Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • ورلڈ بینک نے پاکستان کی اکنامک پالیسی کی تعریف کی ہے،عطا تارڑ

    ورلڈ بینک نے پاکستان کی اکنامک پالیسی کی تعریف کی ہے،عطا تارڑ

    اسلام آباد: وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی مثبت انداز سے آگے بڑھ رہی ہے، پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کے پاسپورٹ پر لکھا ہے کہ یہ پاسپورٹ ماسوائے اسرائیل کے تمام ممالک کے لئے کارآمد ہے۔

    باغی ٹی وی : وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف امریکہ کا کامیاب دورہ کر کے وطن واپس آئے، ان کے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب کو بہت پذیرائی ملی،وزیراعظم کی قیادت میں ہم نے اسرائیلی وزیراعظم کے خطاب کا بائیکاٹ کیا، وزیراعظم کے واک آؤٹ کے بعد دیگر ممالک نے بھی جنرل اسمبلی اجلاس سے واک آؤٹ کیا، اسرائیلی وزیراعظم کی تقریر کے وقت ہال تقریباً خالی ہو چکا تھا۔فلسطینی صدر محمود عباس نے پاکستان کی حمایت کو خوش آئند قرار دیا، محمود عباس نے وزیراعظم کا بازو پکڑ کر کہا کہ آپ ہمارے بھائی ہیں، فلسطین کے صدر نے فلسطین کاز کے لئے پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا –

    عطاء تارڑ نے کہا کہ پاکستان میں مہنگائی میں کمی ہوئی ہے اور 6.9 فیصد تک آگئی ہے، ورلڈ بینک نے پاکستان کی اکنامک پالیسی کی تعریف کی ہے، اقوام متحدہ میں ترکی صدر نے بھی کہا کہ آپ کی اکانومی میں بہتری آئی ہے، اب دنیا کے ممالک ہماری اکنامک پالیسی کی تعریف کرنے پر مجبور ہیں، دنیا کے ممالک نہ صرف ہماری معاشی پالیسی کو تسلیم کر رہے ہیں بلکہ اسے سراہ رہے ہیں۔

    لیگی رہنما نے کہا کہ پی ٹی آئی ملک کو غیر مستحکم کرنا چاہتی ہے، وزیراعلی کے پی علی امین کو انقلاب لانا ہے تو خیبر پختونخوا میں تعلیم اور صحت کے شعبے میں انقلاب لائیں، یہ ملک کی معیشت کی بہتری کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں، سرکاری وسائل کو استعمال کر کے وفاق پر لشکر کشی کسی صورت ناقابل قبول ہے، لشکر کشی کرنے کے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے، لشکر کشی کریں گے تو قانون حرکت میں آئے گا، دس وزیروں، گاڑیوں اور سرکاری بندوں کے ساتھ انقلاب نہیں آتا۔

  • سیکیورٹی ایجنسیاں ہمیں نہیں کہتی سوشل میڈیا یا انٹرنیٹ بند کیا جائے،چئیرمین پی ٹی اے

    سیکیورٹی ایجنسیاں ہمیں نہیں کہتی سوشل میڈیا یا انٹرنیٹ بند کیا جائے،چئیرمین پی ٹی اے

    اسلام آباد: چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) میجرجنرل (ر) حفیظ الرحمان نے کہا ہے کہ ہمیں جس دن حکومت کہے گی ہم ایکس کو کھول دیں گے،ہر ملک کے سیکیورٹی تحفظات ہوتے ہیں، قومی سلامتی ایک ضرورت ہوتی ہے جس کو حکومت دیکھتی ہے۔

    باغی ٹی وی : چیئرمین پی ٹی اے ن میجرجنرل (ر) حفیظ الرحمان نے اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت یا وزارتِ داخلہ اگر ایکس بند کرنے کی ہدایت دے تو ہم اس سے سوال نہیں اٹھاسکتے، ہدایت پر ہم ایکس بند کرنے کے پابند ہیں، ہمیں جس دن حکومت کہے گی ہم کھول دیں گے۔

    میجرجنرل (ر) حفیظ الرحمان نے کہا کہ لوگ گوگل پر سرچ کرکے دیکھ لیں کہ ایشیاء میں انٹرنیٹ کب کب اور کتنا بند ہوا، 2022 میں انڈیا میں 24مرتبہ جبکہ پاکستان میں ایک بار انٹر نیٹ بند ہوا، 2023میں انڈیا میں 116بار انٹر نیٹ بند ہوا، فرانس میں جو واقعہ پیش آیا اس وقت کتنے دن انٹرنیٹ بند رہا، بنگلہ دیش کے آخری انتخابات میں کیا انٹرنیٹ بند نہیں ہوا، ہم اس کی حمایت نہیں کرتے مگر ہر ملک کے سیکیورٹی تحفظات ہوتے ہیں، قومی سلامتی ایک ضرورت ہوتی ہے جس کو حکومت دیکھتی ہے۔

    میجرجنرل (ر) حفیظ الرحمان نے کہا کہ پنجگور میں اس وقت ڈیٹا بند ہے، مجھ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو میں نے کہا متعلقہ کورکمانڈر اور وزارت داخلہ سے پوچھیں ،ہمیں جب کہیں گے ہم کھول دیں گے، قومی سلامتی سے متعلق فیصلے حکومت اور وزارت داخلہ کو کرنے ہوتے ہیں ہمارے پاس شکایات کا میکنزم ہے، یومیہ شکایات موصول ہوتی ہیں، جہاں سوشل میڈیا پر خلاف ورزی ہوتی ہے تو ہم پیکا قانون سمیت دیگر متعلقہ قوانین دیکھتے ہیں، سوشل میڈیا ویب سائٹس ہمارے ساتھ مکمل تعاون کرتی ہیں اور اس کا 93 فیصد کمپلائںس ہے۔

    چئیرمین پی ٹی اے نے کہا کہ آج تک کسی سیکیورٹی ایجنسی نے ہمیں کوئی خط نہیں لکھا، سیکیورٹی ایجنسیاں ہمیں نہیں کہتی سوشل میڈیا یا انٹرنیٹ بند کیا جائے، ہمیں عدالت حکم دیتی ہے یا وزارت داخلہ کہتی ہے، ابھی ایم ڈی کیٹ کے ٹیسٹ ہوئے تو ہمیں کہا گیا کہ انٹر نیٹ سروس بند کریں ہم نے انکار کردیا، اسی طرح ایف پی ایس سی کے سربراہ نے انٹرنیٹ سروس بند کرنے کا کہا ہم نے انہیں بھی انکار کردیا۔

    انہوں نے کہا کہ ایف بی آر نے سم بلاک کرنے کا کہنا بطور ریگولیٹر ہم نے اس سے بھی انکار کردیا، اس پر وزیر خزانہ نے ہمیں بلایا وہاں بھی ہم نے اپنا مؤقف انہیں بتایا اس پر وہ ناراض بھی ہوئے، بعد میں ایف بی آر اور ٹیلی کام کمپنیوں کے درمیان کوئی ارینجمنٹ ہوا تو اسکے مطابق وہ خود سے کام کررہے ہیں، ابھی چند دن قبل موبائل سم شناختی کارڈ کے ساتھ منسلک کرنے کا کہا اس سے بھی انکار کردیا، پی ٹی اے کا مؤقف واضح ہے۔

    میجرجنرل (ر) حفیظ الرحمان نے کہا کہ اپریل میں جب فائیو جی کی نیلامی ہوجائے گی تو اس سے بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے، اسی طرح جب فائبرائزیشن مکمل ہو جائے گی تو اس سے بھی مسائل حل ہو جائیں گے، پچھلے پانچ سال میں انڈیا نے فائبر بچھانے پر تیرہ ارب ڈالر خرچ کئے ہیں، پاکستان بھی اب نیشنل فائبرائزیشن پلان تیار کررہا ہے، چائنیز کمپنی پاکستان آئی ہوئی ہے، توقع ہے کہ اگلے سال فائبرائزئشن مین بہتری آئے گی، فائیو جی پر کام ایڈوانس مرحلے میں ہے۔

  • دنیا کی بلند ترین چوٹی  کی بلندی   میں مسلسل اضافہ

    دنیا کی بلند ترین چوٹی کی بلندی میں مسلسل اضافہ

    دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کی بلندی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : جرنل نیچر جیو سائنس میں شائع چین کی جیو سائنسز یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ماؤنٹ ایورسٹ کی بلندی بڑھنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے، بلکہ کوہ ہمالیہ کے اس حصے میں چوٹیاں مسلسل اوپر کی جانب بڑھ رہی ہیں8849 میٹر بلند ماؤنٹ ایورسٹ کی بلندی میں اردگرد موجود دریاؤں میں آنے والے کٹاؤ کی وجہ سے اضافہ ہو رہا ہے۔

    ماہرین نے بتایا کہ تحقیق سے عندیہ ملتا ہے کہ دنیا کی بلند ترین چوٹی ہزاروں برسوں سے ایسے جغرافیائی عمل سے گزر رہی ہے جس کے باعث اس کی بلندی میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے تحقیق کے لیے ماہرین نے کمپیوٹر ماڈلز تیار کیے گئے تھے جن کے ذریعے کوہ ہمالیہ میں بہنے والے دریاؤں کے ارتقا کی جانچ پڑتال کی گئی۔

    تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 89 ہزار سال قبل دریائے ارون Kosi دریائی سسٹم کا حصہ بن گیا اور وہ مشرق کی بجائے شمال کی جانب بہنے لگا دریا کے بہنے کے روٹ میں تبدیلی سے ایورسٹ کے قریب دریا میں کٹاؤ بڑھ گیا اور یہ زیادہ بھرنے لگااس وقت زیادہ مقدار میں اضافی پانی دریائے ارون میں بہنے لگا جس کے نتیجے میں تلچھٹ بڑھ گئی جبکہ تہہ میں موجود چٹانیں تیزی سے کٹاؤ کا شکار ہونے لگی اور وادی کی تہہ میں تبدیلیاں آئیں۔

    محققین کا کہنا تھا کہ اس وجہ سے زمین کی بیرونی پرت کا وزن گھٹ گیا اور اردگرد کی زمین اوپر کی جانب بڑھنے لگی اس کے باعث ماؤنٹ ایورسٹ کی بلندی میں ہر سال 0.16 ملی میٹر سے 0.53 ملی میٹر کا اضافہ ہوا، یہاں تک کے اس کے اردگرد موجود چوٹیوں کی بلندی بھی بڑھی، چوٹیوں کے بلند ہونے کا یہ عمل ہمیشہ جاری نہیں رہے گا، بلکہ یہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک دریائی نظام کا توازن دوبارہ تبدیل نہیں ہو جاتا۔

  • پاکستانی کرکٹر نے  غیر مسلم بھارتی لڑکی سے منگنی کر لی

    پاکستانی کرکٹر نے غیر مسلم بھارتی لڑکی سے منگنی کر لی

    لاہور: پاکستانی کرکٹر رضا حسن نے بھارت سے تعلق رکھنے والی غیر مسلم لڑکی پوجا سے منگنی کرلی۔

    باغی ٹی وی :میڈیا رپورٹس کے مطابق 32 سالہ رضا حسن اور پوجا کی منگنی نیویارک میں ہوئی اور دونوں کی شادی آئندہ برس فروری میں ہوگی،میڈیا رپورٹ میں رضا حسن کی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ حسن اور پوجا کی شادی کی باقاعدہ تقریب اگلے برس فروری میں منعقد کی جائے گی، منگیتر کے غیر مسلم ہونے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے رضا حسن کا کہنا تھا کہ پوجا مذہب اسلام میں گہری دلچسپی رکھتی ہیں اور جلد ہی مسلمان ہونے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

    واضح رہے کہ رضا حسن اب پاکستان کوچھوڑ کر امریکا منتقل ہوچکے ہیں، وہ ایک ون ڈے اور 10 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز میں پاکستان کی نمائندگی کرچکےہیں۔

  • چاہتا ہوں صوبائی سطح پر بھی آئینی عدالت ہو،بلاول بھٹو

    چاہتا ہوں صوبائی سطح پر بھی آئینی عدالت ہو،بلاول بھٹو

    کوئٹہ:چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آئینی ترمیم سے متعلق میں موجودہ چیف جسٹس کے لیے جدوجہد نہیں کررہا،

    باغی ٹی وی : کوئٹہ میں بلوچستان ہائیکورٹ بارسے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ 1973کے آئین کو مثیاق جمہوریت کے ذریعے بحال کیا، آمر کےکالے قانون کو کسی جج میں ہمت نہیں تھی کہ وہ غیرآئینی کہے مگر سیاسی لوگ اس وقت ظلم بھگت رہے تھے، میرے والد نےکسی سزا کے بغیر قید بھگتی، اس وقت بھی یہی عدالت کا نظام تھا،کہاں مکمل انصاف تھا۔

    انہوں نے کہا کہ وکلا سےایسا لگاؤ ہے جو کوئی سیاستدان یا ادارہ کلیم نہیں کرسکتا، دہشت گردی واقعے کےبعد بلوچستان آیا بڑےوکلا سےملاقات ہوئی، جو آج کل وکلا کےچیمپئن بنے ہوئے ہیں اسوقت مذاق اڑیا تھا، میں آپ میں سے ہوں لاہور یا اسلام آباد سے نہیں آیاسابق چیف جسٹس افتخار چوہدری، اُس وقت کے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل کیانی، اُس وقت کے آئی ایس آئی کے چیف جنرل پاشا کے درمیان مک مکا ہوا کہ اگر چارٹر آف ڈیموکریسی لاگو ہو گا، اگر ہم 1973 کے آئین کو اصل صورت میں بحال کریں گے تو اسٹیٹس کو کا کیا ہوگا، ہمارا ڈیموکریسی کا کنٹرول کیا ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ آپ کسی وزیراعظم کو نکالیں اور ہم چوں تک نہ کرسکیں، کہا گیا ریاست ہوگی ماں کی جیسی مگر پھر ریاست باپ کی طرح ہوگئی اور اس میں زیادہ ہاتھ افتخار چوہدری کا تھا جن کے وقت میں فل بینچ رات 12 بجے بیٹھ جاتا تھا۔آئینی ترمیم سے متعلق میں موجودہ چیف جسٹس کے لیے جدوجہد نہیں کررہا، میرا نہیں آپ کا ایجنڈا کسی خاص شخصیت کے لیے ہوسکتا ہے، ملک سے کھلواڑ کی اجازت نہیں دیں گے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی اور جسٹس منصور علی شاہ میرے لیے سب سے محترم ہیں، پہلی بار جسٹس فائزعیسیٰ اور جسٹس منصور کے زمانے میں امید نظر آرہی ہے، مجھے کوئی مسئلہ نہیں ان دو ججوں میں کوئی بھی آکر آئینی عدالت میں بیٹھے۔

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اگر آئین کہے کہ آئینی عدالت ہوگی تو آپ مانیں گے، عدالت کا کام آئین اور قانون پر عملدرآمد کرانا ہے ، ہم نے 30 سال کی جدوجہد کےبعد یہ فیصلہ لیا کہ آئینی عدالت بنے، ملک میں کسی کو مقدس گائے نہیں بننا چاہیے نئے میثاق جمہوریت میں پہلا مطالبہ ہے کہ وفاقی آئینی عدالت بننا چاہیے، کیا آپ یقین دلائیں گے کہ پوری 18 ویں ترمیم اڑانے کی دھمکی نہیں دی جائے گی، اتنے سارے کیسز ہیں جو سنے نہیں جاتے ہر چند ماہ بعد ایک سیاسی کیس اٹھ جاتا ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ چاہتا ہوں صوبائی سطح پر بھی آئینی عدالت ہو، ہم اب تک جو حکومت سے طےکرچکے ہیں وہ وفاقی آئینی عدالت ہے، ہم کہہ رہے ہیں کہ کمیٹی اتفاق رائے سے جج کا فیصلہ کرے، کمیٹی جس کو اتفاق رائے سے جج بنائے اسی کو جج بننا چاہیے، ہم ایسا نظام بنائیں جو آگے جاکر ہمیں تحفظ دلاسکے۔

    وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی اور صدر ہائی کورٹ بار افضل حریفال نے بھی تقریب میں شرکت کی اور بار کے صدر نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور آئینی ترامیم کے معاملے پر وکلا کے تحفظات کا اظہار کیا اور پیپلز پارٹی کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا۔

    صدر ہائی کورٹ بار افضل حریفال نے اپنی تقریر میں کہا کہ آئینی ترامیم کے حوالے سے وکلا کے تحفظات ہیں، اگرعدالتی نظام انصاف نہیں دے رہا، وکلا عدالت پر عدالت کا قیام نہیں چاہتے۔ پیپلز پارٹی سے توقع رکھتے ہیں کوئی فیصلہ جلد بازی میں نہ کریں، عدالتوں میں مقدمات تاخیر کا شکار ہیں تو ججوں کی تعداد بڑھا دیں۔

    انہوں نے کہا کہ ملک کے تمام ادارے زمین بوس ہورہے عدالتی نظام کو ختم نہیں ہونے دینگے، آئین کی شق 199 میں ترمیم کرنے سے تو بہتر ہے حکومت مارشل لا لگا دیں ہائی کورٹ آئین میں موجود بنیادی انسانی حقوق کی شقیں ختم کرنے سے جنگل کا قانون بنے گامیثاق جموریت کے بعد آئینی ترامیم کیوں نہیں لائیں گئی، میثاق جموریت میں سلامتی کونسل ختم کرنے اور میڈیا کی ازادی کی بات کی گئی لیکن ایسا نہ ہوا، الیکشن کمیشن خور مختار آج تک نہیں ہوسکا، کوئٹہ 25 اکتوبر کے بعد نادیدہ چیف جسٹس کو قبول نہیں کریں گے۔

  • میانوالی میں 7 دن کے لیے دفعہ 144 نافذ

    میانوالی میں 7 دن کے لیے دفعہ 144 نافذ

    میانوالی: پنجاب حکومت نے دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر میانوالی میں 7 دن کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی، جس کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : نوٹیفکیشن کے مطابق پابندی کا اطلاق میانوالی میں دہشت گردی کے خطرات کے پیشِ نظر کیا گیا، ہر قسم کے سیاسی اجتماعات، دھرنے، جلسے، مظاہرے، احتجاج اور ایسی تمام سرگرمیوں پر پابندی عائد ہوگئی، پابندی کا اطلاق منگل یکم اکتوبر سے سوموار 7 اکتوبر تک ہوگا،ضلعی انتظامیہ کی سفارش پر میانوالی میں رینجرز کی تعیناتی کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، میانوالی میں رینجرز کی 2 کمپنیاں یکم سے 3 اکتوبر تک تعینات ہوں گی۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ امن و امان کے قیام، انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے دفعہ 144 نافذ کی گئی، سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر کوئی بھی عوامی اجتماع دہشت گردوں کے لیے سافٹ ٹارگٹ ہو سکتا ہےمحکمہ داخلہ پنجاب نے عوامی آگاہی کے لیے دفعہ 144 کے نفاذ کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی ہدایت کردی۔

    واضح رہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان کے اعلان کے مطابق پی ٹی آئی کل میانوالی، فیصل آباد اور بہاولپور میں احتجاج کرے گی۔

  • محسن نقوی کی  مولانا فضل الرحمان سے ملاقات،جے یو آئی کا امیر منتخب ہونے پر مبارکباد

    محسن نقوی کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات،جے یو آئی کا امیر منتخب ہونے پر مبارکباد

    اسلام آباد: وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی –

    باغی ٹی وی : وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کے لیے پہنچے،وزیر داخلہ محسن نقوی نے جے یو آئی کا بلامقابلہ امیر منتخب ہونے پر مولانا فضل الرحمان اور بلامقابلہ سیکرٹری جنرل منتخب ہونے پر مولانا عبدالغفور حیدری کو مبارک باد دی اور گلدستے پیش کیے۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے مولانا فضل الرحمان اور مولانا عبدالغفور حیدری کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ،وزیرداخلہ نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات میں کہا کہ پارلیمان کی بالادستی اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے مولانا فضل الرحمان کا کردار قابل تحسین ہے، مولانا فضل الرحمان زیرک، مدبر اور دور اندیش سیاسی رہنما ہیں، مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں جے یو آئی نے اُصولوں پر مبنی سیاست کی ہےمولانا فضل الرحمان کی اپنی جماعت اور پاکستان کے لئے گراں قدر خدمات ہیں، مولانا فضل الرحمان سینئر ترین سیاستدان ہیں اور پاکستان کی سیاست میں ان کا بلند مقام ہے۔

  • آرٹیکل 63 اے کیس: آج کل سپریم کورٹ میں کچھ بھی بند دروازوں کے پیچھے نہیں ہورہا،چیف جسٹس

    آرٹیکل 63 اے کیس: آج کل سپریم کورٹ میں کچھ بھی بند دروازوں کے پیچھے نہیں ہورہا،چیف جسٹس

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے فیصلے کے خلاف نظرثانی اپیلوں پر سماعت کے دوران سابق وزیراعظم عمران خان کے وکیل نے سپریم کورٹ کے نئے بینچ کی تشکیل پر اعتراض عائد کردیا-

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 5 رکنی لارجر بینچ آرٹیکل 63 اے نظرثانی اپیلوں پر سماعت سماعت کر رہا ہے، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل لارجر بینچ میں شامل ہیں۔

    سماعت کے آغاز پر صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت اور پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر روسٹرم پر آگئے ،بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل علی ظفر نے بینچ کی تشکیل پر اعتراض اٹھا دیا،چیف جسٹس نے کہا کہ ہم آپ کو بعد میں سنیں گے ابھی آپ بیٹھ جائیں، جس پر علی ظفر نے کہا کہ ہمیں بینچ کی تشکیل نو پر اعتراض ہے، اس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ سے کہا ہے کہ آپ کو بعد میں سنیں گے، ہم چیزوں کو اچھے انداز میں چلانا چاہتے ہیں آپ بیٹھ جائیں۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ جو ہوا ہے، وہ کورٹ میں بتادوں، کل جسٹس منیب اختر کو خط لکھا، اُنہوں نے وہ پوزیشن برقراررکھی، میں نے جسٹس منصورعلی شاہ کو کمیٹی میں بلایا، وہ نہیں آئے، ان کے سیکرٹری سے رابطہ کیا تو اُن کے اسٹاف نے اُن سے رابطہ کیا، اسٹاف نے بتایا کہ جسٹس منصور علی شاہ بینچ میں شامل نہیں ہوں گے۔

    چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں بچا، میں نہیں چاہتا دوسرے بینچز کو ڈسٹرب کیا جائے، نعیم افغان کو نئے لارجر بینچ میں شامل کرلیا گیا، پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کے آج کے اجلاس کے منٹس جاری کیے، کمیٹی کے منٹس سپریم کورٹ ویب سائٹ پربھی اپ لوڈ کردیے گئے ہیں آج کل سب کومعلوم ہے سپریم کورٹ میں کیا چل رہا ہے، آج کل سپریم کورٹ میں کچھ بھی بند دروازوں کے پیچھے نہیں ہورہا، اب لارجر بینچ مکمل ہے کارروائی شروع کی جائے۔

    سپریم کورٹ بار کے وکیل اور صدر شہزاد شوکت نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ 18 مارچ کو سپریم کورٹ بار نے درخواست دائر کی، 21 مارچ کو 4 سوالات پر مبنی صدارتی ریفرنس بھجوایا گیا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ریفرنس اور آپ کی درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جاسکتا تھا؟۔

    سپریم کورٹ بار کے وکیل نے کہا کہ 27 مارچ اس وقت کے وزیراعظم نے ایک ریلی نکالی، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیاسی معاملات پر بات نہ کریں۔

    شہزاد شوکت نے کہا کہ اس کیس میں صدارتی ریفرنس بھی تھا اور184/3 کی درخواستیں بھی تھیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ریفرنس پر رائے اور 184/3 دو الگ الگ دائرہ اختیار ہیں، دونوں کو یکجا کرکے فیصلہ کیسے دیا جا سکتا ہے؟ صدراتی ریفرنس پر صرف رائے دی جاسکتی ہے، فیصلہ نہیں دیا جاسکتا، کیا دونوں دائرہ اختیار مختلف نہیں ہیں؟ صدارتی ریفرنس پر صرف صدر کے قانونی سوالات کا جواب دیا جاتا ہے، صدراتی ریفرنس پر دی رائے پر عمل نہ ہو تو صدر کے خلاف توہین کی کارروائی تو نہیں ہوسکتی،میں سرپرائزڈ ہوں کہ کیسے دو حدود ایک ساتھ کلب کی گئیں، اس وقت پی ٹی آئی کی جانب سے درخواست دی گئی، اس وقت حکومت کس کی تھی؟

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے سپریم کورٹ بار کے وکیل شہزاد شوکت سے استفسار کیا کہ اس وقت صدر پاکستان کون تھا؟ جس پر شہزاد شوکت نے بتایا کہ اس وقت عارف علوی صدر مملکت تھے،چیف جسٹس نے کہا کہ وہی حکومت بطورِ حکومت بھی اس کیس میں درخواست گزار تھی، شہزاد شوکت نے آرٹیکل 63 اے پڑھ کر سنا دیا۔

    چیف جسٹس نے پوچھا کہ صدر کی جانب سے قانونی سوالات کیا اٹھائے گئے تھے؟ جس پر وکیل سپریم کورٹ بار نے بتایا کہ صدر پاکستان نے ریفرنس میں 4 سوالات اٹھائے تھے، آرٹیکل 63 اے کے تحت خیانت کے عنصر پر رائے مانگی گئی، عدالت نے کہا آرٹیکل 63 اے کو اکیلا کرکے نہیں دیکھا جا سکتا، عدالت نے قراردیا کہ سیاسی جماعتیں جمہوریت کے لیے اہم ہیں، عدالت نے قراردیا کہ پارٹی پالیسی سے انحراف سیاسی جماعتوں کے لیے کینسر ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا فیصلے میں منحرف ارکان کو ڈی سیٹ کرنے کا بھی لکھا گیا؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ منحرف ارکان کا ووٹ کاسٹ نہیں ہوگا ڈی سیٹ کرنے کا حکم فیصلے میں نہیں۔

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسی نے کہا کہ آئین میں تحریک عدم اعتماد،وزیراعظم اوروزیراعلی کا انتخاب اورمنی بل کی وضاحت موجود ہے، جب آئین واضح ہے تو اس میں اپنی طرف سے کیسے کچھ شامل کیا جاسکتا ہے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ برطانیہ میں حال ہی میں ایک ہی جماعت نے اپنے وزیراعظم تبدیل کیے، اس دوران جماعت نے ہاؤس میں اکثریت بھی نہیں کھوئی۔

    شہزاد شوکت نے کہا کہ فیصلے میں کہاگیا انحراف کرپٹ پریکٹس جیسا ہے، فیصلے میں کہاگیاکہ کوئی ایک مثال موجود نہیں جس میں انحراف ضمیر کی آواز پر کیا گیا ہو، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کسی کے ضمیر کا معاملہ طے کرنا مشکل ہے، کیا فیصلہ آرٹیکل 95 اور 163 کو متاثر نہیں کرتا؟ کیا پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام میں بدلنے جیسا نہیں؟

    چیف جسٹس نے کہا کہ جو لوگ سیاسی جماعتیں بدلتے رہتے ہیں انہیں ضمیر والا سمجھیں یا نہیں، فیصلے سے اختلاف کرنے والا جج بھی باضمیر ہوگا یا نہیں، ہم کون ہوتے ہیں کہنے والے کہ تم باضمیر نہیں ہو۔

    صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت نے دلائل دیے کہ فیصلے میں رضا ربانی کا حوالہ بھی دیاگیا کہ انہوں نے ضمیر کیخلاف جاکر پارٹی کو ووٹ دیا، پارٹی سربراہ اور پارلیمانی پارٹی سربراہ الگ الگ ہدایات دیں تو کیا ہوگا؟ ایسے میں تعین کیسے کیا جاسکتا ہے کہ کس کی ہدایات ماننا ضمیر کی آواز ہوگا؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل62/1ایف پر جسٹس منصورعلی شاہ کا فیصلہ موجود ہے،فیصلے میں وضاحت موجود ہے نااہلی سے متعلق کونسی شقیں ازخود نافذ ہوتی ہیں اورکونسی نہیں۔

    وکیل شہزادشوکت نے استدعا کی کہ گزارش ہےکہ فیصلے کو واپس لیاجائے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ بتائیں فیصلے میں کیا غلط ہے؟ شہزادشوکت نے جواب دیا کہ یہ فیصلہ آئین دوبارہ لکھنے جیسا ہے۔

    جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ فیصلہ صرف یہ نہیں کہتا آپ کا ووٹ گنا نہیں جائے گا، فیصلہ کہتا ہے پارٹی کہے تو ووٹ لازمی کرنا ہے، پارٹی کےکہنے پر ووٹ نہ کرنے پر رکن کے خلاف کارروائی کا کہاں گیا ہے؟ نظرثانی درخواست کب دائر ہوئی۔

    شہزاد شوکت نے بتایا کہ 2022 میں نظرثانی درخواست دائر کی، چیف جسٹس نے کہا کہ عابد زبیری بھی جب صدر سپریم کورٹ بار بنے تو اپیل واپس نہیں لی، سپریم کورٹ بار کے دونوں گروپ نظرثانی درخواست پر قائم رہے، چلیں تسلی ہوئی کہ نظرثانی بار سیاست کی وجہ سے نہیں تھی شہزاد شوکت نے جواب دیا کہ نظرثانی خالصتاً آئینی مسئلہ ہی تھا۔

    وفاقی حکومت اور پیپلزپارٹی نے نظرثانی اپیل کی حمایت کردی چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ نظرثانی کی مخالف کون کررہا ہے؟

    عمران خان کے وکیل علی ظفر نے عدالت کو دیا کہ بانی پی ٹی آئی کا وکیل ہوں لیکن نوٹس تاحال موصول نہیں ہوا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ویسے بتادیں آپ نظر ثانی کے حامی ہیں یا مخالف ہیں؟

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ میں نظر ثانی کی مخالفت کروں گا، پیپلزپارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ووٹ نہ گنا جانا آئین میں نہیں لکھا، اگر ووٹ گنا ہی نہیں جائے گا تو مطلب ہے میں نے کچھ غلط نہیں کیا، انحراف کا اطلاق تب ہوگا جب ووٹ گنا جائے گا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فیصلے میں جن ملکوں کے فیصلوں کا حوالہ ہے ان ممالک میں انحراف کی سزا کا بھی بتائیں، فریقین یہ بھی بتائیں کیا صدارتی ریفرنس اور 184/3 کی درخواستوں کو یکجا کیا جاسکتا ہے، پارلیمانی جمہوریت کی ماں برطانیہ ہے وہاں کی صورتحال بتائیں، نظر ثانی منظور ہونا یہ نہیں ہوتا کہ فیصلہ غلط ہے، وجوہات غلط ہوتی ہیں، نظرثانی کا دائرہ بہت محدود ہوتا ہے، آپ فیصلے کا نتیجہ نہیں صرف وجوہات دیکھ سکتے ہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ کیس کی سماعت ملتوی کردیتے ہیں، جو وکلا رہ گئے ہیں، ان کے دلائل کل سنیں گے،بعد ازاں، سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے نظرثانی کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

    واضح رہے کہ 17 مئی 2022 کو سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر فیصلے میں کہا تھا کہ منحرف رکن اسمبلی کا پارٹی پالیسی کے برخلاف دیا گیا ووٹ شمار نہیں ہوگا جبکہ تاحیات نااہلی یا نااہلی کی مدت کا تعین پارلیمان کرے۔

    اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بنچ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کی تھی اور فیصلہ 2 کے مقابلے میں 3 کی برتری سے سنایا گیا تھا۔

    بینچ میں شامل جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا تھا جبکہ سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر نے منحرف رکن کا ووٹ شمار نہ کرنے اور اس کی نااہلی کا فیصلہ دیا تھا۔ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کا اکثریتی فیصلہ جسٹس منیب اختر نے تحریر کیا تھا۔

    اس معاملے پر مختلف نظرثانی کی درخواستیں دائر کی گئی تھیں لیکن ان درخواستوں پر سماعت نہیں ہوئی تھی۔

    آرٹیکل 63 کیا ہے؟

    آرٹیکل 63 اے آئین پاکستان کا وہ آرٹیکل جو فلور کراسنگ اور ہارس ٹریڈنگ روکنے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا جس کا مقصد اراکین اسمبلی کو اپنے پارٹی ڈسپلن کے تابع رکھنا تھا کہ وہ پارٹی پالیسی سے ہٹ کر کسی دوسری جماعت کو ووٹ نہ کر سکیں اور اگر وہ ایسا کریں تو ان کے اسمبلی رکنیت ختم ہو جائے۔

    فروری 2022 میں سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت ایک صدارتی ریفرنس کے ذریعے سے سپریم کورٹ آف پاکستان سے سوال پوچھا کہ جب ایک رکن اسمبلی اپنی پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ ڈالتا ہے تو وہ بطور رکن اسمبلی نااہل ہو جاتا ہے، لیکن کیا کوئی ایسا طریقہ بھی ہے کہ اس کو ووٹ ڈالنے سے ہی روک دیا جائے۔

  • آرٹیکل 63 اے کیس: نیا بینچ تشکیل، جسٹس نعیم اختر افغان شامل

    آرٹیکل 63 اے کیس: نیا بینچ تشکیل، جسٹس نعیم اختر افغان شامل

    اسلام آباد: سپریم کورٹ پریکٹس پروسیجر کمیٹی نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے خلاف نظر ثانی اپیلوں پر سماعت کے لیے نیا بینچ تشکیل دے دیا-

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کی 3 رکنی پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کا اجلاس صبح 9 بجے ہوا، چیف جسٹس قاضی فاٸز عیسیٰ اور جسٹس امین الدین خان جسٹس منصور علی شاہ کا انتظار کرتے رہے تاہم کمیٹی کے تیسرے ممبر اور سپریم کورٹ سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ آج بھی اجلاس میں شریک نہ ہوئے اور نہ کوئی پیغام بھیجا۔

    دوسری جانب ججز کمیٹی نے 63 اے کی تشریح کے معاملے پر نیا بینچ تشکیل دے دیا، جس میں جسٹس منیب اختر کی جگہ جسٹس نعیم اختر افغان کو 5 رکنی بنچ میں شامل کیا گیا ہے جبکہ رجسٹرار سپریم کورٹ نے نیا روسٹر جاری کردیاچیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے جسٹس منصور علی شاہ کا نام تجویز کیا مگر جسٹس مصنور علی شاہ کے کمیٹی اجلاس میں شرکت نہ کرنے پر جسٹس نعیم اختر افغان کو بینچ میں شامل کرلیا گیا جبکہ جسٹس نعیم اختر افغان کی شمولیت سے سپریم کورٹ کا 5 رکنی لارجر بینچ مکمل ہوگیا۔

    آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے معاملے پر قائم نیا بینچ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم کیا گیا ہے جس میں جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس نعیم اختر افغان اور مظہر عالم خان شامل ہیں۔

    دوسری جانب سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی اجلاس کے میٹنگ منٹس جاری کردیے گئے ہیں جس کے مطابق 63 اے نظرثانی سماعت کے لیے 5 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا گیا ہے، جسٹس منیب اختر نے خط میں بینچ میں بیٹھنے کے لیے وجوہات کے ساتھ عدم دستیابی کا اظہار کیا۔

    میٹنگ منٹس کے مطابق آج 9 بجے پریکٹس پروسیجر کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا، جسٹس منصور شاہ کے چیمبر اسٹاف سے رابطہ کیا لیکن جسٹس منصور نے کمیٹی اجلاس میں شرکت نہیں کی، انہوں نے رابطے پر بینچ میں شمولیت سے بھی انکار کیا، کمیٹی نے اجلاس میں بینچ تشکیل کے لیے جسٹس نعیم اختر افغان کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز چیف جسٹس قاضی فائز عسیٰ کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے فیصلے کے خلاف نظرثانی اپیلوں پر سماعت کی تھی، لارجر بینج کے رکن جسٹس منیب اختر نے موجودہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کے بنائے بینچ میں بیٹھنے سے انکار کردیا تھا۔

  • ایل پی جی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

    ایل پی جی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

    اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے اکتوبر 2024 کے لیے مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں میں گھریلو اور کمرشل دونوں سلنڈروں کے لیے 7.31 روپے فی کلو گرام کا اضافہ ہو گا اوگرا کے ماہانہ جائزے میں قیمتوں میں اضافے کی وجہ سعودی آرامکو-سی پی میں 3.84 فیصد اضافے کو قرار دیا گیا، جو کہ ایل پی جی کی قیمتوں کے تعین کے لیے ایک معیار ہے۔

    مزید برآں، اوسط ڈالر کی شرح مبادلہ میں معمولی کمی نے قیمت کی مجموعی ایڈجسٹمنٹ میں اہم کردار ادا کیا،نوٹیفکیشن کے مطابق، 11.8 کلوگرام گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت ستمبر میں 2879.10 روپے سے بڑھ کر 2965.38 روپے مقرر کی گئی ہے۔ یہ ماہانہ 86.28 روپے کا اضافہ ہے۔