Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • پی ایس ایل11 کوالیفائر میچ : کراچی میں ٹریفک پلان جاری

    پی ایس ایل11 کوالیفائر میچ : کراچی میں ٹریفک پلان جاری

    پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سیزن 11 میں آج نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں پشاور زلمی اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے درمیان ہونے والے مقابلے کے لیے خصوصی ٹریفک پلان جاری کر دیا گیا ہے۔

    کراچی ٹریفک پولیس کے مطابق سر شاہ سلیمان روڈ کے دونوں اطراف کے روڈ ٹریفک کے لیے کھلے رہیں گے جبکہ میچ دیکھنے آنے والے شائقین کے لیے مختلف مقامات پر پارکنگ کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں، کارساز سے آنے والے شائقین حبیب ابراہیم رحمت اللہ روڈ ، اسٹیڈیم فلائی اوور کے نیچے سے ہوتے ہوئے سر شاہ سلیمان روڈ پر نیشنل کوچنگ سینٹر اور چائنا گراؤنڈ میں اپنی گاڑیاں پارک کر سکیں گے۔

    ملینیئم سے آنے والے اسٹیڈیم روڈ ، پیر صبغت اللہ شاہ راشدی روڈ سے ہوتے ہوئے اسٹیڈیم فلائی اوور کے نیچے سے دائیں جانب سر شاہ سلیمان روڈ پر نیشنل کوچنگ سینٹر اور چائنا گراؤنڈ پر اپنی گاڑی پارک کرسکیں گے،جبکہ نیو ٹاؤن کی جانب سے آنے والے شائقین اسٹیڈیم روڈ سے ہوتے ہوئے آغا خان اسپتال کے بعد بائیں جانب مڑ کر نیشنل کوچنگ سینٹر اور چائنا گراؤنڈ میں گاڑی پارک کریں گے،اسی طرح سہراب گوٹھ سے نیپا، لیاقت آباد 10 نمبر سے حسن اسکوائر، پی پی چورنگی سے جانب یونیورسٹی روڈ، کارساز سے اسٹیڈیم ، ملینیم مال سے نیو ٹاؤن، اسٹیڈیم سگنل تا حسن اسکوائر تک ہر قسم کی ہیوی ٹریفک کے لیے داخلہ ممنوع ہوگا۔

    کراچی ٹریفک پولیس کی جانب سے شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی زحمت سے بچنے کے لیے ٹریفک پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں-

    واضح رہے کہ وزیراعظم نے پی ایس ایل کے پلے آف مرحلے میں بھی شائقین کرکٹ اسٹیڈیم کو جانے کی اجازت دیدی ہے،تاہم وزیراعظم کی جانب سے یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ شائقین میچز میں شرکت کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں یا ایندھن کے کم سے کم استعمال کو یقینی بنائیں، تاکہ قومی کفایت شعاری مہم کے اہداف کو مدنظر رکھا جا سکے۔

  • آسیان ممالک کا وفد لاہور اور پنجاب کی ثقافت سے متاثر

    آسیان ممالک کا وفد لاہور اور پنجاب کی ثقافت سے متاثر

    عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ پنجاب کا کلچر اور روایات نہایت خوبصورت ہیں اور حکومت ان کے تحفظ اور ترویج کے لیے سرگرم عمل ہے-

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری سے آسیان ممالک کے وفد کی ملاقات ہوئی، جس میں خطے کے درمیان ثقافتی اور ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ،ملاقات میں پنجاب اور آسیان ممالک کے درمیان کلچر کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر بھی بات چیت کی گئی –

    عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں صوبے کی ثقافت اور تہذیب کو دوبارہ فروغ دینے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جا رہے ہیں، پنجاب کا کلچر اور روایات نہایت خوبصورت ہیں اور حکومت ان کے تحفظ اور ترویج کے لیے سرگرم عمل ہے مریم نواز کی قیادت میں پنجاب تمام شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھا رہا ہے۔

    وزارت اطلاعات و ثقافت پنجاب کی جانب سے آسیان وفد کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام بھی کیا گیا، جہاں عظمیٰ بخاری اور سیکرٹری اطلاعات پنجاب طاہر رضا ہمدانی نے وفد کا گرمجوشی سے استقبال کیاانڈونیشیا کے سفیر چاندرا وارسی نے آسیان وفد کی قیادت کی اس موقع پر وفد کو واہگہ بارڈر اور شالیمار باغ کا دورہ بھی کروایا گیا تاکہ وہ پنجاب کے تاریخی اور ثقافتی ورثے سے آگاہ ہو سکیں۔

    انڈونیشیا کے سفیر چاندرا وارسی نے پنجاب حکومت کی مہمان نوازی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ پنجاب اور لاہور کی ثقافت سے بہت متاثر ہوئے ہیں ان کا کہنا تھا کہ لاہور کے لوگ نہایت مہمان نواز اور عزت دینے والے ہیں،عظمیٰ بخاری نے آسیان وفد کے شرکاء کو شیلڈز بھی پیش کیں جبکہ وفد نے پنجاب حکومت کی عمدہ مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔

  • سیاحت  ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرے گی،مریم اورنگزیب

    سیاحت ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرے گی،مریم اورنگزیب

    پنجاب کی سینیئر وزیر نے کہا ہے کہ اب سیاحت صرف ایک سافٹ سیکٹر نہیں رہی بلکہ آنے والے چند سالوں میں ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرے گی۔

    پنجاب کی سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سیاحت کے حوالے سے خودکفیل ہو نے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے پنجاب میں سیاحت اور ورثے کی بحالی پر 28 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں جبکہ ایکو ٹورزم اور وائلڈ لائف ٹورزم کے فروغ پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، مجموعی طور پر 78 ارب روپے کے وسائل خرچ کیے جا رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ‘میگنیفیسنٹ پنجاب’ ایپ میں پورے صوبے کے سیاحتی مقامات کے بارے میں جامع معلومات فراہم کی گئی ہیں،اب سیاحت صر ف ایک سافٹ سیکٹر نہیں رہی بلکہ آنے والے چند سالوں میں ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرے گی،سیاحتی مقامات کو پہلی مرتبہ وزیر اعلیٰ مریم نواز شر یف کے وژن کے تحت ‘میگنیفیسنٹ پنجاب’ منصوبے کے ذریعے بحال کیا گیا ہے،گزشتہ 8 ماہ کے دوران لاہور سیاحتی سرگرمیوں کے حوالے سے خطے میں نمایاں مرکز بن کر ابھرا ہے۔

    انہوں نے اپنی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بہت جلد مزید سیاحتی مقامات کو عوام کے لیے کھول دیا جائے گا،طلبہ چھانگا مانگا سمیت مختلف جنگلات اور تفریحی مقامات کا دورہ کر سکیں گے، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ہوٹلنگ اور ٹورازم سیکٹر میں بھی سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں پہلی مرتبہ پنجاب ٹورزم اتھارٹی کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے،یہ تمام اقدامات وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کے وژن کا حصہ ہیں جس کا مقصد پنجاب میں سیاحت کو عالمی معیار کے مطابق فروغ دینا ہے۔

  • پاکستانی ہندو خاندان کو بھارت میں  مشکلات اور امتیازی سلوک کا سامنا

    پاکستانی ہندو خاندان کو بھارت میں مشکلات اور امتیازی سلوک کا سامنا

    بہتر مستقبل کی تلاش میں 2 سال قبل بھارت جانے والا 24 رکنی پاکستانی ہندو خاندان پیر کے روز واہگہ بارڈر کے راستے واپس پاکستان پہنچ گیا-

    سندھ سے ایک 24 رکنی پاکستانی ہندو خاندان دو سال بھارت میں رہنے کے بعد واہگہ کے راستے پاکستان واپس آگیا، خاندان نے کہا کہ احمد آباد میں قیام کے دوران اسے مشکلات، امتیازی سلوک اور بنیادی خدمات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا خاندان کا تعلق سندھ کے ضلع سانگھڑ سے ہے اور وہ بھارت کے شہر احمد آباد میں مقیم تھا –

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خاندان کے سربراہ رانو نے بتایا کہ وہ اپنی اہلیہ، 2 شادی شدہ بیٹوں اور ان کے اہلِخانہ سمیت بہتر طرزِ زندگی کی امید میں بھارت گئے تھے پاکستانی شناخت کے باعث انہیں روزمرہ زندگی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ان کے بقول بچوں کو اسکولوں میں داخل کرانے، راشن کے حصول اور سرکاری ڈسپنسریوں سے ادویات لینے میں بھی رکاوٹیں پیش آئیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سال پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے بعد بھارت میں مقیم پاکستانی شہریوں کو شک کی نظر سے دیکھا جانے لگا، حتیٰ کہ بعض افراد پر جاسوسی کے الزامات بھی لگائے گئے وطن واپسی پر خاندان کے افراد نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ملک واپس آ کر سکون محسوس کر رہے ہیں، خاندان کے زیادہ تر افراد بچے ہیں جبکہ ان کی حالتِ زار مالی مشکلات کی عکاسی کر رہی تھی۔

  • عامر خان نے تھری اڈیٹس کے سیکوئل کی تصدیق کر دی

    عامر خان نے تھری اڈیٹس کے سیکوئل کی تصدیق کر دی

    بالی ووڈ سُپراسٹار عامر خان نےمشہور فلم ’تھری اڈیٹس‘ کے سیکوئل کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے-

    عامر خان کی بلاک بسٹر فلم ’تھری ایڈیٹس‘ سیکوئل کے حوالے سے خبریں گردش کر رہی تھیں تاہم اداکار نے خود اس منصوبے کی تصدیق کر دی ہےانہوں نےبتایا کہ کہانی میں اصل کرداروں کی زندگی کو ایک دہائی بعد دکھایاجائےگا اور یہ دیکھا جائے گا کہ وقت کےساتھ انکےحالات میں کیا تبدیلی آئی ہے۔

    عامر خان نے کہا کہ انہوں نے فلم کی کہانی سنی ہے اور یہ انہیں بہت پسند آئی ہے اگرچہ اسکرپٹ پر ابھی مزید کام ہونا باقی ہے، لیکن کہانی نہایت منفرد ہے اور پہلی فلم کی طرح اس میں بھی مزاح موجود ہوگا فلم کی کہانی وہیں سے شروع ہوگی جہاں پہلا حصہ ختم ہوا تھا، لیکن اس میں 10 سال کا ٹائم جمپ دکھایا جائے گا رنچھو (پھنسکھ وانگڈو)، فرحان اور راجو کی تکون ایک بار پھر اسکرین پر جلوہ گر ہوگی، وہ دوبارہ اپنے کردار پھنسکھ وانگدو کو نبھانے کے لیے بہت پرجوش ہیں. یہ کہانی راجکمار ہیرانی اور ابھیجیت جوشی نے مشترکہ طور پر تخلیق کی ہے۔

    واضح رہے کہ، 2009 میں ریلیز ہونے والی ’تھری ایڈیٹس‘ آج بھی بھارتی سنیما کی سب سے مقبول اور اثر انگیز فلموں میں شمار کی جاتی ہے راجکمار ہیرانی کی ہدایت کاری میں بننے والی یہ فلم تعلیم کے نظام، دوستی، اور اپنے شوق کے مطابق زندگی گزارنے جیسے موضوعات پر مبنی تھی۔

  • ایران نے چین کو خام تیل بھیجنے کیلئے ایک نیا  راستہ تلاش کر لیاہے،امریکی میڈیا

    ایران نے چین کو خام تیل بھیجنے کیلئے ایک نیا راستہ تلاش کر لیاہے،امریکی میڈیا

    امریکی جریدے نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اب ٹرینوں کے ذریعے خام تیل چین بھیجنے کی کوششیں کر رہا ہے-

    امریکی جریدے ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ کے مطابق، سمندری راستوں پر امریکی پہرے کے باعث ایران اب ٹرینوں کے ذریعے خام تیل چین بھیجنے کی کوششیں کر رہا ہے، یہ قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب ایران میں تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش تقریباً ختم ہو چکی ہے اور صورتحال اس حد تک سنگین ہو گئی ہے کہ تہران اب کچرے کے ڈھیروں اور پرانے ناکارہ ٹینکوں میں تیل رکھنے پر مجبور ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپریل کے وسط میں آبنائے ہرمز کی سخت بحری ناکہ بندی کا آغاز کیا تھا جس کا مقصد ایرانی معیشت کو اس ’شٹ ان‘ پوائنٹ تک پہنچانا ہے جہاں اس کے پاس تیل رکھنے کی جگہ باقی نہ رہے اور اسے پیداوار بند کرنی پڑےصدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی تیل کی صنعت کے پاس صرف تین دن باقی ہیں، جس کے بعد یہ نظام بیٹھ جائے گا اور اسے دوبارہ بحال کرنا ناممکن ہوگا-

    تاہم، توانائی کے ماہرین صدر ٹرمپ کے اس مختصر وقت سے اتفاق نہیں کرتے،توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس ابھی تقریباً ایک ماہ کی گنجائش باقی ہے، ایران مزید دو ماہ تک یہ دباؤ برداشت کر سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ ایران کا تقریباً 90 فیصد تیل ’خارگ آئی لینڈ‘ سے برآمد ہوتا ہے جہاں 20 سے 30 ملین بیرل تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے، لیکن موجودہ حالات میں یہ گنجائش چند ہفتوں میں بھر سکتی ہے۔

  • پاکستان کیلیے 1.2 ارب ڈالر کی قسط منظور ہونے کا امکان

    پاکستان کیلیے 1.2 ارب ڈالر کی قسط منظور ہونے کا امکان

    پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری کے لیے اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

    آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اہم اجلاس طلب کر لیا گیا جس میں پاکستان کے لیے قرض کی اگلی قسط کی منظوری کا امکان ہے،اجلاس میں پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری متوقع ہے پاکستان آئی ایم ایف کی تمام شرائط پہلے ہی پوری کر چکا ہےاجلاس میں پاکستان کے لیے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے تحت تیسرے اقتصادی جائزے کی منظوری اور موسمیاتی تبدیلی کے آر ایس ایف پروگرام کے دوسرے جائزے کی بھی منظوری متوقع ہے، پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ 27 مارچ کو طے پایا تھا۔

    وزارت خزانہ ذرائع کے مطابق پیٹرولیم لیوی 1468 ارب روپے کے ہدف سے زیادہ وصول ہونے کا امکان ہے جبکہ حکومت لیوی مزید بڑھانے پر غور کر رہی ہے،آئی ایم ایف نے حکومت پر سبسڈی ختم کرنے پر زور دیا ہے جبکہ حکومت نے معیشت میں بہتری اور مہنگائی میں کمی کا دعویٰ کیا ہے جبکہ مشرق وسطیٰ کشیدگی کی وجہ سے معاشی خطرات برقرار ہیں، حکومت نے آئی ایم ایف کو مالی نظم و ضبط جاری رکھنے کی یقین دہانی کروائی ہے-

  • معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں،وفاقی وزیر خزانہ

    معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں،وفاقی وزیر خزانہ

    وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ یورو بانڈز کی ادائیگی مکمل کر دی گئی ہے جبکہ ایک اور پارٹنر کو بھی اسی مہینے ادائیگی کی گئی ہے۔

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں مارچ کے دوران مجموعی ترسیلات 3.8 ارب امریکی ڈالر ریکارڈ کی گئیں، جبکہ معمول کے مطابق ماہانہ ترسیلات کا حجم 3.2 ارب امریکی ڈالر ہے،رمضان اور عید کے باعث ترسیلات میں اضافہ ہوا۔

    انہوں نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے مارچ میں 260 ملین امریکی ڈالر موصول ہوئے، جبکہ اپریل میں مزید اضافہ متوقع ہےروشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں ماہانہ 180 سے 200 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری ہو رہی ہے اور بیرون ملک پاکستانیوں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ سے رقم نکالنے کے لیے اسٹیٹ بینک کی منظوری لازم نہیں ہےرواں مالی سال میں معاشی شرح نمو 4 فیصد تک رہنے کا امکان ہے جبکہ قرضوں پر سود کی ادائیگی مقررہ ہدف سے کم رہے گی یورو بانڈز کی ادائیگی مکمل کر دی گئی ہے جبکہ ایک اور پارٹنر کو بھی اسی مہینے ادائیگی کی گئی ہے۔

    محمد اورنگزیب کے مطابق حکومت نجکاری پروگرام کو آگے بڑھا رہی ہے اور پی آئی اے کی کامیاب نجکاری کی گئی ہےلاہور اور اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپور ٹس کی نجکاری کو ہنگامی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے گا بڑے کاروباری گروپس کنسورشیم کی شکل میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں ڈیبٹ مینجمنٹ آفس کی تنظیم نو کی گئی ہے جبکہ پنشن نظام میں اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں، آئندہ سال سے مسلح افواج کا کنٹری بیوٹری پنشن نظام شروع ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً 4 کروڑ کرپٹو صارفین موجود ہیں اور اس شعبے کے لیے ریگولیٹری فریم ورک متعارف کرا دیا گیا ہے کرپٹو ایکسچینجز کو لائسنس جاری کیے جا رہے ہیں جبکہ ٹوکنائزیشن کا نظام بھی متعارف کرایا جا رہا ہے،جون تک زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جو معیشت کے استحکام کی جانب اہم پیش رفت ہ

  • معروف بیکری کی مٹھائی میں  زندہ چوہا، کسی حاسد کی سازش یا حقیقت؟

    معروف بیکری کی مٹھائی میں زندہ چوہا، کسی حاسد کی سازش یا حقیقت؟

    پاکستان میں معروف بیکری کی مٹھائی سے زندہ چوہا نکل آیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے-

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سوہن حلوے کے ایک پیک شدہ ڈبے کے اندر زندہ چوہا موجود تھا جسے ایک صارف نے کھولنے کے دوران ریکارڈ کیا،ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد صارفین کی جانب سےملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے بڑی تعداد میں لوگوں نے اسے سنگین غفلت قرار دیتے ہوئے متعلقہ بیکری کے خلاف سخت کارروائی اور فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہےدوسری جانب کچھ صارفین نے سوال اٹھایا ہے کہ زندہ چوہا ہی پیک کر دیا یہ نظر کیسے نہیں آیا؟اور اس ویڈٰیو کو برانڈ کے خلاد حاسدانہ سازش قرار دیا-

    ایک صارف کا کہنا تھا کہ میں مانتا ہی نہیں ہوں کہ ایک زندہ چوہا پیک کر کے کیک میں ڈال دیا، اگر چوہا واقعی تھا تو اس کو فوراً سیل کریں ورنہ اس خاتون کو قانون کے شکنجے میں لا کھڑا کریں،ایک اور صارف نے اسے حسدانہ سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اتنی صفائی کے باوجود چوہا کیسے ڈبے میں بند ہوگیا جب کہ یہ ایک برینڈڈ سویٹس شاپ ہے مجھے لگتا ہے کوئی حاسد ہے جو ان کے نام کو خراب کرنا چاہتا ہے چوہا آیا اور ڈبے میں پیک بھی ہوگیا یہ بہت عجیب ہے۔

  • رائٹرزافغان طالبان اور را کی مشترکہ ڈس انفارمیشن مہم  کا آلہ بن چکا ہے

    رائٹرزافغان طالبان اور را کی مشترکہ ڈس انفارمیشن مہم کا آلہ بن چکا ہے

    رائٹرز کبھی کسی نہ کسی طرح معتبر جریدہ تھا لیکن اب یہ انتشار اور غلط معلومات کا آلہ بن چکا ہے پچھلے کچھ دنوں میں اس نے بغیر کسی ثبوت کے جعلی خبروں کی تعداد پوسٹ کی ہے۔

    یہ ایک معمول بن گیا ہے کہ RAW اور افغان طالبان کے میڈیا سیل کی مشترکہ ڈس انفارمیشن مہم کو رائٹرز حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے بڑھاتا ہے۔ چند مثالیں ہیں پاکستانی سی او اے ایس کے بارے میں جعلی خبریں جس میں صدر ٹرمپ کو آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ کیا گیا تھا پاکستان سوڈان کے ساتھ معاہدہ منسوخ کر رہا ہے کابل پر فضائی حملوں میں 400 شہریوں کی ہلاکت پر افغان طالبان کا جھوٹا دعویٰ،وغیرہ-

    تازہ مثال کنڑ پر ایک خیالی فضائی حملہ ہے را اور افغان بیسڈ اکاؤنٹس نے مل کر فضائی حملوں کی مہم شروع کی جو پھر ڈرون حملے کی شکل اختیار کر گئی جس کے بعد توپ خانے سے گولہ باری کی گئی پاکستان کی وزارت اطلاعات کے بیانیہ اور وضاحت میں ابہام کے باوجود، رائٹرز نے ایک غیر نمائندہ افغان حکومت کے بیانیے کو وسعت دینے کا انتخاب کیا جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے اور اقوام متحدہ کے نامزد دہشت گردوں کے نام سے جانا جاتا ہے۔

    رائٹرز کو سمجھنا چاہیے کہ پاکستان نے جب بھی فضائی حملے کیے یا کوئی فوجی کارروائی کی، اس نے ہمیشہ کھلے دل سے اعتراف کیا ہے۔ پاکستان کو اپنی جغرافیائی سرحدوں اور خودمختاری کے تحفظ کے حق سے دریغ کرنے کی ضرورت نہیں۔

    واضح رہے کہ افغان طالبان کی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کنڑ صوبے میں مارٹر اور راکٹ حملوں کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک اور 70 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔

    رائٹرز کے مطابق واقعہ 27 اپریل 2026ء کو کنڑ کے علاقے اسد آباد میں پیش آیا، جس میں رہائشی مکانات اور سید جمال الدین افغانی یونیورسٹی کو نشانہ بنایا گیا
    افغان طالبان کے ترجمان حمد اللہ فطرت کے مطابق، حملے میں 4 شہری جان سے گئے جبکہ 70 زخمی ہوئے، جن میں طلبہ، خواتین اور بچے شامل ہیں۔

    جبکہ پاکستان نے افغان طالبان کے ان الزامات کو "بے بنیاد” اور "من گھڑت” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ سویلین علاقوں کو نشانہ نہیں بناتے اور یہ حملے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کے بارے میں "غلط پروپیگنڈا” ہے۔