Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • وفاقی وزرا کیلئے  15 سینئر رہنماؤں کے نام زیر غور،پی ٹی آئی کا اپوزیشن لیڈر کون ہوگا؟

    وفاقی وزرا کیلئے 15 سینئر رہنماؤں کے نام زیر غور،پی ٹی آئی کا اپوزیشن لیڈر کون ہوگا؟

    اسلام آباد: وفاقی وزرا کیلئے مسلم لیگ (ن) کے 15 سینئر رہنماؤں کے نام زیر غور ہیں۔

    باغی ٹی وی : میڈیا ذرائع کے مطابق لیگی قیادت نے جن 15 رہنماؤں کے نام وفاقی وزراء کی فہرست میں شامل کئے ہیں ان میں اسحاق ڈار، سردار ایاز صادق، خواجہ آصف شامل ہیں احسن اقبال، مریم اورنگزیب، عطاءاللہ تارڑ، شزا خواجہ، ریاض الحق اور بلال اظہر کیانی شامل ہیں، اویس احمد لغاری، طارق فضل چوہدری، راجہ قمر الاسلام، رانا تنویر حسین کو بھی زیر غور فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

    مرکز میں تحریک انصاف کی حکومت نہ بننے پر اپوزیشن لیڈر کون ہوگا؟بڑے نام سامنے آ گئے۔

    تحریک انصاف نے حکومت سازی کے معاملے پر وزارت عظمیٰ کا الیکشن لڑنے کافیصلہ کیا ہے لیکن ناکامی کی صورت میں اپوزیشن لیڈر کے ناموں پر بھی غور شروع کردیا ہے،اپوزیشن لیڈر کیلئے بیرسٹر گوہر خان ،شیر افضل مروت اور علی محمد خان کے نام سامنے آ گئے ہیں،بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے شیر افضل مروت کا نام دیا،شیر افضل مروت کو اپوزیشن لیڈر بنانے کیلئے علیمہ خان سرگرم ہو گئیں، بیرسٹرگوہر خان بھی اپوزیشن لیڈر کیلئے فیورٹ ہیں ،پارٹی کی جانب سے علی محمد خان کا نام تجویز کیا جارہا ہے، تاہم حتمی فیصلہ بانی پی ٹی آئی کریں گے۔

  • گلگت بلتستان کے لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ ان کی آئینی حیثیت کیا ہے،چیف جسٹس

    گلگت بلتستان کے لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ ان کی آئینی حیثیت کیا ہے،چیف جسٹس

    اسلام آباد: چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ ان کی آئینی حیثیت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں گلگت بلتستان کی اعلی عدلیہ میں ججز تعیناتی کیس کی سماعت ہوئی چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی کر تے ہوئے عدالت کی معاونت کیلئے گلگت بلتستان بار کونسل اور سپریم اپیلیٹ بار ایسوسی ایشن کو نوٹس جاری کر دیئے گئے۔

    عدالت نے فریقین کو تحریری معروضات بھی جمع کرانے کی ہدایت کر دی، دوران سماعت مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے غیرقانونی قبضے کا تذکرہ ہوا تو چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیئے کہ بھارت نے تو کشمیر کو ہڑپ کر لیا ہے، کشمیر اور گلگت بلتستان کا جو حصہ ہمارے پاس ہے وہاں ریفرنڈم کروا لیں، گلگت بلتستان کے لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ ان کی آئینی حیثیت کیا ہے-

    امریکا نے ایران کا وینزویلا کو فروخت کیا جانیوالا طیارہ قبضے میں لے لیا

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ گلگت بلتستان کو صوبائی حیثیت دے کر آئینی دھارے میں لانا چاہتے ہیں لیکن عالمی کنونشنز رکاوٹ ہیں،ریفرنڈم اقوام متحدہ ہی کروا سکتی ہے۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے استفسار کیا کہ کیا وفاقی حکومت بن گئی ہے؟ وزیراعظم کون ہیں؟ جس پر گلگت بلتستان حکومت کے وکیل نے جواب دیا کہ حکومت نہیں بنی، اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ مناسب ہوگا کہ نئی حکومت کی تشکیل کا انتظار کر لیا جائے کیونکہ وزیراعظم جی بی کونسل کے چیئرمین ہوتے ہیں۔

    جماعت اسلامی کا تحریک انصاف سے اتحاد سے انکار

  • امریکا نے ایران کا وینزویلا کو فروخت کیا جانیوالا طیارہ قبضے میں لے لیا

    امریکا نے ایران کا وینزویلا کو فروخت کیا جانیوالا طیارہ قبضے میں لے لیا

    واشنگٹن: امریکا نے ایران کی جانب سے وینزویلا کی سرکاری ائئر لائن کو فروخت کیا جانے والا بوئنگ 747 کارگو طیارہ قبضے میں لے لیا ہے۔

    باغی ٹی وی :عالمی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی امور انصاف کے مطابق امریکا کی جانب سے پابندیوں کی فہرست میں شامل ماہان ائئرسے وینیزویلا کو فروخت کیا جانے والا طیارہ ارجنٹائن سے امریکا روانہ کر دیا گیا ہے جسے اب کباڑ کے طور پرفروخت کیا جائے گا، ایران کی ماہان ایئر کی جانب سے 2022 میں وینزویلا کو طیارہ فروخت کرنا تہران پرعائد پابندیوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ امریکا اپنی سلامتی کو درپیش خطرات کے پیش نظر ایسے اقدام اٹھاتا رہے گا۔

    دوسری جانب وینیزویلا حکومت نے امریکی اقدام کو شرمناک قرار دیتے ہوئے طیارہ واپس لینے کے لیے قانون کا سہارا لیے جانے کا عندیہ دیا ہےصدرنکولس مادورو کے دفتر نسے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور ارجنٹائن نے تجارتی و سول قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ہماری کارگو کمپنی کے حقوق غصب کیے ۔

    دوسری جانب ایران کی جانب سے بھی اس واقعے کو خلاف قانون قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی گئی ہے،ایرانی امورخارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کی طرف سے طیارہ تحویل میں لینا اقوام متحدہ کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

  • توہین مذہب کیس میں بنا وارنٹ گرفتاری پر ایس پی اسلام آباد  طلب

    توہین مذہب کیس میں بنا وارنٹ گرفتاری پر ایس پی اسلام آباد طلب

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے توہین مذہب کیس میں بنا وارنٹ گھر میں گھس کر گرفتاری پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بنا وارنٹ پولیس لوگوں کے گھروں کا تقدس کیسے پامال کر سکتی ہے؟ قتل، ڈکیتی کا پرچہ تو پولیس فوری درج نہیں کرتی-

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ نے ایس پی اسلام آباد پولیس رخسار مہدی کو توہین مذہب کیس میں زبیر صابری کے گھر بنا وارنٹ گرفتاری کرنے پر طلب کیا،سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے قانون کی پاسداری نہ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ لگتا ہے اسلام آباد میں کوئی گھر محفوظ نہیں۔

    چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دئیے کہ بنا وارنٹ پولیس لوگوں کے گھروں کا تقدس کیسے پامال کر سکتی ہے؟ قتل، ڈکیتی کا پرچہ تو پولیس فوری درج نہیں کرتی، کیا پولیس شکایت کنندہ کی جیب میں ہے؟ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری اور آپ کی تنخواہ عوام دیتی ہے، تفتیشی افسر کے خلاف مقدمہ درج کرنا چاہیئے اٹارنی جنرل صاحب، ایسے مقدمات تو سپریم کورٹ آنے ہی نہیں چاہیئے، آرٹیکل 14 کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، اٹارنی جنرل ہمیں لا افسران سے معاونت نہیں مل رہی، لا افسران مدعی کے وکیل بن جاتے ہیں۔

    عام انتخابات میں رکن اسمبلی منتخب ہونیوالے 9 مئی کے اشتہاریوں کی گرفتا ر …

    جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ قانون کہہ رہا ہے توہین مذیب کیس کی تحقیقات ایس پی کرے گا، قانون کے ہوتے ہوئے ماتحت کیسے تحقیقات کرسکتا ہے؟ چیف جسٹس مدعی کی جانب سے پیر صاحب، پیر صاحب لفظ استعمال کرنے پر بھی برہم ہوگئے، انہوں نے ریمارکس دئیے کہ کیا یہ نام قانون میں درج ہے؟ کس قانون میں دم کرنے کا لکھا ہوا ہے؟۔ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ آپ کا تو ایمان ہی مضبوط نہیں؟-

    بعدازاں سپریم کورٹ نے ایس پی اسلام آباد رخسار مہدی کے عدالت میں پیش ہونے تک سماعت میں وقفہ کر دیا۔

    جماعت اسلامی کا تحریک انصاف سے اتحاد سے انکار

    وقفے کے بعد دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو عدالت نے توہین مذہب کے ملزم زبیر صابری کی ضمانت منظور کرلی جبکہ ضمانت 50 ہزار روپے مچلکوں کھ عوض منظورکی گئی سپریم کورٹ نے کہا کہ توہین مذہب کیس کی مزید انکوائری کی جائے۔

    عدالت نے پولیس کو ہدایت کی کہ توہین مذہب کے حساس معاملات کی نگرانی اورتفتیش ایس پی رینک سے کم کا افسر نہیں کرے گا،،سپریم کورٹ کے حکم پر ایس ایس پی اور ایس پی اسلام آباد پولیس عدالت میں پیش ہوئے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ توہین مذہب کے کیس کی تفتیش ایس پی نے خود کرنا ہوتی ہے، قانون کی خلاف ورزی پر ایس پی کو معطل کریں یا ایس ایس پی کو؟ وکیل کے مطابق پولیس توہین مذہب کے کیسز میں ڈرتی ہے اورجیسے ہی کیس آتا ہے مقدمہ درج کر لیتی ہے، پولیس ڈرپوک ہونے لگی تو بہادر کون رہے گا؟۔

    جسٹس قاضی فائز عیسی نے ایس ایس پی سے سوال کیا کہ نے کہا کہ بغیر وارنٹ کیا پولیس کسی کے گھرمیں داخل ہو سکتی ہے؟ چادر اور چار دیواری کا تقدس کہاں گیا؟ کیا آپ کے گھر کوئی بغیر وارنٹ جا کر تلاشی لے سکتا ہے؟۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ پولیس آرڈر 2002 کے مطابق بغیر وارنٹ گرفتاری کسی کے گھر داخل ہونے پر پانچ سال کی سزا بنتی ہے، ایک تصویر کی بنیاد پر توہین مذہب کا کیس بنا دیا جیسے آپ ہی اسلام کے محافظ ہیں، پہلے توہین مذہب کا کیس بنا، گرفتاری ہوئی پھر جا کر تصویر برآمد کرائی، کیا پولیس نے یہ ثابت کرنا ہے کہ توہین مذہب عام ہے اور اس سے اسلام بلند ہو گا؟ ایک شخص اپنے دوست کو دم کرانے گیا وہاں تصویر دیکھی اورآ کرمقدمہ بنا دیا، پولیس بندوقیں رکھ کر بھی ڈرپوک ہے، ہم اس قسم کے کیسز سے تھک چکے ہیں۔

    شہباز شریف کی مختلف اتحادیوں سے ملاقاتوں کے بارے میں نواز شریف کو بریفنگ

    شکایت گزار نے کہا کہ میں پیر کے پاس دوست کے ساتھ دم کرانے گیا جہاں توہین آمیز تصویر آویزاں تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے استفسار کیا کہ کیا قرآن میں پیر کا ذکر ہے؟ جس پر شکایت گزار نے کہا کہ قرآن میں پیر کا نہیں رہبر کا ذکر ہے، چیف جسٹس نے شکایت گزار سے سوال کیا کہ پیر کیا ہے؟ اب کیا اللہ سے بھی نوک جھونک کرو گے؟ جس پر شکایت گزار نے کہا کہ میں تو پیر کو نہیں مانتا صرف دوست کو دم کرانے گیا تھا۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اگر آپ پیر کو نہیں مانتے تو دوست کو ڈاکٹر کے پاس لے جاتے، پیر کا دم اپنے کام نہیں آرہا جو 7 ماہ سے جیل میں ہے؟چیف جسٹس نے پوچھا کہ یہ پیر کتنے عرصے سے گرفتار ہے؟ جس پر وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ زبیر صابری 7 ماہ سے گرفتار ہے-

    چیف جسٹس نے پولیس کو ہدایت کی کہ یقینی بنائیں کہ مذہب کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال نا ہو، توہین مذہب کے کیسز کو سنجیدگی سے لیں۔

    خاتون جج دھمکی کیس:عمران خان کی پروڈکشن کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

  • جماعت اسلامی کا تحریک انصاف سے اتحاد سے انکار

    جماعت اسلامی کا تحریک انصاف سے اتحاد سے انکار

    جماعت اسلامی کی پی ٹی آئی سے اتحاد کے حوالےسے ابتدائی مشاورت مکمل کر لی-

    باغی ٹی وی: ترجمان جماعت اسلامی قیصر شریف نے کہا کہ جماعت اسلامی نے طے کیا تھا کہ قومی سطح پر تحریک انصاف سے اشتراک عمل قومی مفاد میں ہو گا ، لیکن تحریک انصاف نے اپنے موقف کو تبدیل کیا ہے ،وہ کے پی میں بھی جس سے چاہیں اپنے معاملات طے کر لیں ، جماعت اسلامی کو خوشی ہو گی –

    پی ٹی آئی جس سے چاہے اپنے معاملات طے کرلے، جماعت اسلامی کو خوشی ہوگی۔لیاقت بلوچ
    جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر لیاقت بلوچ نے مرکزی مشاورت اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے قائدین نے جماعت اسلامی سے رابطہ کیا کہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف نئی صورتحال میں مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کرے۔ اس کے فوری بعد امیر جماعت اسلامی پاکستان نے مرکزی قیادت اور ذمہ داران کے ساتھ مشاورت کی اور لیاقت بلوچ کی سربراہی میں پروفیسر محمدابراہیم صاحب امیرجماعت اسلامی صوبہ خیبر پختونخوا، اور عنایت اللہ خان صاحب نائب امیر صوبہ خیبر پختونخوا پر مشتمل کمیٹی قائم کر دی۔ کمیٹی ارکان کا تحریک انصاف کے قائدین بیرسٹرگوہر خان چیئرمین پی ٹی آئی، علی امین گنڈا پور، عمر ایوب خان اور محمد اعظم خان سواتی سے رابطہ ہوا اور ملکی انتخابی صورت حال پر تبادلہ خیال ہوا۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی کی طرف سے تحریک انصاف کی قیادت کو آگاہ کر دیا گیا کہ جماعت اسلامی کے انتخابات 2024ء پر بڑے تحفظات ہیں۔ انتخابی نتائج کی تبدیلی اور زور زبردستی، سینہ زوری سے نتائج کو پلٹنا مکروہ اور جمہوریت کے لیے سیاہ گھناؤنا کھیل ہے جس کا نقصان ملک اور جمہوریت کو ہوگا۔ تاہم جماعت اسلامی عوامی مینڈیٹ سے جیتنے والے ممبران اسمبلی کا خیرمقدم کرتی ہے۔ تحریک انصاف کو اپنے آزاد اُمیدواران اورجو اُن کی حمایت سے جیتے ہیں انہیں پارٹی، آئینی، پارلیمانی تحفظ، عوامی مینڈیٹ کے احترام، پی ٹی آئی کے کارکنان کی مشکل حالات میں ثابت قدمی، محنت اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے جماعت اسلامی پی ٹی آئی کے ساتھ غیر مشروط تعاون کے لیے تیار ہے، جس کاپی ٹی آئی قیادت نے خیرمقدم کیا۔ آخری مرحلے میں تحریک انصاف کی قیادت نے پیغام دیا کہ وہ صرف خیبرپختونخوا کی حد تک تعاون چاہتے ہیں، جبکہ قومی سطح پر وہ جماعت اسلامی کے ساتھ اشتراک عمل نہیں کریں گے۔ لیاقت بلوچ نے تحریک انصاف کے قائدین کو آگاہ کیا کہ اُن کی طرف سے بدلے ہوئے دوسرے مؤقف پر مشاورت کے بعد جواب دیاجائے گا۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ مشاورت کے بعد جماعت اسلامی نے طے کیا کہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کا قومی سطح پر اشتراک عمل قومی مفاد میں ہوگا لیکن تحریک انصاف نے اپنے مؤقف کو تبدیل کیا ہے تو وہ خیبر پختونخوا میں بھی جس سے چاہیں اپنے معاملات طے کرلیں، جماعت اسلامی کو خوشی ہوگی۔

    تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر محمد علی سیف کا کہنا تھاکہ صوبائی اسمبلی میں جماعت اسلامی کی نمائندگی نہیں رہی جس کی وجہ سے اب ان کے ساتھ حکومت بنانے کا کوئی جواز نہیں، جماعت اسلامی کےساتھ صرف کے پی میں حکومت سازی پر بات چیت چل رہی تھی، پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے حکومت سازی کے لیے قانونی طریقہ کار کو دیکھاجا رہا ہے۔

    دوسری جانب جماعت اسلامی خیبرپختونخوا اسمبلی کی مزید دو نشستیں ہار گئی ہے، جس کے بعد آئندہ بننے والی صوبائی اسمبلی میں ان کی نمائندگی ختم ہوگئی ہے باجوڑ سے خیبرپختونخوا اسمبلی کے حلقہ پی کے 21 کے سرکاری نتیجے کے مطابق کامیاب جماعت اسلامی کے امیدوار سردار خان کی جیت ہار میں تبدیل ہوگئی، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار اجمل خان 16712 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ جماعت اسلامی کے امیدوار سردار خان 8128 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے،اس کے علاوہ پی کے 20 میں بھی ابتدائی نتائج میں کامیاب قرار دیے گئے جماعت اسلامی کے امیدوار مولانا وحید گل ہار گئے۔

    بھرتی کیس میں پرویز الٰہی کی ضمانت منظور

    دوسری جانب تحریک انصاف کے لیے مجلس وحدت مسلمین کے ذریعے خصوصی نشستوں کا حصول مشکل ہوگیا،ذرائع الیکشن کمیشن کے مطابق مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے خواتین کی مخصوص نشستوں کے لیے اب تک کوئی ترجیحی فہرست جمع نہیں کرائی گئی ہے اور الیکشن ایکٹ کے سیکشن 104 کے تحت ترجیحی فہرست جمع کرانےکاوقت گزرچکا ہے۔

    لیکشن ایکٹ کے تحت سیاسی جماعتیں کاغذات نامزدگی جمع کرانےکی آخری تاریخ تک ترجیحی فہرست جمع کراسکتی تھیں جب کہ کاغذات نامزدگی کی تاریخ گزرنے کے بعد ترجیحی فہرست میں تبدیلی یا اضافہ بھی ممکن نہیں، فہرستوں میں ترجیح تبدیل کی جاسکتی ہے اور نہ ہی کسی نام کو نکالا جا سکتا ہے۔

    کے پی میں 16 امیدواروں کی انتخابی نتائج کیخلاف درخواست دائر

    واضح رہے کہ 8 فروری کو ہونے والے انتخابات میں مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) نے قومی اسمبلی کی ایک نشست پر کامیابی حاصل کی ہے،گزشتہ روز ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا تھا کہ اگر پی ٹی آئی کو ان کی جماعت کی ضرورت پڑی، تو وہ غیر مشروط طور پر پارٹی ان کے حوالے کرنے کو تیار ہیں۔

  • عام انتخابات میں  رکن اسمبلی منتخب ہونیوالے 9 مئی کے اشتہاریوں کی گرفتا ر کرنے کا منصوبہ

    عام انتخابات میں رکن اسمبلی منتخب ہونیوالے 9 مئی کے اشتہاریوں کی گرفتا ر کرنے کا منصوبہ

    لاہور: عام انتخابات 2024 میں رکن اسمبلی منتخب ہونے والے 9 مئی کے اشتہاریوں کی گرفتا ر کرنے کا منصوبہ بنایا-

    باغی ٹی وی: 9 مئی کے مقدمات میں مطلوب اشتہاریوں کو کٹہرے میں لانے کے لیے کارروائیاں تیز کی جارہی ہیں، مقدمات میں ملوث 22 اشتہاری رہنما 282 کارکن تاحال انتہائی مطلوب ہیں،حالیہ الیکشن کے کامیاب امیدوار میاں اسلم اقبال ، علی امین گنڈا پور، امتیاز شیخ نو مئی کے واقعات میں لاہور پولیس کو مطلوب ہیں، عدالت کی جانب سے انہیں اشتہاری قرار دیا گیا تھا، حالیہ الیکشن کے کامیاب امیدوار میاں اسلم اقبال ، علی امین گنڈا پور، امتیاز شیخ 9 مئی کے واقعات میں لاہور پولیس کو مطلوب ہیں، عدالت کی جانب سے انہیں اشتہاری قرار دیا گیا تھا۔

    خاتون جج دھمکی کیس:عمران خان کی پروڈکشن کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    جے آئی ٹی ذرائع کے مطابق اشتہاریوں کے روابط کا تعین کرنے کے لیے جیو فینسنگ ، موبائل ٹریکنگ اور آئی پی ایڈریس ٹریک کر لیے گئے، انتخابات میں سیٹ حاصل کرنے والے اشتہاریوں کی گرفتاری قانون کے مطابق ہوگی ، ملزمان انتخابی مہم اور نتائج کے دوران مسلسل کارکنوں سے رابطے میں رہے، اشتہاریوں کی لوکیشن معلوم کرنے کے لیے ایف آئی اے اور دیگر اداروں کی مدد لی جار ہی ہے۔

    پشاور ہائیکورٹ کا پی ٹی آئی حمایت یافتہ امیدوارکیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کا …

    بھرتی کیس میں پرویز الٰہی کی ضمانت منظور

  • خاتون جج دھمکی کیس:عمران خان کی پروڈکشن کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    خاتون جج دھمکی کیس:عمران خان کی پروڈکشن کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے خاتون جج کو دھمکی دینے کے کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق چیئرمین عمران خان کی پروڈکشن کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

    باغی ٹی وی : ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں سول جج مرید عباس نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف خاتون جج دھمکی کیس کی سماعت کی دوران سماعت بانی پی ٹی آئی کےوکیل خالد یوسف چوہدری نےکہا سابق چیئرمین پی ٹی آئی ریاست کی حراست میں ہیں انہیں پیش کیا جائے۔

    جج مرید عباس نے استفسار کیا کہ آپ کی پہلی درخواست تھی انہیں سیکیورٹی خدشات ہیں پیش نہیں ہو سکتے، جس پر وکیل خالد یوسف چوہدری نے کہا کہ وہ گرفتاری سے قبل تھی تب شدید خطرات تھے،جج مرید عباس نے کہا کہ پھر آپ کی پہلی درخواست پر فیصلہ کر کے عمران خان کو سمن کر دیتے ہیں، وکیل خالد یوسف نے کہا کہ اب انہیں پیش کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے وہ انہیں پیش کریں۔

    پیپلز پارٹی اور ن لیگ ایک سکے کے دو رخ ہیں،پی ٹی آئی سینیٹر

    بعدازاں عدالت نے سابق وزیراعظم عمران خان کی پروڈکشن کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    واضح رہے کہ عمران خان نے گزشتہ برس 20 اگست کو ایف نائن پارک میں احتجاجی جلسے سے خطاب کے دوران پی ٹی آئی رہنما شہباز گل پر مبینہ تشدد کیخلاف آئی جی اور ڈی آئی جی اسلام آباد پر کیس کرنے کا اعلان کیا تھا دوران خطاب عمران خان نے شہباز گل کا ریمانڈ دینے والی خاتون مجسٹریٹ زیبا چوہدری کو نام لے کر دھمکی بھی دی تھی۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ آئی جی، ڈی آئی جی اسلام آباد ہم تم کو نہیں چھوڑیں گے، تم پر کیس کریں گے مجسٹریٹ زیبا چوہدری آپ کو بھی ہم نے نہیں چھوڑنا، کیس کرنا ہے تم پر بھی، مجسٹریٹ کو پتہ تھا کہ شہباز پرتشدد ہوا پھر بھی ریمانڈ دے دیا۔

    قطر میں سزا پانیوالے بھارتی سابق نیول افسران کو شاہ رخ خان نے رہا کرایا، …

  • پشاور ہائیکورٹ کا پی ٹی آئی حمایت یافتہ امیدوارکیخلاف توہین عدالت کی کارروائی  کا عندیہ

    پشاور ہائیکورٹ کا پی ٹی آئی حمایت یافتہ امیدوارکیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کا عندیہ

    پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے حلقہ پی کے 73 پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حمایت یافتہ امیدوار علی زمان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا عندیہ دیا ہے-

    باغی ٹی وی : پشاور ہائیکورٹ نے پی کے 73 کے امیدوار علی زمان کا نتائج کے خلاف درخواست پر سماعت کا حکم نامہ جاری کردیا حکم نامے میں لکھا گیا کہ عدالت کے حکم پر آر او پی کے 73 پیش ہوئے لیکن علی زمان اور ان کے ساتھیوں نے آر او کو گھیر کر ان سے پلین پیپر پر کمرہ عدالت میں دستخط لینے کی کوشش کی اور آر او کو گالیاں دے کر ہراساں کیا، اس لیےعلی زمان کا یہ رویہ کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی ہے جس کے خلاف آر او نے بھی تحریری طور پر شکایت عدالت کے نوٹس میں لائی ہے، درخواست گزار کو نوٹس جاری کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی پوزیشن واضح کریں، کیوں نہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے۔

    عدالت نے فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت کل 15 فروری تک ملتوی کردی۔

    بھرتی کیس میں پرویز الٰہی کی ضمانت منظور

    کے پی میں 16 امیدواروں کی انتخابی نتائج کیخلاف درخواست دائر

    پشاور ہائیکورٹ نےایمل ولی کا عمران خان کے خلاف کیس نمٹا دیا

  • بھرتی کیس میں  پرویز الٰہی کی ضمانت منظور

    بھرتی کیس میں پرویز الٰہی کی ضمانت منظور

    لاہور : عدالت نے بھرتی کیس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی ضمانت منظور کرلی۔

    باغی ٹی وی : لاہور کی مقامی عدالت میں پرویز الٰہی کے خلاف پنجاب اسمبلی کے پرنسپل سیکرٹری بھرتی کیس کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے پی ٹی آئی کے صدر کی ضمانت منظور کرلی،دوران سماعت پرویز الٰہی کے وکیل نے دلائل دئیے کہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے محمد خان بھٹی کو کیس سے ڈسچارج کیا، پرویزالٰہی کے وزیراعلیٰ بننے سے پہلے پرنسپل سیکرٹری کا نوٹیفکیشن جاری ہوا۔

    بعد ازاں عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد پرویز الٰہی کی ضمانت منظور کرلی اور انہیں ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

    قطر میں سزا پانیوالے بھارتی سابق نیول افسران کو شاہ رخ خان نے رہا کرایا، …

    پیپلز پارٹی اور ن لیگ ایک سکے کے دو رخ ہیں،پی ٹی آئی سینیٹر

    ووٹوں کی دوبارہ گنتی:پی ٹی آئی حمایت یافتہ امیدوار ہار گئے

  • کے پی میں 16 امیدواروں کی انتخابی نتائج کیخلاف درخواست دائر

    کے پی میں 16 امیدواروں کی انتخابی نتائج کیخلاف درخواست دائر

    پشاور: خیبرپختونخوا میں اب تک 16 امیدواروں نے انتخابی نتائج کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کردی۔

    باغی ٹی وی : 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں ملک بھر میں متعدد امیدواروں نے مبینہ طور پر دھاندلی کے الزامات لگاتے ہوئے نتائج کے خلاف درخواستیں دائر کرنا شروع کردی ہیں۔

    الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ 3 قومی اور 13 صوبائی حلقوں کے نتائج کے خلاف آزاد امیدواروں نے رٹ دائر کی ہے، قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 28 پشاور، این اے 11 شانگلہ اور این اے 40 نارتھ وزیرستان کے نتائج کو چیلنج کیا گیا ہے، صوبائی دارالحکومت پشاور کے 8 صوبائی حلقوں کے نتائج کو بھی عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے، پی کے 73، پی کے 74، پی کے 75، پی کے 78 ، پی کے 79، 80، 82 ،20 اور پی کے 21کے خلاف بھی عدالت سے رجوع کیا گیا ہے، بنوں کے 2 صوبائی حلقوں پی کے 101 اور 102 کے خلاف بھی آزاد امیدواروں نے نتائج مسترد کرتے ہوئے عدالت میں درخواستیں دائر کردی ہیں –

    پیپلز پارٹی اور ن لیگ ایک سکے کے دو رخ ہیں،پی ٹی آئی سینیٹر

    الیکشن کمیشن کے مطابق تمام درخواستوں پر 15 فروری کو سماعت ہوگی۔

    دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی بی 21 میں ریٹرننگ آفیسر (آر او) آفس میں ریکارڈ کے نقصان کا نوٹس لے لیا الیکشن کمیشن نے پی بی21 میں دوبارہ گنتی میں پولنگ ریکارڈ کو نقصان پہنچنے پر ایکشن لیتے ہوئے تحقیقات کے لیے 4 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی، صوبائی الیکشن کمشنر فرید آفریدی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ مقرر کیے گئے ہیں۔

    ووٹوں کی دوبارہ گنتی:پی ٹی آئی حمایت یافتہ امیدوار ہار گئے

    بلوچستان اسمبلی میں 31 فیصد نئے چہرے پہنچے