Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • افسانہ نگار، مترجم، صحافی اور  مولف سید قاسم محمود

    افسانہ نگار، مترجم، صحافی اور مولف سید قاسم محمود

    سید قاسم محمود

    ممتاز افسانہ نگار، مترجم، صحافی اور مولف سید قاسم محمود 17 نومبر 1928ء کو کھرکھودہ ضلع روہتک میں پیدا ہوئے تھے۔ مڈل کے بعد 1946 میں ہمدرد دواخانہ اور مکتبہ جامعہ دہلی میں ملازمتیں کیں. 1947 میں میٹرک پاس کیا. قیام پاکستان کے بعد لاہور میں ابتدائی عرصہ مہاجر کیمپ میں رضاکار کے طور پر خدمات انجام دیں. بعد میں بجلی کے لائن مینوں کے سیڑھی بردار معاون، اخبار زمیندار میں چپراسی اور ناشرین اور کتب فروشوں کے ملازم رہے. 1950 میں پنجاب یونیورسٹی میں کلرک ہوگئے. 1951ء میں مجلس زبان دفتری،حکومت پنجاب میں مترجم کی اسامی کا اشتہار آیا تو انہوں نے خط لکھا کہ اپنے شوق سے کیے ہوئے اصطلاحات کے تراجم پیش کرنا چاہتا ہوں. وہ مطلوبہ تعلیمی سنا نہیں رکھتے تھے لیکن انہیں غلطی سے ٹیسٹ کیلئے بلالیا گیا. مقابلے میں گریجویٹ اور ایم اے تھے لیکن یہ اول آگئے. بہت سوچ بچار کے بعد انہیں مترجم رکھ لیا گیا۔بعدازاں صادق، لیل و نہار، صحیفہ،علم، کتاب، سیارہ ڈائجسٹ، ادب لطیف، قافلہ، عالمی ڈائجسٹ، روزنامہ نوائے وقت کراچی کے مدیر یا نائب مدیر رہے۔ 1970ء میں لاہور سے انسائیکلو پیڈیا معلومات کا اجرا کیا۔ 1975ء میں مکتبہ شاہکار کے زیر اہتمام شاہکار جریدی کتب شائع کرنا شروع کیں۔ 1980ء سے 1998ء تک کراچی میں مقیم رہے جہاں انہوں نے ماہنامہ افسانہ ڈائجسٹ، طالب علم اور سائنس میگزین کے نام سے مختلف جرائد جاری کئے اور اسلامی انسائیکلو پیڈیا، انسائیکلو پیڈیا فلکیات، انسائیکلو پیڈیا ایجادات، بچوں کا انسائیکلو پیڈیا اور انسائیکلو پیڈیا پاکستانیکا شائع کئے۔ متعدد کام ان کی وفات کی وجہ سے ادھورے رہ گئے۔ ان کے افسانوں کے مجموعے دیوار پتھر کی، قاسم کی مہندی اور وصیت نامہ کے نام سے شائع ہوئے ،انہوں نے 31 مارچ 2010ء کو لاہور میں وفات پائی اور جوہر ٹاؤن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے.

    تصانیف
    انسائیکلوپیڈیا پاکستانیکا
    اسلامی انسائیکلوپیڈیا
    مسلم سائینس
    اسلامی دنیا
    سیرت النبی کا انسائیکلوپیڈیا
    پیام اقبال
    دیوار پتھر کی(افسانے)
    قاسم کی مہندی (افسانے)
    وصیت نامہ (افسانے)
    چلے دن بہار کے(ناول)
    پنڈت جلال الدین نہرو(ناولٹ)
    آدم اور آدمی
    داستان گلکامش
    مذہب اور دیوتا
    قلوپطرہ ہفتم
    اصول سیاسیات
    ہٹلر کی خفیہ زندگی
    وادی دجلہ و فرات
    حکومت اور فرعونیت
    ابراہیم سے یوسف تک
    داستان فرعون
    معاشیات کے جدید نظریے
    تراجم
    شیکسپیئر کے میکبتھ، اوتھیلو، ہیملٹ ،جیولیٹ سیزر،
    صوفیہ لورین اور شاہ ایران کی آپ بیتیاں، ٹالسٹائی، موپاساں، دوستووسکی، ایملی برونٹ، چارلس ڈکنز، جان گالسوردی، ارونگ سٹون، ٹی ایس ایلیٹ، سی ای ایم جوڈ، جان ماسٹرز کے ناول اور دوسری کتابیں

  • ڈکیتی مزاحمت پر قتل یا زخمی ہونےکے واقعات کی تفتیش ماہر افسر کریں گے،آئی جی سندھ

    ڈکیتی مزاحمت پر قتل یا زخمی ہونےکے واقعات کی تفتیش ماہر افسر کریں گے،آئی جی سندھ

    کراچی: آئی جی سندھ غلام نبی میمن کا کہنا ہے کہ ڈکیتی مزاحمت پر قتل یا زخمی ہونےکے واقعات کی تفتیش ماہر افسر کریں گے۔

    باغی ٹی وی : کراچی میں جرائم کی بڑھتی واردات پر آئی جی سندھ غلام نبی میمن کی زیر صدارت سینٹرل پولیس آفس میں اہم اجلاس ہواماجلاس میں آئی جی سندھ غلام نبی میمن کا کہنا تھا کہ کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے دوران 49 افراد جاں بحق، 650 کے قریب زخمی ہوئے ہیں، 7 بہترین نامزد افسران کیس پر کام کر کے ملزمان کو گرفتار کریں گے، دیگر 60 افسران ان تمام کیسز میں ملوث ملزمان کے خلاف کام کریں گے، ایک تفتیشی افسر 10 سے 12 کیسز پرہی کام کرے گا۔

    انہوں نے کہا کہ ایس ایس پی اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ عدیل چانڈیو کو اہم ٹاسک سونپا گیا ہے، جرائم پر قابو پانے والے پولیس افسران کو ایک لاکھ نقدی، کمپیوٹر، وافر مقدار میں پیٹرول دیں گے، کیس بنانے کے لیے بھی ماہر ماتحت افسران مہیا کر رہے ہیں حکومت سے درخواست کی جائے گی کہ جس طرح اسپیشل ٹیم بنائی گئی ہے اس پر اسپیشل کورٹس بننی چاہئیں تاکہ کیس جلدی حل ہوں۔

    سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    آئی جی سندھ نے کہا کہ پولیس کا کام ہےکہ عوام کی خدمت اور ان کی حفاظت کرنا ہے، ڈکیتی میں مزاحمت پر کلنگز کے ساتھ کریمنلز کی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں، تفتیش میں کارکردگی، ملزمان کو سزاؤں کی شرح سے آئی اوز کو تنخواہ بطور ریوارڈ دی جائے گی، تفتیشی افسران کی کارکردگی رپورٹ ایس ایس پیز، اے آئی جی آپریشنز سندھ کو ارسال کریں گے، عمدہ کارکردگی کے حامل افسران کو ایس آئی او کی پوزیشن دی جائے گی۔

    31 مارچ تاریخ کے آئینے میں

    بابر اعظم کو کپتان کیوں بنایا گیا؟پی سی بی نے وجہ بتا دی

  • کراچی : رنچھوڑ لائن کے قریب بوسیدہ عمارت کا ایک حصہ گرگیا

    کراچی : رنچھوڑ لائن کے قریب بوسیدہ عمارت کا ایک حصہ گرگیا

    کراچی میں رنچھوڑ لائن عیدگاہ کے قریب بوسیدہ عمارت کا ایک حصہ گرگیا،جس کے ملبے تلے پانچ افراد دب گئے جنہیں کئی گھنٹوں بعد زندہ نکال لیا گیا۔

    باغی ٹی وی : واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیموں نے بروقت امدادی کارروائیاں شروع کردیں، خوش قسمتی سے واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، عمارت میں ایک خاتون سمیت 5 افراد پھنس گئے تھے جنہیں بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔

    ریسکیو حکام کے مطابق ریسکیو سرچ آپریشن کے دوران دو افراد ریسکیو ٹیم کو جواب دے رہے تھے جبکہ ملبے تلے دبی خاتون جواب دینے سے قاصر تھیں، جنہیں ننکالا گیا تو امن کی حالت کافی غیر تھی، انہیں فوراً اسپتال منتقل کیا گیا،عمارت کا ایک حصہ گرنے سے کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی بظاہر یہ برطانوی دور کی عمارت ہے جس کے ڈھانچے کو ماہرین نے کمزور اور ناقابل رہائش قرار دیا تھا کیونکہ یہ کسی بھی وقت گر سکتی تھی،متعلقہ حکام نے مکینوں سے جگہ خالی کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا لیکن گراؤنڈ فلور پر رہنے والے عمار ت خالی کرنے کے حوالے سے تذبذب کا شکار تھے اور ان کا کہنا تھا کہ عمارت خالی ہونے کے بعد وہ کہاں جائیں گے۔

  • 31 مارچ کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    31 مارچ کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    31 مارچ کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    822ء أبو الفضل جعفر المتوکل علی اللہ، دسواں عباسی خلیفہ (وفات : 861ء)

    1504ء لہنا جی المعروف اَنگد دیو یا گرو اَنگد، سکھوں کے دس گرؤں میں سے دوسرے گرو، گرو اَنگد دیوتا مہاراج جی بہت ہی ہنرمند شخصیت کے مالک تھے۔ پیدائش پر ان کا نام لہنا جی رکھا گیا۔ ان کا جنم سرائے نگا نام کے گاؤں میں ہوا جو پنجاب کے ضلع مکتسر میں واقع ہے۔ رواج کے مطابق دیوی لہنہ کے نام پر نام رکھا گیا۔ باپ کا نام پھیرو تھا اور وہ ایک چھوٹے دکان دار تھے-انکی ماں کا نام ماتا رامو تھا (یہ بھی ماتا سبہیرائے کے نام سے منصوب تھا۔ تاہم عام طور بر یہ منسا دوی اور دیا کؤر کے روپ میں جانی جاتیں تھیں- (وفات : 1552ء)

    1732ء آسٹریائی موسیقار، نغمہ ساز، پیانو نواز (وفات : 1809ء)

    1811ء روبرٹ بنسن، جرمن کیمیا دان (وفات : 1899ء)

    1865ء آنندی گوپال جوشی، پہلی بھارتی خاتون تھیں، جنہوں نے ڈاکٹری کی ڈگری لی (وفات : 1887ء)

    1890ء ولیم لارنس براگ، نوبل انعام (1915ء) یافتہ برطانوی طبیعیات دان، انھوں نے یہ انعام ولیم ہنری براگ کے ساتھ مشترکہ جیتا جس کی وجہ قلمی ساخت کو ایکس رے کے ذریعے دیکھنے کی ان کی مشترکہ کوششیں تھیں۔ (وفات : 1971ء)

    1906ء سن اٹیرو ٹومو ناگا، نوبل انعام (1965ء) یافتہ جاپانی طبیعیات دان۔ انہیں یہ انعام امریکی سائنسدانوں جولیان سکونگر اور رچرڈ فلپ فے مین کے ساتھ مشترکہ دیا گیا۔ اس کی وجہ کوانٹم الیکٹرونکس (Quantum Electronics) سے جڑے ان کے کام تھے جس کی وجہ سے اوسکیلیٹر اور ایمپلی فائیر کی تخلیق ممکن ہوئی ۔ (وفات : 1979ء)

    1914ء اوکٹاویو پاز، نوبل انعام (1990ء) یافتہ میکسیکن ادیب (پیدائش : 1998ء)

    1934ء کارلو روبیا، اٹالین طبیعیات دان۔ انھوں نے طبیعیات کا نوبل انعام بھی جیتا یہ انعام 1984ء میں انھوں نے نیدر لینڈ کے سائنس دان سم ونڈر میر کے ہمراہ ڈبلیو زیڈ زرات کی دریافت پر یہ انعام ملا۔

    1943ء کرسٹوفر کالکن، امریکی اداکار

    1948ء ایل گور، نوبل امن انعام (2007ء) یافتہ امریکی وکیل اور سیاستدان اور 45 ویں امریکی نائب صدر (20 جنوری 1993ء تا 20 جنوری 2001ء)

    1970ء آلینکا براتوشیک، سلووینیا کی پہلی اور مجموعی طور پر نویں وزیرِ اعظم (20 مارچ 2013ء تا 18 ستمبر 2014ء)

    1983ء ہاشم محمد آملہ، جنوبی افریقی کرکٹ کھلاڑی

    1984ء راکشیتا، بھارتی فلمی اداکارہ

    1987ء سنتوشی، بھارتی فلمی اداکارہ

    31 مارچ 1919ء اردو کے ممتاز ادیب اور صحافی آغا بابر کی تاریخ پیدائش ہے۔ آغا بابر کا اصل نام سجاد حسین تھا اور وہ بٹالہ ضلع گورداس پور میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ گورنمنٹ کالج لاہور اور پنجاب یونیورسٹی فارغ التحصیل تھے۔ ابتدا میں انہوں نے فلموں میں مکالمہ نویس کے طور پر کام کیا اور قیام پاکستان کے بعد آئی ایس پی آر کے جریدے مجاہد اور ہلال کے مدیر رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ امریکا چلے گئے اور عمر کا باقی حصہ انہوں نے وہیں بسر کیا۔ آغا بابر اردو کے اہم افسانہ نگاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے افسانوی مجموعوں میں چاک گریباں، لب گویا، اڑن تشتریاں، پھول کی کوئی قیمت نہیں، حوا کی کہانی اور کہانی بولتی ہے کے علاوہ ڈراموں کے تین مجموعے بڑا صاحب، سیز فائر اور گوارا ہو نیش عشق شامل ہیں۔ انہوں نے اپنی سوانح حیات بھی لکھنی شروع کی تھی مگر وہ ان کی وفات کی وجہ سے ادھوری رہ گئی۔ آغا بابر مشہور دانشور عاشق حسین بٹالوی اور اعجاز حسین بٹالوی کے بھائی تھے۔ 25 ستمبر 1998ء کو آغا بابر نیویارک میں وفات پاگئے۔وہ نیویارک ہی میں آسودۂ خاک ہیں۔

    عالم دین، مبلغ اسلام اور سیاسی رہنما مولانا شاہ احمد نورانی 31 مارچ 1926ء کو میرٹھ (یو پی) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی، اعلیٰ حضرت شاہ احمد رضا خان بریلوی کے خلیفہ مجاز تھے۔ شاہ احمد نورانی نے حفظ قرآن اور درس نظامی کی تکمیل کے بعد نیشنل عربک کالج میرٹھ سے گریجویشن کیا اور الٰہ آباد یونیورسٹی سے فاضل عربی کی ڈگری حاصل کی۔ علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی اپنے وقت کے عظیم مبلغ تھے۔ ان کی وفات کے بعد یہ فریضہ شاہ احمد نورانی نے سنبھال لیا۔ وہ 1953ء سے 1964ء تک ورلڈ مسلم علما آرگنائزیشن کے سیکریٹری جنرل رہے۔ انہوں نے 1953ء اور 1974ء کی ختم نبوت تحریک میں فعال حصہ لیا۔ 1970ء میں وہ جمعیت علمائے پاکستان کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 2003ء میں وہ ایم ایم اے کے ٹکٹ پر سینٹ آف پاکستان کے رکن بنے تھے اور اپنی وفات کے وقت بھی سینٹ کے رکن تھے۔ ٭11 دسمبر 2003ء کو مولانا شاہ احمد نورانی اسلام آباد میں وفات پاگئے۔ مولانا شاہ احمد نورانی کراچی میں حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ کے مزار کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔

  • خاتون کو اغوا کر کےزیادتی کرنیوالے 3 ملزمان گرفتار

    لاہور: پولیس نے خاتون کو اغوا کر کے کھیتوں میں لے جا کر زیادتی کرنے والے 3 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی : اے ایس پی ڈیفنس لاہور عثمان عزیز میر نے بتایا کہ فیکٹری ایریا پولیس کو خاتون سے زیادتی کی درخواست موصول ہوئی اور خاتون کی مدعیت میں دو ملزمان کے خلاف فوری مقدمہ درج کیا گیا ایس پی کینٹ اویس شفیق کی ہدایت پر ملزمان کو گرفتار کرنے کے لیے ٹیم فوری تشکیل دی گئی اور چند گھنٹوں کی کاوش سے پولیس ٹیم کے ہمراہ ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    ملزمان کی فوری گرفتاری پر ایس پی کینٹ لاہور اویس شفیق نے اے ایس پی ڈیفنس، ایس ایچ او فیکٹری ایریا وجیہہ الحسن اور پولیس ٹیم کو شاباش دی اور کہا کہ خواتین کے جنسی استحصال میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

    دوسری جانب سمن آباد کے علاقے رسول پارک میں گھریلو تنازع پر فائرنگ سے خاتون سمیت 3 افراد جاں بحق جبکہ 2 افراد زخمی ہوگئے پولیس نے کارروائی کے بعد فائرنگ سے ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کو مردہ خانہ منتقل کر دیا، مرنے والوں کی شناخت ندیم، نازیہ اور سرفراز کے نام سے ہوئی ہے جبکہ زخمیوں میں عرفان اور رضیہ شامل ہیں۔

    ایس پی اقبال ٹاؤن اخلاق اللہ تارڑ کے مطابق ابتدائی تحقیقات کے مطابق ندیم کی سمن آباد گول چکر کے قریب رہائش پذیر سرفراز کے گھر سال قبل منگنی ہوئی تھی گزشتہ روز ندیم سرفراز کے گھر آیا جہاں جھگڑے کے بعد اس نے فائرنگ کر دی، فائرنگ سے سرفراز موقع پر جاں بحق ہو گیا جبکہ عرفان اور 02 خواتین رضیہ اور نازیہ شدید زخمی ہوئیں، زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں نازیہ دم توڑ گئی بعدازاں ندیم نے بھی واقعہ کے بعد خود کو گولی مار کر خودکشی کرلی۔

  • کینسر اور ذیابیطس ٹائپ 2  سے بچنے کا ماہرین نے آسان حل بتا دیا

    کینسر اور ذیابیطس ٹائپ 2 سے بچنے کا ماہرین نے آسان حل بتا دیا

    لندن: برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں ماہرین کا کہناہے کہ کینسر اور ذیابیطس ٹائپ 2 جیسے جان لیوا امراض سے بچنے کیلئے مچھی کھانا عادت بنا لیں-

    باغی ٹی وی : East Anglia یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ زیادہ مچھلی کھانے سے لوگوں کو صحت مند رہنے میں مدد ملتی ہےمچھلی پروٹین کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے جس کو کھانے سے وزن کو صحت مند رکھنے میں مدد ملتی ہے، کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنا ممکن ہوتا ہے، اگر بڑے پیمانے پر مچھلی کھانے کو یقینی بنایا جائے تو ذیابیطس اور کینسر کے لاکھوں کیسز کی روک تھام ممکن ہے۔

    تحقیق کے مطابق ہر ہفتے 2 بار مچھلی کھانے سے ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے کا خطرہ 15 فیصد تک کم ہو جاتا ہےاسی طرح آنتوں کے کینسر کا خطرہ 42 فیصد تک گھٹ جاتا ہے مچھلی کھانے سے ذیابیطس اور کینسر کی مخصوص اقسام سے متاثر ہونے کا خطرہ نمایاں حد تک کم ہوتا ہے جبکہ معیار زندگی بھی بہتر ہوتا ہے، غذا کے ذریعے امراض کی روک تھام کرنا زیادہ بہتر ہوتا ہے اور خرچہ بھی کم ہوتا ہے۔ 

    اس سے قبل دسمبر 2023 میں جرنل سرکولیشن میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ مچھلی کھانے کی عادت امراض قلب سے تحفظ فراہم کر سکتی ہے،جن افراد کے قریبی رشتے داروں کو امراض قلب کا سامنا ہوتا ہے، وہ مچھلی کو اکثر کھا کر دل کی بیماریوں کا خطرہ کم کر سکتے ہیں۔

  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    پشاور: خیبرپختونخوا کے شہر سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : زلزلے کے باعث لوگ شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہوکر گھروں سے باہر نکل آئے اور کلمہ طیبہ کا ورد کرتے رہے، زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 4.8 ریکارڈ کی گئی، جبکہ زلزلے کی زیر زمین گہرائی 185 کلومیٹر تھی زلزلے کا مرکز پاک، افغانستان، تاجکستان کا سرحدی علاقہ تھا۔

    نئے آئی جی اسلام آباد کی تعیناتی کا معاملہ ، سینئر افسران جونیئر افسر کے …

    پی ٹی آئی کا سندھ میں سینیٹ انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان

    وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکی صدر جوبائیڈن کو جوابی خط لکھ دیا

  • 31 مارچ  تاریخ کے آئینے میں

    31 مارچ تاریخ کے آئینے میں

    31 مارچ تاریخ کے آئینے میں

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    1774ء ہندستان میں پوسٹل سروس کا آغاز۔

    1767ء ممبئی میں پراتھنا سوسائٹی کی تشکیل ہوئی۔

    1870ء امریکہ میں پہلی بار کسی سیاہ فام شہری نے ووٹ دیا۔

    1889ء پیرس کے مشہور ایفل ٹاور کو سرکاری طور پر کھولنے کا اعلان کیا گیا۔

    1917ء امریکہ نے 25؍ ملین ڈالر میں ڈینش ویسٹ انڈیز خریدا اور اس کا نام ورجن آئی لینڈ رکھا۔

    1933ء ہٹلر نے جرمنی کا اقتدار سنبھالا۔

    1946ء دوسری عالمی جنگ کے بعد یونان میں پہلی بار پولنگ ہوئی۔

    1959ء تبت کے روحانی لیڈر دلائی لامہ کو ہندستان میں سیاسی پناہ ملی۔

    1964ء ممبئی میں آخری بار الیکٹرک ٹرام چلی۔

    1966ء سوویت روس نے پہلا چندریان لونا 10؍ لانچ کیا۔

    1979ء مالٹا کی آزادی کا دن۔ برطانوی فوجوں کے آخری دستے کا انخلا ہوا۔

    1983ء كولمبيا میں زلزلے سے تقریبا 5000 افراد ہلاک ہو گئے۔

    31 مارچ 2008ءکو یوسف رضاگیلانی کی 24 رکنی وفاقی کابینہ نے حلف اٹھایا جس میں 11کا تعلق پیپلز پارٹی، 9 کا تعلق مسلم لیگ نون ، دو کاتعلق اے این پی، ایک کا تعلق جے یوآئی اور ایک کا تعلق فاٹا سے تھا۔ وفاقی کابینہ سے پرویزمشرف نے صدرکی حیثیت سے حلف لیا تھا۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے حلف اٹھانے والوں میں شاہ محمود قریشی، شیری رحمان، خورشید شاہ، راجہ پرویز اشرف، فاروق ایچ نائیک، نوید قمر، احمد مختار، قمرالزمان کائرہ، ہمایوں عزیز، نذر محمدگوندل اور نجم الدین خان شامل تھے۔پاکستان مسلم لیگ ن کی طرف سے حلف اٹھانے والوں میں چوہدری نثار علی خان، اسحاق ڈار، خواجہ آصف، احسن اقبال، سردار مہتاب احمد خان، خواجہ سعد رفیق، رانا تنویر، شاہد خاقان عباسی اور بیگم تہمینہ دولتانہ شامل تھے۔فروری 2008 کے عام انتخابات کے بعد پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ ن، متحدہ قومی موومنٹ، عوامی نیشنل پارٹی اور جے یو آئی ف کے ساتھ صوبوں اور وفاق میں مخلوط حکومت قائم کی اور 31 مارچ 2008 کو سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے 24 رکنی وفاقی کابینہ سے حلف لیا۔لیکن12 مئی 2008 کو مسلم لیگ ن وفاقی کابینہ سے الگ ہو گئی۔

    31 مارچ 2006ء کو حکومت نے پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی یونٹ پاکستان سٹیل ملز کے 75 فیصد (ایک ارب 68 کروڑ) حصص 21 ارب 68 کروڑ پاکستانی روپے میں فروخت کر کے اس کی نجکاری کر دی تاہم خریداروں کی شناخت کے بارے میں کافی اختلافات اور ابہام پیدا ہو گئے۔ نجکاری کمیشن نے نجکاری سے پہلے اور بعد بولی دینے والوں کے اور خریداروں کے جو نام ظاہر کیے تھے ان میں اختلاف پایا گیا تھا۔ علاوہ ازیں ادارہ کی مزدور یونینز بھی نجکاری کے عمل سے خائف تھیں۔ نتیجۃ اس فروخت کو پیپلز مزدور یونین اور پاکستان وطن پارٹی کے بیریسٹر ظفراللہ خان نے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا۔ 24 مئی، 2006ء کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں عدالت عظمٰی کے نو رکنی بنچ نے حکم امتناعی جاری کر کے نئی انتظامیہ کو ملز کا کنٹرول سنبھالنے سے روک دیا۔ بعد ازاں، 15 جون، 2006ء اسی بنچ نے نجکاری کو کالعدم قرار دے دیا۔ یہ پاکستان کے حق میں ایک بہت فیصلہ تھا۔

    31مارچ2003ء کو پاکستان کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ کی گولڈن جوبلی کے موقع پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس کی مالیت چار روپے تھی۔ اس ڈاک ٹکٹ پراس ادارے کا لوگو بنا تھا اور انگریزی میں PIONEERS IN INDUSTRIAL RESEARCH, PAKISTAN COUNCIL OF SCIENTIFIC AND INDUSTRIAL RESEACH, GOLDEN JUBILEE 50 1953-2003 کے الفاظ تحریر کیے گئے تھے۔ اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن پاکستان اکیڈمی ٓف سائنسزنے فراہم کیا تھا۔

    2011ء۔۔چارسدہ میں جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن پہ خود کش حملہ ۔12 شہید۔مولانا فضل الرحمن محفوظ رہے۔

    2017 ء۔۔کرم ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر پارا چنار کے وسط میں نور مارکیٹ کے قریب واقع مرکزی امام بارگاہ کے دروازے پر بارود سے بھری گاڑی سے حملہ۔25 جان بحق ۔95 زخمی۔مظاہرین پہ فائرنگ سے 3 مزید جان سے گئے۔

    2014ء۔۔سابق فوجی آمر پرویز مشرف پہ آرٹیکل چھ کے تحت فرد جرم عائد کی گئی ۔

    *تعطیلات و تہوار

    مالٹا کی آزادی کا دن
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل: آغا نیاز مگسی

  • بابر اعظم کو کپتان کیوں بنایا گیا؟پی سی بی نے وجہ بتا دی

    بابر اعظم کو کپتان کیوں بنایا گیا؟پی سی بی نے وجہ بتا دی

    لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) کا کہنا ہے کہ ایک اسٹریٹجک اقدام کے تحت بورڈ نے وائٹ بال کی قیادت کو تبدیل کیا ہے جس کا مقصد کھلاڑیوں کی اعلیٰ کارکردگی کو یقینی بنانا ہے-

    باغی ٹی وی : بورڈ کے مطابق یہ فیصلہ فاسٹ بولرز کو گزشتہ دو برس میں ہونےوالی انجریز کے پیش نظر کیا گیا ہے، کام کے بوجھ کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ فیصلہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ پاکستان کے اہم بولرز اپنی پرفارمنس پر فوکس رہیں، پی سی بی نہیں چاہتا کہ قومی ٹیم بالنگ ریسورسز کے حوالے سے انجریز کے بحران سے دوچار ہو جیسا کہ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2022 اور آئی سی سی ورلڈ کپ 2023 کے موقع پر دیکھا گیا تھا۔

    دریں اثنا شاہین شاہ آفریدی کا کہنا ہے کہ پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کی کپتانی کرنا ایک اعزاز کی بات تھی میں ہمیشہ ان یادوں اور مواقع کو یاد رکھوں گا، ٹیم کا کھلاڑی ہونے کے ناطے یہ میرا فرض ہے کہ میں اپنے کپتان بابر اعظم کی حمایت کروں، میں بابراعظم کی کپتانی میں کھیلا ہوں اور ان کے لیے احترام موجود ہےمیں میدان کے اندر اور باہر ان کی مدد کرنے کی کوشش کروں گا، ہم سب ایک ہیں۔ ہمارا مقصد ایک ہی ہے اور وہ ہے پاکستان کو دنیا کی بہترین ٹیم بنانے میں مدد کرنا۔

    پی ٹی آئی کا سندھ میں سینیٹ انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان

    بابر اعظم نے کہا کہ حالیہ ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شاہین کی قیادت میں کھیلنا خوشی کی بات ہے وہ ابھی جوان ہیں اور ایک کھلاڑی اور لیڈر کے طور پر ہر روز بہتر ہو رہے ہیں، بحیثیت کپتان میں نے ہمیشہ شاہین کے مشوروں کی قدر کی ہے اور میں آئندہ بھی ان سے مشورہ کرتا رہوں گا ہمیں کھیل کے بارے میں ان کی اسٹریٹجک سمجھ سے فائدہ اٹھانا چاہیے، ہمارا مشترکہ مقصد اس ٹیم کو دنیا کی بہترین ٹیم بنانا ہے۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے شاہین آفریدی کی بطور کپتان ان کے کنٹری بیوشن پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے اور امید ظاہر ہے کہ بابر اور شاہین دونوں مل کر پاکستانی ٹیم کو ٹاپ پر لے جانے میں اپنا موثر کردار ادا کریں گے۔

    نئے آئی جی اسلام آباد کی تعیناتی کا معاملہ ، سینئر افسران جونیئر افسر کے …

    وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکی صدر جوبائیڈن کو جوابی خط لکھ دیا

  • الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کا  یتیم بچوں،بیواؤں اور بزرگوں کیلئے گرینڈ افطار  کا انعقاد

    الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کا یتیم بچوں،بیواؤں اور بزرگوں کیلئے گرینڈ افطار کا انعقاد

    لاہور: الخدمت فاؤنڈیشن کے کفالت یتامیٰ پروگرام کے تحت 2 ہزار یتیم بچوں اور 1 ہزار بیواؤں اور اولڈ ایج ہوم کے سینکڑوں بزرگوں کیلئے گرینڈ افطار کا انعقاد کیا گیا، یتیم بچوں کیلئے جمپنگ کیسل،فیس پینٹنگ، میجک شو اوربچیوں کے لئے مہندی کے اسٹال کا اہتمام، عیدی، کپڑے اوردیگر تحائف بھی تقسیم کئے گئے ،صدر الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان ڈاکٹرحفیظ الرحمن نے کہا کہ الخدمت ملک بھر میں یتیم بچوں کے لیے افطار اور عید شاپنگ کا انعقاد کر رہی ہے ۔

    باغی ٹی وی : الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے سینئر منیجر میڈیا ریلشنز ک شعیب ہاشمی کے مطابق الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے کفالت یتامیٰ پروگرام کے تحت 2 ہزار یتیم بچوں،بیوہ خواتین اور اولڈ ایج ہومز میں رہنے والے بزرگ افراد کے لیے گرینڈ افطار اورعیدتحائف کی تقسیم کا اہتمام کیا گیا۔

    تقریب میں شریک بچوں کے لئے جمپنگ کیسل،فیس پینٹنگ، میجک شو اور بچیوں کے لئے مہندی کے اسٹال کا خاص اہتمام کیا گیا تھاجبکہ بعد ازاں بچوں ، اُن کی ماؤں اور معمر افراد میں عیدی، کپڑے اوردیگر تحائف بھی تقسیم کئے گئے۔ تقریب میں صدر الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان ڈاکٹرحفیظ الرحمن،نائب صدر ڈاکٹر مشتاق مانگٹ، صدر وسطی پنجاب اکرام الحق سبحانی،صدر الخدمت لاہور حماد احمد رشید سمیت یوتھ سوسائٹیز کے نمائندگان، یتیم بچوں،اُن کی باہمت ماؤں اور اولڈ ایج ہوم کے بزرگوں سمیت زندگی کے مختلف شعبہ ہائے جات سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    تقریب میں میزبانی کے فرائض سینئر منیجر میڈیا ریلشنز شعیب ہاشمی نے سر انجام دیے۔ڈاکٹرحفیظ الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الخدمت فاؤنڈیشن 30 ہزار یتیم بچوں کی کفالت پرسالانہ اڑھائی ارب روپے خرچ کررہی ہے،آرفن کی باہمت ماؤں اور بزرگوں کے لئے مختلف پراجیکٹس کے ذریعے ریلیف فراہم کیا جاتا ہے۔ایسی تقاریب کا مقصد آرفن بچوں، ان کی باہمت ماؤں اور اولڈایج ہومز میں مقیم بزرگوں میں احساس محرومی ختم کرکے انھیں رمضان اور عید کی خوشیوں میں شریک کرنا ہے، رمضان میں آرفن بچوں کیلئے اضلاع،ریجن اور مرکزی سطح پر مختلف افطارپروگرامات منعقدکئے جاتے ہیں ان باہمت بچوں کو عیدکی خریداری کروائی جاتی ہے تاکہ یہ اپنے والدین کی کمی کوکم محسوس کریں۔

    یتیم بچے اوریہ بے گھر بزرگ افراد ہمارے معاشرے کا توجہ طلب طبقہ ہیں۔الخدمت کے والنٹیرز کی جانب سے اِن کے لیے کی جانے والی کاوشیں اور اقدامات قابل تحسین ہیں۔ ہمیں اس نیک مقصد کے لیے انفرادی اور اجتماعی طور پر مل کر معاشرے کے اس نادار اور مستحق طبقے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے کہا کہ اس وقت غزہ تباہی کے دھانے پر 22 لاکھ افراد محصور اور ہماری امداد کے منتظر ہیں الخدمت فاؤنڈیشن مسلسل غزہ ریلیف کیلئے سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے ایک ارب 70 کروڑ سے زائد مالیت کا امدادی سامان ہم مختلف ذرائع سے غزہ بھجوا چکے ہیں، جبکہ امدادی سامان کی ترسیل مسلسل جاری ہے۔

    ڈاکٹر مشتاق مانگٹ نے کہا کہ رمضان اور عید کی خوشیوں میں اپنے ساتھ شریک کرنا یتیم بچوں اور بے سہارا معمر افراد کا بھی حق ہے۔اِسی احساس کے ساتھ الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکار ہر سال کالجز اور یونیورسٹیز کے طلبہ و طالبات کے ساتھ مل کر یتیم بچوں، اُن کی ماؤں اور اولڈ ایج ہوم کے بے گھر خواتین و حضرات کے لیے افطار اور عید تحائف کا اہتمام کرتے ہیں، عید کے تحائف کا اہتمام الخدمت کے رضاکار کرتے ہیں اور بچوں کے لیے ایسا خوبصورت میلہ لگاتے ہیں تاکہ انہیں بھی خوشیوں میں شریک کیا جا سکے۔