوں بار ری ٹوئٹ کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ ایران نے امریکہ کی جانب سے اسرائیل پر ایران کے بڑے حملے کی تیاری کی اطلاع دئے جانے کے بعد ایران نے مبینہ طور پر اسرائیل پر 400 سے زائد بیلسٹک میزائل داغے جو اصفہان، تبریز، خرم آباد، کرج اور اراک سے فائر کیے گئے جس کے بعد مقبوضہ بیت المقدس سمیت اسرائیل بھر میں سائرن بجنے لگے، میزائل حملوں کے بعد اسرائیلیوں نے بنکرز میں پناہ لی۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق تل ابیب اور شیرون میں راکٹ گرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور اسرائیلی ایمبولینس سروسز نے 2 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی،اسرائیلی ایمبولینس سروسز نے بتایاکہ میزائل حملوں کے دوران شیلٹرز میں جانے کیلئے بھگدڑ میں کئی افراد زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد دی گئی، اسرائیل کی فضائی حدود بند کردی گئیں اور ہوائی اڈوں پر موجود تمام مسافروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے-

    تہران ٹائمز کے مطابق ایران نے میزائل حملوں میں اسرائیل کے ایف 35 جہازوں کے اڈے نیو اٹم ایئر بیس کو نشانہ بنایا۔

    ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اپنے فاتح 2 ہائپر سونک میزائلوں سے اسرائیلی ریڈار میزائل ڈیفنس یرو 2 اور 3 کو تباہ کردیا ہے۔ اسرائیل پر حملے کے لیے ایران نے فاتح دوم کے نام سے ہائپرسونک میزائل استعمال کیے جو 16 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتے ہیں۔ ان میزائلوں کو ایران سے اسرائیل پہنچنے کے لیے صرف 3 منٹ لگےاپریل میں اسرائیل پر پہلے حملے کے وقت ایران سپر سونک میزائلوں کا استعمال کیا تھا لیکن اس مرتبہ ہائپرسونک میزائلوں کے استعمال کے سبب اسرائیل کو مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔

    ادھر ایرانی میڈیا نے ایران کی پاسداران انقلاب کا حوالہ دے کر تصدیق کی کہ پہلی مرتبہ فاتح 2 ہائپر سونک میزائلوں کا استعمال کیا گیا اور دشمن کے دفاعی نظام ریڈار میزائل ڈیفنس یرو 2 اور 3 کو تباہ کردیا۔

    پاسداران انقلاب نے اسرائیل پر حملے کو اسماعیل ہنیہ اورحسن نصر اللہ کے قتل کا بدلہ قرار دے دیا۔

    ایرانی فوج کے مطابق میزائلوں سے اسرائیل کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ اگر اسرائیل نے جوابی کارروائی کی تو مزید حملے کئے جائیں گےایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے بیان میں کہا حملے صیہونی حکومت کی جارحیت کا جواب تھا، یہ اقدامات ایرانی مفادات اور شہریوں کے دفاع میں کیے گئے، نیتن یاہو ایران کے مؤقف کو تسلیم کریں،ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ حملہ حسن نصر اللہ اور اسماعیل ہانیہ کی شہادت کا بدلہ ہے، اگر صیہونی ریاست نے ایران پر حملہ کیا تو تباہ کن حملوں کا سامنا کرنا پڑےگا۔

    جس کے جواب میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایران کو خبردار کیا کہ انہوں نے بہت بڑی غلطی کی ہے جس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا اور اب اسرائیل ان حملوں کا بھرپور جواب دے گا۔

    ایران کے اسرائیل پر میزائل حملوں کے بعد صدر جو بائیڈن سمیت دیگر امریکی عہدیداروں کی جانب سے ایران کو دھمکیاں دی جانے لگیں،امریکا نے اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہونے اور مکمل دفاع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ علاوہ ازیں، صدر بائیڈن نے امریکی فوج کو صہیونی ریاست کا دفاع کرنے کا حکم دے دیا۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ ایران کا حملہ بظاہر ناکام رہا ہے، ایران کو حملے کے نتائج بھگتنا ہوں گےاسرائیل کو امریکا کی مکمل سپورٹ حاصل ہے، امریکا نے اسرائیل کے دفاع کے لیے فعال کردار ادا کیا، آگے بھی اسرائیل کے دفاع میں مدد کے لیے تیار ہیں،ایران کے اسرائیل پرحملوں کےاثرات مرتب ہوں گے، ایرانی حملے پر اسرائیلی وزیراعظم سے بات کروں گا، امریکی نیشنل سکیورٹی ٹیم اسرائیلی حکام سے مستقل رابطے میں ہیں،امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا، اجلاس میں ایران کے اسرائیل پر حملےکی صورت میں تیاریوں پر غور کیا گیا، اجلاس میں نائب صدر کاملا ہیرس بھی موجود تھیں۔

    اپنے بیان میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ ایران کا اسرائیل پر میزائل حملہ ناقابل قبول ہے، پوری دنیا کو ایران کے حملے کی مذمت کرنی چاہیئے ایران نے تقریباً 200 بیلسٹک میزائل فائر کیے، اسرائیلی نے موثر طریقے سے حملے کو ناکام بنایا۔

    امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سالیوان نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران نے خطے میں کشیدگی بڑھائی ہے، ایرانی میزائلوں سے اسرائیل کو بچانے کے لیے امریکی نیوی نے اسرائیل کی مدد کی ایران نے اسرائیل پر 200 میزائل فائر کیے، امریکی نیوی کے جہازوں نے اٹیک روکنے میں حصہ لیا، امریکا نے اسرائیلی فوج کے ساتھ مل کر دفاع کیا۔

    اسرائیل پر ایرانی میزائل حملے پر امریکی محکمہ خارجہ کا ردعمل
    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا ہے کہ ایران نے اسرائیل پر براہ راست حملہ کیا ہے، آج کا حملہ اسٹیٹ کی طرف سے اسٹیٹ پر حملہ ہے، اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔

    واشنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ ایران کے اسرائیل پر میزائل حملے سے آگاہ ہیں، ایران نے اسرائیل پر تقریباً 200 میزائل فائر کیے، حملوں کے خلاف اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں، ایران کے میزائل حملوں کو روکنے کے لیے امریکا نے اسرائیل کی مدد کی، ایرانی حملے میں امریکی تنصیبات محفوظ ہیں۔

    میتھو ملر کا کہنا تھا کہ ایران نے اسرائیل پر حملے کا پہلے نہیں بتایا، ایران کا حملہ ریاست کی طرف سے ریاست پر حملہ ہے، ایران نے براہ راست حملہ کیا ہےاسرائیل پر ایرانی میزائل حملے دہشت گردی ہے، اسرائیل پر ایرانی حملہ قابل مذمت ہے، دنیا ایران کی مذمت میں ہمارا ساتھ دے، ہم ایرانی حملوں کے خلاف اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں، اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، ایران کو حملے کے سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

    امریکی محکہ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ خطے میں شراکت داروں سے رابطہ ہے، ایران دہشت گردوں کی جماعت ہے، ایران برسوں سے دہشت گرد گروپوں کی سرپرستی کر رہا ہے، ایران مشرق وسطیٰ میں دہشت گرد گروپوں کو فنڈنگ بھی کر رہا ہے لبنان کچھ عرصہ سےعدم استحکام کا شکار ہے، ہمارے مفاد میں جو بہتر ہو گا، وہ کریں گے، ہوسکتا ہے امریکی صدرجنگ بندی کی نئی تجاویز دیں، حماس کے حملے پر کہا تھا کشیدگی پورے خطے میں بڑھے گی، حماس مذاکرات کی میز پر نہیں آرہا تھا، حماس کے مذاکرات پر راضی نہ ہونے سے سیز فائرنہیں ہو سکا۔

    سابق امریکی صدر اور ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا ذمہ دار امریکی صدر جوبائیدن کو قرار دے دیا۔

    اپنے ایک بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے بائیڈن انتظامیہ کو مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر بائیڈن نے دنیا کو آگ میں دھکیل دیا ہے، دنیا آگ کی لپیٹ میں ہے اور یہ قابو سے باہر ہو رہی ہے،مشرق وسطیٰ کی جنگ پوری دنیا میں پھیل سکتی ہے، صدر منتخب ہوا تو خطے سے جنگ کا خاتمہ اور مشرق وسطیٰ میں امن بحال کراؤں گا،ہمارے پاس جوبائیڈن کی صورت میں ایک غیر ذمہ دار صدر ہے، اس وقت امریکا کے پاس کوئی قیادت نہیں، ملک بغیر قیادت کے چل رہا ہے۔

    جرمنی نے اسرائیل پر ایرانی حملے کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایران خطے میں کشیدگی بڑھانے سے باز رہے۔

    برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے بھی ایران کی جانب سے اسرائیل پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ برطانیہ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے،ایران کی خطے کو جنگ میں دھکیلنے کی کوشش قابل مذمت ہے، ایران کو ایسے حملے اور حزب اللّٰہ جیسی پراکسیز کو بند کرنا چاہیئے۔

    اسرائیل کو ایرانی میزائل گرانے کے لیے کروڑوں ڈالر خرچ کرنا پڑے۔

    دی گارڈین کے مطابق ایرو دوم اور سوم کی ایک میزائل کی قیمت 25 لاکھ ڈالر ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ایران نے 180 میزائل داغے اس اعتبار سے اسرائیل کو ایرانی میزائل گرانے کے لیے کروڑوں ڈالر خرچ کرنا پڑے، ایران کے پاس تقریبا تین ہزار ہائپرسونک بیلسٹک میزائل ہیں لیکن یہ تخمینہ امریکہ نے ڈھائی برس پہلے لگایا تھا اور ان کی تعداد زیادہ ہو سکتی ہے۔

    دوسری جانب ایران کو ایک ہائپرسونک میزائل صرف 80 ہزار ڈالر کا پڑتا ہےایران کی جانب سے ہائپرسونک میزائل استعمال کرنے کی نتیجے میں اسرائیل کو ایک اور مشکل یہ درپیش آئی کہ ان میزائلوں کو مار گرانا بھی آسان نہیں تھا۔ سینکڑوں میزائل فائر کیے جانے کی وجہ سے اسرائیل کا میزائل دفاعی نظام بیٹھتا دکھائی دیا، ہائپرسونک بیلسٹک میزائل پہلے خلا میں جاتے ہیں اور وہاں سے ان کے وار ہیڈ نیچے گرتے ہیں جس کے نتیجے میں انہیں روکنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

    مشرق وسطی میں کشیدگی میں اضافہ،سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب

    ایران کی جانب سے اسرائیل پر حملے کے بعد مشرق وسطی میں بڑھتی کشیدگی پر آج اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا گیا،اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کی مذمت اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں فوری طور پر جنگ بندی کی ضرورت ہے۔

    ایران کی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے تہران پر کوئی بھی میزائل فائر کیا تو اسرائیل کے زیر قبضہ فلسطینی علاقوں میں ان کے تمام بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائے گا۔

    ایران کی مہر نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق میجر جنرل محمد حسین باقری نے اسرائیل کے خلاف ایران کے جوابی حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ خطے میں اسرائیلی حکومت کے مسلسل جرائم اور تہران میں اسماعیل ہنیہ کے قتل کا ردعمل تھا،گزشتہ دو ماہ ایرانی قوم اور مزاحمتی تنظیم کے لیے دو انتہائی مشکل مہینے تھے۔

    اسرائیل پر جوابی حملے میں صرف ایک فیصد میزائل استعمال کیےایرانی وزیر دفاع

    ایران کے وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل عزیز ناصر زادہ نے کہا ہے کہ تہران نے اسرائیل پر جوابی حملے میں اپنی میزائل صلاحیت کا صرف ایک حصہ استعمال کیا ایران کے وزیر دفاع نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اگر حکومت نے تل ابیب کی جارحانہ کارروائیوں کے خلاف تہران کی حالیہ انتقامی کارروائیوں کا جواب دینے کا سوچا تو اسرائیلی حکومت کو ”بہت زیادہ سخت“ نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ رات کا آپریشن ایران کی میزائل صلاحیت کا صرف ایک حصے کی نمائندگی کرتا ہے، ایک بڑا حصہ پوشیدہ ہے جو انتہائی جدید ٹیکنالوجی اور بہت زیادہ مضبوط تباہ کن میزائلوں پر مشتمل ہے۔

  • سکیورٹی رسک میں اضافہ: اسرائیل کی طویل مدتی کریڈٹ ریٹنگ  میں کمی

    سکیورٹی رسک میں اضافہ: اسرائیل کی طویل مدتی کریڈٹ ریٹنگ میں کمی

    بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی اسٹینڈرڈز اینڈ پورز نے اسرائیل کی طویل مدتی کریڈٹ ریٹنگ کم کر دی۔

    باغی ٹی وی :ریٹنگ ایجنسی اسٹینڈرڈز اینڈ پورز نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل کی حزب اللہ کے ساتھ کشیدگی شدت اختیار کر چکی ہے جس کے باعث اسرائیل کے لیے سکیورٹی خطرات بڑھ گئے ہیں، ہم یہ توقع کر رہے ہیں کہ اسرائیل کی غزہ میں جنگ اور جنوبی سرحد پر زمینی کارروائیاں 2025 میں بھی جاری رہیں گی،ہم اسرائیلی معیشت کی بہتری کی توقع کر رہے تھے اور ہم نےدفاعی اخرا جات اور بجٹ خسارے کے خدشے کے پیش نظر 2024 میں اسرائیل کی جی ڈی پی صفر فیصد اور 2025 میں 2 اعشاریہ 2 فیصد کی توقع کی تھی، موجودہ صورتحال کے پیش نظر اسرائیل کی ریٹنگ اے پلس سے اےکر دی گئی ہے اور آؤٹ لک طویل مدت تک منفی نظر آ رہا ہے۔

    واضح رہے کہ اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 سے غزہ اور دیگر علاقوں میں حملے جاری کر رکھے ہیں اور پورے غزہ کو ملبے کا ڈھیر بنانے کے باوجود اسرائیل اپنے یرغمالیوں کو رہا کروانے میں اب تک ناکام رہا ہے جبکہ اسرائیل نے لبنان میں پہلے پیجرز اور پھر واکی ٹاکی دھماکوں کے بعد حزب اللہ کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ کر کے حزب اللہ سربراہ حسن اللہ کو شہید کیا جس کے بعد سے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بھی لڑائی میں شدت آ چکی ہے اور اسرائیلی فضائیہ لبنان کے رہائشی علاقوں پر مسلسل بمباری کر رہی ہے جس میں اب تک سیکڑوں افراد شہید اور ہزاروں بے گھر ہو چکے ہیں، اس کے علاوہ ایران نے بھی اسرائیل پر حملہ کر دیا ہے جس کے بعد اسرائیل کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے –

  • میانوالی میں موبائل فون اور انٹر نیٹ سروس بند ،دفعہ 144 نافذ

    میانوالی میں موبائل فون اور انٹر نیٹ سروس بند ،دفعہ 144 نافذ

    لاہور: پنجاب حکومت نے فیصل آباد، بہاولپور ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، میانوالی، چنیوٹ اورجھنگ میں دفعہ 144 نافذ کردی۔

    باغی ٹی وی : جن اضلاع میں دفعہ 144نافذ کی گئی وہاں ہر قسم کے سیاسی اجتماعات، دھرنوں، جلسوں اور مظاہروں سمیت احتجاجی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے جب کہ مختلف شہروں میں کنٹینرز کھڑےکردیے گئےہیں،ادھر میانوالی میں موبائل فون اور انٹر نیٹ سروس بند ہے جب کہ رینجرز کی 2 کمپنیاں بھی تعینات کردی گئی ہیں-

    نوٹیفکیشن کے مطابق پابندی کا اطلاق میانوالی میں دہشت گردی کے خطرات کے پیشِ نظر کیا گیا، ہر قسم کے سیاسی اجتماعات، دھرنے، جلسے، مظاہرے، احتجاج اور ایسی تمام سرگرمیوں پر پابندی عائد ہوگئی، پابندی کا اطلاق منگل یکم اکتوبر سے سوموار 7 اکتوبر تک ہوگا،امن و امان کے قیام، انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے دفعہ 144 نافذ کی گئی، سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر کوئی بھی عوامی اجتماع دہشت گردوں کے لیے سافٹ ٹارگٹ ہو سکتا ہے۔

    ایران کے میزائل حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی: …

    دوسری جانب حکومت پنجاب نے 2 دن کے لیے فیصل آباد اور بہاولپور میں دفعہ 144 نافذ کردی، محکمہ داخلہ پنجاب نے دفعہ 144 کے نفاذ کے نوٹیفکیشن جاری کردیے پابندی کا اطلاق بدھ 2 اکتوبر سے جمعرات 3 اکتوبر تک ہوگا، فیصل آباد اور بہاولپور میں دفعہ 144 کا نفاذ ضلعی انتظامیہ کی سفارش پر کیا گیا،بہاولپور میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر پی ٹی آئی کے 100 سے زائدکارکنوں پرمقدمہ درج کرلیا گیا اور 5 کارکنوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

    چیئرمین نیو کراچی ٹاون محمد یو سف کا پارکوں کا دورہ

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف( پی ٹی آئی) نے آج احتجاج کا اعلان کیا ہے، پنجاب حکومت نے صوبائی اسمبلی میں ایک ترمیمی بل پیش کیا ہے جس کے تحت دفعہ 144 کو کم از کم 3 ماہ کے لیے نافذ کرنے کی اجازت دی گئی ہے، یہ نوآبادیاتی دور کا قانون ہے اور عوامی اجتماعات پر پابندی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

    ڈاکٹر ذاکر نائیک کا دورہ کراچی، انتہائی سخت سیکیورٹی انتظامات

  • ملک میں مہنگائی کی شرح چار سال کی کم ترین سطح پر

    ملک میں مہنگائی کی شرح چار سال کی کم ترین سطح پر

    اسلام آباد: محکمہ ادارہ شماریات نے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی کی شرح چار سال کی کم ترین سطح پر آگئی۔

    باغی ٹی وی : ترجمان محکمہ ادارہ شماریات کے مطابق ستمبر دوہزار چوبیس میں افراط زر کی شرح چھ اعشاریہ نو فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ اگست 2024 میں افراط زر 9.6 فیصد تھا،ٹاپ لائن سیکیوریٹرز کے سی ای او محمد سہیل نے بتایا کہ ڈالر کی منی لانڈرنگ کے خلاف اسٹیٹ بینک کے سخت اقدامات کے باعث مہنگائی کی سالانہ شرح میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

    ادارہ شماریات کے مطابق ماہانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح میں 0.5 فیصد کمی دیکھنے میں آئی،ماہرین نے مہنگائی کے سست ہونے کے رجحان کو کئی اہم عوامل سے منسوب کیا، جن میں اعلیٰ بنیاد کا اثر، عالمی اجناس اور توانائی کی قیمتوں میں کمی، اور مستحکم شرح مبادلہ شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ محکمہ ادارہ شماریات کا بیان ایسے وقت پر آیا ہے جب آپٹما کے گروپ لیڈر اور سابق نگراں وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے گزشتہ روز کہا تھا کہ مہنگائی کا جن قابو میں آ گیا ہے، ایکسپورٹ زیادہ کرنے کی ضرورت ہے، مہنگائی کی بڑی وجہ پاکستانی روپے کی گراوٹ ہے۔

  • بھارتی آ رمی چیف کی حزب اللہ پر اسرائیلی پیجرز دھماکوں کی تعریف , ’ماسٹرسٹروک‘ قرار دیدیا

    بھارتی آ رمی چیف کی حزب اللہ پر اسرائیلی پیجرز دھماکوں کی تعریف , ’ماسٹرسٹروک‘ قرار دیدیا

    نئی دہلی: بھارتی آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل اوپیندر دویدی نے لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ پر اسرائیلی پیجرز دھماکوں کی تعریف کرتے ہوئے اسے ’ماسٹرسٹروک‘ قرار دیدیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی ویب سائٹ کے مطابق اسرائیل نے حزب اللہ کو کمزور کرتے ہوئے لبنان میں دھماکہ خیز مواد بھیجنے کے لیے ایک شیل فرم کمپنی بنائی، جنرل دویدی نے اس اقدام کو ایک ”شاندار حکمت عملی“ قرار دیا۔

    بھارتی آرمی چیف کا کہنا تھا کہ جنگ کا آغاز اس وقت نہیں ہوتا جب آپ لڑنا شروع کرتے ہیں، بلکہ یہ جنگ اس وقت شروع ہوتی ہے جب آپ منصوبہ بندی شروع کرتے ہیں اسرائیل نے ایک چالاک انداز اپنایا “سب سے پہلے، انہوں نے حماس کو نشانہ بنایا، جو ان کے اہم دشمن تھے، پھر انہوں نے حزب اللہ پر توجہ مرکوز کی، حزب اللہ کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے ایک شیل فرم کمپنی بنانے کی اسرائیل کی چال خالص ذہانت تھی۔

    جنرل دویدی نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان کو اپنی سپلائی چین میں رکاوٹوں کے بارے میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے انہوں نے ممکنہ رکاوٹوں کو روکنے یا کم کرنے کے لیے متعدد سطحوں کے معائنے کی اہمیت پر زور دیا۔

  • تھائی لینڈ: اسکول بس میں آتشزدگی،20 سے زئاد بچوں کی ہلاکتوں کا خدشہ

    بنکاک: تھائی لینڈ میں ایک پرائمری اسکول کی بس میں خوفناک آگ بھڑک اُٹھی –

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بس میں 50 کے قریب کم سن بچے اور اساتذہ سوار تھے جو شمالی صوبے اتھائی تھانی کے سیاحتی دورے سے واپس آرہی تھی کہ تیز رفتار بس کا ٹائر پھٹ گیا جس کے نتیجے میں سڑک کنارے لگے باڑ سے ٹکرا کر الٹ گئی اور اس میں آگ بھڑک اُٹھی آگ بس کے اگلے حصے میں لگنا شروع ہوئی تھی۔

    بچے خوفزدہ ہوکر بس کے پیچھے حصے کی طرف گئے دروازے اور کھڑکیاں بند تھیں صرف 19 افراد بس سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوسکے جنھیں زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا امدادی کاموں کے دوران 3 سے 15 سال کی عمر کے بچوں کی سوختہ لاشیں بس کے پچھلے حصے سے ملیں لاشیں اتنی بری جلی تھیں کہ ان کی شناخت ہونا ناممکن ہے۔

    وزیر ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ زیادہ تر بسیں انتہائی خطرناک کمپریسڈ قدرتی گیس سے چلتی ہیں جس کے مسافر بسوں میں استعمال پر پابندی ہونی چاہیے ،بس حادثے میں 20 سے زائد بچوں کی ہلاکت کا خدشہ ہے جب کہ 19 نے چھلانگ لگا کر اپنی جانیں بچائیں۔

    واضح رہے کہ تھائی لینڈ میں غیر معیاری سڑکیں، گاڑیوں کی خراب حالت اور ٹریفک کے بدترین نظام کے باعث سالانہ 20 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوتی ہیں۔

  • حافظ نعیم الرحمان  کا ملین مارچ کا اعلان

    حافظ نعیم الرحمان کا ملین مارچ کا اعلان

    کراچی: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے ملین مارچ کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ غزہ میں ہزاروں لاشیں ملبے کے اندر موجود ہیں، غزہ کے لوگوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، تمام مسلم ممالک کو غزہ کے ساتھ کھڑا ہوجانا چاہیئے تھا۔

    امیر جماعت اسلامی نے ملین مارچ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس پورے ہفتے میں بڑے مارچ اور جلسے کریں گے، کراچی اور اسلام آباد میں بڑا ملین مارچ کریں گے، حکومتیں کام نہیں کریں گی تو ان پر دباؤ ڈالیں گے، 7 اکتوبر کو دوپہر 12بجے عوام سڑکوں پر نکلیں، ہم غزہ کے لیے لڑ نہیں سکتے لیکن سڑکوں پر نکل کر پیغام تو دے سکتے ہیں، فلسطین کا معاملہ ایسا ہے جو پاکستان کی بنیاد میں ہے۔

  • علی امین گنڈا پور  کی عمران خان سے جیل میں ملاقات

    علی امین گنڈا پور کی عمران خان سے جیل میں ملاقات

    راولپنڈی: بانی پی ٹی آئی عمران خان سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے جیل ملاقات کی-

    باغی ٹی وی:ذرائع کے مطابق ملاقات میں سیاسی امور پر بات چیت کی گئی علی امین گنڈاپور کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ختم ہوئی جس کے بعد میڈیا سے گفتگو کیے بغیر واپس روانہ ہوگئے،علی امین کی بانی پی ٹی آئی سے کانفرنس روم میں ملاقات کروائی گئی جو کہ سوا گھنٹہ جاری رہی۔

    ذرائع کے مطابق ملاقات میں ملکی، پارٹی اور سیاسی صورتحال پر بات چیت کی گئی، ملاقات میں 28 ستمبر کے راولپنڈی احتجاج پر بھی بات چیت کی گئی، ملاقات میں 4 اکتوبر کو اسلام آباد ڈی چوک احتجاج کے بارے میں مشاورت کی گئی۔

    میانوالی میں 7 دن کے لیے دفعہ 144 نافذ

    سیالکوٹ: بچوں کو حفاظتی ٹیکہ جات کی 30 روزہ مہم "زیرو سے ہیرو” کا افتتاح

    سیالکوٹ:ڈپٹی کمشنر نے صدر ڈسٹرکٹ بوائے اسکاؤٹس ایسوسی ایشن کے عہدے کا حلف اٹھا …