Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • پاکستان میں انتخابات میں تاخیر ہو سکتی ہے،غیر ملکی ماہرین

    پاکستان میں انتخابات میں تاخیر ہو سکتی ہے،غیر ملکی ماہرین

    چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری اور نئی مردم شماری کی اجازت کے بعد غیر ملکی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انتخابات میں تاخیر ہو سکتی ہے-

    باغی ٹی وی : اگر قومی اسمبلی 9 اگست کو تحلیل ہو جاتی ہے تو عام انتخابات 8 نومبر تک ہوں گے لیکن اب مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے فیصلے کے نتیجے میں یہ انتخابات ”مہینوں“ کے لیے مؤخر ہو سکتے ہیں مسلم لیگ (ن) کی زیرقیادت وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن آف پاکستان دونوں نے نئی حلقہ بندیوں کے بارے میں اپنے اعلان کردہ مؤقف کو تبدیل کر دیا ہے، جس سے اگلے انتخابات 2023 سے آگے بڑھ کر ممکنہ طور پر 2024 کے درمیانی مہینوں تک ملتوی ہوجائیں گے انتخابات اگلے سال مارچ یا اپریل تک ملتوی ہوسکتے ہیں تاہم غیر ملکی ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ پاکستان میں انتخابات اب دور چلے گئے ہیں۔


    واشنگٹن کے ولسن سینٹر میں جنوبی ایشیائی امور کے اسکالر مائیکل کوگلمین نے ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں لکھا کہ ’کچھ عرصہ قبل، پاکستان کا سیاسی بحران تھوڑا سا کم ہوتا ہوا نظر آیا، حکومت نے عہدہ چھوڑنے اور انتخابات کی تیاری کے لیے نگراں حکومت کے لیے راستہ بنانے کا وعدہ کیا۔ لیکن اب خان کی دوبارہ گرفتاری اور اس بات کا اشارہ کہ انتخابات میں تاخیر ہو سکتی ہے، کچھ بھی ممکن ہوسکتا ہے۔

    پاکستان کے عام انتخابات اگلے سال تک مؤخر ہوسکتے ہیں،بلوم برگ


    امریکہ چیزوں کو درست سمت میں لے جانے کے لیے بنگلہ دیش کی ویزا پالیسی جیسے کسی اقدام کا اعلان کیوں نہیں کر رہا؟ کے سوال پر مائیکل کوگلیمن نے کہا کہ کیونکہ پاکستان میں امریکی مفادات بنگلہ دیش سے بہت مختلف ہیں۔ بنگلہ دیش کے مقابلے میں پاکستان میں ملکی سیاست میں حصہ لینے سے زیادہ ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔ پاکستان میں فوج کے ساتھ اس کے تعلقات بڑے ہیں۔ اسی طرح BD میں حقوق/جمہوریت کے بارے میں امریکی میراث کے خدشات ہیں۔


    مجھے اس پر آپ کی آراء کا انتظار تھا دور سے یہ جاننا مشکل ہے لیکن کیا آپ کو اندازہ ہے کہ ایک روز قبل ضلعی عدالت میں ٹرائل روکنے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کے باوجود عمران خان کا ٹرائل کیسے آگے بڑھا؟سوال کے جواب پر مائیکل نے کہا کہ واضح طور پر یہ قانونی طور پر آگے نہیں بڑھا، اور اس میں عدالت میں موجود نہ ہونے پر خان کے ساتھ ہونے والی سزا بھی شامل ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خان کو کچھ مدد ملے گی جب ان کی قانونی ٹیم عدالتوں میں اپیل کرے گی، اور میں تصور کرتا ہوں کہ اپیل بہت جلد ہو گی۔

    چئیرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری پر امریکا کا بیان


    ایک سوال کے جواب میں مائیکل کوگلمین نے لکھا کہ پاکستان میں فوج کے ساتھ اس کے تعلقات بڑے ہیں مجھے امید ہے کہ امریکا خاموش ہی رہے گا۔ پچھلی بار جب انہیں (عمران خان) گرفتار کیا گیا تھا تو اس (امریکہ) نے بہت کم ہی کچھ کہا تھا-


    امریکا سے تعلق رکھنے والے دفاعی ماہر فاروق حمید خان کا پاکستان میں انتخابات کے حوالے سے کہنا تھا کہ حکومتی ذرائع سے میڈیا کو دیئے گئے تمام اشارے بھی ٹیکنو کریٹ قیادت والی نگراں/ عبوری حکومت اور تاخیر سے ہونے والے انتخابات کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جس کا بنیادی مقصد معیشت کا رخ موڑنا، ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری، ڈالر کے ذخائر میں اضافہ وغیرہ ہے-

    انہوں نے میں مزید کہا کہ میں مردم شماری کے بارے میں اس خبر کو شامل کر سکوں جس کے لیے کچھ مہینوں میں نئی ​​حد بندی کی ضرورت ہے۔ اس لیے 60/90 دنوں کے اندر انتخابات بہت مشکل نظر آتے ہیں۔

    عمران خان نے پاکستان کو تباہ کرنے کی پوری کوشش کی،میجر گورو آریا


    مائیکل کوگلمین کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں ایک بار پھر سب کی نظریں سپریم کورٹ پر ہوں گی، جو بحران کے دوران ایک اہم کھلاڑی ہے اور جس نے چند اہم لمحات میں خان کا ساتھ دیا ہے-

    قبل ازیں امریکی جریدے بلوم برگ نے امکان ظاہر کیا کہ پاکستان کے عام انتخابات اگلے سال تک مؤخر ہوسکتے ہیں بلوم برگ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ پاکستانی حکومت انتخابات نئی مردم شماری کے نتائج کی بنیاد پر کروانا چاہتی ہے نئی مردم شماری کے مطابق گزشتہ 6 سالوں میں پاکستان کی آبادی میں 16 فیصد اضافہ ہوا الیکشن کمیشن کو نئے ووٹرز کو شامل کر کے حلقہ بندیوں کی نئی لسٹیں بنانی ہوں گی۔

    حقِ دفاع سے قبل ہی فیصلہ سنا کر سزا دے دی گئی ہے،وکیل پی ٹی …

  • چین میں 5.5 شدت کا زلزلہ.عمارتئں منہدم متعدد افراد زخمی

    چین میں 5.5 شدت کا زلزلہ.عمارتئں منہدم متعدد افراد زخمی

    چین کے شمال مشرقی علاقے میں زلزلے سے متعدد عمارتیں منہدم ہو گئیں، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: ریکٹر اسکیل پر چین میں آنے والے زلزلے کی شدت 5.5 ریکارڈ کی گئی امریکی زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کا مرکز جنوب میں شانڈونگ صوبے کا شہر ڈیزو تھا، اور زلزلے کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی،زلزلے کے جھٹکے بیجنگ، تیانجن اور شنگھائی میں بھی محسوس کیے گئے شنگھائی زلزلہ مرکز سے تقریباً 800 کلو میٹر دورہے زلزلےسے کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا اور مختلف حادثات میں 21 افراد زخمی ہوگئے زیادہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔

    چئیرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری پر امریکا کا بیان

    خیال رہے کہ چین پہلے ہی بارشوں اور سیلاب کی زد میں ہے جس کے نتیجے میں مچنے والی تباہی سے 10 مزید افراد ہلاک ہوچکے ہیں شمالی چین میں حالیہ بارشوں سے مرنے والوں کی تعداد تیس ہوگئی ہے جبکہ اٹھارہ افراد تاحال لاپتہ ہیں طوفان ڈوکسوری کے نتیجے میں بارشوں کا 140 سالہ ریکارڈ ٹوٹ چکا ہے۔

    تائیوان میں بھی ڈوکسوری کے بعد سمندری طوفان نے تباہی مچادی تائی پے میں شدید بارشوں، سیلاب اور لینڈسلائیڈنگ سے سڑکیں بند ہوگئیں، متعدد افراد لاپتہ ہوگئے، شمالی اور وسطی تائیوان کے پہاڑی علاقوں میں سیکڑوں لوگ پھنس گئےبارشوں نے سب سے زیادہ تباہی وسطی نانتو کاؤنٹی میں مچائی۔

    روس کی نمائندگی کےبغیرسعودی عرب کی میزبانی میں یوکرین بحران پر دوروزہ مذاکرات شروع

  • پاکستان دنیا بھر میں گنجان آبادی کے اعتبار سے کونسے نمبر پر؟

    پاکستان دنیا بھر میں گنجان آبادی کے اعتبار سے کونسے نمبر پر؟

    پاکستان دنیا بھر میں فی مربع کلومیٹر گنجان آبادی کے اعتبار سے 30 ویں نمبر پرآ گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکی ویب سائٹ کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں پاکستان کی فی مربع کلومیٹر آبادی میں 1 اعشاریہ 98 فیصد کا اضافہ ہوا ہے یہ اضافہ گزشتہ 3 سال کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے، پاکستان میں موجود آبادی 302 افراد فی مربع کلومیٹر ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) پاکستان کے منظور شدہ نئی مردم شمارے کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کی موجودہ مجموعی آبادی 24 کروڑ 14 لاکھ 90 ہزار ہوگئی ہے۔

    ڈیجیٹل مردم شماری ،پاکستان کی آبادی 241.49 ملین تک پہنچ گئی ،ادارہ شماریات

    دوسری جانب گزشتہ روز پاکستان کی آبادی 2.55 فیصد کی شرح نمو کے ساتھ پاکستان بھر میں 241.49 ملین تک پہنچ گئی ہے،ادارہ شماریات کے مطابق 1998 میں پاکستان کی آبادی 132.35 ملین ،2017 میں 207.68 ملین جبکہ 2023 میں 241.49 ملین تک پہنچ گئی ہے جبکہ پاکستان کی آبادی میں سالانہ شرح میں اضافہ بھی ہوا ہے جس میں ملک کی سالانہ آبادی میں 1998 میں 2.69 فیصد،جبکہ 2107 میں 2.40 فیصد اور 2023 میں 2.55 فیصد اضافہ ہوا ہے-

    اب طویل العمری خواب نہیں ،اپنی عمر کو 100 سالوں تک بڑھا سکیں گے

    آبادی میں اضافے کی شرح 2.55 فیصد ہے، ملک کی دیہی آبادی 61.18 فیصد جبکہ شہری آبادی 38.82 فیصد ہےملک میں سب سے زیادہ آبادی پنجاب میں 127.68 ملین ریکارڈ کی گئی ہے، صوبے میں آبادی کے اضافے کی شرح 2.53 فیصد ہے، پنجاب کی 59.30 فیصد آبادی دیہی جبکہ 40.70 فیصد شہری ہے،سندھ کی کل آبادی 55.69 ملین ریکارڈ کی گئی ہے، صوبے میں اضافے کی شرح 2.57 فیصد ہے، سندھ کی 46.27 فیصد آبادی دیہی اور 53.7 فیصد شہری ہے۔

    میں اپنے حسن کی بھی نمائش نہ کر سکی، میرا ضمیر درس حیا دے گیا …

    خیبرپختونخوا کی کل آبادی 40.85 ملین ریکارڈ کی گئی ہے، صوبے میں اضافے کی شرح 2.38 فیصد ہے، خیبر پختونخوا کی 84.99 فیصد آبادی دیہی جبکہ 15.01 فیصد شہری ہے،بلوچستان کی کل آبادی 14.89 ملین ہے، صوبے میں اضافے کی شرح 3.20 فیصد ہے، بلوچستان کی 69.04 فیصد آبادی دیہی جبکہ 30.96 فیصد شہری آبادی ہے اسلام آباد کی آبادی 2.36 ملین ریکارڈ کی گئی، وفاقی دارالحکومت میں اضافے کی شرح 2.81 فیصد ہے، اسلام آباد کی 53.10 فیصد آبادی دیہی جبکہ 46.90 فیصد آبادی شہری ہے۔

    نئی یا پرانی مردم شماری کے تحت انتخابات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،خاقان عباسی

  • حقِ دفاع سے قبل ہی فیصلہ سنا کر سزا دے دی گئی ہے،وکیل پی ٹی آئی

    حقِ دفاع سے قبل ہی فیصلہ سنا کر سزا دے دی گئی ہے،وکیل پی ٹی آئی

    چیئرمین پی ٹی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو اسلام آباد کی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا پرپی ٹی آئی کے وکیل شعیب شاہین نے ردعمل کا اظہار کیا ہے-

    باغی ٹی وی: پی ٹی آئی کے وکیل شعیب شاہین نے کہا ہے کہ حقِ دفاع سے قبل ہی فیصلہ سنا کر سزا دے دی گئی ہے انہوں نے کہا کہ الزام صرف یہ ہے کہ اثاثہ جات میں رقم لکھی تفصیل نہیں لکھی اس فارم میں رقم کی تفصیل کا آپشن ہی نہیں ہوتا۔

    قبل ازیں سپریم کورٹ بار کے صدر عابد زبیری کا کہنا تھا کہ عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کوسب سےسخت سزا سنائی ہے، حق دفاع کا کیس اب بھی ہائی کورٹ میں زیرسماعت ہے، جب دائرہ اختیار طے نہیں ہوا تو مرکزی کیس پر کیسے فیصلہ سنا دیا گیا۔سیاست دانوں کے کیسز میں فیصلہ آنے میں سالوں لگ جاتے ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کو عجلت میں سزا کیوں سنائی گئی چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری حیران کن ہے، فیصلہ اسلام آباد سے آیا، گرفتارلاہور سے کرلیا گیا، وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کیسے ہوا یہ سب کچھ پہلے سے طے شدہ تھا، چیئرمین پی ٹی آئی کےخلاف 180 کیسز ہیں، ملزم ایک وقت میں ایک کیس میں پیش ہوسکتا ہے، عدالت کچھ انتظارکرلیتی تو آسمان نہیں گرجاتا۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری حیران کن ہے،صدر سپریم کورٹ بار

    واضح رہے کہ گزشتہ روز توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد کی سیشن کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کو تین سال قید کی سزا سنائی تھی عدالتی فیصلے کے بعد لاہور پولیس کی جانب سے چیئرمین پی ٹی آئی کو زمان پارک لاہور میں اپنی رہائش گاہ سے گرفتار کرکے اٹک جیل منتقل کردیا گیا تھااسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کو تین سال قید کی سزا کے علاوہ ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر عمران خان ایک لاکھ روپے جرمانہ نہیں دیں گے تو 6 ماہ مزید قید ہوگی۔

    اپنے قائد کی رہائی کیلئے بھرپور قانونی لڑائی لڑیں گے،کور کمیٹی

  • میں اپنے حسن کی بھی نمائش نہ کر سکی، میرا ضمیر درس حیا دے گیا مجھے

    میں اپنے حسن کی بھی نمائش نہ کر سکی، میرا ضمیر درس حیا دے گیا مجھے

    میں اپنے حسن کی بھی نمائش نہ کر سکی
    میرا ضمیر درس حیا دے گیا مجھے

    بشریٰ سحر

    شاہدہ بشریٰ سحر 06 اگست 1972ء کولکاتا(ہندستان) میں پیدا ہوئیں تصنیف:نمودِ سحر (مجموعۂ کلام)2019 ہندوستان اور باہر کے کئی ممالک میں تخلیقات شائع ہوتی ہیں علاوہ ازیں مشاعروں میں شرکت ، ہوڑہ رائٹرز ایسوسی ایشن سے 22 مارچ کو ملنا تھا لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے پروگرام ملتوی ہوگیا۔
    منصب
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)سکریٹری نشر و اشاعت
    بزمِ نثار، کولکاتا
    ۔ (2)سکریٹری نشر و شاعت
    صوفی جمیل اختر لٹریری سوسائٹی، کولکاتا
    ممبر شپ:
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)بزمِ نثار، کولکاتا
    ۔ (2)صوفی جمیل اختر لٹریری سوسائٹی، کولکاتا
    ۔ (3)ہوڑہ رائٹرز ایسوسی ایشن
    پتا: 46 /1 /ایچ /15 ،گورا چاند روڈ
    کولکاتا 14

    معروف شاعرہ شاہدہ بشریٰ سحر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کا شعری مجموعہ ’نمودِ سحر‘
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مظفر نازنین ، کولکاتا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    شہر نشاط کولکاتا ہندستان کی ایک معروف میٹرو پولیٹن سٹی ہے۔ اپنے اس شہر کی خاصیت بالکل مختلف ، منفرد اور جداگانہ ہے۔ اخلاق رواداری، مخلصانہ تہذیب، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، قومی یکجہتی یہاں کا طرّہ امتیاز ہے۔ شہر نشاط کو یہ فخر حاصل ہے کہ یہاں اردو بنگلہ کے معروف شاعر اور شاعرات نے جنم لیے۔ شعرا اور ادبا جو یہاں پیدا ہوئے بیشتر عالمی شہرت یافتہ ہے-

    یہ حقیقت ہے کہ کامیابی کی منزل کو طے کرنے میں لڑکیوں کو لڑکوں کی بہ نسبت زیادہ مشکلوں اور صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس شہر میں شاہدہ بشریٰ سحر نے جنم لیا۔ جن کا پہلا شعری مجموعہ 152 صفحات پر مشتمل ”نمودِ سحر“ کی اشاعت 2019 میں مغربی بنگال اردو اکاڈمی کے تحت ہوئی ہے جس کو وہ اپنے والد محترم شمیم الہدیٰ مرحوم اور اپنی والدہ محترمہ صادقہ شمیم مرحومہ کے نام اپنے ایک شعر کے ساتھ منسوب کرتی ہیں۔
    اولاد سے ماں باپ کا رشتہ جو ہے قائم
    اس رشتے سے رشتہ کوئی بڑھ کر نہیں ہوتا

    غزل کی تعریف کرتے ہوئے محترمہ شاہدہ بشریٰ سحر کہتی ہےں ”اردو شاعر میں غزل ایک مقبول صنف ہے جو شاعر اور شاعر نواز دونوں کی ادبی تسکین کا وسیلہ بنتی ہے۔ شاعری اس فن کا نام ہے جس میں گرد و پیش کے تمام حالات سے شاعر کو سابقہ پڑتا ہے۔ جن کو وقتاً فوقتاً محسوس کرتے ہوئے قلم کے ذریعہ سپرد قرطاس کرکے محفوظ کیا ہے۔ شاہدہ بشریٰ سحر ایک خدا ترس خاتون ہیں جو ہمیشہ تقدیر پر شاکر رہتی ہےں۔ موصوفہ کی شادی 1994ءمیں ہوئی اور 2010 میں شریک حیات نے داعی اجل کو لبیک کہا یعنی 16 سال کی قلیل مدت میں جب شوہر کا انتقال ہوچکا۔ بچے چھوٹے ہوں تو اس مشکل دور کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے یعنی یہ صاف شیشے کی مانند عیاں ہے کہ ذرہ سے آفتاب کا سفر طے کرنے میں شاہدہ بشریٰ کو صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں اور بہت مشکل دور سے گزرنا پڑا۔ شاعر کا ایک شعر ہے جو بشریٰ سحر پرصادق آتا ہے۔
    رنگ لاتی ہے حنا پتھر پہ گھس جانے کے بعد
    سرخرو ہوتا ہے انساں ٹھوکریں کھانے کے بعد

    محترمہ شاہدہ بشریٰ سحر نے تمام پریشانیوں کے باوجود یکسوئی سے اپنا تعلیمی سفر شروع کیا اور ثابت قدمی کے ساتھ منزل کی جانب گامزن رہےں۔ حوصلہ انسان کو جہد مسلسل اور عمل پیہم کا پیغام دیتا ہے۔شاہدہ بشریٰ سحر کی ایسے دور میں ملاقات ڈاکٹر نعیم انیس سے ہوئی۔ جو ان کے استاد بھی رہ چکے ہیں وہ کہتی ہیں انہوں نے مجھے دوبارہ پڑھنے کےلئے کہا اور ہماری امی نے بھی حوصلہ دیا تو میں نے اس راہ پر قدم بڑھایا اور ایم اے کی ڈگری حاصل کرلی۔ سچی لگن، انتھک کوشش ہو تو خدا بھی ساتھ دیتا ہے۔ اس سے قبل کلکتہ کے صاحب دیوان شاعر محترم حلیم صابر سے بھی اصلاح لی۔ انہوں نے مطالعہ کرنے کی نصیحت کی۔ اس طرح کئی اساتذہ ملتے گئے اور ان کی رہنمائی موصوفہ کےلئے مشعل راہ ثابت ہوئی۔ چند غزلوں پر حضرت قیصر شمیم سے بھی اصلاح لی ۔ اس کے بعد کے دور میں مشہور شاعر ضمیر یوسف نے بھی ادبی رہنمائی کی اور اب باقاعدہ طور پر محترم حلیم صابر سے اصلاح لیتی ہےں اور ان کی احسان مند ہیں جنہوں نے شاعری کے میدان میں کھڑا ہونا سکھایا ہے۔ زیر نظر کتاب ”نمود سحر“ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اشرف احمد جعفری نے بھی ان کا پورا پورا ساتھ دیا ہے۔

    حمد باری تعالیٰ کے کچھ اشعار ملاحظہ کریں
    تیرے بندے بھٹک نہیں سکتے
    ظلمت زیست میں ضیاءتو ہے
    نعت سرور کونین کے چند اشعار ہیں جس سے وہ خوبصورت روح پرور نظارہ آنکھوں کے سامنے آجا تا ہے
    نبی کے نام سے حاصل سکوں ہو قلب مضطر کو
    خدا کا نام لوں تو ذہن و دل بیدار ہوجائے
    اگر آب کرم کا ایک قطرہ ہو عطا آقا
    تو یہ تپتی ہوئی ہستی مری گلزار ہوجائے
    بسالوں گنبد خضریٰ سحر میں اپنی آنکھوں سے
    اگر شہر مدینہ کا مجھے دیدار ہوجائے
    علم و ہنر کی اہمیت کے تعلق سے موصوفہ کی غزل کے خوبصورت اشعار ملاحظہ کریں
    عزت کے ساتھ گزرے گی اس کی ہی زندگی
    جو زندگی گزارے گا علم و ہنر کے ساتھ
    جب بھی اپنے لئے دعا کیجیے
    مجھ کو بھی یاد کر لیا کیجیے
    جس کے عیبوں کا تذکرہ کیجیے
    آئینہ سامنے رکھا کیجیے
    غیر کی عیب جوئی سے پہلے
    خود پہ بھی اک نظر کیا کیجئے
    شاعر اسے خوبصورت انداز میں اس طرح کہتا ہے
    نظر پڑتی نہیں اس کی کبھی اپنے گریباں پر
    وہ ظالم مسکراتا ہے مرے حالِ پریشاں پر
    یہ شعر ملاحظہ کریں
    عہد ماضی کے جھرونکوں سے جو جھانکا میں نے
    زلزلے آئے مرے قلب کے اندر کتنے
    بلاشبہ ماضی ایک یاد ہے۔ ماضی ایک تجربہ ہے اور ماضی ایک سبق ہے۔ کسی شاعر نے ماضی کے تعلق سے یوں کہا ہے
    یاد ماضی عذاب ہے یا رب
    چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
    شاہدہ بشریٰ سحر کے دل میں خوفِ خدا ہے اور ماشاءاللہ کافی دیندار ، سنجیدہ طبیعت کی مالک ہےں جس کا ذکر انہوں نے اس شعر سے کیا ہے
    خدا اگر ہمارے دلوں میں نہ رہتا
    تو ہم سے خدا کی عبادت نہ ہوتی
    ایک عظیم شخصیت ہمیشہ ہی چاہتی ہے کہ اس کی شخصیت سے دوسروں کو فیض پہنچے۔ بقول شاعر
    جہاں رہے گا وہیں روشنی لٹاتا ہے
    کسی چراغ کا اپنا مکاں نہیں ہوتا
    اس خوبصورت شعر کو شاہدہ بشریٰ سحر اپنے طور پر یوں کہتی ہوئی نظر آتی ہے۔
    میں ہوں وہ شمع کہ جس گھر میں جلاؤگے مجھے
    نور سے اپنے میں روشن اسے کر جاؤں گی
    عیب جوئی کرنا یا غیبت کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ شاہدہ بشریٰ سحر اس کا اعتراف کرتے ہوئے یہ شعر رقم کرتی ہے۔
    غیر کی عیب جوئی سے پہلے
    خود پہ بھی اک نظر کیا کیجئے
    ماضی میں کسی شاعر نے اس جذبے کو مندرجہ ذیل شعر میں رقم کیا تھا۔
    نظر پڑتی نہیں اس کی کبھی اپنے گریباں پر
    وہ ظالم مسکراتا ہے میرے حال پریشاں پر
    بشری سحر خدا کی وحدانیت کے تعلق سے مندرجہ ذیل شعر رقم کرتی ہیں
    سجدہ خدا کو کرنا ہے یہ جان لے سحر
    اس کے سوا کسی کو نہ سجدہ کریں گے ہم
    اور پھر خدا سے لَو لگاتی ہیں اور خدا کی ذات سے امید رکھے ہوئی ہےں۔
    اللہ کے دامن سے لپٹ جاؤ سحر تم
    اور اس کے سوا کوئی مددگار نہیں ہے
    آج بشریٰ سحر شہر نشاط کے مشاعرے میں شرکت کرتی ہیں بلکہ عالمی مشاعرے میں بھی جلوہ افروز ہوتی ہےں۔ اپنی اس کامیابی کو اپنے والدین کی دعاؤں کا اثر سمجھتی ہیں جو یوں بیان کرتی ہیں۔
    ماں باپ کی دعا نے سحر حوصلہ دیا
    قدموں کو میں نے پیچھے ہٹایا نہیں کبھی
    ان کا ذہن حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہے جس کا اظہار اس شعر سے کرتی ہیں
    وطن پہ جاں لٹاتے ہیں
    اسے سجدہ نہیں کرتے
    اپنی منزل کی جانب گامزن اور رواں دواں رہتی ہیں۔ پوری مستعدی، تہذیبی اور ثابت قدمی کے ساتھ منزل کو پانے کی کوشش کی ہے جیسا کہ شاعر نے کہا تھا
    میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
    لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
    بشریٰ سحر کے خوبصورت شعر اس ضمن میں ملاحظہ کریں
    منزل کی سمت اکیلے رواں ہم بھی کیا ہوئے
    تنہا تھے رفتہ رفتہ مگر قافلہ ہوئے
    آج کے دور میں جب وطن عزیز نےCovid-19 Pandemic اور Lock Door کے زیر اثر ہے۔ اس درد و کرب کے ماحول اور غم و الم کے سماں کو شاعرہ کی حساس ذہنیت اور دور اندیش نظریں دیکھتی ہےں اور یہ شعر رقم کرتی ہیں۔
    ہر شخص کرب ذات میں لپٹا ہوا ہے آج
    ہے کون جو جہاں میں اسیر الم نہیں
    دولت مند اور سرمایہ دارانہ نظام کےلئے شاہدہ بشریٰ سحر ایک طنزیہ شعر کہتی ہیں۔
    نہ جانے کون سا جادو ہے مال و دولت میں
    کہ مال داروں کو دنیا سلام کرتی ہے
    سنہرے ماضی میں ہندستان کے نامور شاعر جن کی زندگی درد و کرب مصائب و آلام سے لبریز ہے ، یوں کہا تھا
    تو امیر شہر ستمگراں – میں گدائے کوچہ عاشقاں
    تو امیر ہے تو بتا مجھے – میں غریب ہوں تو برا ہے کیا
    موصوفہ کی شخصیت پختہ وعدہ کرنے کی ہے۔ وعدہ کیا تو وفا کی۔ اس سے کبھی فکریں نہیں
    ذلیل و خوار نہ کیوں کر ہو ایسی شخصیت
    جو وعدہ کرتی ہے وعدہ سے پھر مکرتی ہے
    میری فطرت میں ہے شامل یہ صفت
    وعدہ کرکے نہ مکرنا آیا
    کامیابی اسی کے قدم چومتی ہے جو شدید لگن ، جدوجہد اور محنت سے منزل کو پانے کی کوشش کرتا ہو۔
    کامیابی تو اسی نے پائی
    جس کو مشکل سے گزرنا آیا
    آج مغربی تہذیب کے پروردہ لوگوں کےلئے ایک خوبصورت شعر جو بلاشبہ نئی نسل کےلئے عبرت ہے۔
    نئی تہذیب کے دلدادہ لوگ
    بے حیائی کو حیا کہتے ہیں
    بشریٰ مری حیات کا منظر بدل گیا
    جب خواب عشق مرا حقیقت میں ڈھل گیا
    کیا جانے کس بزرگ کی کام آگئی دعا
    بادل مصیبتوں کا مرے سر سے ٹل گیا
    سو بار اس کے عزم کو کرتے ہیں ہم سلام
    ٹھوکر جو کھا کے راہ وفا میں سنبھل گیا
    بچوں کے ساتھ میں جو سحر کھیلتی رہی
    اور ان کو ہنستا دیکھ کے دل بھی بہل گیا
    میں نے پوری کتاب کا ”نمودِ سحر“ کا بغور مطالعہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچی کہ شاہدہ بشریٰ سحر نے زندگی کے تلخ حقائق و تجربات اور مشاہدات کا جائزہ لیا ہے۔ درد و کرب جو انکے ذہن میں پیوست ہے۔ اشعار کے آبشار سے پھوٹ پڑتے ہیں۔ انہوں نے اپنی غزلوں میں انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا ہے اور اسے اشعار کے گوہر سے پروکر اشعار کا ایک خوبصورت گلدستہ تیار کیا جو ”نمود سحر“ انکا پہلا شعری مجموعہ ہے۔ میں ان کی اس شاہکار تخلیق پر تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتی ہوں اور بارگاہ رب العزت میں سجدہ ریز ہو کر دعا کرتی ہوں کہ خدا انہیں صحت کے ساتھ طویل عمر عطا کرے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    ایک انسان بدلتا ہے جو پیکر کتنے
    میری آنکھوں نے دکھائے ہیں وہ منظر کتنے
    اپنی طاقت پہ بہت ناز جو کرتے تھے کبھی
    مل گئے خاک میں وہ ظلم کے لشکر کتنے
    عہد ماضی کے جھروکوں سے جو جھانکا میں نے
    زلزلے آئے مرے قلب کے اندر کتنے
    بن گئی شاخ ثمر دار مری ہستی جب
    لالچی ہاتھوں سے پھینکے گئے پتھر کتنے
    سرنگوں کر دیا طوفاں نے انھیں پل بھر میں
    سر اٹھائے تھے کھڑے پیڑ تناور کتنے
    جب بھی پھیلی ہے زمانے میں سحرؔ گمراہی
    آئے لوگوں کی ہدایت کو پیمبر کتنے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    درسِ وفا بطرزِ جفا دے گیا مجھے
    کیا جانے کس خطا کی سزا دے گیا مجھے
    دل پر ابھی بھی لذتِ الفت کا ہے اثر
    عہد شباب ایسا مزا دے گیا مجھے
    خوشبو کی طرح زندہ رہو اس زمانے میں
    اک پھول کھل کے درس بقا دے گیا مجھے
    میں بن کے پھول راہ میں جس کی بکھر گئی
    وہ خار بن کے زخم ہرا دے گیا مجھے
    کہتے ہیں غم اٹھانے کو زندہ رہیں گے آپ
    وہ بددعا کے ساتھ دعا دے گیا مجھے
    میں اپنے حسن کی بھی نمائش نہ کرسکی
    میرا ضمیر درسِ حیا دے گیا مجھے
    ایسی تو زندگی نے پلائی نہ تھی کبھی
    جام قضا عجیب مزہ دے گیا مجھے
    بشریٰ وہ ہمسفر مرا راہوں میں کھوگیا
    جو منزل وفا کا پتا دے گیا مجھے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    میری خوشیوں سے ہے یوں دیدۂ تر کا رشتہ
    جیسے ہوتا ہے شبِ غم سے سحر کا رشتہ
    اپنے پیروں کے میں چھالوں کی طرف کیوں دیکھوں
    تیری چاہت سے ہے جب میرے سفر کا رشتہ
    آج کل کون سمجھتا ہے کسی کے غم کو
    کس سے منسوب کروں زخم جگر کا رشتہ
    آنسوؤں سے مری آنکھوں کا وہی رشتہ ہے
    جیسے ہوتا ہے سمندر سے بھنور کا رشتہ
    میرے دل میں تری چاہت بھی اسی صورت ہے
    جس طرح نیل گگن سے ہے قمر کا رشتہ
    بس یہی میری تمنا ہے جبیں سائی کی
    اس کے در سے رہے قائم مرے سر کا رشتہ
    اس سے ہے میرا تعلق بھی اسی طرح سحرؔ
    جس طرح شاخ سے ہوتا ہے ثمر کا رشتہ

  • چئیرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری پر امریکا کا بیان

    چئیرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری پر امریکا کا بیان

    ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور دیگر سیاست دانوں کے خلاف کیسز پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔

    باغی ٹی وی : چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے اپنے بیان میں امریکی ترجمان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی جمہوری اصولوں کے احترام اور قانون کی حکمرانی کا کہتے ہیں،عمران خان اور دیگر سیاست دانوں کے خلاف کیسز پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے،جمہوری اصولوں کا احترام لازم ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد کی سیشن کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کو تین سال قید کی سزا سنائی تھی اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کو تین سال قید کی سزا کے علاوہ ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا،عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر عمران خان ایک لاکھ روپےجرمانہ نہیں دیں گے تو 6 ماہ مزید قید ہوگی عدالتی فیصلے کے بعد لاہور پولیس کی جانب سے چیئرمین پی ٹی آئی کو زمان پارک لاہور میں اپنی رہائش گاہ سے گرفتار کرکے اٹک جیل منتقل کردیا گیا تھا۔

    عمران خان نے پاکستان کو تباہ کرنے کی پوری کوشش کی،میجر گورو آریا

    قانونی ٹیم عمران خان سے ملاقات کیلئے اٹک جیل پہنچ گئی

    چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری حیران کن ہے،صدر سپریم کورٹ بار

  • عمران خان نے پاکستان کو تباہ کرنے کی پوری کوشش کی،میجر گورو آریا

    عمران خان نے پاکستان کو تباہ کرنے کی پوری کوشش کی،میجر گورو آریا

    بھارتی ریٹائرڈ میجر گورو آریا نے کہا ہے کہ نے پاکستان کی بڑی آبادی کو ملک کے سب سے معتبر ادارے فوج کے خلاف کر دیا-

    باغی ٹی وی : پاکستان کی سیاست اور پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین کی گرفتاری کے حوالے سے بھارتی ریٹائرڈ میجر گورونے بھی سوشل میڈیا پر بیان جاری کیا ہے-


    انہوں نے ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے حامیوں اورخالصتانیوں میں ایک چیز مشترک ہےوہ بیرون ممالک میں موجود ہیں اور صرف ٹک ٹاک اور ٹویٹر پر دستیاب ہیں۔ انہوں نے گراؤنڈ زیرو – زمین پر صفر کی اصطلاح کو ایک نیا معنی دیا ہے۔

    میجر گورر نے کہا کہ آج 2019 میں، ہندوستان نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کر دیادنیا کی "نمبر ون انٹیلی جنس ایجنسی” کو نہیں معلوم تھا کہ کیا ہو رہا ہے اوردنیا کی "نمبر ون فوج” نےاس بارے میں کچھ نہیں کیا،عمران خان، امت مسلمہ کےغیرمتنازع حکمران صرف پیچھے بیٹھ گئے اور ٹویٹ کیا۔ واحد اسلامی ایٹمی ہتھیار رکھنے والی ریاست اس پر او آئی سی کو اکٹھا بھی نہیں کر سکی۔

    قانونی ٹیم عمران خان سے ملاقات کیلئے اٹک جیل پہنچ گئی


    میجر گورو نے مزید کہا کہ پاکستانیوں کو 30 منٹ تک دھوپ میں کھڑا کر دیا گیا اور جلد ہی ان کی بھی دلچسپی ختم ہو گئی۔ وہ ویسے بھی کھڑے ہونا پسند نہیں کرتے جب تک کہ لائن کے دوسرے سرے پر کھانا نہ ہو آج پاکستانی فوج کشمیر کی بات نہیں کرتی۔ یہ "کارپوریٹ زراعت” کے لیے 10 لاکھ ایکڑ اراضی (پاکستان میں) لینے کی بات کرتا ہے جو کچھ بھی ہو۔ یہ ہے جذ بے والی قوم اور ان کو کشمیر چاہئیے-

    چئیرمین تحریک انصاف کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے بھارتی ریٹائرد میجر نےکہا کہ عمران خان کی گرفتاری ہمارے لیے ممکنہ طور پر سب سے بڑا دھچکا ہے۔ ان جیسا کوئی شخص تلاش کرنا تقریباً ناممکن ہو گا، کوئی ایسا شخص جو اپنی انا میں اتنا بڑھ گیا ہو کہ پاکستان کی تباہی اس کے عزائم کی ادائیگی کے لیے ایک چھوٹی سی قیمت تھی۔

    انہوں نےمزید کہا کہ عمران خان اکیلے اسٹیبلشمنٹ کو ختم کرنے میں تقریباً کامیاب ہو گئے۔ اس نے پاکستان کی آبادی کو ملک کے سب سے معتبر ادارے فوج کے خلاف کر دیا۔ یہ کیوں ضروری ہے؟ کیونکہ پاکستان میں فعال ادارے نہیں ہیں۔ اپنی تمام تر خرابیوں کے لیے فوج ہی وہ گلو ہے جو ملک کو ایک ساتھ رکھتی ہے۔ وہ گوند تقریباً 9 مئی کو اکھڑ گیا تھا۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری حیران کن ہے،صدر سپریم کورٹ بار


    میجر گورو نے کہا کہ عمران خان نے سی پیک کا پروجیکٹ روک دیا اس نے پاکستان کے اندر ٹی ٹی پی کو آباد کرنے کی پوری کوشش کی اور انہیں سانس لینے کی جگہ دی۔ جب آرٹیکل 370 اور 35A کو منسوخ کیا جا رہا تھا تو اس نے کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کردیا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اس نے اسٹیج کو اس انداز سے ترتیب دیا کہ اگلی حکومت کو ناکام ہونا پڑا بھارت کی سرمایہ کاری؟ صفرمیری دعا ہے کہ یہ سارا معاملہ عمران کے حق میں حل ہو جائے۔ ہمیں اس کی ضرورت ہے۔ وہ ون مین اسٹرائیک کور ہے اور اس کا ہدف راولپنڈی ہے۔

    یہ پہلی بار نہیں ہے جب میجر گورو آریا نے عمران خان کو پاکستان کی تباہی کی وجہ قرار دیا ہو اس سے قبل بھی رواں سال گورو آریا نے پاکستان آرمی کو ایک طاقتوراور پروفیشنل ادارہ قراردیا ہے جس نے تمام قوم کو ایک لڑی میں پرو رکھا ہے۔ میجر گوروآریا نے کہا کہ عمران خان اپنے ہی قومی اداروں کے خلاف بیان دیکر اپنی ہی فوج کا نقصان کررہے ہیں، اس لیے بھار ت کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

    یہ سب مکافات عمل ہے اب رونا کس لیے ہے،رانا ثنااللہ

    کیونکہ بھارت کا کام عمران خان اچھے انداز میں کررہے ہیں ۔عمران خان اپنے ہی ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں، اگر پاکستان کی آرمی مضبوط ہوگی توپاکستان کے پاس کم سے کم ایک ادارہ ایسا ہے جو مضبوط ہوگا۔

    پاکستانی آرمی صرف فوج ہی نہیں ہے بلکہ وہ ایک گلیو(گوند) ہے جس نے پاکستان کو جوڑ کر رکھا ہے ۔ اس وقت پاکستان میں ایک ہی کریڈیبل ادارہ ہے اور وہ پاکستان آرمی ہے ۔انہوں نے پھر زور دیکر کہا کہ وہ فوج ہے ہی نہیں وہ گوند ہے جس نے سب کو اکھٹا کررکھا ہو اہے گٓورو آریا نے مزید کہا کہ ’’آپ ہمیں دشمن کہتے ہو تو ہم آپ کو دشمن کہتے ہیں ، لیکن آپ کے اندر والا بندہ بنا پیسے خرچ کرے ،خود اندر( پاکستان کو ) اتنا نقصان پہنچا رہا ہے ،یہ بہت بڑی چیز ہے ۔

    سب پاور کے لیے کام کرتے ہیں سب کی قیمت ہوتی ہے ۔ عمران خان کی قیمت اس کی انا ہے ، وہ یہ نہیں ہے کہ وہ بھار ت سے پیار کرتا ہے مگر وہ پاکستان سے بھی پیا رنہیں کرتا ۔ عمران خان کی انا اور گھمنڈ پاکستان کو نقصان پہنچا رہی ہے اور بھارت کے لیے فائدہ مند ہے۔

    روس کی نمائندگی کےبغیرسعودی عرب کی میزبانی میں یوکرین بحران پر دوروزہ مذاکرات شروع

  • اب طویل العمری خواب نہیں ،اپنی عمر کو 100 سالوں تک بڑھا سکیں گے

    اب طویل العمری خواب نہیں ،اپنی عمر کو 100 سالوں تک بڑھا سکیں گے

    لمبی عمر جینا دنیا کے ہر ایک شخص کی خواہش ہوتی ہے متحدہ عرب امارات میں ایک نئی صحت لیب طویل العمری کے لیے ‘خلیاتی صحت’ میں سرمایہ کاری کی ترغیب دے رہی ہے تاکہ آپ اپنی عمر کو 100 سالوں تک بڑھا سکیں۔

    باغی ٹی وی : "العربیہ” کے مطابق فائیو سکور لیبز، جو ہارورڈ کے تربیت یافتہ سائنسدانوں کے تعاون سے قائم کی گئی ہیں، دعویٰ کرتی ہے کہ وہ خطے کا پہلا طویل العمری کا صارف برانڈ ہے جس کا مقصد لوگوں کو زیادہ دیر تک صحت مند رہنے میں مدد کرنا ہے یہ لیب سائنس کی مدد سے میٹابولزم کو فروغ دے کر اور ڈی این اے کو نقصان سے بچا کر بڑھتی عمر کے اثرات سے بچانے کا دعوی کرتی ہے جس کی خدمات سعودی عرب سمیت پورے خطے میں پھیل رہی ہیں۔

    فائیو سکور لیبز کے بانی، الطارق نے العربیہ کو بتایا کہ طویل العمری کا نظام ممکنہ طور پر عمر سے متعلق بیماریوں جیسے کہ دل کی بیماری، ذیابیطس اور نیوروڈیجنریٹو عوارض کے آغاز میں تاخیر یا روک تھام میں مدد کر سکتا ہے ‘طویل العمری کا نظام’ ایک جامع منصوبہ ہے جو کسی کی صحت مند عمر کو بڑھانے کے لیے تیار کیا گیا ہے اس میں طرز زندگی میں تبدیلیوں اور مخصوص غذائی سپلیمنٹس کے استعمال کروایا جاتا ہے، جسے سائنسی تحقیق کی حمایت حاصل ہے۔

    اے آئی ٹیکنالوجی،بل گیٹس نے لاکھوں اموات کی وجہ بننے والے نظام کی پیشگوئی کر …

    طارق نے کہا کہ 100 سال کی عمر تک جینے کا خیال، جو کبھی نایاب سمجھا جاتا تھا، "طب، صحت اور تندرستی میں ترقی کی وجہ سے اب ایک حقیقت پسندانہ خواہش بنتا جا رہا ہے عمر بڑھنا صرف ایک ناگزیر عمل نہیں ہے، بلکہ ایک ایسا عمل ہے جس کو متاثر کیا جا سکتا ہے اور ممکنہ طور پر اسے سست کیا جا سکتا ہے ہمارا نقطہ نظر صرف زندگی کو بڑھانے کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ہماری عمر کے ساتھ زندگی کے معیار کو بہتر بنایا جائے لیب مریضوں کے لیے دو قدرتی علاج استعمال کرتی ہے ایک متوازن خوراک اور دوسرا صحت مند طرز زندگی۔

    اطارق نے کہا کہ پہلا عنصر جو استعمال کروایا جاتا ہے وہ ریسویراٹرول ہےیہ ایک قدرتی مرکب جو کئی پودوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ اینٹی آکسیڈنٹ اور سوزش کو روکنے والے ایجنٹ کے طور پر کام کرتا ہے حالیہ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ ریسویراٹرول ممکنہ طور پر کچھ جینز کو فعال کر سکتا ہے جنہیں سیرٹوئن کہتے ہیں جو لمبی عمر سے منسلک ہوتے ہیں۔

    چندریان تھری کا دو تہائی سفر مکمل،آج کا دن اہم

    مزید برآں، وہ نیکوٹینامائڈ مونو نیوکلیوٹائڈ کا استعمال کرواتے ہیں۔ یہ مرکب عام کھانوں جیسے بروکولی وغیرہ میں پایا جاتا ہے اور این اے ڈی+ کا پیش خیمہ ہے۔ یہ ایک شریک انزائم (خامرہ) ہے جو میٹابولزم کے ضابطے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے، اور ساتھ ہی اس کا استعمال جسم میں خراب ڈی این اے کی مرمت کرتا ہے لمبی عمر، سے مراد عام طور پر زندگی کی طویل مدت ہوتی ہے تاہم، صحت اور تندرستی کے تناظر میں، یہ اس سے کہیں زیادہ پر محیط ہوتی ہے۔ یہ زندگی کی اس مدت کو بڑھانے کے بارے میں ہے جو اچھی صحت میں گزارا جائے اور کمزوری اور بیماری سے محفوظ رہے اسے ‘صحت کی مدت’ کہا جاتا ہے۔

    حیاتیاتی نقطہ نظر سے، طویل عمر پانے کے لیے عمر کے مختلف عمل کو سست کرنا یا ممکنہ طور پر تبدیل کرنا شامل ہے یہ پروگرام خلیات، ٹشوز اور اعضاء کے کام کو بہتر بناتا ہے تاکہ جب تک ممکن ہو زندگی اور صحت کو برقرار رکھا جا سکےخلیات ہمارے جسم کی بنیادی عمارت ہیں۔ "ہر عضو، ٹشو اور حیاتیاتی نظام ایسے خلیوں سے بنا ہوتا ہے جو ہمیں زندہ اور صحت مند رکھنے کے لیے ضروری کام انجام دیتے ہیں۔ اسی لیے سیلولر ہیلتھ میں سرمایہ کاری بہت اہم ہے ۔

    جنوب مشرقی ایشیاء میں سالن بنانے کا طریقہ تقریباً 2000 سال پُرانا ہے،محققین

    بہت سی علامات اور حالات جو ہم عمر بڑھنے کے ساتھ محسوس کرتے ہیں، جیسے جھریاں، جسمانی توانائی میں کمی اور یہاں تک کہ دائمی بیماریاں، سیلولر سطح پر پیدا ہوتی ہیں۔ جیسے جیسے ہماری عمر بڑھتی جاتی ہے، ہمارے خلیے آہستہ آہستہ بہتر طریقے سے کام کرنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔ سیلولر صحت کو برقرار رکھنے کے ذریعے، ہم ممکنہ طور پر ان عمر بڑھنے کے عمل کو سست کر سکتے ہیں-

    العربیہ کے مطابق اسی طرح، بہت سی بیماریاں سیلولر بے ضابطگی کا نتیجہ ہیں۔ مثال کے طور پر، کینسر کا پتہ سیلولر میوٹیشن سے لگایا جا سکتا ہے، جبکہ الزائمر جیسی بیماریاں دماغ میں سیلولر انحطاط سے منسلک ہیں۔ اپنے خلیات کو صحت مند رکھ کر، ہم ایسی بیماریوں کے خطرے کو کم کر سکتے ہیں ہمارے خلیے توانائی کی پیداوار، فضلہ کے اخراج، مواصلات اور مرمت جیسے بہت سے کام انجام دیتے ہیں۔ جب ہمارے خلیے صحت مند ہوتے ہیں، تو یہ عمل زیادہ موثر ہوتے ہیں، جس سے بہتر توانائی، بہتر قوت مدافعت، تیزی سے شفا اور مجموعی طور پر جسمانی اور ذہنی کارکردگی میں بہتری آتی ہے۔

    آن لائن نیوز ایکٹ؛ میٹا نے کینیڈین صارفین کی خبروں تک رسائی ختم کردی

    طارق نے کہا کہ 2016 میں متحدہ عرب امارات کی صرف ایک فیصد آبادی 60 سال یا اس سے زیادہ عمر کی تھی لیکن 2050 تک یہ تعداد 16 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اب عمر بڑھانے والی سائنس کے بارے میں عوامی بیداری پیدا کرنا اور صحت کے دورانیے اور عمر کے تمام پہلوؤں کو بہتر بنانا بہت ضروری ہے۔ فائیو سکور لیبز کے قیام کے پیچھے یہی محرک رہا ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔

    انہوں نے العربیہ کو بتایا کہ طویل العمری کے نظام کو دو بنیادی اجزاء میں تقسیم کیا گیا ہے – غذائی سپلیمنٹس اور طرز زندگی کے پروٹوکول۔ طرز زندگی کے پروٹوکول میں متوازن خوراک، جسمانی سرگرمی، نیند کی حفظان صحت اور تناؤ کے انتظام کی تکنیکوں کے بارے میں ہدایات شامل ہیں لمبی عمر کے طریقہ کار کا حتمی مقصد صرف عمر بڑھانا نہیں ہے، بلکہ ان سالوں کو بڑھانا ہے جن میں ایک شخص صحت مند اور فعال زندگی گزار سکتا ہے۔

    سائنسدانوں نےسائبیریا کی برف کےنیچے 46 ہزارسال سےمنجمد کیڑےہوش میں لےآئے

    عمر بڑھنے کا تعلق مختلف قسم کے سیلولر اور سالماتی عوامل سے ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ فنکشنل کمی کا باعث بنتے ہیں ان میں سیلولر مرمت کی صلاحیتوں میں کمی، سوزش میں اضافہ اور ڈی این اے کو پہنچنے والے نقصان جیسے عوامل شامل ہیں۔ طویل عمری سائنس کے میدان میں ہونے والی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ ان میں سے بہت سے عوامل کو متاثر کیا جا سکتا ہے اور ممکنہ طور پر سست یا تبدیل شدہ مداخلتوں سے تبدیل کیا جا سکتا ہے ان مداخلتوں کو ذاتی طرز زندگی کے پروٹوکول کے ساتھ جوڑ کر جیسے متوازن خوراک، باقاعدگی سے ورزش، کافی نیند اور تناؤ کا انتظام، ہم افراد کو 100 سال کی عمر کے بعد ایک فعال اور متحرک طرز زندگی کو برقرار رکھنے میں مدد کر سکتے ہیں عمر اور صحت کو بڑھانے کے بارے میں سائنسی معلومات تک رسائی کئی وجوہات کی بنا پر بہت ضروری ہے۔

    علم لوگوں کو اپنی صحت کے بارے میں باخبر فیصلے کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ انٹرنیٹ کے دور میں، ہم اکثر صحت اور تندرستی کے بارے میں متضاد معلومات حاصل کرتے ہیں۔ قابل اعتماد اور سائنس کی حمایت یافتہ معلومات تک رسائی سے لوگوں کو ایسے انتخاب میں مدد مل سکتی ہے جو واقعی ان کی صحت کے لیے فائدہ مند ہوں سائنسی علم اکثر احتیاطی تدابیر پر زور دیتا ہے اور ان کو تقویت دیتا ہے۔ یہ سمجھنا کہ کس طرح بعض رویے اور مداخلتیں بیماری کے آغاز کو روک سکتی ہیں، ان بیماریوں کے ہونے کے بعد ان کے علاج کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور فائدہ مند ہے-

    غلاف کعبہ کی تیاری میں زائرین بھی حصہ لے سکیں گے

    انہوں نے کہا کہ ہماری ابتدائی پروڈکٹ لائن انسانی جسم میں صحت مند این اے ڈی پلس کی سطح کو سپورٹ کرنے پر مرکوز ہے۔ این اے ڈی پلس ایک اہم شریک انزائم (خامرہ) ہے جو انسانی جسم کے ہر خلیے میں پایا جاتا ہے۔ یہ توانائی کے تحول اور توانائی کی پیداوار کو منظم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

    عمر بڑھنے کا تعلق این اے ڈی پلس کی سطح میں قدرتی کمی سے ہے، اور اس کمی کو عمر سے متعلق صحت کے مختلف مسائل جیسے میٹابولک عوارض، نیوروڈیجینریٹیو امراض، اور عمر میں کمی سے منسلک کیا گیا ہے۔ اس طرح، یہ خیال کیا جاتا ہے کہ انسانی جسم میں این اے ڈی پلس کی سطح میں اضافہ عمر سے متعلق گراوٹ کا مقابلہ کرنے میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

    اس سوال کے جواب میں کہ آیا کافی لوگ اپنی سیلولر صحت میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں؟طارق نے کہا کہ بیداری بڑھ رہی ہے، لیکن ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے بہت سے لوگ صحت کی ظاہری علامات یا بیماریوں کے علامتی علاج پر توجہ مرکوز کرتے ہیں، یہ سمجھے بغیر کہ بنیادی وجہ اکثر خلیاتی سطح پر ہوتی ہے۔ یہ بیماری کی روک تھام کے بجائے بیماری کے علاج پر تاریخی توجہ کی وجہ سے ہے۔

    عراق میں بھی بھارتی سیرپ میں زہریلے اجزا کا انکشاف

  • صوبے آبادی کو کم کرنے پر بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کا شدید ردعمل

    صوبے آبادی کو کم کرنے پر بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کا شدید ردعمل

    کوئٹہ: بلوچستان کی سیاسی جماعتوں نے سی سی آئی میں بلوچستان کی آبادی کو کم کرنے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: بلوچستان کے سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل مردم شماری کے ابتدائی نتائج کے مطابق بلوچستان کی آبادی 2 کروڑ15 لاکھ 9 ہزار بتائی گئی تھی، مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں بلوچستان کی 67 لاکھ آبادی کو کم ظاہر کر کے منظوری دی گئی ہے۔

    سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان میں پہلی مرتبہ ایسی مردم شماری ہوئی جو تمام سیاسی جماعتوں کے لئے قابل قبول تھی، ہمیشہ بلوچستان کی آبادی کو بنیاد بنا کروسائل کی تقسیم اورایوانوں میں نمائندگی پر نا انصافی کی جاتی رہی ہے سی سی آئی کے اقدام کے خلاف بلوچستان کی تمام مذہبی اور قوم پرست جماعتوں کو یکجا کریں گے۔

    ئی یا پرانی مردم شماری کے تحت انتخابات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،خاقان عباسی

    رہنما پشتونخوامیپ عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ سی سی آئی نے بلوچستان کی آبادی میں کمی کر کے ناانصافی کی ہے جس پر ہم عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتے ہیں۔ یہ فیصلہ بلوچستان کے عوام کے لئے کسی صورت قابل قبول نہیں ہے، ڈیجیٹل مردم شماری میں کمی کیسے ممکن ہو سکتی ہے؟

    صدر نیشنل پارٹی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ بڑی سیاسی جماعتوں نے ہمیشہ بلوچستان کو نظر انداز کیا، اس طرح کا فیصلہ بلوچستان کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے، مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے کو مکمل طورپر مسترد کرتے ہیں اور اس کے خلاف احتجاج کیا جائے گا۔

    پاکستان کے عام انتخابات اگلے سال تک مؤخر ہوسکتے ہیں،بلوم برگ

    واضح رہےکہ مشترکہ مفادات کونسل نےنئی مردم شماری کی منظوری دے دی، پاکستان کی آبادی 24 کروڑ 10 لاکھ تک پہنچ گئی وزیرا عظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وزیراعظم ہاؤس میں مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہوا، جس میں نئی مردم شماری کی منظور دی گئی اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی، وفاقی وزراء اسحاق ڈار، احسن اقبال، سعد رفیق، نوید قمر اور قمر زمان کائرہ سمیت دیگر حکام شریک تھے۔

    ڈیجیٹل مردم شماری ،پاکستان کی آبادی 241.49 ملین تک پہنچ گئی ،ادارہ شماریات

  • پاکستان کے عام انتخابات اگلے سال تک مؤخر ہوسکتے ہیں،بلوم برگ

    پاکستان کے عام انتخابات اگلے سال تک مؤخر ہوسکتے ہیں،بلوم برگ

    امریکی جریدے بلوم برگ نے امکان ظاہر کیا ہے کہ پاکستان کے عام انتخابات اگلے سال تک مؤخر ہوسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: بلوم برگ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ پاکستانی حکومت انتخابات نئی مردم شماری کے نتائج کی بنیاد پر کروانا چاہتی ہے نئی مردم شماری کے مطابق گزشتہ 6 سالوں میں پاکستان کی آبادی میں 16 فیصد اضافہ ہوا الیکشن کمیشن کو نئے ووٹرز کو شامل کر کے حلقہ بندیوں کی نئی لسٹیں بنانی ہوں گی۔

    قبل ازیں سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنوردلشاد کا کہنا تھا کہ نئی مردم شماری پر حلقہ بندیاں ہونی ہیں جس سے الیکشن تاخیر کا شکا رہوں گے،15فروری سے پہلے الیکشن ہوتے نظر نہیں آ رہے،عام انتخابات 4سے 6ماہ تک تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں ، عام انتخابات فروری 2024میں ہوسکتے ہیں،آئین کے تحت نئی مردم شماری کے بعد الیکشن کمیشن نےحلقہ بندیاں کرنی ہیں۔

    یہ سب مکافات عمل ہے اب رونا کس لیے ہے،رانا ثنااللہ

    واضح رہےکہ مشترکہ مفادات کونسل نےنئی مردم شماری کی منظوری دے دی، پاکستان کی آبادی 24 کروڑ 10 لاکھ تک پہنچ گئی وزیرا عظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وزیراعظم ہاؤس میں مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہوا، جس میں نئی مردم شماری کی منظور دی گئی اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی، وفاقی وزراء اسحاق ڈار، احسن اقبال، سعد رفیق، نوید قمر اور قمر زمان کائرہ سمیت دیگر حکام شریک تھے۔

    روس کی نمائندگی کےبغیرسعودی عرب کی میزبانی میں یوکرین بحران پر دوروزہ مذاکرات شروع