Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • ورلڈ کپ 2023 کا شیڈول آئی سی سی اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے لیے درد سر بن گیا

    ورلڈ کپ 2023 کا شیڈول آئی سی سی اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے لیے درد سر بن گیا

    امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی )کرکٹ ورلڈکپ کے شیڈول میں ایک مرتبہ پھر تبدیلی ہو گی۔

    باغی ٹی وی:بھارتی کرکٹ بورڈ کو ایک بار پھر شیڈول میں تبدیلی کے بارے میں کہہ دیا گیا ہے بھارتی میڈیا کے مطابق حیدر آباد پولیس نے سکیورٹی تحفظات کا اظہار کر دیا ہے اور حیدر آباد کرکٹ ایسوسی ایشن نے ان سکیورٹی تحفظات سے بھارتی بورڈ کو آگاہ کیا ہے۔

    حیدرآباد کرکٹ ایسوسی ایشن (ایچ سی اے) نے بورڈ فار کرکٹ کنٹرول ان انڈیا (بی سی سی آئی) کو مطلع کیا ہے کہ انہیں مسلسل دنوں میں ورلڈ کپ کے میچوں کی میزبانی کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ حیدرآباد کا راجیو گاندھی اسٹیڈیم 9 اکتوبر کو نیوزی لینڈ اور ہالینڈ کے درمیان میچ کی میزبانی کرے گا اور اس کے اگلے ہی دن اسی مقام پر سری لنکا کا مقابلہ پاکستان سے ہوگا۔

    ذکاء اشرف قومی کھلاڑیوں سے ملاقات کے لئے کولمبو چلے گئے

    حیدرآباد پولیس نے دونوں کھیلوں کے درمیان کوئی فرق نہ ہونے کے حوالے سے سیکیورٹی خدشات کا اظہار کیا ہے اور پاکستان اور سری لنکا کے درمیان میچ حکام کے لیے خصوصی تشویش کا باعث ہے۔

    ابتدائی طور پر یہ میچ 12 اکتوبر کو ہونا تھا لیکن احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں ہونے والے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان 14 اکتوبر کو ہونے والے میچ کو دوبارہ شیڈول کرنے کے بعد، اس کھیل کو آگے لایا گیا تاکہ پاکستان کو میچوں کے درمیان آرام کے لیے مناسب وقت فراہم کیا جا سکے۔

    ایشیا کپ،کمنٹری پینل کا اعلان،رمیز راجہ رہ گئے

    واضح رہےکہ آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ کا شیڈول پہلےہی تبدیل کیا جا چکا ہے،پاکستان کے 3 میچز سمیت 9 میچز کے شیڈول میں تبدیلی ہوئی اب ایک مرتبہ پھرشیڈول میں تبدیلی کےامکانات پیدا ہو گئےہیں حیدر آباد کرکٹ ایسوسی ایشن نےلگاتار 2 دن میچزکےانعقاد پر تحفظات کا اظہار کیا ہے راجیو گاندھی اسٹیڈیم میں 9 اکتوبر کو نیوزی لینڈ اور نیدر لینڈز کا میچ ہےجبکہ 10 اکتوبر کو پاکستان اور سری لنکا کا میچ ری شیڈولڈ کیا گیا ہے حیدر آباد پولیس نے میچز کے دروان وقفہ نہ ہونے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور پولیس نے پاکستان اور سری لنکا میچ پر خاص طور پر سکیورٹی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

    حسن علی لنکن پریمئیر لیگ میں انجری کا شکار

    پاکستان سری لنکا کا میچ پہلے شیڈول کے مطابق 12 اکتوبر کو حیدر آباد میں ہونا تھاچونکہ پاکستان اور بھارت کا میچ احمد آباد میں اب 14 اکتوبر کو ہونا ہے جو پہلے 15 اکتوبر کو تھا اور پاک بھارت میچ نووارتری تہوار کی وجہ سے 1 روز پہلے کیا گیا تھا لاجسٹک مسائل کی وجہ سے پاکستان سری لنکا کامیچ پھر دو روز پہلے کیا گیا تھا پاکستان انگلینڈ کا میچ بھی کالی پوجا کی وجہ سے کولکتہ میں 12نومبر کی بجائے 11نومبر کو کیا جا چکا ہے،ورلڈ کپ کے ٹکٹ باضابطہ طور پر 25 اگست سے فروخت ہوں گے۔

    شاہد آفریدی کی سنیل شیٹی سے ملاقات

  • چاند پر بھیجے گئے روسی خلائی مشن کو لینڈنگ سے قبل  ہنگامی صورتحال کا سامنا

    چاند پر بھیجے گئے روسی خلائی مشن کو لینڈنگ سے قبل ہنگامی صورتحال کا سامنا

    چاند پر بھیجے گئے روسی خلائی مشن لونا 25 کو چاند پر لینڈنگ سے قبل ہی ایمرجنسی صورتحال کا سامنا ہو گیا۔

    باغی ٹی وی : روسی خلائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ چاند پر بھیجے گئے روسی خلائی مشن لونا 25 میں غیرمعمولی ایمرجنسی صورتحال کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں روسی خلائی ایجنسی کےمطابق آپریشن کے دوران خودکار اسٹیشن پر ہنگامی صورتحال پیدا ہوئی، چاند کی سطح پر اترنے سے پہلے ایمرجنسی صورتحال کا پتاچلا ہے، ماہرین لونا 25 میں پیش آنے والی ایمرجنسی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں،واضح رہے کہ چاند کے مدار میں موجود لونا 25 کو آج چاند کے قطب جنوبی کی سطح پر اترنا تھا۔

    یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ آیا یہ مسئلہ قمری لینڈر کو روک دے گا، جسے پیر کے روز جلد ہی چاند کے جنوبی قطب کے قریب اترنا تھا، ٹچ ڈاؤن کی کوشش کرنے سے۔

    بحرین میں 500 قیدیوں نے بھوک ہڑتال شروع کردی

    روس کا لونا 25 لینڈر مشن سوویت دور کے بعد چاند پر خلائی جہاز اتارنے کی ملک کی پہلی کوشش ہے۔ آخری قمری لینڈر، لونا 24، 18 اگست 1976 کو چاند کی سطح پر اترا تھا،10 اگست کو روس کے امور اوبلاست میں ووسٹوچنی کاسموڈروم سے لانچ کیا گیا خلائی جہاز سویوز-2 فریگیٹ راکٹ پر سوار ہو کر گاڑی کو چاند کے تیز سفر پر لے گیا۔

    لونا 25 نے تیز رفتاری کے باعث بھارت کے چندریان 3 قمری لینڈر کو پیچھے چھوڑدیا، جو کہ جولائی کے وسط میں چاند پر جانے کیلئے لانچ ہوا تھا۔

    سنٹر فار ایسٹرو فزکس، ہارورڈ اینڈ سمتھسونین کے ایک محقق فلکی طبیعیات دان جوناتھن میک ڈویل کے مطابق، میڈیا کی خصوصیات جو کہ بھارت اور روس قطب قمری کے لیے دوڑ رہے ہیں، مکمل طور پر درست نہیں ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ دونوں منصوبوں پر ایک دہائی سے زائد عرصے سے کام جاری ہے۔

    ہالینڈ میں سیاستدان کی جانب سے پولیس کی موجودگی میں قرآن پاک کی بے حرمتی

    چاند کی سطح پر خلائی جہاز کو محفوظ طریقے سے اتارنا روس کے خلائی پروگرام کے لیے ایک بہت بڑا قدم ہوگا۔

    Luna 25 کو Roscosmos کے مستقبل کے روبوٹک چاند کی تلاش کے مشنوں کے لیے ایک ثابت ہونے والے میدان کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ مستقبل کے کئی لونا مشن اسی خلائی جہاز کے ڈیزائن کو استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    روس یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس کا سول اسپیس پروگرام، جس کے بارے میں کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی دہائیوں سے مسائل کا سامنا ہے، اب بھی ہائی پروفائل، ہائی اسٹیک مشنز میں انجام دے سکتا ہے۔

    وکٹوریہ سیمسن، سیکیور ورلڈ فاؤنڈیشن ایک غیر منافع بخش ادارہ جو بیرونی خلا کی پرامن تلاش کو فروغ دیتا ہے کے واشنگٹن آفس ڈائریکٹر نے کہا کہ انہیں کوالٹی کنٹرول، بدعنوانی، فنڈنگ ​​کے ساتھ بہت سے مسائل کا سامنا تھا-

    ایلون مسک نے ایکس (ٹوئیٹر) پر بلاک فیچر ختم کرنے کا کہہ دیا

  • پنجابی زبان کے ترقی پسند ادیب گربخش سنگھ پریت لڑی

    پنجابی زبان کے ترقی پسند ادیب گربخش سنگھ پریت لڑی

    پنجابی زبان کے ترقی پسند ادیب، کہانی نویس، ناول نگار، ڈراما نگار، مصنف اور ایڈیٹر گربخش سنگھ پریت لڑی۔(1895ء تا 1977ء)
    سردار گوربخش سنگھ 26 اپریل 1895ء کو پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کی عمر سات برس تھی کہ ان کے والد کا انتقال ہوگیا۔ سیالکوٹ سے میٹرک کے بعد ایف سی کالج، لاہور میں داخلہ لیا۔ معاشی مشکلات کی وجہ سے کالج کے ساتھ ساتھ 15 روپے ماہوار میں ایک مختصر وقت کے لیے کلرک کی نوکری شروع کردی۔ بعد میں 1913 میں تھامسن سول انجینئری کالج، روڑکی سے ڈپلوما حاصل کیا۔ فوج میں بھرتی ہوکر عراق اور ایران گئے۔ 1922 امریکا میں مشی گن یونیورسٹی سے انجینئرنگ کی ڈگری لے کر واپس آئے اور ایک ریلوے انجینئر کے طور پر ملازم ہوئے۔

    پریت لڑی
    ۔۔۔۔۔۔
    پیشے کے اعتبار سے ایک کامیاب انجینئرہونے کے ساتھ ساتھ انھوں نے پنجابی ادب میں بھی طبع آزمائی کی اور اپنی الگ شناخت بنائی۔ 1933ء میں ماڈل ٹاؤن، لاہور سے پنجابی اور اُردو زبان میں ایک ماہانہ میگزین ‘‘پریت لڑی’’ کی اشاعت شروع کی جو لوگوں میں اتنا مقبول ہوا کہ آپ کا نام ہی ‘‘گربخش سنگھ پریت لڑی ’’پڑ گیا۔

    پریت نگر
    ۔۔۔۔۔۔
    1936ء میں انھوں نے لاہور اور امرتسر کے درمیان ‘‘پریت نگر ’’ یعنی محبت کرنے والوں کا شہر کے نام سے ایک شہر آباد کیا جو صرف ترقی پسند شاعروں، ادیبوں اور انسان دوست دانشوروں اور فن و ثقافت سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے ہی مختص تھا۔ برطانوی دور میں ‘‘پریت نگر’’ کو ترقی پسند ادیبوں اور سماجی انقلاب کے لیے جدوجہد کرنے والے کارکنوں کے مرکز کی حیثیت حاصل تھی۔ فیض احمد فیض، ساحر لدھیانوی، امرتا پریتم، نُور جہاں (گلوکارہ)، بلراج ساہنی (اداکار)، شوبھاسنگھ (پینٹر)، اُپیندر ناتھ اشک، بلونت کارگی، کرتار سنگھ دُگل اور حمید اختر جیسے ادیب اس شہر کے باسی تھے۔ گربخش سنگھ ہر سال یہاں ادبی اجتماع منعقد کرتے جس میں برصغیر کے کونے کونے سے ادیب، شاعر اور دانشور شریک ہوتے۔ تقسیم ہند کے وقت جب یہ شہر بھی فسادات سے محفوظ نہ رہا تو گربخش سنگھ دل برداشتہ ہوکر دہلی چلے گئے۔ 1950ء کی دہائی میں واپس آئے اور ‘‘پریت لڑی ’’کو دوبارہ شروع کیا۔

    کہانی، ناول، ڈرامے، مضامین اور بچوں کے ادب پر آپ کی پچاس کے زائد کتب شائع ہوئیں۔ میکسم گورکی کے ناول ‘‘ماں ’’ کے پنجابی ترجمہ پر آپ کو سوویت نہرو ایوارڈ سے نوازا گیا۔ پنجابی ادب کا یہ معروف نام 20 اگست 1978ء کو اس دنیا سے رخصت ہو گیا لیکن پریت لڑی اور پریت نگر ابھی تک پرانی روایات کے امین کے طور پر قائم دائم ہے-

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    مجموعہ مضامین
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)سانوی پدھری زندگی
    (ہموار زندگی)
    ۔ (2)پرسنّلمی عمر
    (اچھی طویل زندگی)
    ۔ (3)سوے پورنتا دی لگن
    (تکمیلِ خودی کی لگن )
    ۔ (4)اک دنیاں دے تیراں سپنے
    (ایک دنیا کے تیرا خواب)
    ۔ (5)نواں شوالہ
    (نیا شیوالہ)
    ۔ (6)زندگی دی راس
    (زندگی کا لب لباب)
    ۔ (7)پرم منکھ
    (بہترین انسان)
    ۔ (8)میرے جھروکھے چوں
    (میری کھڑکی سے باہر)
    ۔ (9)کھلھا در
    (کھولنے کی شرح)
    ۔ (10)پریت مارگ
    (محبت کے راستے)
    ۔ (11)فیصلے دی گھڑی
    (فیصلے کی گھڑی)
    ۔ (12)زندگی وارث ہے
    (زندگی وارث ہے)
    ۔ (13)خوش حال جیون
    (خوشحال زندگی)
    ۔ (14)نویاں تقدیراں دی پھُلّ کیاری
    (نئی تقدیر کی پھول کیاری)
    ۔ (15)ایہہ جگ ساڈا
    (ہماری جنگ)
    ۔ (16)اسمانی مہانندی (ترجمہ)
    (عظیم آسمانی خوشی)
    ۔ (17)زندگی دے راہ (ترجمہ)
    (زندگی کی راہ)
    خودنوشت اور یادداشتوں
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)میریاں ابھلّ یاداں (1959)
    (میری ناقابل فراموش یادیں)
    ۔ (2)منزل دسّ پئی (1964)
    (دیکھی ہوئی منزل)
    ۔ (3)میری جیون کہانی
    (میری زندگی کی کہانی)
    ۔ (4)چٹھیاں جیتاں دے ناں
    (جیت کے نام خطوط )
    ناول
    ۔۔۔۔
    ۔ (1)انویاہی ماں
    (بن بیاہی ماں)
    ۔ (2)رکھاں دی جیراند
    (جیراند کا درخت)
    ۔ (3)ماں (ترجمہ)
    (ماں۔ میکسکم گورکی)
    کہانیوں کے مجموعے
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)ناگ پریت دا جادو (1940)
    (سانپ کی محبت جادو)
    ۔ (2)انوکھے تے اکلے (1940)
    (انوکھے اور اکیلے )
    ۔ (3)اسمانی مہانندی (1940)
    (عظیم آسمانی خوشی)
    ۔ (4)وینا ونود (1942)
    (وینا ونود)
    ۔ (5)پریتاں دی پہریدار (1946)
    (محبت کے پہرے دار)
    ۔ (6)پریت کہانیاں (1950)
    (رومانوی کہانیوں )
    ۔ (7)شبنم (1955)
    (شبنم)
    ۔ (8)بھابی مینا (1956)
    (بھابی مینا )
    ۔ (9)عشقَ جہناں دے ہڈیں رچیا
    (1959)
    (عشق جنوں نے عملی طور پر کیا)
    ۔ (10)زندگی وارث ہے (1960)
    (زندگی وارث ہے )
    ۔ (11)اک رنگ سہکدا دل (1970)
    (ایک رنگ سینکڑوں دل)
    ڈرامے
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)راج کماری لتکا تے ہور پریت ڈرامے
    (شہزادی لتیکا اور دوسرے
    رومانوی ڈرامے)
    ۔ (2)پریت مکٹ (1922-23)
    (محبت کا تاج)
    ۔ (3)پورب-پچھم
    (مشرق و مغرب)
    ۔ (4)ساڈی ہونی دا لشکارا
    (ہمارے ہونے کی شان)
    بچوں کا ادب
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)گلابی عینکاں
    (گلابی عینک)
    ۔ (2)پریاں دی موری
    (پریوں کا غار)
    ۔ (3)گلابو
    (گلابو)
    ۔ (4)مراداں پوریاں کرن والا کھوہ
    (مرادیں پوری کرنے والا کنواں)
    ۔ (5)جگاں پرانی گلّ
    (برسوں پرانی بات)

  • دریائے راوی اور ستلج میں مختلف مقامات پر سیلابی صورتِ حال

    دریائے راوی اور ستلج میں مختلف مقامات پر سیلابی صورتِ حال

    قصور: بھارت کی طرف سے چھوڑے گئے سیلابی ریلوں سے دریائے راوی اور ستلج میں مختلف مقامات پر سیلابی صورتِ حال ہے۔

    باغی ٹی وی: ہیڈ گنڈا سنگھ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے جبکہ ہیڈ سلیمانکی اور ہیڈ اسلام کے مقامات پر پانی کی سطح بڑھنے لگی ہے،بہاول پور کی دریائی بیلٹ پر اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے جس کے پیش نظر 19 ریلیف کیمپ قائم کردیئے گئے ہیں، ساتھ ہی 10 ہزار سے زائد افراد اور مال مویشی ریلیف کیمپوں اور محفوظ مقامات پر منتقل کردیئے گئے ہیں۔

    دریائی بیلٹ سے ملحقہ علاقوں کے رہائشی محفوظ مقامات پر منتقل ہونے لگے ہیں جبکہ چونیاں میں کنگن پور چوکی کے مقام پر دریائے ستلج کا حفاظتی بند ٹوٹنے سے پانی دیہات میں داخل ہوگیا ہے۔

    مون سون: کراچی میں آج سے بارشوں کا امکان

    واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے21 اگست تک روزانہ کی بنیاد پر پانی چھوڑے جانے کی اطلاعات کے پیش نظر دریائے ستلج سے ملحقہ قریبی بستیوں کو خالی کروایا گیا نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کا کہنا تھا کہ قصور میں 35 سال بعد پانی آیا ہے سیلاب کی صورتحال سے باخبر ہیں، سیلاب سے بچاؤ کےلیےبہترین حکمت عملی اپنائی ہوئی ہے، تیاری نہ ہوتی توبہت سارے گاؤں پانی میں بہہ جاتے محسن نقوی نے متاثرہ علاقوں کو دوہرہ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ پنجاب کے اسپتالوں میں ہر ممکن اقدامات کئے جارہے ہیں، اسپتالوں کی بہتری کے لیے کام کررہے ہیں، مل کرکام کریں گے تو ہہتر نتائج برآمد ہوں گے۔

    بورے والا میں دریائے ستلج میں پانی کی سطح بلند ہونے کے بعد انتظامیہ نے ہائی الرٹ جاری کردیا۔ میپکو، محکمہ ٹیلی فون سمیت دیگراداروں کو تنصیبات محفوظ بنانے کی وارننگ جاری کی گئی محکمہ خوراک اور پاسکو کو گندم محفوظ مقامات پرمنتقل کرنے کے ساتھ ہی محکمہ زراعت، لائیواسٹاک کو جانوروں کے چارے کا انتظام کرنے کا حکم دیا –

    لداخ: بھارتی فوج کا ٹرک کھائی میں جاگرا،9 فوجی ہلاک، 2 زخمی

    ستلج میں سیلاب کی خطرناک صورتحال کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر امتیاز احمد کھچی نے کہا کہ ریسکیو اہلکاروں اور موٹر بوٹس کی تعداد بڑھا دی گئی ہے، 12 پوائنٹس پر20 موٹر بوٹس اور60 ریسکیو اہلکار تعینات ہیں 6 موٹر بوٹس اور18ریسکیو اہلکار دوسرے اضلاع سے لیے ہیں، خطرناک سیلابی ریلے سے 100 سے زائد دیہات متاثرہ ہونے کا خطرہ ہے۔

    دریائے ستلج میں انتہائی اونچے درجے کی سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی۔ گنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کی سطح 23 فٹ تک بلند اور بہاؤ دو لاکھ 78 ہزار کیوسک تک پہنچ گیاتلوار پوسٹ کے مقام پر پانی کی سطح 12 فٹ اور فتح محمد پوسٹ کے مقام پر سطح 15 فٹ تک پہنچ گئی۔ ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے جہاں 80 ہزار کیوسک پانی کا ریلا گزر رہا ہے ہیڈ اسلام کے مقام پر 21 اگست سے اونچے درجے کے سیلاب کا امکان ہے۔

    سائفرگمشدگی کیس:چئیرمین پی ٹی آئی اورشاہ محمود قریشی کےخلاف مقدمہ درج

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بھارت کی جانب سے 21 اگست تک روزانہ کی بنیاد پر پانی چھوڑے جانے کی اطلاعات ہیں دریائے ستلج سے ملحقہ انتہائی قریبی بستیوں کو خالی کروایا جارہا ہے۔ ملحقہ اضلاع کی انتظامیہ کو فوڈ، شیلٹرز، ادویات، بوٹس اور دیگر اشیائے ضروریہ فراہم کی جا رہی ہیں دریاﺅں اور ندی نالوں میں نہانے پر پابندی ہے، انتظامیہ دفعہ ایک سو چوالیس کے نفاذ کو یقینی بنائے۔

    نگران وزیراعلیٰ پنجاب نے قصور کے سیلابی علاقے کا دورہ کیا، اس موقع پر ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او قصور نے وزیراعلی کو سیلاب کے متعلق بریفینگ دی سیکرٹری محکمہ ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر کی جانب سے ریسکیو آپریشن کی بریفنگ دی گئی۔ اس وقت دریائے ستلج قصور میں 69 ریسکیو بوٹ و آپریٹر 240 ریسکیور کیساتھ متعین ہیں سیلابی علاقے میں اہم مقامات پر ریسکیو بوٹ کیساتھ خصوصی پوسٹیں بنائی گئی ہیں۔ پتن پوسٹ، چندا سنگھ، تلوار پوسٹ، بھیکی ونڈ، باقر کے، بھیڈیاں عثمان والا، رتنے والا، منڈی عثمان والا، کوٹلی فتح محمد میں ریسکیو آپریشن جاری ہے جمعہ کے دن قصور کے سیلابی علاقہ سے 5578 لوگوں کا انخلا کیا گیا۔

    بحرین میں 500 قیدیوں نے بھوک ہڑتال شروع کردی

  • جڑانوالہ کیس:170 ملزمان کی فہرست تیار کر لی گئی

    جڑانوالہ کیس:170 ملزمان کی فہرست تیار کر لی گئی

    لاہور: آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا ہے کہ جڑانوالہ میں جلاؤ گھیراؤ کے واقعات میں ملوث 170 ملزمان کی فہرست تیار کر لی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی: آئی جی پنجاب نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جڑانوالہ واقعے میں 160 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ ویڈیوز، جیو فینسنگ، ایجنسیوں کی رپورٹ اور نادرا ریکارڈ کی مدد سے ملزمان کی شناخت کر رہے ہیں، متاثرہ گھروں کی بحالی تک خواتین اے ایس پیز جڑانوالہ میں ڈیوٹی دیں گی، خواتین پولیس افسران مسیحی خواتین اور بچیوں کی سکیورٹی اور احساس تحفظ کو یقینی بنائیں گی ملزمان کے خلاف توہینِ مذہب کی دفعات 295 بی اور 295 سی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ملزمان نے ایک درجن سے زائد گرجا گھروں اور کئی مکانات کو آگ لگا دی تھی۔

    سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر گرفتار

    دوسری جانب سانحہ جڑانوالہ میں جلائے گئے گرجا گھروں کی بحالی کا کام جاری ہے اور گرجا گھروں میں آج سروسز بھی ہوں گی ڈپٹی کمشنر کے مطابق حملہ آوروں نے 21 گرجا گھر جلائے اور 92 گھر تباہ کیے، جلاو گھیراؤ سے متاثرہ خاندانوں کی گھروں کو واپسی ہے۔

    گزشتہ روز سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج اور نامزد چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جڑانوالہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے سانحہ میں متاثر مکانات اورگرجا گھروں کی صورتحال کا جائزہ لیاجسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جڑانوالہ کے متاثرین سے بھی ملاقات کی جب کہ اس موقع پر ان کی اہلیہ بھی ان کے ہمراہ تھیں۔

    شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری گرفتار

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ڈپٹی کمشنر پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واقعےکو 3 دن گزرگئے لیکن متاثرہ گلیاں صاف نہیں کی گئیں نامزد چیف جسٹس نے ڈپٹی کمشنر کو کرسچین کالونی کی گلیاں فوری صاف کرانے کی بھی ہدایات دیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دانش اسکول میں متاثرین سے ملاقات کی جس کے بعد وہ روانہ ہوگئے۔

  • کراچی سے اسلام آباد جاتے ہوئے مسافر بس کو حادثہ،18 افراد جاں بحق 15 زخمی

    کراچی سے اسلام آباد جاتے ہوئے مسافر بس کو حادثہ،18 افراد جاں بحق 15 زخمی

    پنڈی بھٹیاں: کراچی سے اسلام آباد جاتے ہوئے پنڈی بھٹیاں کے قریب مسافر بس کو حادثہ پیش آگیا جس کے نتیجے میں آتشزدگی سے 18 افراد جھلس کر جاں بحق جبکہ 15زخمی ہو گئے،مزید اموات کا خدشہ ہے۔

    باغی ٹی وی: ریسکیو حکام کے مطابق مسافر کوچ کراچی سے اسلام آباد جا رہی تھی کہ حادثہ پیش آگیا جبکہ پک اپ وین ڈیزل لے کر جا رہی تھی، مسافر کوچ میں 40 سے زائد مسافر سوار تھے،لاشیں اور زخمی اسپتال منتقل کر دیئے گئے جبکہ بس مکمل طور پر تباہ ہوگئی بس میں کولنگ کا عمل جاری ہے موٹر وے ٹریفک کے لیے بحال کردیا ہے –

    پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جبکہ اکثر زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، 15 مسافروں کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے حادثے میں بس اور پک اپ وین کے ڈرائیور بھی جاں بحق ہوئے ہیں ڈی پی او ڈاکٹر فہد کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت ڈی این اے کے ذریعےہوسکےگی، زخمیوں کو پنڈی بھٹیاں اور فیصل آباد کےاسپتال منتقل کیاگیا ہے۔

    شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری گرفتار

    ڈی ایس پی پنڈی بھٹیاں احسان ظفر نے کہا کہ صبح سوا چار بجے کے قریب پک اپ وین اور مسافر کوچ کی ٹکر ہوئی، حادثے کے بعد گاڑیوں میں آگ لگ گئی، دونوں گاڑیاں جل کر تباہ ہوگئی ہیں،پک اپ میں ڈیزل کےڈرم رکھےہوئےتھےجس کی وجہ سےبس میں آگ لگی۔

    گاڑی میں سوار بچ جانے والے مسافر نے بتایا کہ بس کا ڈرائیور رحیم یار خان میں تبدیل ہوا جب کہ پنڈی بھٹیاں ایم 3 پر ٹول پلازہ کے قریب گاڑی کا پٹرول لیک ہوا، بس موٹروے پر تیز رفتاری کے ساتھ جارہی تھی کہ اچانک آگ بھڑک اٹھی ڈرائیور نے بس کی رفتار کو کم کرنے کی کوشش کی تو آگ مزید بھڑک گئی-

    سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر گرفتار

  • سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر گرفتار

    سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر گرفتار

    اسلام آباد: سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو اسلام آباد کے تھانہ ترنول پولیس نے گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو کار سرکار میں مداخلت کرنے پرگرفتارکیا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد کی تھانہ ترنول پولیس نے سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری کی گرفتاری کی بھی تصدیق کی تھی، ایمان مزاری کو ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا ہے۔

    اس سے قبل شیریں مزاری نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کی بیٹی ایمان مزاری کو خواتین پولیس اور سادہ لباس میں ملبوس افراد گھر سے اغوا کر کے لے گئے ہیں خواتین پولیس اہلکار اور سادہ لباس میں ملبوس افراد ایمان مزاری کا لیپ ٹاپ اور موبائل فون بھی لے گئے ہیں۔

    سائفرگمشدگی کیس:چئیرمین پی ٹی آئی اورشاہ محمود قریشی کےخلاف مقدمہ درج

    دوسری جانب گزشتہ روز سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وائس چیئرمین تحریک انصاف کو آج اسلام آباد میں سائفر گمشدگی کے معاملے پر درج مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے، چئیرمین پی ٹی آئی اور وائس چئیرمین پی ٹی آئی کےخلاف ایف آئی آر 15 اگست کو درج کی گئی اور یہ مقدمہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج کیا گیا،ایف آئی آر میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعہ 5 اور 9 لگائی گئی ہے، اس کے علاوہ دونوں کےخلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 34 بھی لگی ہے-

    شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری گرفتار

  • شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری گرفتار

    شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری گرفتار

    اسلام آباد: سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری کو گرفتار کر لیا گیا-

    باغی ٹی وی : اسلام آباد پولیس کے مطابق ایمان مزاری کوان کی رہائش گاہ سے گرفتارکیا گیا ہے اس سے قبل شیریں مزاری نے دعویٰ کیا تھا کہ خواتین پولیس اور سادہ لباس افراد ایمان مزاری کو گھر سے اغوا کر کے لے گئے ہیں۔


    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں شیریں مزاری نے کہا تھا کہ اہلکار پورے گھر میں ادھر ادھر پھرتے رہے، ایمان اپنے کمرے میں سو رہی تھی، اہلکاروں نے انہیں کپڑے بھی تبدیل نہیں کرنے دیئے خواتین پولیس اور سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار ہمارے سکیورٹی کیمرے، ایمان کا لیپ ٹاپ اورفون بھی لے گئے ہیں گھر میں صرف دو خواتین رہتی ہیں، ہمیں وارنٹ بھی نہیں دکھائے گئے۔

  • مون سون: کراچی میں آج سے بارشوں کا امکان

    مون سون: کراچی میں آج سے بارشوں کا امکان

    محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کےمختلف مقامات پرتیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم و مرطوب جب کہ مختلف مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے،اتوار اور پیر کے روزملک کے بیشترمیدانی علا قوں میں موسم گرم اورمرطوب رہےگا،تاہم شمال مشرقی پنجاب،کشمیر اورملحقہ پہاڑی علاقوں میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    سندھ میں کمزور مون سون ہواؤں کی واپسی کے تحت کل سے بارشوں کا امکان ہےماہرین موسمیات کے مطابق خلیج بنگال میں ایک کمزور شدت کا ہوا کا کم دباؤ موجود ہے، ہوا کام دباؤ آئندہ دو روز کے دوران وسطی بھارت تک آسکتا ہے، سسٹم کے زیر اثرگجرات اوربحیرہ عرب میں بالائی فضا میں سرکولیشن بننے کا امکان ہے، 20 سے 22 اگست تک کمزور مون سون ہوائیں سندھ میں داخل ہوسکتی ہیں جب کہ اتوار سے منگل تک تھرپارکر، مٹھی، بدین، میرپور خاص اور گردونواح میں بارش متوقع ہے حیدرآباد، ٹھٹھہ، نوری آباد اور ملحقہ علاقوں میں بارش کا امکان ہے جب کہ اتوار سے منگل کے دوران کراچی میں ہلکی بارش ہوسکتی ہے۔

    بحرین میں 500 قیدیوں نے بھوک ہڑتال شروع کردی

    دوسری جانب گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہا۔ آج زیا دہ سے زیادہ درجہ حرارت بھکر میں 43 جبکہ نوکنڈی ، نور پور تھل اور دالبندین میں 42ڈگری سینٹی گریڈریکارڈ کیا گیا ہے۔

    شمالی وزیرستان، گاڑی کے قریب دھماکہ ،11 افراد جاں بحق،متعدد زخمی

  • پاکستان میں منکی پاکس کا نیا کیس سامنے آگیا

    پاکستان میں منکی پاکس کا نیا کیس سامنے آگیا

    راولپنڈی: پاکستان میں منکی پاکس کا نیا کیس سامنے آگیا۔

    باغی ٹی وی: قومی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں منکی پاکس کا نیا کیس سامنے آگیا، متاثرہ شخص راولپنڈی میں زیر علاج ہے، وزا رت صحت کی جانب سے منکی پاکس سے متاثرہ شخص کی کنٹیکٹ ٹریسنگ جاری ہے، متاثرہ شخص کے خاندان کے افراد کو بھی مانیٹر کیا جا رہا ہے، تاحال پاکستان میں منکی پاکس کے مزید پھیلاؤ کا خدشہ نہیں۔

    منکی پاکس ایک ایسا وائرس ہے جو بنیادی طور پر جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے منکی پاکس، وائرس کے ’پاکس وائری ڈائے‘ (Poxviridae) فیملی سے تعلق رکھتا ہے، اس فیملی کو مزید 2 ذیلی خاندانوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں 22 انواع ہیں اور مجموعی طور پر اس فیملی میں وائرس کی 83 اقسام ہیں اس فیملی سےتعلق رکھنے والے وائرس میں ’اسمال پاکس‘ یعنی چیچک بھی شامل ہے اور علامات میں قریب ترین ہونے کی وجہ سے منکی پاکس کو اس کا کزن بھی کہا جاتا ہے،عالمی ادارہ صحت نے منکی پاکس کا نام تبدیل کرکے اسے ’ایم پاکس‘ کردیا ہے تاہم اب بھی یہ منکی پاکس کے نام سے ہی جانا جاتا ہے۔

    یوکرین میں روس کے میزائل حملے،11 بچوں سمیت 37 افراد زخمی ،5 ہلاک

    منکی پاس کا نقطہ آغاز افریقا بتایا جاتا ہے منکی پاکس کی دو اقسام دنیا میں موجود ہیں جن میں سے ایک قسم مغربی افریقا میں جبکہ دوسری وسطی افریقا میں کانگو طاس کے اطراف موجود ممالک میں پائی جاتی ہے دنیا میں انسانوں میں منکی پاکس کا پہلا تصدیق شدہ کیس 1970 میں افریقی ملک ڈیموکریٹک ری پبلک آف کانگو میں ایک بچے میں سامنے آیا تھا۔

    کووڈ کی نئی قسم پھیلنے لگی. عالمی ادارہ صحت