Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • شاہ رخ، اکشے اور اجے دیوگن کے خلاف مقدمہ د رج

    شاہ رخ، اکشے اور اجے دیوگن کے خلاف مقدمہ د رج

    ممبئی: بالی ووڈ کے معروف ترین اداکار شاہ رخ خان، اکشے کمار اور اجے دیوگن کے خلاف مقدمہ دائر کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: عدالت نے اگست 2023 میں کابینہ سکریٹری، چیف کمشنر اور سینٹرل کنزیومر پروٹیکشن اتھارٹی کو نوٹس جاری کیے تھے، جس میں ستمبر 2022 کے اپنے حکم کی تعمیل نہ کرنے پر توہین عدالت کی کارروائی کی درخواست کی گئی تھی، عدالت نے نوٹس میں درخواست گزار کو حکومت ہند سے رجوع کرنے کو کہا تھا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق توہین عدالت کی درخواست کا جواب دیتے ہوئے ڈپٹی سالیسٹر جنرل ایس بی پانڈے نے الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو بنچ کو مطلع کیا کہ سنٹرل کنزیومر پروٹیکشن اتھارٹی (سی سی پی اے)نےاداکار شاہ رخ خان، اکشے کمار اور اجے دیو گن کو 20 اکتوبر کو گٹکا/تمباکو کمپنیوں کی تشہیر کرنےپر شوکاز نوٹس جاری کیےگئےتھےامیتابھ بچن نےتمباکو/گٹکا کمپنی کو اپنا اشتہاردکھانے پر قانونی نوٹس بھیجا تھا، کیونکہ کمپنیوں نے ان کی جانب سے معاہدہ منسوخ کیے جانے کے باوجود اشتہارات چلائے تھے۔

    لیجنڈری بھارتی اداکارہ 85 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں

    واضح رہے کہ موتی لال یادو نامی ایک وکیل نے الہ آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی جس میں مشہور شخصیات، خاص طور پر مذکورہ بالا تینوں اداکاروں کے اشتہارات، مصنوعات یا اشیا کے اشتہارات میں مبینہ شرکت سے متعلق مسائل اٹھائے گئے تھے جو کہ عوام کی صحت کے لیے بڑے پیمانے پر نقصان دہ ہیں-

    اللہ ہی جانے کون بشر ہے

  • ہزاروں برس قدیم نوادرات اسمگل  کرنے کی کوشش ناکام ،ملزم گرفتار

    ہزاروں برس قدیم نوادرات اسمگل کرنے کی کوشش ناکام ،ملزم گرفتار

    راولپنڈی: کسٹمز نے ہزاروں برس قدیم نوادرات کوئٹہ سے اسلام آباد اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنادی۔

    باغی ٹی وی: محکمہ آرکیالوجی کے مطابق نوادرات 2600 سے 3500 قبل مسیح کے ہیں دوسری طرف ایف سی بلوچستان نے کسٹمز و دیگر اداروں کے ہمراہ مختلف علاقوں میں کارروائیوں میں گیارہ ہزار ایک سو کلو چینی ، تیس ہزار کلو یوریا کھاد و ممنوعہ اشیاء کی اسمگلنگ کو ناکام بنادیا۔

    حکام کے مطابق نوادرات بلوچستان سے افغانستان منتقل کیے جارہے تھے لیکن منزل پر پہنچنے سے قبل اسلام آباد کسٹم نے نوادرات پکڑ لئےیہ نوادرات ایرانی املی جوتوں اور ویلوٹ کے کپٹروں کے ساتھ اسمگل کئے جا رہے تھے، سامان بسوں کے ذریعے موٹروے ایم 14 سےراولپنڈی لایا جا رہا تھا نواردات کی قیمت کا اندازہ لگانا نا ممکن ہےتاہم ایک اندازے کےمطابق نوادرات کی قیمت کروڑ وں روپے ہے۔

    کسٹمز حکام کے مطابق موٹر وے کے ذریعے کوئٹہ سے اسلام آباد آنے والی بس کو چونگی نمبر 26 پر روکا گیا، تلاشی لینے پر بس سے نوادرا ت برآمد ہوئےنوادرات عبدالسلام نامی مسافر کےتھے مگر وہ اپنی ملکیتی دستاویزات پیش نہ کرسکا جس پر بس اور نواد رات کو ویئر ہاؤس منتقل کرکے عبدالسلام کو حراست میں لے لیا گیا۔

    حکام کے مطابق نوادرات میں مٹی کے برتن اور تانبے سے بنے کھدائی کے اوزار شامل ہیں جن کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق 2600 سے 3500قبل مسیح کے دور سے ہے محکمہ آثار قدیمہ نے نوادرات کو اصل قرار دیا ہے اور ان کی انشورنس ویلیو پچاس لاکھ روپے بتائی ہے ملزم کو گرفتار کر کے نوادرات اسمگلنگ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور اس کے دیگر ساتھیو ں کی گرفتاری کےلیے چھاپےمارے جارہے ہیں3500 قبل مسیح کےنوادرات بلوچستان سےافغانستان اسمگل کرنے کے امکانات کے متعلق بھی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

  • کرک میں سوئی گیس سے بھرا پلاسٹک بیگ پھٹ گیا،20 افراد جھلس گئے

    کرک میں سوئی گیس سے بھرا پلاسٹک بیگ پھٹ گیا،20 افراد جھلس گئے

    کرک میں سوئی گیس سے بھرا پلاسٹک بیگ پھٹ گیا، جس کے بعد آگ لگنے سے 20 افراد جھلس گئے۔

    باغی ٹی وی:ریسکیو حکام کے مطابق واقعہ تحصیل بانڈہ داؤد شاہ کے علاقے عیسک خماری میں پیش آیا، ابتدائی اطلاعات کے مطابق بیس افراد جھلس کر زخمی ہوگئےپلاسٹک بیگ میں گیس بھرنے کی وجہ سے آگ بھڑک اٹھی، زخمی افراد کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے،زخمیوں میں دو بچے بھی شامل ہیں،زخمیوں میں شامل دو بچوں کو انتہائی تشویشناک حالت میں ڈسٹرکٹ اسپتال کوہاٹ منتقل کیا گیا۔

    واضح رہے کہ بانڈہ داؤد شاہ اور دیگر علاقوں میں غباروں کے ذریعے گیس اسٹور کی جاتی ہے، بچے پلاسٹک بیگ میں قدرتی گیس بھر کر گھر لے جاتے ہیں۔

    کراچی ایکسپریس ٹرین کی پاور وین میں آگ لگ گئی

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ ڈپٹی کمشنر کرک کی جانب سے ضلع کی حدود میں پلاسٹک بیگ میں گیس لے جانے پر پابندی عائد کی گئی تھی کرک انتظامیہ کا کہنا تھا کہ پلاسٹک بیگس نے چلتے پھرتے بموں کی شکل اختیار کرلی ہے، حکم کی خلاف ورزی کی صورت میں گرفتار کرکے کارروائی کی جائے گی۔

    ملک بھر میں 15 دسمبر سے سرد ہوائیں پاکستان کا رخ کریں گی

  • چیئرمین سینیٹ سینیٹر کا استعفیٰ لینے بیرون ملک سینیٹر کے گھر پہنچ گئے

    چیئرمین سینیٹ سینیٹر کا استعفیٰ لینے بیرون ملک سینیٹر کے گھر پہنچ گئے

    اسلام آباد(محمداویس)پاکستان میں سینیٹ کی تاریخ میں انوکھی تاریخ رقم ہوگئی،چیئرمین سینیٹ سینیٹر کا استعفیٰ لینے بیرون ملک سینیٹر کے گھر گئے ان سے ملاقات کی ان سے استعفیٰ لیا اور منظور بھی بیرون ملک ہی کرلیا۔

    پاکستان تحریک انصاف کو چھوڑنے والے سینیٹر شوکت ترین نے سینیٹ کی نشست سے استعفیٰ دے دیا۔اورچیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نےسابق وزیرِ خزانہ شوکت ترین کاسینیٹ کی رکنیت سےاستعفیٰ منظور بھی کر لیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کی سینیٹ کو تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ چیئرمین سینیٹ استعفیٰ لینے بیرون ملک گئے ۔چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی عراق سے دبئی گئے جہاں پر تحریک انصاف کے سینیٹت شوکت ترین نے ان سے ملاقات کی۔شوکت ترین نے ملاقات میں چیئرمین سینیٹ کو اپنا استعفیٰ پیش کیا۔جو وہاں پر ہی فورا منظور بھی کرلیا گیا ۔

    رپورٹ، محمد اویس

    واضح رہے کہ قبل ازیں شوکت ترین نے پاکستان تحریک انصاف کو بھی چھوڑنے کا اعلان کیا تھا شوکت ترین 2021 میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر خیبرپختونخوا سے سینیٹ کی نشست پر منتخب ہوئے، وہ 17 اکتوبر 2021 سے 11 اپریل 2022 تک عمران خان کی کابینہ میں وزیر خزانہ رہے۔

    ملک بھر میں 15 دسمبر سے سرد ہوائیں پاکستان کا رخ کریں گی

    دوسری جانب ن لیگ کے سابق ضلع نائب ناظم ملک صدیق پارٹی رکنیت سے مستعفی ہوگئے، انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ امیر مقام نے چار مرتبہ من پسند افراد کو ٹکٹیں دیں، جو ناکام ہوئے، ہم 1970 سے خاندانی مسلم لیگ میں ہیں، آج تک ہم نے کوئی الیکشن نہیں ہاراسوات میں مسلم لیگ پارٹی کو ایک خاندان تک محدود کردیا گیا ہے، کس پارٹی میں شمولیت اختیار کروں گا فیصلہ نہیں کیا۔

    کراچی ایکسپریس ٹرین کی پاور وین میں آگ لگ گئی

  • کراچی ایکسپریس ٹرین  کی پاور وین میں آگ لگ گئی

    کراچی ایکسپریس ٹرین کی پاور وین میں آگ لگ گئی

    لاہور میں کراچی ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی۔

    باغی ٹی وی: ریلوے حکام کے مطابق کراچی سے لاہور جانے والی ٹرین کی پاور وین میں آگ لگ گئی، آگ کاہنہ ریلوے اسٹیشن کے قریب گجر کالونی کے علاقے چندرائے میں لگی آگ کی اطلاع ملتے ہی ٹرین ڈرائیور نے باقی بوگیوں کو فوری طور پر پاور وین سے الگ کر دیا، جس کی وجہ سے جانی اور مالی نقصان نہیں ہوا، آگ لگنے کی وجوہات سامنے نہیں آ سکیں، تاہم تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

    قبل ازیں رواں ماہ کے شروع میں ملتان میں مال بردار ٹرین کے 2 ڈبوں میں موجود کوئلے میں آگ لگ گئی تھی،آگ لگنے کے بعد ٹرین کو پیرا غائب ریلوے اسٹیشن پر روک لیا گیا ہے تھا،علاوہ ازیں کچھ ہفتے قبل قطب پور کے قریب پاک بزنس ایکسپریس کا انجن اور ایک بوگی پٹڑی سے اتر گئی تھی تاہم اس حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

  • ملک بھر میں 15 دسمبر سے سرد ہوائیں پاکستان کا رخ کریں گی

    ملک بھر میں 15 دسمبر سے سرد ہوائیں پاکستان کا رخ کریں گی

    اسلام آباد: محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ملک میں سردی کی شدت میں مزید اضافے کا امکان ہے-

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق بری ہوائیں ملک کے بیشتر علاقوں میں موجود ہیں15 دسمبر جمعہ کے روز ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم سرد اور خشک جبکہ شمالی علاقوں میں شدید سرد اور مطلع جزوی ابر آلود رہنے کے علاوہ سردی کی شدت میں اضافہ ہو گاجبکہ شمالی مغربی بلوچستان کے چند اضلاع میں موسم ابر آلود رہنے کے ساتھ بارش کا بھی امکان ہے اس کے علاوہ پنجاب، خیبر پختونخوا کے میدانی علاقوں اور بالائی سندھ میں صبح اور رات کے اوقات میں سموگ / دھند چھائے رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق آئندہ ہفتے کے روز بھی بالائی خیبرپختونحوا، کشمیر اور گلگت بلتستان میں موسم ابر آلود رہنے کے ساتھ بارش کےامکان کیساتھ سردی کی شدت میں اضافہ ہو گا جبکہ پنجاب، خیبر پختونخوا کے میدانی علاقوں اور بالائی سندھ میں صبح اور رات کے اوقات میں سموگ / دھند چھائے رہنے کا امکان ہے ، اس دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہے گا۔

    دوسری جانب موسمیاتی ماہر ین کے مطابق ملک بھر میں 15 دسمبر سے سرد ہوائیں پاکستان کا رخ کریں گی جس کے باعث کراچی سمیت ملک کے بیشترعلاقوں میں سردی کی شدت میں اضافہ اور درجہ حرارت گرنے کا امکان ہے، شہر میں 10روز کے دوران کم سےکم درجہ حرارت 12 سے 14 ڈگری سینٹی گریڈ رہنےکا امکان ہےاس دوران شہر میں شمال مشرق سے چلنے والی ہوا کے باعث شہر کا فضائی معیار متاثر رہے گا تاہم آئندہ 10 دنوں میں شہر میں بارش کا کوئی امکان نہیں ہے کراچی میں دن کے اوقات میں ہوا میں نمی 50 سے 60 فیصد تک رہے گی۔

    گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کےبیشترعلاقوں میں موسم سرد اور خشک رہا ہفتہ کو ریکارڈ کیے گئے کم سے کم درجہ حرارت : لہہ منفی 11، اسکردو منفی 08، سری نگرمنفی05، استور، کالام منفی 04، گوپس، گلگت منفی03، قلات اور کوئٹہ میں منفی 02 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

  • محکمہ جنگلی تحفظات کو تحفظ دیا جائے

    محکمہ جنگلی تحفظات کو تحفظ دیا جائے

    محکمہ جنگلی تحفظات کو تحفظ دیا جائے

    از قلم غنی محمود قصوری

    پاکستان میں ہر قسم کا محکمہ موجود ہے جو مسائل کو اپنے وسائل کے مطابق حل کرنے کا دعویٰ کرتا ہے تاہم پاکستانی عوام جانتی ہے کہ وسائل ہونے کے باوجود یہ محکمے عوام کیلئے مسائل ہی پیدا کرتے ہیں اور قانونی لوگوں کو غیر قانونی اور غیر قانونی لوگوں کو قانونی تحفظ فراہم کرتے ہیں، ان محکموں میں ایک محکمہ ،پنجاب وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ، بھی شامل ہے ، سب سے پہلے تو میں اس محکمے کا تعارف کرواتا ہوں، چونکہ راقم خود ایک شکاری ہے اس لئے اس محکمے سے میرا خصوصی واسطہ بھی ہے-

    پنجاب وائلڈ لائف اینڈ پارکس ڈیپارٹمنٹ انگریز دور حکومت میں 1934 کو معرض وجود میں آیا 1934 سے 1973 تک یہ محکمہ مختلف محکموں کے زیر سایہ کام کرتا رہا تاہم 1973 میں اسے پنجاب وائلڈ لائف اینڈ پارکس ڈیپارٹمنٹ کا نام دیا گیا اور تب اس محکمے نے جنگلی حیات،محکمہ جنگلات اور محکمہ ماہی پروری کے طور پہ کام شروع کیا، یعنی جنگلات کا تحفظ،جنگلی جانوروں، پرندوں کا تحفظ اور مچھلیوں کا تحفظ و افزائش اس محکمے کی ذمہ داری ہے اور چڑیا گھر و پارکس بھی ان کے زیر انتظام ہیں-

    اس محکمے کا سربراہ ڈائریکٹر جنرل ہوتا ہے جس کے زیر سایہ پنجاب بھر میں ایک ڈائریکٹر اور 10 ڈپٹی ڈائریکٹرز کام کرتے ہیں اس کے ایکٹ میں 1974 کے بعد 2007 اور پھر 2010 میں ترمیم کی گئی ملک بھر کی طرح پورے پنجاب میں اس وقت شکار کا سیزن شروع ہے –

    شکاری حضرات کیلئے لازم ہے کہ وہ پنجاب وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے جاری کردہ لائسنس کے تحت ہی شکار کر سکتے ہیں مگر ہمارے ہاں 80 فیصد لوگ بغیر شکاری لائسنس کے کھلے عام ہر قسم کا شکار کرتے ہیں جو کہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں اس محکمے کو جو وسائل ملنے چائیے وہ وسائل بھی اس محکمے کے پاس موجود نہیں، ہر تحصیل میں ایک گیم وارڈن اور انسپیکٹر پہ مبنی ٹیم ہوتی ہے جس کا کام غیر قانونی شکار کو روکنا ہے تاہم اگر ایمانداری سے دیکھا جائے تو اتنے کم لوگوں کا بہت زیادہ رقبے میں کام کرنا ایک لطیفے سے کم نہیں پانچ سات بندے ایک آدھ پرانی پھٹیچر گاڑی اور سینکڑوں کلومیٹر کا رقبہ ایک لطیفہ نہیں تو اور کیا ہے، اسی موقع سے ناجائز شکار ی فائدہ اٹھاتے ہیں اور جنگلی حیات کو ختم کر رہے ہیں

    اس محکمے کی طرف سے لائسنس جاری کرتے وقت حامل لائسنس کو کچھ نہیں بتایا جاتا کہ فلاں پرندہ و جانور آپ شکار کر سکتے ہیں اور فلاں نہیں حتی کہ جاری کردہ لائسنس پہ بھی کچھ معلومات رقم نہیں اور جو کہ کچھ لکھا وہ بھی خیر سے انگریزی میں رقم ہے جس کے باعث قانون کا احترام کرنے والا حامل شوٹنگ وائلڈ لائف لائسنس ہولڈر نہیں جانتا کہ کونسا پرندہ نایاب ہو رہا ہے اور کونسا عام کونسے دن شکار کی ممانعت اور کونسے دن اجازت کب بریڈنگ سیزن شروع ہے اور کب ختم، کونسا پرندہ ہمارے ملک کا ہے اور کونسا پرندہ مہمان ہے
    اور ایک لائسنس پہ کتنی بندوقوں کیساتھ کتنے افراد کتنے پرندے ایک دن میں شکار کر سکتے ہیں، کیونکہ انٹرنیٹ پہ ایک بندے کے ہاتھ میں درجنوں شکار کئے پرندوں کی تصاویر نظر آتی ہیں حتی کہ گاڑیوں کے بونٹ نایاب پرندوں کے شکار سے بھرے پڑے ہوتے ہیں، یہ سب انٹرنیٹ پہ سرچ کرنے پہ بھی کچھ خاص معلومات نہیں ملتیں

    اس محکمے کو بطور کالم نگار اور ایک رجسٹرڈ شکاری میری سب سے اہم تجویز یہ ہے کہ لائسنس جاری کرتے وقت ایک لٹریچر فراہم کریں جس پہ سب قواعد و ضوابط لکھے ہوئے ہو تاکہ شکاری حضرات کو مکمل علم ہو نیز یہ کوشش ہونی چائیے کہ اس کمیونیکیشن کے دور میں رجسٹرڈ شکاریوں کو واٹس ایپ گروپ میں ایڈ کرکے معلومات سے آگاہ کیا جاتا رہے اور ان کو بتایا جائے کہ آپ کس پرندے ،جانور کی شکار کی ہوئی تصویر سوشل میڈیا پہ وائرل کر سکتے ہیں اور کس کی نہیں کیونکہ یہ بات بہت زیادہ دیکھنے میں آئی ہے کہ سوشل میڈیا پہ وائرل تصویر کو بنیاد بنا کر جرمانہ کیا جاتا ہے حالانکہ جو شکاری لائسنس حاصل کرتا ہے بھلا اسے کیا ضروت غیر قانونی کام کی ؟اگر وہ قانون کا احترام نا کرتا ہوتا تو پھر وہ بھی ان 80 فیصد غیر قانونی شکاریوں کا حصہ ہوتا اور اپنے سالانہ پیسے لائسنس کی فیس کی مد میں ادا کرنے سے بچاتا
    سو محکمے کی یہ غفلت شکار حاصل کئے شکاریوں کو غیر قانونی طریقے پہ شکار کرنے پہ مجبور کر رہی ہے جبکہ دوسری سمت وڈیروں جاگیر داروں اور اشرافیہ کو بغیر اسلحہ و وائلڈ لائف شوٹنگ لائسنس کے پورے پروٹوکول کیساتھ ممنوعہ شکار والے علاقوں میں شکار کروایا جاتا ہے جس سے عام غریب اور بغیر شفارش شکاریوں کی حق تلفی ہوتی ہے اور یوں یہ محکمہ قانونی لوگوں کو غیر قانونی اور غیر قانونی لوگوں کو قانونی بنا رہا ہے-

    نیز ایک غفلت یہ بھی ہے کہ نایاب ہوتے پرندے فاختہ کے شکار کی اجازت ہے اور ائیر گن کے شکار کو مکمل بین کیا ہوا ہے جس کے باعث عام غریب انسان شکار جیسے اہم اور تندرستی برقرار رکھنے والی ورزش سے محروم ہےدوسری جانب سیمی آٹومیٹک رپیٹر سے لوگ بیک وقت نصف درجن کارتوس چلا کر درجنوں پرندے مار گراتے ہیں اور پرندوں کی نسل کشی کر رہے ہیں-

    واضح رہے کہ پاکستانی عدالت نے 2021 میں ڈمی پرندوں (decoys) کیساتھ شکار کرنے اور ائیر گن کیساتھ شکار پہ پابندی لگا رکھی ہے تاہم قد آور لوگ کھلے عام یہ سب کر رہے ہیں میری گورنمنٹ سے گزارش ہے کہ سپرنگر (Springer) ائیر گن کیساتھ شکار کی پابندی ہٹائی جائے جبکہ پی سی پی ائیر گن( Pre-Charged Pneumatics ) پہ پابندی برقرار رکھی جائے ریاست پاکستان کے ہر شہری کو شکار کا حق حاصل ہے سو مخصوص لوگوں کے فائدے کی خاطر غریبوں کو اس شوق اور ورزش سے محروم نا کیا جائے –

    اگر بات کی جائے محکمے کی کارکردگی کی تو آج سے دو سال قبل اس محکمے کے اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل پنجاب محمد نعیم بھٹی کی سربراہی میں محکمہ کافی فعال اور بہتر تھا تاہم اب کچھ خاص بہتری نہیں لہذا محکمے کو فعال کیا جائے اور افسران کو نعیم بھٹی کی طرح ذیلی افسران و عملے کی چیکنگ اور مانیٹرنگ کا پابند بنایا جائے تاکہ پرندوں کی نسل کشی بھی نا ہو اور محکمے کے لوگ لگن سے کام کریں تاکہ شکاری حضرات ساری معلومات حاصل کرکے شکار کر سکیں-

  • 190 ملین پاؤنڈز  کیس ،عمران‌خان کے خلاف  3 سابق وفاقی وزرا نیب کے گواہ بن گئے

    190 ملین پاؤنڈز کیس ،عمران‌خان کے خلاف 3 سابق وفاقی وزرا نیب کے گواہ بن گئے

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے سابق چیئرمین عمران خان کے خلاف 190 ملین پاؤنڈز اسکینڈل کیس میں گواہان میں پرویز خٹک، ندیم افضل چن، زبیدہ جلال اور اعظم خان شامل ہیں۔

    باغی ٹی وی : عمران خان کے خلاف 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں 59 گواہان کے نام سامنے آگئےسابق وزیراعظم عمران خان کیخلاف 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں پی ٹی آئی کی وفاقی کابینہ کے تین ارکان پرویز خٹک، زبیدہ جلال اور ندیم افضل چن بھی گواہان کی فہرست میں شامل ہیں۔

    گواہان کی فہرست میں سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، بینک و ایس ای سی پی افسران، پٹواری ایسٹ ریکوری یونٹ کے سیکرٹری اور ڈپٹی سیکرٹری کے نام بھی شامل ہیں ایم کیو ایم کا کوئی سابق وفاقی وزیر بانی پی ٹی آئی کےخلاف گواہ نہیں بنا، پرویز خٹک، ندیم افضل چن، زبیدہ جلال اور اعظم خان کا ایک ایک صفحے پر مشتمل بیان ہے،سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان بھی وعدہ معاف نہیں بنے بلکہ بطور گواہ شامل ہوئے اس کے علاوہ سپرنٹنڈنٹ وزیراعظم آفس ندیم بٹ بھی گواہ کے طور پر سامنے آگئے، القادر ٹرسٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور چیف فنانشل افسر بھی نیب کے گواہ بن گئے۔

  • مسلح افراد  نے ڈی جی کسٹمز  سے بھی موبائل چھین لیا

    مسلح افراد نے ڈی جی کسٹمز سے بھی موبائل چھین لیا

    اسلام آباد:ڈی جی کسٹمز سے بھی مسلح افراد نے موبائل سے چھین لیا-

    باغی ٹی وی: وفاقی دارالحکومت میں ڈکیتی اور رہزنی کی وارداتیں کم نہ ہوسکیں اور آج ڈی جی کسٹمز سے بھی مسلح افراد نے موبائل سے چھین لیا ، اسلام آباد کے تھانہ رمنا کی حدود میں ڈی جی کسٹمز چہل قدمی کیلیے نکلے تو موٹرسائیکل پر سوار مسلح ڈاکو قیمتی موبائل فون چھین کر لے گئے۔

    واقعے کا مقدمہ ڈی جی کسٹم کے ملازم کی مدعیت میں تھانہ رمنا میں درج کرلیا گیا، جس میں بتایا گیا ہے کہ جی 11/3 میں سڑک کنارے گاڑی کھڑی کر کے کھڑا تھا اور ڈی جی کسٹم چہل قدمی کیلیے چلے گئے تھے اسی دوران اچانک موٹر سائیکل پر سوار دو ملزمان آئے اور اسلحے کے زور پر مجھ سے صاحب کا قیمتی موبائل فون چھین کر لے گئے۔

    نگران وزیراعلی پنجاب سے عراقی سفیر کی ملاقات

    پنجاب میں گندم کی فی من پیداوار کا ہدف یوریا کی کمی سے متاثر ہو …

    سردیوں کی چھٹیوں کے دوران دستیاب ججز پر مشتمل بینچز تشکیل

    مدعی نے استدعا کی ہے کہ پولیس ملزمان کیخلاف کارروائی کر کے موبائل فون برآمد کروائے۔

  • سرائیکی زبان کے پہلے ناول نگار،ظفر محمود لاشاری

    سرائیکی زبان کے پہلے ناول نگار،ظفر محمود لاشاری

    سرائیکی زبان کے پہلے ناول نگار

    سرائیکی زبان و ادب کے پہلے ناول نگار ، ممتاز افسانہ نویس ، ڈرامہ نگار اور ماہرِ تعلیم ، صدارتی ایوارڈ یافتہ ادیب ظفر محمود لاشاری صاحب 9 دسمبر 1948ء کو احمد پور شرقیہ کے نواحی علاقے محراب والا میں پیدا ہوئے۔ ظفر محمود لاشاری کے والد محمد ابراہیم خان ویٹرنری ڈاکٹر تھے، ظفر محمود لاشاری نے ابتدائی تعلیم احمد پور شرقیہ سے حاصل کی، 1967ء میں میٹرک کیا، ایس ای کالج بہاول پور میں ایف ایس سی کے لئے داخلہ لیا لیکن بیماری کی وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑ دی، میٹرک کے بعد چنی گوٹھ میں پی ٹی سی ٹیچر کے طور پر اپنی ملازمت کا آغاز کیا۔ اس دوران اپنی تعلیم جاری رکھی، پرائیویٹ طور پر ایم اے پنجابی، ایم اے سرائیکی اور ایم ایڈ کیا، پی ٹی سی ٹیچر سے ترقی کرتے ہوئے مڈل سکول کے ہیڈماسٹر بعد ازاں ایس ایس ٹی کے طور پر 2008ء میں ریٹائرڈ ہوئے۔

    کسی بھی لکھاری کے لئے یہ بہت بڑا اعزاز ہوتا ہے کہ وہ کسی صنف ادب کا اولین لکھاری شمار کیا جائے، سرائیکی زبان میں سب سے پہلا ناول نگار ہونے کا اعزاز ظفر محمود لاشاری کو حاصل ہے، ظفر محود لاشاری کا پہلا ناول "نازو” 1971ء میں سرائیکی ادبی مجلس بہاول پور کے زیر اہتمام شائع ہوا۔ تقسیم ہند کے پس منظر میں لکھا گیا یہ ناول 1975ء سے 1985ء تک پنجاب یونیورسٹی لاہور کے ایم اے پنجابی کے نصاب میں پڑھایا جاتا رہا۔ ظفر محمود لاشاری کا دوسرا سرائیکی ناول "پہاج” 1987ء میں پنجابی ادبی بورڈ کے زیر اہتمام شائع ہوا۔ اس ناول کا آدھا حصہ بی اے کے سرائیکی نصاب میں شامل ہے جبکہ مکمل ناول اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے ایم اے سرائیکی کے نصاب میں شامل ہے۔ ظفر لاشاری صاحب کا 16 مارچ 2020 میں انتقال ہوا۔

    ظفر محمود لاشاری کا ناول "پہاج” 1974ء سے 1980ء تک ماہنامہ "سرائیکی ادب” ملتان میں 40 اقساط میں بھی شائع کیا گیا۔ ظفر محمود لاشاری نے سرائیکی افسانہ نویسی سے اپنے ادبی کیریئر کا آغاز کیا، ان کا افسانوں کا مجموعہ "تتیاں چھاواں” کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ خطے کے نامور سرائیکی شاعر حضرت جانباز جتوئی پر ان کی کتاب "جانباز جتوئی: حیاتی تے فن” کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔ ظفر محمود لاشاری نے پنجاب یونیورسٹی لاہور کے زیر اہتمام ایم ایڈ کے لئے جو مقالہ لکھا، اسے بھی پنجابی ادبی بورڈ نے "خواجہ فرید کے تعلیمی نظریات” کے نام سے شائع کیا۔

    "سرائیکی لوک سہرے” ظفر محمود لاشاری کی مرتب کردہ ایسی کتاب ہے جس میں صدیوں پرانے سرائیکی سہرے شامل کئے گئے ہیں۔ اہم ترین ثقافتی مواد پر مشتمل اس گرانقدر کتاب کو "لوک ورثہ اسلام آباد” نے شائع کیا ہے۔ یہ کتاب بھی اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے ایم اے سرائیکی کے نصاب میں شامل ہے۔

    ظفر محمود لاشاری نے اپنے ادبی کیریئر میں سٹیج ڈرامے بھی لکھے، ظفر محمود لاشاری کو یہ اعزاز بھی حاؒصل ہے کہ انہوں نے 1989ء میں ایم اے سرائیکی کا امتحان دیا تو ایک سوال میں ناول "نازو” کے کرداروں پر تبصرہ کرنے کو کہا گیا۔ اسی طرح 1990ء میں ایم اے پنجابی کیا تو اس بار بھی امتحان میں ایک سوال ان کے ناول کے حوالے سے ہی کیا گیا۔