Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • لیبر، ورکرز اور مزدوروں کی فلاح و بہبود ملک کی ترقی کا بنیادی ستون ہے،مریم نواز

    لیبر، ورکرز اور مزدوروں کی فلاح و بہبود ملک کی ترقی کا بنیادی ستون ہے،مریم نواز

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کارخانوں، فیکٹریوں اور دفاتر میں سیفٹی آلات اور حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کا حکم دیا ہے جبکہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی بھی ہدایت کی ہے-

    کام کی جگہ پر حفاظت اور صحت کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعلیٰ پنجاب نے فیکٹریوں اور کارخانوں میں کام کرنے والے افراد کے لیے جسمانی اور ذہنی صحت کے تحفظ پر خصوصی زور دیا کہا کہ لیبر، ورکرز اور مزدوروں کی فلاح و بہبود ملک کی ترقی کا بنیادی ستون ہے۔

    وزیراعلیٰ نے لیبر ڈیپارٹمنٹ اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ ورک پلیس پر حفاظتی اصولوں پر سختی سے عملدرآمد کرائیں اور خلاف ورزی کرنے والی فیکٹریوں کے خلاف جرمانے اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائےمحفوظ اور صحت مند کارکن ہی ایک مضبوط قوم کی بنیاد رکھتا ہے۔

    مریم نواز نے کہا کہ پنجاب حکومت ورکرز کے تحفظ کے لیے لیبر قوانین میں ترامیم لا رہی ہے اور سیفٹی کلچر کے فروغ کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، انہوں نے صنعتی شعبے کے مالکان پر زور دیا کہ وہ مزدوروں کی حفاظت کو اولین ترجیح دیں راشن کارڈ کے ذریعے 14 لاکھ محنت کشوں کو ماہانہ مالی معاو نت فراہم کی جا رہی ہے جبکہ رواں مالی سال کے دوران مزید 50 ہزار مزدوروں کو اس سہولت میں شامل کیا جائے گا ہر ورکر کو محفوظ ورکنگ ماحول فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس ضمن میں بین الاقوامی معیار کے سیفٹی قوانین پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔

  • ٹرمپ کو ایران جنگ سے متعلق  درست معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں،جے ڈی وینس

    ٹرمپ کو ایران جنگ سے متعلق درست معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں،جے ڈی وینس

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جنگ کی صورتحال کے بارے میں مکمل طور پر درست معلومات فراہم نہیں کر رہے ہیں۔

    ‘دی اٹلانٹک‘ کی رپورٹ کے مطابق جہاں پینٹاگون کے حکام صدر ٹرمپ کو یہ بتا رہے ہیں کہ امریکی فوج نے ایرانی فضائیہ، بحریہ اور دفاعی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، وہیں جے ڈی وینس ان دعوؤں کی حقیقت پر سوال اٹھا رہے ہیں جے ڈی وینس نے بند کمرہ اجلاسوں میں بار بار یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا صدر ٹرمپ کے سامنے پیش کی جانے والی جنگ کی خوش کن تصویر واقعی سچ ہے؟

    نائب صدر کو خاص طور پر اس بات پر تشویش ہے کہ پینٹاگون شاید امریکی میزائلوں کے ذخیرے میں ہونے والی بڑی کمی کو چھپا رہا ہےوہ سمجھتے ہیں کہ اگر امریکا کا اسلحہ اسی طرح ختم ہوتا رہا تو مستقبل میں چین، شمالی کوریا یا روس جیسے بڑے حریفوں کے ساتھ ممکنہ ٹکراؤ کی صورت میں امریکا کے پاس دفاع کے لیے کچھ نہیں بچے گا۔

    جے ڈی وینس نے عوامی سطح پر تو وزیر دفاع کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ پیٹ ہیگستھ بہترین کام کر رہے ہیں، لیکن نجی محفلوں میں وہ بہت گہرے اسٹریٹیجک سوالات پوچھ رہے ہیں ہیگستھ کا ٹی وی پر کام کرنے کا تجربہ انہیں یہ جاننے میں مدد دیتا ہے کہ صدر ٹرمپ کیا سننا چاہتے ہیں، اور وہ اکثر صبح آٹھ بجے بریفنگ دیتے ہیں جب صدر فاکس نیوز دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

    ایک سابق امریکی اہلکار نے بتایا کہ پیٹ اپنی ٹی وی مہارت کی وجہ سے خوب جانتے ہیں کہ صدر سے کس طرح بات کرنی ہے اور وہ کیا سوچتے ہیں جنگ کے نقصانات کے بارے میں بھی پینٹاگون اور انٹیلی جنس رپورٹس میں واضح فرق نظر آتا ہے۔

    جہاں ہیگستھ کا دعویٰ ہے کہ ایرانی فوج تباہ ہو چکی ہے اور ایرانی فضائی حدود پر امریکا کا مکمل کنٹرول ہے، وہیں خفیہ معلومات ظاہر کرتی ہیں کہ تہران اب بھی اپنی دو تہائی فضائیہ اور میزائل داغنے کی بڑی صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہےاس کے علاوہ ایران کی وہ چھوٹی اور تیز رفتار کشتیاں بھی سلامت ہیں جو آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے اور عالمی تجارت کو روکنے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں تھنک ٹینک سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز نے بھی خبردار کیا ہے کہ امریکا اپنے اہم ترین اسلحے کا آدھا حصہ پہلے ہی استعمال کر چکا ہے۔

    جے ڈی وینس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شروع ہی سے ایران کے خلاف اس فوجی کارروائی کے مخالف تھے اور انہوں نے خبردار کیا تھا کہ یہ جنگ بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور علاقائی افراتفری کا باعث بنے گی ان کا موقف رہا ہے کہ امریکہ کو اپنے وسائل گھر پر خرچ کرنے چاہئیں۔

    رپورٹ کے مطابق جے ڈی وینس یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ ان کا سیاسی مستقبل اور 2028 کے صدارتی انتخاب میں ان کی کامیابی کے امکانات اس ایران جنگ کے نتیجے سے جڑے ہوئے ہیں یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور میں خود شرکت کی تھی تاکہ کسی طرح اس تنازع کا پرامن حل نکالا جا سکے۔

  • 250ویں سالگرہ:امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر پر مشتمل پاسپورٹ کا نیا ڈیزائن متعارف

    250ویں سالگرہ:امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر پر مشتمل پاسپورٹ کا نیا ڈیزائن متعارف

    امریکا نے پاسپورٹ کا نیا ڈیزائن متعارف کرا دیا ہے جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر شامل کی گئی ہے،پاسپورٹ صرف واشنگٹن پاسپورٹ ایجنسی میں دستیاب ہوں گے۔

    فوکس نیوز کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ محدود تعداد میں یادگاری پاسپورٹس جاری کیے جائیں گے جن میں صدر ٹرمپ کا پورٹریٹ شامل ہوگا یہ اقدام امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کی تقریبات کے سلسلے میں جولائی میں کیا جا رہا ہے، ان پاسپورٹس میں جدید اور منفرد ڈیزائن کے ساتھ سیکیورٹی فیچرز بدستور برقر ار رہیں گے، جاری کردہ نمونوں میں پاسپورٹ کے ایک صفحے پر ٹرمپ کی تصویر جبکہ سامنے 1776 میں اعلانِ آزادی پر دستخط کا منظر دکھایا گیا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ شہریوں کو اس یادگاری پاسپورٹ کے حصول سے انکار کا اختیار ہوگا یا نہیں، تاہم اس کے لیے کوئی اضافی فیس وصول نہیں کی جائے گی،اس سے قبل بھی ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مختلف سرکاری اشیا اور منصوبوں پر صدر کا نام یا تصویر شامل کی جا چکی ہے، جن میں یادگاری سکے، کرنسی پر دستخط، اور دیگر سرکاری اقدامات شامل ہیں۔

  • برطانیہ اور امریکا کا تعلق محض ماضی کی کامیابیوں پر قائم نہیں رہ سکتا،کنگ چارلس

    برطانیہ اور امریکا کا تعلق محض ماضی کی کامیابیوں پر قائم نہیں رہ سکتا،کنگ چارلس

    برطانیہ کے بادشاہ چارلس نے کہا ہے کہ برطانیہ اور امریکا کا تعلق محض ماضی کی کامیابیوں پر قائم نہیں رہ سکتا،بلکہ بدلتے حالات کے مطابق اس اتحاد کو مزید مضبوط بنانا ہوگا-

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برطانیہ کے شاہ چارلس نے سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ اختلافات کے باوجود دونوں ممالک اپنے عوام کے تحفظ اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے متحد ہیں، اس موقع پر ملکہ کمیلا بھی ان کے ہمراہ تھیں،خطاب کے دوران کنگ چارلس نے ڈونلڈ ٹرمپ کی نیٹو پر تنقید، یوکرین جنگ میں امریکی حمایت کی اہمیت اور تنہائی پسندی کے خطرات کا بالواسطہ حوالہ دیا۔

    شاہ چارلس نے کہا کہ یورپ اور امریکا کی شراکت داری کو آج پہلے سے کہیں زیادہ اہم قرار دیا اور کہا کہ جو اتحاد نائن الیون کے بعد نظر آیا اس کی آج یوکرین کے دفاع کیلئے ضرورت ہےبرطانیہ اور امریکا کا تعلق محض ماضی کی کامیابیوں پر قائم نہیں رہ سکتا، بلکہ بدلتے حالات کے مطابق اس اتحاد کو مزید مضبوط بنانا ہوگا، یوکرین میں قیامِ امن کے لیے یورپی اتحاد کا برقرار رہنا نہایت ضروری ہے موجودہ جنگ دراصل نیٹو کے عزم کا امتحان ہے اور اس صورتحال میں یوکرین کے دفاع کے لیے غیر متزلزل عزم کی ضرورت ہے-

    شاہ چارلس نے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوران پیش آنے والے حملے کی بھی سخت مذمت کی، ان کا کہنا تھا کہ تشدد کا یہ عمل کبھی کامیاب نہیں ہوگا اور جمہوری ممالک اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے متحد رہیں گے خطاب کے دوران انہوں نے ماحولیاتی تحفظ، انسانی ہمدردی اور مذاہب کے احترام کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا کہا کہ موجودہ غیر یقینی دور میں رواداری، آزادی اور دیگر جمہوری اقدار کا دفاع پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔

    وائٹ ہاؤس میں عشائیے کے دوران صدر ٹرمپ نے ایران کے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کنگ چارلس بھی اس مؤقف سے متفق ہیں، تاہم بادشاہ نے اپنے خطاب میں ایران یا جاری جنگ پر براہِ راست تبصرہ نہیں کیا،یہ خطاب ایسے وقت میں ہوا جب امریکا اور برطانیہ کے تعلقات میں ایران سے متعلق جنگ کے معاملے پر تناؤ پایا جاتا ہے، اور امریکی صدر کیئر اسٹارمر پر تعاون نہ کرنے کی تنقید کرتے رہے ہیں۔

  • امریکا اور برطانیہ کے درمیان تعلق اب پہلے جیسا نہیں  ہے،برطانوی سفیر

    امریکا اور برطانیہ کے درمیان تعلق اب پہلے جیسا نہیں ہے،برطانوی سفیر

    امریکا میں برطانیہ کے سفیر سر کرسچن ٹرنر نے کہا ہے کہ امریکا کا خصوصی تعلق برطانیہ کے ساتھ نہیں بلکہ ممکنہ طور پر صرف اسرائیل کے ساتھ ہے،امریکا اور برطانیہ کے درمیان تعاون جاری رہے گا لیکن یہ تعلق اب پہلے جیسا نہیں –

    برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایک لیک ہونے والی آڈیو میں برطانوی سفیر نے کہا کہ امریکا اور برطانیہ کے درمیان قریبی تعلق ضرور موجود ہے، خاص طور پر دفاع اور معیشت کے شعبوں میں، تاہم عالمی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں، امریکا اور برطانیہ کے درمیان تعاون جاری رہے گا لیکن یہ تعلق اب پہلے جیسا نہیں بلکہ بدلتے ہوئے عالمی صورتحال کے مطابق نئی شکل اختیار کر رہا ہے۔

    انہوں نے کہا یورپ اب مکمل طور پر امریکا کے سکیورٹی نظام پر انحصار نہیں کر سکتا، اس وقت امریکا کا خاص تعلق صرف ایک ملک کے ساتھ ہے اور وہ ملک اسرائیل ہےبرطانوی سفیر نے موجودہ دور میں مغربی اتحادی ممالک کو اپنے تعلقات اور ذمہ داریوں کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

    دوسری جانب برطانوی دفتر خارجہ نے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سفیر کی ذاتی رائے اور خیالات ہیں اور حکومت کی سرکاری پالیسی کی عکاسی نہیں کرتے۔

  • میری والدہ کو  کنگ چارلس پر کرش تھا،صدر ٹرمپ

    میری والدہ کو کنگ چارلس پر کرش تھا،صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بادشاہ چارلس کے اعزاز میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ میری والدہ کنگ چارلس کے بچپن سے ہی انہیں پسند کرتی تھیں۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برطانوی بادشاہ چارلس سوم اہلیہ ملکہ کامیلا کے ہمراہ 4 روزہ سرکاری دورے پر امریکا پہنچے جہاں صدر ٹرمپ نے ان کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب منعقد کی، برطانیہ کے شاہ چارلس سوم اور ملکہ کامیلا کی تقریب میں آمد پر فوجی بینڈ نے دونوں ممالک کے قومی ترا نے بجائے جب کہ 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔

    اس موقع پر امریکی صدر ٹرمپ نے سلامی پیش کی اور شاہ چارلس ان کے ہمراہ اسٹیج پر موجود رہے جب کہ امریکی خاتون اوّل میلانیا ٹرمپ بھی شاہی جوڑے کے استقبال کے لیے موجود تھیں تقریب میں آمد پر شاہ چارلس اور ملکہ کامیلا نے امریکی کابینہ کے اہم اراکین سے مصافحہ کیا، جن میں نائب صدر اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے بعد ازاں ٹرمپ، میلانیا، شاہ چارلس اور ملکہ کمیلا نے مشترکہ تصاویر بھی بنوائیں۔

    تقریب کے آغاز میں صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں بارش کے حوالے سے مذاق کرتے ہوئے اسے برطانوی موسم قرار دیا جس پر شرکا نے قہقہے لگائے، انہوں نے اپنے گزشتہ دورہ ونڈسر کاسل کو بھی یاد کیا اور شاہی خاندان کی میزبانی کو سراہا۔

    وائٹ ہاؤس میں بادشاہ چارلس کے اعزاز میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکیوں کے لیے سب سے قریبی دوست برطانیہ کے سوا کوئی اور ملک نہیں ہے صدر ٹرمپ نے برطانوی قوم کے اعلیٰ کردار اور مشترکہ تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کی آزادی کی جدوجہد صدیوں پر محیط مشترکہ کوششوں کا نتیجہ تھی۔

    امریکی صدر نے انکشاف کیا کہ میری والدہ کنگ چارلس کے بچپن سے ہی انہیں پسند کرتی تھیں مجھے یاد ہے کہ والدہ واضح طور پر کہا کرتی تھیں کہ چارلس بہت پیارے ہیں، میری والدہ کو چارلس پر کرش تھا، کیا آپ یقین کریں گے،ان کی والدہ کو بادشاہ چارلس کی والدہ بھی پسند تھی، جب بھی وہ انہیں ٹی وی پر دیکتھی تھیں مجھے مخاطب کرکے کہتی تھیں کہ دیکھو ڈونلڈ وہ کتنی خوبصورت ہیں۔ میری والدہ کو چارلس پر کرش تھا! کیا آپ یقین کر سکتے ہیں؟ میں سوچتا ہوں وہ اس وقت کیا سوچ رہی ہوں گی۔

    صدر ٹرمپ کے اس جملے پر تقریب میں موجود مہمانوں نے قہقہے لگائے، جبکہ کنگ چارلس بھی مسکراتے ہوئے دکھائی دیے اور انہوں نے ہاتھ اٹھا کر اس تبصرے کا جواب دیا۔

  • ایران کے ساتھ مذاکرات میں تعطل اور دھمکیاں،ٹرمپ انتظامیہ پریشان

    ایران کے ساتھ مذاکرات میں تعطل اور دھمکیاں،ٹرمپ انتظامیہ پریشان

    ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں تعطل برقرار ہے اس دوران امریکا میں بھی پیٹرول مہنگا ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے جس پر ٹرمپ انتظامیہ پریشان ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی وہ تازہ ترین پیشکش مسترد کر دی ہے جس میں تہران نے ایٹمی پروگرام پر بات چیت کو کچھ عرصے کے لیے موخر کرنے اور اس کے بدلے آبنائے ہرمز کو مشروط طور پر کھولنے کی تجویز دی تھی صدر ٹرمپ نے اپنی قومی سلامتی کی ٹیم کے ساتھ ایک اہم ملاقات میں واضح اشارہ دیا کہ وہ ایران کے اس نئے منصوبے کو قبول کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔

    امریکی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے ایک پیغام میں دعویٰ کیا کہ ایران اس وقت تباہی کے دہانے پر ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ جتنی جلدی ممکن ہو آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے کیونکہ ایرانی قیادت اس وقت اپنے مستقبل کے حوالے سے بھی شدید دباؤ میں ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے اس حوالے سے بتایا کہ ایران کی نئی تجاویز پر غور ضرور کیا گیا ہے لیکن صدر ٹرمپ نے اپنی شرائط اور ڈیڈ لائنز سے ایرانی حکام کو واضح طور پر آگاہ کر دیا ہے۔

    دوسری جانب امریکی انتظامیہ کو اندرونی محاذ پر پریشانی کا سامنا ہے، کیونکہ سی این این کی رپورٹ کے مطابق اگر آبنائے ہرمز کا بحری راستہ بند رہا تو امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں گی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ دھونس، دھمکیوں یا طاقت کے زور پر بین الاقوامی بحری راستوں کو بند کرنا کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

    ایران کی جانب سے بھی ان دھمکیوں کا بھرپور جواب دیا گیا ہے ایرانی نائب وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکا اب اس پوزیشن میں نہیں رہا کہ وہ آزاد ممالک پر اپنی من مانی پالیسیاں مسلط کر سکے امریکا کو بالآخر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اسے اپنے غیر قانونی اور غیر معقول مطا لبات ترک کرنے ہوں گے۔

  • ایران کے 35 اداروں اور شخصیات پر امریکی پابندیاں عائد

    ایران کے 35 اداروں اور شخصیات پر امریکی پابندیاں عائد

    امریکی حکومت نے ایران کے 35 اداروں اور شخصیات پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

    امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان اداروں اور شخصیات پر الزام ہے کہ وہ ایران کے بینکنگ کے شعبے کی مدد کر رہے ہیں اور انہوں نے اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی تیل کی ترسیل میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

    اس حوالے سے امریکی محکمہ خزانہ کے ذیلی ادارے ’او ایف اے سی‘ نے ایک سخت وارننگ بھی جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ تمام بینک بھی ان پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں جو ایسی کمپنیوں کے ساتھ کاروبار کر رہے ہیں جو ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے بدلے ادائیگیاں کرتی ہیں۔

    امریکی حکام نے اس موقع پر چین کے صوبے شینڈونگ میں قائم آئل ریفائنریز کا خاص طور پر ذکر کیا اور کہا کہ وہاں کئی آزاد چینی کمپنیاں ایرانی تیل درآمد کرنے یا اسے صاف کرنے کے عمل میں ملوث ہیں۔

    دوسری جانب امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کی تجارتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ایران کی اہم بندرگاہ چاہ بہار میں اس وقت بیس سے زائد تجارتی جہاز پھنس کر رہ گئے ہیں،امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ایرانی معاشی سرگرمیوں کو محدود کرنا ہے۔

    اسی دوران بحیرہ عرب میں بھی امریکی بحریہ کی جانب سے سخت نگرانی کا عمل جاری ہےامریکی سینٹرل کمانڈ ( سینٹکام )نے بتایا کہ امریکی میرینز نے سمندر میں ایک مشکوک تجارتی جہاز ’ایم وی بلیو اسٹار تھری‘ کو روک کر اس کی تلاشی لی ہے،انہیں شبہ تھا کہ یہ جہاز امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہو ئے ایران کی جانب جانے کی کوشش کر رہا ہے تاہم مکمل تلاشی لینے اور اس بات کی تصدیق ہونے کے بعد کہ جہاز کا رخ کسی ایرانی بندرگاہ کی طرف نہیں ہے، اسے سفر جاری رکھنے کی اجازت دے دی گئی۔

  • آرمی راکٹ فورس کمانڈ کا فتح ٹو میزائل  کا کامیاب تجربہ

    آرمی راکٹ فورس کمانڈ کا فتح ٹو میزائل کا کامیاب تجربہ

    آرمی راکٹ فورس کمانڈ نے مقامی طور پر تیار کردہ فتح ٹو میزائل سسٹم کا کامیاب تربیتی تجربہ کرلیا، جو جدید ایویونکس اور جدید ترین نیویگیشنل معاون نظام سے لیس ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق اس تربیتی تجربے کا مقصد افواج کی تربیت، مختلف تکنیکی پہلوؤں کی توثیق اور بہتر درستگی اور بڑھتی ہوئی بقا کی صلاحیت کے لیے شامل مختلف ذیلی نظاموں کی کارکردگی کا جائزہ لینا تھا،تجربہ کا مشاہدہ اسٹریٹجک پلانز ڈویژن، آرمی راکٹ فورس کمانڈ اور پاک فوج کے سینیئر افسران نے کیا، جبکہ اس موقع پر اسٹریٹجک اداروں کے سائنسدان اور انجینیئرز بھی موجود تھے۔

    فورم نے فتح سیریز کے مقامی طور پر تیار کردہ میزائل کے کامیاب تربیتی تجربے کو سراہا،جبکہ دوسری جانب صدر مملکت، وزیر اعظم پاکستان، چیف آف ڈیفنس فورسز اور سروسز چیفس نے میزائل کے کامیاب تربیتی تجربے میں حصہ لینے والے تمام افراد کی تکنیکی مہارت، لگن اور عزم کو سراہا۔

  • امریکا کو اپنی غیر قانونی اور غیر منطقی شرائط ترک کرنا ہوں گی، ایران

    امریکا کو اپنی غیر قانونی اور غیر منطقی شرائط ترک کرنا ہوں گی، ایران

    گفتگو کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے دفاع اجلاس میں ایران کی نمائندگی کر رہے ہیں گفتگو کرتے ہوئےایرانی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ امریکا اب آزاد اور خود مختار ملکوں کی پالیسی متعین کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا-

    ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق وزارتِ دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نیک نے کہا ہے کہ امریکا اب آزاد ملکوں پر اپنی پالیسی مسلط نہیں کر سکتا ایرانی عوام اور مسلح افواج کی ثابت قدمی نے دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ امریکا کو اپنی غیر قانونی اور غیر منطقی شرائط ترک کرنا ہوں گی، عالمی برادری اب امریکا اور اسرائیل کو ریاستی دہشت گردی کی علامت کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

    ایران نے اپنی دفاعی اور عسکری صلاحیتیں ’ایس سی او‘ کر فراہم کرنے کی بھی پیشکش کی ہے ترجمان وزارتِ دفاع کا کہنا تھا کہ ایران اپنی دفاعی اور عسکری صلاحیتیں دیگر خودمختار ممالک، خاص طور پر شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے تیار ہے شنگھائی تعاون تنظیم ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو دنیا کو یک قطبی نظام سے نکال کر کثیر قطبی نظام کی طرف لے جانے کی عکاسی کرتا ہے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق بشکیک میں ایرانی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کرغزستان، روس، پاکستان اور بیلاروس کے وزرائے دفاع سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں، جن میں باہمی تعاون اور علاقائی سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔