Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • این اے 130سے نوازشریف کے کاغذات منظور ہونے کیخلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ

    این اے 130سے نوازشریف کے کاغذات منظور ہونے کیخلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ

    کراچی: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 242 سے الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی۔

    باغی ٹی وی : شہبازشریف کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ الیکشن ٹرییوبنل میں پیش ہونے والے لیگی رہنما رانا مشہود نے کہا کہ ہم تمام جماعتوں کو لیول پلینگ فیلڈ ملنے کا مطالبہ کرتے ہیں2018 میں اس ملک کے ساتھ زیادتی ہوئی جو اب نہیں ہونا چاہیے، چاہتے ہیں تمام جماعتوں کے امیدوار حلقوں میں مقابلہ کریں، 8 فروری کو پورے ملک شیر دہاڑے گا،ادھر کراچی میں سابق وزیراعظم شہبازشریف کیخلاف مسعود خان مندوخیل کی اپیل مستردکردی گئی –

    ٹریبونل نے این اے 242سے شہبازشریف کو الیکشن لڑنے کی اجازت دیدی،ٹریبونل نے پی ایس 75ٹھٹھہ سے مصطفی امیر کے کاغذات نامزدگی منظورکرلئےجبکہ پی ایس 88کےامیدوار مولانا اورنگزیب فاروقی ،پی ایس 125 سے تحریک انصاف کے محمد فاروق کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے۔

    لاہور کے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 129سے تحریک انصاف کے میاں اظہر کو الیکشن کی اجازت مل گئی، اپیلٹ ٹریبونل میں میاں اظہر کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی،عدالت نے این اے 129سے تحریک انصاف کے میاں اظہر کے کاغذات نامزدگی منظور کرلئے،اپیلٹ ٹریبونل کے جج جسٹس طارق ندیم نے اپیل منظور کی،جبکہ اپیلٹ ٹریبونل نے پی پی 150سے پی ٹی آئی کے عباد فاروق کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا فیصلہ برقراررکھا۔

    سابق صوبائی وزیر ذوالفقار مرزا، ان کی اہلیہ فہمیدہ مرزا اور دونوں بیٹے انتخابات کی دوڑ سے باہر ہو گئے۔

    سندھ ہائیکورٹ کے اپیلٹ ٹریبونل میں ذوالفقار مرزا، ان کی اہلیہ فہمیدہ مرزا اور دونوں بیٹوں کی کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کیخلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی،آر او نے ذوالفقار مرزا اور فہمیدہ مرزا کے کاغذات نامزدگی نادہندہ ہونے کی بنیاد پر مسترد کئے تھے،وکلا کے دلائل کے بعد ٹریبونل نے فیصلہ منظور کیا تھا۔

    بعدازاں ٹریبونل نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے این اے 223بدین سے ذوالفقار مرزا اور انکی اہلیہ فہمیدہ مرزا کے کاغذات نامزدگی مستردکر دیئے جبکہ ان کے دونوں بیٹوں حسنین مرزا اورحسام مرزا صوبائی اسمبلی کی نشست پر کاغذات جمع کرا رکھے تھے، عدالت نے ان کے بھی کاغذات مسترد کردیئے۔

    نوابزادہ جمال رئیسانی کے کاغذات نامزدگی منظوری کا فیصلہ کالعدم قرار

    دوسری جانب بلوچستان ہائی کورٹ کے قائم کردہ الیکشن ٹریبونل نے شپاکستان پیپلز پارٹی کے این اے 264 سے امیدوار نوابزادہ جمال رئیسانی کے کاغذات نامزدگی منظوری کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔

    وکیل درخواست گزار نے اعتراض عائد کیا تھا کہ جمال رئیسانی کا ووٹ رجسٹر نہیں ہے، جمال رئیسانی نگراں وزیر کے طور پر کابینہ کا حصہ تھے،جس پر جسٹس عامر رانا نے کاغذات نامزدگی منظوری کا ریٹرننگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

    گزشتہ روز سابق نگراں وزیر کھیل جمال رئیسانی کا کہنا تھا کہ بلوچستان ملک دشمن عناصر کی لگائی آگ میں جل رہا ہے، کالعدم تنظیموں کو کس نے اجازت دی کہ ہمارے پیاروں کو شہید کریں۔

    نگراں حکومت میں 25 سال کی عمر میں وزارت کا حلف اٹھانے کے بعد نوابزادہ جمال رئیسانی بلوچستان کے سب سے کم عمر وزیر بن گئے تھے، جنہیں محکمہ کھیل، امور نوجوانان اور ثقافت کا قلمدان سونپا گیا تھا-

    نومبر 2023 میں جمال رئیسانی نے کہا تھا کہ وہ جلد اپنے نگراں وزیر برائے کھیل، ثقافت اور امور نوجوانان کے عہدے سے مستعفی ہو کر عام انتخابات میں حصہ لیں گے کیونکہ نگران حکومت میں اختیارات محدود ہونے کی وجہ سے عوام کی خدمت اس انداز میں نہیں کی جاسکتی جس طرح منتخب حکومت میں کی جا سکتی ہے۔

    ثناء اللہ زہری کے کاغذات کے خلاف اپیل خارج

    دوسری جانب لیکشن ٹریبونل نے سابق وزیر اعلیٰ نواب ثناءاللہ خان زہری کے کاغذات نامزدگی کے خلاف دائر اپیل خارج کردی ہے، ہے سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خلاف اپیل میں اقامہ اور بجلی کے بل کو جواز بناکر کاغذات نامزدگی کی منظوری کو چیلنج کیا گیا تھا۔

    اختر مینگل کو تینوں حلقوں سے انتخاب لڑنے کی اجازت

    الیکشن ٹریبونل نے سردار اختر مینگل کو دیگر تینوں حلقوں سے انتخاب لڑنے کی اجازت دیدی، ان کی خضدار اور قلات سے قومی اسمبلی جبکہ وڈھ سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر اپیلیں منظور کی گئیں۔

    الیکشن اپیلیٹ ٹربیونل نے خواجہ سرا نایاب علی کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے کے خلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا –

    الیکشن اپیلیٹ ٹربیونل کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے اپیل پر سماعت کی، دوران سماعت عدالتی معاونین نے کہا کہ آئین اور الیکشن ایکٹ خواجہ سراؤں کو انتخابات میں حصہ لینے سے نہیں روکتا، ٹرانس جینڈر انتخابات میں حصہ لینے کے اہل ہیں، آئین کے تحت الیکشن میں حصہ لینے والوں پر جنس کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں ہو گی، شریعت کورٹ نے خواجہ سراؤں کے انتخابات میں حصہ لینے پر کوئی قدغن نہیں لگائی، خواجہ سرا اگر خواتین کی مخصوص نشستوں پر انتخاب لڑتا ہے تو اعتراض ہو سکتا تھا۔

    جسٹس ارباب طاہر نے کہا کہ یہ بنیادی انسانی حقوق کا کیس ہے، انتخابات لڑنا ہر کسی کا حق ہے، الیکشن اپیلیٹ ٹربیونل نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

    واضح رہے کہ کاغذات نامزدگی منظوری کے خلاف ایک اور خواجہ سرا ندیم مظفر نے اپیل دائر کی تھی-

    سنی تحریک کے سابق سربراہ ثروت اعجاز قادری کو الیکشن لڑنے کے لیے نااہل قرار دیدیا گیا۔

    کراچی کے حلقے پی ایس 108 سے سنی تحریک کے سابق سربراہ ثروت اعجاز قادری کے کاغذات نامزدگی ریٹرننگ افسر نے مسترد کیے اور انہیں الیکشن لڑنے کے لیے نااہل قرار دیاریٹرننگ افسر نے کہا کہ ثروت اعجاز قادری کے تجویز کنندہ کا تعلق دوسرے حلقے سے ہے۔

    دوسری جانب ڈیرہ اسماعیل خان سے تحریک انصاف کے امیدوار علی امین گنڈاپور کی اپیل منظور کرلی گئی، الیکشن ٹربیونل نے علی امین کی این اے 44، پی کے 112 اور 113 پر الیکشن لڑنے کے لیے اپیلیں منظور کرلیں۔

    ادھر لاہور میں الیکشن ٹربیونل کے جج جسٹس طارق ندیم نے پی پی 150 سے عباد فاروق کی اپیل مسترد کردی اور ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا۔

    پشاور اپیلٹ ٹریبونل نےتحریک انصاف کے صدر پرویز الٰہی کی اپیل پر فیصلہ محفوظ کرلیا –

    پشاور ہائیکورٹ کے اپیلٹ ٹریبونل نےتحریک انصاف کے صدر وسابق وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہی کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل پر سماعت کی،اپیل پر سماعت جسٹس چودھری عبدالعزیز نے کی، پرویز الہی نے این اے 59 اور پی پی 23 سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے،الیکشن کمیشن کے لاء افسر فلک شیر اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر لاء ذوالقرنین حیدر عدالت پیش ہوئے،الیکشن کمیشن نے پرویز الٰہی کے کاغذات نامزدگی کے حوالے سے ریکارڈ عدالت پیش کر دیا،پرویز الہی کی جانب سے سردار عبدالرازق ایڈووکیٹ عدالت پیش ہوئے،وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد الیکشن ٹریبونل نے چودھری پرویز الہی کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

    لاہور ہائیکورٹ کے اپیلٹ ٹریبونل نے مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف کے کاغذات منظور ہونے کیخلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    اپیلٹ ٹریبونل میں این اے 130سے نوازشریف کے کاغذات منظور ہونے کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی،اپیل کنندہ کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ نوازشریف کو تاحیات نااہلی کی سزا ہوئی ہے،نوازشریف سپریم کورٹ پر حملے میں بھی ملوث ہیں،اپیل میں استدعا کی گئی ہے کہ ٹریبونل کاغذات نامزدگی کا فیصلہ کالعدم قرارد ے ،الیکشن ٹریبونل نے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

  • واحد نکتہ یہی ہے اس وقت عدلیہ آزاد نہیں تھی، ہم کیسے اس مشق میں پڑیں کہ بنچ آزاد نہیں تھا؟،جسٹس منصور

    واحد نکتہ یہی ہے اس وقت عدلیہ آزاد نہیں تھی، ہم کیسے اس مشق میں پڑیں کہ بنچ آزاد نہیں تھا؟،جسٹس منصور

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے خلاف صدارتی ریفرنس پر سماعت جاری ہے-

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بنچ ریفرنس کی سماعت کر رہا ہے،بنچ میں جسٹس سردار طارق، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی کمرہ عدالت میں موجود ہیں، جبکہ کیس کی کارروائی براہ راست نشر کی جارہی ہےسماعت شروع ہوئی تو سینیٹر رضا ربانی روسٹرم پر آگئے، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ عدالتی معاون ہیں؟رضا ربانی کہا کہ میں عدالتی معاون نہیں لیکن بختاور اور آصفہ کا وکیل ہوں، ہم نے کیس میں فریق بننے کی درخواست جمع کرائی ہے،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ٹھیک ہوگیا، اس درخواست کو دیکھتے ہیں۔

    اس کے بعد عدالتی معاون بیرسٹر صلاح الدین احمد روسٹرم پر آگئے،بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ میری اہلیہ نواب احمد قصوری کی نواسی ہیں، عدالت فریقین سے پوچھ لے کہ میری معاونت پر کوئی اعتراض تو نہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ اہلیہ نے اعتراض اٹھایا ہے تو پھر بڑا سنجیدہ معاملہ ہے۔

    وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے ورثا کو بیرسٹر صلاح الدین پر اعتراض نہیں، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ میرے والد ڈی جی ایف ایس ایف مسعودمحمود کےبھٹو کیس میں وکیل تھےاگر میرےاوپر بھی کسی کو اعتراض ہو تو بتا دیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ پر کسی فریق کو اعتراض نہیں آپ فئیر ہیں اس کا یقین سب کو ہے، عدالتی معاون مخدوم علی خان نے عدالت کو کہا کہ ہم نے کچھ متعلقہ مواد جمع کرایا ہے۔

    اس کے بعد احمد رضا قصوری روسٹرم پر آئے تو چیف جسٹس نے انہیں بات کرنے سے روک دیا اور کہا کہ آپ اپنی نشست پر بیٹھ جائیں، پہلے عدالتی معاون کو بات مکمل کرنے دیں، آپ کو ان کی کسی بات پراعتراض ہے تو لکھ لیں، عدالتی معاون نے بتایا کہ اس صدارتی ریفرنس میں چار سوالات پوچھے گئے ہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ سب سے پہلے آپ آئین کا آرٹیکل 186 پڑھیں جس کے تحت یہ ریفرنس بھیجا گیا، کیا ہمارے پاس صدارتی ریفرنس کو نہ سننے کا آپشن ہے؟، جس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ آئینی طور پر تو عدالت کے پاس ریفرنس پر رائے دینے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں، مگر صدارتی ریفرنس میں پوچھا گیا سوال مبہم ہو تو عدالت کے پاس دوسرا آپشن موجود ہوگا۔

    جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ اگر عدالت کی رائے ہو کہ سوال مبہم ہے تو بھی عدالت کے پاس آپشن رائے دینا ہی ہوگا، مخدوم علی خان نے کہا کہ عدالت کے سامنے یہ ایک منفرد کیس ہے، چیف جسٹس نے اسی کیس میں ایک انٹرویو کا ٹرانسکرپٹ بھی طلب کر رکھا ہے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ بنیادی طور پر اس ریفرینس کی بنیاد سابق جج نسیم حسن شاہ کا انٹرویو ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ انٹرویو کا ٹرانسکرپٹ مجھے بھیجا گیا جو وقت کی کمی کے باعث میں نہیں پڑھ سکا اس کے بعد مخدوم علی خان نے سید شریف الدین پیرزادہ کا خط پڑھ کر سنایا اور کہا کہ ذوالفقارعلی بھٹو کی بہن نے صدر مملکت کو رحم کی اپیل کی تھی، ذوالفقار علی بھٹو نے بذات خود کوئی رحم کی اپیل دائر نہیں کی تھی-

    عدالتی معاون مخدوم علی خان نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو چار تین کے تناسب سے پھانسی کی سزا دی گئی، بعد میں ایک جج نے انٹرویو میں کہا کہ میں نے دباؤ میں فیصلہ دیا، عدالت کے سامنے سوال بھٹو کی پھانسی پر عمل کا نہیں ہے، بدقسمتی سے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی ریورس نہیں ہو سکتی، عدالت کے سامنے معاملہ اس کلنک کا ہے۔

    جس پر بینچ میں شامل جسٹس میاں محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر اس کیس میں عدالت نے کچھ کیا تو کیا ہر کیس میں کرنا ہو گا؟اس پر وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ اس ریفرنس کی بنیاد جسٹس نسیم حسن شاہ کا انٹرویو تھا۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس دئیے کہ ہمیں ٹی وی چینل کے ڈائریکٹر نیوز نے انٹرویو کی کاپی بھیجی ہے، انٹرویو شاید ہارڈ ڈسک میں ہے، سربمہر ہے ابھی کھولا نہیں، چیف جسٹس کی اسٹاف کو انٹرویو کی کاپی ڈی سیل کرنے کی ہدایت کردی۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ہمارے سامنے قانونی سوال کیا ہے؟ کیا ایک انٹرویو کی بنیاد پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا دوبارہ جائزہ لے کر رائے دے دیں؟ کیا عدالت ایک انٹرویو کی بنیاد پر انکوائری کرے؟ انٹرویو ایک جج کا تھا جبکہ بنچ میں دیگر ججز بھی تھے، کیا ہم انٹرویو سے متعلقہ لوگوں کو بلا کر انکوائری شروع کریں؟

    انہوں نے مزید کہا کہ ہم صرف ایک انٹرویو کی ویڈیو دیکھ کر تو نہیں کہہ سکتے کہ یہ ہوا تھا، آرٹیکل 186 کے تحت عدالت صرف قانونی سوالات پر رائے دے سکتی ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ یہ بھی بتا دیں بھٹو ریفرنس میں آخر قانونی سوال پوچھا کیا گیا ہے؟

    چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس نسیم حسن شاہ کا پورا انٹرویو نہیں سن سکتے متعلقہ پارٹ لگا دیں، جس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میں نے جو سی ڈی جمع کرائی اس میں صرف وہی حصہ ہے جو ذوالفقار علی بھٹو سے متعلق ہے، اس کے بعد عدالت نے فاروق ایچ نائیک کی جانب سے جمع کرائی گئی سی ڈی لگانے کی ہدایت کی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت اس وقت ایک شخص کی عزت اور تاریخ کی درستگی دیکھ رہی ہے، عدالت بہتر مثال قائم کرنا چاہتی ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ واحد نکتہ یہی ہے اس وقت عدلیہ آزاد نہیں تھی، ہم کیسے اس مشق میں پڑیں کہ بنچ آزاد نہیں تھا؟

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ایک جج کے انٹرویو سے پوری عدالت کے بارے یہ تاثر نہیں دیا جاسکتا کہ تب عدلیہ آزاد نہیں تھی، دوسرے ججز بھی تھے جنہوں نے اپنے نوٹس لکھے اور اختلاف کیا، چیف جسٹس نے کہا کہ اس کیس میں ایک جج کی رائے کو نظرانداز نہیں کرسکتےذوالفقار علی بھٹو کیس میں بنچ کا تناسب ایساتھا کہ ایک جج کی رائےبھی اہم ہےایک جج کےاکثریتی ووٹ کے تناسب سے ایک شخص کو پھانسی دی گئی، جج صاحب کا یہ انٹرویو کب لیا گیا؟ نوٹ کرلیں 3 دسمبر 2003 کو یہ انٹرویو چلایا گیا۔

    ویڈیو دیکھنے کے بعد چیف جسٹس نے کہا کہ فاروق نا ئیک صاحب آپ نے جو ویڈیو فراہم کی وہ غیر متعلقہ ہے، پریشر والی بات کا آپ کی ویڈیو میں کہیں ذکر نہیں، جس پر فارق ایچ نائیک نے کہا کہ یہ انٹرویو یوٹیوب سے ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے،عدالت نے جیو ٹی وی کی فراہم کردہ ویڈیو کی کاپی فاروق ایچ نائیک کو دینے کی ہدایت کردی۔

    معاون مخدوم علی خان نے کہا کہ یہ فیصلہ انصاف سے زیادتی ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا اس میں سپریم کورٹ قصور وار ہے؟ یا پھر پراسیکیوشن اور اس وقت کا مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر؟

    دوران سماعت جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ میری نظر میں ہمیں اپنی تاریخ کو درست کرنا چاہیے، کلنک ایک خاندان پر نہیں لگا بلکہ اداروں پر بھی لگ چکا ہے، جس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ آپ نے بالکل درست بات کی ہے،چیف جسٹس نے معاون مخدوم علی خان کو کہا کہ آپ تحریری معروضات بھی جمع کرا دیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اس کیس کو انتخابات کے بعد نہ رکھ لیں؟ کیا ہم اگلی سماعت عام انتخابات کے بعد کریں؟

    جس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ الیکشن سے قبل سماعت دوبارہ ہو، جتنی جلد ہو سکے عدالت دوبارہ سماعت کرے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نائیک صاحب پہلے ہی دو الیکشنز گزر چکے ہیں،بعد ازاں سپریم کورٹ نے ذوالفقار علی بھٹو کیس میں صدارتی ریفرنس پر سماعت فروری کے تیسرے ہفتے تک ملتوی کر دی-

  • ’دیکھو دیکھو مجھے کون نظر آیا‘ سپریم کورٹ میں لطیف کھوسہ کے ساتھ ٹکراؤ پر بلاول کا دلچسپ ردعمل

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں چئیرمین پیپلز پارٹی نے لطیف کھوسہ کو دیکھ کر ’دیکھو دیکھو مجھے کون نظر آیا‘ کا نعرہ لگا دیا۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں ذوالفقار بھٹو کی سزائے موت کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت میں شرکت کیلئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری سپریم کورٹ پہنچے تو اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوئی جب لطیف کھوسہ پی ٹی آئی کی لیول پلئینگ فیلڈ پر توہین عدالت کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ سے باہر جا رہے تھے تو وکلاکے رش کے باعث وہ بلاول بھٹو کے سامنے آگئے،بلاول بھٹو نے لطیف کھوسہ کو دیکھ کر ’دیکھو دیکھو مجھے کون نظر آیا‘ کا نعرہ لگا دیا، اس کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے لطیف کھوسہ سے گفتگو کی –

    واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل نیئر بخاری نے پارٹی پالیسی سے انحراف کرتے ہوئے عمران خان کی وکالت کرنے پر لطیف کھوسہ کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا، لطیف کھوسہ کی جانب سے جواب جمع نہ کرائے جانے پر پیپلز پارٹی نے ان کی بنیادی پارٹی رکنیت معطل کر دی تھی، جس کے بعد لطیف کھوسہ نے چند ہفتے قبل ہی پاکستان پیپلز پارٹی کو خیرباد کہہ کر پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔

    مجھے لگ رہا ہے آپ الیکشن میں تاخیر چاہتے ہیں،چیف جسٹس کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    منگنی شدہ اداکارائیں میرے ساتھ کام کرنے سے منع کر دیتی تھیں،آغا علی

    بلا بحالی کیس:سپریم کورٹ کا10 جنوری کو مقرر کرنے کا حکم

  • اسٹاک ایکسچینج میں مثبت آغاز،ڈالر کی قیمت میں بھی کمی کا سلسلہ جاری

    اسٹاک ایکسچینج میں مثبت آغاز،ڈالر کی قیمت میں بھی کمی کا سلسلہ جاری

    کراچی: امریکی ڈالر کی قیمت میں کمی کا سلسلہ جاری ہے-

    باغی ٹی وی: کاروباری ہفتے کے پہلے روز کاروبار کے آغاز پر انٹربینک میں امریکی کرنسی کی قدر میں 39 پیسے کمی ہوئی ہے، جس کے بعد انٹربینک میں ڈالر 281 روپے پر ٹریڈ کر رہا ہے،جبکہ گزشتہ کاروباری ہفتے کے آخری روز انٹربینک میں ڈالر 281 روپے 40 پیسے پر بند ہوا تھا۔

    دوسری جانب کاروباری ہفتے کے پہلے روز مثبت آغاز کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 65 ہزار کی حد بحال ہوگئی، اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا آغاز 100 انڈیکس میں 315 پوائنٹس اضافے کے ساتھ ہوا، اور انڈیکس 64 ہزار 800 ہوگیا اس کے بعد دوران کاروبار 100انڈیکس میں 515 پوائنٹس اضافہ ہوا اور کاروبار کے دوران 65 ہزار کی حد بحال ہوگئی۔

    گزشتہ کاروباری ہفتے کے آخری روز جمعہ کو اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری دن میں 100 انڈیکس 1319 پوائنٹس کے بینڈ میں رہا تھا، تاہم کاروبار کے اختتام پر ہنڈریڈ انڈیکس 124 پوائنٹس کم ہوکر 64514 پر بند ہوا تھا جمعہ کو 100 انڈیکس کی کم ترین سطح 63757 رہی۔

  • مجھے لگ رہا ہے آپ الیکشن میں تاخیر چاہتے ہیں،چیف جسٹس کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    مجھے لگ رہا ہے آپ الیکشن میں تاخیر چاہتے ہیں،چیف جسٹس کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    اسلام آباد: عام انتخابات میں لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنے پر پی ٹی آئی کی توہین عدالت درخواست پر سماعت جاری ہے-

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کیس کی سماعت کررہا ہے جس میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بھی شامل ہیں،دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تفصیلی رپورٹ جمع کرواٸی ہے، اس رپورٹ میں کوئی خامیاں ہیں تو عدالت کو بتائیں۔

    چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے الیکشن کمیشن کی رپورٹ پڑھی ہے؟لطیف کھوسہ نے کہا کہ رپورٹ میں الیکشن کمشنر پنجاب کے تحفظات کا کوئی ذکر نہیں ہےرپورٹ میں الیکشن کمشنر پنجاب کے تحفظات کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

    جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کھوسہ صاحب آپ یہاں کھڑے ہو کر الیکشن کمیشن کی رپورٹ کو مسترد نہیں کرسکتے، لطیف کھوسہ نے چیف جسٹس کو کہا کہ میں آپ کی توجہ آپ کے ہی آرڈر کی طرف دلانا چاہتا ہوں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں اپنے آرڈر کا پتا ہے آپ کیوں توجہ دلا رہے ہیں؟

    جسٹس محمد علی مظہر نے وکیل پی ٹی آئی کو کہا کہ رپورٹ کے مطابق آپ کے 1195 لوگوں نے کاغذات جمع کروائے، ہمارے سامنے چیف سیکرٹری اور الیکشن کمیشن کی رپورٹس ہیں۔

    چیف جسٹس نے لطیف کھوسہ کو کہا کہ آپ ان رپورٹس کو جھٹلا رہے ہیں تو جواب میں تحریری طور پر کچھ لانا ہوگا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کسی فرنٹ لائن امیدوار کے کاغذات نامزدگی منظور نہیں ہوئے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ اپنے جواب میں خود کہہ رہے ہیں کہ ٹربیونلز نے آپ کو ریلیف دیا، چیف جسٹس نے کہا کہ پی ٹی آئی کیا یہ چاہتی ہے کہ 100 فیصد کاغذات نامزدگی منظور ہوجائیں؟ جو چاہتے ہیں وہ بتا دیں یہ قانون کی عدالت ہے زبانی تقریر سے نہیں چل سکتی۔

    چیف جسٹس نے پی ٹی آئی وکیل لطیف کھوسہ سے مکالمے میں کہا کہ مجھے لگ رہا ہے آپ انتخابات کا التوا چاہتے ہیں، ہم ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ انتخابات ہوں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کیا حکم چاہتے ہیں؟ عدالت کو بتائیں تا کہ کر دیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمیں لیول پلیئنگ فیلڈ دی جائے،چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کے سامنے دکھڑے نا روئیں، اگر آپ کو پاکستان کے کسی ادارے پر اعتبار نہیں تو کیا کریں؟یہ کوئی سیاسی فورم نہیں ہے کھوسہ صاحب،اور بہت سے سیاسی فورم ہیں انہیں استعمال کریں-

    جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے کی شرح 76.18 فیصد ہے، آپ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ٹربیونل نے آپ کے امیدواروں کی اپیلیں بھی منظور کی ہیں، رپورٹ کے مطابق تو زیادہ تر کاغذات نامزدگی منظور ہی ہوئے ہیں۔

    چیف جسٹس نے اس پر لطیف کھوسہ کو کہا کہ پھر آپ چاہتے کیا ہیں؟ پھر کہہ دیں کہ آپ کے سو فیصد کاغذات نامزدگی منظور ہونے چاہیے، یہ کورٹ آف لا ہے،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن پنجاب کا خط دیکھیں۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے لطیف کھوسہ کو کہا کہ پی ٹی آئی کا اپنا الیکشن سیل ہے تو آپ کے پاس امیدواروں کے اعداد وشمارکیوں نہیں؟
    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کیا حکم چاہتے ہیں؟ عدالت کو بتائیں تاکہ کردیں، جس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمیں لیول پلیئنگ فیلڈ دی جائے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کے سامنے دکھڑے نہ سنائیں، اگر آپ کو پاکستان کے کسی ادارے پر اعتبار نہیں تو کیا کریں؟ یہ کوئی سیاسی فورم نہیں ہے کھوسہ صاحب، اور بہت سے سیاسی فورم ہیں انہیں استعمال کریں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمیں ابھی تک جلسہ کرنے کی اجازت نہیں مل رہی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ اب آپ اور طرف چلے گئے ہیں، آپ نے جس آرڈر کے خلاف درخواست دائر کی ہے اس پر رپورٹ آگئی ہے، ہم خود آج سارا کچھ لائیو دکھا رہے ہیں، رپورٹ اتنی موٹی آگئی ہے اس میں دکھائیں کیا غلط ہے، چیف جسٹس نے لطیف کھوسہ سے مکالمے میں کہا کہ لفاظی نہ کریں حقائق بتائیں۔

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ یا تو آپ کہہ دیں کہ ہم الیکشن کمیشن کے سارے اختیارات اپنے پاس رکھ لیں ؟ یا پھر آئینی ادارے کو ختم کر دیں؟عدالت آپکے صرف اصل تحفظات سنے گی، آپ نے کیا منشی منشی لگا رکھی ہے؟ چسپریم کورٹ میں منشی کا کوئی رول نہیں، سپریم کورٹ میں ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ہوتا ہے، یہ منشی لوگ جو چیمبر میں گھس رہے ہیں بالکل غلط کام ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمیں ابھی تک جلسہ کرنے کی اجازت نہیں مل رہی ہے-

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی کے کاغذات بھی مسترد ہوئے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم آر اوز کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ کسی کے کاغذات مسترد نہ کریں، کوئی جینوئن چیزبتا دیں جسے ہم دیکھ لیتے ہیں، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ دفعہ 144 لگا کر ہمارے خلاف کارروائی ہورہی ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ہم حکومت نہیں سپریم کورٹ ہیں، دفعہ 144 اور ایم پی او سب کیلئے ہوگا صرف پی ٹی آئی کیلئے نہیں، ہمارے سامنے نہ دفعہ 144 نہ ہی ایم پی او کو چیلنج کیا گیا ہے،مجھے لگ رہا ہے آپ الیکشن میں تاخیر چاہتے ہیں‘، اور ان سے استفسار کیا کہ کیا پی ٹی آئی کو الیکشن چاہئیں؟

    جس پر لطیف کھوسہ نے جواب دیا، ’100 فیصد الیکشن چاہیں‘، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ہاں یا نہ میں بتائیں، الیکشن کمیشن کا کام انتخابات کروانا ہے، یہ آپ کے بنائے ہوئے ادارے ہی ہیں، پارلیمان نے ہی بنائیں ہیں یہ ادارے، ان اداروں کی قدر کریں، اگر ان کی جانب سے بیان کیے گئے حقائق غلط ہیں توتردید کریں۔

    لطیف کھوسہ نے کہا کہ تحریک انصاف کے علاوہ کسی اور جماعت کے رہنما پر ایم پی او نہیں لگا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے مطابق پیپلز پارٹی، ن لیگ سمیت سب جماعتیں آپ کے خلاف سازش کر رہی ہیں؟

    لطیف کھوسہ نے کہا کہ پی ڈی ایم کی پوری حکومت ہمارے خلاف تھی، چیف جسٹس نے کہا کہ اب تو پی ڈی ایم کی حکومت ہی نہیں ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہماری بلے کے نشان کی واپسی کیلئے درخواست مقرر ہی نہیں ہوئی۔

    چیف جسٹس نے سوال کیا کہ الیکشن کمیشن کا ایم پی او سے کیا تعلق ہے؟ الیکشن کمیشن مقدمات بھگتے یا انتخابات کرائے؟، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر جو کہ ڈی سی ہیں وہی ایم پی او جاری کر رہے ہیں، روزانہ ہمارے خلاف آرڈرز ہورہے ہیں، کیا ہم انتخابات نہ لڑیں صرف مقدمے بھگتیں؟جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ عدالت سے سوالات نہ کریں، اس کے بعد چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کی بلے کے نشان والی درخواست کل سماعت کیلئے مقرر کرنے کی یقین دہانی کرادی۔

    لطیف کھوسہ نے عدالت سے سوال کیا کہ روزانہ ہمارے خلاف آرڈرز ہو رہے ہیں کیا ہم انتخابات نا لڑیں صرف مقدمے بھگتیں؟ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ عدالت سے سوالات نا کریں-

    سپریم کورٹ نے بلے کے نشان کیس میں حامد خان کو بلا لیا،دوران سماعت شعیب شاہین نے کہا کہ استدعا ہے کہ آج ہی کیس سماعت کے لیے مقرر کر کے سنا جائے،کل پشاور ہائیکورٹ میں سماعت ہے بلے کے نشان سے متعلق، آج کسی بھی وقت کیس کو سماعت کر کے سن لیں-

    چیف جسٹس پاکستان نے پوچھا کہ حامد خان کہاں ہیں؟ بلائیں ان کو، اگر آپ اٹھ کر کمرہ عدالت آنے کی زحمت نہیں کریں گے تو ہم کیا کریں؟ سب سے زیادہ درخواستیں پی ٹی آئی کی آ رہی ہیں اور سنی بھی جا رہی ہیں، کیس بھی لگوانا ہے اور اٹھ کر عدالت بھی نہیں آنا-

    وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ میرے منشی سے سپریم کورٹ میں دستاویزات چھینی گئیں،اس واقعہ کا آپکو بھی علم ہے،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے اس واقعہ کا کوئی علم نہیں ہے،یہ منشی کیا ہوتا ہے وکیل یا ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ہوتا ہے،منشی کو تو چیمبرز جانے کی اجازت ہی نہیں ہے،آپ کے کسی منشی کی درخواست میں نہیں سنوں گا-

    جسٹس مسرت ہلالی نے پوچھا کہ جسٹس سردار طارق مسعود کے سامنے بھی منشی والا معاملہ اٹھایا تھا،لطیف کھوسہ یہ کاغذ چھیننے کا کیا معاملہ ہے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ جو ججز یہاں موجود نہیں ان کے بارے میں کوئی بات نہیں سنیں گے،انتخابات کروانا الیکشن کمیشن کا کام ہے ہمارا نہیں ، کسی سے کاغذات چھینے جارہے جو بھی ہورہا وہ الیکشن کمیشن نے دیکھنا ہے ہم نے واضح کیا تھا کہ انتحابات کی تاریخ صدر اور الیکشن کمیشن کا کام ہے،الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار سے متعلق معاملات عدالت کیوں سنے،ہمارے سامنے کچھ دائر ہوگا تو ہم اسے دیکھیں گے،اگر ساری دنیا دیکھ رہی اور ہمیں بھی دیکھنا چاہئیے تو یہ بات غلط ہے،کوئی درخواست آئے گی شکایت آئے گی تو ہم سنیں گے-

    وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کو ختم کرنے کا پلان ہے عمران خان پر فرد جرم عائد کر دی گئی، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی باتیں نہ کریں ہمارے سامنے اس وقت عمران خان کی کوئی درخواست نہیں-

    پی ٹی آئی کے وکیل حامد خان کمرہ عدالت پہنچ گئے، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پیر تک ملتوی کر تے ہوئے پی ٹی آئی کو الیکشن کمیشن کی رپورٹ پر جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا-

  • منگنی شدہ اداکارائیں میرے ساتھ کام کرنے سے منع کر دیتی تھیں،آغا علی

    منگنی شدہ اداکارائیں میرے ساتھ کام کرنے سے منع کر دیتی تھیں،آغا علی

    کراچی :اداکار آغا علی نے کا کہنا ہے کہ مجھے لگتا ہے کہ ڈرامے کے کرداروں کی وجہ سے ہمارا ایک امیج بن جاتا ہے، جس سے سب کو لگتا ہے کہ ہم اصل زندگی میں بھی ایسے ہی ہیں

    باغی ٹی وی :نجی ٹی وی کے پروگرام "ہنسنا منع ہے” میں شرکت کے دوران اداکار نے شوبزکی دنیا میں اپنے کیرئیر کے دوران پیش آنے والے دلچسپ واقعات کے بارے گفتگو کی ہے-

    آغا علی نے ایک دلچسپ انکشاف کیا کہ’2016 اور 2017 کے دور کی بات ہے، میں جب بھی کوئی ڈرامہ سائن کرتا تھا اور شوٹنگ میں کچھ دن رہتے تھے تو مجھے ڈرامے کے پروڈیوسر کال کرکے ڈرامے کی ہیروئن سے کسی مسئلے سے متعلق پوچھتے تھےمیں ان سے کہتا تھا کہ میں تو ان ہیروئن سے ملا بھی نہیں ہوں، پھر وہ مجھ سے اس ہیروئن کے منگیتر کے ساتھ جھگڑوں کے متعلق پوچھتے تھے تو میں تب بھی یہی کہتا تھا کہ میں نہیں جانتا ان کے منگیتر کون ہیں-

    آغا علی نے بتایا کہ پروڈیوسر نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ منگیتر ان اداکاراؤں کو اجازت ہی نہیں دے رہے کہ وہ آپ کے ساتھ کام کریں جب میں نے وجہ دریافت کی تو انہوں نے کہا کہ وہ ڈررہے ہیں،جس کے بعد میں نے کوئی دو ہیروئنز کے منگیتروں سے بات کی اور ڈرنے کی وجہ پوچھی تو کسی نے وجہ نہیں بتائی۔

    اداکارنے اس حوالے سے واضح کرتے ہوئے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ ڈرامے کے کرداروں کی وجہ سے ہمارا ایک امیج بن جاتا ہے، جس سے سب کو لگتا ہے کہ ہم اصل زندگی میں بھی ایسے ہی ہیں۔

    واضح رہے کہ 2020 میں پاکستانی اداکارہ حنا الطاف سے رشتہ ازدواج میں بندھنے کے بعد ہی سے یہ جوڑا سوشل میڈیا کا موضوع رہا ہے۔ حال ہی میں ان کی علیحدگی کی خبریں سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی تھی تاہم اس جوڑے نے اس سے متعلق کوئی وضاحت نہیں دی۔

  • بلا بحالی  کیس:سپریم کورٹ کا10 جنوری کو مقرر کرنے کا حکم

    بلا بحالی کیس:سپریم کورٹ کا10 جنوری کو مقرر کرنے کا حکم

    اسلام آباد: پی ٹی آئی کے انتخابی نشان بلے کے واپسی کا معاملہ، سپریم کورٹ کا بلے کے نشان کے کیس کو 10 جنوری کو مقرر کرنے کا حکم دے دیا-

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی جس میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بھی شامل ہیں،دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پی ٹی آئی کے وکیل حامد خان روسٹرم پر بلایا اور حامد خان سے استفسار کیا کہ کیا آپ کی درخواست کل مقرر کر دیں؟ –

    وکیل حامد خان نے استدعا کی کہ آج ہی سماعت کے لیے مقرر کر دیں،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آج نو ممبر بنچ بھی ہے اور ایک خصوصی بنچ بھی ہے، حامد خان نے کہا کہ ہماری ترجیح آج ہے نہیں تو پھر پرسوں لگا دیں ، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ فیصلے کے خلاف آئے یا 184 تھری کی درخواست ہے؟ حامد خان نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ کے حکم کے خلاف 185 تھری میں سپریم کورٹ آئے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ بس پھر معاملہ ججز کمیٹی کے پاس نہیں جانا تو پرسوں کیس مقرر ہو گیا-

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی وکلا نے سپریم کورٹ رجسٹرار سے بلے کے نشان کی بحالی کے لیے آج ہی درخواست سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا کی تھی پی ٹی آئی نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے،ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی وکلا نے بلے کے نشان کی بحالی کے لیے دائر درخواست کے حوالے سے سپریم کورٹ رجسٹرار سے ملاقات کی ہے جس میں آج ہی درخواست سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا کی ہے،سپریم کورٹ رجسٹرار آفس درخواست کو پہلے ہی C.P7/2024 نمبر لگا چکا ہے،پی ٹی آئی وکلا میں بیرسٹر گوہر اورحامد خان شامل ہیں، جنہوں نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو کہا کہ یہ اہم نوعیت کا مقدمہ ہے، اس فوری طور پر سماعت کی جائے۔

    پاک اور سعودیہ نے حج 2024 کے معاہدے پر دستخط کر دئیے

    امریکی وزیر خارجہ کا مشرق وسطیٰ کادورہ، اردن کے بعد قطر پہنچ گئے

    حزب اللہ اسرائیلی فوجیوں پر میزائل حملہ،ایک ٹینک تباہ،متعدد ہلاکتیں

  • باجوڑ : پولیس ٹرک کے قریب دھماکہ،5 اہلکار شہید،10 زخمی

    باجوڑ : پولیس ٹرک کے قریب دھماکہ،5 اہلکار شہید،10 زخمی

    پشاور: باجوڑ کی تحصیل ماموند میں پولیس ٹرک کے قریب دھماکے سے 5 اہلکار شہید اور 10 افراد زخمی ہو گئے۔

    باغی ٹی وی: پولیس کے مطابق دھماکہ تحصیل ماموند کے علاقے بیلوٹ فرش پولیس گاڑی کے پاس ہوا جس کے نتیجے میں 5 اہلکار شہید اور 10 افراد زخمی ہو گئے، جاں بحق اہلکاروں میں حبیب الرحیم، مناسب خان، محمد رؤف، خان محمد اور علی رحمان شامل ہیں۔

    پولیس اہلکار انسداد پولیو مہم ٹیم کی سکیورٹی کیلئے جا رہے تھے کہ ان کی گاڑی دھماکے کی زد میں آ گئی دھماکے کے زخمیوں کو خار اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور علاقے کا محاصرہ کر کے دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کی تلاش کے لیے آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

    پاک اور سعودیہ نے حج 2024 کے معاہدے پر دستخط کر دئیے

    واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں رواں سال کی پہلا انسدادِ پولیو مہم آج سے شروع ہوچکی ہےپولیو حکام کا کہنا ہے کہ خیبر اور پشاور میں انسدادِ پولیو مہم 7 اور باقی اضلاع میں 5 روز ہوگی، اس دوران 74 لاکھ بچوں کا ہدف مقرر کیا گیا ہے لکی مروت اور جنوبی وزیرستان کے علاوہ صوبے کے تمام اضلاع میں پولیو مہم چلائی جائیں گی، مہم کے لیے 31 ہزار 505 پولیو کی تربیت یافتہ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جن کی حفاظت کیلئے 50 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

    امریکی وزیر خارجہ کا مشرق وسطیٰ کادورہ، اردن کے بعد قطر پہنچ گئے

  • ملک بھر میں سردی کی لہر برقرار ،بلوچستان میں برفباری کا امکان

    ملک بھر میں سردی کی لہر برقرار ،بلوچستان میں برفباری کا امکان

    کراچی: محکمہ موسمیات کے مطابق افغانستان سے مغربی سسٹم آج ملک میں داخل ہو گا جس کے باعث شمالی بلوچستان میں بارش اور برفباری کا امکان ہے۔

    باغی ٹی وی: محکمہ موسمیات کے مطابق شدید سردی کی لپیٹ میں آنے والے علاقوں میں درجہ حرارت مزید گرنے کا امکان ہے جبکہ سائبیرین ہواؤں کی رفتار میں اضافے کے باعث آج سے کراچی میں بھی سردی کی شدت بڑھ سکتی ہے۔

    دوسری جانب سندھ ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے میدانی علاقوں میں آج بھی شدید دھند کا راج رہے گا۔ شدید دھند کے باعث ملک کے مختلف ائیر پورٹس پر 22 ملکی و غیرملکی پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں اور متعدد تاخیر کا شکار ہیں، دھند سے حد نگاہ متاثر ہونے پر مختلف مقامات سے موٹر ویز کو بھی ٹریفک کیلئے بند کر دیا گیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کا حماس کا فوجی نیٹ ورک مکمل تباہ کرنے کا دعویٰ

    امریکی وزیر خارجہ کا مشرق وسطیٰ کادورہ، اردن کے بعد قطر پہنچ گئے

    پاک اور سعودیہ نے حج 2024 کے معاہدے پر دستخط کر دئیے

  • امریکی وزیر خارجہ کا مشرق وسطیٰ کادورہ، اردن کے بعد قطر پہنچ گئے

    امریکی وزیر خارجہ کا مشرق وسطیٰ کادورہ، اردن کے بعد قطر پہنچ گئے

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن دورہ مشرق وسطیٰ میں اردن کے بعد قطر پہنچ گئے۔

    باغی ٹی وی: امریکی وزیر خارجہ نے قطری امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات کی، ملاقات میں خطے کی حالیہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اس سے قبل انٹونی بلنکن نے اردن میں شاہ عبداللہ سے ملاقات کی تھی، ملاقات میں شاہ عبداللہ نے انہیں غزہ میں جنگ جاری رہنے کے ‘تباہ کن نتائج’ سے خبردار کیا اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔
    https://x.com/SecBlinken/status/1743979043547148600?s=20
    بلنکن نے دریں اثنا استنبول میں ترک صدر اردوان اور ترک ہم منصب سے بھی ملاقات کرکے علاقائی صورتِ حال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

    امریکی وزیر خارجہ کی اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم سے ملاقات

    دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں اتوار کا دن امریکہ اور یورپی یونین کی ان کوششوں کے حوالے سے اہم رہا ہے کہ تین ماہ سے متجاوز ہو چکی غزہ کی جنگ بس غزہ میں ہی رہے، غزہ سے باہر نکل کر پورے علاقے میں نہ پھیل جائے۔

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل دوالگ الگ جگہوں پر الگ الگ دوروں پر مشرق وسطٰ ٰ میں اتوار کے روز مصروف رہے مگر دونوں کےعزائم اور مقاصد میں کافی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے دونوں چاہتے ہیں کہ جنگ کا دائرہ لبنان تک نہ پھیلنے پائے حتیٰ کےہمغربی کنارے اور بحیرہ احمر میں بھی نہ جانے پائے لیکن غزہ میں فوری جنگ بندی دونوں کی اولیں ترجیح نہیں ہے۔

    اسرائیلی فوج کا حماس کا فوجی نیٹ ورک مکمل تباہ کرنے کا دعویٰ

    انٹونی بلنکن کا حالیہ تین ماہ کے دوران اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کے بعض ملکوں کا چوتھا دورہ ہو گا انہوں نے تین ماہ کے دوران عملاً اسرائیل کے لیے ہی سفارت کاری کی ہے۔