Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • سائفر کیس: عمران خان کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع

    سائفر کیس: عمران خان کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت کا جیل سماعت کا تحریری حکم نامہ

    دوران سماعت عدالت کی جانب سے جیل حکام کے کنڈکٹ کے حوالے سے پوچھنے پر عمران خان نے جیل حکام کے کنڈکٹ کو تسلی بخش قرار دیا اور کہا جیل میں خود کو محفوظ محسوس کرتا ہوں عمران خان نے جیل سہولیات کے حوالے سے کوئی شکایت نہیں کی ایک استدعا کی کہ جیل میں تنہائی میں بشری بی بی سے ملاقات کا وقت بڑھایا جائے عدالت نے جیل سپریڈنٹ کو ہدایت کی وہ جیل مینوئل کے مطابق عمران خان کو مزید سہولیات دے سکتے ہیں تو دیں ایف آئی اے کی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کیخلاف چالان جمع کروانے کے مہلت کی استدعا منظور کرتے ہوئے عدالت نے ایف آئی اے کو 26 ستمبر تک چالان جمع کرانے کا حکم دیا ہے

    چیئرمین پی ٹی آئی کےخلاف سائفرکیس کی اٹک جیل میں ہوئی جس میں عمران خان کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع کردی گئی جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے چیئرمین پی ٹی آئی کا 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ ختم ہونے پر کیس کی سماعت کی،

    اس دوران ایف آئی اے کی خصوصی ٹیم بھی اسلام آباد سے اٹک جیل پہنچی عمران خان کو جوڈیشل ریمانڈ ختم ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا جب کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم کے 9 وکلاء بھی سماعت میں موجود تھے۔عدالت نے ایف آئی اے کو 26 ستمبر تک چالان جمع کرانے کا حکم دے دیا، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے جیل حالات کو تسلی بخش قرار دیا،آج عمران خان نے جیل سماعت میں عدالت کے سامنے جیل میں مشکلات کے حوالہ سے کوئی بات نہیں کی،

    گزشتہ روز عمران خان کے خلاف سائفر کیس کی سماعت کا نوٹیفکیشن وزارت قانون نے جاری کیا تھا،خصوصی عدالت کے جج کی درخواست پر عمران خان کے خلاف سائفر کیس کی سماعت اٹک جیل میں ہوئی،عدالت نے سکیورٹی وجوہات پر سماعت جیل میں کرنے کی درخواست کی تھی حکام کا کہنا ہے کہ وزارت قانون کو سماعت اٹک جیل میں ہونے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

    مصر میں سمندر کے پانی کا رنگ اچانک تبدیل

    واضح رہے کہ 7 ستمبر کو سفارتی سائفر گشمدگی کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی درخواست پر سماعت بغیر کارروائی کے ملتوی کردی گئی تھی آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم کی گئی خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین کی رخصت پر ہونے کے باعث سماعت ملتوی کی گئی تھی۔

    گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس سماعت کی اٹک جیل منتقلی کیخلاف عمران خان کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھاچیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامرفاروق نے عمران خان کے وکیل اورایف آئی اے پراسیکیوٹرکے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیاتھا۔

    وزارت قانون کا نوٹیفکیشن عدالت کے سامنے پڑھنے والے عمران خان کے وکیل شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ٹرائل کی دوسرے صوبے منتقلی قانونی طورصرف سپریم کورٹ کرسکتی ہے۔چیف کمشنریا سیکرٹری داخلہ کا اختیارنہیں کہ وہ ٹرائل دوسرے صوبےمنتقل کریں۔

    طیارہ کے ہائیڈرولک سسٹم میں خرابی، کھیتوں میں ہنگامی لینڈنگ

  • چین میں سیلاب سے فارم سےدرجنوں مگر مچھ فرار،شہریوں کو گھروں میں رہنے کی تلقین

    چین میں سیلاب سے فارم سےدرجنوں مگر مچھ فرار،شہریوں کو گھروں میں رہنے کی تلقین

    چین میں ہائی کوئی طوفان کے باعث پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال کے باعث ایک بریڈنگ فارم سےدرجنوں مگر مچھ باہر نکل گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق جنوبی چین میں طوفانی بارشوں نے تباہی مچا دی جس کے باعث متعدد افراد مختلف حادثات میں ہلاک ہو گئے گوانگ ڈونگ صوبے کے شہر ماومنگ کے ارد گرد سیلاب کی وجہ سے مگرمچھ کے فارم کی ایک جھیل سے 70 سے زائد نکل پڑے، جن کی تلاش کی جارہی ہے، شہریوں کو گھرکے میں رہنے کی تنبیہ کی ہے گلوبل ٹائمز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں مگرمچھوں کو فارم کے اطراف میں دیکھا جا سکتا ہے،مگرمچھ ’سیامی‘ نسل کے ہیں، جو تازہ پانی میں نشوونما پاتے ہیں، ان کی لمبائی 10 فُٹ تک لمبی اور اوسطاً وزن 75 کلوگرام ہو سکتا ہے۔

    مصر میں سمندر کے پانی کا رنگ اچانک تبدیل

    مگرمچھوں کے شہر بھر میں موجودگی کے باعث پولیس نے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کر دی تاکہ کسی بھی نقصان سے بچا جا سکے فرار ہونے والےمگرمچھوں میں چھوٹے بڑے شامل ہیں چینی حکام کے مطابق کچھ مگر مچھوں کو دوبارہ قابو کر لیا گیا تھا اور کچھ کو مبینہ طور پر گولی مار دی گئی ہے یا بجلی کا کرنٹ لگ گیا ہے تاہم اب بھی 8 مگر مچھ غائب ہیں جن کی تلاش کا عمل جاری ہے علاقےمیں ایک گہری جھیل ہونےکی وجہ سےریسکیو آپریشن میں مشکلات پیش آ رہی ہیں مقامی پولیس کےمطابق کہیں سےبھی مگرمچھوں کی جانب سے کسی کو نقصان پہنچانے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

    چین سمندرمیں تھرمل توانائی سے بجلی پیدا کرنے میں کامیاب

    واضح رہے کہ چین میں مگرمچھوں کو ان کی جلد کے ساتھ ساتھ ان کے گوشت کے لیے بھی پالا جاتا ہے، جسے بعض اوقات روایتی ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے۔

  • صحافی ، شاعرہ اور افسانہ نگار  ثریا شہاب

    صحافی ، شاعرہ اور افسانہ نگار ثریا شہاب

    جو درد کے صحرا میں کبھی باد صبا تھی
    اب شہر سے تیرے وہ ہوا بھی نہیں آتی

    1945 کو کراچی میں پیدا ہونے والی ثریا شہاب نے ریڈیو ،ٹیلی ویژن کی صحافت، ادب اور شاعری میں عالمی سطح پر شہرت حاصل کی انہوں نے پاکستان، جرمنی، برطانیہ اور ایران سمیت 4 ممالک میں اپنی صحافتی خدمات سر انجام دیں۔ ثریا شہاب نے ریڈیو ایران زاہدان، پاکستان ٹیلی ویژن، بی بی سی لندن اور ریڈیو دوئچے ویلے جرمنی میں براڈ کاسٹنگ کی خدمات سرانجام دیں۔ انھوں نے سب سے پہلے ریڈیو پاکستان کراچی کے ڈراموں میں صداکاری سے اپنا کیریئر شروع کیا جس کے بعد انہوں نے اپنے براڈکاسٹنگ کیریئر کا آغاز ریڈیو تہران کے ایک میگزین پروگرام سے کیا تھا، ان کا یہ پروگرام عوام بالخصوص نوجوانوں میں بہت مقبول تھا۔ نوجوان اس پروگرام کا بے چینی سے انتظار کیا کرتے تھے۔ اس پروگرام کا آغاز کچھ یوں ہوا کرتا تھا، ”آواز کی دنیا کے دوستو یہ ریڈیو ایران، زاہدان ہے“۔ بعدازاں ثریا شہاب نے ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی ویژن میں بطور نیوز ریڈر ملازمت کا آغاز کیا، انہوں نے اس شعبے میں بہت اعلیٰ مقام حاصل کیا اور اپنے عہد کی سلیبریٹی بن گئیں۔

    1984 میں ثریا شہاب نے بی بی سی اردو سروس میں شمولیت اختیار کی وہ ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن سے بی بی سی کی اردو سروس کے لیے منتخب ہونے والی خاتون اینکر تھیں 1985 میں وہ لندن منتقل ہوگئیں ان کے شوہر رضی رضوی بھی اسی سال وائس آف امریکہ کے لیے منتخب ہوئے اور وہ واشنٹگن چلے گئے۔ ثریا شہاب نے شاعری بھی کی ناول اور افسانے بھی لکھے۔ ان کی 5 کتابیں چھپ چکی ہیں جن میں دو ناول، ایک افسانوی مجموعہ ایک شعری مجموعہ’’ خود سے ایک سوال‘‘ اور ” سفر جاری ہے“” کے نام سے ایک سفرنامہ شامل ہے ۔

    ثریا شہاب نے پاکستان میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے اسٹاف حقوق کے لیئے بھرپور جدوجہد کی جبکہ انہوں نے راولپنڈی میں ” پاکستان یوتھ لیگ“” کے نام سے ایک تنظیم بھی بنائی تھی جس کے تحت انھوں نے پانی کے متعدد کنویں کھدوائے اور کئی اسکول تعمیر کرائے ۔ ثریا شہاب 2000 میں بریسٹ کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہو گئی تھیں جس کی وجہ سے وہ پاکستان واپس آ گئیں اور اپنے وطن میں علاج اور دفن ہونے کو ترجیح دی۔ وہ 13 ستمبر 2019 کو اسلام آباد میں انتقال کر گئیں اور اسلام آباد میں ہی آسودہ خاک ہوئیں ۔ 2 بیٹیاں اور ایک بیٹا انھوں نے اپنے پسماندگان میں سوگوار چھوڑے۔
    ثریا شہاب صاحبہ کی شاعری سے منتخب کلام قارئین کی نذر۔
    ماہیے
    ۔۔۔۔
    اک پیار کی ندی تھی
    جس کے کنارے پر
    آشائوں کی بستی تھی

    پھر بدلیں نہ تقدیریں
    پڑ گئیں ہاتھوں میں
    حالات کی زنجیریں

    جب چاند نکل آیا
    دھان کے کھیتوں میں
    سونا سا پگھل آیا

    اک قوس قزح سی تھی
    بالی عمریا تھی
    اور پینگ تھی جھولے کی

    خوابوں کا زمانہ تھا
    تتلی پکڑنا تو
    بس ایک بہانہ تھا

    غزل
    ۔۔۔۔
    اب دل کے دھڑکنے کی صدا بھی نہیں آتی
    در بند ہیں ایسے کہ ہوا بھی نہیں آتی
    حیراں ہوں دو سہمے ہوئے ہاتھ اٹھائے
    کیا مانگوں خدا سے کہ دعا بھی نہیں آتی
    پر ہول ہے اس طرح سے سناٹے کا عالم
    خود اپنی ہی چیخوں کی صدا بھی نہیں آتی
    جو درد کے صحرا میں کبھی باد صبا تھی
    اب شہر سے تیرے وہ ہوا بھی نہیں آتی
    جس بات پہ ہم تیاگ چکے ہیں تری دنیا
    وہ بات انھیں یاد ذرا بھی نہیں آتی

  • چین سمندرمیں تھرمل توانائی سے بجلی پیدا کرنے میں کامیاب

    چین سمندرمیں تھرمل توانائی سے بجلی پیدا کرنے میں کامیاب

    چینی سائنسدانوں اورانجینئرزنے بحیرہ جنوبی چین میں سمندری تھرمل توانائی سے بجلی پیدا کرنے والے آلے کا آف شور ٹیسٹ مکمل کر لیا ہے۔

    باغی ٹی وی: 20 کلو واٹ کا آلہ، بنیادی طور پر چائنا جیولوجیکل سروے کے براہ راست کنٹرول میں گوانگزو میرین جیولوجیکل سروے (GMGS) کے ذریعے تیار کیا گیا، ٹیسٹ مکمل ہونے کے بعد، جنوبی گوانگ ڈونگ صوبے کے دارالحکومت گوانگزو کو واپس کر دیا گیا ٹیسٹ کے دوران، ڈیوائس نے چار گھنٹے اور 47 منٹ تک بجلی پیدا کی، جو 16.4 کلو واٹ کی زیادہ سے زیادہ پاور آؤٹ پٹ تک پہنچ گئی۔

    جی ایم جی ایس کے ایک سینئر انجینئر ننگ بونے بتایا کہ آف شور ٹیسٹ میں مقامی طور پر تیار کردہ سمندری تھرمل انرجی پاور جنریشن سسٹم کی عملداری کے ساتھ ساتھ اس کے موثر طورسے کام کرنے کی تصدیق کی گئی، جو کہ ملک کی جانب سے سمندری تھرمل توانائی کو ترقی اور استعمال کرنے،زمینی جانچ کے مرحلے سے لے کر آف شور ایپلی کیشنز تک کی جاری کوششوں میں اہم قدم ہے۔

    ناسا کی جیمزویب نےایک بڑے سیارےمیں ممکنہ سمندرکی موجودگی دریافت کرلی

    ننگ کے مطابق،سمندری حرارتی توانائی سطح اور گہرے سمندری پانی کے درمیان درجہ حرارت کے فرق کو بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے، اس طرح یہ قابل تجدید توانائی کا ایک ذریعہ ہے چین سمندری تھرمل توانائی کے ذخائر سے مالا مال ہے، لیکن متعلقہ تحقیق پہلے لیبارٹری اور زمینی جانچ کے مرحلے میں رہی تھی۔

    بھارت سمندر کی گہرائیوں میں مشن بھیجنے کیلئے تیار

  • امریکی اسپیکرکاصدربائیڈن کے خلاف مواخذے کی تحقیقات کا اعلان

    امریکی اسپیکرکاصدربائیڈن کے خلاف مواخذے کی تحقیقات کا اعلان

    امریکی ایوان نمائندگان کے ری پبلکن اسپیکر کیون مک کارتھی نے صدرجو بائیڈن کے خلاف مواخذے کی تحقیقات کا اعلان کردیا،کہا کہ وہ امریکی ایوان کو ہدایت دے رہے ہیں کہ وہ صدر جو بائیڈن کے خلاف ان کے خاندان کے کاروباری معاملات پر مواخذے کی انکوائری کھولے، جس سے 2024 کے انتخابات سے قبل تاریخی کارروائی شروع کی جائے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر کے مطابق تحقیقات کے ذریعے جوبائیڈن کے خلاف طاقت کے مبینہ غلط استعمال، انصاف کی راہ میں رکاوٹ بننے اور کرپشن کے الزامات کو جانچا جائےگا جبکہ اس بات کی بھی تحقیقات کی جائے گی کہ آیا صدر بائیڈن نے اپنے بیٹے ہنٹر بائیڈن کے کاروباری معاملات سے فائدہ اٹھایا ہے یا نہیں۔

    اسپیکر کیون مک کارتھی کا کہنا تھا کہ الزامات کرپشن کے کلچر کی تصویر پیش کر رہے ہیں اس لیے پینل کے ذریعے صدر بائیڈن کے خلاف تحقیقات کی جائے گی۔

    طیارہ کے ہائیڈرولک سسٹم میں خرابی، کھیتوں میں ہنگامی لینڈنگ

    وائٹ ہاؤس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے صدارتی مہم کےدوران اس کارروائی کو "انتہائی بدترین سیاست” قرار دیا،اس معاملے پر وائٹ ہاؤس ترجمان نے اپنے رد عمل میں کہا کہ ری پبلکنز 9 ماہ سے صدر کے خلاف بھی تحقیقات میں مشغول ہیں مگر تاحال ٹھوس شواہد پیش نہیں کرسکے امریکی آئین کے تحت صدر کا مواخذہ صرف بغاوت، رشوت یا دیگر بڑے جرائم میں ملوث ہونے کی صورت میں ممکن ہے تاہم یہ طویل عمل ہے۔

    ناسا کی جیمزویب نےایک بڑے سیارےمیں ممکنہ سمندرکی موجودگی دریافت کرلی

    امریکی ایوان کے اسپیکر کی جانب سے مواخذہ کی تحقیقات کے اعلان کے نتیجے میں ایوان میں اس معاملے پر ووٹنگ ممکن ہے جہاں ری پبلکنز کو پہلے ہی 212 کے مقابلے میں 222 کی اکثریت حاصل ہے ایوان نمائندگان میں ووٹنگ کے بعد معاملہ سینیٹ میں جائے گا جہاں ڈیموکریٹس کی اکثریت ہونے کے سبب کارروائی آگے نہ بڑھنا یقینی ہوگا۔

    یاد رہے کہ صدربائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کو غیرملکی تجارتی مفادات کے امور میں ایف بی آئی کی جانب سے ٹیکس جرائم سے متعلق تحقیقات کا سامنا ہے۔

    لیبیا میں طوفانی بارشیں، ڈیم ٹوٹ گئے

  • مصر میں سمندر کے پانی کا رنگ اچانک تبدیل

    مصر میں سمندر کے پانی کا رنگ اچانک تبدیل

    قاہرہ: مصر میں سمندر کے پانی کا رنگ اچانک سبز ہو گیا جس کی وجہ سے لوگوں میں خوف پھیل گیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق شمالی مصر کے پورٹ سعید گورنری میں ساحل سمندر پر جانے والوں کو ایک عجیب و غریب واقعے نے اس وقت ششدر کر دیا جب سمندر کا پانی اچانک سبز رنگ میں بدل گیا سمندر کا پانی تبدیل ہونے پر قریب رہائش پذیر لوگ پریشان اور تشویش کا شکار ہو گئے۔

    پورٹ سعید گورنری کے ساحلوں پر سیر کرنے والے شہری حیران رہ گئے جب انہوں نے دیکھا کہ سمندر کا پانی بعض مقامات پر ہلکا سبز اور بعض جگہوں پر گہرا سبز ہو گیا اس کیفیت کو دیکھ کر بہت سے لوگ خوف زدہ ہو گئے۔

    پورٹ سعید یونیورسٹی میں سائنس کی فیکلٹی نے سمندر کے پانی کا رنگ سبز ہونے پر کہا کہ سائنس کالج کے ڈین ڈاکٹر فرید ابراہیم ال الدسوقی نے میرین سائنسز کے شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر محمد اسماعیل کی سربراہی میں ماہرین کو فوری طور پر ساحل سمندر پر جانے کی ہدایت کی اور اس واقعے کی پوری رپورٹ لکھنے کو کہا۔

    کالج کی جانب سے جاری بیان کے مطابق معلوم ہوا ہے کہ پورٹ سعید کے مشرقی ساحلی علاقے، مشرق میں فشنگ کلب کے سامنے سے لے کر مغرب میں پولیس کلب تک اچانک پانی کا رنگ بدل کیا۔

    کالج نے اپنی رپورٹ میں وضاحت کی ہے کہ یہ عوامل پچھلے کچھ دنوں سے دیکھنے میں آ رہےہیں کلوروفیٹا یا ’طحالب‘ کے سبز جھرمٹ ساحلی پٹی تک پھیلے مگر پٹی کی چوڑائی چند میٹرسے زیادہ نہیں عموماً اس کی چوڑائی 5 سے 20 میٹر ہےتاہم ان طحالبی جھرمٹوں کا حجم سمندری دھاروں کی شدت، لہروں کی شدت اور نوعیت اور گہرائی کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔

    کالج کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ سمندری لہریں ان طحالبوں کو ساحل کی ریت پر پھینک دیتی ہیں۔ پھر وہ آہستہ آہستہ سوکھ کر مر جھا جاتی ہیں۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ساحل کے حالات اور پانی میں اضافے کی وجہ سے یہ غائب ہو جاتی ہیں۔

    کالج نے تصدیق کی کہ یہ مظہرخطرات سے محفوظ ہے اوراس سے کسی قسم کی ماحولیاتی آلودگی کا کوئی خطرہ نہیں ان کے بارے میں فیلڈ ٹیسٹ اور پانی کےنموں سے ان کی جانچ کی جا چکی ہے،عموماً اس طرح کا منظر سبز طحالب کے اچانک جمع ہونے، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، نامیاتی غذائی اجزاء میں اضافے اور سمندری دھاروں کی شدت میں اضافہ وغیرہ کی وجہ سے پیدا ہوتا ہےتاہم یہ منظرکچھ دنوں تک جاری رہے گا، پھر غائب ہوجائے گا۔

  • ناسا کی جیمزویب نےایک بڑے سیارےمیں ممکنہ سمندرکی موجودگی دریافت کرلی

    ناسا کی جیمزویب نےایک بڑے سیارےمیں ممکنہ سمندرکی موجودگی دریافت کرلی

    امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے خلا میں بھیجے جانے والی جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے ایک اہم دریافت کر لی ہے-

    باغی ٹی وی : امریکی خلائی ادارے ناسا نے ایک بڑے سیارے میں ممکنہ سمندر کی موجودگی کا اعلان کیا ہے جبکہ وہاں کے کیمیائی عناصر سے ممکنہ زندگی کی موجودگی کا اشارہ ملتا ہے جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے 120 نوری برسوں کے فاصلے پر واقع ستاروں کے جھرمٹ اسد میں موجود سیارے کو دریافت کیا،اسے K2-18 b کا نام دیا گیا ہے جو کہ زمین کے مقابلے میں لگ بھگ 9 گنا بڑا ہے اس نے میتھین اور کاربن ڈائی آکسائیڈ سمیت کاربن برداشت کرنے والے مالیکیولز کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے۔


    ناسا کے مطابق اس سیارے میں ممکنہ طور پر ہائیڈروجن فضا میں موجود ہے جبکہ سطح سمندر سے ڈھکی ہوئی ہے سیارے کی فضا میں کیمیائی عناصر کی جانچ پڑتال سے وہاں سمندر کی موجودگی کا عندیہ ملتا ہے میتھین اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی موجودگی سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ اس سیارے کے ہائیڈروجن والے ماحول میں سمندر موجود ہوسکتا ہے۔

    بھارت سمندر کی گہرائیوں میں مشن بھیجنے کیلئے تیار

    مگر ناسا کا کہنا تھا کہ اہم ترین دریافت وہاں dimethyl sulfide (ڈی ایم ایس) نامی مالیکیول کی ممکنہ موجودگی ہے یہ مالیکیول زمین پر زندگی سے ہی بنتا ہے زمین کی فضا میں ڈی ایم ایس کا اخراج بحری ماحول سے ہوتا ہے تاہم امریکی خلائی ادارے نے کہا کہ ڈی ایم ایس کی موجودگی کی تصدیق ہونا باقی ہے اور اس حوالے سے مزید تحقیقی کام کیا جائے گا یہ پہلی بار نہیں جب ناسا نے دیگر سیاروں میں پانی کی موجودگی کے آثار دریافت کیے مگر اس نئی دریافت نے سائنسدانوں کو پرجوش کر دیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ زمین سے باہر زندگی کی تلاش کے لیے عموماً چھوٹے چٹانی سیاروں پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے مگر K2-18 b جیسے بڑے سیاروں کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہےیہ سیارہ ایک ستارے K2-18 کے گرد چکر لگاتا ہے اور اس سے اتنی دور موجود ہے جو سائنسدانوں کے خیال میں سیال پانی کی موجودگی کے لیے ضروری ہے۔

    گوگل میپس کا صارفین کی سہولت کیلئے دلچسپ فیچر متعارف

    کیمبرج یونیورسٹی کے ایک ماہر فلکیات اور ان نتائج کا اعلان کرنے والے مقالے کے سرکردہ مصنف نکو مدھو سدھن نے وضاحت کی، ہمارے نتائج کسی اور جگہ زندگی کی تلاش میں متنوع رہائش کے قابل ماحول پر غور کرنے کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں۔

    میتھین اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی کثرت، اور امونیا کی کمی، اس مفروضے کی تائید کرتی ہے کہ K2-18 b میں ہائیڈروجن سے بھرپور ماحول کے نیچے پانی کا سمندر ہو سکتا ہے ان ابتدائی ویب مشاہدات نے ڈائمتھائل سلفائیڈ (DMS) نامی مالیکیول کی ممکنہ شناخت بھی فراہم کی۔ زمین پر، یہ صرف زندگی کی طرف سے پیدا کیا جاتا ہے زمین کے ماحول میں ڈی ایم ایس کا بڑا حصہ سمندری ماحول میں فائٹوپلانکٹن سے خارج ہوتا ہے۔

    مراکش کے بعد اسرائیل تباہ کن مناظر کا شکار ہو سکتا ہے،ماہرین نے خبردار کر …

    اس سیارے کو سب سے پہلے 2015 میں ناسا کے K2 مشن نے دریافت کیا تھا مگر جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کی ٹیکنالوجی زیادہ بہتر ہے جس سے اس کے تفصیلی تجزیے میں مدد ملی اور سمندر کی موجودگی کا انکشاف ہوا۔

  • لیبیا میں طوفانی بارشیں، ڈیم ٹوٹ گئے

    لیبیا میں طوفانی بارشیں، ڈیم ٹوٹ گئے

    لیبیا میں سمندری طوفان اور تیز بارشوں کے سبب بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہےلیبیا میں 2,000 سے زیادہ افراد ہلاک اور 6,000 کے قریب لاپتہ ہیں جب طوفان ڈینیئل کی وجہ سے آنے والی موسلا دھار بارش کے بعد دو ڈیموں کے ٹوٹنے سے شروع ہوا-

    باغی ٹی وی: سمندر طوفان ڈینئل لیبیا کے مشرقی ساحلی شہر درنہ سے ویک اینڈ پر ٹکرایا تھا جس کے ساتھ طوفانی بارشیں ہوئیں اب مقامی حکومت کے ترجمان اسامہ حماد نے بتایا ہے کہ سمندری طوفان اور بارشوں کے باعث علاقے میں دو ڈیم ٹوٹ گئے ہیں اور وسیع علاقہ زیر آب آگیا ہے۔

    اسامہ حماد کے مطابق کم ازکم 2 ہزار افراد کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے،خطے میں تعینات فوج کے ایک ترجمان کا کہنا کہ درنہ شہر سے پانچ سے 6 ہزار افراد لاپتہ ہیں لیبیا کےلیےاقوام متحدہ کے کوارڈینیٹر نے بتایا کہ درجنوں دیہات اور قصے بری طرح متاثر ہوئے ہیں، جہاں پر سیلابی صورت حال ہے اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہےجن علاقوں میں سیلاب اتر گیا ہے وہاں تباہی کے مناظر دیکھے جا رہے ہیں۔

    گوگل میپس کا صارفین کی سہولت کیلئے دلچسپ فیچر متعارف

    زیادہ تر ہلاکتیں بندرگاہی شہر ڈیرنا میں ہوئیں، جہاں پورے محلے بہہ گئے انہوں نے ملک بھر میں طبی عملے اور ریسکیو ٹیموں کو شہر کی مدد کے لیے بلایا جب کہ مشرق میں مقیم نائب وزیر اعظم علی الغطرانی نے بین الاقوامی امداد کی اپیل کی ہے مقامی حکام نے متاثرین کے لیے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہےطوفان نے اتوار کو مشرقی لیبیا میں لینڈ فال کیا، جس سے سیلاب آیا اور اس کے راستے میں موجود تنصیبات کو تباہ کر دیا۔

    طرابلس میں قائم قومی اتحاد کی حکومت کے وزیر اعظم عبدالحمید دبیبہ نے اتوار کے روز متعلقہ حکام کو ہائی الرٹ رہنے اور طوفان سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت کی، اس عزم کا اظہار کیا کہ لوگوں کی حفاظت اور نقصان کو کم کیا جائے گا، لیبیا کی صدارتی کونسل کے صدر محمد منفی نے بھی مہلک سیلاب کے نتیجے میں ہونے والی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی امداد کی اپیل کی ہے۔

    اسلام آباد میں امریکی سفیرکی الیکشن کمشنرسےملاقات پرامریکا کی وضاحت

    مینفی نے پیر کو ایک بیان میں کہاکہ ہم برادر اور دوست ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں سے آفت زدہ علاقوں میں مدد اور مدد فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں انہوں نے درنہ، البیضاء اور شہہات کو متاثرہ شہر قرار دیا، اور لوگوں سے کہا کہ وہ حکام کی ہدایات پر عمل کریں اس بحران پر قابو پانے کے لیے۔

    دریں اثنا، سماجی امور کی وزارت اور لیبیا کی ہلال احمر سوسائٹی نے آفت سے متاثرہ افراد کے لیے فوری امداد کی پیشکش شروع کر دی ہے لیبیا، 60 لاکھ آبادی کا ملک، 2014 سے، آنجہانی آمر معمر قذافی کے خلاف 2011 کی بغاوت کے بعد، مشرق اور مغرب میں حریف انتظامیہ کے درمیان تقسیم ہے ہر انتظامیہ کو مسلح گروپوں اور ملیشیاؤں کی حمایت حاصل ہے۔

    لیبیا: سمندری طوفان سے سیکڑوں افراد جاں بحق

  • بھارت سمندر کی گہرائیوں میں مشن بھیجنے کیلئے تیار

    بھارت سمندر کی گہرائیوں میں مشن بھیجنے کیلئے تیار

    چاند پر بھیجے گئے چندریان 3 مشن کی کامیابی کے بعد بھارت سمندر کی گہرائیوں میں انسان بردار مشن بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے-

    باغی ٹی وی: بھارت کی جانب سے پراجیکٹ سمندریان کے تحت 3 افراد کو زیر آب 6 ہزار میٹر گہرائی میں بھیجا جائے گا، جس کے لیے ایک خصوصی آبدوز تیار کی جا رہی ہے اس مشن کا مقصد سمندر کی گہرائی میں موجود دھاتوں جیسے کوبالٹ، نکل اور مینگنیز کو تلاش کرنا ہے جبکہ سمندری ماحول کی جانچ پڑتال بھی کی جائے گی۔

    سمندریان، انسان اور بغیر پائلٹ کے ایکسپلوریشن پر مشتمل ہے اورر یہ ارتھ سائنس کی وزارت کی طرف سے شروع کی گئی ایک انتہائی اہم کوشش ہے بغیر پائلٹ کا مشن 7,000 میٹر سے آگے جا چکا ہے، جب کہ انسان بردار مشن کے لیے آبدوز زیر تعمیر ہے مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ میں اپنے سائنسدانوں اور انجینئروں کے ساتھ تعمیر کی پیشرفت کی نگرانی کروں گا مجھے امید ہے کہ ہم اسے وقت پر مکمل کر لیں گے،سمندر میں زندگی اور زمین پر زندگی کا براہ راست تعلق ہے ہمیں اپنے مستقبل کو مزید محفوظ بنانا چاہیے اور خود کو بہتر علمی نظام سے مالا مال کرنا چاہیے، وقار کے ساتھ رہنا چاہیے اور فطرت کا احترام کرنا چاہیے خدا ہم پر مہربان ہے۔

    مراکش کے بعد اسرائیل تباہ کن مناظر کا شکار ہو سکتا ہے،ماہرین نے خبردار کر …

    اس آبدوز کو Matsya 6000 کا نام دیا گیا ہے اور اس کی تیاری لگ بھگ 2 سال سے جاری ہےاس آبدوز کی اولین آزمائش چنائی کے ساحل کے قریب خلیج بنگال میں 2024 کے شروع میں کی جائے گی یہ ٹائٹن آبدوز کی طرح کی آبدوز ہوگی جسے خصوصی طور پر سمندر کی گہرائی میں انسانی مشنز کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔
    https://x.com/KirenRijiju/status/1701175948673269772?s=20
    واضح رہے کہ ٹائٹن وہ آبدوز ہے جو جون 2023 میں بحر اوقیانوس میں ٹائی ٹینک کے ملبے کی جانب جاتے ہوئے تباہ ہوگئی تھی اور اسی وجہ سے بھارتی Matsya 6000 کے ڈیزائن کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں بھارت کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف اوشین ٹیکنالوجی (این آئی او ٹی) کے سائنسدان اس آبدوز کو تیار کر رہے ہیں اور اس کے ڈیزائن، میٹریل، آزمائشی مراحل اور اسٹینڈرڈ پروٹوکول طے کریں گے۔

    ناسا کے رووَر نے مریخ پرآکسیجن پیدا کر لی

    بھارتی وزارت ارتھ سائنسز کے سیکرٹری ایم روی چندرن نے ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ سمندریان مشن پر کام جاری ہے اور اس کی آزمائش 2024 کی اولین سہ ماہی کے دوران سمندر کی 500 میٹر گہرائی میں کی جائے گی اس آبدوز کی تصویر اور دیگر تفصیلات بھارت کے وزیر ارتھ سائنسز کرن ریجیجو نے ایک ایکس پوسٹ میں شیئر کی تھیں،یہ پراجیکٹ 2026 تک مکمل ہونے کا امکان ہے۔

    اس وقت امریکا، روس، جاپان، فرانس اور چین ایسے ممالک ہیں جو اس طرح انسان بردار مشن سمندر کی گہرائی میں بھیجنے کی صلاحیت رکھتے ہیں این آئی او ٹی کے ڈائریکٹر جی اے رام داس نے بتایا کہ 2.1 قطر کی گول آبدوز میں 3 افراد سفر کر سکتے ہیں، اس آبدوز کو 80 ملی میٹرموٹی ٹائیٹینیم کی چادر سےتحفظ فراہم کیا گیا ہے اور وہ 6 ہزار یٹر گہرائی میں سمندر کی سطح سے 600 گنا زیادہ دباؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہےیہ آبدوز ایک وقت میں 12 سے 16 گھنٹے سفر کرسکے گی جبکہ اس میں 96 گھنٹے کے لیے آکسیجن کی سپلائی موجود ہوگی۔

    اسلام آباد میں امریکی سفیرکی الیکشن کمشنرسےملاقات پرامریکا کی وضاحت

  • گندم، کھاد، چینی کی اسمگلنگ میں سرکاری اہلکارملوث،رپورٹ وزیراعظم سیکرٹریٹ میں جمع

    گندم، کھاد، چینی کی اسمگلنگ میں سرکاری اہلکارملوث،رپورٹ وزیراعظم سیکرٹریٹ میں جمع

    اسلام آباد: چینی،کھاد اورگندم اسمگلنگ کی رپورٹ بھی وزیراعظم سیکرٹریٹ میں جمع کرادی گئی۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق چینی،کھاد اورگندم کی پاکستان سے اسمگلنگ کے بارے میں تفصیلات رپورٹ کا حصہ ہیں جبکہ گندم، کھاد، چینی کے اسمگلرز اور سرکاری اہلکاروں کی تفصیلات بھی رپورٹ میں شامل کی گئی ہیں رپورٹ میں گندم کی اسمگلنگ میں ملوث 592 ذخیرہ اندوزں کی نشاندہی کی گئی ہے جب کہ گندم کی اسمگلنگ میں 26 اسمگلرز شامل ہیں۔

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ گزشتہ سال آئی بی نے 417 رپورٹس متعلقہ محکموں کو بجھوائی، حساس ادارے کی نشاندہی پر90147 میٹرک ٹن ذخیرہ شدہ اور اسمگل ہونے والی گندم قبضےمیں لی گئی، رپورٹ میں اسمگلرزکی مدد کرنے والے 259 اہلکاروں کی نشاندہی کی گئی ہے، صوبائی حکومتوں میں تعینات اہلکار اسمگلرز، ذخیرہ اندوزں کی مدد فراہم کرتے ہیں پنجاب میں272، سندھ میں244 اورکے پی میں56 سرکاری اہلکار اسمگلرز کے مددگار ہیں جب کہ بلوچستان میں 15 اور اسلام آباد میں 5 اہلکار اسمگلرزکےساتھی ہیں۔

    چوری کے پیسوں پر 2 نوجوانوں کے قتل کیس کا ڈراپ سین

    مسلم ‏ن لیگ کے سینیٹر رانا مقبول احمد انتقال کرگئے

    سابق بیورو کریٹ فواد حسن فواد وفاقی کابینہ میں شامل

    واضح رہے کہ اس سے قبل حساس ادارے کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ایرانی تیل کے کاروبار میں 29 سیاستدان بھی ملوث ہیں۔

    ایرانی تیل کی اسمگلنگ میں ملوث سیاستدانوں کی تفصیلات سامنے آ گئیں

    چوری کے پیسوں پر 2 نوجوانوں کے قتل کیس کا ڈراپ سین

    سابق بیورو کریٹ فواد حسن فواد وفاقی کابینہ میں شامل