Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • دبئی میں معاشی و سیکیورٹی بحران: مالی مشکلات اور غیر یقینی صورتحال نے جانوروں کی دیکھ بھال کو مشکل بنا دیا

    دبئی میں معاشی و سیکیورٹی بحران: مالی مشکلات اور غیر یقینی صورتحال نے جانوروں کی دیکھ بھال کو مشکل بنا دیا

    دبئی اور وسیع تر خطے میں جاری معاشی و سیکیورٹی بحرانوں کے باعث رہائشیوں کی ہجرت میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں پالتو جانوروں کو سڑکوں پر چھوڑنے یا پناہ گاہوں کے حوالے کرنے کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مالی مشکلات اور غیر یقینی صورتحال نے جانوروں کی دیکھ بھال کو مشکل بنا دیا ہے۔

    اس دل دہلا دینے والی صورتحال میں جانوروں کے پناہ گاہیں پر ہجوم ہو گئی ہیں اور جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں مدد کے لیے پکار رہی ہیں،غیر یقینی صورتحال کے باعث رہائشی فوری طور پر ملک چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں، اور اکثر پالتو جانوروں کو ساتھ لے جانے کے لیے وقت یا وسائل نہیں ہوتےمعاشی دباؤ کی وجہ سے لوگ اپنے جانوروں کے کھانے پینے اور طبی اخراجات اٹھانے سے قاصر ہیں جانوروں کے شیلٹرز پر ناقابل یقین حد تک دباؤ ہے، اور وہ ان ترک کیے گئے جانوروں کی دیکھ بھال کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

    وزیراعظم کی ٹیکس چوری کے سدباب کیلئے انفورسمنٹ کو مزید موثر بنانے کی ہدایت

    مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی کی صورتحال اور اقتصادی دباؤ کے باعث تارکین وطن اپنے جانوروں کو ساتھ لے جانے کے بجائے چھوڑ کر جانے پر مجبور ہو رہے ہیں، دبئی میں پالتو جانوروں کی پناہ گاہیں (Shelters) گنجائش سے زیادہ بھر چکی ہیں اور انہیں خوراک و طبی امداد کی قلت کا سامنا ہے جانوروں کو ترک کرنے کی بڑی وجوہات میں ملازمتوں کا ختم ہونا، مہنگائی، اور واپس اپنے ملک جانے کی جلدی شامل ہے حکام جانوروں کو ترک کرنے کے خلاف متنبہ کر رہے ہیں کیونکہ یہ نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ جانوروں کے لیے جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

    اس بحران نے جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو بھی متحرک کر دیا ہے جو چھوڑے گئے جانوروں کے لیے نئے گھر (Adoption) تلاش کر رہی ہیں۔

    جانوروں کے حقوق کے کارکنان ان افراد سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ اپنے پالتو جانوروں کو تنہا نہ چھوڑیں اور ان کی منتقلی کے لیے متبادل راستے تلاش کریں، جیسے کہ انہیں کسی رشتہ دار یا تنظیم کے حوالے کرنا۔

    وزیراعظم کی ٹیکس چوری کے سدباب کیلئے انفورسمنٹ کو مزید موثر بنانے کی ہدایت

    دبئی میں ایک پناہ گاہ نے کہا کہ وہ "متروک کتے کے بچوں یا مالکان کے لئے کالوں کی تعداد سے مغلوب ہو رہے ہیں جو پالتو جانوروں کو پیچھے چھوڑنا چاہتے ہیں۔” ایک اور ریسکیو رضاکار نے ٹیلی گراف کو بتایا کہ اسے لوگوں کی طرف سے روزانہ تقریباً پانچ پیغامات موصول ہوتے ہیں کہ اگر کوئی اسے نہیں لے گا تو وہ اپنے پالتو جانوروں کو سڑک پر چھوڑ دیں گے۔

    کچھ مالکان ڈاکٹروں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ مکمل طور پر صحت مند جانوروں کا علاج کریں کیونکہ پالتو جانوروں کی نقل و حمل کا انتظام کرنا بہت مشکل یا مہنگا ہے۔ کتوں کو پیچیدہ اجازت ناموں کی ضرورت ہوتی ہے اور انہیں اکثر کارگو کے طور پر درجہ بندی کیا جاتا ہے۔ اس کا پتہ لگانے کے بجائے، کچھ مالکان صرف انہیں مارنے کا کہہ رہے ہیں۔

    العین کی ایک رہائشی اپنے پورچ پر ایک کریٹ میں ایک بلی اور چار بلی کے بچے ڈھونڈنے گھر آئی۔ مالک نے ایک نوٹ چھوڑا کہ "میں یہاں کے حالات کی وجہ سے اپنے ملک واپس جا رہا ہوں، مجھے آپ کے گیٹ کے سامنے رکھنے پر بہت افسوس ہے۔

    وزیراعظم کی ٹیکس چوری کے سدباب کیلئے انفورسمنٹ کو مزید موثر بنانے کی ہدایت

    دبئی میں ایک رضاکار نے سادہ الفاظ میں کہا: "یہاں کوئی مناسب، بڑے پیمانے پر پناہ گاہ کا نظام نہیں ہے جو اسے سنبھال سکے۔ چند جگہیں جو موجود ہیں وہ ہمیشہ بھری رہتی ہیں۔”

    K9 Friends Dubai، کتے کو بچانے والی ایک تنظیم نے ایک فوری درخواست پوسٹ کی: "ہم سمجھتے ہیں کہ صورتحال کشیدہ ہے اور وہاں کے خاندان حفاظت کے لیے اپنے آبائی ممالک کو واپس جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ براہ کرم اپنے پالتو جانوروں کو اپنے ساتھ لے جائیں۔”

    عاشورہ سے محبت کرنیوالی ایرانی قوم کاغذی دھمکیوں سے نہیں ڈرتی،علی لاریجانی

    ایک لاوارث کتے کو بچانے والے دبئی کے ریڈیو پریزینٹر پرکشت بلوچی نے کہا کہ پالتو جانور ڈسپوزایبل نہیں ہوتے۔ اگر آپ اپنے جانور کی دیکھ بھال نہیں کر سکتے تو مدد، پرورش، بچاؤ، ذمہ داری کے ساتھ دوبارہ گھر رکھیں بس انہیں پیچھے نہ چھوڑیںمیونسپلٹی نے لاوارث جانوروں کے لیے فیڈنگ اسٹیشن شروع کیے ہیں، لیکن اس سے یہ حقیقت نہیں بدلی کہ سینکڑوں پالتو جانور اب سڑکوں پر یہ سوچتے پھر رہے ہیں کہ ان کے مالکان کہاں گئے۔

  • سعودی عرب اور یو اے ای سے ہمیں پیٹرول کی ترسیل میں مدد مل رہی ہے،علی پرویز ملک

    سعودی عرب اور یو اے ای سے ہمیں پیٹرول کی ترسیل میں مدد مل رہی ہے،علی پرویز ملک

    وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے 2022 میں عدم اعتماد کے وقت پیٹرول کی قیمتوں پر سیاست کی تھی، جس کے نتیجے میں ملک کو نقصان اٹھانا پڑا۔

    وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کرنا ایک ناگزیر قدم تھا اور اس سے عوام پر بڑا بوجھ پڑا، تاہم وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ اگر قیمتوں میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو کفایت شعاری کے اقدامات کے ذریعے اسے کنٹرول کیا جائے گا۔

    انہوں نے کہاکہ جب قیمتوں میں اضافہ کیا گیا، تب عالمی سطح پر ڈیزل کی قیمت 150 ڈالر فی بیریل تھی، اور ٹرمپ کے بیان کے بعد عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہوئی ہیں، اس لیے پیٹرول کی قیمتوں میں شاید اب زیادہ ردوبدل نہ ہو، پاکستان اپنی توانائی کی 90 فیصد ضروریات درآمدات کے ذریعے پوری کرتا ہے اور ملک نے آئی ایم ایف کے ساتھ شراکت داری اور ذمہ داری کے ساتھ معاشی استحکام حاصل کیا ہے۔

    Talks with Iran will be held on specific terms, Trump says

    انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں قائم کمیٹی کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی کرے گی وفاقی حکومت فیصلے کرنے سے قبل صوبائی حکومتوں سے مشاورت کرتی ہے اور اس بار بھی تمام صوبائی وزرائے اعلیٰ سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا، ڈیزل کی قیمت میں 80 روپے کا اضافہ ہوا، لیکن لیوی کم کرکے قیمت میں اضافے کو محدود کیا گیا۔

    Prime Minister directs to make enforcement more effective to curb tax evasion

    انہوں نے مزید کہاکہ ملک میں تیل کی ریفائنری خلیجی ممالک سے آنے والے تیل کے لیے ہے اور روسی تیل کمرشل طور پر کمپنی کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے، مگر عوام کے لیے زیادہ مؤثر نہیں سعودی عرب اور یو اے ای سے ہمیں پیٹرول کی ترسیل میں مدد مل رہی ہے،اگر پیٹرول کی قیمت میں اضا فہ نہ کیا جاتا تو متبادل راستہ کیا ہوتا؟ انہوں نے یاد دلایا کہ پی ٹی آئی نے 2022 میں عدم اعتماد کے وقت پیٹرول کی قیمتوں پر سیاست کی تھی، جس کے نتیجے میں ملک کو نقصان اٹھانا پڑا۔

  • ایران کے ساتھ  مذاکرات مخصوص شرائط پر مخصوص شرائط پر ہوں گے،ٹرمپ

    ایران کے ساتھ مذاکرات مخصوص شرائط پر مخصوص شرائط پر ہوں گے،ٹرمپ

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت ممکن ہے، تاہم یہ مذاکرات مخصوص شرائط پر منحصر ہوں گے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ انہیں ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای پر بھروسہ نہیں ہے ان کے خیال میں مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے موجودہ حالات میں سکون سے رہنا آسان نہیں ہوگا،تہران اس وقت مذاکرات کے لیے بے تاب دکھائی دیتا ہے، لیکن امریکا ایران کی قیادت پر مکمل اعتماد نہیں کر سکتا، اگر ایران مذاکرات چاہتا ہے تو اسے پہلے کچھ بنیادی شرائط کو قبول کرنا ہوگا۔

    دوسری جانب امریکا کے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے پینٹاگون میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ایران کے خلاف جاری جنگ سے متعلق تفصیلات بیان کیں۔

    وزیراعظم کی ٹیکس چوری کے سدباب کیلئے انفورسمنٹ کو مزید موثر بنانے کی ہدایت

    وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ جنگ کے دوسرے ہفتے میں داخل ہونے کے ساتھ ہی ایران کی قیادت دباؤ کا شکار ہے اور حالات کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی ہےامریکا اس جنگ کو اپنے طے کردہ وقت کے مطابق ختم کرے گا اور اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹے گا جب تک دشمن کو مکمل اور فیصلہ کن شکست نہیں دی جاتی۔

    پیٹ ہیگستھ نے روس کو بھی خبردار کیا کہ وہ اس تنازع میں مداخلت سے گریز کرے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو صدر ٹرمپ کے بیانات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

    عاشورہ سے محبت کرنیوالی ایرانی قوم کاغذی دھمکیوں سے نہیں ڈرتی،علی لاریجانی

    پریس کانفرنس کے دوران ایران میں ایک پرائمری اسکول پر ہونے والے حملے کے بارے میں بھی سوال اٹھایا گیا اس حوالے سے پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی، ان کے مطابق امریکا نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ شہریوں کو نقصان نہ پہنچے، امریکی عوام ماضی میں مشرق و سطیٰ کی طویل جنگوں میں الجھنے کے خلاف ووٹ دے چکے ہیں، تاہم ایران کے خلاف جاری جنگ کے اختتام کے بارے میں حتمی فیصلہ صدر ٹرمپ ہی کریں گے۔

    پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ایران اس وقت عالمی سطح پر تنہا کھڑا ہے اور میدان میں بری طرح پسپا ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکی کارروائیوں کا بنیادی مقصد ایران کے میزائل پروگرام اور دفاعی صنعتی مراکز کو نشانہ بنا کر انہیں تباہ کرنا ہے، ایرانی بحریہ کی صلاحیت کو ختم کرنا بھی امریکی حکمت عملی کا حصہ ہے اور آج حملوں میں مزید شدت آنے کا امکان ہے۔

    وزیراعظم کے کفایتی اقدامات پر عملدرآمد کا فیصلہ، وزارت خارجہ کو ہدایات جاری

    ادھر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے بتایا کہ امریکی فوج نے حال ہی میں ایران کے زیر زمین میزائل اڈوں کو نشانہ بنانے کے لیے درجنوں دو ہزار پاؤنڈ وزنی خصوصی بم استعمال کیے ہیں یہ ہتھیار زمین کے اندر گہرائی میں موجود اہداف کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

    جنرل ڈین کین نے یہ بھی کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے یہ سمندری راستہ عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے، لیکن جاری جنگ کے باعث اس علاقے میں جہازوں کی آمدورفت شدید متاثر ہو چکی ہے۔

    وزیراعظم کا ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو خط، عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد

  • وزیراعظم کی  ٹیکس چوری کے سدباب کیلئے انفورسمنٹ کو مزید موثر بنانے کی ہدایت

    وزیراعظم کی ٹیکس چوری کے سدباب کیلئے انفورسمنٹ کو مزید موثر بنانے کی ہدایت

    وزیر اعظم شہباز شریف نے ٹیکس محصولات میں اضافے کے لیے زیادہ سے زیادہ پیداواری شعبوں کو خودکار نگرانی کے دائرہ کار میں لانے اور ٹیکس چوری کے سدباب کیلئے انفورسمنٹ کو مزید موثر بنانے کی ہدایت کی ہے۔

    وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم کی زیر صدارت ایف بی آر کے امور پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد ہوا، وزیرا عظم نے ٹیکس محصولات میں اضافے کے لیے زیادہ سے زیادہ پیداواری شعبوں کو خودکار نگرانی کے دائرہ کار میں لانے اور ایف بی آر محصولات میں اضا فے اور ٹیکس چوری کے سدباب کیلئے انفورسمنٹ کو مزید موثر بنانے کی ہدایت کی ۔

    وزیراعظم نے پرال (PRAL) کی ایگزیکٹو ٹیم میں میرٹ کی بنیاد پر ماہرین کی بھرتیوں اور پرال کو ایک فعال ادارہ بنانے پر معاشی ٹیم کی پذیرائی کی، اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو ملک میں تیار کردہ ادویات کی سیریئلائزیشن جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی انہوں نے ٹیکس دہندگان کے لیے آٹو ٹیکس سسٹم، ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم، آئرس (IRIS) اور دیگر ایپلیکیشنز کو اردو اور دیگر مقامی زبانوں میں بنانے کی ہدایت کی۔

    عاشورہ سے محبت کرنیوالی ایرانی قوم کاغذی دھمکیوں سے نہیں ڈرتی،علی لاریجانی

    وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ ٹیکس محصولات میں اضافے کے لیے ملک کے مختلف شعبوں میں پیداوار کی نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی متعدد نظام نافذ العمل ہیں اور کئی جلد فعال ہو جائیں گے، پیداوار کی نگرانی کے لیے ویڈیو اینالیٹیکس، یونٹ کائونٹنگ، بارکوڈ سکیننگ، سٹیمپنگ، سیریئلائزیشن اور دیگر ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں۔

    بریفنگ کے مطابق شوگر، سیمنٹ، سگریٹ اور کھاد کے تمام کارخانوں میں پیداوار کی نگرانی کی جارہی ہے اور اس اقدام سے ٹیکس محصولات میں اضافہ ہوا، ٹیکسٹائل ، چمڑے، کاغذ، آٹوموبائل، مشروبات اور دیگر شعبوں میں پیداوار کی نگرانی کے لیے اقدامات جاری ہیں جس سے اربوں روپے اضافی ٹیکس آمدنی ہوگی۔

    وزیراعظم کا ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو خط، عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ شفافیت یقینی بنانے اور ٹیکس دہندگان کا اعتماد بحال کرنے کے لیے آلٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولیوشن کمیٹیز کے قانون میں ترامیم کی گئی ہیں، آلٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولیوشن کمیٹیز کے ذریعے 30 جون 2026ء تک ٹیکس کی مد میں 80 ارب روپے آمدن وصول ہونے کی توقع ہے، جولائی 2025 تا جنوری 2026ء ٹیکس مقدمات کے فیصلوں کے نتیجے میں قومی خزانے کو 102.9 ارب روپے ٹیکس وصولی ہوئی، جون 2026ء تک زیر التوا ٹیکس مقدمات سے ٹیکس کی مد میں 369 ارب روپے وصول ہونے کی توقع ہے۔

    وزیراعظم کے کفایتی اقدامات پر عملدرآمد کا فیصلہ، وزارت خارجہ کو ہدایات جاری

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ کی نئی ایگزیکٹیو ٹیم فعال ہو چکی ہے، پرال کا ڈیجیٹل انوائسنگ کا نظام مکمل طور پر فعال ہو چکا ہے، جنوری اور فروری کے مہینوں میں 800 ارب روپے کے ڈیجیٹل انوائسنگ ہو چکی جبکہ اپریل 2026ء میں 3 کھرب روپے کی ڈیجیٹل انوائسنگ کا ہدف بھی حاصل ہو سکے گا عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ایف بی آر کا نیا ڈیٹا سینٹر مکمل طور پر تیار ہو چکا، ملک میں سمگلنگ کی روک تھام اور کارگو ٹریکنگ کے لیے ڈیجیٹل کارگو ٹریکنگ کا نظام بالخصوص ای بلٹی کا نظام متعارف کرایا جا چکا ہے۔

    سندھ میں بھی تعلیمی ادارے بند،شرجیل میمن نے اہم فیصلے بتا دیئے

  • عاشورہ سے محبت کرنیوالی ایرانی قوم کاغذی دھمکیوں سے نہیں ڈرتی،علی لاریجانی

    عاشورہ سے محبت کرنیوالی ایرانی قوم کاغذی دھمکیوں سے نہیں ڈرتی،علی لاریجانی

    امریکا اور ایران کے درمیان میزائلوں کے ساتھ ساتھ بیانات کی جنگ بھی شدت اختیار کر گئی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت انتباہ کے بعد ایرانی سپریم کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کسی دھمکی سے خوفزدہ نہیں ہوگا۔

    ایران کی سپریم سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ عاشورہ سے محبت کرنے والی ایرانی قوم کاغذی دھمکیوں سے نہیں ڈرتی،ماضی میں بھی ایران سے زیادہ طاقتور قوتیں ایرانی قوم کو ختم نہیں کر سکیں،انہوں نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات دینے سے پہلے خود اپنے انجام کے بارے میں سوچنا چاہیے۔

    وزیراعظم کا ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو خط، عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد

    اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سخت بیان جاری کرتے ہوئے ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوئی کوشش کی تو امریکا اس کے خلاف پہلے سے کہیں زیادہ سخت کارروائی کرے گا، اگر تیل کی ترسیل میں خلل پیدا کیا گیا تو امریکا ایران پر اب تک کیے گئے حملوں سے بیس گنا زیادہ سخت حملہ کرے گا۔

    امریکی صدر نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ امریکا ایسے اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے جنہیں آسانی سے تباہ کیا جا سکتا ہے اور جن کے تباہ ہونے کے بعد ایر ان کے لیے دوبارہ بطور ریاست اپنے آپ کو بحال کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا ایسی صورتحال میں موت، آگ اور شدید تباہی ایران پر مسلط ہو سکتی ہے۔

    وزیراعظم کے کفایتی اقدامات پر عملدرآمد کا فیصلہ، وزارت خارجہ کو ہدایات جاری

    نہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ایسا نہ ہو آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل جاری رہنا دراصل چین اور ان دیگر ممالک کے لیے ایک طرح کا تحفہ ہے جو اس راستے سے بڑی مقدار میں تیل درآمد کرتے ہیں،امید ہے کہ ان ممالک کی جانب سے اس اقدام کو سراہا جائے گا۔

  • وزیراعظم کا ایرانی  سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو خط، عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد

    وزیراعظم کا ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو خط، عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد

    وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو خط لکھ کر انہیں سپریم لیڈر کے عہدے پر فائز ہونے پر مبارکباد دی اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کیا۔

    وزیراعظم نے ایرانی عوام کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے امت مسلمہ کے لیے دعاؤں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی وفات پر پاکستانی عوام شدید دکھ میں ہیں اور مشکل وقت میں ایران کی قیادت اور عوام کے ساتھ کھڑے ہیں امید ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں ایران امن، استحکام اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوگا، پاک ایران تعلقات مشترکہ عقیدے، تاریخ، ثقافت اور زبان کی بنیاد پر مضبوط ہیں۔

    وزیراعظم کے کفایتی اقدامات پر عملدرآمد کا فیصلہ، وزارت خارجہ کو ہدایات جاری

    وزیراعظم نے دو طرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے اور تمام شعبوں میں باہمی مفاد کے لیے ایران کے ساتھ کام جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت، کامیابی اور ایرانی عوام کے لیے امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے دعائیں بھی کیں۔

    فوجی دستے کسی بھی نئے حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے ہائی الرٹ پر موجود ہیں،بحرین

  • وزیراعظم کے کفایتی اقدامات پر عملدرآمد کا فیصلہ،  وزارت خارجہ کو ہدایات جاری

    وزیراعظم کے کفایتی اقدامات پر عملدرآمد کا فیصلہ، وزارت خارجہ کو ہدایات جاری

    وزارت خارجہ نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اعلان کردہ کفایتی اقدامات پر عملدرآمد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے وزارت خارجہ کو ہدایات جاری کردی ہیں۔

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے وزارت خارجہ کے سینئر حکام کے ساتھ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم کی جانب سے اعلان کردہ کفایتی اقدا ما ت پر عملدرآمد کا جائزہ لیا، اجلاس میں سرکاری اخراجات میں کمی، مالی نظم و ضبط اور وسائل کے مؤثر استعمال سے متعلق امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے اس موقع پر مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، عوامی وسائل کے دانشمندانہ استعمال اور وزارت کے امور کو حکومت کی معاشی ذمہ داری کی پالیسی سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    ایرانی جارحیت سے نمٹنا اولین ترجیح ہے،قطر

    انہوں نے ہدایت کی کہ انتظامی امور کو مزید مؤثر بنایا جائے اور اخراجات کو صرف ناگزیر ضروریات تک محدود رکھا جائے، جبکہ ایسے شعبوں کی نشاندہی کی جائے جہاں سفارتی سرگرمیوں اور قونصلر خدمات کو متاثر کیے بغیر اخراجات میں کمی ممکن ہو۔

    اجلاس میں حکومت کی کفایت شعاری مہم کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے شفاف طرز حکمرانی، ذمہ دارانہ انتظام اور سرکاری فنڈز کے مؤثر استعمال کے عزم کو دہرایا، وزارت خارجہ قومی خارجہ پالیسی کے مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کو بھی یقینی بنائے گی۔

    تیل کی قیمتیں آؤٹ آف کنٹرول !!! جنگ مزید پھیل گئی

  • ایرانی جارحیت سے نمٹنا اولین ترجیح ہے،قطر

    ایرانی جارحیت سے نمٹنا اولین ترجیح ہے،قطر

    قطر کا کہنا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا اور ایرانی جارحیت سے نمٹنا اس کی اولین ترجیح ہے۔

    قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ہے کہ کشیدگی کے آغاز سے قطر اور ایران کے درمیان ایک ہی براہ راست رابطہ ہوا ہے جو کشیدگی کےشروع میں قطری وزیراعظم اور ایرانی وزیر خارجہ کے درمیان ہوا تھاقطر اور ایران کے درمیان رابطوں کے ذرائع ابھی تک منقطع نہیں ہوئے، موجودہ صورتحال میں کشیدگی کم کرنے پرکوششیں مرکوز کر رکھی ہیں، ہمیں یقین ہےتنازعات کو مذاکرات کےذریعےحل کیا جاسکتا ہے۔

    ماجد الانصاری نے کہا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی معذرت سے امید کی کرن ملی تھی، تاہم اس کے بعد قطر یو اے ای اور بحرین پر مزید حملے شروع ہو ئےقطر دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ جنگ کے حوالے سے مشترکہ بیان کی تیاری کر رہا تھا تاہم ایران نے معذرت پر ردعمل کا موقع نہیں دیا، قطر موجودہ جنگ کا فریق نہیں اور اپنا بھرپور دفاع کرنے میں دریغ نہیں کرئے گا، قطر سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے مگر آئندہ حملے کی صورت میں جواب دیا جائے گا۔

    25 کروڑ لیٹر پیٹرول پاکستان پہنچ گیا،مزید جہاز 13 مارچ پہنچنے کی توقع

    مشرق وسطیٰ جنگ،مصنوعی ذہانت کے ذریعے غلط معلومات پھیلائی جانے لگیں

    افغان طالبان کے ساتھ کوئی امن مذاکرات نہیں،پاکستان کا مؤقف بدستور برقرار

  • فوجی دستے کسی بھی نئے حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے ہائی الرٹ پر موجود ہیں،بحرین

    فوجی دستے کسی بھی نئے حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے ہائی الرٹ پر موجود ہیں،بحرین

    بحرینی حکام نےکہا ہے کہ فوجی دستے پوری طرح تیار ہیں اور کسی بھی نئے حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے ہائی الرٹ پر موجود ہیں۔

    بحرین کی دفاعی افواج نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے خطے میں امریکی افواج اور تنصیبات کی میزبانی کرنے والے ممالک کے خلاف جوابی حملوں کے بعد اب تک 105 میزائل اور 176 ڈرون مار گرائے گئے ہیں۔

    بحرین ڈیفنس فورس کے جنرل کمانڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی حملوں کو کامیابی سے روک کر انہیں تباہ کیا، فضائی دفاعی یونٹس ایرانی حملوں کی مسلسل لہروں کا جواب دے رہے ہیں اور ملکی فضائی حدود کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر متحرک ہیں۔

    ایرانی جارحیت سے نمٹنا اولین ترجیح ہے،قطر

    بحرینی حکام نے ان حملوں کو جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ فوجی دستے پوری طرح تیار ہیں اور کسی بھی نئے حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے ہائی الرٹ پر موجود ہیں،بحرین کی فضائی دفاعی صلاحیتوں اور اہلکاروں کی تیاری کی بدولت ملک کی فضائی حدود کا تحفظ یقینی بنایا جا رہا ہے۔

    تیل کی قیمتیں آؤٹ آف کنٹرول !!! جنگ مزید پھیل گئی

  • اسٹیٹ بینک کا شرح سود برقرار رکھنے کا اعلان

    اسٹیٹ بینک کا شرح سود برقرار رکھنے کا اعلان

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پیر کے روز اہم پالیسی شرح سود کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ پالیسی ریٹ کو 10.5 فیصد پر ہی برقرار رکھا جائے بینک کے مطابق اس فیصلے کی تفصیلی وضاحت پر مبنی بیان جلد جاری کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک نے 2024 کے وسط سے اب تک شرح سود میں مجموعی طور پر 1150 بیسس پوائنٹس کی کمی کی ہے 2023 میں شرح سود ریکارڈ 22 فیصد تک پہنچ گئی تھی تاہم مہنگائی میں نمایاں کمی کے بعد اسے بتدریج کم کیا گیا۔

    پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں، یونیورسٹیاں بند کرنےکا اعلان

    دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے،خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے جو عالمی تیل سپلائی کا ایک اہم راستہ ہے پاکستان اپنی توانائی کی زیادہ تر ضروریات درآمد کرتا ہے اس لیے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تبدیلی کا براہ راست اثر ملک میں مہنگائی پر پڑتا ہے۔

    پاکستان بھر میں سونے کی قیمت میں کمی