Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • محکمہ جنگلی تحفظات کو تحفظ دیا جائے

    محکمہ جنگلی تحفظات کو تحفظ دیا جائے

    محکمہ جنگلی تحفظات کو تحفظ دیا جائے

    از قلم غنی محمود قصوری

    پاکستان میں ہر قسم کا محکمہ موجود ہے جو مسائل کو اپنے وسائل کے مطابق حل کرنے کا دعویٰ کرتا ہے تاہم پاکستانی عوام جانتی ہے کہ وسائل ہونے کے باوجود یہ محکمے عوام کیلئے مسائل ہی پیدا کرتے ہیں اور قانونی لوگوں کو غیر قانونی اور غیر قانونی لوگوں کو قانونی تحفظ فراہم کرتے ہیں، ان محکموں میں ایک محکمہ ،پنجاب وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ، بھی شامل ہے ، سب سے پہلے تو میں اس محکمے کا تعارف کرواتا ہوں، چونکہ راقم خود ایک شکاری ہے اس لئے اس محکمے سے میرا خصوصی واسطہ بھی ہے-

    پنجاب وائلڈ لائف اینڈ پارکس ڈیپارٹمنٹ انگریز دور حکومت میں 1934 کو معرض وجود میں آیا 1934 سے 1973 تک یہ محکمہ مختلف محکموں کے زیر سایہ کام کرتا رہا تاہم 1973 میں اسے پنجاب وائلڈ لائف اینڈ پارکس ڈیپارٹمنٹ کا نام دیا گیا اور تب اس محکمے نے جنگلی حیات،محکمہ جنگلات اور محکمہ ماہی پروری کے طور پہ کام شروع کیا، یعنی جنگلات کا تحفظ،جنگلی جانوروں، پرندوں کا تحفظ اور مچھلیوں کا تحفظ و افزائش اس محکمے کی ذمہ داری ہے اور چڑیا گھر و پارکس بھی ان کے زیر انتظام ہیں-

    اس محکمے کا سربراہ ڈائریکٹر جنرل ہوتا ہے جس کے زیر سایہ پنجاب بھر میں ایک ڈائریکٹر اور 10 ڈپٹی ڈائریکٹرز کام کرتے ہیں اس کے ایکٹ میں 1974 کے بعد 2007 اور پھر 2010 میں ترمیم کی گئی ملک بھر کی طرح پورے پنجاب میں اس وقت شکار کا سیزن شروع ہے –

    شکاری حضرات کیلئے لازم ہے کہ وہ پنجاب وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے جاری کردہ لائسنس کے تحت ہی شکار کر سکتے ہیں مگر ہمارے ہاں 80 فیصد لوگ بغیر شکاری لائسنس کے کھلے عام ہر قسم کا شکار کرتے ہیں جو کہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں اس محکمے کو جو وسائل ملنے چائیے وہ وسائل بھی اس محکمے کے پاس موجود نہیں، ہر تحصیل میں ایک گیم وارڈن اور انسپیکٹر پہ مبنی ٹیم ہوتی ہے جس کا کام غیر قانونی شکار کو روکنا ہے تاہم اگر ایمانداری سے دیکھا جائے تو اتنے کم لوگوں کا بہت زیادہ رقبے میں کام کرنا ایک لطیفے سے کم نہیں پانچ سات بندے ایک آدھ پرانی پھٹیچر گاڑی اور سینکڑوں کلومیٹر کا رقبہ ایک لطیفہ نہیں تو اور کیا ہے، اسی موقع سے ناجائز شکار ی فائدہ اٹھاتے ہیں اور جنگلی حیات کو ختم کر رہے ہیں

    اس محکمے کی طرف سے لائسنس جاری کرتے وقت حامل لائسنس کو کچھ نہیں بتایا جاتا کہ فلاں پرندہ و جانور آپ شکار کر سکتے ہیں اور فلاں نہیں حتی کہ جاری کردہ لائسنس پہ بھی کچھ معلومات رقم نہیں اور جو کہ کچھ لکھا وہ بھی خیر سے انگریزی میں رقم ہے جس کے باعث قانون کا احترام کرنے والا حامل شوٹنگ وائلڈ لائف لائسنس ہولڈر نہیں جانتا کہ کونسا پرندہ نایاب ہو رہا ہے اور کونسا عام کونسے دن شکار کی ممانعت اور کونسے دن اجازت کب بریڈنگ سیزن شروع ہے اور کب ختم، کونسا پرندہ ہمارے ملک کا ہے اور کونسا پرندہ مہمان ہے
    اور ایک لائسنس پہ کتنی بندوقوں کیساتھ کتنے افراد کتنے پرندے ایک دن میں شکار کر سکتے ہیں، کیونکہ انٹرنیٹ پہ ایک بندے کے ہاتھ میں درجنوں شکار کئے پرندوں کی تصاویر نظر آتی ہیں حتی کہ گاڑیوں کے بونٹ نایاب پرندوں کے شکار سے بھرے پڑے ہوتے ہیں، یہ سب انٹرنیٹ پہ سرچ کرنے پہ بھی کچھ خاص معلومات نہیں ملتیں

    اس محکمے کو بطور کالم نگار اور ایک رجسٹرڈ شکاری میری سب سے اہم تجویز یہ ہے کہ لائسنس جاری کرتے وقت ایک لٹریچر فراہم کریں جس پہ سب قواعد و ضوابط لکھے ہوئے ہو تاکہ شکاری حضرات کو مکمل علم ہو نیز یہ کوشش ہونی چائیے کہ اس کمیونیکیشن کے دور میں رجسٹرڈ شکاریوں کو واٹس ایپ گروپ میں ایڈ کرکے معلومات سے آگاہ کیا جاتا رہے اور ان کو بتایا جائے کہ آپ کس پرندے ،جانور کی شکار کی ہوئی تصویر سوشل میڈیا پہ وائرل کر سکتے ہیں اور کس کی نہیں کیونکہ یہ بات بہت زیادہ دیکھنے میں آئی ہے کہ سوشل میڈیا پہ وائرل تصویر کو بنیاد بنا کر جرمانہ کیا جاتا ہے حالانکہ جو شکاری لائسنس حاصل کرتا ہے بھلا اسے کیا ضروت غیر قانونی کام کی ؟اگر وہ قانون کا احترام نا کرتا ہوتا تو پھر وہ بھی ان 80 فیصد غیر قانونی شکاریوں کا حصہ ہوتا اور اپنے سالانہ پیسے لائسنس کی فیس کی مد میں ادا کرنے سے بچاتا
    سو محکمے کی یہ غفلت شکار حاصل کئے شکاریوں کو غیر قانونی طریقے پہ شکار کرنے پہ مجبور کر رہی ہے جبکہ دوسری سمت وڈیروں جاگیر داروں اور اشرافیہ کو بغیر اسلحہ و وائلڈ لائف شوٹنگ لائسنس کے پورے پروٹوکول کیساتھ ممنوعہ شکار والے علاقوں میں شکار کروایا جاتا ہے جس سے عام غریب اور بغیر شفارش شکاریوں کی حق تلفی ہوتی ہے اور یوں یہ محکمہ قانونی لوگوں کو غیر قانونی اور غیر قانونی لوگوں کو قانونی بنا رہا ہے-

    نیز ایک غفلت یہ بھی ہے کہ نایاب ہوتے پرندے فاختہ کے شکار کی اجازت ہے اور ائیر گن کے شکار کو مکمل بین کیا ہوا ہے جس کے باعث عام غریب انسان شکار جیسے اہم اور تندرستی برقرار رکھنے والی ورزش سے محروم ہےدوسری جانب سیمی آٹومیٹک رپیٹر سے لوگ بیک وقت نصف درجن کارتوس چلا کر درجنوں پرندے مار گراتے ہیں اور پرندوں کی نسل کشی کر رہے ہیں-

    واضح رہے کہ پاکستانی عدالت نے 2021 میں ڈمی پرندوں (decoys) کیساتھ شکار کرنے اور ائیر گن کیساتھ شکار پہ پابندی لگا رکھی ہے تاہم قد آور لوگ کھلے عام یہ سب کر رہے ہیں میری گورنمنٹ سے گزارش ہے کہ سپرنگر (Springer) ائیر گن کیساتھ شکار کی پابندی ہٹائی جائے جبکہ پی سی پی ائیر گن( Pre-Charged Pneumatics ) پہ پابندی برقرار رکھی جائے ریاست پاکستان کے ہر شہری کو شکار کا حق حاصل ہے سو مخصوص لوگوں کے فائدے کی خاطر غریبوں کو اس شوق اور ورزش سے محروم نا کیا جائے –

    اگر بات کی جائے محکمے کی کارکردگی کی تو آج سے دو سال قبل اس محکمے کے اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل پنجاب محمد نعیم بھٹی کی سربراہی میں محکمہ کافی فعال اور بہتر تھا تاہم اب کچھ خاص بہتری نہیں لہذا محکمے کو فعال کیا جائے اور افسران کو نعیم بھٹی کی طرح ذیلی افسران و عملے کی چیکنگ اور مانیٹرنگ کا پابند بنایا جائے تاکہ پرندوں کی نسل کشی بھی نا ہو اور محکمے کے لوگ لگن سے کام کریں تاکہ شکاری حضرات ساری معلومات حاصل کرکے شکار کر سکیں-

  • 190 ملین پاؤنڈز  کیس ،عمران‌خان کے خلاف  3 سابق وفاقی وزرا نیب کے گواہ بن گئے

    190 ملین پاؤنڈز کیس ،عمران‌خان کے خلاف 3 سابق وفاقی وزرا نیب کے گواہ بن گئے

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے سابق چیئرمین عمران خان کے خلاف 190 ملین پاؤنڈز اسکینڈل کیس میں گواہان میں پرویز خٹک، ندیم افضل چن، زبیدہ جلال اور اعظم خان شامل ہیں۔

    باغی ٹی وی : عمران خان کے خلاف 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں 59 گواہان کے نام سامنے آگئےسابق وزیراعظم عمران خان کیخلاف 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں پی ٹی آئی کی وفاقی کابینہ کے تین ارکان پرویز خٹک، زبیدہ جلال اور ندیم افضل چن بھی گواہان کی فہرست میں شامل ہیں۔

    گواہان کی فہرست میں سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، بینک و ایس ای سی پی افسران، پٹواری ایسٹ ریکوری یونٹ کے سیکرٹری اور ڈپٹی سیکرٹری کے نام بھی شامل ہیں ایم کیو ایم کا کوئی سابق وفاقی وزیر بانی پی ٹی آئی کےخلاف گواہ نہیں بنا، پرویز خٹک، ندیم افضل چن، زبیدہ جلال اور اعظم خان کا ایک ایک صفحے پر مشتمل بیان ہے،سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان بھی وعدہ معاف نہیں بنے بلکہ بطور گواہ شامل ہوئے اس کے علاوہ سپرنٹنڈنٹ وزیراعظم آفس ندیم بٹ بھی گواہ کے طور پر سامنے آگئے، القادر ٹرسٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور چیف فنانشل افسر بھی نیب کے گواہ بن گئے۔

  • مسلح افراد  نے ڈی جی کسٹمز  سے بھی موبائل چھین لیا

    مسلح افراد نے ڈی جی کسٹمز سے بھی موبائل چھین لیا

    اسلام آباد:ڈی جی کسٹمز سے بھی مسلح افراد نے موبائل سے چھین لیا-

    باغی ٹی وی: وفاقی دارالحکومت میں ڈکیتی اور رہزنی کی وارداتیں کم نہ ہوسکیں اور آج ڈی جی کسٹمز سے بھی مسلح افراد نے موبائل سے چھین لیا ، اسلام آباد کے تھانہ رمنا کی حدود میں ڈی جی کسٹمز چہل قدمی کیلیے نکلے تو موٹرسائیکل پر سوار مسلح ڈاکو قیمتی موبائل فون چھین کر لے گئے۔

    واقعے کا مقدمہ ڈی جی کسٹم کے ملازم کی مدعیت میں تھانہ رمنا میں درج کرلیا گیا، جس میں بتایا گیا ہے کہ جی 11/3 میں سڑک کنارے گاڑی کھڑی کر کے کھڑا تھا اور ڈی جی کسٹم چہل قدمی کیلیے چلے گئے تھے اسی دوران اچانک موٹر سائیکل پر سوار دو ملزمان آئے اور اسلحے کے زور پر مجھ سے صاحب کا قیمتی موبائل فون چھین کر لے گئے۔

    نگران وزیراعلی پنجاب سے عراقی سفیر کی ملاقات

    پنجاب میں گندم کی فی من پیداوار کا ہدف یوریا کی کمی سے متاثر ہو …

    سردیوں کی چھٹیوں کے دوران دستیاب ججز پر مشتمل بینچز تشکیل

    مدعی نے استدعا کی ہے کہ پولیس ملزمان کیخلاف کارروائی کر کے موبائل فون برآمد کروائے۔

  • سرائیکی زبان کے پہلے ناول نگار،ظفر محمود لاشاری

    سرائیکی زبان کے پہلے ناول نگار،ظفر محمود لاشاری

    سرائیکی زبان کے پہلے ناول نگار

    سرائیکی زبان و ادب کے پہلے ناول نگار ، ممتاز افسانہ نویس ، ڈرامہ نگار اور ماہرِ تعلیم ، صدارتی ایوارڈ یافتہ ادیب ظفر محمود لاشاری صاحب 9 دسمبر 1948ء کو احمد پور شرقیہ کے نواحی علاقے محراب والا میں پیدا ہوئے۔ ظفر محمود لاشاری کے والد محمد ابراہیم خان ویٹرنری ڈاکٹر تھے، ظفر محمود لاشاری نے ابتدائی تعلیم احمد پور شرقیہ سے حاصل کی، 1967ء میں میٹرک کیا، ایس ای کالج بہاول پور میں ایف ایس سی کے لئے داخلہ لیا لیکن بیماری کی وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑ دی، میٹرک کے بعد چنی گوٹھ میں پی ٹی سی ٹیچر کے طور پر اپنی ملازمت کا آغاز کیا۔ اس دوران اپنی تعلیم جاری رکھی، پرائیویٹ طور پر ایم اے پنجابی، ایم اے سرائیکی اور ایم ایڈ کیا، پی ٹی سی ٹیچر سے ترقی کرتے ہوئے مڈل سکول کے ہیڈماسٹر بعد ازاں ایس ایس ٹی کے طور پر 2008ء میں ریٹائرڈ ہوئے۔

    کسی بھی لکھاری کے لئے یہ بہت بڑا اعزاز ہوتا ہے کہ وہ کسی صنف ادب کا اولین لکھاری شمار کیا جائے، سرائیکی زبان میں سب سے پہلا ناول نگار ہونے کا اعزاز ظفر محمود لاشاری کو حاصل ہے، ظفر محود لاشاری کا پہلا ناول "نازو” 1971ء میں سرائیکی ادبی مجلس بہاول پور کے زیر اہتمام شائع ہوا۔ تقسیم ہند کے پس منظر میں لکھا گیا یہ ناول 1975ء سے 1985ء تک پنجاب یونیورسٹی لاہور کے ایم اے پنجابی کے نصاب میں پڑھایا جاتا رہا۔ ظفر محمود لاشاری کا دوسرا سرائیکی ناول "پہاج” 1987ء میں پنجابی ادبی بورڈ کے زیر اہتمام شائع ہوا۔ اس ناول کا آدھا حصہ بی اے کے سرائیکی نصاب میں شامل ہے جبکہ مکمل ناول اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے ایم اے سرائیکی کے نصاب میں شامل ہے۔ ظفر لاشاری صاحب کا 16 مارچ 2020 میں انتقال ہوا۔

    ظفر محمود لاشاری کا ناول "پہاج” 1974ء سے 1980ء تک ماہنامہ "سرائیکی ادب” ملتان میں 40 اقساط میں بھی شائع کیا گیا۔ ظفر محمود لاشاری نے سرائیکی افسانہ نویسی سے اپنے ادبی کیریئر کا آغاز کیا، ان کا افسانوں کا مجموعہ "تتیاں چھاواں” کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ خطے کے نامور سرائیکی شاعر حضرت جانباز جتوئی پر ان کی کتاب "جانباز جتوئی: حیاتی تے فن” کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔ ظفر محمود لاشاری نے پنجاب یونیورسٹی لاہور کے زیر اہتمام ایم ایڈ کے لئے جو مقالہ لکھا، اسے بھی پنجابی ادبی بورڈ نے "خواجہ فرید کے تعلیمی نظریات” کے نام سے شائع کیا۔

    "سرائیکی لوک سہرے” ظفر محمود لاشاری کی مرتب کردہ ایسی کتاب ہے جس میں صدیوں پرانے سرائیکی سہرے شامل کئے گئے ہیں۔ اہم ترین ثقافتی مواد پر مشتمل اس گرانقدر کتاب کو "لوک ورثہ اسلام آباد” نے شائع کیا ہے۔ یہ کتاب بھی اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے ایم اے سرائیکی کے نصاب میں شامل ہے۔

    ظفر محمود لاشاری نے اپنے ادبی کیریئر میں سٹیج ڈرامے بھی لکھے، ظفر محمود لاشاری کو یہ اعزاز بھی حاؒصل ہے کہ انہوں نے 1989ء میں ایم اے سرائیکی کا امتحان دیا تو ایک سوال میں ناول "نازو” کے کرداروں پر تبصرہ کرنے کو کہا گیا۔ اسی طرح 1990ء میں ایم اے پنجابی کیا تو اس بار بھی امتحان میں ایک سوال ان کے ناول کے حوالے سے ہی کیا گیا۔

  • پیٹرول کی قیمت میں کمی کا امکان

    پیٹرول کی قیمت میں کمی کا امکان

    لاہور: 16 دسمبر سے ملک میں پیٹرول کی قیمت میں 13 اور ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر کمی کا امکان ہے۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمت میں 5.49 ڈالر فی بیرل کی کمی دیکھنے میں آئی ہےپیٹرول کی فی بیرل قیمت 94.95 ڈالر جبکہ ڈیزل کی قیمت 5.13 ڈالر کم ہو کر 100.05 ڈالر کی سطح پر آ چکی ہے۔

    واضح رہے کہ ملک میں اس وقت پیٹرول کی قیمت 281.34 روپے جبکہ ڈیزل 289.79 روپے فی لٹرکی سطح پر ہے حکومت پٹیرولیم مصنوعات کی ممکنہ نئی قیمتوں سے متعلق حتمی فیصلہ 15 دسمبر کو کرے گی،اطلاق 16 دسمبر سے ہوگا۔

    نگران وزیراعلی پنجاب سے عراقی سفیر کی ملاقات

    دوسری جانب چیئرمین پاکستان فاریکس ایکسچینج ایسوسی ایشن ملک بوستان نے ڈالر کی مستقبل میں قیمت گرنے اور 250 سے 260 پر آنے پیشگوئی کر دی ہے ملک بوستان نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سےرقم جلد مل جائے گی جس کی وجہ سےڈالر کی قیمت مزید کمی سے 250 یا 260 تک آسکتی ہے،ڈالر کی قدر میں مسلسل کمی کا سلسلہ بینکوں اور مارکیٹ پلیئر ز کو اچھا نہیں لگا تاہم عرب امارات سے اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری متوقع ہے ایس آئی ایف سی کے تحت کیے گئے اقدامات معیشت کیلئےمثبت ہیں۔

    پنجاب میں گندم کی فی من پیداوار کا ہدف یوریا کی کمی سے متاثر ہو …

    یاد رہے کہ انٹربینک اوپن مارکیٹ میں امریکی کرنسی کی قیمت میں کمی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، ایک ہفتہ کے دوران قیمت میں 1 روپے 9 پیسے کی کمی ہوئی ہے –

  • لیجنڈری بھارتی اداکارہ  85 برس کی عمر میں  انتقال کر گئیں

    لیجنڈری بھارتی اداکارہ 85 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں

    ممبئی: کناڈا انڈسٹری کی لیجنڈری بھارتی اداکارہ لیلا وتھی 85 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں۔

    باغی ٹی وی :لیلا وتھیبھارتی میڈیا کے مطابق اداکارہ کافی عرصے سے سانس کی بیماریوں میں مبتلا تھیں اور انہیں شدید تکلیف پر بنگلور کے اسپتال میں داخل کیا گیا تھا تاہم علاج کے دوارن چل بسیں،اداکارہ کے انتقال پر مختلف شوبز شخصیات سمیت بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے بھی افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    لیلا وتھی نے اپنے شوبز کیریئر میں 600 سے زائد فلموں میں کام کیا جس میں نصف سے زائد کناڈا زبان میں تھیں ساٹھ کی دہائی میں وہ کناڈا فلم انڈسٹری کی پہلی خاتون سپر اسٹار بن کر سامنے آئی تھیں۔

    بھارتی ڈرامہ سیریل سی آئی ڈی کے اداکار انتقال کر گئے

    قبل ازیں رواں ماہ بھارتی کرائم ڈرامہ سیریل سی آئی ڈی کے معروف اداکار دنیش فیڈنس انتقال کر گئے ہیں ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق دنیش سے متعلق 3 دسمبر کو بھارتی میڈیا پر خبریں سامنے آئی تھیں کہ انہیں دل کا دورہ پڑنے کے سبب ممبئی کے اسپتال میں داخل کروایا گیا تھا، لیکن بعدازاں دیانند شیٹی نے یہ خبریں جھوٹی قرار دی تھیں۔

    اللہ ہی جانے کون بشر ہے

    دنیش فیڈنس کی موت کی تصدیق ساتھی اداکار اور سی آئی ڈی میں ‘دیا’ کا کردار نبھانے والے دیانند شیٹی نے کی، دیانند شیٹی نے بتایا کہ دنیش کو جگر کا مسئلہ تھا، اسی وجہ سے ان کا علاج جاری تھا اور گزشتہ کئی دن سے وہ وینٹی لیٹر پر تھے،پیر کی رات ان کی حالت بگڑ گئی جس کے بعد وہ جانبر نہ ہوسکے اور چل بسے۔

  • نگران وزیراعلی پنجاب سے عراقی سفیر کی ملاقات

    نگران وزیراعلی پنجاب سے عراقی سفیر کی ملاقات

    لاہور: نگران وزیراعلی پنجاب محسن نقوی سے عراق کے سفیر حامد عباس لفطانے ملاقات کی –

    باغی ٹی وی: ملاقات میں باہمی دلچسپی کے اموراوردوطرفہ تعلقات بڑھانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیاگیا اورمذہبی سیاحت اور ثقافت کے فروغ پر بھی بات چیت کی گئی، وزیر اعلی نے عراق کے سفیر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عراق کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ برادرانہ تعلقات ہیں،عراق اور پاکستان کے عوام میں عقیدت،محبت اوراخلاص کے رشتے ہیں، مذہبی سیاحت کے فروغ کا بہت پوٹینشل ہے۔

    وزیر اعلی محسن نقوی نے کہا کہ پنجاب نے سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول فراہم کیا ہے، لاہور میں سرمایہ کاری کیلئے فسیلییٹیشن سنٹر قائم کیا گیا ہے،سنٹر میں 20 وفاقی و صوبائی محکموں کے دفاتر ایک چھت تلے موجود ہیں اور بیرونی سرمایہ کاروں کیلئے 106 این او سیز دو ہفتے میں جاری کئے جائیں گے۔

    حبا چوہدری کے دیور فیصل چوہدری پر الزامات کی بوچھاڑ

    محسن نقوی نے کہا کہ ایسے سنٹرز راولپنڈی، ملتان، گوجرانولہ اور دیگر بڑے شہروں میں ایک ماہ میں فعال ہوں گے عراق اورپنجاب کے درمیان مذہبی سیاحت کے فروغ کیلئے تیزی سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے،عراقی سفیر نے وزیراعلی محسن نقوی نے کہا کہ مذہبی سیاحت کے فروغ کیلئے قابل قدر خدمات سرانجام دے رہے ہیں، باہمی برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم اور پنجاب میں موجود سرما یہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔

    سردیوں کی چھٹیوں کے دوران دستیاب ججز پر مشتمل بینچز تشکیل

  • پنجاب میں گندم کی فی من پیداوار کا ہدف یوریا کی کمی سے متاثر ہو سکتا ہے  ،محسن نقوی

    پنجاب میں گندم کی فی من پیداوار کا ہدف یوریا کی کمی سے متاثر ہو سکتا ہے ،محسن نقوی

    لاہور: نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی زیرصدارت خصوصی اجلاس ہوا جس میں گندم کی کاشت اور یوریا کی دستیابی سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔

    باغی ٹی وی: اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ، سیکرٹریز، زراعت، آبپاشی، خوراک، اطلاعات، کمشنر لاہور اور محکمہ زراعت کے متعلقہ افسروں نے اجلاس میں شرکت کی، صوبائی وزیر زراعت ایس ایم تنویر اور تمام ڈویژنل کمشنرز ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔

    نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے کہا کہ پنجاب میں گندم کی فی من پیداوار کا ہدف یوریا کی کمی سے متاثر ہو سکتا ہے وزیراعلیٰ نے کمشنرز کو ایپ پر متعلقہ اضلاع میں کھاد کی نقل وحمل کو یقینی بنانے کی ہدایت کردی جبکہ کھاد کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے تمام ترانتظامی اقدامات اٹھانےکا بھی فیصلہ کیا گیا محسن نقوی نےکہا کہ کھاد بنانے والی کمپنیوں اور ڈیلرز سےبھی رابطہ کیاجائےگا، کمپنیوں اور ڈیلرز کا اجلاس طلب کرلیا، کہا کہ ہم کاشتکاروں کے حقوق کا تحفظ کریں گے، یوریا کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ سے بھی رابطہ کیا جائے گا۔

    سردیوں کی چھٹیوں کے دوران دستیاب ججز پر مشتمل بینچز تشکیل

    دوران اجلاس نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں ایک کروڑ 60 لاکھ ایکڑ اراضی پر گندم کی بوائی کا ٹارگٹ حاصل کیا گیا ہے، ہدف سے زیادہ 6 لاکھ ایکڑ اراضی پر مزید کاشت بھی ہوگی، پنجاب بھر میں گندم کی پیداوار 30 سے 34 من فی ایکڑ متوقع ہے، بروقت بوائی اور ڈی اے پی کے استعمال میں 52 فیصد اضافے سے بہتر پیداوار متوقع ہے جبکہ پنجاب میں تصدیق شدہ بیج کے استعمال میں بھی 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

    حبا چوہدری کے دیور فیصل چوہدری پر الزامات کی بوچھاڑ

  • جلاؤ گھیراؤ کیس:  دس ملزمان اشتہاری قرار

    جلاؤ گھیراؤ کیس: دس ملزمان اشتہاری قرار

    لاہور : انسداد دہشت گردی عدالت نے نومئی جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے میں دس ملزمان کو اشتہاری قرار دیدیا۔

    باغی ٹی وی:لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جج عبہر گل خان نے پولیس کی درخواست پر سماعت کی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ ملزمان نے خود کو روپوش کررکھا ہےملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہے ہیں، انسداد دہشت گردی عدالت نے حماد اظہر، اسلم اقبال، مسرت چیمہ جمشید چیمہ،غلام عباس سمیت دس ملزمان کو اشتہاری قرار دے دیا۔

    ملزمان کے خلاف ماڈل ٹاؤن پولیس نے مقدمہ درج کررکھا ہے۔

    جعلی اور ان رجسٹرڈ ادویات بیچنے والوں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے،ترجمان ڈریپ

    واضح رہے کہ 9 مئی کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے گرفتار کیا تھا جس کے بعد احتجاج کرنے والے تحریک انصاف کے کارکنان نے فوجی تنصیبات اور سرکاری املاک پر حملے کیے جس میں جناح ہاؤس لاہور اور ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت کو بھی نذر آتش کیا گیا۔

    ملک میں 9 مئی کو ہونے والی شرپسندی کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سخت ایکشن لیتے ہوئے متعدد شرپسندوں کو گرفتار کیا جب کہ اس موقع پر تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کو تھری ایم پی او کے تحت نظر بند کیا گیا۔

    سردیوں کی چھٹیوں کے دوران دستیاب ججز پر مشتمل بینچز تشکیل

    پی ٹی آئی کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد اب تک پارٹی کے کئی نامور رہنما اسے خیرباد کہہ چکے ہیں جن میں فواد چوہدری، شیریں مزاری، عامر کیانی، علی زیدی، عمران اسماعیل، پرویز خٹک، محمود خان، فردوس عاشق اعوان، فیاض چوہان، ملیکہ بخاری، آفتاب صدیقی، محمود مولوی بھی شامل ہیں جب کہ پارٹی کے سیکرٹری جنرل اسد عمر بھی تمام عہدوں سے مستعفی ہوچکے ہیں۔

  • سردیوں کی چھٹیوں کے دوران دستیاب ججز پر مشتمل بینچز تشکیل

    سردیوں کی چھٹیوں کے دوران دستیاب ججز پر مشتمل بینچز تشکیل

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے بینچز کی تشکیل کے لیے قائم 3 رکنی ججز کمیٹی کے 7 دسمبر کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق سردیوں کی چھٹیوں کے دوران دستیاب ججز پر مشتمل بینچز تشکیل دے دئیے گئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چھٹیوں کے دوران کسی بینچ کا حصہ نہیں ہوں گے چھٹیوں کے دوران 18 سے 22 دسمبر تک اسلام آباد، کوئٹہ اور کراچی میں ایک ایک بینچ کام کرے گا، اسلام آباد میں جسٹس سردار طارق کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ مقدمات سنے گا، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ بینچ کا حصہ ہوں گے چھٹیوں کے دوران 26 سے 29 دسمبر تک اسلام آباد میں کوئی بینچ دستیاب نہیں ہوگا، 26 سے 29 دسمبر تک پشاور اور کراچی رجسٹری میں ایک ایک بینچ مقدمات سنے گا۔