Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • 15 اپریل   تاریخ کے آئینے میں

    15 اپریل تاریخ کے آئینے میں

    15 اپریل تاریخ کے آئینے میں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    1450ء جنگ فورمینی میں فرانسینیوں نے فتح حاصل کر کے انگریزوں کا شمالی فرانس پر غلبہ توڑ دیا۔

    1632ء تیس سالہ جنگ کے دوران جنگ باراں میں سویڈن نے ہولی رومن مملکت کو ہرا دیا۔

    1689ء فرانس نے سپین کے خلاف اعلان جنگ کیا۔

    1783ء امریکی انقلابی جنگ کا اختتام ہوا۔

    1827ء کینیڈا کی سب سے بڑی جامعہ، یونیورسٹی آف ٹورنٹو چارٹر ہوئی۔

    1859ء بال گنگا دھر تلک نے راج گڑھ قلعہ میں شیواجی جشن کا افتتاح کیا۔

    1912ء ٹائی ٹینک جہاز نیو فاؤنڈ لینڈ میں برفانی تودے سے ٹکرانے کے بعد ڈوب گیا۔

    1923ء انسولین کے ذریعے ذیابطیس (شوگر) کا علاج شروع ہوا۔

    1927ء سوئٹزرلینڈ اور سوویت یونین سفارتی تعلقات بنانے پر متفق ہوئے۔

    1937ء شکاگو میں پہلا بلڈ بینک قائم ہوا۔

    1948ء ہماچل پردیش ریاست کی تشکیل ہوئی۔

    1954ء برطانیہ اور ہالینڈ کے درمیان امن معاہدے پر دستخط ہوئے ۔

    1955ء آزادی کے بعد پاکستان کے سب سے بڑے آبپاشی کے منصوبے کوٹری بیراج کا افتتاح ہوا۔

    1957ء برطانیہ ایٹمی دھماکا کرنے والا تیسرا ملک بن گیا۔

    1963ء پاکستان اور بھارت کے مابین کشمیر کے مسئلے پر کلکتہ مذاکرات کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا۔

    15 اپریل 1985ء کو کراچی میں ناظم آباد چورنگی پر دو تیز رفتار بسوں نے سر سید گرلز کالج کی چند طالبات کو کچل دیا جن میں سے ایک طالبہ بشریٰ زیدی جاں بحق ہوگئی۔ اگلے روز چند طالبات نے اپنی ساتھی طالبہ کی ہلاکت پر ناظم آباد چورنگی پر چند پلے کارڈ اٹھا کر مظاہرہ کرناچاہا لیکن اس موقع پر پولیس نے حسب روایت بے تدبیری اور وحشت و بربریت کا مظاہرہ کیا۔ اس نے مظاہرہ کرنے والی طالبات پر اپنی گاڑی چڑھادی، آنسو گیس کے گولے پھینکے اور ان کے کالج میں زبردستی داخل ہوکر وہاں بھی شیلنگ اور لاٹھی چارج کا مظاہرہ شروع کردیا جس کے نتیجے میں متعدد طالبات زخمی اور بے ہوش ہوگئیں۔ جب یہ طالبات مرہم پٹی کروانے کے لئے عباسی شہید اسپتال پہنچیں تو وہاں بھی ان کی مڈبھیڑ پولیس سے ہوگئی۔ پولیس کے ساتھ ایک زخمی کانسٹیبل بھی تھا۔ پولیس چاہتی تھی کہ ڈاکٹر طالبات کی بجائے پہلے زخمی کانسٹیبل کی مرہم پٹی کریں۔ اس پر ڈاکٹروں اور پولیس والوں کی تکرار ہوگئی۔ پولیس نے اس موقع پر تدبر سے کام لینے کی بجائے ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی پٹائی شروع کردی اور شعبہ حادثات کے شیشے اور کائونٹر توڑ دیئے۔ پولیس کے اس رویہ کے باعث پورا شہر کراچی آگ اور دھویں کی لپیٹ میں آگیا۔ اس حادثے کے بعد پرسکون شہری زندگی آگ، گیس اور گولی کے جہنم میں دھکیل دی گئی۔ پورے شہر کراچی میں فسادات پھوٹ پڑے، متعدد دکانیں، بنک اور گاڑیاں نذر آتش کردی گئیں۔ نتیجتاً کراچی کے تمام تعلیمی ادارے بند کردیئے گئے اور متعدد علاقوں میں تاحکم ثانی کرفیو نافذکردیا گیا۔ ان ہنگاموں میں 9 افراد ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہوئے۔ 15 اپریل کے ٹریفک حادثے کے بعد تعصبات بھڑکانے کی ایک منظم تحریک شروع ہوگئی چونکہ کراچی میں ٹرانسپورٹ کا کاروبار پختون بھائیوں کے ہاتھ میں ہے اور پولیس میں بھی پختون اور پنجابی افراد کی اکثریت ہے اس لئے ان ہنگاموں کو مہاجر اور پنجابی پٹھان فسادات کا رنگ دے دیا گیا اور پورا شہر فرقہ واریت اور لسانی فسادات کی زد میں آگیا۔ اس فرقہ واریت اور فساد کا سلسلہ آئندہ کئی سالوں تک جاری رہا اور ٹریفک کے ایک حادثے کو بہانہ بناکر کراچی جیسے پرامن اور باہمی الفت و محبت والے شہر میں لسانی اور علاقائی تعصبات کا زہر گھول دیا گیا۔

    1990ء میخائیل گوربارچوف سویت یونین کے پہلے انتظامی صدر منتخب ہوئے ۔

    15 اپریل 1992ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ملتان میں منعقد ہونے والے ڈاک ٹکٹوں کے دو روزہ سیمینار کے موقع پرقائد اعظم سیریز کے چھ پرانے ڈاک ٹکٹوں پر National Seminar on Philately – Multanکے الفاظ بالا چھاپ کرکے یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیے جوڈاک ٹکٹ جمع کرنے والے شائقین میں بہت پسند کیا گیا۔ اس موقع پر ڈاک کے ایک لفافے اور ایک ایروگرام پر بھی NATIONAL SEMINAR ONPHILATELY 15-16 APRIL1992 MULTAN کی خصوصی مہر شائع کی گئی

    1994ء مراکش معاہدے پر دستخط ہوئے اور گیٹ کو ڈبل یو ٹی او میں تبدیل کر دیا گیا۔

    1997ء سعودی عرب میں دورانِ حج حاجی کیمپ میں آگ لگنے سے 343 حاجی شہید ہو گئے۔

    1999ء۔۔لاہور ہائی کورٹ سے بےنظیر بھٹو کو نواز شریف حکومت کے قائم کردہ مقدمات میں سزا ہوئی۔

    2002ء چین کا طیارہ جنوبی كوریا میں حادثہ کا شکار ہوا جس میں 128؍ مسافر ہلاک ہوئے۔

    15اپریل 2012ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے گورنمنٹ ہائی اسکول نمبر 1، تھانہ مالاکنڈ ڈویژن کے قیام کی ایک سوویں سالگرہ کے موقع پر ایک خوب صورت یادگاری ٹکٹ جاری کیا۔ آٹھ روپے مالیت کایہ ڈاک ٹکٹ نوید اعوان نے ڈیزائن کیا تھا۔ اس ڈاک ٹکٹ پرگورنمنٹ ہائی اسکول نمبر 1، تھانہ مالاکنڈ ڈویژن کی تصویر بنی تھی اور اس پر انگریزی میں CENTENARY OF GOVERNMENT HIGH SCHOOL NO. 1, THANA, MALAKAND DIVISION 1912-2012 کی عبارت تحریر تھی

    2013ء عراق میں بم دھماکے سے33 افراد ہلاک و دیگر 143؍ زخمی ہوئے۔

    2013ء نکولس مدورو وینزویلا کے صدر بنے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش ، ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • غضب کی دھار تھی اک سائباں ثابت نہ رہ پایا

    غضب کی دھار تھی اک سائباں ثابت نہ رہ پایا

    غضب کی دھار تھی اک سائباں ثابت نہ رہ پایا
    ہمیں یہ زعم تھا کہ بارش میں اپنا سر نہ بھیگے گا

    زبیر رضوی

    معروف شاعر سید زبیر رضوی 15 اپریل 1935ء کو امروہہ (اتر پردیش) میں ایک معزز خاندان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے آل انڈیا ریڈیو کے ساتھ 30 سال تک کام کیا۔ انہوں نے دہلی اردو اکیڈمی کے سیکریٹری کے طور پر بھی دو سال تک خدمات انجام دیں21؍فروری 2016ء کو زبیرؔ رضوی انتقال کر گئے۔

    ان کے دیگر مجموعہ کلام یہ ہیں:
    لہر لہر ندیا گہری (مجموعہ کی نظمیں)، کشتِ دیوار، مسافتِ شب، پرانی بات ہے، دھوپ کا سائباں ، انگلیاں فگار اپنی، وغیرہ شامل ہیں۔ وہ اعلیٰ اردو میگزین "ذہنِ جدید” کے ایڈیٹر تھے۔

    بحوالہ ریختہ ڈاٹ کام

    زبیرؔ رضوی کے چند منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ادھر ادھر سے مقابل کو یوں نہ گھائل کر
    وہ سنگ پھینک کہ بے ساختہ نشانہ لگے

    اپنی پہچان کے سب رنگ مٹا دو نہ کہیں
    خود کو اتنا غمِ جاناں سے شناسا نہ کرو

    بھٹک جاتی ہیں تم سے دور چہروں کے تعاقب میں
    جو تم چاہو مری آنکھوں پہ اپنی انگلیاں رکھ دو

    پرانے لوگ دریاؤں میں نیکی ڈال آتے تھے
    ہمارے دور کا انسان نیکی کر کے چیخے گا

    دل کو رنجیدہ کرو آنکھ کو پر نم کر لو
    مرنے والے کا کوئی دیر تو ماتم کر لو

    تم جہاں اپنی مسافت کے نشاں چھوڑ گئے
    وہ گزر گاہ مری ذات کا ویرانہ تھا

    تم اپنے چاند تارے کہکشاں چاہے جسے دینا
    مری آنکھوں پہ اپنی دید کی اک شام لکھ دینا

    زندگی جن کی رفاقت پہ بہت نازاں تھی
    ان سے بچھڑی تو کوئی آنکھ میں آنسو بھی نہیں

    سخن کے کچھ تو گہر میں بھی نذر کرتا چلوں
    عجب نہیں کہ کریں یاد ماہ و سال مجھے

    شام کی دہلیز پر ٹھہری ہوئی یادیں زبیرؔ
    غم کی محرابوں کے دھندلے آئینے چمکا گئیں

    عجیب لوگ تھے خاموش رہ کے جیتے تھے
    دلوں میں حرمتِ سنگِ صدا کے ہوتے ہوئے

    غضب کی دھار تھی اک سائباں ثابت نہ رہ پایا
    ہمیں یہ زعم تھا بارش میں اپنا سر نہ بھیگے گا

    گلابوں کے ہونٹوں پہ لب رکھ رہا ہوں
    اسے دیر تک سوچنا چاہتا ہوں

    نئے گھروں میں نہ روزن تھے اور نہ محرابیں
    پرندے لوٹ گئے اپنے آشیاں لے کر

    کوئی ٹوٹا ہوا رشتہ نہ دامن سے الجھ جائے
    تمہارے ساتھ پہلی بار بازاروں میں نکلا ہوں

    کہاں پہ ٹوٹا تھا ربط کلام یاد نہیں
    حیات دور تلک ہم سے ہم کلام آئی

    ہم نے پائی ہے ان اشعار پہ بھی داد زبیرؔ
    جن میں اس شوخ کی تعریف کے پہلو بھی نہیں

    تھا حرفِ شوقِ صید ہوا کون لے گیا
    میں جس کو سن سکوں وہ صدا کون لے گیا

    کبھی خرد سے کبھی دل سے دوستی کر لی
    نہ پوچھ کیسے بسر ہم نے زندگی کر لی

    تشبیہوں کے رنگِ محل میں کوئی نہ تجھ کو جان سکا
    گیت سنا کر غزلیں کہہ کر دیوانے کہلائے ہم

    یہ زمیں ٹوٹے ہوئے چاند کی کھیتی ہے زبیرؔ
    میری راتوں میں بپا کوئی بھی عالم کر لو

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی

    ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ نہ ہونے کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 81 سینٹ کی کمی کے بعد 89.64 ڈالر فی بیرل ہے ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 69 سینٹ کمی کے بعد 84.97 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ہے۔

    گزشتہ ہفتے ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے باعث تیل کی قیمتیں اکتوبر 2023 کے بعد سے بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں تھی تاہم اب قیمتوں میں کمی کا رجحان ہے،تجزیہ کاروں کا اندازہ تھا کہ ایران اسرائیل کشیدگی برقرار رہی تو خام تیل قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک بڑھ سکتی ہے۔

    عجب حریف تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیا

    انگلینڈ کے لیجنڈری اسپنر78 سال کی عمر میں انتقال کرگئے

    12سالہ بچے سے بدفعلی کرنیوالا نجی اکیڈمی کا ٹیچر گرفتار

  • خیبر پختونخوا حکومت کا  روٹی کی قیمت میں کمی کا اعلان

    خیبر پختونخوا حکومت کا روٹی کی قیمت میں کمی کا اعلان

    پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے روٹی کی قیمت میں 5 روپے کمی کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی: وزیر خوراک خیبر پختونخوا طاہر شاہ کے مطابق 100 گرام روٹی کی قیمت 15 روپے اور 200 گرام روٹی کی قیمت 30 روپے ہوگی، خیبر پختونخوا کی حکومت عوامی حکومت ہے جو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ایسے اقدامات اٹھاتی رہے گی،خیبر پختونخوا کے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کیلئے مزید انقلابی اور عوام دوست اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

    دوسری جانب اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ حکومت کیجانب سے روٹی کی قیمت میں کمی کا اعلان بے سود ہے کیوںکہ روٹی کی قیمت پانچ روپے کمی کے ساتھ 20 گرام وزن بھی کم کرردیا گیا، پہلے 120 گرام کی روٹی 20 روپے میں فروخت کی جارہی تھی اور اب 100 گرام کی روٹی 15 روپے میں فروخت ہوگی جس کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔

    12سالہ بچے سے بدفعلی کرنیوالا نجی اکیڈمی کا ٹیچر گرفتار

    ادھر پنجاب میں 16 روپے کی روٹی کے حکومتی احکامات پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوسکا، لاہور کے مختلف علاقوں میں آج بھی روٹی حکومت کے مقرر کردہ رقم سے مہنگی فروخت ہوتی رہی وزیر خوراک پنجاب بلال یاسین نے مختلف علاقوں میں تندوروں پر چھاپے بھی مارے یتیم خانہ، انارکلی، راج گڑھ کے علاقوں میں آج بھی مہنگی روٹی اور نان فروخت ہورہے تھے جہاں تندور بند کر کے مالکان کو گر فتار کر لیا گیا، تندور مالکان کے خلاف کریک ڈاؤن نئی قیمت پر عمل درآمد ہونے تک جاری رہے گا۔

    ایران اسرائیل کشیدگی،برطانیہ نے اضافی جنگی طیارے مشرق وسطیٰ میں منتقل کر دیئے

    فلسطینی سفارتخانے نے 3 ہزار فلسطینی یتیم بچوں کو گود لینے کی خبروں کو …

  • عجب حریف تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیا

    عجب حریف تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیا

    عجب حریف تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیا
    مرے سفینے کو غرقاب دیکھنے کے لیے

    عرفان صدیقی

    نامور شاعر محمد عرفان المعروف عرفان صدیقی 8 جنوری 1939ء میں اترپردیش کے شہر بدایوں میں پیدا ہوئے تھے، عرفان صدیقی کی ولادت ایک علمی خانوادہ میں ہوئی، جس میں مذہب اور شعر گوئی کی روایت کئی پشتوں سے چلی آرہی تھی، ان کے پردادا مولانا محمد انصار حسین حمیدی زلالی بدایونی شمس العلما خواجہ الطاف حسین حالی کے شاگرد تھے اور دادا مولوی اکرام احمد شاد صدیقی، مولانا سید علی احسن مارہروی کے شاگرد تھے، عرفان صدیقی کے والد مولوی سلمان احمد صدیقی ہلالی بدایونی ایک وکیل اور صاحب طرز ادیب و شاعر تھے، ان کی والدہ مرحومہ رابعہ خاتون کو بھی شعر و ادب سے خاص انسیت تھی اور خود شعر بھی کہتی تھیں، ان کے بڑے بھائی نیاز بدایونی بھی شاعر تھے، محشر بدایونی اور دلاورفگار ان کے قریبی رشتےدار تھے۔

    عرفان صدیقی نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی وطن ضلع بدایوں کے محلہ ”سُوتھا“میں اپنے گھر میں حاصل کی، پھر کرسچین ہائر سکنڈری اسکول بدایوں سے میٹرک کا امتحان 1953ء میں پاس کیا حافظ صدیق میسٹن اسلامیہ انٹر کالج بدایوں سے انٹر میڈیٹ، بریلی کالج بریلی سے1957ء میں بی۔اے اور 1959ء میں ایم۔اے کیا۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونی کیشن سے صحافت کا ڈپلوما کیا۔

    1962ء میں حکومت ہند کے محکمہ اطلاعات و نشریات اور وزارت دفاع کے مختلف شعبوں میں اطلاعات، خبر نگاری اور رابطہ عامّہ کی مختلف ذمہ داریوں کو انجام دیتے رہے۔ ڈپٹی پرنسپل انفارمیشن افسر کے عہدے سے 1998ء میں وظیفہ یاب ہوئے اور لکھنو میں آخری دم تک قیام رہا۔

    عرفان صدیقی کی شاعری کے پانچ مجموعے: کینوس، شبِ درمیاں، سات سماوات، عشق نامہ اور ہوائے دشت ماریہ کے نام سے شائع ہوئے۔ ان کی شاعری کی کلیات’دریا‘کے نام سے پاکستان میں اشاعت پذیر ہوئی عرفان صدیقی ایک اچھے مترجم بھی تھے ۔ انہوں نے کالی داس کی ایک طویل نظم ’رت سنگھار‘اور کالی داس کے ڈرامے ’مالویکا اگنی متر‘ کا ترجمہ براہ راست سنسکرت سے اردو میں کیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے مراکش کے ادیب محمد شکری کے سوانحی ناول کا ترجمہ بھی کیا تھا۔ انہوں نے 1100ء سے 1850ء تک کے اردو ادب کا ایک جامع انتخاب بھی کیا تھا۔ جو ساہتیہ اکیڈمی سے اشاعت پذیر ہوا۔ 1998 میں عرفان صدیقی کو اترپردیش کی حکومت نے میر اکادمی کا اعزاز عطا کیا تھا،15؍اپریل 2004 کو درمیانی شب میں لکھنؤ میں دنیا فانی سے کوچ کر گئے۔ نماز جمعہ کے بعد ان کی تدفین ڈالی گنج کے قبرستان میں ہوئی۔

    بحوالہ ریختہ ڈاٹ کام

    عرفانؔ صدیقی کے چند منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ریت پر تھک کے گرا ہوں تو ہوا پوچھتی ہے
    آپ اس دشت میں کیوں آئے تھے وحشت کے بغیر
    ———-
    عجب حریف تھا ، میرے ہی ساتھ ڈوب گیا
    مرے سفینے کو غرقاب دیکھنے کے لیے
    ———-
    تو نے مٹی سے الجھنے کا نتیجہ دیکھا
    ڈال دی میرے بدن نے تری تلوار پہ خاک
    ———-
    توڑ دی اُس نے وہ زنجیر ہی دلداری کی
    اور تشہیر کرو اپنی گرفتاری کی
    ———-
    شمعِ خیمہ کوئی زنجیر نہیں ہم سفراں
    جس کو جانا ہو چلا جائے ، اجازت کیسی
    ———-
    اب سخن کرنے کو ہیں نو واردانِ شہرِ درد
    اٹھیے صاحب ! مسندِ ارشاد خالی کیجیے
    ———-
    ہم سب آئنہ در آئنہ در آئنہ ہیں
    کیا خبر کون کہاں کس کی طرف دیکھتا ہے
    ———-
    نقش پا ڈھونڈنے والوں پہ ہنسی آتی ہے
    ہم نے ایسی تو کوئی راہ نکالی بھی نہیں
    ———-
    رات کو جیت تو سکتا نہیں لیکن یہ چراغ
    کم سے کم رات کا نقصان بہت کرتا ہے
    ———-
    جل بجھیں گے کہ ہم اس رات کا ایندھن ہی تو ہیں
    خیر دیکھیں گے یہاں روشنیاں دوسرے لوگ
    ———-
    زمانہ کل انہیں سچائیاں سمجھ لے گا
    تم اک مذاق سمجھتے ہو تہمتوں کو ابھی
    ———-
    اپنے لئے تو ہار ہے کوئی نہ جیت ہے
    ہم سب ہیں دوسروں کی لڑائی لڑے ہوئے
    ———-
    ہُو کا عالم ہے گرفتاروں کی آبادی میں
    ہم تو سنتے تھے کہ زنجیرِ گراں بولتی ہے
    ———-
    اٹھو یہ منظرِ شب تاب دیکھنے کے لیے
    کہ نیند شرط نہیں‌خواب دیکھنے کے لیے
    ———-
    ایک کوشش کہ تعلق کوئی باقی رہ جائے
    سو تری چارہ گری کیا ، مری بیماری کیا
    ———-
    ہم نے مدّت سے اُلٹ رکھّا ہے کاسہ اپنا
    دستِ زردار ترے درہم و دینار پہ خاک
    ———-
    میں تو اس دشت میں خود آیا تھا کرنے کو شکار
    کون یہ زین سے باندھے لیے جاتا ہے مجھے
    ———-
    یہ تیر اگر کبھی دونوں کے درمیاں سے ہٹے
    تو کم ہو فاصلۂ درمیاں ہمارا بھی
    ———-
    کہیں خرابۂ جاں کے مکین نہیں جاتے
    درخت چھوڑ کے اپنی زمیں نہیں جاتے
    ———-
    اگر میں فرض نہ کرلوں کہ سن رہا ہے کوئی
    تو پھر مرا سخن رائیگاں کہاں جائے
    ———-
    مجھے یہ زندگی نقصان کا سودا نہیں لگتی
    میں آنے والی دنیا کوبھی تخمینے میں رکھتا ہوں
    ———-
    پیشِ ہوس تھا خوانِ دو عالم سجا ہوا
    اس رزق پر مگر گزر اوقات نہیں ہوئی
    ———-
    یہ کائنات مرے بال و پر کے بس کی نہیں
    تو کیا کروں سفرِ ذات کرتا رہتا ہوں
    ———-
    عذابِ جاں ہے عزیزو ، خیالِ مصرع ء تر
    سو ہم غزل نہیں کہتے ، عذاب ٹالتے ہیں
    ———-
    لوگ کیوں مجھ کو بلاتے ھیں کنارے کی طرف
    میں جہاں ڈوب رھا ھوں وہ کنارہ ہی تو ہے
    ———-
    چاہتی ہے کہ مجھے ساتھ بہا لے جائے
    تم سے بڑھ کر تو مجھے موجِ فنا چاہتی ہے

  • انگلینڈ کے لیجنڈری اسپنر78 سال کی عمر میں انتقال کرگئے

    انگلینڈ کے لیجنڈری اسپنر78 سال کی عمر میں انتقال کرگئے

    انگلینڈ کے لیجنڈری اسپنر ڈیرک انڈروڈ پیر کو 78 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔

    باغی ٹی وی: ڈیرک انڈروڈ نے 17 سال کی عمر میں اپنی پہلی ٹیم میں ڈیبیو کیا تھا اور اپنا فرسٹ کلاس کیریئر کینٹ کے ساتھ کھیلا جہاں انہوں نے 19 کی اوسط سے 2,523 وکٹیں حاصل کیں، ڈیرک انڈروڈ نے 1966 سے 1982 کے درمیان 86 ٹیسٹ میچوں میں 297 وکٹیں حاصل کیں، انہوں نے 26 ایک روزہ میچز کھیلے جس میں انہوں نے 26 وکٹیں اپنے نام کیں، وہ انگلینڈ کی تاریخ میں چھٹے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر ہیں، 1969 سے 1973 تک انڈروڈ آئی سی سی رینکنگ میں سب سے اوپر تھے، ڈیرک انڈروڈ تکنیکی لحاظ سے بڑے شاندار باؤلر تھے اور انہوں نے اپنے پورے کیریئر میں ایک بھی وائیڈ بال نہیں کرائی ان کی ان سوئنگ بال بھی بڑی مشہور تھی جس سے بلے باز ایل بی ڈبلیو ہو جاتے تھے۔

  • 12سالہ بچے سے بدفعلی کرنیوالا نجی اکیڈمی کا ٹیچر گرفتار

    12سالہ بچے سے بدفعلی کرنیوالا نجی اکیڈمی کا ٹیچر گرفتار

    لاہور: رائیونڈ پولیس نے 12سالہ بچے سے بدفعلی اور ویڈیو بنا کر بلیک میلنگ کرنے والے نجی اکیڈمی کے ٹیچر کو گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی: پولیس نے متاثرہ بچے کے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کیا، مدعی مقدمہ کے مطابق میرے بیٹے نے بتایا کہ اکیڈمی کے ٹیچر نے زیادتی کرکے بدفعلی کی ویڈیو بنائی اور اب بلیک میل میل کررہا ہے، رائیونڈ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اکیڈمی ٹیچر نعیم رشید کو گرفتارکرلیا۔ٹیچر نعیم رشید نے اقبال جرم کر لیا

    دوسری جانب گوجرہ میں فرسٹ ائیر کےطالب علم کی گھریلو ناچاقی پر پنکھے سے لٹک کر خودکشی کر لی، ہاؤ سنگ کالونی گوجرہ کے رہائشی فرسٹ ایئر کے طالب علم نوجوان خالد پرویز نے گھریلو ناچاقی اورپریشانی کی بنا پر گلے میں رسی ڈال کر پنکھے سے لٹک کر مبینہ طور پر خودکشی کر لی، اطلاع ملنے پر ڈی ایس پی گوجرہ آفتابِ احمد صدیقی اور ایس ایچ او تھا نہ سٹی گوجرہ چوہدری حاکم علی موقع پر پہنچ گئے اور لاش کو اپنی تحویل میں لے کر ضروری کارروائی کے لیے سول ہسپتال گوجرہ منتقل کر دیا گیا اور مختلف پہلوؤں پر تفتیش کاآغاز کر دیا ہے

  • ایران اسرائیل کشیدگی،برطانیہ نے اضافی جنگی طیارے مشرق وسطیٰ میں منتقل کر دیئے

    ایران اسرائیل کشیدگی،برطانیہ نے اضافی جنگی طیارے مشرق وسطیٰ میں منتقل کر دیئے

    لندن:ایران کی جانب سےاسرائیل پر کئے جانے والے حملے کے بعد برطانیہ نے اپنے اضافی جنگی طیارے مشرق وسطیٰ میں منتقل کر دیئے۔

    باغی ٹی وی :برطانوی میڈیا کے مطابق اسرائیل پر ایران کے حملے کےبعد متعدد اضافی لڑاکا طیارے اور ایندھن بھرنے والے ٹینکروں کو مشرق وسطیٰ میں منتقل کیا گیا ہے،ایک بیان میں حکومت نے کہا کہ فضائی اثاثے شام اور عراق میں مسلح گروپ داعش کے خلاف برطانیہ کے موجودہ آپریشن کو تقویت دیں گے اور ساتھ ہی ضرورت کے مطابق ہمارے موجودہ مشن کی حدود میں کسی بھی فضائی حملے کو روکیں گے۔

    ایک ترجمان نے کہا کہ طیاروں کی ایک بڑی تعداد کو رومانیہ سے عارضی طور پر منتقل کر دیا گیا ہے-

    واضح رہے کہ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب ایران نے اسرائیل پر ڈرون اور کروز میزائلز فائر کیے، ایرانی پاسدران انقلاب نے اسرائیل پر حملے کی باضابطہ تصدیق کی جبکہ اسرائیلی فوج نے بھی تسلیم کیا کہ ایران کے فائر کردہ کچھ میزائل اسرائیل میں گرے، ایران نے اسرائیلی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، گولان کی پہاڑیوں اور شام کے قریب اسرائیلی فوجی ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

  • فلسطینی سفارتخانے نے  3 ہزار فلسطینی یتیم بچوں کو گود لینے کی خبروں کو جعلی قرار دیا

    فلسطینی سفارتخانے نے 3 ہزار فلسطینی یتیم بچوں کو گود لینے کی خبروں کو جعلی قرار دیا

    اسلام آباد : اسلام آباد میں فلسطینی سفارت خانے نے کہا ہے کہ گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر 3000 فلسطینی یتیم بچوں کو گود لینے کے حوالے سے جو کچھ شائع ہوا، وہ جعلی اور غیر قانونی ہے

    باغی ٹی وی : اسلام آباد میں فلسطینی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پر 3 ہزار فلسطینی یتیم بچوں کو گود لینے سے متعلق خبروں کو جعلی قرار دیا ہے، بیان میں کہا گیا ہےکہ گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر 3000 فلسطینی یتیم بچوں کو گود لینے کے حوالے سے جو کچھ شائع ہوا، وہ جعلی اور غیر قانونی ہے، ہمارا سفارت خانہ ایسی خبروں کی مذمت کرتا ہے اور اس بات کی تصدیق کرتا ہےکہ ریاست فلسطین کی پالیسی کے تحت فلسطینی یتیموں کی کفالت صرف ریاست فلسطین کے اندرہونی چاہیے ریاست کے باہر فلسطینی یتیم بچوں کی کفالت کی اجازت نہیں ہے اور ہم یہ بھی تصدیق کرتے ہیں کہ پاکستان میں کوئی بھی فلسطینی یتیم نہیں آیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہےکہ غزہ کی پٹی میں نسل کشی، مجرمانہ جنگ اور تباہی کی روشنی میں فلسطینی عوام کے لیے عطیات جمع کرنے کے لیے مخصوص بینک کھاتوں میں عطیات کی اپیلوں کی بار بار گردش کرنے کے حوالے سے ہم آپ کی توجہ جعلی خبروں اور الزامات کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں اسی مناسبت سے ہم اپنے پاکستانی بھائیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ کوئی بھی عطیہ دینے، یتیموں کی کفالت کرنے یا چھپے ہوئے خاندانوں کی مدد کرنے سے پہلے اس مسئلے کے حوالے سے ہمارے سفارت خانے سے رابطہ کریں، تاکہ ہم آپ کو سرکاری، معتبر اور قابل اعتماد حکام تک پہنچاسکیں، فلسطین کا سفارت خانہ ان مسائل کے حوالے سے اپنے تمام قانونی حقوق محفوظ رکھتا ہے اور پاکستانی حکام اور اہلکاروں کے تعاون سے اس معاملے کی پیروی کرےگا۔

    فلسطینی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ ہم پاکستانی بھائیوں کے تعاون پر ان کی تعریف اور شکریہ ادا کرتے ہیں ہم پاکستانی صدر، وزیر اعظم، سرکاری افسران اور پاکستانی فوج کے بھی شکر گزار ہیں ہم ان اداروں اور شخصیات کو بھی سراہتے ہیں جنہوں نے تسلیم شدہ پاکستانی اداروں کے ذریعے کام کیا اور ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ آپ کے عطیات غزہ تک پہنچائے جائیں گے۔

  • مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ کل پاکستان میں داخل ہوگا

    مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ کل پاکستان میں داخل ہوگا

    اسلام آباد: مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ کل پاکستان میں داخل ہوگا –

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ کل رات بلوچستان میں داخل ہوگا جو 17 اپریل کو بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں پھیل جائے گا، 18 اپریل کو ہواؤں کا یہ سلسلہ ملک کے بالائی علاقوں میں پھیل جائے گا اور خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان سمیت آزاد کشمیر کے بیشتر علاقوں میں بھی بارش ہوگی، این ڈی ایم اے نے متعلقہ محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کردی ہے۔

    ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق دریائے کابل، سوات اورپنجکوڑہ میں سیلاب کا خدشہ ہے، دریائے کابل میں سیلابی صورتحال کے باعث یکاگوند، نوشہرہ، چارسدہ، پبی، شبقدار، جمرود، پشاور کے علاقے متاثر ہونے کا خدشہ ہے،اسی طرح دریائے پنجکوڑہ میں طغیانی کے باعث اتمان خیل، دیر، منڈا،شرینگل، تیمگرہ اور واری کے علاقے متاثر ہونے کا خدشہ ہے، دریائے سوات میں ممکنہ سیلاب کے باعث چار باغ، بحرین، بابوزئی، مٹا، بری کوٹ اور دیگر نشیبی علاقے متاثر ہو سکتے ہیں۔

    سعودی وزیر خارجہ کی سربراہی میں سعودی وزرا کا وفد اسلام آباد پہنچ گیا

    این ڈی ایم اے کے مطابق بارش اور سیلابی صورتحال کے باعث نشیبی علاقوں میں طغیانی اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خدشہ ہے، بارش کے ساتھ آندھی اور جھکڑ کے باعث کھڑی فصلوں، بجلی کے کھمبوں اور دیگر تعمیرات کو بھی نقصان کا اندیشہ ہے، عوام بلا ضرورت خطرے سے دو چار علاقوں کی جانب سفر سے گریز کریں، بجلی کے کھمبوں، خستہ حال عمارتوں اور پلوں سے دور رہیں، بارش کے دوران ندی نالوں کو پار کرنے سے گریز کریں۔

    برطانوی اور آئرش گینگسٹرز کیلئے دبئی جنت، ان کی یہ محفوظ پناہ گاہ …