Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • پشاور ہائیکورٹ نےایمل ولی کا عمران خان کے خلاف کیس نمٹا دیا

    پشاور ہائیکورٹ نےایمل ولی کا عمران خان کے خلاف کیس نمٹا دیا

    پشاو: پشاور ہائیکورٹ نے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنما ایمل ولی کا سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف کیس کو نمٹا دیا۔

    باغی ٹی وی : پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس شکیل احمد اور جسٹس وقار احمد نے اے این پی کے ایمل ولی کی جانب سے عمران خان کے خلاف کیس کی سماعت کی دوران سماعت ایمل ولی کے وکیل نے کہا کہ اسمبلی رہی نہ بانی چئیرمین پی ٹی آئی اب ممبر رہے، اس لیے کیس اب قابل سماعت نہیں، صرف آرڈر میں اتنا لکھ دیں کہ یہ کیس آئندہ دائر کیا جاسکتا ہے۔

    درخواست گزار کا کہنا تھا کہ عمران خان ضمنی انتخابات میں 7 حلقوں سے جیت گئے تھے، اثاثوں اور کاغذات نامزدگی میں سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے غلط بیانی کی، انہوں نے کاغذات میں توشہ خانہ تحائف کا ذکر نہیں کیا، درخواست گزار نے استدعا کی تھی کہ اثاثے ظاہر نہ کرنے پر بانی پی ٹی آئی کو 7 حلقوں سے نااہل کیا جائے، بعدازاں پشاور ہائیکورٹ نے درخواست غیر مؤثر ہونے پر نمٹادی۔

    ووٹوں کی دوبارہ گنتی:پی ٹی آئی حمایت یافتہ امیدوار ہار گئے

    پیپلز پارٹی اور ن لیگ ایک سکے کے دو رخ ہیں،پی ٹی آئی سینیٹر

    قطر میں سزا پانیوالے بھارتی سابق نیول افسران کو شاہ رخ خان نے رہا کرایا، …

  • کراچی سے قومی اسمبلی کی 21 نشستوں پر کامیاب امیدواروں کا نوٹیفکیشن جاری

    کراچی سے قومی اسمبلی کی 21 نشستوں پر کامیاب امیدواروں کا نوٹیفکیشن جاری

    کراچی: الیکشن کمیشن نے کراچی سے قومی اسمبلی کی 22 میں سے 21 نشستوں پر کامیاب امیدواروں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

    باغی ٹی وی : الیکشن کمیشن نے این اے 229 سے پیپلز پارٹی کے جام عبد الکریم بجر، این اے 230 سے سید رفیع اللہ اور این اے 231 سے پاکستان پیپلز پارٹی کے عبدالحکیم بلوچ ، این اے 232 سے ایم کیو ایم کی آسیہ اسحاق صدیقی، این 233 سے ایم کیو ایم کے محمد جاوید، این اے 234 کورنگی کراچی 3 سے ایم کیو ایم کے محمد معین عامر پیرزادہ، این اے 235 کراچی شرقی ون سے ایم کیو ایم کے محمد اقبال خان، این اے 236 کراچی شرقی ٹو سے ایم کیو ایم کے حسان صابر اور این اے 237 کراچی شرقی 3 سے پیپلز پارٹی کے اسد اسلم نیازی کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔

    الیکشن کمیشن نے این اے 239 کراچی ساؤتھ ون سے پیپلز پارٹی کے نبیل گبول، این اے 240 کراچی ساؤتھ 2 سے ایم کیو ایم کے ارشد وہرا، این اے 241 کراچی ساؤتھ 3 سے پیپلز پارٹی کے مرزا اختیار بیگ، این اے 242 کراچی کیماڑی ون سے ایم کیو ایم کے سید مصطفی کمال اور این اے 243 کراچی کیماڑی ٹو سے پیپلز پارٹی کے عبدالقادر پٹیل کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

    ووٹوں کی دوبارہ گنتی:پی ٹی آئی حمایت یافتہ امیدوار ہار گئے

    قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 244 کراچی غربی ون سے ایم کیو ایم کے فاروق ستار، این اے 245 کراچی غربی ٹو سے ایم کیو ایم کے سید حفیظ الدین، این اے 246 کراچی غربی 3 سے ایم کیو ایم کے سید امین الحق، این اے 247 کراچی سینٹرل ون سے ایم کیو ایم کے خواجہ اظہار الحسن اور این اے 248 کراچی سینٹرل ٹو سے ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی ، این اے 249 کراچی سینٹرل 3 سے ایم کیو ایم کے احمد سلیم صدیقی اور این اے 250 کراچی سینٹرل 4 سے ایم کیو ایم کے فرحان چشتی کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔

    قطر میں سزا پانیوالے بھارتی سابق نیول افسران کو شاہ رخ خان نے رہا کرایا، …

    پیپلز پارٹی اور ن لیگ ایک سکے کے دو رخ ہیں،پی ٹی آئی سینیٹر

  • ووٹوں کی دوبارہ گنتی:پی ٹی آئی حمایت یافتہ امیدوار ہار گئے

    ووٹوں کی دوبارہ گنتی:پی ٹی آئی حمایت یافتہ امیدوار ہار گئے

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ ایک اور آزاد امیدوار دوبارہ گنتی میں اپنی سیٹ ہار گئے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے امیدوار راجہ صغیر احمد نے پنجاب کے حلقہ پی پی کہوٹہ کے 68 پولنگ سٹیشن کی دوبارہ گنتی کیلئے درخواست دی تھی، دوبارہ گنتی کے نتیجے میں راجہ صغیر احمد جیت گئے، دوبارہ گنتی میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار راجہ صغیر احمد کے 3 ہزار 621 ووٹ بڑھ گئے، ہارنے والے آزاد امید کرنل (ر) شبیر اعوان نے کہا کہ بیلٹ پیپرز پر ڈبل مہر لگا کر ووٹ مسترد کر دیئے گئے۔

    علاوہ ازیں پنجاب کے حلقہ پی پی 90 میں دوبارہ گنتی پر تحریک انصاف کے حمایت یافتہ کامیاب امیدوار عرفان اللہ خان ہار گئے جبکہ آزاد امیدوار احمد نواز خان نوانی 7 ووٹوں کی برتری سے کامیاب ہو گئے ہیں،عرفان اللہ خان نے کہا ہے کہ ری انتخابات
    کاؤنٹنگ غیر قانونی تھی، فارم 47 جاری ہونے کے بعد مجھے ہرانے کیلئے دوبارہ گنتی کی گئی، ہمارے ووٹ ریجیکٹ کئے گئے، ڈبل مہریں لگائی گئیں، جھوک قلندر بخش پولنگ سٹیشن کا ہمارا رزلٹ شامل ہی نہیں کیا گیابیلٹ پیپرز والے تھیلے پھٹے ہوئے تھے جو واضح ثبوت ہے کہ جعل سازی کی گئی، زبردستی ہرانے کیخلاف قانونی کارروائی کریں گے، عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائیں گے۔

  • قطر میں سزا پانیوالے بھارتی سابق نیول افسران کو شاہ رخ خان نے رہا کرایا، بی جے پی رہنما کاانکشاف

    قطر میں سزا پانیوالے بھارتی سابق نیول افسران کو شاہ رخ خان نے رہا کرایا، بی جے پی رہنما کاانکشاف

    نئی دلی: بی جے پی رہنما نے انکشاف کیا ہے کہ قطر میں اسرائیل کےلیے جاسوسی کے الزام میں جن 8 بھارتی نیول افسران کو سزائے موت سنائی تھی انہیں رہا کرانے میں بھارتی اداکار شاہ رخ نے کردارادا کیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کی ہندو انتہا پسند حکمران جماعت بی جے پی کے رہنما اور راجیہ سبھاکے سابق رکن سبرا منیم سوامی نے انکشاف کیاہے کہ قطر نے اسرائیل کےلیے جاسوسی کےالزام میں جن 8 بھارتی نیول افسران کو سزائے موت سنائی تھی انہیں رہا کرانے میں بھارتی اداکار شاہ رخ نے کردارادا کیا، بھارتی وزارت خارجہ اور قومی سلامتی کا مشیر قطر کا یہ فیصلہ واپس کرانے میں ناکام ہو چکے تھے۔

    ٹوئٹر پر مودی کے ایک پیغام کے جواب میں انہوں نے بھارتی وزیراعظم کو یہ مشورہ بھی دیا کہ وزیراعظم مودی کو چاہیے کہ جب وہ قطر جائیں تو اپنے ہمراہ شاہ رخ خان کو لے جائیں کیونکہ وزارت خارجہ اور قومی سلامتی کا مشیر تو اس کام میں ناکام ہو چکے تھے،نریندر مودی کی درخواست پر شاہ رخ خان نے مداخلت کی اور ہماری بحریہ کے افسران کو قطری شیخوں سے رہا کرانے کے لیے مہنگی سیٹلمنٹ کی۔

    واضح رہے کہ بھارتی بحریہ کے سابق اہلکاروں کو 2022 میں قطر کے خلاف اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے پر گرفتار کر کے جیل بھیجا گیا تھا جس کے بعد اُن کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز ہوا اور اس دوران گرفتار اہلکاروں کو اپنی صفائی پیش کرنے کا مکمل موقع فراہم کیا گیا،بھارتی ایجنسیاں جاسوس اہلکاروں کو مسلسل مدد فرہم کرتی رہیں جبکہ جاسوس اہلکار داہرا گلوبل ٹیکنالوجی میں چھوٹی آبدوزیں بنانے جیسے ایک حساس نوعیت کے منصوبے پر کام کررہے تھے۔

    بھارتی بحریہ کے 8 سابق اہلکاروں کی سزائے موت کو دسمبر 2023 میں تبدیل کر دیا گیا تھا، بھارت نے رہائی پانے والے 8 سابق اہلکاروں میں سے 7 کے واپس پہنچنے کی تصدیق کی ہے،یہ رہائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بھارت اور قطر نے 78 ارب ڈالر کےمائع قدرتی گیس کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں،بھارتی جاسوس فوجی اہلکاروں میں کیپٹن نوتیج سنگھ گل،برندرہ کمار ورما، سورابھ وشست،کمانڈر امت نگپال، پریندو تواری، سگناکر پکالا, سنجیو گپتا اور ملاح راجیش شامل ہیں۔

  • پیپلز پارٹی اور ن لیگ ایک سکے کے دو رخ ہیں،پی ٹی آئی سینیٹر

    پیپلز پارٹی اور ن لیگ ایک سکے کے دو رخ ہیں،پی ٹی آئی سینیٹر

    لاہور: پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ مخلوط حکومت بنانا آسان کام نہیں ، مخلوط حکومت میں بارگیننگ کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

    باغی ٹی وی: نجی ٹی وی کے پروگرام میں میں گفتگو کرتے ہوئے ن لیگ کے رہنما خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ مخلوط حکومت بنانا آسان کام نہیں ، مخلوط حکومت میں بارگیننگ کا سلسلہ جاری رہتا ہے اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ جو بھی حکومت بنے وہ 5 سال کے لیے ہونی چاہیے حکومت سازی کیلئے مزید آزاد ارکان رابطے میں ہیں، پنجاب میں ن لیگ کی مستحکم حکومت آئے گی۔

    پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ نے کہا کہ عوام کی خوشحالی کیلئے ن لیگ قیمت دے گی تو پیپلز پارٹی کو بھی قیمت دینا پڑے گی، یہ نہیں ہوسکتا کہ پیپلزپارٹی ہمیں وزیراعظم کی کرسی پر بٹھا کر نیچے سے سیڑھی کھینچ لے۔

    کیا پاکستان پیپلز پارٹی ،پی ٹی آئی کے ساتھ چلنے کے انتظار …

    پیپلز پارٹی کے رہنما ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ابھی صدر سمیت مختلف عہدوں پر ن لیگ سے کوئی بات نہیں ہوئی،پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر ولید اقبال کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ ایک سکے کے دو رخ ہیں۔

    دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف نے وزیراعظم کیلئے شہبازشریف کو نامزد کردیا جب کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی امیدوار مریم نواز ہوں گے،مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا تھاکہ نوازشریف نے وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عہدے کیلئے شہبازشریف کو نامزد کر دیا ہے جب کہ وزیراعلیٰ کیلئے مریم نوازشریف امیدوار ہوں گی وازشریف نے پاکستان کے عوام اور سیاسی تعاون فراہم کرنے والی تمام سیاسی جماعتوں اورانکےقائدین کا شکریہ ادا کیا ہےنواز شریف نے یقین کا اظہار کیا ہےکہ ان فیصلوں کے نتیجے میں پاکستان معاشی خطرات، عوام مہنگائی سے نجات پائیں گے۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی، متحدہ قومی موومنٹ، مسلم لیگ (ق)، استحکام پاکستان پارٹی اور بلوچستان عوامی پارٹی نے وفاق میں اتحادی حکومت بنانے کا اعلان کیا ہے اسلام آباد میں مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کی رہائش گاہ پر ملکی سیاسی جماعتوں کا اجلاس ہوا جس میں آصف زرداری، شہباز شریف، خالد مقبول صدیقی اور صادق سنجرانی نے شرکت کی۔

    پی ایم ایل این کے صدر شہباز شریف کی جےیوآئی سربراہ مولانا فضل الرحمان …

    اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں رہنماؤں نے اتحادی حکومت بنانے کا اعلان کیا، پیپلزپارٹی کی قیادت کامؤقف ہے پہلے مرحلے میں پی پی وفاقی کابینہ کا حصہ نہیں بنےگی جبکہ دوسرے مرحلے میں پیپلزپارٹی کابینہ کا حصہ بن سکتی ہے۔

    قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) 79، پیپلزپارٹی 54، متحدہ قومی موومنٹ 17، مسلم لیگ (ق) 3، استحکام پاکستان پارٹی 2 اور بلوچستان عوامی پارٹی نے ایک نشست حاصل کی ہے یوں اس اتحاد کو مجموعی طور پر 156 ارکان کی حمایت حاصل ہے اور مخصوص نشستیں ملنے کے بعد حکومت بنانے کیلئے 172 کا ہندسہ بآسانی عبور کرجائے گاپاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد ارکان کی تعداد 92 ہے اور دیگر جماعتوں نے ایک ایک نشست حاصل کی ہے۔

    بلاول بھٹو کا خیال ہے کہ کراچی پر صرف انکا حق ہے، فیصل …

  • بلوچستان اسمبلی میں 31 فیصد نئے چہرے  پہنچے

    بلوچستان اسمبلی میں 31 فیصد نئے چہرے پہنچے

    کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی میں 31 فیصد نئے چہرے پہنچے ہیں، 69 فیصد ایسے اراکین ہیں جو دوسری سے آٹھویں بار بلوچستان اسمبلی کا حصہ بننے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : 41 فیصد نومنتخب ارکان 2018 کی بلوچستان اسمبلی کا بھی حصہ تھے،عام انتخابات 2024 میں بلوچستان اسمبلی کی 51 جنرل نشستوں پر انتخاب ہوا ہے جبکہ 14 مخصوص نشستیں بعد میں پارٹی پوزیشن کے حساب سے تقسیم کی جائیں گی۔

    اعداد و شمار کے مطابق 51 جنرل نشستوں پر منتخب ہونے والوں میں 16 ارکان ایسے ہیں جو پہلی مرتبہ بلوچستان اسمبلی کا حصہ بنیں گے،نئے چہروں میں تین کا تعلق جے یو آئی، تین کا پیپلز پارٹی اور دو کا مسلم لیگ ن سے ہے۔

    جمعیت علمائے اسلام کے سید ظفرآغا، فضل قادر مندوخیل، ڈاکٹر محمد نواز کبزئی، پیپلزپارٹی کے سردار زادہ فیصل جمالی، صمدخان گورگیج اور عبیداللہ گورگیج، ن لیگ کے زرک خان مندوخیل اور برکت علی رند پہلی مرتبہ بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں، نیشنل پارٹی کے خیر جان بلوچ، جماعت اسلامی کے عبدالمجید بادینی، حق دو تحریک کے مولانا ہدایت الرحمان، تین آزاد امیدوار بخت محمد کاکڑ، ولی محمد نورزئی اور لیاقت لہڑی بھی پہلی مرتبہ ایوان کا حصہ بنے ہیں، ان میں فیصل جمالی، صمد خان گورگیج، زرک خان مندوخیل اور برکت علی رند کا تعلق سیاسی خاندانوں سے ہیں اور ان کے بھائی، والد، سسر یا دوسرے قریبی رشتہ دار ایوانوں کا حصہ رہ چکے ہیں۔

    بلوچستان عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی اور سینیٹر پرنس احمد عمر زئی اگرچہ ایوان بالا کا حصہ ہیں مگر وہ پہلی مرتبہ بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں، بلوچستان اسمبلی کی 51 جنرل نشستوں پر منتخب ہونے والے اراکین میں سے 35 لوگ یعنی 69 فیصد پرانے چہرے ہیں ان میں 15 ارکان دوسری، سات ارکان تیسری، سات چوتھی، دو ارکان پانچویں بار، دو ارکان چھٹی بار اور دو ارکان آٹھویں بار بلوچستان اسمبلی کے رکن بنے ہیں۔

    دوسری بار بلوچستان اسمبلی پہنچنے والوں میں پیپلز پارٹی کے سرفراز احمد بگٹی، میر نصیب اللہ مری اور علی مدد جتک، اور مسلم لیگ ن کے سابق وزیراعلیٰ جام کمال خان اور شعیب نوشیروانی شامل ہیں، جمعیت علمائے اسلام کے زابد علی ریکی، اصغر ترین، یونس عزیز زہری، خلیل الرحمان دمڑ، غلام دستگیر بادینی، بلوچستان عوامی پارٹی کے ضیاء اللہ لانگو، عوامی نیشنل پارٹی کے ملک نعیم بازئی، آزاد امیدوار اسفند یار کاکڑ، عبدالخالق اچکزئی اورمولوی نور اللہ دوسری بار بلوچستان اسمبلی پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

    پیپلز پارٹی کے سردار سرفراز ڈومکی، ظہور احمد بلیدی اور میر اصغر رند، ن لیگ کے محمد خان طور اتمانخیل، جمعیت علمائے اسلام کے ظفراللہ زہری اور نیشنل پارٹی کے رحمت بلوچ تیسری بار بلوچستان اسمبلی کے رکن بنے ہیں، سات ارکان چوتھی بار بلوچستان اسمبلی پہنچے ہیں ان میں سابق وزیراعلیٰ جمعیت علمائے اسلام کے نواب محمد اسلم رئیسانی، مسلم لیگ ن کے سردار عبدالرحمان کھیران، محمد سلیم کھوسہ اور سردار مسعود لونی، پیپلز پارٹی کے محمد صادق عمرانی، بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی ) کے اسد بلوچ اور عوامی نیشنل پارٹی کے انجینیئر زمرک خان اچکزئی شامل ہیں۔

    نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیراعلیٰ سردار اختر مینگل پانچویں مرتبہ بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں، بلوچستان عوامی پارٹی کے نوابزادہ طارق مگسی اور مسلم لیگ ن کے میر عاصم کرد گیلو چھٹی بار بلوچستان اسمبلی میں اپنے حلقوں کی نمائندگی کریں گے۔

    بلوچستان اسمبلی کے سب سے سینیئر ارکان میں سابق وزیراعلیٰ پیپلز پارٹی کے نواب ثناء اللہ زہری اور بلوچستان عوامی پارٹی کے سردار محمد صالح بھوتانی شامل ہیں دونوں آٹھویں بار بلوچستان اسمبلی کے رکن بنے ہیں۔ نواب ثناء اللہ زہری 1988 سے اب تک صرف 1997 میں بلوچستان اسمبلی سے باہر رہے، تاہم اس عرصے میں وہ سینیٹ کے رکن رہے۔

    سردار صالح بھوتانی 1985 سے اب تک صرف 2002 اور2008 کی اسمبلیوں سے باہر رہے اور ان کی جگہ ان کے چھوٹے بھائی محمد اسلم بھوتانی نے انتخاب لڑا اور دو مرتبہ بلوچستان اسمبلی کے رکن رہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ 51 جنرل نشستوں پر منتخب ہونے والوں میں 21 افراد یعنی 41 فیصد پچھلی ( 2018 کی) بلوچستان اسمبلی کا بھی حصہ تھے۔

    ان میں جام کمال، نواب اسلم رئیسانی، زمرک خان اچکزئی، اسد بلوچ، ثناء اللہ زہری، عبدالرحمان کھیتران، طارق مگسی، ملک نعیم بازئی، زابد علی ریکی، صالح بھوتانی، سرفراز ڈومکی، محمد خان طور اتمانخیل، اصغر علی ترین، نصیب اللہ مری، سردار مسعود لونی، ضیاء اللہ لانگو، محمد خان لہڑی، یونس عزیز زہری، مولوی نور اللہ، محمد سلیم کھوسہ، ظہور احمد بلیدی شامل ہیں۔

    بلوچستان اسمبلی میں نو منتخب ارکان میں نواب ثنا اللہ زہری اور ظفر اللہ زہری آپس میں بھائی ہیں، نومنتخب رکن عبیداللہ گورگیج کے والد ملک شاہ گورگیج 8 فروری 2024 کے انتخابات میں این اے 259 کیچ کم گوادر سے رکن قومی اسمبلی، جبکہ نوابزادہ طارق مگسی کے بھائی نوابزادہ خالد مگسی حالیہ انتخابات میں این اے 254 جھل مگسی کم کچھی کم نصیرآباد سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ آٹھ نومنتخب ارکان ایسے ہیں جن کے والد بھی ماضی میں بلوچستان اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں ان میں جام کمال خان، نواب اسلم رئیسانی، سردار اختر مینگل، سرفراز ڈومکی، عبدالرحمان کھیتران، سردار مسعود لونی، خلیل الرحمان دمڑ اور شعیب نوشیروانی شامل ہیں، سردار صالح بھوتانی، فیصل جمالی، محمد خان لہڑی، ضیاء اللہ لانگو کے بھائی، زرک مندوخیل کے سسر، سلیم کھوسہ اور پرنس عمر احمد زئی، ظہور احمد بلیدی، برک علی رند، میر اصغر رند کے کئی قریبی رشتہ دار ماضی میں بلوچستان اسمبلی کا حصہ رہ چکے ہیں۔

    ان میں پیپلز پارٹی کے ملک شاہ گورگیج، نوابزادہ جمال رئیسانی، جمعیت علمائے اسلام کے مولوی سمیع الدین، نیشنل پارٹی کے پھلین بلوچ، تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار عادل خان بازئی، آزاد امیدوار میاں خان بگٹی شامل ہیں، سابق وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کے بھتیجے 25 سالہ نوابزادہ جمال رئیسانی قومی اسمبلی کے سب سے کم عمر ارکان میں ایک ہیں۔

    جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پہلی بار بلوچستان سے قومی اسمبلی کا رکن بنے ہیں، تاہم وہ اس سے پہلے اپنے آبائی صوبے خیبر پشتونخوا سے پانچ مرتبہ ایوان زیریں کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام کے جنرل سیکریٹری مولانا عبدالغفور حیدری تیسری بار قومی اسمبلی پہنچے ہیں۔

    پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی چھ سال بعد قومی اسمبلی میں واپسی ہوئی ہے۔ وہ 2002،1997،1993،1990 اور 2013 میں بھی قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں سابق وفاقی وزیر مسلم لیگ ن کے سردار یعقوب خان ناصر پانچویں بار قومی اسمبلی کے رکن بنے ہیں۔ وہ اس سے پہلے 1990، 1997، 2002 اور 2008 میں بھی قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔

    بلوچستان عوامی پارٹی کے نوابزادہ خالد مگسی مسلسل تیسری بار قومی اسمبلی کے رکن بنے ہیں، مسلم لیگ ن کے سابق وزیراعلیٰ جام کمال خان اور خان محمد جمالی، جمعیت علماء اسلام کے محمد عثمان بادینی دوسری بار قومی اسمبلی کے رکن بنے ہیں، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیراعلیٰ سردار اختر مینگل تیسری بار قومی اور صوبائی اسمبلی کا انتخاب بیک وقت جیتے ہیں۔ 1997 میں انہوں نے صوبائی اور2018 میں قومی اسمبلی کی نشست کو ترجیح دی۔

  • یومیہ کی بنیاد پر پورنو گرافی مواد شئیر کرنے کی تعداد بتا ئی تو قوم کے سر شرم سے جھک جائیں،ایف آئی اے

    یومیہ کی بنیاد پر پورنو گرافی مواد شئیر کرنے کی تعداد بتا ئی تو قوم کے سر شرم سے جھک جائیں،ایف آئی اے

    کراچی: وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) سائبر کرائم ونگ کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمود الحسن نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان پورن سائٹس دیکھنے والے ممالک میں سرفہرست ہے اور یہاں چائلڈ پورنو گرافی کے کیسز بھی یومیہ بنیاد پر سامنے آتے ہیں-

    باغی ٹی وی: جامعہ کراچی کے دفتر مشیر امور طلبہ کے زیر اہتمام چائنیز ٹیچرز میموریل آڈیٹوریم میں منعقدہ آگاہی سیمینار بعنوان: ”توہین آمیزمواد:سوشل میڈیا کا غلط استعمال“ سے خطاب کرتے ہوئے سائبر کرائم ونگ کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمود الحسن نے کہا کہ پاکستان پورن سائٹس دیکھنے والے ممالک میں سرفہرست ہے اور یہاں چائلڈ پورنو گرافی کے کیسز بھی یومیہ بنیاد پر سامنے آتے ہیں، چائلڈ پورنو گرافی کی شیئرنگ کےحوالے سے روزانہ کی بنیاد پر جو اعداد و شمار ہم سےشیئر کئے جاتے ہیں، اگر وہ سامنے لے آؤں تو پوری قوم کا سرشرم سے جھک جائے گا۔

    اسلام آباد میں فائرنگ،ڈولفن اہلکار زخمی

    ڈپٹی ڈائریکٹر سائبر ونگ ایف آئی اے اسلام آباد محمودالحسن نے کہا کہ پورن ویب سائٹس دیکھنے والے افراد کو توہین رسالت پر مبنی مواد شیئر کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، پہلے فحاشی دیکھنے کا عادی بنایاجاتا اور بعد مزید فحاشی دکھانے کے لئے ان سے اپنی مرضی کے مطابق مواد شیئر کرایا جاتا ہے۔

    خیبرپختونخوا میں درخت کیوں گرفتار ہوا ؟

    محمود الحسن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہم نے 344 افراد گرفتارکئے جس میں سے ایک غیرمسلم جبکہ باقی تمام مسلمان تھے جن کی عمریں 15 سے 35 سال کے درمیان تھی، توہین آمیز مواد اَپ لوڈ،شیئر کرنے پر گزشتہ سال سات افراد کو سزائے موت دلوائیں اورباقی ماندہ 242 کیسز جو آخری مراحل میں چل رہے ہیں،ایک سے دوسال میں 100 کے قریب مزید افراد کو سزائے موت دی جائے گی295 سی کی سزاصرف اور صرف موت ہے اور اس میں ملوث افراداپنی دنیا اور آخرت دونوں برباد کردیتے ہیں۔

    کیا پاکستان پیپلز پارٹی ،پی ٹی آئی کے ساتھ چلنے کے انتظار …

  • ملک میں  موسم  خشک رہنے کا امکان

    ملک میں موسم خشک رہنے کا امکان

    اسلام آباد: محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہنے کا امکان ہے۔

    باغی ٹی وی:محکمہ موسمیات کے مطابق پنجاب کے بیشتر اضلاع میں موسم سرد اور خشک رہے گا اسلام آباد، مر ی، گلیات اور گردو نواح میں بھی موسم شدید سرد اور خشک رہے گا، نارووال ، شیخوپورہ ، سیالکوٹ، حافظ آباد، گوجرانوالہ، لیہ، بہاولپور اور ملتان میں بعض مقا مات پر ہلکی دھند پڑنے کا بھی امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق خیبرپختونخوا کے بیشتر اضلاع میں موسم سرد اور خشک جب کہ بالائی اضلاع میں شدید سرد رہے گا، سندھ اور بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم سرد اور خشک رہنے کی پیشگوئی ہےگزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم سرد اور مطلع جزوی ابر آلود جبکہ شمالی اضلاع میں شدید سرد رہا، تاہم جنوبی بلوچستان میں چند مقا مات پر بارش ہوئی۔

    میاں صاحب کے پاس کمزور مینڈیٹ ہے اور ہم اسکا حصہ نہیں بننا چاہتے،اعتزاز احسن

    شہباز شریف چاہتے تھے کہ وزیرا عظم نواز شریف ہو، رانا ثناءاللہ

    اسلام آباد میں فائرنگ،ڈولفن اہلکار زخمی

  • کلاسیکی لب و لہجے کے معروف، ممتاز اور مقبول شاعر” کلیم عاجزؔ  “

    کلاسیکی لب و لہجے کے معروف، ممتاز اور مقبول شاعر” کلیم عاجزؔ “

    دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
    تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

    کلیم عاجز

    14 فروری 2015ء : تاریخ وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کلاسیکی لب و لہجے کے لئے معروف، ممتاز اور مقبول شاعر” کلیم عاجزؔ “ کا یومِ ولادت…نام کلیم احمد اور تخلص عاجزؔ ہے۔ ١١ اکتوبر ۱۹۲٠ء میں قصبہ تلہاڑہ، ضلع پٹنہ میں پیدا ہوئے۔کلاس شروع ہوتے ہی والد کا انتقال ہوگیا،چنانچہ پڑھائی کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔ ۱۹۴۶ء میں بہارمیں فساد کی آگ بھڑک اٹھی،گھر کے تمام افراد شہید کردیے گئے۔ ان جاں گسل حالات کا ذہن پر بہت برا اثر ہوا اور دنیا ومافیہا کی خبر نہ رہی۔لمبے وقفے کے بعد۱۹۵۶ء بی اے (آنرز)اور۱۹۵۸ء میں ایم اے کا امتحان دیا اور پوری یونیورسٹی میں اول آئے اور طلائی تمغہ حاصل کیا۔’’بہار میں اردو شاعری کے ارتقا‘‘ پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ۱۹۶۵ء میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔پٹنہ کالج، پٹنہ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں ریڈر کے منصب پر فائز ہوئے۔ مسلم ہائی اسکول کے نویں جماعت میں جب زیر تعلیم تھے تو چند غزلیں لکھ کر اسکول کے ہیڈ مولوی ثمر آروی سے اصلاح لی۔پہلی او رآخری اصلاح یہی تھی۔ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’مجلسِ ادب‘، ’وہ جوشاعری کا سبب ہوا‘، ’جہاں خوش بو ہی خوش بو تھی‘، ’یہا ں سے کعبہ ، کعبے سے مدینہ‘، ’اک دیس ایک بدیسی‘۔بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:172

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    آزمانا ہے تو آ بازو و دل کی قوت
    تو بھی شمشیر اٹھا ہم بھی غزل کہتے ہیں

    اپنا لہو بھر کر لوگوں کو بانٹ گئے پیمانے لوگ
    دنیا بھر کو یاد رہیں گے ہم جیسے دیوانے لوگ

    ہاں کچھ بھی تو دیرینہ محبت کا بھرم رکھ
    دل سے نہ آ دنیا کو دکھانے کے لئے آ

    دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
    تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

    مے میں کوئی خامی ہے نہ ساغر میں کوئی کھوٹ
    پینا نہیں آئے ہے تو چھلکائے چلو ہو

    مے کدے کی طرف چلا زاہد
    صبح کا بھولا شام گھر آیا

    اس قدر سوز کہاں اور کسی ساز میں
    کون یہ نغمہ سرا میر کے انداز میں ہے

    مری شاعری میں نہ رقص جام نہ مے کی رنگ فشانیاں
    وہی دکھ بھروں کی حکایتیں وہی دل جلوں کی کہانیاں

    تلخیاں اس میں بہت کچھ ہیں مزا کچھ بھی نہیں
    زندگی دردِ محبت کے سوا کچھ بھی نہیں

    سینے کے زخم پاؤں کے چھالے کہاں گئے
    اے حسن تیرے چاہنے والے کہاں گئے

    تو رئیس شہر ستم گراں میں گدائے کوچۂ عاشقاں
    تو امیر ہے تو بتا مجھے میں غریب ہوں تو برا ہے کیا

    یہ ستم کی محفل ناز ہے کلیمؔ اس کو اور سجائے جا
    وہ دکھائیں رقص ستم گری تو غزل کا ساز بجائے جا

    یہ طرز خاص ہے کوئی کہاں سے لائے گا
    جو ہم کہیں گے کسی سے کہا نہ جائے گا

    یہ وعظ وفاداری عاجزؔ نہ بدل دینا
    وہ زخم تجھے دیں گے تم ان کو غزل دینا

    ہم خاک نشیں تم سخن آرائے سر بام
    پاس آ کے ملو دور سے کیا بات کرو ہو

    یہ ستم کی محفل ناز ہے کلیمؔ اس کو اور سجائے جا
    وہ دکھائیں رقص ستم گری تو غزل کا ساز بجائے جا

    غم دل ہی کے ماروں کو غمِ ایام بھی دے دو
    غم اتنا لینے والے کیا اب اتنا غم نہیں لیں گے

    امتحان شوق میں ثابت قدم ہوتا نہیں
    عشق جب تک واقف آداب غم ہوتا نہیں

    حقیقتوں کا جلال دیں گے صداقتوں کا جمال دیں گے
    تجھے بھی ہم اے غم زمانہ غزل کے سانچے میں ڈھال دیں گے

    کوئے قاتل ہے مگر جانے کو جی چاہے ہے
    اب تو کچھ فیصلہ کر جانے کو جی چاہے ہے

    نظر کو آئنہ دل کو ترا شانہ بنا دیں گے
    تجھے ہم کیا سے کیا اے زُلفِ جانانہ بنا دیں گے

    شکایت ان سے کرنا گو مصیبت مول لینا ہے
    مگر عاجزؔ غزل ہم بے سنائے دم نہیں لیں گے

  • افغان باشندوں کو پاسپورٹ اور شناختی کارڈ جاری کرنے پر4  افسران سمیت 16 ملزمان  گرفتار

    افغان باشندوں کو پاسپورٹ اور شناختی کارڈ جاری کرنے پر4 افسران سمیت 16 ملزمان گرفتار

    اسلام آباد: ایف آئی اے نے افغان باشندوں کو پاکستانی پاسپورٹ اور شناختی کارڈ جاری کرنے والے پاسپورٹ اینڈ امیگریشن کے 3 اسسٹنٹ ڈائریکٹرز اور نادرا کے 4 افسران سمیت 16 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی : ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے افغان باشندوں کو پاکستانی پاسپورٹ اور شناختی کارڈ جاری کرنے والے بین الاقوامی ریکٹ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے پاسپورٹ اینڈ امیگریشن کے 3 اسسٹنٹ ڈائریکٹرز، 4 ایجنٹس، 5 افغان شہریوں کو گرفتار کر لیا۔

    ترجمان کے مطابق ایک دوسری کاروائی میں جعلی دستاویزات پر شناختی کارڈ تیار کرنے میں ملوث نادار کے 4 افسران اور ایجنٹوں کو بھی گرفتار کرلیا گیا کارروائی نادرا اور پاسپورٹ اینڈ امیگریشن ڈائریکٹوریٹ اسلام آباد کی شکایت پر عمل میں لائی گئی جس کے دوران مجموعی طور پر 16 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کرنے کی تیاری

    ایف آئی اے ترجمان کےمطابق ملزمان تفتیش جاری ہے جس کی روشنی میں افغان باشندوں کے پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنانے میں ملوث مزید نادرا اورپاسپورٹ اینڈ امیگریشن افسران اور ایجنٹوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

    این اے 119 کے ضمنی الیکشن پر سعد رفیق کو ٹکٹ ملنے کا امکان

    علی امین گنڈاپور کی 24 مقدمات میں ضمانت منظور