Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • اسموگ تدارک کیلئے پنجاب حکومت کے اقدامات تسلی بخش قرار

    اسموگ تدارک کیلئے پنجاب حکومت کے اقدامات تسلی بخش قرار

    لاہور: لاہور کے عوام نے اسموگ کے تدارک کے لیے پنجاب حکومت کے اقدامات کو تسلی بخش قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی :پنجاب میں اسموگ کے حوالے سے نجی ادارے نے سروے رپورٹ شائع کردی، سروے انوائرنمنٹل ریسرچ کے نجی ادارے ارتھ پیپل گلوبل کی جانب سے لاہور میں بڑھتی ہوئی اسموگ پر عوامی رائے جاننے کیلئے کیا گیا، جس میں لاہور میں رہائش پذیر 1500 نوجوان لڑکے لڑکیوں کی رائے ریکارڈ کی گئی۔
    lahore
    lahore
    سروے کے مطابق اسموگ کا پھیلاؤ 3 چیزوں حکومتی اقدامات، عوامی اقدامات اور ہوا کا رخ پر منحصر ہے،63 فیصد لاہوریوں کی رائے ہے کہ بطور وزیر اعلٰی مریم نواز نے گزشتہ حکومتوں کے مقابلے میں بہتر انداز میں ماحول دوست اور مؤثر اقدامات کئے ہیں، حکومتی اقدا ما ت سے لاہور کے نوجوان بخوبی آگاہ ہیں، 69 فیصد لوگ اسموگ کے خلاف حکومت اقدامات کی آگاہی رکھتے ہیں، جو حکومت کی جا نب سے مؤثر آگاہی مہم کا نتیجہ ہے۔
    lahore
    lahore
    lahore
    90 فیصد نوجوان اسموگ سے ہونے والی بیماریوں سے واقف ہیں سروے میں 88 فیصد شہریوں نے صنعتوں کی رہائشی علاقوں سے منتقلی کے اقدام کو سپورٹ کیانوجوانوں کی سب سے زیادہ تعداد یعنی 44 فیصد کا ماننا ہے کہ گاڑیوں کا دھواں اسموگ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
    lahore
    lahore
    40 فیصد نوجوانوں نے آج تک اپنی گاڑی یا موٹر بائیک کا سائلنسر یا انجن ٹھیک/ چیک نہیں کروایا 44 فیصد نوجوانوں کا کہنا تھا کہ اسموگ کم کرنے کیلئے یا درخت لگانے کیلئے انہوں نے کوئی اقدامات نہیں کیے 82 فیصد شہریوں نے اسموگ میں کمی کے لیے گاڑیوں اور صنعتوں کی سخت نگرانی کی حمایت کردی۔
    lahore
    سروے میں ہوا کے رخ کو فضائی آلودگی کے پھیلاؤ کا اہم سبب قرار دیا گیا بھارتی پنجاب میں دھان کی باقیات کو جلانے سے آلودگی ہوائی رُخ کے باعث پاکستان میں داخل ہوتی ہے بارڈر کے ایک طرف حکومتی اور عوامی اقدامات کا فائدہ تب تک نہیں ہوگا جب تک دوسری جانب بھی حکومت اور عوام اسموگ کے تدارک پر عملدرآمد نہ کرے۔

    دوسری جانب پنجاب پولیس اسموگ کی روک تھام اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے مصروف عمل ہے، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے شاہراہوں، انڈسٹریل ایریاز، زرعی سمیت دیگر مقامات پر انسداد اسموگ کریک ڈاؤن میں تیزی لانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اسموگ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر ذمہ داران کے خلاف زیرو ٹالرنس اپنائیں۔

    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق اسموگ کی روک تھام اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے کریک ڈاؤن جا ری ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں میں صوبے بھر میں کریک ڈاؤن کے دوران 06 مقدمات درج اور ملزمان گرفتار کرلیے گئے، 479 افراد کو 09 لاکھ 62 ہزار روپے جرمانے عائد جبکہ 40 کو وارننگ جاری کی گئی ہے، فصلوں کی باقیات جلانے کی 15، زیادہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی 387 کی خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئیں، صنعتی سرگرمی کی 04، اینٹوں کے بھٹوں کی 05، دیگر مقامات کی 13 خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئیں۔

    رواں برس انسداد اسموگ کریک ڈاؤن میں مجموعی طور پر 3735 ملزمان گرفتار اور 3176 مقدمات درج کیے گئے جبکہ 7380 افراد کو وارننگ جاری، 37975 افراد کو 09 کروڑ اور 56 لاکھ روپے سے زائد جرمانے کیے گئے فصلوں کی باقیات جلانے کی 2049، زیادہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی 33001 خلاف ورزیاں ہوئیں، صنعتی سرگرمی کی 364، اینٹوں کے بھٹوں کی 1395 اور دیگر مقامات کی 360 خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئیں۔

    گزشتہ 24 گھنٹوں میں زیادہ دھواں چھوڑنے والی 5232 گاڑیوں کے چالان، 405 کو تھانوں میں بند، 05 کے فٹنس سرٹیفکیٹ معطل کئے گئے،رواں برس شاہرات پر زیادہ دھواں چھوڑنے والی 08 لاکھ ، 59 ہزار 528 گاڑیوں کے چالان کئے گئے، 01 لاکھ 69 ہزار 881 گاڑیوں کو بند اور 10 ہزار 94 گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ معطل کیے گئے۔

  • لکی مروت میں تھانے پر دہشتگردوں کا حملہ،ایک پولیس اہلکار شہید

    لکی مروت میں تھانے پر دہشتگردوں کا حملہ،ایک پولیس اہلکار شہید

    لکی مروت: خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں تھانے پر رات گئے دہشت گردوں کے حملے میں ایک پولیس اہلکار شہید ہوگیا جبکہ پولیس کی جوابی فائرنگ سے دہشت گر فرار ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : پولیس ذرائع کے مطابق لکی مروت کے علاقے تھانہ درہ پیزو پر رات کی تاریکی میں دہشت گردوں نے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے دو اطراف سے حملہ کیا اور اسنائپر گن سے پولیس کانسٹیبل کرامت اللہ کو نشانہ بنا کر شہید کر دیا،دہشت گردوں اور پولیس کے درمیان مقابلہ ایک گھنٹے تک جاری رہا، پولیس کی بھرپور جوابی فائرنگ کے بعد دہشت گرد فرار ہو گئے، واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا،شہید اہلکار کی لاش ریسکیو حکام کی مدد سے اسپتال منتقل کر دی گئی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز لکی مروت پہاڑ خیل پکہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے پنجاب پولیس کے سب انسپکٹر سمیت 3 افراد جاں بحق ہوئے تھے شہید پولیس اہلکار چھٹی پر گھر آیا ہوا تھا جو اس دہشت گردی کا شکار بن گیا، وزیراعلیٰ اور گورنر خیبر پختونخوا نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کیا تھا۔

  • کرم میں قبائلی جھڑپوں کا 11 واں روز،ہلاکتوں کی تعداد 130 اور 186 زخمی ہو چکے

    کرم میں قبائلی جھڑپوں کا 11 واں روز،ہلاکتوں کی تعداد 130 اور 186 زخمی ہو چکے

    پاراچنار : ضلع کرم میں قبائل کے درمیان جھڑپیں گیارہویں روز بھی جاری ہیں جس میں مزید 6 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق فائرنگ کے واقعات میں اب تک 130 افراد جاں بحق اور 186 زخمی ہو چکے ہیں قبائلی جھڑپوں کے باعث پشاور پاراچنار مرکزی شاہراہ سمیت آمدورفت کے دیگر راستے بھی بند ہیں جبکہ مرکزی شاہراہ اور پاک افغان خرلاچی بارڈر پر آمدورفت بھی معطل ہے،شاہراہوں کی بندش سے تیل، اشیائے خورونوش اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔

    ڈپٹی کمشنرجاویداللہ محسود کا کہنا ہے کہ لوئر کرم کے مختلف مقامات پر پولیس، فورسز کے دستے تعینات ہیں، باقی علاقوں میں بھی آج فائر بندی کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کمشنر ہاؤس کوہاٹ میں کرم میں امن امان سے متعلق گرینڈ جرگے سے خطاب میں ضلع کرم کے عوام کو پرُامن رہنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام غیرت مند اور پُرامن ہیں، امن و امان کے لیے حکومت کسی بھی حد جانے کے لیے تیار ہے۔

    انہوں نے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہدا یت دی کہ جو بھی امن کو خراب کرے گا اس کے ساتھ دہشت گردوں والا سلوک کیا جائے صوبائی حکومت کی درخواست پر فوج علا قے میں امن کے لیے تعینات ہے، فوج، پولیس اور انتظامیہ مل کر علاقے میں پائیدار امن کے لئے مربوط کوششیں کر رہے ہیں، علاقے میں قائم تمام کے تمام مورچے بلا تفریق ختم کیے جائیں۔

    وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان سیاسی اختلافات اپنی جگہ، علاقے میں امن کے لئے وفاقی حکومت ایف سی کے پلاٹونز فراہم کرے، گرینڈ جرگہ مکمل امن کے قیام تک علاقے میں رہے، صوبائی حکومت ہر ممکن سپورٹ فراہم کرے گی، جو لوگ علاقے میں امن خراب کر رہے ہیں مقامی کمیونٹی اس کی نشاندہی کرےفریقین کے درمیان نفرت کی فضا کو ختم کرنے کے لئے مقامی عمائدین اپنا کردار ادا کریں انہوں نے ہدایت دی کہ علاقے میں لوگوں کے پاس موجود بھاری اسلحہ جمع کیا جائے جبکہ سرحدی علاقے کے لوگوں کے پاس موجود اسلحہ بھی امانتاً جمع کیا جائے۔

    علی امین گنڈاپور نے کہا کہ جو بھی ہتھیار اٹھائے گا وہ دہشت گرد کہلائے گا، دہشت گردوں کا انجام جہنم ہے، علاقے کے عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کے لئے فنڈز ترجیحی بنیادوں پر جاری کئے جائیں، صوبائی حکومت ان بے گھر افراد کی باعزت واپسی یقینی بنائے گی۔

  • پی ٹی اے کا  وی پی این پر پابندی نہ لگانے کا فیصلہ

    پی ٹی اے کا وی پی این پر پابندی نہ لگانے کا فیصلہ

    اسلام آباد: پاکستان کے ٹیلی کام ریگولیٹر نے ملک بھر میں ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (VPNs) پر پابندی نہ لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے ڈان کی رپورٹ کے مطابق تمام ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (VPNs) 30 نومبر کے بعد کام جاری رکھیں گے کیونکہ ٹیلی کام ریگولیٹر نے قانونی بنیادوں کی کمی کی وجہ سے ان پر پابندی نہ لگانے کا فیصلہ کیا ہے.وزارت قانون کے مطابق حکومت کے پاس الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) 2016 کے تحت اس طرح کی پابندی نافذ کرنے کا قانونی اختیار نہیں ہے۔

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے صارفین سے کہا تھا کہ وہ 30 نومبر تک اپنے وی پی این رجسٹر کر لیں، جس کے بعد غیر رجسٹرڈ کنکشن بلاک کر دیے جائیں گے۔

    وزیر داخلہ نے ٹیلی کام ریگولیٹر سے غیر رجسٹرڈ VPNs پر پابندی لگانے کی درخواست کی تھی، یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہیں دہشت گرد "پرتشدد سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرنے” اور "فحش اور گستاخانہ مواد تک رسائی” کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔، تاہم، وزارت قانون نے واضح کیا کہ PECA مخصوص آن لائن مواد کو بلاک کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

    وزارت داخلہ کے ذرائع نے بتایا کہ اس ماہ کے شروع میں کی گئی درخواست کو واپس لے لیا جائے گا،یہ فیصلہ وزارت قانون کی ایک رائے کے بعد لیا گیا جس میں کہا گیا کہ حکومت کے پاس VPNs کو بلاک کرنے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

    وزارت داخلہ پابندی کی درخواست واپس لے۔ لاء ڈویژن نے حکومت کو بتایا کہ وہ PECA کے تحت VPNs کو نہیں روک سکتی

    "برقی جرائم کی روک تھام کے ایکٹ (PECA) 2016 کی شقوں کے ساتھ تشریح کا مسئلہ تھا، اور بالآخر، یہ نوٹ کیا گیا ہے کہ اس سلسلے میں وزارت داخلہ کی ریڈنگ کمزور تھی، اور عدالتیں اس کے کام کرنے کی اجازت دیں گی.

    PECA کے سیکشن 34 جس کا عنوان ‘غیر قانونی آن لائن مواد’ ہے حکام کو اختیار دیا ہے کہ وہ "اسلام کی شان یا پاکستان کی سالمیت، سلامتی یا دفاع یا کسی بھی حصے کے مفاد میں” کسی بھی مواد کو ہٹانے یا بلاک کرنے یا ہٹانے یا بلاک کرنے کے لیے ہدایات جاری کریں۔

    واضح رہے کہ پاکستان کے ٹیلی کام ریگولیٹر نے کاروباری افراد اور فری لانسرز سے 30 نومبر تک اپنے وی پی این کو رجسٹر کرنے کا مطالبہ کیا تھا ممکنہ پابندی کے اعلان کے بعد 7 ہزار اضافی رجسٹریشن کے ساتھ تقریباً 27 ہزار وی پی این رجسٹرڈ ہوئے سافٹ ویئر ہاؤسز کی جانب سے ان کے کاروبار پر پابندی کے ممکنہ منفی اثرات کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا گیا تھا، رواں برس فروری میں پاکستان میں ایکس (سابقہ ​​ٹویٹر) پر پابندی کے بعد وی پی این کے استعمال میں اضافہ ہوا۔

  • اسد حکومت کی جوابی کارروائی،شامی باغی رہنما روسی فضائی حملے میں ہلاک

    اسد حکومت کی جوابی کارروائی،شامی باغی رہنما روسی فضائی حملے میں ہلاک

    اپوزیشن اور اس کے اتحادیوں نے ملک کے سب سے بڑے شہر حلب کے بیشتر حصوں پر قبضہ کرلیا ہے،جبکہ جوابی کارروائی میں شامی باغی رہنما ‘روسی فضائی حملے میں مارا گیا-

    باغی ٹی وی : مقامی میڈیا کے مطابق شامی باغیوں کا ایک رہنما ابو محمد الجولانی ممکنہ طور پر روسی فضائی حملے میں مارا گیاجب اس کی فورسز نے حلب پر قبضہ کر لیا،ابو محمد الجولانی، حیات تحریر الشام گروپ کے موجودہ کمانڈر انچیف، سمجھا جاتا ہے کہ حملے کے وقت وہ عمارت کے اندر تھے۔
    syria
    باغی رہنما ابو محمد الجولانی

    شام کے اخبار الوطن نے اطلاع دی ہے کہ مبینہ طور پر تنظیم کے ہیڈکوارٹر کے ارد گرد سخت حفاظتی حصار قائم کر دیا گیا ہے لیکن الجولانی مارا گیا ہے یا نہیں اس کی ابھی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

    باغی رہنما ابو محمد الجولانی ان مسلح دھڑوں کے سرکردہ رہنماؤں میں سے ایک ہے جو شامی فوج کے ساتھ لڑائیوں میں مصروف ہیں اور اس کے سر پر 7.9 ملین ڈالر کا انعام ہےیہ اس وقت سامنے آیا ہے جب صدر اسد کی افواج نے ہفتے کے روز ایک بیان میں خبردار کیا تھا کہ وہ دوبارہ تعینات ہو گئے ہیں اور جوابی حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
    syiran rebel
    دریں اثنا، کہا جاتا ہے کہ اسرائیل ایک ایسے منظر نامے کی تیاری کر رہا ہے جہاں صورت حال بگڑنے پر اسے کارروائی کرنے کی ضرورت ہوگی،انٹیلی جنس سربراہوں نے مبینہ طور پر وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو بتایا ہے کہ ‘اسد حکومت کے خاتمے سے ممکنہ طور پر افراتفری پھیلے گی جس میں اسرائیل کے خلاف فوجی خطرات پیدا ہوں گے۔’

    القاعدہ سے منسلک باغیوں نے ہفتے کے روز دمشق کی طرف جنوب کی طرف پیش قدمی کی، جس کے ایک دن بعد انہوں نے حلب پر حکومتی دستوں کی جانب سے تھوڑی مزاحمت کے ساتھ قبضہ کر لیا،باغیوں نے شامی فوج کے اڈے اور حلب ائیرپورٹ سمیت کئی اہم علاقوں پر قبضےکا دعویٰ کیا ہے شامی فوج شمالی شہر حماہ سے بھی پیچھے ہٹ گئی ہے،شامی باغیوں کے حملے میں درجنوں شامی فوجی مارے جانےکی بھی اطلاعات ہیں۔

    2016 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ حلب پر سرکاری فوج کا کنٹرول ختم ہوچلا ہے جھڑپیں جاری ہیں اور روسی لڑاکا طیاروں نے حلب کے کئی علاقوں پر حملے کیے ہیں،اطلاعات کے مطابق حلب کے گورنر، پولیس کی لیڈرشپ اور سیکیورٹی برانچز شہر کے وسط سے نکل گئے ہیں،شام میں مسلح دھڑے حلب کے اندر نئے محلوں کو کنٹرول کرنے کے بعد حلب شہر اور اس کے مرکز تک پہنچ گئے ہیں جن میں الحمدانیہ، نیو حلب، صلاح الدین اور سیف الدولہ شامل ہیں۔

    دوسری جانب روس اور ایران کے وزرائے خارجہ کے درمیان شام میں پیدا کی جانے والی نئی صورت حال پر باہم تبادلہ خیال کیا ہے،ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تبادلہ خیال دونوں وزرائے خارجہ نے فون پر کیا ہے دونوں ملکوں نے اس موقع پر شامی اپوزیشن کے مسلح حملوں کے خلاف بشارالاسد کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے روسی ہم منصب سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں حملے امریکی واسرائیلی منصوبے کا نتیجہ ہیں، تاکہ خطے میں عدم استحکام بڑھایا جاسکے۔

    ہفتے کے روز شام کی فوج نے ایک بیان میں بتایا کہ اس کے فوجیوں کو قتل کیا گیا ہے یہ فوجی اپوزیشن کے حملوں میں اس وقت ہلاک ہوئے ہیں جب اپوزیشن نے حلب شہر پر حملے کیے اس واقعے سے بشارالاسد کے شمال مغربی صوبے میں ایک نیا چیلنج پیدا ہو گیا ہے کہ وہ فوج کی تعینات کو نئے سرے سے کریں۔

    روسی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں نے شام میں صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان دہشت گردانہ حملوں سے شام میں صورت حال خطرناک ہو گئی-

  • غزہ میں اسرائیل کے تازہ حملوں میں مزید  100 فلسطینی شہید

    غزہ میں اسرائیل کے تازہ حملوں میں مزید 100 فلسطینی شہید

    غزہ میں اسرائیل کی جانب سے تازہ حملوں میں مزید 100 فلسطینی شہید ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں اسرائیلی حملوں میں تیزی آگئی ہے، ہفتے کو غزہ پر اسرائیلی حملوں میں کم ازکم 100 فلسطینی شہید ہوگئے جن میں سے 75 فلسطینی بیت لاحیا کی رہائشی عمارتوں پر بمباری میں شہید ہوئے۔

    اس کے علاوہ جنوبی غزہ کے شہرخان یونس پر اسرائیل کی بمباری میں17 افرا دشہید ہوئے، اسرائیلی طیاروں نےخان یونس میں 2 مقامات کو نشانہ بنایا، غزہ میں خوراک تقسیم کےدوران اسرائیلی حملے میں 3 امدادی کارکن بھی شہید ہوئے، حملے کے بعد امدادی ادارے نے غزہ میں خوراک تقسیم کا کام بند کر دیا۔

    رپورٹ کے مطابق شمالی غزہ میں اسرائیلی محاصرے کے دوران وحشیانہ زمینی اور فضائی حملوں میں 2700 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، غزہ میں فلسطینیوں کو سنگین غذائی بحران کی صورتحال کا سامنا ہے۔

    فلسطین کی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 44 ہزار 382 فلسطینی شہید ہوئے جبکہ اسرائیلی حملوں میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 5 ہزار 142 فلسطینی زخمی بھی ہوئے،جن میں زیادہ تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے-

  • ایڈز کے خطرے سےدوچار افراد کیلئے  حکمت عملی بنانا ترجیح ہے،وزیراعظم

    ایڈز کے خطرے سےدوچار افراد کیلئے حکمت عملی بنانا ترجیح ہے،وزیراعظم

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ایڈز کا دن منایا جا رہا ہے،دنیا بھر میں ہر سال یکم دسمبر کو ایڈز سے بچاؤ کا دن منایا جاتا ہے،ایڈز کا عالمی دن دنیا میں پہلی بار 1987ء میں منایا گیا،اس حوالے سے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے بھی پیغام جاری کیا ہے-

    باغی ٹی وی : وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ ایچ آئی وی کے خلاف حکمت عملی کو مؤثر بنانے کے لیے پرعزم ہیں، یقینی بنا رہے ہیں کہ ایڈز کے خلاف مہم میں کوئی پیچھے رہ نہ جائے، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اعلامیہ کی پاسداری اور تمام برادریوں کی شمولیت کو فروغ دینا ایڈز کو صحت عامہ کے خطرے کے طور پر ختم کرنے کے لیے ضروری ہے، ایسے افراد جو ایڈز کے خطرے سے دو چار ہیں ان کے لیے حکمت عملی بنانا ترجیح ہے، صحت کے نظام کو مضبوط بناتے رہیں گے-

    شہباز شریف نے کہا کہ ایچ آئی وی/ایڈز نہ صرف صحت کا ایک چیلنج بلکہ ایک اہم سماجی و اقتصادی مسئلہ ہے جو کہ معاشی نظام کے لیے بھی ایک خطرہ ہے، ایڈز کی جانچ اور علاج کی کوریج میں ایک خلا ہے جس کے حوالے سے کام کرنے کی ضرورت ہے ہماری اجتماعی کوششوں کے باوجود پاکستان میں ایچ آئی وی کی وبا بڑھ رہی ہے جس کے لیے اختراعی اور پائیدار کوششوں کی ضرورت ہے-

    وزیراعظم نے کہا کہ مساوات اور شمولیت پر مبنی حکمت عملی کے ذریعے ہی ہم ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو روک سکتے ہیں، مضبوط سیاسی ارادہ اور مؤثر قیادت قومی ایچ آئی وی حکمت عملی کو نافذ کرنے کے لیے ضروری ہیں، آج ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ ایڈز سے پاک ملک کے لیے متحد ہو جائیں، ایڈز سےپاک مستقبل صرف اجتماعی کوششوں کےذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے جو انسانی وقار، مساوات اور شمولیت کو فروغ دے۔

  • ٹرمپ نےبرکس ممالک کو ڈالر کی متبادل کرنسی لانے پر خبردار کر دیا

    ٹرمپ نےبرکس ممالک کو ڈالر کی متبادل کرنسی لانے پر خبردار کر دیا

    واشنگٹن: برکس ممالک کو امریکی ڈالر کی متبادل کرنسی لانے پر نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دے دی۔

    باغی ٹی وی :عالمی میڈیا کے مطابق کے مطابق نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں کے گروپ برکس کو تنبیہ کرتے ہوئے تنظیم کے ممالک کو امریکی ڈالر کی متبادل کرنسی لانے پر خبردار کر دیا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ برکس ممالک نہ تو اپنی کرنسی لائیں نہ ڈالر کے متبادل کسی کرنسی کی حمایت کریں، ڈالر کے مقابلے میں کسی بھی کرنسی کی حمایت پر 100 فیصد ٹیرف لگایا جائے گا عالمی معیشت میں امریکی ڈالر کے متبادل کا کوئی امکان نہیں، ڈالر کے متبادل کرنسی کی حمایت کرنے والے برکس ممالک کو امریکی معیشت میں جگہ نہیں ملے گی۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق برکس اتحاد کے اراکین ممالک عالمی مالیاتی نظام پر امریکا کے غلبے سے تنگ آچکے ہیں، برکس ممالک تجارتی مقاصد کے لیے اپنی کرنسی کے استعمال پر غور کر رہے ہیں،برکس برازیل،روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقا پر مشتمل گروپ ہے، رواں برس برکس میں عرب امارات،ایران،مصر اور ایتھوپیا نے بھی شمولیت اختیار کی۔

  • روس نے امریکا کو نیوکلیئر ہتھیاروں کی جنگ  کے تباہ کن اثرات سے خبردار کردیا

    روس نے امریکا کو نیوکلیئر ہتھیاروں کی جنگ کے تباہ کن اثرات سے خبردار کردیا

    امریکا کے پاس مہلک ترین بی 83 جوہری ہتھیار ہے، اگر یہ طاقتور ترین نیوکلیئر بم روس، چین اور شمالی کوریا کے دارلحکومتوں پر پھینکا گیا تو ہولناک تباہی ہوگی-

    باغی ٹی وی: امریکی جریدے نیوز ویک نے بی 83 نیو کلیئر بم سے تباہی کا تخمینہ پیش کردیا، جریدے کے مطابق امریکا کا طاقتور ترین نیوکلیئر ہتھیار بی 83 ہے، اس نیوکلیئر بم سے جو شعلہ بلند ہوگا وہ 4 اسکوائر کلومیٹر رقبے پر محیط ہوگا اور تباہی اس قدر ہوگی کہ 175 اسکوائر کلومیٹر رقبے میں عمارتیں تباہ یا جل جائیں گی۔

    امریکی جریدے کا کہنا ہے کہ اگر امریکا کا طاقتور ترین نیوکلیئر بم روس، چین اور شمالی کوریا کے دارلحکومتوں پر پھینکا گیا تو ہولناک تباہی ہوگی، اگر اسے ماسکو پر پھینکا گیا تو 14 لاکھ افراد ہلاک اور 37 لاکھ زخمی ہوں گے،نیوکلیئر بم بیجنگ پر پھینکا گیا تو 15 لاکھ افراد ہلاک اور 37 لاکھ زخمی ہوں گے، اسی طرح اگر یہ بم پیانگ یانگ پر پھینکا گیا تو 13 لاکھ شہری ہلاک اور 11 لاکھ زخمی ہوں گے۔

    جریدے کا کہنا ہے کہ دھماکے کے 211 مربع میل کے اندر موجود افراد جل جائیں گے، دھماکا کئی افراد کی معذوری کا سبب بن سکتا ہے، دھماکے کے 535 مربع میل کے فاصلے پر موجود عمارتوں میں لگے شیشے ٹوٹ سکتے ہیں اور لوگ زخمی ہوسکتے ہیں، امریکا نادانستہ طور پر اپنے اتحادیوں کی پشت پناہی کرنے کے لیے دنیا بھر میں متعدد تنازعات میں ملوث ہے، چین کے ساتھ تجارت سمیت متعدد مسائل پر تناؤ کا بھی سامنا ہے۔

    دوسری جانب روس نے امریکا کو نیوکلیئر ہتھیاروں کی جنگ کے خدشے کے تباہ کن اثرات سے خبردار کردیا اور واضح کیا ہے کہ نیوکلیئر ہتھیاروں کی آزمائش بحال کیے جانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

    روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے یہ بات امریکی جریدے کی جانب سے روس پر ممکنہ نیوکلیئر حملے سے تباہی کے تخمینے پر ردعمل میں کہی یہ پہلی بار نہیں کہ ایسے واقعات کو ماڈل کیا گیا ہے، یہ خدشات موجود ہیں لیکن روس ہر ممکن کوشش کرے گا کہ ایسی تباہ کن صورتحال سے گریز کیا جائے۔

    نائب وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہر چیز کا انحصار روس پر نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ ہمارا دشمن کیسے برتاؤ کرتا ہے، اگر وہ اُس صورتحال کی طرف بڑھتے ہیں جس کا روسی نیوکلیئر ڈاکٹرائن میں ذکر کیا گیا ہے تو یہ دشمن پر منحصر ہوگا،اب پہلی بار نیوکلیئر ہتھیاروں کی آزمائش کرنے پر غور کررہا ہے؟ سوال پر نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ یہی سوال اس وقت درپیش ہے اور صورتحال کافی مشکل ہے،اس پر مستقل طور پر غور کیا جارہا ہے۔

  • اقوام متحدہ میں مکمل طور پر اصلاحات کی ضرورت ہے،ترک صدر

    اقوام متحدہ میں مکمل طور پر اصلاحات کی ضرورت ہے،ترک صدر

    استنبول: ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ میں مکمل طور پر اصلاحات کی ضرورت ہے، دنیا کو سلامتی کونسل کے 5 مستقل اراکین کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : انادولو کی رپورٹ کے مطابق صدر رجب طیب اردوان نے استنبول میں ٹی آرٹی ورلڈ فورم میں خطاب کے دوران طیب اردوان نے سلامتی کونسل کے اس نظام کو مسترد کردیا جس کے تحت 5 مستقل اراکین کسی بھی فیصلے کو ویٹو کرنے کا اختیار رکھتے ہیں اور کہا کہ دنیا ان 5 ممالک سے بڑی ہے۔

    اقوام متحدہ میں اصلاحات پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام کے سامنے تبدیلیوں کی فہرست پیش کی گئی ہے، جس میں عالمی فوجدوری عدالت (آئی سی سی) اور تہذیبوں کا اتحاد شامل ہے، جس کا بیڑا ترکیے اور اسپین نے اٹھایا تھا اور اس کا مقصد 2001 میں امریکا پر حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بڑھانا تھا۔

    ترک صدر نے کہا کہ تجارت سے سفارت کاری تک ممالک کے درمیان مسابقت مزید تباہ کن انداز میں بڑھی ہے اور دن بدین مزید جارحانہ طریقے سے آگے بڑھ رہی ہے اور انسانیت بدترین موڑ پر کھڑی ہے جو واقعات پیش آرہے ہیں وہ نہ صرف اگلے 5 سے 10 سال پر اثرانداز ہوں گے بلکہ ہمارے آنے والی دوسری اور تیسری نسلوں کو بھی متاثر کریں گے، روس اور یوکرین کی جنگ کو اب 4 سال ہونے والے ہیں، اس سے ہمیں بین الاقوامی نظام کے تحت رولز کی کمزوریوں کا اندازہ ہوتا ہے۔