Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • قائد اعظم کی اسرائیل کے معاملے پر رائے سے اختلاف کرنا "کفر” نہیں

    قائد اعظم کی اسرائیل کے معاملے پر رائے سے اختلاف کرنا "کفر” نہیں

    اسلام آباد: نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نےکہا ہےکہ ‘دو ریاستی حل’ ہی مسئلہ فلسطین کا واحد حل ہے۔

    باغی ٹی وی: ایک انٹرویو میں نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ "دو ریاستی حل” ہی مسئلہ فلسطین کا واحد حل ہے، قائد اعظم نے اسرائیل کے معاملے پر جو رائے دی تھی اس سے اختلاف کرنا "کفر” نہیں ہوگا فلسطین کے دو ریاستی حل کی تجویزپاکستان یا میں نے نہیں دی، فلسطین کا دو ریاستی حل دنیا دے رہی ہے، یہ تاثر درست نہیں کہ فلسطین کا دو ریاستی حل ہم نے دیا۔

    نگران وزیراعظم کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے ایک بیان میں کیا کہ یہ صرف قائداعظم کی نہیں علامہ اقبال کی بھی پوزیشن تھی جو کہ عدل، انصاف، بین الاقوامی قوانین کے مطابق تھی اور ہے،یہ بھی غلط ہے کہ پوری دنیا ایسا کہہ رہی ہے، دنیا میں اس موضوع پر کئی آرا پائی جاتی ہیں، صرف مغربی بلاک امریکی قیادت میں یہ راگ الاپ کر اپنے جرائم کی سزا فلسطینوں کو دینا چاہتا ہے۔
    https://x.com/SenatorMushtaq/status/1735235655741870585?s=20
    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ قائد اعظم اور علامہ اقبال کی پوزیشن کو تبدیل کرنےکا اختیار کسی نگران وزیراعظم کو نہیں ہے، پارلیمنٹ میں اس پر بحث نہیں ہوئی اور نہی ہی کسی منتخب حکومت نے اس کی منظوری نہیں دی ہے، ایک نگران وزیراعظم کیسے دو ریاستی حل کی پالیسی دے سکتا ہے اور وہ بھی اس حالت میں کہ وہاں پر نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم جاری ہیں، اس موقع پر دو ریاستی حل کی بات زخموں پر نمک پاشی ہے۔

    دوسری جانب برطانیہ میں برطانوی میڈیا کو دئیے گئے ایک انٹرویو کے دوران اسرائیلی سفیر زیپی ہوٹو ویلی نےکھلے اور دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ان کا ملک دو ریاستی حل کو غزہ میں جنگ ختم ہونے کے بعد بھی کسی صورت قبول نہیں کرے گا، بلکہ اسے مکمل طور پر مسترد کرتا ہےاسرائیل آج یہ جانتا ہے اور پوری دنیا کو بھی یہ جان لینا چاہیےکہ فلسطینی اسرائیل کے ساتھ اپنی ریاست قائم نہیں کرنا چاہتے، جس طرح آج بھی فلسطینی اسرائیلی ریاست کے بغیر اپنا نقشہ اور نعرہ اونچی آواز میں پیش کر رہے ہیں کہ وہ ‘من النہر الی البحر’ اپنی ریاست چاہتے ہیں، اسی طرح یہی ہمارا موقف ہےکہ کوئی فلسطینی ریاست نہیں ہو سکتی۔

  • پریگنینسی میں خواتین کو متلی اور الٹی کیوں آتی ہے؟تحقیق

    پریگنینسی میں خواتین کو متلی اور الٹی کیوں آتی ہے؟تحقیق

    تمام حاملہ خواتین میں سے تقریباً نصف سے دو تہائی کو کسی حد تک خاص طور پر پہلی سہ ماہی میں مارننگ سکنس کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی علامات میں متلی اور الٹی شامل ہیں-

    باغی ٹی وی : اس مسئلے کے لیے طبی زبان میں مارننگ سکنس (sickness) کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے، کیونکہ یہ بیماری دن کے اوائل میں بدترین ہوتی ہے، لیکن یہ دن یا رات کے کسی بھی وقت حملہ کر سکتی ہے مگر اب تک یہ معلوم نہیں تھا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے،اب پہلی بار اس کی ممکنہ وجہ دریافت کی گئی ہے جس سے اس کے علاج میں مدد مل سکے گی۔

    زیادہ تر خواتین کے لیے، مارننگ سکنس حمل کے چوتھے ہفتے کے آس پاس شروع ہوتی ہے اور 12 سے 14 ہفتوں تک ٹھیک ہو جاتی ہے۔ تاہم، 5 میں سے 1 عورت اپنی دوسری سہ ماہی میں اس بیماری کو برداشت کرتی ہے، اور چند خواتین کو اپنی حمل کی پوری مدت تک متلی اور الٹی کا سامنا کرنا پڑتا ہے زیادہ تر معاملات میں، مارننگ سکنس عورت یا پیدا ہونے والے بچے کو نقصان نہیں پہنچاتی ہے۔ تاہم، شدید مارننگ سکنس جس میں وزن میں کمی اور پانی کی کمی شامل ہے، فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔

    امریکا کی سدرن کیلیفورنیا یونیورسٹی کی اس تحقیق میں انکشاف کیا گیا کہ ایک مخصوص ہارمون حاملہ خواتین میں متلی اور الٹیوں کی شکایت بڑھانے کا باعث بنتا ہے، 80 فیصد حاملہ خواتین کو قے اور متلی جیسے اثرات کا سامنا ہوتا ہے اور کچھ میں اس کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے جس کے باعث اسپتال کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

    مارننگ سکنس کی علامات میں متلی، بھوک میں کمی،قے،نفسیاتی اثرات، جیسے ڈپریشن اور اضطراب شامل ہیں،اس نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ جی ڈی ایف 15 نامی ہارمون کی سطح حمل کی پہلی سہ ماہی کے دوران نمایاں حد تک بڑھ جاتی ہے،تحقیق میں قے اور متلی جیسی علامات کو اس ہارمون کی سطح میں اضافے سے منسلک کیا گیا ہے۔

    یہ ہارمون دماغ کے ایک بہت چھوٹے حصے پر کام کرتا ہے اور متلی اور تکلیف کی نشاندہی کرتا ہے جو خواتین میں قے کا سبب بنتا ہے، حاملہ خواتین جو جی ڈی ایف 15 کے لیے زیادہ حساس ہیں وہ دن میں 50 بار متلی اور قے کا تجربہ کرسکتی ہیں۔

    انگلینڈ کی کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر سٹیفن او راہیلی کا کہنا ہے کہ ماں اس ہارمون کے بارے میں جتنی زیادہ حساس ہو گی، وہ اتنی ہی زیادہ بیمار ہو سکتی ہے،یہ جاننے سے ہمیں ایک اشارہ ملتا ہے کہ ہم اسے ہونے سے کیسے روک سکتے ہیں۔

    خیال کیا جاتا ہے کہ 100 میں سے ایک یا کبھی کبھار تین حاملہ خواتین ایچ جی سے متاثر ہوتی ہیں، ایک ایسی بیماری جو جنین کی زندگی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ بہت سی خواتین جو اس کا شکار ہوتی ہیں انھیں پانی کی کمی سے بچنے کے لیے فلیوئڈز کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔

    تحقیق کےمطابق اس ہارمون کی سطح میں کمی یا اس کےافعال کو بلاک کرنے سے مارننگ سکنس کی روک تھام بھی کی جا سکتی ہے ،محققین نے بتایا کہ زیادہ تر حاملہ خواتین کو مارننگ سکنس کا سامنا ہوتا ہے جو خوشگوار تو نہیں ہوتا مگر کچھ خواتین میں اس کی شدت بدترین ہوتی ہے، ہم اب جان چکے ہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔

    ہارمونز کی اعلی سطح، بشمول ایسٹروجن، بلڈ پریشر میں اتار چڑھاؤ، خاص طور پر کم بلڈ پریشر، کاربوہائیڈریٹ کی میٹابولزم میں تبدیلی، بہت زیادہ جسمانی اور کیمیائی تبدیلیاں جو حمل کو متحرک کرتی ہیں،کچھ خواتین کو خدشہ ہے کہ الٹی کی کارروائی سے ان کے پیدا ہونے والے بچے کو خطرہ ہو سکتا ہے الٹی اور ریچنگ پیٹ کے پٹھوں میں دباؤ ڈال سکتی ہے اور مقامی طور پر درد اور درد کا سبب بن سکتی ہے، لیکن الٹی کی جسمانی میکانکس بچے کو نقصان نہیں پہنچائیں گی۔

    متعدد مطالعات سے پتہ چلا ہے کہ اعتدال پسند صبح کی بیماری اسقاط حمل کے کم خطرے سے وابستہ ہے تاہم، طویل الٹی (جو پانی کی کمی اور وزن میں کمی کا باعث بنتی ہے) آپ کے بچے کو مناسب غذائیت سے محروم کر سکتی ہے اور آپ کے بچے کا پیدائش کے وقت کم وزن ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے-

    جرنل نیچر میں شائع تحقیق میں محققین کے مطابق جب ماں کے پیٹ میں بچے کی نشوونما ہوتی ہے تو ایک ہارمون کی سطح بڑھتی ہے، ماں کا جسم اس ہارمون کا عادی نہیں ہوتاخاتون کا جسم اس ہارمون کے حوالے سے جتنا زیادہ حساس ہوگا، مارننگ سکنس کی شدت اتنی زیادہ ہوگی۔

    تحقیق کے دوران مادہ چوہوں میں اس ہارمون کی سطح میں کمی لانے سے مارننگ سکنس کی روک تھام کا تجربہ کامیاب رہا تھا،اب تحقیقی ٹیم کی جانب سے اس طریقہ کار کو خواتین میں آزمایا جائے گا تاکہ معلوم ہوسکے کہ یہ طریقہ کار مارننگ سکنس کی روک تھام کے لیے کس حد تک مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

    اگرچہ پہلے سامنے آنے والی طبی تحقیقات سے ہم یہ تو جاننے میں کامیاب ہوئے تھے کہ حمل کے دوران اس کیفیت یا بیماری کو جی ڈی ایف 15 سے منسلک کیا جاسکتا ہے، لیکن اب یہ معلوم ہو پایا ہے کہ ہم اس کے بارے اب تک بہت سی چیزوں سے نا واقف تھے۔

    نیچر نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس نئی تحقیق میں کیمبرج یونیورسٹی، سکاٹ لینڈ، امریکہ اور سری لنکا کے سائنسدانوں نے حصہ لیا، جس سےمعلوم ہوا کہ حمل کےدوران خاتون کی بیماری کا تعلق بچہ دانی میں بننے والے ہارمون کی مقدار سےہےجتنے زیادہ ہار مو ن پیدا ہوں گے اتنی زیادہ بیماری کی علامات ظاہر ہوں گیں۔

    تحقیق میں انہوں نے کیمبرج کے روزی میٹرنٹی ہاسپٹل میں خواتین کا مطالعہ کیا اور پایا کہ جن خواتین میں جینیاتی قسم ایچ جی کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے ان میں ہارمون کی سطح کم ہوتی ہے جبکہ خون کی خرابی بیٹا تھیلیسیمیا میں مبتلا خواتین جو حمل سے قبل جی ڈی ایف 15 کی بہت زیادہ سطح کا سبب بنتی ہیں، ان میں ہارمون کی سطح کم ہوتی ہے۔ انھیں بہت کم متلی یا قے کا سامنا کرنا پڑا۔

    یونیورسٹی آف کیمبرج میڈیکل ریسرچ کونسل میں میٹابولک ڈیزیز یونٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر او راہیلی نے وضاحت کی کہ ہارمون کو ماں کے دماغ میں اس کے انتہائی مخصوص ریسیپٹر تک رسائی سے روکنا بالآخر اس عارضے کے علاج کے لیے ایک مؤثر اور محفوظ طریقہ کی بنیاد بنے گا۔

  • ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کے نئے اعدادو شمار جاری

    ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کے نئے اعدادو شمار جاری

    کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کے نئے اعداد و شمار جاری کر دئیے-

    باغی ٹی وی : اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری نئے اعدادو شمار کے مطابق ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو ا ہے،ریاستی بینک کے مطابق ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 8 دسمبر کو ختم ہوئے ہفتے میں 9 کروڑ 93 لاکھ ڈالر بڑھے ہیں، ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 8 دسمبر تک 12.20 ارب ڈالر رہے جبکہ اس دوران اسٹیٹ بینک کے اپنے زرمبادلہ کے ذخائر 2.06 کروڑ ڈالر اضافے سے 7.04 ارب ڈالر رہے اور کمرشل بینکوں کے زرمبادلہ کے ذخائر 7.87 کروڑ ڈالر اضافے سے 5.16 ارب ڈالر رہے۔

    سپریم کورٹ نہیں جا رہے، الیکشن کمیشن کی تردید

    دوسری جانب پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس دسمبر کے دسویں روز تاریخ کی نئی بلند ترین سطح نہ بنا سکا،کاروباری دن میں 100 انڈیکس 1185 پوائنٹس کے بینڈ میں رہا، بازار میں آج 98 کروڑ شیئرز کے سودے 23 ارب 74 کروڑ روپے میں طے ہوئے،مارکیٹ کیپٹلائزیشن 51 ارب روپے بڑھ کر 9 ہزار 419 ارب روپے ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کے انتخابات ملتوی کرانے کے الزامات الیکشن کمیشن نے مسترد کر …

  • سپریم کورٹ نہیں جا رہے، الیکشن کمیشن کی تردید

    سپریم کورٹ نہیں جا رہے، الیکشن کمیشن کی تردید

    الیکشن کمیشن نے میڈیا چینلوں پر چلنے والی خبر کی سختی سے تردید کی ہے

    ترجمان الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ خبر میں الیکشن کمیشن کے ذرائع کے حوالے سےسپریم کورٹ جانے کا اشارہ کیا گیا ہے۔ یہ خبر بے بنیاد ہے، الیکشن کمیشن آف پاکستان ایسی مبہم خبروں کو پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان، شفاف انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے ایک جامع منصوبے پر عمل پیرا ہے، اس حوالے سے تمام اہداف کو بروقت مکمل کیا جا رہا ہے۔

    قبل ازیں میڈیا رپورٹس کے مطابق کہا گیا تھا کہ ڈی آر اوز اور آر اوز کا نوٹیفیکیشن لاہور ہائیکورٹ سے معطل ہونے کا معاملہ، الیکشن کمیشن نے کل سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا-نجی ٹی وی کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد کی صورتحال سپریم کورٹ کے سامنے رکھی جائے گی، سیکرٹری الیکشن کمیشن کا کل رجسٹرار سپریم کورٹ سے ملاقات کا امکان ہے، سیکرٹری الیکشن کمیشن کے ہمراہ ڈی جی لا بھی سپریم کورٹ جائیں گے-ذرائع کے مطابق رجسٹرار سپریم کورٹ کو تحریری اور زبانی صورتحال سے آگاہ کیا جائے گا، چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت اہم مشاورتی اجلاس ہوا، اجلاس میں قانونی ٹیم نے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی سفارش کی تھی، سپریم کورٹ نے بھی اپنے فیصلے میں کسی بھی رکاوٹ سے متعلق الیکشن کمیشن کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی تھی-

    صوبائی حلقوں کی حتمی حد بندی فارم 5 کے مطابق جاری کی جائے،بلوچستان ہائیکورٹ

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے عام انتخابات بیورو کریسی سے کروانے کا الیکشن کمیشن پاکستان کا جاری کردہ نوٹیفکیشن معطل کر دیا ہے لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی نے تحریک انصاف کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنا یا تھا عدالت نے پنجاب میں انتخابات ایگزیکٹو سے کروانے کے خلاف درخواستوں پر لارجر بینچ تشکیل دینے کی سفارش کرتے ہوئے فائل چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو ارسال کر دی تھی-

    یوٹیلیٹی اسٹورز پر گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں کمی

    فیصلے میں کہا گیا تھا کہ انتخابات کرانے پر قوم کے اربوں روپے لگتے ہیں اگر بڑی جماعتیں انتخابی نتائج تسلیم نہ کریں تو قوم کا پیسہ ضائع ہو گا۔ الیکشن کمیشن کو فری اینڈ فیئر الیکشن کرانے ہیں اور شفاف انتخابات کو حقیقت میں بدلنے کے لیے امیدواروں اور ووٹرز کو یکساں مواقع فراہم کرنے ہیں،موجودہ صورتحال میں عام انتخابات سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکتے جس سے جمہوریت کا مستقبل کمزور ہو سکتا ہے، درخواست میں قومی ایشو سے متعلق نشاندہی کی گئی لہٰذا لارجر بینچ کے لیے فائل چیف جسٹس کو بھجوائی جاتی ہے۔

    صوبائی حلقوں کی حتمی حد بندی فارم 5 کے مطابق جاری کی جائے،بلوچستان ہائیکورٹ

  • جمادی الثانی 1445 ہجری کا چاند نظر آ گیا

    جمادی الثانی 1445 ہجری کا چاند نظر آ گیا

    اسلام آباد: جمادی الثانی 1445 ہجری کا چاند نظر آ گیا،جبکہ وزارت مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی نے جمادی الثانی کا چاند نظر آنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا،کل بروز جمعہ یکم جمادی الثانی ہوگی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق رویت ہلال کمیٹی کا مرکزی اجلاس چیئرمین عبد الخبیر کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہوا جبکہ زونل کمیٹیوں کے اجلاس دیگر شہروں کوئٹہ، لاہور، کراچی اور پشاور میں ہوئے، چاند کی شہادتیں موصول ہونے کے بعد رویت ہلال کمیٹی نے جمادی الثانی کا چاند نظر آنے کا متفقہ فیصلہ کیا اور چیئرمین رویت ہلال کمیٹی نے بتایا کہ یکم جمادی الثانی 15 دسمبر بروز جمعے کو ہوگی۔
    https://x.com/MORAisbOfficial/status/1735289325338996869?s=20

    یوفون نے ٹیلی نار کے 100 فیصد حصص خرید لئے

    مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس میں ڈی جی وزارت مذہبی امور، محکمہ موسمیات، سپارکو اور وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے نمائندے بھی شریک ہوئے،چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد مدینہ المنورہ سے شریک ہوئے اور دعا کروائی۔

    ڈالر کی قدر مزید کم ،سونے کی قیمت میں اضافہ

  • صوبائی حلقوں کی حتمی حد بندی فارم 5 کے مطابق جاری کی جائے،بلوچستان ہائیکورٹ

    صوبائی حلقوں کی حتمی حد بندی فارم 5 کے مطابق جاری کی جائے،بلوچستان ہائیکورٹ

    کوئٹہ: بلوچستان ہائیکورٹ نے ہدایت کی کہ صوبائی حلقوں کی حتمی حد بندی فارم 5 کے مطابق جاری کی جائے-

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جناب جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس نذیر احمد لانگو پر مشتمل بینچ نے رحیم الدین، محمد مبین، محمد عمر، نسیم الرحمن، اور حافظ سراج الدین کے دائر آئینی درخواستوں کو نمٹاتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی 26 نومبر 2023ءکی جاری کردہ حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی کہ صوبائی حلقوں کی حتمی حد بندی بنیادی حد بندی فارم 5 کے مطابق جاری کی جائے جبکہ اس کے H 1، این اے 263 کوئٹہ 2 اور این اے 264 کوئٹہ 3 کو حکم نامے کے سفارشات کے مطابق جاری کی جائے۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت عدلیہ کے ایک جون 2018 کے حکم کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف سیاسی پارٹیوں کےصوبائی حلقوں کی حد بندی سےمتعلق اعتراضات اٹھائےگئے الیکشن کمیشن میں نمائندگی درج کی ان اعتراضا ت پر الیکشن کمیشن نے 15 جولائی 2022 کو فیصلہ دیا۔

    کوئٹہ کی صوبائی حلقوں کی حتمی حد بندی جاری کی گئی۔ ان حلقوں کی حد بندی کو عدالت عالیہ میں چیلنج کیا گیا عدالت نے 7 اگست 2023 کو صوبائی حلقوں کی حد بندی کو کالعدم قرار دیا عدالت نے فیصلے میں الیکشن کمیشن پاکستان کو 2017ءکی مردم شماری کی بنیاد، 31 مئی 2022ء کو منعقدہ حد بندی کمیٹی کی سفارشات اور انتخابی قوانین کو مد نظر رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی تھی کہ کوئٹہ کے صوبائی حلقوں کی حتمی حد بندی سفارشات کے ساتھ کی جائے۔

    الیکشن کمیشن پاکستان نے اس عدالتی حکم پر 31 مئی 2018ءکے انتخابی شیڈول کی وجہ سے عمل درآمد نہیں کیا، اس متعلق رکن الیکشن کمیشن پاکستان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی گئی، سپریم کورٹ آف پاکستان نے یکم جون 2018ء کو اس حکم کو برقرار رکھا بعد میں مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری سے وفاقی حکومت نے مردم شماری برائے سال 2017ءکو 2021ءمیں اعلان کیا۔

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے الیکشن قانون کے سیکشن 17 دو 2 کے تحت حلقہ بندیوں کی حد بندی شروع کی۔ مئی 2022ءمیں حد بندی کمیٹی میں کوئٹہ کی صوبائی حلقوں کی بنیادی حد بندی شروع کی عدالت عالیہ نے 2017ءکے بنیاد پر صوبائی حلقوں کی حد بندی کو دوبارہ جاری کرنے کی ہدایت کی تھی، 27 اگست 2022ءکو مشترکہ مفادات کونسل کی ڈیجیٹل مردم شماری برائے سال 2022 -23ءکی منظوری کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وفاقی و صوبائی حلقوں کی تازہ حد بندی شروع کی۔

    نومبر 2023ءکو حد بندی کمیٹی نے کوئٹہ کی 9 صوبائی حلقہ بندیوں کی بنیادی حد بندی جاری کی۔ مختلف سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں نے ان حلقوں کی حد بندی پر اعتراضات اٹھائے الیکشن کمیشن نے ان کے اعتراضات 26نومبر 2023ءکو فیصلہ دیا الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے کے بعد ان حلقوں کی حتمی حد بندی جاری کی جس پر فوری آئینی درخواستوں کو دائر کیا گیا۔

    معزز بینچ نے کہا کہ بنیادی 9 حلقوں کی حد بندی حد بندی کمیٹی کی غور کردہ اور یکم جون 2018ءکی عدالت عالیہ کا حکم اور سات اگست 2023ءکو سپریم کورٹ کی برقرار کردہ حکم اور کسی بھی سیاسی پارٹی کی اس کو چیلنج نہ کرنے پر الیکشن کمیشن نے کوئٹہ کی 9 حلقوں کی حد بندی جاری کرتے ہوئے تمام متعلقہ عناصر کو یکسر نظر انداز کیا جبکہ حد بندی کمیٹی میں تمام عناصر اور اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے کوئٹہ کی صوبائی حلقوں کی حد بندی شمال سے شروع کی۔ لیکن حتمی حد بندی جاری کرتے ہوئے الیکشن کمیشن نے واضح طور پر بیان کردہ اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مخالف سمت میں حد بندی شروع کی-

  • یوٹیلیٹی اسٹورز پر  گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں کمی

    یوٹیلیٹی اسٹورز پر گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں کمی

    اسلام آباد: ملک بھر کے تمام یوٹیلیٹی اسٹورز پر معروف برانڈز کے گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں کمی کردی گئی، نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی: ترجمان یوٹیلیٹی اسٹورز کے مطابق ملک بھر کے تمام یوٹیلیٹی اسٹورز پر معروف برانڈز کے گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں کمی کردی گئی ہے، عام صارفین کی سہولت کے لیے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن مزید اشیاء کی قیمتوں میں کمی کے لیے اقدامات اٹھا رہی ہے-

    ترجمان یوٹیلیٹی اسٹورز کے مطابق معروف برانڈز کے گھی کی قیمت میں 17 روپے فی کلو کی کمی کی گئی ہے جبکہ کوکنگ آئل کی قیمتوں میں 37 سے 48 روپے فی لیٹر تک کی کمی کی گئی ہے، جس کے بعد یوٹیلیٹی اسٹورز پر گھی 499 کی بجائے 482 روپے فی لیٹر دستیاب ہوگا، ایک برانڈڈ کوکنگ آئل 470 روپے سے کم ہو کر 422 روپے فی لیٹر جبکہ دوسرا برانڈڈ کوکنگ آئل 555 کی بجائے 518 روپے فی لیٹر میں فراہم کیا جائے گا۔

    ڈالر کی قدر مزید کم ،سونے کی قیمت میں اضافہ

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں نگران وفاقی وزیر خزانہ شمشاد اختر کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی ( ای سی سی) کا اجلاس ہوا جس میں ادارہ شماریات کی جانب سے مہنگائی پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ مہنگائی کی شرح 12 ماہ میں سب سے کم ہوگئی ہے۔

    ای سی سی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ادارہ شماریات نے بریفنگ میں بتایا کہ مہنگائی مئی کے بعد کم ہونا شروع ہوئی ہے، مئی میں مہنگائی کی شرح 38 فیصد تھی جو کم ہو کر 29.2 فیصد ہوگئی ہے، ادارہ شماریات نے بتایا کہ مہنگائی کی شرح میں کمی کی وجہ روپے کی قیمت میں استحکام ہے، ای سی سی کی جانب سے ہدایت کی گئی کہ متعلقہ وزارتیں صوبوں سے مل کر کھاد کی مقررہ قیمت پر دستیابی یقینی بنائیں،کھاد کی قیمت زیادہ وصول کرنے والے ڈیلرز کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

    یوفون نے ٹیلی نار کے 100 فیصد حصص خرید لئے

  • یوریا کھاد کا بحران، پی پی کا سندھ بھر میں احتجاج کا اعلان

    یوریا کھاد کا بحران، پی پی کا سندھ بھر میں احتجاج کا اعلان

    کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی نے سندھ میں یوریا کھاد کے بحران، اور یوریا کھاد کی بلیک مارکیٹنگ پر فروخت کے خلاف کل جمعے کے روز سندھ بھر میں احتجاج کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی: صدر پی پی پی سندھ نثار کھوڑو نے کہا کہ پیپلز پارٹی یوریا کھاد کی قلت اور بلیک مارکیٹنگ پر فروخت کے خلاف کل جمعے کے روز سندھ کے تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں احتجاج کرے گی، نثار کھوڑو نے سندھ بھر کے تنظیمی ذمیداران کو ہدایت کی کہ پیپلز پارٹی کے تمام ضلعی صدور و دیگر ضلعی عھدیداران اور دیگر تنظیمی ذمیداران سندھ میں یوریا کھاد کی قلت اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف احتجاج میں بھرپور عوامی شرکت کو یقینی بنائیں۔

    ڈالر کی قدر مزید کم ،سونے کی قیمت میں اضافہ

    نثار کھوڑو نے کہا کہ سندھ میں یوریا کھاد کی قلت پیدا کرکے کھاد کی بلیک مارکیٹنگ پر فروخت کا عمل سندھ کی زراعت کو تباہ کرنے کے مترادف عمل ہے، سندھ 70 فیصد زراعت پیدا کرنے والہ صوبہ ہے، سندھ کی زراعت اور زرعی لوگوں کو معاشی کمزور کرنا ملک کو معاشی طور پر کمزور کرنے کی سازش ہے ایک طرف عوام کو مھنگائی بے روزگاری کا سامنہ ہے تو دوسری طرف یوریا کھاد کی قلت اور بلیک مارکیٹنگ کرکے سندھ کی زراعت کو تباہ کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔

    یوفون نے ٹیلی نار کے 100 فیصد حصص خرید لئے

    نثار کھوڑو نے کہا کہ یوریا کھاد کی بلیک مارکیٹنگ پر فروخت سندھ کے آبادگاروں،کاشتکاروں، کسانوں اور مزدوروں کا معاشی قتل ہے پیپلز پارٹی زراعت کی تباہی اور عوام کا معاشی قتل کسی صورت نہیں ہونے دے گی، نگران وفاقی اور صوبائی حکومت فوری طور پر سندھ میں یوریا کھاد کی قلت کو ختم کرے اور ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف کاروائی کرے،سندھ میں یوریا کھاد کی بلیک مارکیٹنگ کو روکا جائے اور آبادگاروں ،کاشتکاروں، کسانوں اور زراعت سے منسلکہ افراد میں پیدا ہونے والی بے چینی ختم کی جائے آبادگار، کسان، کاشتکار اور مزدوروں سمیت زراعت سے منسلکہ افراد یوریا کھاد کی قلت اور بلیک مارکیٹنگ پر فروخت کے خلاف اس احتجاج میں بھرپور شرکت کریں۔

    سبز باغ نہیں دکھاتا،جو کہتا ہوں کر کے دکھاتا ہوں،آٹھ فروری کو اپنا مقدر بدلیں،نواز …

  • پی ٹی آئی کے سابق رکن صوبائی اسمبلی گرفتار

    پی ٹی آئی کے سابق رکن صوبائی اسمبلی گرفتار

    راولپنڈی : پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے سابق رکن صوبائی اسمبلی عمر تنویر بٹ کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے راولپنڈی سے سابق رکن صوبائی اسمبلی عمر تنویر بٹ نے انسدادِ دہشتگردی عدالت کے سامنے سرنڈر کر دیا ملزم 9 مئی واقعات میں مطلوب اور کئی ماہ سے روپوش تھا، عمر تنویر کو 9 مئی کے مقدمے میں انسدداد دہشت گردی کی عدالت سے گرفتار کر لیا گیا ہے ، سابق رکن صوبائی اسمبلی عمر تنویر بٹ اپنے وکلا ساتھ عبوری ضمانت کیلئے عدالت میں پیش ہوئے اور درخواست دائر کرتے ہی خود کو عدالت کے سامنے سرنڈر کیا-

    یوفون نے ٹیلی نار کے 100 فیصد حصص خرید لئے

    انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پورا یقین ہے ہمیں ضرور انصاف ملے گا،میں جس کیس میں اشتہاری تھا آج اسی میں سرنڈر کر دیا ہے 9 مئی کے واقعات نہیں ہونے چاہیے تھے ، بانی تحریک انصاف عمران خان اور ہم سب نے اس کی مذمت کی ہے، اداروں اور افواج پاکستان پر اعتماد ہے اور انصاف کی توقع ہے۔ اپنی بے گناہی ثابت کروں گا، ہم پاکستانی ہیں اور اپنے اداروں پر فخر ہے، بعد میں عمر تنویر بٹ کو وکلا کی موجودگی میں تھانہ سول لائنز راولپنڈی منتقل کردیا گیا۔

    ڈالر کی قدر مزید کم ،سونے کی قیمت میں اضافہ

  • یوفون نے ٹیلی نار کے 100 فیصد حصص  خرید لئے

    یوفون نے ٹیلی نار کے 100 فیصد حصص خرید لئے

    اسلام آباد:یوفون نے 108 ارب روپے میں ٹیلی نار کو خرید لیا-

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق پاکستان کے پی ٹی سی ایل گروپ (یوفون) نے اعلان کیا کہ پی ٹی سی ایل کمپنی بہت جلد ٹیلی کام کمپنی "ٹیلی نار” کے 100 فیصد حصص خریدے گی، کمپنی کی خریداری کا عمل 2024 میں مکمل ہوجائے گا، کمپنی کی فروخت کا عمل ضوابط کی منظوری سے مشروط کیا جائے گا۔

    پی ٹی سی ایل نے اعلامیے میں کہا کہ ٹیلی نار پاکستان کے 100 فیصد حصص کی خریداری کا معاہدہ طے ہوگیا ہے 100 فیصد حصص کی خریداری 108 ارب روپے میں ہوگی۔
    https://x.com/PTCLOfficial/status/1735191260644934135?s=20

    یو این میں غزہ میں فوری جنگ بندی کی قرار داد بھاری اکثریت سے منظور

    پی ٹی سی ایل اور پی ٹی ایم ایل کے صدر اور گروپ سی ای او حاتم بامطرف کا کہنا ہے کہ ہمیں یقین ہے کہ ٹیلی نار پاکستان کے ساتھ مل کر جو اسٹریٹجک ہم آہنگی پیدا کی گئی ہے، اس کے نتیجے میں ہمارے صارفین اور اسٹیک ہولڈرز کے لیے قدرمیں اضافہ ہوگا کیونکہ وہ اس لین دین کے حتمی مستفید ہیں،ٹیلی نار پاکستان کا اسٹریٹجک حصول مارکیٹ کے استحکام کا ایک اہم موقع پیش کرتا ہے، جو ہمیں پاکستان میں اگلی نسل کا بہترین نیٹ ورک بنانے کے لیے مزید سرمایہ کاری کرنے کے لیے بااختیار بناتا ہے۔

    امریکی صدر کا اسرائیلی وزیراعظم کو اپنی کابینہ کے سخت گیر ارکان کو تبدیل …