اسلام آباد: گمشدہ شناختی کارڈ بنوانے کے لیے اب کسی دستاویزات کی ضرورت نہیں۔
باغی ٹی وی: نادرا حکام کا کہنا ہے کہ شہری نادرا سینٹر جاکر گمشدہ شناختی کارڈ کی جگہ نیا بنواسکتے ہیں،شہری اپنے تحفظ کے پیش نظر پولیس رپورٹ ضرور بنوائیں،شہریو ں کی سہولت یقینی بنانے کے لیے پاک آئی ڈی موبائل ایب دستیاب ہے۔
دوسری جانب حکومت پنجاب کیجانب سے پٹرولنگ پوسٹ، خدمت مراکز کےساتھ ساتھ پولیس سٹیشنز، آن لائن اور ایپ کے ذریعے شہریوں کو لرنگ ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ کرلیاگیا تھانوں کے فرنٹ ڈیسک پر لرنر لائسنس کی سہولت بھی ہوگی،اس ھوالے سے آن لائن لرننگ ڈرائیونگ لائسنس ایپ لانچ کر دی گئی،وزیراعلیٰ پنجاب نے ایپ لانچنگ پر آئی جی اور پی آئی ٹی بی حکام کی کوششوں کی تعریف کی۔
آئی جی پنجاب عثمان انور کے مطابق لرنر و ریگولر ڈرائیو نگ لائسنس، انٹرنیشنل ڈرائیونگ لائسنس اور رینیول آف لائسنس کا حصول انتہائی آسان بناتے ہوئے نئے آن لائن سسٹم ڈاٹ نیٹ متعارف کروا رہےہیں،نئے سسٹم کے ذریعے اب شہری گھر بیٹھے آن لائن لرنگ ڈرائیونگ لائسنس کی سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے،اوور لوڈ کی وجہ سے لائسنس اجراء سسٹم میں تعطل و خرابی کرنے کے خدشات کو دور کر دیا گیا ہے۔
پاکستان معروف اور سینئیر صحافی عمران ریاض خان کا کہنا ہے کہ تکلیف زیادہ تب ہوتی ہے جب کوئی اپنا مارتا ہے، میں نے اس ملک کے کوئی راز تو نہیں چرائے ہوئے، میں کوئی دشمن ملک کے ساتھ تو نہیں ملا ہوا-
باغی ٹی وی: اپنی رہائی کے بعد ایک یوٹیوب پوڈکاسٹ کیلئے دئیے گئے پہلے انٹرویو میں عمران ریاض نے کہا کہ جب آپ کو پہلے دن میں ملا تو زندہ لاش کی طرح ہی تھا، اس سے بھی گئی گزری حالت میری رہی ہےحراست کے دوران یہ چیز مجھے زیادہ محسوس ہو رہی تھی کہ یار میں کوئی اس ملک کا غدار تو نہیں ہوں، میں نے اس ملک کے کوئی راز تو نہیں چرائے ہوئے، میں کوئی دشمن ملک کے ساتھ تو نہیں ملا ہوا، یا میں کوئی ایسی بات تو نہیں کر رہا جو میرے ملک اور اس کے نظریات کے خلاف ہے میں جو بات کر رہا تھا وہ اختلافِ رائے میں آسکتی ہے اور وہ بات کوئی بھی کسی سے بھی کر سکتا ہے،دورانِ حراست موت کی افواہوں پر عمران ریاض نے کہا کہ وہ آپشن آسان تھا، میرے سے پوچھے کہ اس دوران کیا آسان تھا تو وہ آسان تھا-
کس کی یاد سب سے زیادہ آئی؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یاد تو اللہ کی آئی سب سے زیادہ، لیکن اتنا لمبا عرصہ ہو تو دنیاوی رشتوں میں پھر ’باریاں لگتی ہیں‘۔ کبھی ماں کی یاد آتی ہے کبھی باپ کی یاد آتی ہے، میں اپنے والد کو جانتا ہوں مجھے پتا تھا کہ جب تک وہ مجھے ڈھونڈ نہیں لیتے چین سے نہیں بیٹھیں گے اور جن لوگوں نے بھی میرے لیے آواز اٹھائی میں ان سب کا شکر گزار رہوں گا، رانا ثناء اللہ جب بہت مشکل وقت میں تھا تو میں نے ان کیلئے آواز اٹھائی تھی، مجھے امید تھی کہ رانا ثناء اللہ کچھ نہ بھی کرسکے تو کم سے کم کیچڑ نہیں اچھالیں گے، لیکن میری ٹیم نے بتایا کہ اُس نے آپ کے بارے میں ناصرف لاعلمی رکھی بلکہ آپ کے خلاف پروپیگنڈے کا حصہ بنا رانا ثناء اللہ نے کچھ دن پہلے ان کی ٹیم سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ سیاسی بیانات تھے تو ان پر برا نہ منایا جائے، رانا ثناء اللہ نے کہا کہ میں کمزور تھا میرے بس میں کچھ نہیں تھا۔
انہوں نے میزبان سے سوال کیا کہ مجھے آپ بتائیں آج پاکستان کا میڈیا جو خبر چلاتا ہے وہ کیا میڈیا ہی بناتا ہے؟ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مسنگ پرسنز (لاپتا افراد) کے بارے میں یہ سوچ بنائی گئی ہے کہ ان میں بہت سے دہشتگرد ہوتے ہیں جنہیں قانونی کمیوں کی وجہ سے غائب کرنا پڑتا ہے،وہ سوچ جو پھیلائی گئی تھی مجھے اس پر اب افسوس ہے، کہ میں نے کبھی زندگی میں یہ سوچا بھی کہ کوئی اگر کبھی غائب ہوا تو وہ ریاست کے مفاد میں ہوسکتا ہے، میں معافی مانگ لیتا ہوں اس کے اوپر ان سارے لوگوں سے جن کا دل دکھا ہو، کسی کو بھی غائب کرنا کبھی بھی جسٹیفائیڈ نہیں ہے میں لوئر کورٹس کی انصاف پسندی پر حیران ہوں، میری سوچ کبھی بھی یہ نہیں تھی‘ لوئر کورٹ کے ججز سزائے موت کے کیسز میں ایک ایک دو دو دن میں فیصلہ کر رہے ہیں حیران کن طور پر مجھے اس سے بڑا حوصلہ ملا۔
انہوں نے کہا کہ حوصلہ تو ٹھیک ہے، صحت بھی ٹھیک ہے، بولنے کے معاملات ایک دو دن سے بہتر ہوئے ہیں، اس میں سب سے زیادہ مدد قرآن مجید نے کی ہے، باقی زندگی میں اس کتاب کے فائدے ہی گنتا رہوں تو وہ ختم نہیں ہوسکتے، میں نے پہلی دفعہ محسوس کیا کہ یہ کتاب تو باتیں کرتی ہے۔
واضح رہے کہ عمران ریاض خان کا یہ انٹرویو ان کے وکیل میاں اشفاق نے ایک پاڈ کاسٹ میں کیا جو میاں اشفاق کے بقول ان کے یوٹیوب چینل کی پہلی پاڈ کاسٹ ہے۔
کراچی: صدر میں پولیس افسر کی گاڑی کا شیشہ توڑ کر چور سرکاری پستول اور نقدی لے اڑا ۔
باغی ٹی وی : پولیس حکام کے مطابق اے ایس آئی شاہد خٹک صدر کے علاقے میں سندھ ہائی کورٹ کے قریب قائم مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے رکے تھے جب وہ واپس آئے تو ان کی گاڑی کا شیشہ ٹوٹا ہوا ملا، گاڑی کے اندر جب انہوں نے دیکھا تو ان کا سرکار ی نائن ایم ایم پستول اور کچھ نقدی بھی غائب تھی، واقعے سے فوری طور پر متعلقہ تھانے کو آگاہ کیا گیا ، آس پاس لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز حاصل کی جارہی ہیں، واقعے کا مقدمہ درج کرکے مزید تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے ۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں ڈی جی کسٹمز سے بھی مسلح افراد نے موبائل سے چھین لیا تھا،وفاقی دارالحکومت میں ڈکیتی اور رہزنی کی وارداتیں کم نہ ہوسکیں اور آج ڈی جی کسٹمز سے بھی مسلح افراد نے موبائل سے چھین لیا ، اسلام آباد کے تھانہ رمنا کی حدود میں ڈی جی کسٹمز چہل قدمی کیلیے نکلے تو موٹرسائیکل پر سوار مسلح ڈاکو قیمتی موبائل فون چھین کر لے گئے۔
واقعے کا مقدمہ ڈی جی کسٹم کے ملازم کی مدعیت میں تھانہ رمنا میں درج کرلیا گیا، جس میں بتایا گیا تھا کہ جی 11/3 میں سڑک کنارے گاڑی کھڑی کر کے کھڑا تھا اور ڈی جی کسٹم چہل قدمی کیلیے چلے گئے تھے اسی دوران اچانک موٹر سائیکل پر سوار دو ملزمان آئے اور اسلحے کے زور پر مجھ سے صاحب کا قیمتی موبائل فون چھین کر لے گئے،مدعی نے استدعا کی تھی کہ پولیس ملزمان کیخلاف کارروائی کر کے موبائل فون برآمد کروائے۔
فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابوعبیدہ نےکہا ہےکہ اسرائیل طاقت سے اپنا کوئی یرغمالی رہا نہیں کراسکتا،فوجی طاقت سے اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہیں کرایا جا سکتا۔
باغی ٹی وی: ایک بیان میں القسام بریگیڈز کے ترجمان ابوعبیدہ کا کہنا تھا کہ اسرائیلی جنگی کابینہ مذاکرات کیے بغیر اپنے یرغمالیوں کو رہا نہیں کراسکتی، اسرائیلی یرغمالی کی ہلاکت طاقت کے زور پر رہا کرانےکی کوشش کا نتیجہ ہے،گزشتہ 10 روز میں غزہ میں ہمارے لوگوں نے 180 سے زائد اسرائیلی فوجی گاڑیوں کو تباہ کیا ہے، جھڑپوں میں اسرائیلی فوجیوں کا بڑا جانی نقصان ہوا ہے، اسرائیلی جارحیت کے خلاف ہماری مزاحمت جاری رہےگی انہوں نے عرب اور اسلامی ممالک کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ غزہ کے لوگوں کی حمایت اور جنگ بندی کے لیے احتجاج جاری رکھیں۔
دوسری جانب فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے غزہ میں حملہ آور ہونے والی اسرائیلی فوج پر حملوں کی نئی ویڈیو جاری کردی ہے جس میں القسام کے جنگجوؤں کو اسرائیلی ٹینکوں اور فوجیوں پر حملہ کرتے دیکھا جاسکتا ہے، صیہونی افواج کی جانب سے غزہ میں مسلسل عالمی قوانین اور اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے، اسرائیلی افواج عام شہریوں اور طبی مراکز کو نشانہ بنارہی ہے تاہم اسرائیلی فوج کو القسام بریگیڈز کی جانب سے سخت مزاحمت کا بھی سامنا ہے۔
https://x.com/TurkiyeUrdu_/status/1733402995662934453?s=20
القسام کے ترجمان ابو عبیدہ کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران اسرائیل کے 44 ٹینکوں اور فوجی گاڑیوں کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کیا گیا، ان حملوں میں 40 اسرائیلی فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔
https://x.com/TurkiyeUrdu_/status/1733455377730023462?s=20
واضح رہے کہ اسرائیلی اخبار کی رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر سے حماس کے خلاف جاری جنگ میں اب تک 420 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 2 ہزار سے زائد معذور ہوچکے ہیں، اسرائیلی محکمہ دفاع نے 2 ہزار سے زیادہ فوجیوں کے معذور ہونےکی تصدیق کی ہے، مجموعی طور پر 5 ہزار سے زائد اسرائیلی فوجی زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 58 فیصد سے زائد شدید زخمی ہیں اور ان کی حالت خراب ہے۔
https://x.com/TurkiyeUrdu_/status/1733526427751051384?s=20
اسرائیلی وزارت دفاع کی سربراہ نے اخبار کو بتایا کہ ہمیں اس سے قبل اس طرح کی صورت حال کا کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا، زخمی فوجیوں کے ہاتھوں اور ٹانگوں میں شدید زخم آئے ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جن کے ہاتھ اور پاؤں کاٹنے پڑے ہیں12 فیصد زخمی ایسے ہیں جنہیں شدید اندرونی زخم آئے ہیں اور ان کے اعضا شدید متاثر ہوئے ہیں 7 فیصد فوجی شدید نفسیاتی دباؤ کا شکار ہیں اور ہمیں اندازہ ہےکہ ایسے فوجیوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔
باغی ٹی وی : ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی شہر بیر جند کے نزدیک قائم آئل ریفائنری کے لیے قائم کیے گئے تیل کے ذخائر میں اتوار کے روز آگ بھڑک اٹھی 2دھماکے بھی ہوئے، آواز دور دور تک سنی گئی۔آگ نے ریفائنری میں موجود تیل کے تمام18ذخائر کولپیٹ میں لے لیا ہےابتدائی طور پر15لاکھ لیٹر فیول جل چکا ہے۔IRNA کی رپورٹ کے مطابق فائر فائٹرز کو روانہ کر دیا گیا ہےمیلوں دور سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے لیکن آگ لگنے کی ابتدائی وجوہات کی نشاندہی نہیں کی گئی۔
یہ آئل ریفائنری بیر جند کے خصوصی اکنامک زون میں قائم ہے ‘ ارنا ‘ کے مطابق آگ بجھانے کی ماہر ٹیمیں آگ بجھانے کے لیے بیر جند اکنامک زون روانہ کی جا چکی ہیں،فوری طور پر ریفائنری کے لیے قائم کردہ ذخائر میں آگ لگنے کی وجہ سامنے نہیں آسکی ہے۔ تاہم اس بارے میں ممکنہ تحقیقات سے ہی حقائق سامنے آ سکیں گے۔ ابھی تک کسی متعلق وزیر یا وزارت نے بھی اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے-
دیامر بھاشاڈیم منصوبہ تکمیل کی جانب گامزن ہے، واپڈا نے صدیوں سے بہتے دریائے سندھ کا رخ ٹنل کی جانب موڑ دیا۔
باغی ٹی وی : ڈیم کی تعمیر میں مصروف عمل واپڈا نے اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے صدیوں سے بہتے قومی دریا ”انڈس ریور“ کا رخ موڑ دیا اب دریائے سندھ ایک کلومیٹر سرنگ اور 800 میٹر لمبی نہر سے ہوتا ہوا دوبارہ اپنے اصل روٹ میں شامل ہوگا۔
نگران وزیر اعظم اس اہم پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے اگلے چند روز میں دیامر بھاشا ڈیم سائیٹ کا دورہ بھی کریں گے،ڈیم پر جاری کاموں کا جائزہ لینے اور وزیر اعظم کے دورے کے پیش نظر چئیرمین واپڈا انجینئیر لیفٹنٹ جنرل ریٹائرڈ سجاد غنی نے دیا مر بھاشا ڈیم پراجیکٹ کا دورہ کیا ہے چیئرمین واپڈا نے ڈائی ورشن سسٹم کے ٹیسٹ رن کا جائزہ لیا-
https://x.com/wapda_pr/status/1733805945959174528?s=20
چیئرمین واپڈا نے دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ کی مختلف سائٹس پر تعمیراتی کام کا بھی جائزہ لیا پراجیکٹ حکام نے چیئرمین واپڈا کوبریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ہفتے دریا کا رُخ جزوی طور پر موڑا جا چکا ہے ڈائی ورشن سسٹم موثر طور پر کام کر رہاہے،دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ پر آئندہ ہفتے دریا کا رُخ مکمل طور پر موڑ دیا جائے گا،ڈائی ورشن سسٹم سے گزر کر دریا دوبارہ قدرتی راستے سے جا ملے گا،ڈائی ورشن ٹنل اور ڈائی ورشن کینال موثر طور پر کام کر رہے ہیں۔
دیامر بھاشا ڈیم کی مجموعی طور پر 13 سائٹس پر بیک وقت تعمیراتی کام جاری ہے،دیا مر بھاشا ڈیم پراجیکٹ چلاس شہر سے 40کلو میٹر زیریں جانب دریائے سندھ پر تعمیر کیا جارہا ہےدیامر بھاشا ڈیم منصوبہ کی تکمیل 2028 میں شیڈول ہے،دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر مکمل ہونے سے 8.1 ملین ایکڑ سیلابی پانی ذخیرہ ہونے کے ساتھ 4500 میگاواٹ سستی اور ماحول دوست بجلی بھی حاصل ہوگی، جبکہ ایک ملین ایکڑ سے زائد اراضی بھی سیراب ہوگی،دیا مر بھاشا ڈیم پراجیکٹ واپڈا کے 8زیر تعمیر بڑے منصوبوں میں سے ایک ہے، یہ 8 منصوبے 2024 سے 2028-29 تک مرحلہ وار مکمل ہوں گے۔
پاکستانی سیاستدان اور سابق گورنر پنجاب چوہدری سرور کے بیٹے انس سرور کو برطانوی سیاست میں اہم عہدہ مل گیا۔
باغی ٹی وی : انس سرور ایک اسکاٹش سیاست دان ہیں جو 2021 سے اسکاٹش لیبر پارٹی کی قیادت کر رہے ہیں وہ 2016 سے گلاسگو خطے کے لئے اسکاٹش پارلیمنٹ (ایم ایس پی) کے رکن ہیں وہ 2010 سے 2015 تک گلاسگو سینٹرل کے لئے رکن پارلیمنٹ (ایم پی) رہے ہیں۔
انس سرور نے نجی طور پر آزاد ہچیسنز گرامر اسکول سے تعلیم حاصل کی اور گلاسگو یونیورسٹی میں جنرل ڈینٹسٹری کی تعلیم حاصل کی 2010 کے عام انتخابات میں گلاسگو سینٹرل سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہونے تک پیسلے میں ڈینٹسٹ کے طور پر کام کیا جب وہ اپنے ریٹائر ہونے والے والد محمد سرور کے جانشین بنےہاؤس آف کامنز میں اپنی مدت کے دوران انھوں نے 2011 سے 2014 تک اسکاٹش لیبر پارٹی کے ڈپٹی لیڈر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
انس سرور 2015 کے عام انتخابات میں اسکاٹش نیشنل پارٹی (ایس این پی) سے اپنی نشست ہار گئے تھے لیکن ویسٹ منسٹر کا عہدہ چھوڑنے کے بعد وہ گلاسگو علاقائی فہرست پر 2016 کے اسکاٹش پارلیمنٹ کے انتخابات میں منتخب ہوئے۔
رچرڈ لیونارڈ کے ہاتھوں 2017 کے اسکاٹش لیبر لیڈر شپ کے انتخابات میں شکست کھانے کے بعد وہ 2021 کے قائدانہ انتخابات میں اسکاٹش لیبر پارٹی کے قائد منتخب ہوئے انس سرور کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انھوں نے 2021 کے اسکاٹش پارلیمنٹ کے انتخابات میں اسکاٹش لیبر کی قیادت کی ، جس میں اسکاٹش لیبر پچھلے انتخابات کے مقابلے میں حزب اختلاف میں رہی۔
ملک کے بالائی اور بلوچستان کے شمالی علاقوں میں سردی کی شدید لہر جاری ہے۔
باغی ٹی وی: ،محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے شمالی علاقے اسکردو میں پارہ منفی 8 ڈگری تک گرگیا جس سے لوگوں کی مشکلات بڑھ گئیں استور اور کالام میں درجہ حرارت منفی چار، گلگت میں منفی تین ریکارڈ کیا گیا، وادی کوئٹہ اور گردونواح میں موسم سرد اور خشک ہے، کوئٹہ میں صبح درجہ حرارت منفی 2 اور قلات میں درجہ حرارت منفی 3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا زیارت، قلعہ عبداللہ، پشین، مستونگ سمیت صوبے کے شمالی اضلاع میں موسم سرد اور خشک جبکہ وسطی اضلاع میں موسم خشک ہے درجہ حرارت میں کمی کے بعد پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں دھند نے ڈیرے ڈال دئیے ہیں۔
دوسری جانب دوسری جانب موسمیاتی ماہر ین کے مطابق ملک بھر میں 15 دسمبر سے سرد ہوائیں پاکستان کا رخ کریں گی جس کے باعث کراچی سمیت ملک کے بیشترعلاقوں میں سردی کی شدت میں اضافہ اور درجہ حرارت گرنے کا امکان ہے، شہر میں 10روز کے دوران کم سےکم درجہ حرارت 12 سے 14 ڈگری سینٹی گریڈ رہنےکا امکان ہےاس دوران شہر میں شمال مشرق سے چلنے والی ہوا کے باعث شہر کا فضائی معیار متاثر رہے گا تاہم آئندہ 10 دنوں میں شہر میں بارش کا کوئی امکان نہیں ہے کراچی میں دن کے اوقات میں ہوا میں نمی 50 سے 60 فیصد تک رہے گی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بری ہوائیں ملک کے بیشتر علاقوں میں موجود ہیں15 دسمبر جمعہ کے روز ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم سرد اور خشک جبکہ شمالی علاقوں میں شدید سرد اور مطلع جزوی ابر آلود رہنے کے علاوہ سردی کی شدت میں اضافہ ہو گاجبکہ شمالی مغربی بلوچستان کے چند اضلاع میں موسم ابر آلود رہنے کے ساتھ بارش کا بھی امکان ہے اس کے علاوہ پنجاب، خیبر پختونخوا کے میدانی علاقوں اور بالائی سندھ میں صبح اور رات کے اوقات میں سموگ / دھند چھائے رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق آئندہ ہفتے کے روز بھی بالائی خیبرپختونحوا، کشمیر اور گلگت بلتستان میں موسم ابر آلود رہنے کے ساتھ بارش کےامکان کیساتھ سردی کی شدت میں اضافہ ہو گا جبکہ پنجاب، خیبر پختونخوا کے میدانی علاقوں اور بالائی سندھ میں صبح اور رات کے اوقات میں سموگ / دھند چھائے رہنے کا امکان ہے ، اس دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہے گا۔
کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما منظورحسین وسان نے پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیا سال ملک اور سیاست کے لیے 2023 سےبہترہوگا۔
باغیٹی وی: منظور حسین وسان نے اپنے بیٹے کی سالگرہ کی تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ الیکشن 8 فروری کو ہوں گے نیا سال ملک اور سیاست کےلیے2023 سے بہترہوگا اور2024 ملکی معیشت اور لا اینڈ آرڈرکی صورتحال کےلیے بھی اچھا ثابت ہوگا پی پی پی اور ن لیگ میں اتحاد نہیں ہوگا بلکہ الیکشن میں مقابلہ سخت ہوگا، آئندہ انتخابات میں وزیراعظم بلاول بھٹو یا نوازشریف ہوں گے۔
مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے اظہارخیال کرتے ہوئے منظور وسان نے کہا کہ وہ ( مولانا فضل الرحمان) اچھے آدمی ہیں مگر وہ ملک کے صدر نہیں بینں گے، تاہم ہوسکتا ہے کہ پہلے کی طرح کشمیر کمیٹی کےسربراہ بن جائیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بلے کے بھی عام انتخابات میں ففٹی ففٹی چانسز ہیں۔
کراچی: اسرائیلی دہشتگردی کیخلاف اور اہل غزہ سے اظہار یکجہتی کیلئے کراچی میں ڈاکٹروں نے ’’وائٹ کوٹ مارچ‘‘ کیا۔
باغی ٹی وی: نیشنل اسٹیڈیم سگنل تا لیاقت نیشنل اسپتال تک ہونے والے مارچ کی قیادت امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن نے کی جس میںنائب امیر جماعت اسلامی پاکستان معراج الہدیٰ ، نگراں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر سعد خالد نیاز سمیت ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی بڑی تعداد شریک تھی۔ شرکاء نے فلسطینی رومال پہنے ہوئے تھے اور فلسطینی پرچم بھی اٹھا رکھے تھے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے ”وائٹ کوٹ مارچ“ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا میں ڈاکٹرز کا اس نوعیت کا احتجاج نہیں ہوا جس طرح آج کراچی کے ڈاکٹروں نے کیا ہے امریکا اور برطانیہ سمیت یورپی ممالک کے حکمران اسرائیل کی پشت بانی کررہے ہیں جس کی وجہ سے شکست خوردہ اسرائیل فلسطینی مسلمانوں پر بمباری کررہا ہے،حماس چھوٹی جماعت ہے لیکن مضبوط ایمان کے ذریعے اس جنگ کو لڑ رہے ہیں، حماس نے بتایا کہ مزاحمت میں زندگی ہے، 7 اکتوبر کو اسرائیل کو جھٹکا لگا،اسرائیل کی تمام ٹیکنالوجی ناکام ہوگئی ہے، اسرائیل شکست کھانے کے بعد انتقامی آگ ٹھنڈی کرنے کے لیے بچوں اور اسپتالوں پر بمباری کررہا ہے، 62 دن گزرنے کے باوجود حماس کے مجاہدین سے مقابلہ نہیں کرسکا، 75 ہزار سے زائد بچے شہید ہوچکے ہیں، 18 ہزار سے زائد شہادتیں ہوچکی ہیں۔
مارچ سے خطاب میں نگران وزیر صحت سعد نیاز کا کہنا تھا کہ فلسطین میں جاری بمباری اور دہشت گردی مذہب سے زیادہ مسئلہ انسانیت کا ہے، اسپتالوں ، ڈاکٹروں اور ایمبولینسز پر حملوں سے مغربی تہذیب کو چلانے والوں کا چہرہ کھل کر بے نقاب ہوگیا ہے، افسوس کی بات ہے کہ جس قوم نے آخری جنگ عظیم میں اذیت اٹھائی آج وہی قوم سب سے زیادہ بربریت کا مظاہرہ کررہی ہے فلسطین میں جاری بمباری و دہشت گردی سے مذہب سے زیادہ مسئلہ انسانیت کا ہے۔ کبھی بھی اسپتالوں، ایمبولینس اور ڈاکٹروں پر حملہ نہیں کیا جاتا۔