قطر کا کہنا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا اور ایرانی جارحیت سے نمٹنا اس کی اولین ترجیح ہے۔
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ہے کہ کشیدگی کے آغاز سے قطر اور ایران کے درمیان ایک ہی براہ راست رابطہ ہوا ہے جو کشیدگی کےشروع میں قطری وزیراعظم اور ایرانی وزیر خارجہ کے درمیان ہوا تھاقطر اور ایران کے درمیان رابطوں کے ذرائع ابھی تک منقطع نہیں ہوئے، موجودہ صورتحال میں کشیدگی کم کرنے پرکوششیں مرکوز کر رکھی ہیں، ہمیں یقین ہےتنازعات کو مذاکرات کےذریعےحل کیا جاسکتا ہے۔
ماجد الانصاری نے کہا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی معذرت سے امید کی کرن ملی تھی، تاہم اس کے بعد قطر یو اے ای اور بحرین پر مزید حملے شروع ہو ئےقطر دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ جنگ کے حوالے سے مشترکہ بیان کی تیاری کر رہا تھا تاہم ایران نے معذرت پر ردعمل کا موقع نہیں دیا، قطر موجودہ جنگ کا فریق نہیں اور اپنا بھرپور دفاع کرنے میں دریغ نہیں کرئے گا، قطر سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے مگر آئندہ حملے کی صورت میں جواب دیا جائے گا۔
25 کروڑ لیٹر پیٹرول پاکستان پہنچ گیا،مزید جہاز 13 مارچ پہنچنے کی توقع
مشرق وسطیٰ جنگ،مصنوعی ذہانت کے ذریعے غلط معلومات پھیلائی جانے لگیں
افغان طالبان کے ساتھ کوئی امن مذاکرات نہیں،پاکستان کا مؤقف بدستور برقرار
