Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • ججز کیخلاف پی ٹی آئی کی مہم،قانونی ماہرین چیف جسٹس عامر فاروق کی حمایت میں سامنے آ گئے

    ججز کیخلاف پی ٹی آئی کی مہم،قانونی ماہرین چیف جسٹس عامر فاروق کی حمایت میں سامنے آ گئے

    قانونی ماہرین اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے خلاف سوشل میڈیا مہم سے متعلق پی ٹی آئی کی مہم پر حمایت میں سامنے آگئے-

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق کیخلاف مہم میں دوہرے معیار کا الزام لگایا، یہ مہم صرف پاکستان سے نہیں بلکہ پوری دنیا سے چلائی جا رہی ہےسوشل میڈیا مہم امریکا، کینیڈا اور برطانیہ سمیت دیگر ملکوں سے چلائی جا رہی ہے جس کے لیے منظم مہم میں قابل اعتراض ہیش ٹیگ کا استعمال کیا جا رہا ہے سوشل میڈیا مہم میں مختلف پوسٹرز اور ویڈیوز بھی استعمال کی جا رہی ہیں۔

    سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا کہ جتنی مرضی ججز پر کیچڑ اچھالیں، ججز پر ایسی تنقید سے فرق نہیں پڑتا امید ہے کہ ججز تمام تر تنقید کے باوجود حلف کی پاسداری کریں گے وتیرہ بنتا جارہا ہے آپ اونچا بولیں گے تو دوسرے پر حاوی ہوجائیں گے، سب سے اونچی آواز گدھے کی ہوتی ہے مگر اس کے پاس کوئی مواد نہیں ہوتا۔

    واپڈا کے گریڈ 17 سے 22 تک افسران کیلئے فری یونٹ ختم کرنے کا فیصلہ

    راجہ خالد ایڈووکیٹ مے کہا کہ ججز پر ایسے حملے انتہائی شرم ناک، افسوس ناک اور قابلِ مذمت ہیں یہی چیف جسٹس اس وقت بہت بڑے اور اچھے جج تھے، جب انہوں نے پی ٹی آئی کو درجنوں کیسز میں ریلیف دیا جو جج پی ٹی آئی کی ڈکٹیشن اور ان کی مرضی پر نہیں چلتا، یوتھیا نہیں بن جاتا، اس کا مقدر گالم گلوچ ہوجاتا ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کے خلاف پوسٹیں شیئر کی گئی اور ساتھ ہی ان پر منافقت کا الزام لگادیا پاکستان تحریک انصاف کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جسٹس عامر فاروق کے خلاف کئی پوسٹیں شیئر کی گئیں۔

    جماعت اسلامی کا بجلی کے بلوں کے خلاف پرامن ہڑتال کا اعلان

  • نوجوانوں کے پاکستان چھوڑنے کے بیان پر نگران وزیراعظم کی وضاحت

    نوجوانوں کے پاکستان چھوڑنے کے بیان پر نگران وزیراعظم کی وضاحت

    اسلام آباد: نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہےکہ میں سمجھتا ہوں باہر جانے والا نوجوان خاندان کی روزی کا سبب بنتا ہے-

    باغی ٹی وی : امریکا کی معروف ہارورڈ یونیورسٹی کے طلبا کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انوار الحق کاکڑ نےکہا تھا کہ وہ نوجوانوں کے ملک چھوڑ کر جانےکو منفی نظر سے نہیں دیکھتے، اگر کوئی نوجوان پاکستان چھوڑ کر امریکا اور یورپ میں آباد ہونےکا فیصلہ کرتا ہے تو یہ مثبت چیز ہے، ا س رجحان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے ان کے اس بیان پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا-

    تاہم، نگراں وزیراعظم نے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں سے مجھے سوشل میڈیا پر ایک نامکمل بیان کی وجہ سے ٹرول کیا جا رہا ہے جس کی میں نے وضاحت کرنے کی کوشش بھی کی تھی میں سمجھتا ہوں باہر جانے والا نوجوان خاندان کی روزی کا سبب بنتا ہے اور ترسیلات زر کے ذریعے معیشت میں بھی مثبت حصہ ڈالتا ہے اچھے مواقع کی تلاش میں بیرون ملک جانا کوئی بری بات نہیں ہے، 60 اور 70 کی دہائی میں بھارت سے پڑھے لکھے نوجوان باہر گئے، 30 برس بعد وہی لوگ اپنے ملک کا قیمتی اثاثہ ثابت ہوئے۔

    کہکشاں کے اندر ایک اور کہکشاں دریافت

    انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ کوئی امریکا، یورپ یا کہیں بھی جاتا ہے یہ صرف چیلنج نہیں ایک موقع بھی ہے،بہتر مواقعوں کے حصول کے لیے نوجوانوں کے دیگر ممالک جانے کو برا نہیں سمجھتا، کیا یہ پہلی بار ہےکہ نوجوان ملک سے باہر جا رہے ہیں ؟ بالکل نہیں، ہرماہ اور ہر سال لوگ ملک سے باہر جاتے ہیں یہ معمول ہے، جب یہ لوگ واپس آتے ہیں تو صرف دولت ہی نہیں پیشہ وارانہ مہارت بھی لاتے ہیں، میرے لیے اہم یہ ہےکہ آپ جہاں بھی ہوں کامیاب ہوں، اگر آپ بیکار ہیں تو اپنے ملک میں ہوں یا کہیں، یہ مسئلہ ہے۔

    ریلیف نہیں چاہیے، قانون کے مطابق فیصلہ دیں،ترجمان چیئرمین پی ٹی آئی نعیم حیدر

    نگران وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عالمی معیشت اور استحکام میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا ہےاگر پاکستان دس سال تک روس کے خلاف نہ لڑتا تو آج 30 ہزار ارب ڈالر کی سرمایہ دارانہ معیشت نہ ہوتی کسی حکومت کی مدت کی عدم تکمیل غیر جمہوری نہیں، گزشتہ 15 سال میں 3 منتخب پارلیمان نے اپنی مدت مکمل کی، جمہوریت میں حکومت پارلیمنٹ اور آئین کے ذریعے ہی تبدیل ہوتی ہے۔

    واپڈا کے گریڈ 17 سے 22 تک افسران کیلئے فری یونٹ ختم کرنے کا فیصلہ

  • کہکشاں کے اندر ایک اور کہکشاں دریافت

    کہکشاں کے اندر ایک اور کہکشاں دریافت

    اسپین میں ایک ماہر فلکیات نے ہبل اسپیس ٹیلی سکوپ کے ذریعے حاصل کی گئی سومبریرو کہکشاں کی تصاویر کا تجزیہ کرکے ایک نئی فعال کہکشاں دریافت کی ہے،ان تصاویر میں اسی کہکشاں کے اندر ایک نئی فعال کہکشاں کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: اکیڈمک مضامین کے لیے ایک اوپن ایکسیس آرکائیو ”arXiv“ میں شائع ہونے والی یہ دریافت ”ہماری“ کہکشاں کے سب سے دلچسپ اور منفرد پڑوسیوں میں سے ایک پر روشنی ڈالتی ہے، جو کنیا سپر کلسٹر میں واقع ہے، جہاں ملکی وے پائی جاتی ہے،سومبریرو کہکشاں (Sombrero Galaxy) کو Messier 104 یا NGC 4594 کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، یہ کنیا اور کوروس برجوں کے درمیان 31 ملین نوری سال پر محیط ایک سرپل کہکشاں ہے اور کنیا کے جھرمٹ میں سب سے بڑی آسمانی اشیاء میں سے ایک ہے اس کا حجم 800 بلین سورجوں کے برابر ہے۔

    اسے ایک عجیب کہکشاں کے طور پر بھی درجہ بندی کیا گیا ہے، یہ اصطلاح کہکشاؤں کے لیے استعمال ہوتی ہے جو سائز، شکل یا ساخت میں غیر معمولی ہیں اس کہکشاں کے بارے میں دو چیزیں ہمیشہ نمایاں رہی ہیں: اس کے مرکز میں اس کا انتہائی روشن نیوکلئس اور اس کے ارد گرد موجود دھول کا بہت بڑا حلقہ، اسے ایک سومبریرو(میکسیکن ٹوپی) کی شبیہ دیتا ہے، اس لیے اس کا عرفی نام ہے سومبریرو کہکشاں 1781 میں پہلی بار دریافت ہوئی تھی۔

    چندریان تھری مشن: چاند پرروور کے لینڈر سے نیچے اترنے کی پہلی ویڈیو جاری

    تاہم، اس کہکشاں کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ اس میں متعدد گلوبلر کلسٹرز ہیں، جو کشش ثقل سے جڑے ہوئے ستاروں کی بڑی تعداد ہیں۔ یہ ہر کہکشاں میں موجود ہیں، بشمول ملکی وے، حالانکہ یہ عام طور پر کنارے پر زیادہ واقع ہوتے ہیں۔

    لیکن اسپین کی مڈ اٹلانٹک یونیورسٹی کے ماہر فلکیات ایلیو کوئروگا روڈریگیز کے نتائج کے مطابق، ایک عجیب چیز جو پہلے ایک گلوبلر کلسٹر سمجھی جاتی تھی (جسے پین اسٹار آر ایس 1 ڈیٹا آرکائیو میں PSO J190.0326-11.6132 کے طور پر درج کیا گیا ہے) کچھ اور ہو سکتی ہے، یعنی ایک مکمل طور پر الگ کہکشاں، جو اپنے مرکز میں ایک فعال کہکشاں نیوکلئس (AGN) رکھتی ہو ایسا لگتا ہے کہ اس کہکشاں کے دو سرپل بازو ہیں اور اسے عارضی طور پر ”Iris Galaxy“ کا نام دیا گیا ہے۔

    کہکشاں کے مرکز میں ایک کمپیکٹ خطہ جو کہ انتہائی چمکدار اور توانائی بخش ہے، ستارے کی تشکیل یا مرکز میں ایک زبردست بلیک ہول کی سرگرمی کی نشاندہی کر سکتا ہے۔

    بچوں سے جنسی جرائم پر پرنسپل کو 15 برس قید کی سزا

    ایک کہکشاں دوسری کہکشاں کے اندر کیسے بن سکتی ہے؟

    یہ حقیقت میں اتنا غیرمعمولی نہیں جتنا لگتا ہے 2009 میں، سائنسدانوں نے ایک بونی کہکشاں دریافت کی تھی جو سومبریرو کہکشاں کے ساتھ تھی۔ اس طرح Sombrero Galaxy کے لیے اس طرح کا ایک اور ساتھی ہونا غیرمعمولی نہیں اگر آئرس گیلیکسی سومبریرو گیلیکسی کا حصہ ہے تو غالب امکان یہ ہے کہ یہ ایک بہت چھوٹی کہکشاں ہوگی، جس کا سائز صرف 1,000 نوری سال ہو۔

    لیکن اگر یہ Sombrero Galaxy کا حصہ نہیں تو یہ ممکنہ طور پر بہت دور ہے اور اس لیے بہت بڑی ہےروڈریگز کے مطابق، اس حساب سے آئرس گیلیکسی کو کم از کم 65 ملین نوری سال کے فاصلے پر ہونا پڑے گا اور اس کا سائز تقریباً 71,000 نوری سال ہو سکتا ہے۔

    کیا دماغ چیزیں جان بوجھ کر بھولتا ہے؟نئی تحقیق میں ماہرین کے انکشاف

  • ریلیف نہیں چاہیے، قانون کے مطابق فیصلہ دیں،ترجمان چیئرمین پی ٹی آئی نعیم حیدر

    ریلیف نہیں چاہیے، قانون کے مطابق فیصلہ دیں،ترجمان چیئرمین پی ٹی آئی نعیم حیدر

    اسلام آباد: ترجمان چیئرمین پی ٹی آئی نعیم حیدر پنجوتھہ نے کہا ہے کہ ریلیف نہیں چاہیے ، قانون کے مطابق فیصلہ دیں –

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے کے پروگرام میں نعیم حیدر پنجوتھہ نے کہا ہے کہ عدالت میں ایف آئی اے نے کہا اصل سائفر وزارت خارجہ میں موجود ہے، امید ہے چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت سوموار کو ہو جائے گی،ہم نے کہا ریلیف نہیں چاہیے ، قانون کے مطابق فیصلہ دیں 90 روز کے اندر انتخابات پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ ہوا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کی ہدایت پر وزیراعظم کو بھی خط لکھا ہے۔

    قبل ازیں شاہ محمود قریشی کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں سائفر کیس میں جسمانی ریمانڈ کے تین حکم ناموں کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہےشاہ محمود قریشی نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کیلیے آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا،میں نے نہ تو سائفر ٹیلی گرام لیا اور نہ ہی اس کی نقل کسی غیر مجاز شخص کو ظاہر کی، ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ سائفر وزارت خارجہ کے پاس ہی ہے میں نے وزیر خارجہ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے قانون کے مطابق اس وقت کے وزیراعظم کو پیغام پہنچایا تھا۔

    سائفر مجھ سے گم ہو گیا ،عمران خان کا تحقیقاتی ٹیم کے سامنے اعتراف

    دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین سابق وزیراعظم عمران خان سے اٹک جیل میں سائفر کے حوالہ سے تحقیقات کی گئیں، عمران خان نے اعتراف کر لیا ہے کہ سائفر مجھ سے گم ہو گیا ہے،واضح رہے کہ سائفر کیس میں عمران خان کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے، سائفر کیس میں شاہ محمود قریشی بھی گرفتار ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی اوروائس چئیرمین شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس میں ایف آئی آر درج ہوچکی ہے ،ایف آئی آر میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعہ 5 اور 9 لگائی گئی ہے اس کے علاوہ دونوں کےخلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 34 بھی لگی ہوئی ہے-

    واپڈا کے گریڈ 17 سے 22 تک افسران کیلئے فری یونٹ ختم کرنے کا فیصلہ

    سائفر کا معاملہ کیا ہے؟
    خیال رہےکہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے امریکا میں پاکستانی سفیر کے مراسلے یا سائفرکو بنیاد بنا کر ہی اپنی حکومت کے خلاف سازش کا بیانیہ بنایا تھا جس میں عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی حکومت کے خاتمے میں امریکا کا ہاتھ ہے تاہم قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں سائفر کو لے کر پی ٹی آئی حکومت کے مؤقف کی تردید کی جاچکی ہے۔

    اس کے علاوہ سائفر سے متعلق عمران خان اور ان کے سابق سیکرٹری اعظم خان کی ایک آڈیو لیک سامنے آئی تھی جس میں عمران خان کو کہتے سنا گیا تھا کہ ’اب ہم نے صرف کھیلنا ہے، امریکا کا نام نہیں لینا، بس صرف یہ کھیلنا ہے کہ اس کے اوپر کہ یہ ڈیٹ پہلے سے تھی جس پر اعظم خان نے جواب دیا کہ میں یہ سوچ رہا تھا کہ اس سائفر کے اوپر ایک میٹنگ کر لیتے ہیں-

    نئی حلقہ بندیوں کے بغیر شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں،ایم کیو ایم

    اس کے بعد وفاقی کابینہ نے اس معاملے کی تحقیقات کو ایف آئی اے کے سپرد کیا تھا اعظم خان پی ٹی آئی کے دور حکومت میں اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری تھے اور وہ وزیراعظم کے انتہائی قریب سمجھے جاتے تھے۔ بعد ازاں اعظم خان نے بھی سائفر کو پری پلان ڈرامہ قرار دے دیا تھا۔

  • نئی حلقہ بندیوں کے بغیر شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں،ایم کیو ایم

    نئی حلقہ بندیوں کے بغیر شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں،ایم کیو ایم

    کراچی: ایم کیو ایم پاکستان رابطہ کمیٹی نے کہا ہے کہ نئی حلقہ بندیوں کے بغیر شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن ہی نہیں-

    باغی ٹی وی: کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان رابطہ کمیٹی کا اجلاس کنوینر ایم کیو ایم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی صدارت میں پاکستان ہاؤس میں ہوااجلاس میں حلقہ بندیوں سمیت عام انتخابات سے متعلق مختلف امور زیر بحث آئے، اراکین رابطہ کمیٹی سے الیکشن کمیشن کی جانب سے دیئے گئے دعوت نامے سے متعلق تجاویز لی گئیں-

    اراکین رابطہ کمیٹی نے کہا کہ مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیاں شفاف اور منصفانہ انتخابات کے لئے ضروری ہیں نئی حلقہ بندیوں کے بغیر شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن ہی نہیں، نئی منصفانہ حلقہ بندیوں کیلئے آئینی و قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔

    الیکشن میں تاخیر،جماعت اسلامی کا سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ

    دوسری جانب جماعت اسلامی نے الیکشن میں تاخیر پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنےکا فیصلہ کیا ہے، جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ اور سابق ایم این اے عبد الاکبر چترالی نے درخواست تیار کرلی ہے، جسٹس ریٹائرڈ غلام محی الدین کے توسط سے سپریم کورٹ میں اگلے ہفتے درخواست دائر کی جائےگی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہےکہ نگران وفاقی حکومت کی جانب سے عام انتخابات میں تاخیر آئین کے آرٹیکل 224 کی خلاف ورزی ہے،اسمبلی تحلیل کے بعد 60 سے 90 دن کے اندر انتخابات منعقد کروانا آئین کے آرٹیکل 224 میں واضح ہے لیکن مشترکہ مفادات کونسل کے نمائندوں اور نگران وزرائے اعلیٰ کے درمیان اجلاس کو بنیاد بنا کر الیکشن میں تاخیر کی جارہی ہے۔

    پاکستان ہاکی فیڈریشن کوبحال کر دیا گیا،لیٹر جاری

    درخواست میں موقف اختیار کیاگیا ہےکہ مشترکہ مفادات کونسل کےاجلاس میں دو وزرائےاعلیٰ نےاپنےنگران حکومت کےپہلے دورانیےکو مکمل کیا ہے اب ان حکومتوں کی حیثیت غیر قانونی اور غیر آئینی ہے عدالت الیکشن کمیشن کو الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 57 ٹو کے تحت جنرل الیکشن کا اعلامیہ جاری کرنےکا حکم دے اور 90 دن کے اندر انتخابات منعقد کرنےکے لیے الیکشن کمیشن کو احکامات جاری کرے-

    چندریان تھری مشن: چاند پرروور کے لینڈر سے نیچے اترنے کی پہلی ویڈیو جاری

  • واپڈا کے گریڈ 17 سے 22 تک افسران کیلئے فری یونٹ ختم کرنے کا فیصلہ

    واپڈا کے گریڈ 17 سے 22 تک افسران کیلئے فری یونٹ ختم کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد: واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے گریڈ 17 سے 22 تک افسران کے لیے فری یونٹ ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی: وزارت پاور کی جانب سے دی گئی بریفنگ میں کہا گیا کہ وفاقی کابینہ کو آئندہ اجلاس میں سمری بھیجی جائے گی جس میں فری یونٹ ختم کرکے انہیں تنخواہ میں کچھ اضافی رقم فراہم کی جائے گی201 ملین کی بجلی چوری ہوتی ہے، آزاد کشمیر (اے جے) سے بل نہیں آتا، اے جے کے حکومت بل لیتی ہے وفاق کو نہیں دیتی کوئٹہ کے 29 ہزار ٹیوب ویل بل ادا نہیں کرتے جبکہ 35 ملین صارفین 40 لاکھ ایر کنڈیشنر استعمال کرتے ہیں۔

    بجلی بلوں کے خلاف مظاہرے،کنٹرول روم قائم کرنے کیلئے حکم نامہ جاری

    دوسری جانب بجلی بلوں کے خلاف مظاہروں پر پاور ڈویژن نے جوابی حکمت عملی بنا لی، پاور ڈویژن نے کنٹرول روم قائم کرنے کیلئے حکم نامہ جاری کردیا گیا، ملک بھر میں بجلی کی تمام تقسیم کار کمپنیوں سے مربوط کوارڈینیشن کیلئے پاور ڈویژن میں مرکزی کنٹرول روم قائم کیا جائے گا،کنٹرول روم میں تعینات افسرن تقسیم کار کمپنیوں اور متعلقہ صوبوں کے آئی جیز اور چیف سیکرٹری سے امن و امان کی صورتحال بگڑنے پر رابطہ کرے گا کنٹرول روم میں تعینات افسران عوامی رد عمل کے نتیجے میں بجلی دفاتر کو ہونے والے نقصانات کی تفصیلی رپورٹ بھی مرتب کرکے اعلیٰ حکام کو پیش کریں گے۔

    مانسہرہ میں بس کھائی میں گرنے سے 2 خواتین سمیت 6 افراد جاں بحق

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قائم مرکزی کنٹرول روم آج 25 اگست سے 31 اگست تک قائم کیا گیا ہے، مرکزی کنٹرول روم میں روزانہ پاور ڈویژن کا ایک جوائنٹ سیکرٹری، ڈپٹی سیکرٹری اور سیکشن افسران شفٹوں میں 24 گھنٹے کام کریں گے، اس حوالے سے پاور ڈویژن نے آفس آرڈر جاری کردیا ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کو پنجاب میں الیکشن میں دلچسپی نہیں تھی،پرویز خٹک

  • جماعت اسلامی کا بجلی کے بلوں کے خلاف پرامن ہڑتال کا اعلان

    جماعت اسلامی کا بجلی کے بلوں کے خلاف پرامن ہڑتال کا اعلان

    کراچی: جماعت اسلامی نے بجلی کے زائد بلوں کے خلاف ستمبر کے پہلے ہفتے میں کراچی میں پرامن ہڑتال کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : حافظ نعیم الرحمان نے ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے کہا کراچی کے ساڑھےتین کروڑعوام بجلی کے بلوں سے پریشان ہیں چیمبر آف کامرس اور فیڈریشن کو بھی سامنے آنا ہوگا، بجلی کے بلوں میں غیر منصفانہ ٹیکس لگائے گئے، بجلی کے بلوں میں 7.50روپے کا اضافہ فوری واپس لیا جائے-

    دوسری جانب بجلی کے بلوں پر عوام کے احتجاج کے بعد سینیٹر مشتاق احمد خان نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ جناب نگراں وزیراعظم صاحب، عوام اب بپھر گئے ہیں، کراچی سے چترال تک مظلوموں کو بجلی کے بلوں/ واپڈا نے اشرافیہ کے خلاف متحد کردیا ہے،کل کے اجلاس میں ان 4 کاموں کا فیصلہ اور فوری عملدرآمد کرلیں، ورنہ دانشورانہ گفتگو/ بھاری بھر کم الفاظ سے عوام کا پیٹ بھرنے والا نہیں-

    الیکشن میں تاخیر،جماعت اسلامی کا سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ

    بجلی کےبلوں میں تمام ظالمانہ ٹیکس ختم کیےجائیں، مفت بجلی بند کی جائےججز، جرنیل، افسر شاہی، واپڈا ملازمین، پارلیمنٹیرینز کسی کو بھی ایک یونٹ بجلی مفت نہ دی جائے آئی پی پیز سے فراڈ معاہدے ختم کیے جائیں اور ان کے مالکان کے اوپر ایف آئی آر درج کرکے ان کو گرفتار کیا جائے ملک میں فرنس آئل اور امپورٹڈ کوئلہ سے بجلی کی تیاری پر پابندی لگائی جائےبجلی کی چوری جو محکمہ واپڈا کی سہولت کاری سے ہوتی ہے اس کو دہشتگردی کے برابر جرم قرار دے کر کھلے عام سزائیں دی جائیں-

    بجلی بلوں کے خلاف مظاہرے،کنٹرول روم قائم کرنے کیلئے حکم نامہ جاری

    صدر استحکام پاکستان پارٹی علیم خان نے کہا ہے کہ بلوں میں ہو شربا اضافے سےعوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے، بجلی کے بلز لوگوں کیلئے بارود کا ڈھیر بن چکے ہیں مہنگائی نے ہر گھر میں کہرام مچا دیا ہے، عوام کا غم وغصہ فطری ہے، عوام کو ریلیف نہ ملا تواحتجاج کا دائرہ کار بڑھتا جائے گا ماضی کے ناکام حکمرانوں سے عوام کے معاشی استحصال کا حساب لیا جائے، 2018 اور2022 میں حکومتوں سےعام آدمی کی حالت زار نہیں بدلی حکومت بجلی کے بلوں میں فوری کمی کرے، عام آدمی میں مہنگائی کا مزید بوجھ برداشت کرنے کی سکت نہیں۔

    چندریان تھری مشن: چاند پرروور کے لینڈر سے نیچے اترنے کی پہلی ویڈیو جاری

  • لاہور:مارکیٹس کے نئے اوقات کار جاری

    لاہور:مارکیٹس کے نئے اوقات کار جاری

    لاہور: توانائی کی بچت کے لیے ضلعی انتظامیہ نے کمرشل مارکیٹس کے نئے اوقات کار جاری کر دیئے۔

    باغی ٹی وی: لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے ایک دفعہ پھر اوقات کار میں تبدیلی کردی جبکہ ڈی سی لاہور رافعہ حیدر کی جانب سے اوقات کار میں تبدیلی کا نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا نوٹیفکیشن کے مطابق کمرشل و ہول سیل مارکیٹ ہفتے سے پیر رات 10 بجے تک کھلی رہ سکیں گی جبکہ اتوار کو کمرشل مارکیٹس کے اوقات کار دن 2 بجے سے رات 10 بجے تک ہوں گے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق ریسٹورنٹس، ہوٹلز، کافی شاپس پیر تا جمعرات رات 11 بجے تک کھل سکیں گی جبکہ جمعہ تا اتوار رات 12 بجے تک کھلنے کی اجازت ہوگی اشیائے خور و نوش کی ہوم ڈلیوری کے اوقات رات 12 بج کر 30 منٹ تک مقرر کیے گئے ہیں میڈیکل اسٹورز، لیبارٹریز، پیٹرول پمپس اور سی این جی اسٹیشنز، ملک شاپس، تندور اور پنکچر والی دکانیں پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی-

    چندریان تھری مشن: چاند پرروور کے لینڈر سے نیچے اترنے کی پہلی ویڈیو جاری

    الیکشن میں تاخیر،جماعت اسلامی کا سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ

    پاکستان ہاکی فیڈریشن کوبحال کر دیا گیا،لیٹر جاری

  • چندریان تھری مشن: چاند پرروور کے لینڈر سے نیچے اترنے کی پہلی ویڈیو جاری

    چندریان تھری مشن: چاند پرروور کے لینڈر سے نیچے اترنے کی پہلی ویڈیو جاری

    بھارتی خلائی مشن چندریان 3 کی چاند کے قطب جنوب پر روور کے لینڈر سے نیچے اترنے کی پہلی ویڈیو جاری کردی گئی۔

    باغی ٹی وی: سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر بھارتی خلائی ایجنسی انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) نے یہ ویڈیو جاری کی جس میں روور کو لینڈر سے چاند پر اترتے دیکھا جاسکتا ہےاسرو کی جانب سے شیئر کردہ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ لینڈر سے روور چاند کی سطح پر اترتا ہے اور اپنے سفر کا آغاز کرتا ہے۔


    اس سے قبل چندریان 3 کی پہلی بار چاند پر لینڈنگ کے بعد چاند کی سطح کی پہلی تصاویر بھی جاری کی گئی تھیں،واضح رہے کہ جمعرات کو بھارت کا مشن چندریان 3 کامیابی سے چاند کے تاریک حصے پر اتر گیا تھا جس کے ساتھ ہی بھارت چاند کے تاریک حصے پر لینڈ کرنے والا پہلا ملک بن گیا.اس سے قبل امریکا، روس اور چین چاند کے خط استوا کے قریب سافٹ لینڈنگ کر چکے ہیں۔


    چندریان 3 مشن 14 جولائی کو روانہ ہوا تھا جو لانچ کے بعد 10 دن تک زمین کے مدار میں موجود رہا اور 5 اگست کو کامیابی سے چاند کے مدار میں داخل ہوا وکرم نامی لینڈر 17 اگست کو پروپلشن موڈیول سے کامیابی سے الگ ہوا تھا جس کے بعد آج یہ مشن چاند پر کامیابی سے اتر گیا ہے۔


    جہاں چندریان 3 اترا وہ قطب جنوبی کا دوردراز خطہ ہے، مستقل طور پر سائے میں رہنے کی وجہ سے اسے ‘چاند کا اندھیرے والا حصہ’ بھی کہا جاتا ہے اور غالب امکان ہے کہ چاند کا جو حصہ سائے میں ہے وہاں پانی کی موجودگی کے آثار ملیں،سائنسدانوں کا خیال ہےکہ چاندکے قطب جنوبی میں کافی مقدار میں برف موجود ہے۔

    چاند پر برف یعنی پانی کی موجودگی کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں انسان اسے استعمال کر سکتا ہے، یہ برف نہ صرف پینےکے پانی میں تبدیل کی جاسکتی ہے بلکہ اس سے آکسیجن اور ہائیڈروجن حاصل کی جاسکتی ہے جس سے وہاں زندہ رہنے اور راکٹ یا خلائی جہاز کے لیے فیول حاصل کرنا ممکن ہوسکتا ہے۔

  • الیکشن میں تاخیر،جماعت اسلامی کا سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ

    الیکشن میں تاخیر،جماعت اسلامی کا سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ

    اسلام آباد: جماعت اسلامی نے الیکشن میں تاخیر پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنےکا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ اور سابق ایم این اے عبد الاکبر چترالی نے درخواست تیار کرلی ہے، جسٹس ریٹائرڈ غلام محی الدین کے توسط سے سپریم کورٹ میں اگلے ہفتے درخواست دائر کی جائےگی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہےکہ نگران وفاقی حکومت کی جانب سے عام انتخابات میں تاخیر آئین کے آرٹیکل 224 کی خلاف ورزی ہے،اسمبلی تحلیل کے بعد 60 سے 90 دن کے اندر انتخابات منعقد کروانا آئین کے آرٹیکل 224 میں واضح ہے لیکن مشترکہ مفادات کونسل کے نمائندوں اور نگران وزرائے اعلیٰ کے درمیان اجلاس کو بنیاد بنا کر الیکشن میں تاخیر کی جارہی ہے۔

    درخواست میں موقف اختیار کیاگیا ہےکہ مشترکہ مفادات کونسل کےاجلاس میں دو وزرائےاعلیٰ نےاپنےنگران حکومت کےپہلے دورانیےکو مکمل کیا ہے اب ان حکومتوں کی حیثیت غیر قانونی اور غیر آئینی ہے عدالت الیکشن کمیشن کو الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 57 ٹو کے تحت جنرل الیکشن کا اعلامیہ جاری کرنےکا حکم دے اور 90 دن کے اندر انتخابات منعقد کرنےکے لیے الیکشن کمیشن کو احکامات جاری کرے-

    چیئرمین پی ٹی آئی کو پنجاب میں الیکشن میں دلچسپی نہیں تھی،پرویز خٹک

    واضح رہے کہ قبل ازیں پیپلز پارٹی نے بھی انتخابات میں 90 روز سےزیادہ کی تاخیر کی کھل کر مخالفت کی تھی،پیپلز پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ حلقہ بندیوں کے بعد ان کے خلاف اپیلیں ہوئیں تو سال ڈیڑھ سال انہی چکروں میں پڑے رہیں گے، اس لیے الیکشن 90 روز کے اندر اندر ہونے چاہئیں، آئین میں 90 دن کا ذکر ہے، حلقہ بندیوں کا ذکر نہیں، اسمبلیوں کی نشستیں بھی نہیں بڑھائی جا رہیں،انہی حلقوں کی حدود کو کم زیادہ کرنا ہے، یہ کام کرنا بھی ہے تو 2 ماہ میں مکمل کر لیا جائے، پیپلز پارٹی کا اجلاس بلا کر فیصلہ کریں گے کہ الیکشن میں تاخیر کے خلاف سپریم کورٹ میں جانا ہے یا نہیں۔

    خیال رہے کہ سابق وزیراعظم شہباز شریف نے 12 اگست کو مدت پوری ہونے سے قبل قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری دستخط کرکے صدر کو منظوری کیلئے بھیجی تھی، صدر مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر 9 اگست کو قومی اسمبلی توڑ دی، انہوں نے اسمبلی آئین کے آرٹیکل 58 (1)کے تحت تحلیل کی۔

    سربراہ بی این پی عوامی اور سابق صوبائی وزیر اسد بلوچ کے گھر پر …

    اسمبلی تحلیل ہونے پر الیکشن کمیشن کو آرٹیکل224 ون کے تحت انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنا ہوتا ہے، آئین کے مطابق مدت پوری ہونے سے قبل اگر اسمبلی توڑی جائے تو عام انتخابات 90 روز میں کرانے ہوتے ہیں تاہم اگر نئی مردم شماری ہو تو آئین کے آرٹیکل 15(1)کے سب سیکشن 5کے تحت الیکشن کمیشن پاکستان از سر نو حلقہ بندیاں کرانے کا قانونی طو رپر پابند ہے۔

    بعد ازاں الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کے شیڈول کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ عام انتخابات 90 دن میں نہیں ہو سکتےالیکشن کمیشن نے ملک بھر میں نئی مردم شماری کی بنیاد پر حلقہ بندیاں کرنےکا فیصلہ کیا اور حلقہ بندیوں کے لیے 4 ماہ کا وقت مختص کردیا،حلقہ بندیوں کی حتمی اشاعت 14دسمبرکو کی جائےگی، ملک بھر میں8 ستمبر سے7 اکتوبر تک حلقہ بندیاں کی جائیں گی، اکتوبر سے 8 نومبر تک حلقہ بندیوں سے متعلق تجاویز دی جائیں گی، 5 ستمبرسے7 ستمبر تک قومی وصوبائی اسمبلیوں کا حلقہ بندیوں کا کوٹہ مختص کیا جائےگا، حلقہ بندیوں سےمتعلق انتظامی امور 31 اگست تک مکمل کیے جائیں گے۔

    لائیو نشریات کے دوران بی بی سی اینکر کی زبان پھسل گئی